رمضان اور روزہ فضائل ومسائل- عبد الغفور جمالی

شان رمضان

رمضان المبارک وہ مقدس مہینہ ہے جس میں ہر مسلمان (صبغۃ اللہ) کی تفسیر بنتے ہوئے اللہ کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں مساجد ومدارس میں بہار کا سماں ہوتا ہے ویسے تو اسلامی مہینے سب فضیلت کے حامل ہیں مگر رب تعالیٰ نے قرآن مجید اس ماہ مبارک میں نازل کرکے اس کی فضیلت کو زیادہ عیاں کر دیا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ 0‏ أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ ۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۚ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ۖ فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ ۚ وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾ (سورۃ البقرۃ: 183۔184)

’’یہ روزے) چند دن ہیں گنتی کے، پس جوہو تم میں سے بیمار یاسفر پر تو(وہ) گنتی پورے کرے دوسرے دنوں سے اوران لوگوں پر جو طاقت رکھتے ہوں اس کی(اور نہ رکھیں) فدیہ ہے ایک مسکین کا کھانا پس جو خوشی سے کرے(زیادہ) بھلائی تو وہ بہتر ہے اس کے لیے اوریہ کہ تم روزہ رکھو (تو) زیادہ بہترہے تمہارے لیے اگر ہوتم جانتے۔ یہ روزے) چند دن ہیں گنتی کے، پس جوہو تم میں سے بیمار یاسفر پر تو(وہ) گنتی پورے کرے دوسرے دنوں سے اوران لوگوں پر جو طاقت رکھتے ہوں اس کی(اور نہ رکھیں) فدیہ ہے ایک مسکین کا کھانا پس جو خوشی سے کرے(زیادہ) بھلائی تو وہ بہتر ہے اس کے لیے اوریہ کہ تم روزہ رکھو (تو) زیادہ بہترہے تمہارے لیے اگر ہوتم جانتے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ﴾ (سورة البقرۃ:185)

’’رمضان وہ ماہ مبارک ہے جس میں قرآن مجید نازل کیا گیا جو تمام انسانوں کے لیے سراسر ہدایت اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہ راست دیکھانے والی اور حق وباطل میں فرق کھول کے رکھ دینے والی ہے لہٰذا جو شخص اس مہینہ کو پائے اس پر لازم ہے کہ پورے ماہ مقدس کے روزے رکھے۔‘‘

نبی کریم ﷺ کا فرمان مبارک ہے:

’’ جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور سرکش شیاطین کو پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم)

انہی فضائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ رمضان مبارک ہی وہ مہینہ ہے جس میں رحمتوں وبرکتوں کا نزول ہوتاہے اور اس میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے گنہگار بندوں کو قرآن کے ذریعے ہدایت دیتاہے حق کے طالبین اور حصول جنت کے متلاشیوں کے لیے موسم بہارہے۔

شان صیام

رسول اللہ ﷺ شان صیام کے بارے میں فرماتے ہیں :

’’ جس نے رمضان کے روزے رکھے ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں ۔(صحیح بخاری)

رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے،اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

’’ابن آدم کا ہر عمل اس کیلئے ہے سوائے روزے کے ، روزہ میرے لیے ہے اور اس کا اجر وثواب بھی میں ہی دوں گا۔ اور روزہ آگ سے بچاؤ کی ڈھال ہے۔‘‘ (صحیح بخاری)

روزے کی فضیلت ہم اس حدیث مبارک سے بھی بخوبی لگاسکتے ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے بندے کے اخلاص کی تصدیق کرتے ہوئے اس کو براہ راست خود اجر دینے کا فیصلہ کیا ہے ظاہر ہے جس کا اجر وثواب خود رب تعالیٰ دے اس کا کیا اجر وثواب ہوگا اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

صوم کے لفظی معنیٰ :

روزہ کو عربی زبان میں صوم کہاجاتاہے جس کا مطلب ومفہوم رک جانا ہے۔

شرعی اصطلاح میں یہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں ہر مسلمان اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے طلوع فجر سے غروب آفتاب تک تمام ممنوعات ومحرمات سے رک جاتاہے۔

روزے کا مقصد کیا ہے ؟

روزہ پوری زندگی کا ضابطہ حیات بتاتا ہے جس طرح ایک روزے دار کو روزے کی حالت میں حلال کردہ چیزوں سے بھی اپنے نفس کو روک کر لا تعداد اجر وثواب کماتاہے اسی طرح آدمی اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کے حکم پر چل کر جہنم کی آگ سے بچ کر جنت کا مستحق بن سکتاہے اسی مقصد کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں﴿لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ﴾ کے الفاظ سے ذکر کیا ہے، جس کا نام تقوی ہے تقوی درحقیقت دل کی گہرائیوں سے ڈرتے ہوئے گناہوں اور محرمات سے بچنے کا نام ہے ۔

روزوں کی فرضیت

روزہ ہر مسلم، عاقل ،بالغ، صحت مند وتندرست پر فرض ہے اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے :

﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ﴾ (سورة البقرۃ:183)

’’اے ایمان والو تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو ۔‘‘

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

’’ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے کلمہ شہادت ورسول کی رسالت کا اقرار ، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اوررمضان کے روزے رکھنا۔‘‘(صحیح بخاری)

مذکورہ نصوص سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہےکہ رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت برحق ہے اور جان بوجھ کر کوئی ایک روزہ چھوڑنا فسق(گناہ کبیرہ) اور اس کا انکار کرنا یا مذاق اڑانا یا غریبوں کا فاقہ قرار دینا کفر ہے ۔

البتہ مندرجہ ذیل افراد بروقت ادائیگی سے مستثنیٰ ہیں:

1۔نابالغ : وہ بچے اور بچیاں جو ابھی تک سن بلوغت تک ناپہنچے ہوں ان پر روزہ واجب نہیں ہے البتہ تربیت اور عادت ڈالنے کی غرض سے ان سے روزے رکھوایا جائے تو بہتر ہے ۔

2۔حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین:شریعت اسلامیہ نے حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو بروقت روزہ کی ادائیگی سے یہ رخصت دی ہے کہ اگر اپنے اندر جسمانی کمزوری یا بچے کی خوراک پوری نہ ہونے کا اندیشہ رکھتی ہوں تو بعد میں روزوں کی قضا دے جاسکتی ہے۔

3۔وقتی مریض: اگر کوئی شخص کو مرض لاحق ہوجائے تو روزے کی صورت میں کمزوری بڑھنے کا اندیشہ ہو تو وہ روزہ چھوڑ کر اس کی قضا دے سکتاہے۔

4۔حیض ونفاس: روزے سے مستثنیٰ چوتھی حالت حیض ونفاس ہے جس میں مبتلا خواتین کو روزہ رکھنے سے مانع کیاگیا ہے ان خواتین پر واجب ہے کہ اپنے مخصوص ایام سے فارغ ہونے کے بعد رمضان کے بقیہ روزوں کی گنتی پوری کریں اور چھوڑے ہوئے روزوں کی قضاء بعد میں دے دیں اگر ان میں سے کوئی عورت طلوع فجر سے پہلے ایام سے فارغ ہوگئی ہو تو اس پر اس دن کا روزہ رکھنا فرض ہے ۔

5۔مسافر : حالت سفر میں پیش آنے والی مشقت ومصیبت کے احتمال کی وجہ سے مسافر کے لیے روزہ چھوڑنا مستحب ہے اسی طرح ایسے مسافر جو مستقل سفر میں رہتے ہوں ان کے مستقل سفر سے روزں کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی جیسے جہازوں کے پائیلٹس ، سمندری جہازوں کے کپتان وغیرہ

نوٹ : ایمرجنسی ، اضطرابی حالت: اچانک اضطرابی کیفیت لاحق ہوجانے کی صورت میں انسان روزہ قبل از وقت افطار کر سکتاہے البتہ بعد میں اس کی قضا دیں مثلاً : ٹریفک حادثہ، اچانک شوگر یا بلڈ پریشر کا لوہوجانا، آگ لگنا ، پانی میں ڈوبنا وغیرہ

پوانٹ نمبر 2 سے 5 تک کے افراد کے لیے قرآن حکیم کا یہ حکم کافی ہوتا ہے :

﴿وَمَنْ كَانَ مَرِيْضًا اَوْ عَلٰي سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ﴾ (سورة البقرۃ:185)

’’ ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے ۔‘‘

6۔ دائمی مرض: دائمی مرض میں مبتلا افراد کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ رخصت دی ہے کہ وہ ہر روزے کے بدلے اپنی استطاعت کے مطابق ایک مسکین کو کھانا کھلائیں یہی ان کا کفارہ ہے

﴿وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ﴾

’’اور اس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں۔‘‘(سورۃ البقرۃ:184)

اور وہ لوگ جو استطاعت نہیں رکھتے ان کا کفارہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے ۔

7۔ مجنون : مجنون یا وہ شخص جس کی عقل زائل ہوگئی ہو خواہ بڑھاپے کی وجہ سے ہو یا کسی حادثے کی وجہ سے ہو تو ایسے افراد پر نہ تو کوئی کفارہ ہے اور نہ ہی کوئی قضا۔

روزے کا وقت:

روزے کا دورانیہ طلوع فجر سے غروب آفتاب تک ہوتا ہے جیسا کہ رب تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا :

﴿وَكُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيْلِ ﴾(سورة البقرۃ : 187)

’’تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے پھر رات تک روزے کو پورا کرو ۔‘‘

کیا سحری کرنا ضروری ہے ؟

جی ہاں ! سحری کرنا انتہائی ضروری ہے اوراسلام میں سحری کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے سحری رات کے آخری تہائی وقت کو سحر کہتے جو آذان فجر تک جاری رہتا ہے اس وقت میں کھانا کھانے کو سحری کہا جاتاہے یہ وقت قبولیت کا وقت بھی اس وقت میں زیادہ سے زیادہ نوافل اور استغفار کا اہتمام کرنا چاہیے۔

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : ’’ سحری ضرور کھاؤ اس لیے کہ اس میں برکت ہے۔‘‘ (صحیح بخاری)

دوسری روایت میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’ ہمارے اور اہل کتاب کے روزں کے درمیان فرق کرنے والی چیز سحری کھانا ہے ( صحیح مسلم)

وہ اعمال جن سے روزہ ضائع ہوجاتاہے :

1۔ ترک نماز (نماز کو جان بوجھ کر چھوڑنا)

نماز دین اسلام کا ایک اہم رکن ہے خصوصاً جو آدمی روزے کی حالت میں نماز نہ پڑھے اس کے روزے کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی یہ دین سے دوری اور جہالت ہے ۔ حدیث مبارک میں آتا ہے: ’’جان بوجھ کر نماز چھوڑنا کفر ہے ۔‘‘ (سنن ابی داؤد)

2۔ فحش گفتگو اور بے ہودہ حرکتیں :

سول اللہﷺ کا فرمان ہے کہ

’’ روزہ اس بات کا نام نہیں ہے کہ کوئی شخص کھانا پینا چھوڑ دے بلکہ روزہ تو بے ہودہ اور جنسی خواہشات پر ابھارنے والی فحش گفتگو سے بچنے کا نام ہے ۔(صحیح ابن خزیمہ)

روزہ کی حالت میں تمام لغو امور سے منع کیاگیاہے لغو ہر بیکار ،بے فائدہ اور وقت کی بربادی والے کام کو کہتے ہیں، جیسے کھیل کھود آجکل سوشل میڈیا کا فضول استعمال ، گالی دینا، ٹی وی دیکھنا، فضول محفلیں سجانا وغیرہ اس میں شامل ہیں۔

3۔ روزہ کی حالت میں جھوٹ بولنا :

فرمان نبوی ﷺ ہے:

’’جس نے جھوٹا بول، اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا اللہ عزوجل کو کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ایسا شخص بھوکا رہے یا پیاسا رہے۔ (صحیح بخاری)

جھوٹ کبیرہ گنا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ ایک روزے دار جس نے اللہ کی رضا کے حصول کیلئے حلال چیزوں سے اپنے نفس کو روکے رکھا اور وہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرے۔

روزے کی حالت میں جائز کام :

1۔ آنکھوں میں سرمہ، سر میں تیل اور کان یا آنکھ میں دوائی ڈالنا اور نہانا جائز ہے۔ ( صحیح بخاری)

2۔ رات کو اگر غسل جنابت واجب ہوجائے تو انتہائی سحر قریب ہو پہلے سحری کرے اور پھر غسل کرکے نماز پڑھے۔ (صحیح بخاری)

3۔ روزے کی حالت میں حجامہ لگانا اور لگوانا جائز ہے ۔ ( صحیح بخاری)

4۔ روزے کی حالت میں مسواک کرنابھی جائز ہے۔ ( صحیح بخاری)

روزہ کی حالت میں ناجائز کام

1۔ازدواجی تعلقات قائم کرنے سے رروزہ ٹوٹ جاتاہے ۔ ( صحیح بخاری)

2۔ جان بوجھ کر قے کرنا۔ ( صحیح بخاری)

3۔ جان بوجھ کر کھانا پینا۔ ( صحیح بخاری)

4۔ حالت بیداری میں کسی بھی طریقےسے انزال ہو جانا۔ البتہ احتلام نیند کی حالت میں ہونے سے روزہ نہیں ٹوٹتا مگر غسل واجب ہوجاتاہے۔

5۔ حیض ونفاس آنے سے روزہ ٹوٹ جاتاہے البتہ حیض ونفاس آنے کی صورت میں کوئی کفارہ نہیں ہوگا روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور بعد میں اس کی قضا واجب ہے۔

6۔ کسی بھی غذا یا دوائی کو ڈراپ یا سرنج کے ذریعے بطور طاقت جسم میں داخل کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتاہے البتہ نکسیر پھوٹنے یا جسم کے کسی بھی حصے سے خون نکلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ۔

نوٹ : اپنی بیوی سے جان بوجھ تعلق قائم کرنے پر قضا کے ساتھ ساتھ کفارہ ادا کرنا بھی واجب ہے اور کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام کا آزاد کرنا، یادو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا ، یا 60 مسکینوں کو کھانا کھلانا۔

افطاری :

جب بندہ اخلاص نیت سے اللہ تعالیٰ کے لیے سارا دن بھوکا پیاسا اور شہوات نسوانی سے دو ر رہا تو اب اللہ تعالیٰ نے اس وقت بندے لیے دو عظیم خوشیاں رکھی ہیں : (1) ایک افطار کے وقت کی خوشی۔ (2) رب سے ملاقات کے وقت کی خوشی۔

افطاری میں جلدی کرنا

غروب آفتاب کے فوراً بعد بغیر کسی احتیاطی اضافی منٹس کےروزہ افطار کر لینا سنت نبوی ہے ۔

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

’’ لوگ اس وقت تک بھلائی میں رہیں گے جب تک کہ افطاری میں جلدی کرتے رہے گے۔ ‘‘ (صحیح بخاری)

روزہ کیسے افطار کریں ؟

رسول اللہ ﷺ کی سنت مبارکہ تھی کہ آپ روزہ تازہ کھجوروں سے افطارفرماتے تھے اور اگر تازہ کھجوریں میسر نہ ہوتی تو چھواروں سے افطار کرتے اور اگر چھوارے بھی دستیاب نہ ہوتے تو پانی کے چند گھونٹ پی لیا کرتے تھے۔ ( سنن ابی داؤد)

افطار میں دعا کی قبولیت :

فرمان رسول ﷺ ہے: ’’ افطار کے وقت اللہ تعالیٰ روزے دار کی دعا کو رد نہیں فرماتا ۔‘‘ ( سنن ابن ماجہ)

افطاری کی دعا :

رسول اللہ ﷺ افطاری کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے :

ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ، وَثَبَتَ الْأجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ (سنن ابی داؤد)

’’پیاس بجھ گئی رگیں تر ہوگئیں اور اللہ نے چاہا تو اجر وثواب ثابت ہوگیا۔‘‘

روزہ افطار کروانے کا اجر :

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’ جس نے کسی روزے دار کو افطار کروایا اس (کروانے والے) کے لیے بھی اتنا ہی اجر وثواب ہے جتنا روزہ رکھنے والے کا اجر وثواب ہے بغیر روزہ دار کے اجر میں سے کچھ بھی کمی کے۔‘‘ (جامع الترمذی)

جس کو افطاری کرائی گئی وہ کیا کہے ؟

افطاری کروانے والے کو بندہ ان مسنون الفاظ سے دعا دے:

«أفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ» (سنن ابی داؤد)

’’ تمہارے ہاں روزے دار افطار کرتے ہیں اور نیک لوگ تمہارا کھانے کھاتے رہیں اور فرشتے تمہارے لیے رحمت کی دعا کرتے رہیں۔‘‘

رمضان المبارک میں خصوصی کام :

1۔ تلاوت :

رمضان اور قرآن کا تعلق بہت گہرا ہے کیونکہ یہی وہ ماہ مبارک ہے جس میں اللہ رب العزت نے اپنے پاک کلام کو بندوں کی ہدایت کے لیے آسمان سے نازل فرمایا قرآن مجید میں تصدیق ہے کہ

﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ﴾ (سورة البقرة:185)

’’ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے اور جس میں ہدایت کی حق و باطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں ۔‘‘

قرآن پاک اوامر ، نواہی،قصص الانبیاء ، توحید باری تعالیٰ ، رد شرک وکفر، اصول کامیابی وکامرانی، ضابطۂ حیات زندگی، ناکامی کے اسباب ، نصیحتوں،حکمتوں اور اصلاح معاشرہ جیسے مؤثر موضوعات کو تفصیل سے بیان کرتا ہے جس کے پاس بھی قلب سلیم ہوگا ضرور اس کی زندگی مثبت انقلاب لائے گا اور جس کے پاس بھی قلب سقیم ہوگا وہ اس سے فائدہ نہیں پہنچا سکے گا ظلم تو یہ ہے کہ اس دور میں لوگوں نے فقط رسومات وروایات تک محدود کردیا ہے۔

کہیں قسم اٹھانے کے لیے قرآن مجید کا استعمال کیا جاتا ہے کہیں دلہن کو قرآن مجید کے سایہ میں رخصت کیا جارہا ہے اور ان جیسی مزید باطل رسومات جو ہمارے معاشرے میں عام ہیں قرآن مجید کو ان کاموں اور امور میں استعمال کیا جارہا ہے جن کا شریعت اسلامیہ سے کوئی تعلق نہیں قرآن پاک تو رب تعالیٰ سے براہ ِراست تعلق بنانے کا نام ہے جس کے لیے ضروری ہے جس کے معانی ومفاہیم کو سمجھا جائے اور اس پر غور وتدبر کیا جائے کہاں صحابہ کا قرآن پڑھنا جن کی تلاوت سے فرشتوں کے آسمان سے نازل ہونا اور قرآن پڑھنا ۔

نبی کریمﷺ کا فرمان ہے:

’’ کثرت سے قرآن پڑھا کرو اس لیے کہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کے حق میں شفاعت کرے گا۔‘‘ ( صحیح مسلم)

ہمیں چاہیے کہ ہم اس ماہ مبارک میں کثرت سے تلاوت کلام پاک سے اپنے دلوں کو منور کریں۔

قیام اللیل ؍ صلاۃ تراویح

قیام اللیل یعنی تہجد جیسے ہم خصوصاً رمضان میں تراویح کہتے ہیں پورا سال ہی اس کی اہمیت وفضیلت میں کمی نہیں ہوتی لیکن رمضان المبارک میں اس کی اہمیت زیادہ ہی بڑھ جاتی ہے۔

نبی کریمﷺ کا فرمان ہے:

’’ جس شخص نے ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رمضان کی راتوں کا قیام کیا تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔‘‘ ( صحیح بخاری )

رکعات تراویح :

سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ رمضان ہو یا غیر رمضان گیارہ رکعات سے زیادہ (قیام اللیل) نہیں کیا کرتے تھے ۔ (صحیح بخاری)

اللہ کے آخری رسول ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں صحابہ کے شوق ورغبت کو دیکھتے ہوئے رمضان المبارک میں قیام اللیل کی تین مرتبہ جماعت بھی کرائی مگر پھر فرضیت کے خطرے کے پیش نظر جماعت ترک کر دی آپ ﷺ کی وفات کے بعد سیدنا ابو حفص عمر فاروق کے دور خلافت میں صحابہ نے پھر سے باجماعت اپنا معمول بنالیا، الحمد للہ آج تک جاری وساری ہے۔ (صحیح بخاری)

وضاحت : اس حدیث مبارکہ سے یہ معلوم ہوتاہے کہ صلاۃ تراویح بدعت نہیں بلکہ آپ ﷺ سے ثابت شدہ سنت ہے اور مزید یہ معلوم ہوتاہے کہ تراویح کی اصل اور مسنون تعداد وتر کے علاوہ آٹھ رکعات ہی ہیں اگر کوئی شخص بغیر سنت سمجھے نوافل کے طور پر مزید پڑھنا چاہیے تو پڑھ سکتاہے مگر وتر سمیت گیارہ رکعت کے علاوہ کسی مخصوص تعداد مثلاً بیس کو مقرر کر لینا اور اسے سنت سمجھنا خلاف حقیقت بات ہے۔

انفاق فی سبیل اللہ (صدقہ وخیرات)

رسول اکرم ﷺ باقی دنوں میں کثرت انفاق (صدقہ وخیرات) کرنے کے باوجود اس ماہ رمضان المبارک میں انفاق فی سبیل اللہ کرنے میں تیز آندھی سے بھی زیادہ کیا کرتے تھے۔ ( صحیح بخاری)

لہٰذا صاحب حیثیت افراد پر واجب ہے کہ وہ اپنی خوشیوں میں اپنے رشتہ داروں،علاقہ والوں اور شہر والوں اور ملک کے غرباء ومساکین کو بھی شریک کریں یعنی اپنے مال سے ان کی دل کھول کر مدد کریں۔

اعتکاف :

اعتکاف رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں کیا جاتاہے اور شوال کا چاند نظر آتے ہی اختتام پذیر ہوجاتاہے رمضان المبارک کی 21 ویں شب شروع ہوتے ہی اعتکاف شروع ہوجاتاہے لیکن معتکف کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اعتکاف کے خیمے میں صبح یعنی فجر کی نماز پڑھ کے داخل ہوکیونکہ یہی سنت ہے۔ ( صحیح مسلم)

اعتکاف کی غرض وغایت :

اعتکاف کامطلب اور مقصد دنیا وما فیہا سے بیگانہ ہوکر اپنے آپ کو مسجد کے ایک کونے میں صرف اور صرف اللہ کی عبادت کے لیے وقف کر دینا ہے اعتکاف کرنے والے کےلیے اعتکاف کی حالت میں ہر وہ کام جو اللہ کے قریب کرے اور گناہوں سے دور کرے اختیار کرنا لازم ہےوگرنہ اعتکاف کا مقصد فوت ہوجائے گا اور بجائے ثواب واجر کے انسان گناہ کا حقدار ٹھہرے گا ان امور میں بکثرت تلاوت قرآن ، قیام اللیل، بالخصوص لیلۃ القدر کا حصول، کثرت نوافل، کثرت دعا ، ذکر واذکار، توبہ واستغفار اور وہ تمام عبادات شامل ہیں جو اللہ کی رضا اور بخشش کا ذریعہ بنتے ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ آج کل ناسمجھ لوگوں نے اعتکاف جیسی عظیم عبادت اور سنت رسول اللہ ﷺ کو بھی وقت پاس ،بیکار محفلوں اور تفریح کا ذریعہ بنا لیا ہے جس میں مساجد کا تقدس بھی پامال کیا جاتاہے یقیناً ایسا اعتکاف باعث وبال ہی ہوگا۔

اعتکاف کی حالت میں ناجائز امور

1۔ بلا ضرورت مسجد سے باہر نکلنا ۔

2۔ مریض کی عیادت کرنا

3۔ جنازہ میں شریک ہونا( البتہ جنازہ اگر مسجد میں آجائے تو نماز جنازہ پڑھ سکتاہے)۔

4۔ بیوی سےتعلق قائم کرنا

5۔ کسی بھی قسم کے معاشرتی معاملے میں دخل دینا وغیرہ ناجائز امور میں سے ہیں۔ ( سنن ابی داؤد)

اعتکاف کی حالت میں جائز امور

اگر مسجد میں انتظام نہ ہو تو قضائے حاجت کیلئے باہر جانا، غسل کرنا، کپڑے تبدیل کرنا، کنگھی کرنا، ناخن تراشنا، تیل لگانا اور بیوی سے رسمی ملاقات کرنا جائز امور میں سے ہیں۔ ( سنن ابی داؤد)

نوٹ : اعتکاف صرف مسجد میں ہی کرنا مسنون ہے گھر میں اعتکاف کرنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے اعتکاف کو مسجد کے ساتھ خاص کیا ہے ۔

﴿وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ﴾ (سورة البقرۃ:187)

’’اور تم مسجد میں ہو حالت اعتکاف میں۔‘‘

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’روزہ اور جامع مسجد کے بغیر اعتکاف نہیں ہے۔‘‘ (سنن ابی داؤد)

عورتوں کا اعتکاف بھی مساجد میں ہی ہے اگر مساجد میں محفوظ جگہ نہ ہو تو ان کے لیے اعتکاف کرنا ضروری نہیں ہے گھر پر ہی رہ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہیں۔

لیلۃ القدر :

لیلۃ القدر وہ بابرکت اورمبارک رات ہے جس میں رحمتوں اور برکتوں کے نزول کے ساتھ ساتھ فرشتوں کا بھی نزول ہوتاہے یہ ایک رات ہزار رات (یعنی 83 سال ) مہینوں سے بہتر رات ہے اللہ تعالیٰ نے اسی کے بارے میں مکمل سورت سورت القدر کے نام سے نازل فرمائی جس سے اس رات کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔

اسے رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں21 ،23 ،25، 27، 29 میں تلاش کرنے کا حکم دیاگیاہے۔ ( صحیح مسلم)

لیلۃ القدر کی دعا :

لیلۃ القدر میں باقی دیگر عبادات اور دعاؤں کے ساتھ ساتھ اس دعا کا بھی خصوصی اہتمام کیا جائے ۔

اَللَّهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي(جامع ترمذی :3513)

رمضان المبارک کا آخری عشرہ

اللہ کے پیارے نبی ﷺ کے بارہ میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ خبر دیتی ہیں کہ

جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو رسول اللہ ﷺ راتوں کا اکثر حصہ بیدار رہتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار رکھتے اور عبادات میں خوب محنت کیلئے کمر بستہ ہو جاتے۔ (صحیح بخاری)

توبہ واستغفار اور کثرت دعا :

رمضان المبارک میں قبولیت کی گھڑیوں کومزید بڑھا دیا جاتا ہے تاکہ بندہ اپنے رب کے سامنے اپنے گناہوں پر ندامت کرتے ہوئے توبہ واستغفار کرے اور اپنے رب تعالیٰ کو راضی کرکے جہنم کی آگ سے بچ کر جنت کی منزلوں کا راہی بن جائے قبولیت دعا کے لیے بندہ ان چیزوں سے آراستہ ہو جس میں توحید ، اتباع سنت نبوی، اخلاص نیت، رزق حلال، حضور قلب ، عاجزی وانکساری اور قبولیت کا یقین ہونا شامل ہے ۔ ورنہ دعا رد کر دی جائے گی۔

صدقۃالفطر:

صدقۃ الفطر ہر مسلمان پر فرض ہے اور اس کو زکاۃ الفطر بھی کہاجاتاہے ۔

سیدنا عبد اللہ بن عمر سےروایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زکاۃ الفطر کو فرض قرار دیا ہے ایک صاع کھجور، جوکہ ہر مرد غلام ہو یا آزاد، مرد ہو یا عورت ، بچہ ہو یا بوڑھا یہ ہر مسلمان پر فرض ہے اور آپ ﷺ نے اس بات کا بھی حکم دیا ہے کہ اسے نماز عید کے لیے نکلنے سے قبل ادا کیاجائے۔ ( صحیح بخاری)

ایک صاع حجازی تقریباً ڈھائی کلو موجودہ وزن کے برابر ہے۔

شوال کے چاند نظر آنے کے فوراً بعد صدقۃ الفطر ادا کرنا بہتر ہے البتہ عید سے ایک دو دن قبل بھی دیا جاسکتاہے ۔ ( صحیح بخاری)

صدقۃ الفطر جنس کی صورت میں ہی دینا مسنون ہے اس کے مستحقین وہی ہیں جو زکاۃ کے مستحقین ہیں اسے دینی اداروں کے مستحق طلبہ کو بھی دیا جاسکتاہے مگر تعمیراتی کاموں کے لیے نہیں۔

گھر کے سرپرست کا تمام کی طرف سے صدقۃ الفطر ادا کردینا باقی تمام افراد کے لیے کفایت کر جاتاہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما دے جو رمضان المبارک کی برکتوں اور مبارک ساعتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور تلاوت قرآن مجید اور شب بیداری سے اپنے رب کو راضی کرکے جہنم کی آگ سے بچ کر جنتوں کے حقدار بنتے ہیں۔ آمین

تبصرہ کریں