رمضان کی تیاری کیسے کریں؟ ابوعدنان محمد طیب السلفی

ماہِ رمضان کی آمد آمد ہے، ماہِ رمضان آیا ہی چاہتا ہے، اللہ تعالی نے ایک بار پھر ماہ رمضان کو ہم سے قریب کردیا ہے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کوماہ ِرمضان نصیب فرمائے، اور ماہ رمضان کی فیوض وبرکات سے فائدہ اٹھانے کی توفیق مرحمت فرمائے۔

دینی وملی بھائیو!یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللہ تعالی کی طرف سے خیروبرکت نازل ہوتی ہے، یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللہ کی رحمتوں کی برکھا برستی ہے، یہ وہ مہینہ ہے جس میں لوگوںکو جہنم سےآزاد کیا جاتا ہے،یہ وہ مہینہ ہےجس کی آمد پر جنت کے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے ، جہنم کے دروازوں کو بند کردیا جاتا ہے اور سرکش شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے، ارشاد ہےمحمد عربی ﷺ کا «إذا دَخَل رمضانُ فُتِّحَتْ أبوابُ الجنةِ وغُلِّقَتْ أبوابُ جهنَّمَ ، وسُلسِلَتِ الشياطينُ» ” جب رمضان کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)

ایک اورروایت میں ہے: «فتحت أبواب الرحمة» ” رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ۔‘‘ (متفق علیہ)

یہ وہ مہینہ ہے جس میں ایک رات ایسی ہے جس کی عبادت کا ثواب ہزارمہینوں کی عبادت کے ثواب سے بڑھ کرہے، یہ وہ مہینہ ہے جس کی ہر رات اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے جہنم سےآزادی کا پروانہ نصیب کرتا ہے،فرمان نبویﷺ ہے :

«إذا كان أول ليلة من شهر رمضان صفدت الشياطين ومردة الجن وغلقت أبواب النار فلم يفتح منها باب وفتحت أبواب الجنة فلم يغلق منها باب وينادى مناد يا باغي الخير أقبل ويا باغي الشر أقصر ولله عتقاء من النار وذلك كل ليلة »

”جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے توسرکش جنوں اور شیطانوں کو جکڑ دیاجاتاہے اورجہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں ان میں سے (سارا مہینہ) کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ان میں سے( سارا مہینہ) ایک دروازہ بھی بند نہیں کیا جاتا اور ایک منادی یہ اعلان کرتا ہے اے نیکی کے طالب ! آگے بڑھ اور اے برائی کے طالب! رک جا اور اللہ کی طرف سے لوگوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کیا جاتا ہے اور یہ اعلان رمضان کے مہینے میں ہررات کو ہوتا ہے۔‘‘ (جامع ترمذی)

اب دیکھنا ہے کون اپنے آپ کو جہنم سے آزادی کا حقدار بناتا ہے, ظاہر ہے اللہ تعالی اُسی آدمی کو جہنم سے آزادی کاپروانہ عطاکرے گا جو رمضان کےدن ورات کو اسکی مرضیات پر چلنےمیں لگائے گا، یہ مہینہ شہر الصیام والقرآن ہے، یہ مہینہ شہر الرحمۃ والغفران ہے، یہ مہینہ شہر الخیروالبرکات ہے، یہ مہینہ شہر التوبۃ ہے، یہ مہینہ شہر الصدقہ والجود ہے ،یہ مہینہ شہر الانفاق فی سبیل اللہ ہے، یہ مہینہ شہر الصبر ہے، یہ مہینہ شہر الطاعۃ ہے یہ مہینہ شہر المواساۃ (ہمدردی اور غمخواری )کا ہے یہ وہ مہینہ ہے، جس میں برائیاں مٹادی جاتی ہیں، درجات بلند کردئیے جاتے ہیں، یہ وہ مہینہ ہے کہ جس میں گناہ دُھل جاتے ہیں،یہ مہینہ اللہ تعالی کی طرف سےعطاؤں اور بخششوں کا مہینہ ہے، قابل مبارکباد ہیں وہ لوگ جو اپنے رب کی نوازشوں، بخششوں اوراس کے جودوکرم اورفضل واحسان سےفیضیاب ہوکرخوش نصیبی اورسعادت مندی اختیار کرتے ہیں، یہ وہ مہینہ ہےکہ جس کی آمد کا انتظارسلف صالحین چھ ماہ پہلے ہی سے کیا کرتے تھے، معلی بن فضیل﷫ کہتے ہیں:

“کان السلف الصالح یدعون اللہ ستة اشھر أن یبلغھم رمضان” ” سلف صالح چھ ماہ پہلے ہی سےیہ دعا کرتے تھے کہ اے اللہ تو ہمیں رمضان نصیب فرما۔‘‘

سلف صالحین چھ ماہ پہلے ہی اس ماہ کو پانے کی تمنا اور دعا کرتے تھے، یحی بن کثیر﷫ فرماتے ہیں:

” کان من دعائھم اللھم سلمنی رمضان وسلم لی رمضان وتسلمه منی متقبلا”

”سلف صالحین کی یہ دعا ہوا کرتی تھی کہ اے اللہ تو مجھے رمضان صحیح سالم نصیب فرما ،ایسا نہ ہو کہ رمضان سے پہلے مجھے اچانک موت آجائے اور مجھے ایسی کوئی بیماری لاحق ہوجائے جو مجھے روزہ رکھنے اور تراویح پڑھنے سے روک دے، اورمجھے رمضان اس طرح نصیب فرما کہ مجھ سے کوئی ایسا کام نہ ہوجائے جس سے روزہ کو نقصان پہنچے اور روزہ متاثر ہو، رمضان متاثر ہو، اوررمضان میں جو کچھ نیکیاں میں نے کی ہیں، اے اللہ! تو انہیں قبول ومنظور فرما۔

محترم قارئین!ماہ ِرمضان کا پانا،اس کا ملنا اور نصیب ہونا،ایک عظیم نعمت ہے جسے پاکرمسلمان خوش ہوتے ہیں اور ماہ رمضان ملنے پرمسلمان کو خوش ہونابھی چاہئے کیوں کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُون﴾ (سورہ یونس: 58)

” آپ کہہ دیجئےکہ انہیں اللہ کے اس فضل اور اس رحمت پرخوش ہونا چاہئے یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنہیں وہ جمع کرتے ہیں۔‘‘

ماہ ِ رمضان کا پانا، اس کا ملنا اور نصیب ہونا یہ اللہ کا فضل وکرم اور اس کی رحمت ومہربانی نہیں تواورکیا ہے، اس لئے ماہ رمضان پانے پرایک مسلمان کو خوش ہونا چاہئے۔

ماہ رمضان، اللہ اکرم الاکرمین غنی وحمید کے ساتھ نفع بخش تجارت کرنے کا ایک عظیم موسم ہےجس کے ہاتھ بھرے ہوئے ہیں خرچ کرنے سے خالی نہیں ہوتے، اگر تمام مخلوق جنات وانسان ایک میدان میں جمع ہوجائیں اورہرکوئی اللہ سےمانگے تو اللہ کے پاس جوکچھ ہے اس میں کوئی کمی نہیں ہو گی، جیسےسوئی سمندر میں ڈبو کر نکالنے سے سمندر کے پانی میں کوئی کمی نہیں ہوتی ۔

«ياعِبَادِي : لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ ، وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ ، قَامُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ، فَسَأَلُونِي فَأَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَهُ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي ، إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْر» (صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ باب تحریم الظلم)

” اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے انسان وجنات سب مل کر ایک میدان میں کھڑے ہوکر مجھ سے مانگیں اور میں ہرشخص کی مانگ کو پورا کردوں (توسب کی مانگ پورا کرنے پر) میرے خزانوں میں صرف اتنی سی کمی آئےگی جتنا سوئی کو سمندر میں ڈبوکر باہر نکالا جائے۔‘‘

جب تاجر حضرات ان موسموں کے لئے تیاری کرتے ہیں جن میں ان کو دوگنا نفع حاصل ہوتا ہےتوایک بندہ کو چاہئے کہ وہ اس عظیم موسم کے لئے تیاری کریں، جس میں نیک اعمال کرنے پربلا حدوحساب اجروثواب دیا جاتا ہے، فرمان الہٰی ہے:

﴿إِنَّمَايُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ (سورة الزمر:10)

” بےشک صبر کرنے والوں کو ان کے صبرکا بے حساب اجردیا جائے گا۔‘‘ صبرمیں یہ بھی شامل ہے کہ اللہ رب العالمین کی اطاعت پر صبر کیا جائے۔

نیزحدیث میں یہ بھی آیا ہوا ہے کہ روزہ رکھنے پر بلاحد وحساب اجروثواب ملتا ہے ،فرمان نبوی ﷺ ہے:

«كل عملِ ابنِ آدمَ يُضاعفُ الحسنةَ بعشر أمثالها إلى سبعمائةِ ضعفٍ . قال اللهُ عزَّ وجلَّ : إلا الصومُ . فإنَّهُ لي وأنا أجزي بهِ . يَدَعُ شهوتَه وطعامَه من أجلي»

”ابن آدم کے ہرعمل کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھادیا جاتا ہے ،لیکن اللہ عزوجل کا فرمان ہےروزہ کے سوا ، کیوں کہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، کیوں کہ روزہ دار اپنی خواہشات اور کھانے پینے کو میری خوشنودی کے لئے چھوڑتا ہے۔‘‘

معلوم ہوا کہ ماہ رمضان میں نیک اعمال کا ثواب بڑھا کر دس گنا سےسات سو گنا تک کردیا جاتاہے سوائے روزہ کے کیوں کہ اس کا اجروثواب بلا حد وحساب دیا جائے گا۔

آئیے اب ہم جانتے ہیں کہ اس مبار ک اور معزز مہینہ کی تیاری کیسے کریں، اور اس کی تیاری درج ذیل امور کو اپنا کرکریں:

٭ سب سے پہلے سچی توبہ کرکےاس مہینہ کے لئے تیاری کریں، کیوں کہ جب بندہ اور خیر کے کام کے درمیان گناہ حائل رہتا ہے تویہ گناہ بندہ کو نیک اعمال کرنے سے روکے رکھتا ہے اورجب بندہ اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے تو پھربندہ کی طبیعت نیکیاں کرنے کےلئے آمادہ اور تیار رہتی ہے: “جاء رجل إلى الحسن البصري – رحمه الله – وقال له يا أباسعيد : أجهز طهوري وأستعد لقيام الليل ولكني لا أقوم , ما سبب ذلك؟ فقال له الحسن: قيدتك ذنوبك” ”امام حسن بصری ﷫ کے پاس ایک شخص آیا ، اس نے کہا اے ابوسعید (یہ امام حسن بصری﷫ کی کنیت ہے)میں وضو کاپانی ریڈی رکھ کر قیام اللیل کے لئے تیار رہتا ہوں لیکن قیام اللیل کے لئے اٹھ نہیں پاتا ،اس کی وجہ کیا ہے؟ تو امام حسن بصری ﷫نے اس شخص سے فرمایا : ’’تمہارے گناہوں نے تمہیں باندھ رکھا ہے۔‘‘ جی ہاں، گناہ ومعصیت ہر خیر وبھلائی سے محرومی کا باعث ہے، آپ دیکھیں گے کہ لوگ کس طرح اپنا وقت ضائع اور برباد کر رہے ہیں اور رمضان جو نیکیوں کا موسم ہے اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے جب کہ وہ ماہ رمضان کے فضائل وبرکات سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گناہوں نے انہیں جکڑ لیا ہوتاہے جس کی بناپر وہ رمضان کی خیر وبھلائی سے محروم رہتے ہیں۔

فرمان الہی ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾

” اے ایمان والو! تم اپنے رب کے حضور صدق دل سے توبہ کرو، اُمید ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہ معاف کر دے گا ،اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کردے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔‘‘ (سورۃ التحریم: 8)

ہم سب گنہگار ہیں اس لئے ماہ رمضان کو خیر وبھلائی کا کام انجام دینے کے لئے نقطہ آغازسمجھئے، خیر وبھلائی شروع کرنےکا مرکز جانئے اور اس مہینہ میں انواع واقسام کی نیکیاں انجام دے کر اپنے دل کو نیکیوں کے انوار سے مالا مال کرلیجئے،اور ماضی میں جو کوتاہیاں ہوئی ہیں ان کی تلافی کیجئے اور اللہ کی طرف متوجہ ہوجایئےتواللہ آپ کی طرف متوجہ ہوگا، کیوں کہ ماہ رمضان میں ایسے اعمال پائے جاتے ہیں جو گناہوں کی مغفرت کا باعث ہیں، جنہیں بجا لانے سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، فرمان نبوی ﷺ ہے:

«مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَّاحتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»

” جس نے ایمان اورحصول ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھےاس کے سابقہ تمام گناہ معاف کردئیے گئے”

آپ ﷺ نے فرمایا :

«مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَّاحتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ» (متفق عليه)

” جس نے ایمان واحتساب کے ساتھ اس مہینہ کا قیام کیا، راتوں کو تراویح کی نماز پڑھی تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کردئیے گئے ۔‘‘

نیز فرمایا:

«مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيْمَاناً وَاحتِسَاباً غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»

’’جس نے ایمان واحتساب کے ساتھ شب قدر کا قیام کیا تواس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کردئیے گئے۔ ‘‘ ( متفق علیہ)

وقال ﷺ: «أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ، فَقَالَ: «رَغِمَ أَنْفُه، رَغِمَ أَنْفُه رَغِمَ أَنْفُه قيل من يا رسول الله ؟ قال مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ، فَقُلْتُ: آمِين»

آپﷺ نے فرمایا: میرے پاس جبریل آئے اور کہا (اے محمد ﷺ) اس شخص کی ناک خاک آلود ہو، ایسا انہوں نے تین مرتبہ کہا ، آپ سے پوچھا گیا یارسول اللہ کون شخص ؟فرمایا : وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اپنی مغفرت نہ کرالی ، تومیں نے اس پر آمین کہا۔‘‘

صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«الصَّلواتُ الخَمْسُ والجمعةُ إلى الجمعةِ ورمضانُ إِلَى رمضانَ مُكفِّراتٌ مَا بينهُنَّ إذا اجْتُنِبت الْكَبَائر»

’’ پانچ نمازیں اور ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اور رمضان سے رمضان تک گناہوں کو مٹا دینے والے ہیں جب کہ کبائر سے اجتناب کیا جائے۔‘‘

ماہ رمضان میں گناہوں کی مغفرت کے یہ عظیم اسباب ہیں جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اپنے گناہوں کی مغفرت نہ کرالی تووہ خسارہ اور نقصان میں رہا اور بہت ساری بھلائیوں سے محروم رہ گیا۔

اس لئے میرے بھائیو! سچی توبہ کرکے اس مہینہ کی تیاری کریں اور یقین جانئےسچی توبہ کی بدولت اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے اس سوار مسافر سے بھی زیادہ خوش ہوتاہے جو ایک بیابان سنسان وادی کی طرف سفر کر رہا ہوتا ہے، راستہ میں وہ آرام حاصل کرنے کے لئے ایک درخت کے سایہ میں لیٹ جاتا ہے اور پاس ہی وہ اپنی اونٹنی کو بھی باندھ دیتا ہے جس پر اس کا سامان ِسفر ہوتا ہے ،اور پھر وہ سوجاتا ہے جب اس کی آنکھ کھلتی ہے تودیکھتا ہے کہ اس کی وہ سواری موجود نہیں جس پر اس کا سامان سفر بھی ہے اب تو وہ حیران وپریشان ہوتا ہے اور جگہ جگہ چھان مارتا ہے لیکن اس کی اونٹنی سواری نہیں ملتی۔ اب اسے یقین ہوجاتا ہے کہ اب تو مرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، تو وہ مرنے کے لئے اسی جگہ آ کر لیٹ جاتا ہے جہاں وہ پہلی بار لیٹا ہوتا ہے۔ جب وہ دوبارہ سوکر اٹھتا ہے تودیکھتا ہے کہ اس کی وہ سواری جو غائب تھی اپنی جگہ کھڑی ہے یہ دیکھ کر وہ خوشی سے پاگل ہوجاتا ہے۔ حدیث کے الفاظ ہیں:

«أخطأ من شدة الفرح» شدت خوشی سے وہ بالکل پاگل ہوجاتا ہے اور یہ کہہ دیتا ہے:

اَللَّهُمَّ أَنْتَ عَبْدِی وَأَنَارَبُّكَ، اے اللہ! تو میرا بندہ اور میں تمہارا رب ہوں۔ جب کہ کہنا چاہئے: اَللّهُمّ أَنْتَ رَبِّیْ وَأَنَا عَبْدُكَ ’’اے اللہ! تو میرا رب ہے اور میں تمہارا بندہ ہوں۔‘‘

چنانچہ حدیث کے الفاظ ہیں، صحیحین میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے خوش ہوتا ہےجب بندہ اللہ کی جناب میں توبہ کرتا ہے:

« لله أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِأَرْضِ فَلَاةٍ فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَأَيِسَ مِنْهَا فَأَتَى شَجَرَةً فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذَا هُوَ بِهَا قَائِمَةً عِنْدَهُ فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ اللَّهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ»

’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر، جب وہ (بندہ) اس کی طرف توبہ کرتا ہے، تم میں سے کسی ایسے شخص کی نسبت کہیں زیادہ خوش ہوتا ہےجو ایک بے آب و گیاہ صحرا میں اپنی سواری پر (سفر کر رہا) تھا تو وہ اس کے ہاتھ سے نکل (کر گم ہو) گئی، اس کا کھانا اور پانی اسی (سواری) پر ہے۔ وہ اس (کے ملنے) سے مایوس ہو گیا تو ایک درخت کے پاس آیا اور اس کے سائے میں لیٹ گیا۔ وہ اپنی سواری (ملنے) سے ناامید ہو چکا تھا۔ وہ اسی عالم میں ہے کہ اچانک وہ (آدمی) اس کے پاس ہے، وہ (اونٹنی) اس کے پاس کھڑی ہے، اس نے اس کو نکیل کی رسی سے پکڑ لیا، پھر بے پناہ خوشی کی شدت میں کہہ بیٹھا، اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں۔ خوشی کی شدت کی وجہ سے غلطی کر گیا۔”(صحیح مسلم، كِتَابُ التَّوبَةِ بَابٌ فِي الْحَضِّ عَلَى التَّوْبَةِ وَالْفَرَحِ بِهَا )

اس مہینہ کی تیاری اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کرکے کریں جو روف ورحیم اور تواب وغفورہے۔

٭دوسرا یہ کہ اس مہینہ کی تیاری نیکیوں کی بجا آوری میں محنت کرنے پر سچی نیت اور ارادہ کر کے کریں، کیوں کہ نیک نیتی کے باعث بندہ کو اللہ کی مدد اور اس کی توفیق نصیب ہوتی ہے۔ فرمان الٰہی ہے:

﴿إِن يَعْلَمِ اللهُ فِي قُلُوبِكُمْ خَيْرًا يُؤْتِكُمْ خَيْرًا مِّمَّا أُخِذَ مِنكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗوَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾  (سورۃ الانفال : 70) ” اگراللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں نیک نیتی دیکھے گا تو جو کچھ تم سے لیا گیا ہے اس سے بہتر تمہیں دے گا اور پھر گناہ بھی معاف فرمائے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ہی۔‘‘

ایک جگہ اورفرمایا:

﴿لَّقَدْ رَضِيَ اللهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا ﴾  (سورۃ الفتح:18)

”یقینا اللہ تعالی مومنوں سے خوش ہوگیا جب کہ وہ درخت تلے تجھ سے بیعت کررہے تھےان کے دلوں میں جو تھا اس نے معلوم کرلیا، اور ان پر اطمنان نازل فرمایا اورانہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی۔‘‘

یہ دونوں آیات اس بات پردلیل ہیں کہ نیک نیتی بندہ کےلئے اللہ کی توفیق کا سبب ہےاس لئے ایک مسلمان آدمی کو چاہیے کہ وہ ماہ رمضان میں نیکیاں بجالانے اور اس میں محنت کرنے پر پختہ اور سچی نیت کرے، گویا اپنی زبان حال سے کہے اگر میں نے رمضان کا مہینہ پالیا تو اللہ تعالیٰ میری کار کردگی کو دیکھے گا، بندہ کو چاہئے کہ وہ کثرت سے دعا کرے کہ اللہ اس مہینہ میں اسے اپنی مرضیات پر چلانے میں اس کی اعانت ومدد فرمائے ،کیوں کہ رمضان کا مہینہ مل جانا یہ کمال نہیں بلکہ اس مہینہ میں نیکیوں کی توفیق نصیب ہونا یہ کمال ہے ، کتنے انسان ایسے ہیں جن کو رمضان کا مہینہ نصیب ہوتا ہے لیکن اسے خیر کی توفیق نصیب نہیں ہوتی بلکہ وہ اس مہینہ میں کبائر بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب بھی کرتے ہیں، ایک مسلمان کو چاہئے کہ یہ دعا بکثرت پڑھے جو نبی ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل کو سکھائی تھی:

«اَللهم أَعِنِّيْ عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ»

’’اے اللہ تو مجھے اپنا ذکر شکر اور اچھی طرح عبادت بجالانے پرمیری اعانت ومدد فرما۔‘‘ یہ دعا رمضان اور غیر رمضان سب میں پڑھی جائے، لیکن رمضان میں اس کی ضرورت واہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫ فرماتے ہیں:

’’میں نے غور کیا تومعلوم ہوا کہ سب سے زیادہ نفع بخش دعا وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ سے اس کی مرضیات پر چلنے کی اعانت ومدد طلب کی جائے۔‘‘

٭ اس مہینہ کی تیاری قرآن کریم کی تلاوت اور اس میں تدبر وتفکر کر کے کریں، دوستو! یہ مہینہ شہر القرآن ہے، اسی مہینہ میں اللہ کے نبی محمدﷺ پر قرآن نازل کیا گیا اور اسی مہینہ میں آپ نبوت ورسالت کے دولت سے سرفراز کئے گئے ، جب رمضان کا مہینہ ہوتا تو جبریل امین آپ کے پاس آتے اور قرآن کا مدارسہ مذاکرہ اور مراجعہ فرماتے ، جس سال آپ کی وفات ہوئی اس دفعہ رمضان میں جبریل دو دفعہ آپ کے پاس مدارسہ قرآن کی دہرائی کے لئے آئے ، اس لئے اس مہینہ میں قرآن کی تلاوت بکثرت کریں، قرآن حفظ کریں، قرآن کا مراجعہ کریں، قرآن میں تدبر وتفکر کریں ، لیکن آج مسلمانوں نے تو قرآن کو بالکل ہی چھوڑ رکھا ہے ، بتلائیے کتنے مسلمان ایسے ہیں جنہوں نے گزشتہ رمضان سے اب تک قرآن مجید ایک بار ختم کیا ہے ، کتنے ایسے ہیں جنہوں نے اب تک قرآن کریم کا ایک پارہ بھی ختم نہیں کیا ہے، اور کتنے ایسے ہیں جن کو اب تک قرآن اٹھا کر پڑھنے کی بھی توفیق نصیب نہیں ہوئی، اسی لئے کل قیامت کے دن اللہ کے نبی حضرت محمدﷺ اللہ تعالیٰ سے کہیں گے:

﴿ وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا القُرْآنَ مَهْجُورًا﴾ (سورة الفرقان:30)

” اور رسول کہے گا،اے میرے رب! بےشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔‘‘

جب کہ ہمارے اسلاف ہر تین دن میں ایک ختم قرآن کیا کرتے تھے، ان کی بلند ہمتی کا کیا پوچھنا، وہ دنیا اور آخرت کو اچھی طرح پہچانتے تھے، اس لئے انہوں نے دنیا پر آخرت کوترجیح دی تھی، فرمان الٰہی ہے:

﴿وَلَلآخِرَةُ خَيْرٌلَّكَ مِنَ الْأُوْلَى﴾  ’’اور یقیناً آخرت آپ کے لئے دنیا سے بہتر ہے۔‘‘

٭اس مہینہ کی تیاری کثرت دعا کےذریعہ کریں، کیوں کہ کثرت دعا کی وجہ سے آدمی کو اللہ تعالیٰ اطاعت کی توفیق مرحمت فرماتا ہے اور اس کے وقت میں برکت ڈال دیتا ہے اور مختلف قسم کی نیکیوں کے کام اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ سے کروادیتا ہے ، کیوں کہ تمام امور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اور اسی کی طرف سے توفیق ملتی ہے ، اس لئے اس ماہ کے آنے سے پہلے اور آنے کے بعد بھی ہر لمحہ اور ہرآن اس رب کریم کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہئے۔

اس مہینہ میں زیادہ سے زیادہ دعا کر کے فائدہ اٹھائیے، کیوں کہ یہ دعا کا مہینہ ہے، اور دعا کی آیت روزہ کی آیات کے درمیان ذکر ہوئی ہے جس سے دعا کی اہمیت مزید واضح ہوتی ہے، دعا کرنے کی قرآن کریم میں بڑی فضیلت اور ترغیب آئی ہوئی ہے ، فرمان الہٰی ہے:

﴿وَقَالَ رَبُّكُمَ ادْعُوْنِيْ أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ ’’ اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔‘‘ اور ایک جگہ فرمایا:

﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ﴾

’’جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکارے قبول کرتا ہوں ۔‘‘

امام ابن کثیر ﷫ اس آیت کریمہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’ اس آیت میں دعاکی ترغیب وتاکید بیان ہوئی ہے اور یہ آیت روزہ کے احکام ومسائل کے درمیان ذکر کی گئی ہے جس میں مہینہ کے اختتام تک اور ہرروز افطار کے وقت دعا میں اہتمام کرنے کی ہدایت وتلقین کی گئی ہے۔‘‘ انتھی كلامه ۔

اورفرمان نبوی ﷺ ہے:

«أَفْضَلُ الْعِبَادَةِ الدُّعَاء» ’’ دعا افضل ترین عبادت ہے۔‘‘ اور آپ نے یہ بھی فرمایا:

«لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى الله تَعَالَى مِنَ الدُّعَاءِ» ’’ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی نظر میں دعا سے بڑھ کر قابل قدرکوئی چیز نہیں۔‘‘

آپ ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے:

«إِنَّ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَيِيٌّ كَرِيْمٌ يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يردُّهُمَا صَفْراً خائبتين»

’’ تمہارارب بڑا شرمیلا اور کریم ہے وہ اپنے بندہ کے اٹھائے ہوئے ہاتھوں کو خالی اور نامراد واپس کرنے سے شرماتا ہے۔‘‘

پورا ماہ رمضان دعا کرنے کا محل وموقع اورموسم ہے، بالخصوص افطار سے پہلے کی گئی دعا قبول کرلی جاتی ہے، فرمان نبوی ﷺ ہے:

«ثلاثة لا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ الإِمَامُ الْعَادِلُ وَالصَّائِمُ حِينَ يُفْطِرُ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ »

’’ تین شخصوں کی دعا ء رد نہیں کی جاتی ،افطار کے وقت روزہ دار کی دعا، منصف امام کی دعا اورمظلوم انسان کی دعا‘‘ (رواه الترمذي)

اس لئےماہ رمضان میں دعا ءکرنے کا اہتمام کیجئےاور یہ یقین رکھئے جو برابر دروازہ کھٹکھٹائے اس کےلئے دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔

محترم قارئین !

رمضان ہمارا معززمہمان ہے ہمیں اپنے معزز مہمان کی قدر کرنا چاہئے، اوراپنے اعضاء وجوارح کو اللہ کی معصیت ونافرمانی سے محفوظ رکھ کر اس ماہ کے تقدس وعظمت کا خیال رکھنا چاہئے۔

لیکن آپ کو سخت تعجب ہوگا کہ آج رمضان تو ڈراموں کا موسم بنا ہوا ہے جن کے ذریعہ لوگوں کو اللہ کے دین سے برگشتہ کیا جارہا ہے اور ان کو فتنہ وفساد سے دوچار کیا جارہا ہے، اس بڑے جرم (گناہ) کے ذمہ دار وہ گنہگار فضائی چینلوں کے مالکان ہیں جو زمین میں شرو فساد پھیلاتے ہیں، ایسے گندے فضائی چینلوں کے مالکان کو اللہ کے اس فرمان سے ڈر جانا چاہئے:

﴿إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِۚ وَاللهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَاتَعْلَمُونَ﴾

’’جو لوگ مسلمانوں میں بےحیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے ۔‘‘(سورۃ النور:19)

علامہ عبد الرحمن بن ناصر السعدی ﷫ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں: یہ وعید مجرد برائیاں پھیلانے والوں کے لئے ہے۔

ایسےلوگوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا وآخرت میں شدید عذاب کی دھمکی دی ہے اور مسلمانوں سے کہا ہے کہ بری بات پھیلانے کے کیسے خطرناک اثرات مسلم سوسائٹی پرمرتب ہوتے ہیں، ان کا علم اللہ کو ہے، تم ان کا صحیح اندازہ نہیں کرسکتے ہو۔

اللہ تعالی کا یہ فرمان بھی ہے:

﴿إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ﴾

’’بیشک جن لوگوں نے مسلمان مردوں اور عورتوں کو ستایا پھر توبہ (بھی) نہ کی تو ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور جلنے کا عذاب ہے۔ (سورۃ البروج:10)

مسلمانوں کو چاہئے کہ اس مہینہ کی فضیلتوں اور عظمتوں کا خیال رکھیں اوراپنے کا ن اور آنکھ کو حرام دیکھنے اور حرام سننے سے روکے رکھیں، اسے ایسا کرنے پر اللہ تعالی کی طرف سے اجر عظیم ملے گا، فرمان الہٰی ہے:

﴿ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ عِندَ رَبِّهِ﴾ ’’ اور جو شخص اللہ کی احترام والی چیزوں کی تعظیم کرے تو یہ بات اس کے پروردگار کے ہاں اس کے لئے بہتر ہے۔‘‘ (سورۃ الحج آیت :30)

ایک اورجگہ اللہ نے فرمایا:

﴿وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَاللهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ﴾

’’ اور جو شخص اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے تو یہ بات دلوں کے تقویٰ سے تعلق رکھتی ہے۔‘‘

جس طرح نیکیوں کے کرنے پر اجر ہے اسی طرح برائیوں کے چھوڑنے پر بھی ثواب ہے اس لئے ہم مسلمانوں کو اس مہینہ کی حرمت وعظمت کا خیال کرتے ہوئے برائیوں سے بالکلیہ اجتناب کرنا چاہئے۔ فرمان نبویﷺ ہے:

« مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ وَالْجَهْل فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ » (سنن ابن ماجہ )

’’جو شخص روزہ رکھ کر جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا اور جہالت کرنا ترک نہ کرے تواللہ کو اس کے بھوکا اور پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔‘‘

اور جھوٹ بولنے اوراس پر عمل کرنے سےمرادہر جھوٹی اور حرام بات جیسے غیبت ، چغلی، فحش کلامی، لعن طعن ،جہالت اور بیوقوفی وغیرہ ہے، تو جس نے اللہ کی معصیت ونافرمانی سے باز رہ کراس مہینہ کی تعظیم کی ،اس مہینہ کا احترام کیا تو اللہ اس کو عظمت نصیب کرے گااوراسے خیر اور تقوی میں آگے بڑھائےگا، اس کے خیر وتقوی کو زیادہ کرے گا، اے اللہ ! تو ہمیں روزہ رکھنے، قیام کرنے اورتمام نیکیاں بجالانے کی توفیق عطا فرما اور ہماری نیکیوں کو قبول فرما اور برائیوں سے بچا ۔آمین۔

اسی طرح رمضان کی تیاری اس کے احکام ومسائل کو سیکھ کرکریں کیوں کہ بعض لوگ جہالت اور لاعلمی کی بنا پر رمضان کے دنوں میں اور روزہ کی حالت میں ایسے امور کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں جن کا شمار حرام،ممنوع اور مفطرات (روزہ توڑدینے والی چیزوں ) میں ہوتا ہے،اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ ماہ رمضان آنے سے پہلے روزہ کے احکام ومسائل کو سیکھ لے، اس سلسلہ میں ان کتابوں کا مطالعہ اوران ویڈیو اور آڈیو تقاریر کا سننا بیحد مفید ہوگا جوروزہ ، قیام ، شب قدر، اعتکاف اور آخری عشرہ کے فضائل ومسائل اور صدقہ فطر کے احکام ومسائل سے متعلق ہیں ، اوریہ کتابیں اور کیسٹیں اللہ کے فضل وکرم سے بآسانی دستیاب ہیں، اس طرح آپ اس فریضہ کوبحسن وخوبی انجام دے سکیں گے ۔

 

تبصرہ کریں