رمضان المبارک ؛فضائل، اَحکام ومسائل۔ ڈاکٹر کامران طاہر (اسسٹنٹ پروفیسر، یونیورسٹی آف لاہور)

فرضیت روزہ

رمضان کامہینہ مسلمانوں پرعطیۂ خداوندی ہے۔اس کے تمام تراَحکامات اور حدود و قیود شارع کی حکمت ِ بالغہ کی آئینہ دار اور یقیناً اس کے پیداکردہ بندوں کے حق میں بہتر ہیں، تبھی تو ربّ العالمین نے اس پر مہینے کے روزوں کو اپنے بندوں پرفرض قرار دیا ہے۔

فرمانِ ربانی ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ (سورة البقرہ:184)

’’اے ایمان والو ! تم پرروزے فرض کردیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے اُمتوں پر تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔‘‘

گویا یہ صرف اُمت ِمحمدیہ پر ہی نہیں بلکہ دوسری اُمتوں پربھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض تھا۔ ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿مَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ﴾

’’تم میں سے جو شخص اس مہینے میں موجود ہو، وہ اس کے روزے رکھے۔‘‘ (سورة البقرہ:185)

سیدنا ابن عمر سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پررکھی گئی ہے: اللہ کے ایک ہونے اور محمدﷺ کے رسول ہونے کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔‘‘ (صحیح بخاری:8)

فضیلت ِرمضان و صائم

رمضان کامہینہ ان بابرکت اَوقات پرمشتمل ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی تمام تر برکات کا نزول ہوتا ہے اور بندہ اس مہینہ کے اَحکامات پر عمل کرکے اپنے خالق سے ان رحمتوں کو حاصل کرسکتا ہے۔اس مہینہ کی فضیلت میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مہینہ میں قرآن نازل فرمایا ہے۔ قرآن میں ہے :

﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ﴾

’’رمضان وہ مہینہ ہی جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لیے باعث ِہدایت ہے اور اس میں ہدایت کی اور (حق و باطل کے درمیان) فرق کرنے کی نشانیاں ہیں۔‘‘ (سورۃ البقرہ:185)

سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:

«أَتَاكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكٌ فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ وَتُغَلُّ فِيهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ» (سنن نسائی:2106)

’’تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آ پہنچا اور وہ بابرکت مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض فرمائے ہیں، اس مہینے جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور سرکش شیاطین کو طوق پہنا دیے جاتے ہیں۔‘‘

دوسری حدیث میں ہے:

«إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ» (صحیح بخاری:3277)

’’جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«الصَّلَاةُ الْخَمْسُ، وَالْجُمْعَةُ إِلَى الْجُمْعَةِ، كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ، مَا لَمْ تُغْشَ الْكَبَائِرُ»

’’پانچوں نمازیں اور (ہر) جمعہ (دوسرے) جمعہ تک درمیانی مدت کے گناہوں کا کفارہ (ان کو مٹانے والے) ہیں، جب تک کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیاجائے۔‘‘ (صحیح مسلم:233)

سیدنا ابوسعید خدری سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إن ﷲ تبارك وتعالیٰ عتقاء في کل یوم ولیلة یعني في رمضان وإن لکل مسلم في کل یوم ولیلة دعوة مستجابة»

(الترغیب والترہیب:1002)

’’بے شک اللہ تعالیٰ (رمضان میں) ہر دن اور ہررات بہت سے لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے اور ہردن اور ہررات ہر مسلمان کی ایک دعا قبول کی جاتی ہے۔‘‘

سیدنا ابن عباس سے مروی ہے کہ آپﷺ نے ایک انصاری خاتون کو فرمایا:

«فَإِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِي، فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً» (صحیح مسلم:1256)

’’جب رمضان کا مہینہ آجائے تو تم اس میں عمرہ کر لینا، کیونکہ اس میں عمرہ حج کے برابر ہوتا ہے۔‘‘

فرمانِ خداوندی ہے:

﴿إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا﴾ (سورۃ الاحزاب:35)

’’بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ، مؤمن مرد اور عورتیں،فرمانبرداری کرنے والے مرد اور عورتیں،سچ بولنے والے مرد اور عورتیں، صبر کرنے والے مرد اورعورتیں،اور عاجزی کرنے والے مرد اورعورتیں،خیرات دینے والے مرد اور عورتیں، روزہ رکھنے والے مرد اور عورتیں اور اپنی شرمگاہ کی نگہبانی رکھنے والے مرد اور عورتیں اور یاد کرنے والے اللہ کو بہت زیادہ اور یاد کرنے والی عورتیں، ان سب کے لیے اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور بڑا ثواب تیارکررکھا ہے۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ، إِلَّا الصِّيَامَ، هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ «فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَخُلْفَةُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ»

’’اللہ عزوجل فرماتے ہیں: ابن آدم کا ہر (نیک) عمل کئی گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے، ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر حتیٰ کہ سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:سوائے روزے کے جو صرف میرے لیے ہوتا ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، کیونکہ وہ میری وجہ سے اپنی شہوت اور اپنے کھانے کو چھوڑتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم:1151)

رسول اللہﷺ نے فرمایا:

« لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ»

’’روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ایک افطاری کے وقت اور دوسری جب اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تو روزہ کا ثواب دیکھ کر ۔‘‘ (صحیح بخاری:1904)

سیدنا سہل بن سعد بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ يُقَالُ أَيْنَ الصَّائِمُونَ فَيَقُومُونَ لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ» (صحیح بخاری:1896)

’’بے شک جنت میں ایک دروازہ ہے جسے الرَّیان کہا جاتا ہے۔ اس سے قیامت کے دن صرف روزے دار ہی داخل ہوں گے اور ان کے علاوہ کوئی اور اس سے داخل نہیں ہوگا اور پکار کر کہا جائے گا: کہاں ہیں روزے دار؟ تو وہ کھڑے ہوجائیں گے اور اس کے علاوہ اور کوئی اس سے جنت میں داخل نہیں ہوگا اور جب وہ سب کے سب جنت میں چلے جائیں گے تو اس دروازے کو بند کردیا جائے گا۔‘‘

آپﷺ نے فرمایا:

« وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ»

’’اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں محمدکی جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بدبو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے بھی زیادہ اچھی ہے۔‘‘ (صحیح بخاری:1904)

اِستطاعت کے باوجود روزہ نہ رکھنے والا ملعون ہے!

سیدناکعب بن عجرہ سے مروی ہے ، رسول اللہﷺ نے فرمایا:

میرے منبر کے قریب آجاؤ ہم لوگ چلے آئے ۔ آپﷺ جب منبر کی پہلی سیڑھی چڑھے تو فرمایا: آمین، دوسری پرچڑھے تو فرمایا:آمین، تیسری پر چڑھے تو فرمایا: آمین، جب آپ منبر سے اُترے تو ہم نے عرض کی:اے اللہ کے رسول! ہم نے آج آپ سے خلافِ معمول آمین سنی ہے، پہلے کبھی اس طرح نہیں سنا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا:

إنَّ جبریل علیه الصلاة والسلام عرض لي فقال بُعدًا لمن أدرك رمضان فلم یغفرله قلت: آمین فلما رقیت الثانیة قال:بعدًا لمن ذکرت عندہ فلم یصل علیك قلت:آمین،فلما رقیت الثالثة قال بُعدًا لمن أدرك أبواہ الکبر عندہ أو أحدھما فلم یدخلا الجنة قلت:آمین

’’بے شک (جب میں پہلی سیڑھی چڑھا) تو سیدنا جبریل میرے پاس آکر بددعا کرنے لگے: وہ شخص رحمت ِالٰہی سے دور ہوجائے جورمضان کامہینہ پالے پھر اس کی بخشش نہ ہو۔ میں نے کہا: آمین! جب میں دوسری سیڑھی پر چڑھا تو جبریل نے کہا: وہ شخص رحمت ِالٰہی سے دور ہو جس کے پاس آپ کا ذکر کیا جائے اور وہ آپﷺ پردرود نہ بھیجے۔ میں نے کہا: آمین اور جب تیسری سیڑھی پر چڑھا تو جبریل نے پھر بددعا کی کہ وہ شخص رحمت ِالٰہی سے دور ہو جس کے سامنے اس کے ماں اور باپ دونوں کو یا ایک کو بڑھاپا پہنچا اور اُنہوں نے اسے جنت میں داخل نہ کرایا تو میں نے کہا:آمین۔‘‘ (مستدرک حاکم:4؍154)

روزہ کے مسائل و اَحکام

چاند دیکھنا

رمضان کامہینہ جب شروع ہو تو روزوں کی ابتدا کی جائے اور اُمت کے لیے شارع نے یہ ضابطہ دیا ہے کہ جب ماہِ رمضان کا چاند نظر آجائے، تب روزے رکھنا شروع کیا جائے۔

آپﷺنے فرمایا:

«لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ » (صحیح بخاری:1906)

’’اس وقت تک روزہ کا آغاز نہ کرو جب تک چاند نہ دیکھ لو اور نہ ہی روزے ختم کرو جب تک (شوال کا) چاند نظر نہ آجائے۔‘‘

چاندنظر نہ آنے کی صورت میں

اگر مطلع آبرآلود ہو جس کی وجہ سے چاند دیکھنے میں رکاوٹ آرہی ہو تو اِن حالات میں اللہ تعالیٰ نے یہی حکم دیا ہے کہ شعبان کے تیس دن پورے کرلیے جائیں اور یکم رمضان سے روزہ شروع کردیا جائے۔ سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ»

’’(ماہِ رمضان) کا چاند دیکھ کر روزے شروع کرو اور (شوال کا) چاند دیکھ کر اسے ختم کرو۔ اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو شعبان کے مہینے کے تیس دن پورے کرلو۔‘‘ (صحیح بخاری:1909)

مطلع ابر آلود ہونے کے باعث چاند نہ دیکھنے کی وجہ سے رمضان کے شروع یا اختتام کے تعین میں شک پڑ جاتا ہے، لہٰذا اس تردد کی کیفیت میں شارع نے شک کا روزہ رکھنے سے منع فرما دیا ہے۔سیدنا عمار بن یاسر سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«مَنْ صَامَ الْيَوْمَ الَّذِي يَشُكُّ فِيهِ النَّاسُ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ ﷺ» (جامع ترمذی:686)

’’جس نے شک کے دن کا روزہ رکھا، اس نے ابوالقاسم (محمد) کی نافرمانی کی۔‘‘

چاند دیکھنے کی گواہی

چاند دیکھنے میں دو گواہیاں ضروری ہیں۔

سیدنا عبدالرحمن بن زید کہتے ہیں، مجھے صحابہ کرام نے بیان کیا کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:

« فَإِنْ شَهِدَ شَاهِدَانِ فَصُومُوا وَأَفْطِرُوا»

’’ اور اگر دو شخص چاند دیکھنے کی گواہی دیں تو بھی روزے رکھنا شروع یا بند کر دو۔“(سنن نسائی:2116)

لیکن چاند دیکھنے کی ایک گواہی سے روزہ رکھنا بھی ثابت ہے ، جیساکہ ایک حدیث میں ہے:

سیدناعبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں نے رمضان کا چاند دیکھنا شروع کیا تو میں نے نبی اکرم کو اطلاع دی کہ میں نے چاند دیکھ لیا ہے تو(میری اطلاع پر)آپ نے بھی روزہ رکھا اور لوگوں کوبھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (سنن ابوداؤد:2342)

فرض روزہ کے لیے نیت کرنا ضروری ہے

روزہ چونکہ ایک عبادت ہے تو ہرعبادت کے لیے خلوصِ نیت ضروری ہے، آپؐ نے فرمایا:

إنما الأعمال بالنیات (صحیح بخاری:۱)

’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔‘‘

فرض روزہ رکھنے کے لیے روزہ کی نیت کا پہلے ہونا ضروری ہے۔سیدہ حفصہ بيان كرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«مَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ, فَلَا صِيَامَ لَهُ» (سنن ابوداؤد:2454)

’’جس نے فجر سے پہلے روزے کی نیت نہ کی، اس کا روزہ نہیں ہے۔‘‘

فجر کے بعد روزہ کی نیت کرنا

البتہ نفل روزہ میں نیت فجر کے بعد بھی کی جاسکتی ہے جیسا کہ سیدہ عائشہ سے مروی ہے کہ

ذَاتَ يَوْمٍ «يَا عَائِشَةُ، هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟» قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ قَالَ: «فَإِنِّي صَائِمٌ» قَالَتْ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ ﷺ فَأُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ – أَوْ جَاءَنَا زَوْرٌ – قَالَتْ: فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللهِﷺ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ وَقَدْ خَبَأْتُ لَكَ شَيْئًا، قَالَ: «مَا هُوَ؟» قُلْتُ: حَيْسٌ، قَالَ: «هَاتِيهِ» فَجِئْتُ بِهِ فَأَكَلَ، ثُمَّ قَالَ: «قَدْ كُنْتُ أَصْبَحْتُ صَائِمًا» (صحیح مسلم:1154)

’’ایک دن رسول اللہﷺ میرے پاس آئے اور فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ہم نے کہا: نہیں،یہ سن کر آپﷺ نے فرمایا: تب میں روزہ دار ہوں، پھر آپﷺ ایک دوسرے دن ہمارے پاس آئے تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! ہمیں حلوہ ہدیہ دیا گیاہے۔ آپﷺ نے فرمایا مجھے بھی حلوہ دکھاؤ، بے شک میں نے روزے کی حالت میں صبح کی ہے، پس آپﷺ نے حلوہ کھا لیا۔‘‘

نوٹ: روزہ کی نیت کے لیے وَبِصَوْمِ غَدٍ نَّوَیْتُ مِنْ شَھْرِ رَمَضَانَ کے مروّج الفاظ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔

سحری کھانا

اللہ تعالیٰ نے سحری کے کھانے میں برکت رکھی ہے۔ سیدنا انس بن مالک سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:

«تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً»

’’سحری کھاؤ ،کیونکہ اس کے کھانے میں برکت ہے۔‘‘ (صحیح بخاری:1923)

سحری کا وقت

رات کے آخری حصہ میں فجر کی اذان تک سحری کا وقت ہے، لیکن صحابہ کا عمل تھاکہ وہ سحری کو آخر وقت کھاتے تھے۔

سیدنا سہل بن سعد کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ سحری کھاتا پھر جلدی جلدی آتا تاکہ رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھ لوں۔ (صحیح بخاری:1920)

اسی طرح سیدنا زید بن ثابت کہتے ہیں: ہم نبی کے ساتھ سحری کرتے پھر آپﷺ نماز کی طرف چلے جاتے۔سیدنا انس کہتے ہیں:

’’میں نے پوچھا اذان اور سحری کے درمیان کتنا وقفہ ہوتا تھا؟ تو اُنہوں نے کہا: جتنے وقت میں پچاس آیات تلاوت کرلی جائیں۔‘‘ (صحیح بخاری:1921)

غسل واجب ہونے کی صورت میں سحری کرنا

اگر غسل واجب ہو اور سحری کا وقت کم ہو تو وضو کر کے سحری کھائی جاسکتی ہے۔

سیدنا ابوبکر بن عبدالرحمن سے روایت ہے، کہتے ہیں: میں اور میرے والد سیدہ عائشہ کے پاس حاضر ہوئے۔ آپ نے فرمایا:

’’ میں گواہی دیتی ہوں، رسول اللہﷺ احتلام کے سبب سے نہیں بلکہ جماع کے سبب سے حالت ِجنابت میں صبح کرتے اور (غسل کیے بغیر) روزہ رکھتے۔ پھر ہم اُمّ سلمہ کے پاس آئے تو اُنہوں نے بھی یہی بات کی۔‘‘ (صحیح بخاری: 1931۔1932)

صائم اِن قباحتوں سے دور رَہے!

آپﷺنے فرمایا:

مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ

’’جو شخص جھوٹی بات اور اس پر عمل کونہیں چھوڑتا تو اللہ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دے۔’’ (صحیح بخاری:1903)

سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

إن الصیام لیس من الأکل والشرب فقط إنما الصیام من اللغو والرفث فإن سابك أحد أو جھل علیك فقل: إني صائم (ابن حبان:3470)

’’روزہ صرف کھانا پینا چھوڑنے کا نام نہیں بلکہ روزے کی حالت میں بے ہودگی اور بے حیائی کو چھوڑنا بھی روزے میں شامل ہے۔ پس اگر تمہیں کوئی شخص گالی دے یا بدتمیزی کرے تو تم کہو: میں تو روزے کی حالت میں ہوں، میں تو روزے کی حالت میں ہوں۔‘‘

نواقضِ روزہ

1۔جان بوجھ کر کھانا پینا:روزہ چونکہ ایک خاص وقت تک نہ کھانے پینے کا دورانیہ ہوتا ہے لہٰذا ان کے نواقض میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر قصداً کوئی چیز کھا یا پی لی جائے تو اس سے روزہ باطل ہوجائے گا۔

سیدناابوہریرہ سے مروی ہے کہ آپﷺنے فرمایا:

وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ يَتْرُكُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِ

’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میںمیری جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ (اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کیونکہ) روزہ دار میرے لیے اپناکھانا پینا اور خواہشِ نفس ترک کرتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری:1894)

اس سے پتہ چلا کہ روزہ دار طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک کھانا پینا بند کردے گا۔

2۔جماع کرنا: اگر کوئی شخص حالت ِروزہ میں اپنی بیوی سے قصداً جماع کربیٹھتا ہے تو اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اس کا اسے کفارہ بھی دینا پڑے گا۔ سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ

’’ہم اللہ کے رسولﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہوگیا، آپﷺ نے پوچھا:کیا ہوا؟ اس نے کہا کہ میں حالت ِروزہ میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا ہوں۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: کیاتم ایک غلام آزاد کرنے کی استطاعت رکھتے ہو؟اس نے کہا: نہیں۔ پھر آپﷺ نے پوچھا کہ کیا تم دو ماہ مسلسل روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، پھر آپﷺ نے پوچھا: کیا تم اتنی استطاعت رکھتے ہو کہ ساٹھ مسکینوں کو کھاناکھلا سکو؟ اس نے کہا: نہیں، تو آپﷺ خاموش ہوگئے۔ اسی اثنا میں آپﷺ کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا۔آپﷺ نے پوچھا کہ سوال کرنے والاکہاں ہے؟سائل نے کہا: میں حاضر ہوں۔ آپﷺ نے اس سے کہاکہ یہ کھجوریں لو اور جاکر اِنہیں صدقہ کردو۔ اس نے کہا: اللہ کے رسولﷺ! بھلا اپنے سے زیادہ کسی فقیر پر صدقہ کروں۔ یہاں دو پہاڑوں کے درمیان تو کوئی گھرانہ ایسا نہیں جو میرے گھرانے سے زیادہ محتاج ہو۔ نبی اکرمﷺ اس بات پر اتنا ہنسے کہ آپﷺ کی داڑھیں نظر آنے لگیں اور آپﷺ نے فرمایا: جاؤ یہ کھجوریں اپنے گھر والوں کو کھلادو۔‘‘ (صحیح بخاری: 1936)

3۔حیض و نفاس: روزہ کی حالت میں عورت کو حیض یانفاس کا خون آجائے تو روزہ باطل ہوجائے گا۔ آپﷺ نے اس حالت میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ۔ سیدناابوسعید خدری سے مروی ہے کہ

’’ ایک مرتبہ عیدالاضحیٰ یا عیدالفطر کے موقع پر اللہ کے رسولﷺ عورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا:

أَلَیْسَ إِذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تصم قلن: بلی (صحیح بخاری:304)

’’کیا ایسا نہیں کہ عورت ماہواری کے ایام میں نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزہ رکھتی ہے ؟ عورتوں نے کہا: ہاں ایسا ہی ہے۔‘‘

نوٹ: حالت ِحیض میں عورت کے لیے نمازیں معاف ہیں جبکہ روزوں کی قضا دے گی۔

سیدہ عائشہ سے سوال کیا گیا کہ کیا حائضہ عورت نماز اور روزے کی قضا کرے گی؟ تو اُنہوں نے فرمایا: ہمیں روزوں کی قضا کرنے کا حکم دیا جاتا تھا اور نماز کی قضا کرنے کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ (صحیح مسلم:335)

4۔ قصداً قے کرنا:  قصداً قے کرنے سے روزہ باطل ہوجاتا ہے۔ سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«مَنْ ذَرَعَهُ قَيْءٌ وَهُوَ صَائِمٌ, فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ، وَإِنِ اسْتَقَاءَ فَلْيَقْضِ» (ابوداؤد:2380)

’’جسے حالت ِ روزہ میں خود بخود قے آجائے، اس پر قضا نہیں (کیونکہ اس کا روزہ درست رہا) اور اگر کوئی قصداً قے کرے تو وہ روزے کی قضا دے (کیونکہ اس کا روزہ باطل ہوچکا)‘‘

جن اُمور سے روزہ نہیں ٹوٹتا

1۔ بھول کر کھانا پینا: حالت ِروزہ میں بھول کر کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

إِذَا نَسِيَ فَأَكَلَ وَشَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ (صحیح بخاری: 1933)

2۔بے اختیار قے آنا: اگر قے خود بخود آجائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔

نبی اکرمﷺ نے فرمایا:

«مَنْ ذَرَعَهُ قَيْءٌ وَهُوَ صَائِمٌ, فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ»

’’ جسے حالت ِ روزہ میں (خود بخود) قے آجائے، وہ روزہ دار ہی ہے اس پر قضا نہیں۔‘‘ (سنن ابو داؤد:2380)

3۔بغیر جماع کے اِنزال و احتلام ہونا: اگر روزہ دار کو نیند میں احتلام ہوجائے یا کسی بیماری کی وجہ سے اِنزال ہوجائے چونکہ یہ اس کے اختیار میں نہیں لہٰذا اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا اور احتلام روزہ کے مفاسد میں سے نہیں ہے۔

4۔بیوی کا بوسہ لینا: اگر روزہ دار بیوی کا بوسہ لے تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ کہتی ہیں:

إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لَيُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ ضَحِكَتْ

’’رسول اللہﷺ روزہ کی حالت میں اپنی کسی بیوی کو بوسہ دے دیتے تھے۔‘‘ (صحیح بخاری:1928)

اسی طرح سیدنا عمر کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کا بوسہ روزہ کی حالت میں لیا تو میں نے گھبرا کر نبیﷺ سے پوچھا کہ میں آج بہت عجیب کام کربیٹھا ہوں۔ میں روزہ کی حالت میں بوسہ لے چکا ہوں۔ تو آپﷺ نے فرمایا:کیا خیال اگر تو روزہ کی حالت میں کلی کرے تو۔ (سنن ابوداؤد:2385)

گویا آپﷺ نے اسے برا نہ جانا۔

5۔غیر ارادی طور پر کسی چیز کا حلق سے اُترنا: غیر ارادی طور پر اگر روزہ کی حالت میں مکھی، مچھر یا کوئی چیز حلق سے اُتر جائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

امام حسن بصری﷫ فرماتے ہیں:

”إن دخل حلقه الذباب فلا شيء علیه”

( صحیح بخاری،کتاب الصوم،باب الصائم إذا أکل أو شرب ناسیًا)

’’اگر روزہ دار کے منہ میں مکھی داخل ہوجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔‘‘

روزہ میں جائز اُمور

1۔مسواک کرنا: سیدنا عامر بن ربیعہ سے مروی ہے، کہتے ہیں:

میں نے حضورﷺ کو روزے کی حالت میں بے شمار مرتبہ مسواک کرتے دیکھا ہے۔

(صحیح بخاری، کتاب الصوم ، باب مسواك الرطب الیابس للصائم)

نوٹ: روزہ دار کو چاہیے کہ جب وہ نماز کے لیے وضو کرے تو کلی اورناک میں پانی ڈالتے وقت مبالغہ نہ کرے تاکہ پانی حلق میں نہ اُتر جائے۔ سیدنا لقیط بن صبرہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا:اے اللہ کے رسولﷺ! وضو کے بارے میں مجھے کچھ بتائیے آپﷺنے فرمایا: وضو اچھی طرح سے کرو، انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور ناک میں اچھی طرح پانی ڈالو، لیکن اگر روزہ ہو تو پھر (مبالغہ) نہ کرو۔

(جامع ترمذی:788)

2۔ ہنڈیا کا ذائقہ چکھنا: ہنڈیا پکانے والا اس کی نمک مرچ چکھ سکتا ہے۔بشرطیکہ وہ معدہ میں نہ جائے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں:

”لا بأس أن یتطعّم القِدر أو الشيء .”(صحیح بخاری، کتاب الصوم،باب اغتسال الصائم)

’’روزہ دار ہنڈیا یا کسی دوسری چیزکاذائقہ چکھ لے تو کوئی حرج نہیں۔‘‘

3۔ٹوتھ پیسٹ ، منجن کا استعمال: روزہ کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ اور منجن کا استعمال جائز ہے، اور اس مسئلہ کی دلیل سیدنا عبد اللہ بن عباس کا مذکورہ فتویٰ ہی ہے۔

4۔غسل کرنا: شدتِ روزہ سے اگر روزہ دار غسل کرلیتا ہے تو جائز ہے۔ ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ مجھے کسی صحابی نے بیان کیا کہ

لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بِالْعَرْجِ، يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ وَهُوَ صَائِمٌ مِنَ الْعَطَشِ، أَوْ مِنَ الْحَرِّ (سنن ابوداؤد:2365)

’’میں نے رسول اللہﷺکو دیکھا کہ آپ روزہ کی حالت میں پیاس یاگرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی بہا رہے تھے۔‘‘

5۔سرمہ لگانا: سیدنا انس ، حسن بصری﷫ اور ابراہیم نخعی﷫ سے ثابت ہے کہ وہ حالت ِروزہ میں سرمہ لگانے میں حرج نہیں سمجھتے تھے۔(صحیح بخاری ،کتاب الصوم، باب اغتسال الصائم)

6۔کنگھی کرنا، تیل لگانا: سیدنا عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں:

إِذَا كَانَ صَوْمُ أَحَدِكُمْ فَلْيُصْبِحْ دَهِينًا مُتَرَجِّلاً (ایضا)

’’جب تم میں سے کوئی شخص روزہ سے ہو تو وہ صبح کے وقت تیل لگائے اور کنگھی کرے۔‘‘

7۔خون نکلوانا:روزہ دار کو اگر کسی وجہ سے اپنے جسم سے خون نکالنا پڑے تو اس قدر نکال سکتا ہے جس سے اسے نقاہت یا کمزوری پیدا نہ ہوجائے۔ سیدنا ابن عباس سے مروی ہے :

أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَاحْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ (صحیح بخاری:1938)

’’نبیﷺحالت اِحرام اور روزہ کی حالت میں پچھنے لگوا لیا کرتے تھے۔‘‘

اس کے علاوہ صحابہ کرام کا بھی یہ عمل رہا ہے کہ وہ پچھنے لگوایا کرتے تھے۔(صحیح بخاری، ایضاً)

نوٹ:سیدنا رافع بن خدیج سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:

أفطر الحاجم والمحجوم(جامع ترمذی:773)

’’پچھنے لگانے اور لگوانے والے دونوں نے روزہ توڑ دیا۔‘‘

لیکن مذکورہ بالا جواز کی روایت اور اس روایت کے درمیان تطبیق یہ دی جاتی ہے کہ آپﷺ نے کمزور افراد کے لیے پچھنے کو ناپسند فرمایا ہے جیسا کہ سیدنا انس سے پوچھا گیاکہ کیا آپ روزہ دار کے لیے پچھنے لگانے کو ناپسند کرتے ہیں تو اُنہوں نے جواب دیا:

’’نہیں البتہ کمزور شخص کے لیے ہم ناپسند کرتے ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری:1904)

روزہ کی رخصت و قضا

1۔سفر میں روزہ کی رخصت:سفر میں روزہ رکھا اور چھوڑا جاسکتا ہے۔ سیدہ عائشہ فرماتی ہیں:

أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَأَصُومُ فِي السَّفَرِ وَكَانَ كَثِيرَ الصِّيَامِ فَقَالَ إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ (صحیح بخاری:1943)

’’حمزہ بن عمرو اسلمی بکثرت روزے رکھا کرتے تھے، اُنہوں نے نبیﷺ سے پوچھا: کیا میں سفر میں روزہ رکھ سکتا ہوں، آپﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھ لو ورنہ نہ رکھو۔‘‘

اسی طرح سفر کے دوران روزہ چھوڑا بھی جاسکتا ہے جیسا کہ سیدنا انس فرماتے ہیں:

كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فَلَمْ يَعِبْ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ (صحیح بخاری:1947)

’’ہم نبی کے ساتھ سفر کرتے چنانچہ روزہ رکھنے والے روزہ چھوڑنے والوں پراور نہ روزہ چھوڑنے والے روزہ رکھنے والوں پر اعتراض کرتے۔‘‘

سیدنا عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے (حالت ِسفر) میں روزہ رکھا بھی ہے اور روزہ چھوڑا بھی۔ اس لیے تم میں سے جوچاہے (حالت ِسفر میں) روزہ رکھے اور جو چاہے، نہ رکھے۔ (صحیح بخاری:1948)

2۔بیماری اور بڑھاپے کے دوران: بیمار اپنی بیماری کی وجہ سے روزہ چھوڑ سکتا ہے اور جب تندرست ہو جائے تو ان کی قضا دے دے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾ (سورة البقرۃ:184)

’’پس جو مریض ہو یا مسافر ہو، وہ دوسرے ایام میں روزے پورے کرے۔‘‘

دائمی مریض اور بوڑھے کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ صدقہ کے طور پر ایک مسکین کو تمام روزوں کے دنوں کاکھانا کھلا دے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس سے مروی ہے :

’’وہ بوڑھا مرد یا عورت جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے، وہ ہرروزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔‘‘ (صحیح بخاری:4505)

3۔حمل اور رضاعت کے دوران:حاملہ اور مرضعہ کے لیے بھی روزہ میں رخصت ہے کہ وہ بعد میں اس کی قضا دے دے۔ حدیث میں ہے کہ

إِنَّ اﷲَ وضع شطر الصلاة أو نصف الصلاة والصوم عن المسافر وعن المرضع أو الحُبلی (سنن ابوداؤد:2408)

’’اللہ تعالیٰ نے مسافر، دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت کو آدھی نماز اور روزے کے سلسلہ میں رخصت دے دی ہے۔‘‘

اِفطاری

1۔اِفطاری میں تعجیل:آفتاب غروب ہوتے ہی روزہ افطار کرلینا چاہئے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

لَا یَزَالُ النَّاسَ بِخَیْرٍ ما عجَّلوا الْفِطْرَ (صحیح بخاری:1957)

’’جب تک لوگ جلدی افطاری کرتے رہیں گے، وہ خیر کے ساتھ رہیں گے۔‘‘

2۔اِفطاری کس چیز سے کی جائے؟:سیدنا انس کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نماز سے پہلے تازہ کھجوروں سے افطاری کرتے، اگر تازہ کھجور نہ ملتی تو پرانی کھجوروں سے کرلیتے اور اگر پرانی کھجوریں بھی نہ ملتی تو پانی کے چند گھونٹ پی کرافطاری کرلیتے۔ (سنن ابوداؤد:2356)

اِفطاری کی دعا:سیدنا عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ جب روزہ افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے:

ذَهَبَ الظَّمَأُ، وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ، وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ (سنن ابوداؤد:3357)

’’پیاس بجھ گئی اور رگیں تر ہوگئیں اور اللہ نے چاہا تو اجربھی ثابت ہوگیا۔‘‘

قیامِ رمضان اور اس کے اَحکام

قیامِ رمضان کے لیے تراویح، قیام اللیل، صلاۃ اللیل اور تہجد کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔جو رمضان میں جماعت کے ساتھ اور انفرادی، دونوں طرح کیا جا سکتا ہے۔

فضیلت ِقیام رمضان:قیام اللیل اس مہینہ میں کئے جانیوالے خصوصی اعمال میں سے ایک عمل ہے۔ آپﷺ اور صحابہ کرام اس کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے :

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ فِيهِ بِعَزِيمَةٍ فَيَقُولُ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ (صحیح مسلم:759)

’’اللہ کے رسولﷺ قیامِ رمضان کی ترغیب دیا کرتے تھے بغیر اس کے کہ آپ واجبی طور پراُنہیں حکم دیں۔ آپ1 فرماتے: جو کوئی ایمان کے ساتھ حصولِ ثواب کی نیت سے رمضان کا قیام کرے، اس کے پچھلے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔‘‘

قیام رمضان (تراویح) کا وقت: نمازِ تراویح کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے صبح فجر کی اذان تک ہے اور یہ اس دوران کسی بھی وقت پڑھی جاسکتی ہے۔ سیدہ عائشہ سے روایت ہے :

’’اللہ کے رسولﷺ (رمضان کے مہینہ میں) ایک رات نصف شب کے وقت نکلے اور مسجد میں نماز پڑھنے لگے، لوگ بھی آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہوگئے۔ پھر صبح کے وقت اُنہوں نے دوسرے لوگوں کوبھی بتایا۔ چنانچہ (اگلی شب) پہلے سے زیادہ لوگ جمع ہوگئے اور آپﷺ نے اُنہیں نماز پڑھائی۔ پھر صبح کے وقت اُنہوں نے (اور لوگوں کوبھی) بتایا۔ چنانچہ تیسری رات پہلے سے بھی زیادہ لوگ جمع ہوگئے اور اللہ کے رسولﷺ نکلے اور اُنہیں نماز پڑھائی۔ پھر چوتھی رات اتنے لوگ جمع ہوچکے تھے کہ مسجد میں پاؤں رکھنے کو جگہ نہ تھی (مگر اس رات قیامِ رمضان کے لیے نہ نکلے) بلکہ فجر کی نماز کے وقت نکلے اورنمازِ فجر کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر خطبہ دیا اور فرمایا :

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ مَكَانُكُمْ لَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا (صحیح بخاری:2016)

’’مجھے تمہاری آمد کا علم ہوچکاتھا مگر میں اس لیے باہر نہ آیا کہ کہیں یہ تم پر فرض نہ کردی جائے اور پھرتم اسے اس طرح ادا نہ کرپاؤ، پھر اللہ کے رسولﷺ نے وفات تک لوگوں کو تراویح نہ پڑھائی۔‘‘

مذکورہ بالا حدیث سے پتہ چلا کہ نبی نے تین دن نمازِ تراویح باجماعت پڑھائیں اور پھر اس ڈر سے کہ کہیں لوگوں پر مشقت کا باعث نہ بن جائے، چوتھے دن نہ پڑھائیں۔ اس کے بعد سیدنا عمر کے دور میں باقاعدہ نمازِ تراویح کا باجماعت اہتمام ہونے لگا۔

عبدالرحمن بن عبدالقاری کہتے ہیں کہ

’’میں سیدنا عمر کے ساتھ رمضان کی ایک رات مسجدمیں گیا، لوگ متفرق اور منتشر تھے۔ کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا تھا اور کچھ لوگ کسی کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے۔ اس پر سیدنا عمر نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ اگر تمام لوگوں کو ایک ہی قاری کے پیچھے جمع کردیا جائے تو زیادہ اچھا ہوگا۔ چنانچہ اُنہوں نے یہی قصد کرکے سیدنا اُبی بن کعب کو ان سب کا امام بنا دیا۔ پھر ایک رات آپ نکلے۔ دیکھا کہ لوگ اپنے امام کے پیچھے نمازِ تراویح پڑھ رہے ہیں تو سیدنا عمر نے فرمایا: یہ اچھا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر نے یہ بات اس لیے کی کیونکہ لوگ رات کے اوّل حصے میں نمازِ تراویح پڑھ لیتے تھے۔‘‘(صحیح بخاری:2010)

مذکورہ اَحادیث سے پتہ چلا کہ قیامِ رمضان کا اہتمام نمازِ عشاء کے بعد سے لے کر فجر کی اَذان تک کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے۔ اگر اسے تاخیر سے پڑھا جائے تو یہ افضل ہے جیساکہ نبیﷺ کا عمل تھا۔

نمازِ تراویح کی تعدادِ رکعات:نمازِ تراویح کی رکعات کی تعداد کے بارے صحیح بات یہی ہے کہ آپﷺ سے عام طور پر گیارہ رکعات ثابت ہیں۔ چونکہ یہ تہجد ہی کی نماز ہے، اس لیے رمضان اور غیر رمضان آپﷺ کا اکثر معمول یہی رہا ہے کہ آپﷺ نے گیارہ رکعات ہی پڑھیں جیسا کہ سیدہ عائشہ فرماتی ہیں:

مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً

(صحیح بخاری:1147)

’’نبیﷺ رمضان یاغیر رمضان میں(بالعموم)گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھاکرتے تھے۔‘‘

تراویح کا طریقہ:یہ دو دو رکعات کے ساتھ پڑھی جاتی ہے۔سیدہ عائشہ سے مروی ہے:

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَهِيَ الَّتِي يَدْعُو النَّاسُ الْعَتَمَةَ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُسَلِّمُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ

’’اللہ کے رسولﷺ عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر فجر تک گیارہ رکعات پڑھا کرتے تھے اور آپﷺ دو رکعتوں کے درمیان سلام پھیرتے اور ایک وتر پڑھتے۔‘‘ (صحیح مسلم:736)

نوٹ: بعض لوگ سیدنا عمر کے ایک اَثر کو پیش کرتے ہیں کہ اُنہوں نے اپنے دور میں 20 رکعات کاحکم دیاتھا جبکہ 20 رکعات کے حکم والی روایات مستند نہیں۔بلکہ سیدنا عمر سے صحیح سند سے ثابت ہے کہ اُنہوں نے سیدنا اُبی بن کعب اور سیدنا تمیم داری کو گیارہ رکعات تراویح پڑھانے کا حکم کیا تھا۔ (موطأ، باب ما جاء في قیام رمضان)

نمازِ تراویح کے مسائل

مصحف سے دیکھ کر قراء ت کرنا:تراویح میں اگر امام قرآن سے دیکھ کر قراء ت کرے تو یہ جائز ہے۔ سیدہ عائشہ کے متعلق ہے کہ

”کانت عائشةیؤمھا عبدھا ذکوان من المُصحف” (صحیح بخاری، کتاب الآذان، باب إمامة العبد والمَولی)

’’سیدہ عائشہ کاغلام ذکوان انہیں قرآن مجیدسے دیکھ کر (نفل) نماز پڑھایا کرتا تھا۔‘‘

ایک رات میں قرآن ختم کرنا:

سیدہ عائشہ سے مروی ہے کہ

وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ ﷺ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ (صحیح مسلم:746)

’’میں نہیں جانتی کہ اللہ کے رسولﷺ نے کبھی ایک ہی رات میں پورا قرآن پڑھا ہو۔‘‘

سیدنا عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

لَا يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَهُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ

’’جو شخص تین راتوں سے کم وقت میں قرآنِ مجید ختم کرتا ہے، وہ دراصل قرآن کوسمجھتا نہیں۔‘‘ (سنن ابوداؤد:1390)

اِعتکاف اور اس کے مسائل

’اعتکاف‘ لغوی طور پر کسی چیز پر جم کربیٹھ جانے کو کہتے ہیں اور اصطلاح میں اللہ کی عبادت کے لیے تمام دنیاوی معاملات ترک کرنے اور مسجد میں گوشہ نشین ہوجانے کو اعتکاف کہتے ہیں۔

اِعتکاف نفل عبادت ہے جو اللہ کے رسولﷺ سے رمضان کے تمام دنوں میں ثابت ہے لیکن آخری سالوں میں آپﷺ کا مستقل عمل یہ تھا کہ آپﷺ نے آخری عشرہ میں ہی اعتکاف فرمایا۔ سیدہ عائشہ سے مروی ہے:

أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ (صحیح بخاری:2026)

’’نبی کریمﷺ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کیاکرتے تھے حتی کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے فوت کردیا۔ پھر آپﷺ کی بیویاں اعتکاف کرتی تھیں۔‘‘

مسائل اعتکاف

اعتکاف صرف مسجد میں ہوسکتاہے: اعتکاف کا تعلق مسجد سے ہے، قرآن میں ہے:

﴿وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ﴾ (سورة البقرہ:187)

’’اور تم عورتوں سے مباشرت نہ کرو جب تم مساجد میں اعتکاف کرنے والے ہو۔‘‘

اس کے علاوہ صحابہ اور نبیﷺ مسجد میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ آپﷺ کی وفات کے بعد ازواجِ مطہرات بھی مسجد میں اعتکاف فرماتیں اور اس دور کا ایک بھی واقعہ ایسا نہیں ملتا کہ کسی نے مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ اعتکاف کیا ہو۔

رمضان کے علاوہ دنوں کا اعتکاف اور مدت:

سیدنا عبد اللہ بن عمر سے مروی ہے:

أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ كُنْتُ نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَالَ فَأَوْفِ بِنَذْرِكَ (صحیح بخاری: 2032)

’’سیدنا عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ سیدنا عمر نے رسول اللہﷺ سے سوال کیا کہ میں نے زمانۂ جاہلیت میں ایک رات کے لیے مسجد حرام میں اعتکاف کی نذر مانی تھی تو آپﷺ نے فرمایا: اپنی نذر پوری کرو۔‘‘

اعتکاف کے لیے روزہ شرط نہیں:اعتکاف کے لیے روزہ کی شرط کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔مذکورہ بالا حدیث کے مطابق آپﷺ کے سیدنا عمر کو رات کے اعتکاف کی اجازت دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ اعتکاف کے لیے شرط نہیں ہے، کیونکہ رات کو تو روزہ نہیں رکھا جاتا اور سیدنا عمر نے بغیر روزہ کے اعتکاف کی نذر پوری کی۔

اِعتکاف میں کب داخل ہوا جائے؟

اس مسئلہ میں دو طرح کی احادیث پائی جاتی ہیں۔ سیدنا ابن عمر سے مروی ہے کہ

«أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ» (صحیح مسلم:1171)

’’نبی اکرمﷺ رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے تھے۔‘‘

اور دوسری حدیث سیدہ عائشہ سے ہے، فرماتی ہیں:

كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ، إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الْفَجْرَ، ثُمَّ دَخَلَ مُعْتَكَفَهُ

’’نبی اکرمﷺ جب اعتکاف کا ارادہ کرتے تو فجر کی نماز پڑھ کر اپنے معتکف میں داخل ہوتے۔‘‘ (صحیح مسلم:1173)

پہلی روایت کے مطابق عشرہ یعنی دس دن میں بیس کی رات بھی شامل ہے جب کہ سیدہ عائشہ والی روایت میں فجر کی نماز کے بعد اعتکاف کرنے کا ذکر ہے۔اہل علم نے ان دونوں روایات میں یہ تطبیق دی ہے کہ بیس کی رات معتکف اعتکاف کی نیت سے مسجد میں داخل ہو جائے اور صبح نمازِ فجر کے بعد اعتکاف میں داخل ہو۔واللہ اعلم

ممنوعات و مفسداتِ اعتکاف

1۔جماع:اعتکاف کی حالت میں جماع سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔قرآن میں ہے:

﴿وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ﴾ (سورة البقرہ:187)

’’اور تم بیویوں سے مباشرت نہ کرو اس وقت کہ جب تم مسجدوں میں معتکف ہو۔‘‘

2۔حیض و نفاس:حیض و نفاس کی حالت میں اعتکاف فاسد ہوجاتا ہے، کیونکہ اس حالت میں عورت کو مسجد میں ٹھہرنے سے منع کیاگیا ہے۔

3۔ بغیر ضرورت مسجد سے نہ نکلنا:آپ ﷺ کے متعلق آتا ہے کہ

کان لا یدخل البیت إلا لحاجة إذا کان معتکفًا (صحیح بخاری:2029)

’’نبی کریم ﷺ جب اعتکاف فرماتے تو بغیر ضرورت کے گھر میں داخل نہ ہوا کرتے تھے۔‘‘

اسی طرح دوسری روایت میں ہے: سیدہ عائشہ فرماتی ہیں:

’’سنت میں سے یہ بھی ہے کہ معتکف صرف ضروری حاجت کے لیے نکلے ۔‘‘ (سنن ابوداؤد:2473)

البتہ اگر کوئی شرعی ضرورت ہو تو اس کے لیے مسجد سے باہر جایا جا سکتا ہے جس طرح آپﷺ اپنی بیویوں کو گھر چھوڑنے جایا کرتے تھے۔

(صحیح بخاری:2035؛ 2038)

مریض کی عیادت اور جنازہ میں شرکت کرنا:سیدہ عائشہ سے روایت ہے:

اِعتکاف کرنے والے کے لیے سنت طریقہ یہ ہے کہ وہ نہ کسی مریض کی عیادت کرے، نہ جنازے میں شریک ہو، نہ بیوی کو (شہوت سے) چھوئے اور نہ ان سے ہم بستری کرے۔ (سنن ابوداؤد:2473)

مباحات اِعتکاف

1۔معتکف اپنی بیوی سے کنگھی کروانے یا سر دھونے جیسے اعمال میں مدد لے سکتا ہے۔ (صحیح بخاری: 2028)

2۔اِستحاضہ والی عورت اعتکاف کرسکتی ہے۔ (صحیح بخاری:2038)

3۔ معتکف کی بیوی صرف ملاقات کے لیے اس کے پاس آسکتی ہے اور وہ اسے گھر تک چھوڑنے بھی جاسکتا ہے۔ (صحیح بخاری:2035)

4۔ کسی شرعی عذر مثلاً اگرکسی وجہ سے جمعہ کااہتمام اس مسجد میں نہ ہو تو وہ دوسری مسجد میں پڑھنے جاسکتا ہے۔

لیلۃ القدر

لیلۃ القدر(شب ِقدر) رمضان کے آخری عشرہ کی وہ بابرکت رات ہے ، جس میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا بھرپور نزول ہوتا ہے۔ شب ِقدر کی فضیلت کے متعلق قرآن میں ہے :

﴿إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ 0‏ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ 0‏ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ 0‏ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ 0‏ سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ ﴾ (سورۃالقدر)

’’یقیناً ہم نے اس قرآن کو قدر والی رات میں نازل کیا، آپ کیاسمجھے کہ شب ِقدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس میں ہرقسم کے معاملات سر انجام دینے کو اللہ کے حکم سے فرشتے اور روح الامین اترتے ہیں۔ یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک رہتی ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ 0‏ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ0 أَمْرًا مِّنْ عِندِنَا ۚ إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ ﴾

’’یقیناً ہم نے اس قرآن کو برکت والی رات میں نازل کیا بے شک ہم ڈرانے والے ہیں۔ اس رات میں ہر ایک مضبوط کام کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ یہ معاملہ ہماری جانب سے ہے اور ہم بھیجنے والے ہیں۔‘‘ (سورۃ الدخان:3۔5)

نوٹ: بعض لوگوں نے اس آیت سے مراد 15شعبان کی رات کو قرار دیا ہے جو درست اور ثابت شدہ نہیں ہے بلکہ اس آیت میں لیلۃ مبارکۃ سے مراد شب ِ قدر ہی ہے جو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق رات ہے۔

قیام لیلۃ القدر:

آپﷺ نے فرمایا:

من قام لیلة القدر إیمانًا واحتسابًا غُفرله ما تقدّم من ذنبه (صحیح بخاری:2014)

’’جس نے شب قدر کا قیام ایمان وثواب سمجھ کر کیااس کے سابقہ گناہ معاف کردیئے گئے۔‘‘

لیلۃ القدر کب؟

شب ِقدر رمضان کے آخری عشرے کی کوئی طاق رات ہے۔ سیدہ عائشہ سے مروی ہے:

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْوِتْرِ مِنْ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ

’’رسول اللہﷺ نے فرمایا:شب قدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔‘‘ (صحیح بخاری:2017)

آخری عشرہ اور شب ِقدر کے لیے خصوصی اہتمام

سیدہ عائشہ فرماتی ہیں:

«كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ»

’’رسول اللہﷺ آخری عشرے میں عبادت کی جس قدر محنت و کوشش کرتے، وہ اس کے علاوہ کسی وقت نہ کرتے تھے۔‘‘ (صحیح مسلم: 1175)

سیدہ عائشہ ہی فرماتی ہیں:

كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ شَدَّ مِئْزَرَهُ وَأَحْيَا لَيْلَهُ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ

’’جب آخری عشرہ داخل ہوتا تو رسول اللہﷺکمر بستہ ہوجاتے اور اپنی رات کوزندہ رکھتے اور اپنے گھر والوں کوبیدار کرتے۔‘‘ (صحیح بخاری: 2024)

لیلۃ القدر کی دعا:سیدہ عائشہ فرماتی ہیں:

قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ عَلِمْتُ أَيُّ لَيْلَةٍ لَيْلَةُ الْقَدْرِ مَا أَقُولُ فِيهَا قَالَ قُولِي اللَّهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ كَرِيمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي (جامع ترمذی:3513)

’’میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسولﷺ! اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ لیلۃ القدر کون سی رات ہے تو میں اس میں کیا کہوں؟ تو آپﷺ نے فرمایا:تو کہہ:

اللَّهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ كَرِيمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي

’’اے میرے اللہ! یقینا تو معاف کرنے والا ہے اور معافی کوپسند کرتاہے، پس تو مجھے معاف کر دے۔ ‘‘

علاماتِ لیلۃ القدر:لیلۃ القدر کی روایات میں درج ذیل علامتیں وارد ہوئی ہیں:

« أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فِي صَبِيحَةِ يَوْمِهَا بَيْضَاءَ لَا شُعَاعَ لَهَا »

’’اس دن سورج سفید طلوع ہوتا ہے اور اس کی شعاعیں نہیں ہوتیں۔‘‘ (صحیح مسلم: 762)

آپﷺنے فرمایا:

«أَيُّكُمْ يَذْكُرُ حِينَ طَلَعَ الْقَمَرُ، وَهُوَ مِثْلُ شِقِّ جَفْنَةٍ؟» (صحیح مسلم:1170)

’’تم میں کون اسے یاد رکھتا ہے (اس رات) جب چاند نکلتا ہے تو ایسے ہوتا ہے جیسے بڑے تھال کا کنارہ۔‘‘

آپﷺنے فرمایا:

لیلة القدر لیلة سمحة طلقة لا حارة ولا باردة تصبح شمسها ضعیفة حمراء

’’شب ِقدر آسان اور معتدل رات ہے جس میں نہ گرمی ہوتی ہے اور نہ سردی۔ اس کی صبح کو سورج اس طرح طلوع ہوتا ہے کہ اس کی سرخی مدھم ہوجاتی ہے۔‘‘ (مسند الطیالسي:2793)

٭٭٭

تبصرہ کریں