رمضان چلا گیا، اب کیا کریں!۔ ڈاکٹر عمران اسلم

سب سے پہلے آئیے ہم ایمانداری سے ایک سوال کا جواب تلاشنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا آپ اپنے رمضان پلان پہ پوری طرح عمل(Execute) کرنے میں کامیاب ہوئے؟

بطور انسان ہم میں سے کوئی پرفیکٹ ہے اور نہ ایسا ممکن ہے۔ ہم سب کے کچھ گولز ہوتے ہیں لیکن بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ توقع کے مطابق ہم ان کو حاصل نہیں کر پاتے۔ اس کی وجہ بسا اوقات یہ ہوتی ہے کہ ہم نے جو شیڈول بنایا ہوتا ہے وہ خاصا مبالغہ آمیز ہوتا ہے اور کئی دفعہ ہمیں غیرمتوقع چیزوں کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔ اگر آپ کے ساتھ کچھ ایسا ہوا ہے تو ہرگز پریشان مت ہوں اور اپنی کوشش کو مکمل ’ناکامی‘ کا نام مت دیجئے۔ اس کے بجائے اس پہ فوکس رکھیے جو آپ نے حاصل کر لیا اور اپنی کوش پہ مطمئن رہیے۔

نبی کریمﷺ کا ارشاد گرامی ہے:’’ہر عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر ایک کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔‘‘ (صحیح بخاری)

یہ حدیث بہت تسلی دینے والی ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف نیت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ ساتھ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اللہ کی طرف سے اجر صرف اس پہ نہیں ملے گا جو عمل ہم نے مکمل کر لیا۔ بلکہ اس پہ ملے گا جس کی ہم نے صدق دل سے نیت کی۔ دوسرے لفظوں میں: اجر کا تعلق محض رزلٹ کے ساتھ نہیں ہے۔ بلکہ اس کا تعلق ہماری کوشش(Efforts) کے ساتھ ہے چاہےبعض وجوہات سے ہم وہ عمل نہ کر سکے ہوں جن کی ہم نے نیت کی۔

اب یوں کیجئے کہ اپنے رمضان پلان پہ ایک نظر ڈالیے۔ اگر آپ کو لگے کہ آپ نے اپنے رمضان پلان پہ 50فیصد عمل کر لیا ہے تو یہ قابل داد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے 30 دنوں میں اپنی صلاحیت کو 50 فیصد بڑھا لیا ہے، الحمدللہ! آپ کا اب یہ مشن ہونا چاہیے کہ آپ اپنی اس پراگریس کو کیسے برقرار رکھ پاتے ہیں۔

اس صورت میں کہ اگر ہم نے اللہ تعالیٰ پر کامل یقین اور اعتماد کے ساتھ روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ نے رمضان کے آخری دن ہماری سب خطاؤں کو معاف کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ رمضان کے بعد ایک مسلمان یوں ہو جاتا ہے جیسے نیا جنم لینے والا بچہ ہوتا ہے۔

تو اس طہارت(Purification) کے بعد اگر ہم نیا سٹارٹ لیناچاہتے ہیں تو ہمیں پوری پلاننگ کے ساتھ اگلا قدم اٹھانا چاہیے۔ اس ضمن میں کچھ ٹپس پیش خدمت ہیں:

1۔ پراڈکٹو رہنے کے لیے دعا:

ہم نے رمضان کا مہینہ بھرپور انرجی اور روحانیت کے ساتھ گزارا۔ شیطان جو 30 دن ہم سے دور رہا۔ بھرپور کوشش کرے گا کہ ہم اس روحانیت کے اثر سے جلد سے جلد نکال لے جائے۔ روحانیت(Spirituality) اور شیطان کے درمیان جاری جنگ جیتنا آسان نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آنے کے لیے دعا انتہائی ضروری ہے۔ نبی کریمﷺ نے اس بارے میں ہمیں ایک بہت پیاری اور جامع دعا سکھائی ہے۔ جو یہ ہے:

اَللَّهُمَّ يَا مُثَبِّتَ الْقُلُوْب ثَبِّتْ قَلْبِيْ عَلَى دِيْنِك

2۔ اپنے ماحول پہ نظر رکھیے:

ہم میں سے بہت سوں کی کام یا آفس جانے کے بعد ایک عادت یہ ہوتی ہے کہ ہم صبح وہاں جا کے چائے شائے پیتے ہیں۔ رمضان کے بعد بھی جب ہم اسی روٹین اور اسی ماحول میں واپس لوٹ جاتے ہیں تو غیر ارادی طور پہ وہی پرانی ناخوشگوار خواہشات بھی واپس آ جاتی ہیں۔ (ٹائم پاس، لمبی گپ شپ، سموکنگ ، یہاں تک کہ نماز چھوڑ دینا) Productive رہنے کے لیے اپنے ماحول پہ توجہ دینا بے حد ضروری ہے۔ جب شیطان ہمیں گمراہ کرنے لگتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ وہ بڑے سینگوں اور چھڑی کے ساتھ ہمارے سامنے آ جائے بلکہ وہ یہ کوشش کرتا ہے کہ آپ کو اپنی پرانی بری عادات پہ واپس لے جائے۔ وہ ہم پہ مختلف طریقوں اور انداز سے حملہ آور ہوتا ہے،اور اس کی خفیہ تدابیرمیں سے سب سے کارگر‎تدبیر یہ ہے کہ آپ کو پرانی کمپنی میں واپس کھینچ لے جائے۔ جتنا ممکن ہو سکے برے اور غیر مفید (unproductive) ماحول سے خود کو دور اور علیحدہ کر لیجئے۔ آپ کسی اچھی نصیحت کے ساتھ اپنے دوستوں کے دل پہ دستک بھی دے سکتے ہیں، کیونکہ انھیں بھی مدد کی ضرورت ہے اور ممکن ہے ان میں بھی چینج آ جائے۔ لیکن آگاہ رہیے کہ اگر آپ دوسروں پر اثر انداز نہیں ہوئے تو یہ یقینی ہے کہ وہ آپ پر اثر انداز ضرور ہوں گے۔

3۔ کسی ہفتہ وار درس و دروس میں شریک ہوں

رمضان میں عبادات کرنا قدرے آسان ہو جاتا ہے کیونکہ ہم سب کی توجہ اس طرف ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں مسلمان شب و روز عبادت میں مگن ہوتے ہیں۔ روزہ رکھنا بجائے خود ہمیں پورا دن روحانی طور پہ پراڈکٹو رکھتا ہے۔ رمضان میں بہت سی عبادات مشترکہ چل رہی ہوتی ہیں اس لیے رمضان کے بعد اپنی موٹیویشن کو بڑھانے کے لیے خود پہ پہلے سے زیادہ محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ہم مصروف زندگی میں اپنی روحانی انرجی کھوتے چلے جاتے ہیں۔ ہفتہ وار کسی حلقہ کا حصہ بننا اس سلسلے میں کافی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔یہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے قریب رکھنے کا ایک ذریعہ ہو گا۔ اس ذریعے سے آپ کو اچھی کمپنی میں بیٹھنے کا موقع ملے گا۔ جن سے آپ اپنے خیالات اور تاثرات ڈسکس کر سکیں گے۔

آئیڈیل تو یہی ہے کہ مسجد میں اس حلقہ کا اہتمام ہو، لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو تو یوٹیوب پہ آپ ایسے سپیکر کو سن سکتے ہیں جوآپ کو بہت پسند ہو۔ انٹرنیٹ نے اب یہ بہت آسان کر دیا ہے۔

4۔ نیا شیڈول بنائیے

رمضان کے مہینہ میں کہ جب سب لوگ تراویح ادا کر رہے ہوں، تراویح پڑھنا قدرے آسان ہے لیکن رمضان کے بعد مستقل مزاجی دکھاتے ہوئے 4 رکعات پڑھنا اصل بہادری ہے۔ ایک ایسے موقع پہ کہ جب آپ کے دوست فٹ بال میچ دیکھ رہے ہوں یا پھر گھر کی سب لائٹس آف ہوں اور سب نیند کے مزے لے رہے ہوں۔ بہادری یہ ہے کہ اس وقت عبادت کی جائے جبکہ ہر کوئی اپنی نارمل روٹین میں واپس لوٹ چکا ہو۔

رمضان کے بعد نیا شیڈول بنانا بے حد ضروری ہے۔ نئے پلان میں آپ کو رمضان کا کم از کم 30 فیصد ضرور حاصل کرنا چاہیے۔ آپ رمضان میں کی جانے والی عبادات پہ نظر ڈالیے اور ان کا تیسرا حصہ( 1/3 ) ضرور اپنے شیڈول میں شامل کیجئے۔ مثال کے طور پہ اگر 8 رکعت تراویح پڑھتے رہے ہیں تو چار رکعت نوافل شیڈول میں شامل کیجئے۔ اس کے مطابق صدقہ بھی کیجئے، ذکر بھی کیجئےاور اس کے مطابق ہی قرآن بھی پڑھیے۔

آپ کے جتنے بھی گولز ہیں انھیں واضح لکھیے اور ان کے لیے ڈیڈلائنز لکھیے۔ البتہ یہ ذہن میں رہے کہ رمضان کے پورے شیڈول کو کاپی کرنے کی کوشش مت کیجئے۔ اگر آپ اپنے نئے شیڈول کو رمضان کے شیڈول سے کمپیئر کریں گے تو نیا شیڈول رمضان کے مقابلے میں بہت معمولی محسوس ہو گا لیکن اہم بات ہے: مستقل مزاجی۔ ہمارے پیارے نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا تھا:

’’اللہ کے ہاں پسندیدہ عمل وہ ہے جو مستقل کیا جائے چاہے تھوڑا ہی ہو۔‘‘

جو بھی شیڈول بنائیے اس پہ تواتر اور مستقل مزاجی سے عمل کرتے جائیے۔ اللہ نے چاہا تو آپ کا پورا سال بہت اچھا گزرے گا۔

٭٭٭

تبصرہ کریں