رجب کے اہم واقعات۔پروفیسرمحمد شفیق کوکب

رجب اسلامی تقویم کے ساتویں مہینے کا نام ہے۔یہ مہینہ أشہرحرم میں سے ہے۔ اسی مہینہ میں عمرہ ادا کیاجاتا تھا جو ظہورِ اسلام سے پہلے حج کے ان لازمی ارکان میں سے تھا جو مکہ معظمہ سے متعلق تھے، اسی لئے اسے خدائی امن کا مہینہ سمجھا جاتا ہے اور اسی بنا پر ممنوع جنگ کو، جو رجب کے مہینے میں لڑی گئی تھی اور جس میں آنحضرتﷺنے باختلاف چودہ یا بیس برس کی عمرمیں شرکت فرمائی تھی، حرب الفجار کہتے ہیں۔(اردو دائرہ معارف اسلامیہ :10؍193)

قرآن کریم میں صرف حرمت والے مہینوں کا ذکر اس طرح ہے:

﴿اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِِ وَالْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ فَمَنِ اعْتَدَی عَلَيْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَی وَاتَّقُوْا اﷲَ وَاعْلَمُوْا أنَّ اﷲَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ﴾(سورۃ البقرة: 194)

’’حرمت والا مہینہ حرمت والے مہینے کے بدلے میں اور حرمتیں ایک دوسرے کابدلہ ہوتی ہیں۔ پس جوتم پرزیادتی کرے، تم اس پر زیادتی کرو اتنا ہی جتناتم پر زیادتی کی، اوراللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔‘‘

﴿إنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اﷲِ اثْنَاعَشَرَ شَهْرًا فِیْ کِتَابِ اﷲِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ مِنْهَا أرْبَعَةُ حُرُمٍ﴾(سورۃ التوبہ:36)

’’جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیداکیا، اسی دن سے اللہ کے نزدیک اسی کی کتاب میں مہینوں کی تعداد بارہ ہے، ان میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔مہینوں کی تعداد بارہ مقرر کردی، اور ان کے نام بھی رکھ دیئے اور ان مہینوں کے احکام بھی بیان کردیئے جن کاذکر تمام آسمانی کتابوں میں آیا ہے۔ ان میں سے ایک خاص حکم سال کے چار مہینوں (رجب، ذو القعدہ، ذی الحجہ اور محرم الحرام) کو خاص اہمیت دی۔ان کااحترام لازم قرار دیا اور ان میں جنگ کو حرام کردیا،لیکن زمانہ جاہلیت میں عربوں نے اس حکم کا لحاظ نہیں کیا اور اپنی خواہش کے مطابق مہینوں کو آگے پیچھے کرنا شروع کردیا۔ (تیسیر الرحمن لبیان الرحمن از ڈاکٹر لقمان سلفی:ص565)

رجب نے اسلام میں شب معراج کی وجہ سے، جب آنحضرتﷺآسمانوں کی سیر کو تشریف لے گئے تھے اور جس کی تاریخ وقوع 27رجب قراردی جاتی ہے، زیادہ اہمیت حاصل کرلی۔(اردو دائرہ معارف اسلامیہ:10؍194)

اسی اہمیت کے پیش نظر رجب میں پیش آمدہ اہم واقعات بیان کئے جاتے ہیں:

غزوات و سرایا

سریہ عبداللہ بن حجش اسدی (سریۂ نخلہ رجب 2 ہجری)

ماہ رجب سنہ 2 ہجری میں اس مہم پر رسول اللہﷺ نے سیدنا عبداللہ بن جحش کی سرکردگی میں بارہ مہاجرین کا ایک دستہ بطن نخلہ کی طرف روانہ فرمایا ہر دو آدمیوں کے لیے ایک اونٹ تھا جس پر باری باری دونوں سوار ہوتے تھے۔ (طبقات ابن سعد:2؍10)

اس عسکری مہم کے لئے عبداللہ بن حجش کو ایک تحریری ہدایت نامہ دیاگیا تھا اور انہیں حکم تھا کہ وہ اسے 2دن کی مسافت طے کرنے سے قبل نہ دیکھیں۔ چنانچہ عبداللہ بن جحش نے نبی کریمﷺ کے اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مدینے سے دو دن کی مسافت طے کرنے کے بعد اس ہدایت نامے کو کھولا اور اس میں تحریر کردہ ہدایت نامہ اپنے ماتحت مجاہدین کو سنا کر ان سے صاف صاف کہہ دیاکہ اگر ان پر کسی کو اعتراض ہو تو وہ بلاتکلف واپس چلا جائے۔تاہم تمام مجاہدین نے نبی کریمﷺکے ہدایت نامے پر برضا ورغبت عمل کرنے کا اقرار کیا اور پھر یہ قافلہ آگے سفر کے لئے چل پڑا۔یہ عسکری دستہ حجاز میں آگے چل کر سطح مرتفع تک جاپہنچا جو بحران کہلاتا ہے۔ یہاں سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان کا اونٹ بھٹک کر کسی طرف نکل گیا جس کی تلاش کی بنا پر یہ دونوں دوسرے مجاہدین سے پیچھے رہ گئے جبکہ عبداللہ بن جحش اور ان کے ساتھی نخلہ پہنچ گئے اور وہیں ٹھہر گئے۔اسی دوران اتفاقاً قریش کا ایک قافلہ جس میں عمر وبن حضرمی بھی شامل تھا نخلہ کے قریب سے گزر رہا تھا۔

مجاہدین نے قافلہ کو دیکھا تو تعاقب کرتے ہوئے اس کے قریب جا پہنچے سب سے پہلے اس قافلہ کے سامنے عکاشہ بن محصن پہنچے جن کا سرمنڈا ہواتھا اور وہ صورت سے بڑے ہی دہشت ناک لگ رہے تھے۔ چنانچہ اس قافلہ میں شامل تمام لوگوں نے انہیں دیکھتے ہی ہتھیار ڈال دیئے۔ واقد بن عبداللہ نے تیر چلا کر عمرو بن حضرمی کو قتل کردیا، عثمان بن عبداللہ اور حکم بن کیسان کو گرفتار کرلیا۔

جب یہ لوگ آنحضرتﷺکی خدمت میں قریش کے قافلے کے قیدیوں اور مال غنیمت لے کر حاضر ہوئے تو آپﷺنے فرمایا:’’کیا میں نے تمہیں ماہ حرام میں جدال و قتال سے منع نہیں کیاتھا۔‘‘

اس کے بعد آپﷺنے حکم دیاکہ قیدیوں سے کوئی چیز نہ لی جائے اور جوکچھ لیاگیاوہ واپس کردیا جائے۔ (البدایۃ والنھایۃ،مترجم :3؍256،257)

٭ سریہ زید بن حارثہ (وادی القریٰ کی جانب رجب 6ہجری)

رجب 6 ہجری میں رسول اللہﷺنے حضرت زید بن حارثہ کی سرکردگی میں وادی القریٰ کی جانب ان کو روانہ فرمایا: (طبقات ابن سعد:2؍89)

سریہ الخبط زیرقیادت ابوعبیدہ ابن الجراح (رجب 8 ہجری)

رجب8 ہجری میں نبی کریمﷺنے حضرت ابوعبیدہ بن الجراح کو تین سو مہاجرین و انصار کے ساتھ جہینہ قبیلے کی طرف بھیجا جو القبلیۃ کی جانب روانہ فرمایاجو ساحل سمندر سے بالکل متصل ہے۔ اس لشکر میں سیدنا عمر بھی شریک ہوئے ۔راستے میں سخت بھوک کی وجہ سے ان لوگوں نے درخت کے پتے کھائے۔ قیس بن سعد نے اونٹ خریدے اور ان لوگوں کے لئے ذبح کئے،اس میں مجاہدین کو جنگ کی نوبت نہ آنے کی وجہ سے واپس آ گئے اور یہ وہ سریہ ہے جس میں سمندر نے ان کے لئے بہت بڑی مچھلی پھینک دی جووہ کئی دنوں تک کھاتے رہے۔ (طبقات ابن سعد :2؍132)

غزوہ ٔتبوک (رجب 9ہجری)

رجب 9 ہجری میں نبی کریمﷺ کومعلوم ہوا کہ شام میں رومیوں نے کثیر مجمع جمع کیاہے اور ہرقل اپنے ساتھ بہت سے قبائل کوبھی لایا ہے۔

اِدھر رسول اللہﷺ کو ان کی تیاری کا علم ہوا تو آپﷺنے مسلمانوں کو نکلنے کی منادی کرائی اور اعلان فرمایا ، تاکہ لوگ مکمل تیار ی کرلیں، کیونکہ سخت گرمی کا موسم تھا۔ لمبا سفر تھا،لوگ تنگی اور قحط سے دوچار تھے۔(طبقات ابن سعد:2؍165)

رسول اللہﷺنے اہل ثروت و تنگ دستوں سب کو جہاد کی تیاری کے لیے ترغیب دی اور ان کے لیے جو بھی ممکن ہواوہ لے آئے۔ سیدنا ابوبکر نے اپنے گھر کا سارا سامان پیش کردیا۔ سیدنا عمر نے آدھا سامان پیش کیا اورجب کہ سیدنا عثمان نے پالان اور کجاوے سمیت تین سو اونٹ پیش کردیئے۔ آپﷺمنبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ’’آج کے بعد عثمان جوبھی کریں انہیں ضرر نہ ہو گا۔‘‘ (مسنداحمد:5؍53، جامع ترمذی: 3699، الرحیق المختوم،ص433)

کچھ منافق لوگ آئے جو رسول اللہﷺسے بغیر کسی سبب کے پیچھے رہ جانے کی اجازت چاہتے تھے۔آپﷺنے انہیں اجازت دے دی۔ رسول اللہﷺنے اپنے لشکر کا امیر سیدنا ابوبکر صدیق کو مقرر کیا اور مدینہ میں محمد بن مسلمہ کو اپنا قائم مقام بنایا۔آپﷺ روانہ ہوئے تو عبداللہ بن اُبی اور جو اس کے ہمراہ تھا ، پیچھے رہ گیا، جن میں سے چند مسلمان بھی تھے جوبغیر کسی شک و شبہ کے پیچھے رہ گئے تھے ان میں کعب بن مالک، ہلال بن ربیع، مرارہ بن الربیع، ابوخیثمہ السالمی اور ابوذر غفاری شامل تھے۔

تیس ہزار لشکر اور دس ہزار گھوڑوں کے ہمراہ آپﷺ تبوک آئے اور وہاں بیس روز قیام فرمایا۔ ابوخیثمہ السالمی اور ابوذرغفاری وہیں پر آپﷺ سے ملے۔ہرقل اس وقت حمص میں تھا، رسول اللہﷺنے خالد بن ولید کو اکیدر بن عبدالمالک کی جانب رجب 9 ہجری میں چار سو بیس آدمیوں کے ہمراہ روانہ فرمایا: خالد بن ولید کے لشکر نے ان پرحملہ کرکے اکیدرکو قید کرلیا، لیکن اس کا بھائی لڑتارہا یہاں تک کہ قتل ہوگیا۔

خالد بن ولید نے اکیدر کو اس شرط پر پناہ دی کہ وہ دومۃ الجندل آپ کو دے دے گا۔ خالد اس کو رسول اللہﷺکے پاس لے آئے۔ اس نے سیدنا خالد سے دو ہزار اونٹ، آٹھ سو دوسرے جانور چار سو نیزے پر صلح کرلی۔ آپ نے نبی کریمﷺ کا مخصوص حصہ نکالا اور بقیہ اپنے ساتھیوں میں تقسیم کردیا کہ ہر شخص کو پانچ پانچ حصہ ملے۔(طبقات ابن سعد:2؍166)

متفرقات

وفد مزنیہ (رجب 5 ہجری)

قبیلہ مُضر کا سب سے پہلا وفد جو رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضرہوا۔یہ مزنیہ کے چار سو افراد پر مشتمل تھا جو رجب 5 ہجری کو نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ رسول اللہﷺنے ان کے مکانوں میں رہنے ہی کو ہجرت قرار دیا کہ تم لوگ جہاں رہو مہاجر ہو، لہٰذا تم لوگ اپنے ماہ و متاع کی جانب واپس ہوجاؤ اور وہ لوگ اپنے وطن واپس چلے گئے۔ (طبقات ابن سعد :1؍291)

وفد سعد بن بکر (رجب 5 ہجری)

بنی سعد بن بکر نے رجب 5 ہجری میں ضمام بن ثعلبہ کو جو بہت زیادہ بال اور زلفوں والے تھے بطور وفد رسول اللہﷺکے پاس بھیجا، وہ آپﷺکے پاس آئے اور آپﷺ سے سوال کیااور سوال کرنے میں بہت سختی کی۔پوچھا کہ آپ کو کس نے رسول بنایا اور کن امور کا رسول بنایا؟اور آپﷺسے شرائع اسلام بھی دریافت کئے۔رسول اللہﷺنے انہیں تمام اُمور کا جواب دیا۔ وہ ایسے مسلمان ہوکر اپنی قوم کی جانب واپس گئے کہ بتوں کو اکھاڑ پھینکا، لوگوں کو ان اُمور سے آگاہ کیا جس کا آپﷺنے حکم دیا تھا یا منع کیا تھا۔ اسی روز شام نہ ہونے پائی تھی کہ تمام عورت و مرد مسلمان ہوگئے ان لوگوں نے مساجد تعمیر کیں اور نمازوں کی اذانیں کہیں۔ (طبقات ابن سعد:1؍299)

ہجرت حبشہ اولیٰ (رجب 5 نبوت)

مسلمانوں پر مشرکین کے مظالم کی انتہا ہوگئی تو ان مسلمانوں نے مکہ سے حبشہ کی جانب بعثت نبو ی کے پانچویں برس رجب کے مہینہ میں ہجرت کی۔ ہجرت کرنے والوں میں بارہ مرد اور چار عورتیں تھیں۔ جب رسو ل اللہﷺنے دیکھاکہ مسلمان مشرکین مکہ کے ظلم و ستم سے کسی طرح نجات نہیں پاسکتے اور ان کی حفاظت میں آپﷺکے چچا ابوطالب بھی بے بس ہوچکے ہیں تو آپﷺ نے انہیں حبشہ کی طرف ہجرت کاحکم دیا، کیونکہ وہاں کا حکمران انصاف پسند تھا اور مسلمان وہاں محفوظ رہ سکتے تھے۔ (البدایۃ والنھایۃ :3؍98)

قریش کو ان کے بھاگنے کاپتہ چلا تو غصے سے پھٹ پڑے، فوراً آدمی دوڑائے کہ انہیں پکڑ کرمکہ لایا جائے اور انہیں سخت سزا دی جائے، یہاں تک کہ وہ اللہ کا دین چھوڑ دیں، لیکن ان کے پہنچنے سے پہلے مسلمان سمندر میں دور جاچکے تھے، لہٰذا یہ لوگ ساحل تک جاکر ناکام واپس آگئے۔ (زادالمعاد:1؍24)

واقعہ اسراء ومعراج (رجب 5؍ ہجری)

’اسراء‘ سے مرادنبی کریمﷺ کاراتوں رات مکہ سے بیت المقدس تشریف لے جانااور ’معراج‘ سے مراد عالم بالاتشریف لے جاناہے۔

﴿سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسرْیٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الاَقْصَی الَّذِیْ بَارَکْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ اٰيٰتِنَا إنَّهُ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ﴾ (بنی إسرائيل:1)

’’پاک ہے وہ اللہ جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں یقینا اللہ ہی خوب سننے دیکھنے والاہے۔‘‘

اسراء اورمعراج کے وقت میں بھی اختلاف ہے۔ چنانچہ ایک قول ہے جس سال آپﷺ کی بعثت ہوئی، اسی سال یہ واقعہ پیش آیا۔ایک قول ہے کہ 27 رجب سنہ 10نبوت ہے۔ جو لوگ واقعہ معراج کو ماہ رجب کی پہلی شب جمعہ سے منسوب کرتے ہیں وہ اس شعر کو بنیاد بناتے ہیں۔

لیلة الجمعة عُرجُب بالنبی

لیلة الجمعة اوّل رجب

(البدایۃ النھایۃ : 3؍136)

’’شب جمعہ نبی کریمﷺ کی معراج کی رات ہے۔ وہ رات ماہ رجب کی اوّل شب جمعہ ہے۔‘‘

واقعہ معراج کی تفصیل سے متعلق صحیح روایات کاخلاصہ پیش نظر ہے:

سیدنا جبرائیل براق لے کر تشریف لائے یہ خچر سے چھوٹا ایک جانور ہے جو اپناکھر اپنی نگاہ کے آخری مقام پر رکھتا ہے۔نبی کریمﷺ مسجد حرام سے اس جانور پرسوار ہوئے۔اور سیدنا جبرائیل کے ساتھ بیت المقدس تشریف لائے۔ مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے دو رکعت نماز پڑھی اور انبیاء کی امامت کرا ئی پھر جبرائیل آپﷺ کے پاس تین برتن لائے ایک شراب ، دوسرا دودھ کا اور تیسرا شہد کا تھا۔ (مسند أحمد:4؍208) آپﷺنے دودھ پسند فرمایا:

اس کے بعد آپﷺ کو بیت المقدس سے آسمان دنیاتک لے جایاگیا۔جبرائیل نے دروازہ کھلوایا آپ ﷺ نے وہاں انسانوں کے باپ حضرت آدم کو دیکھااور انہیں سلام کیا، انہوں نے اس کا جواب دیااور مرحبا کہا۔دوسرے آسمان پر سیدنا یحییٰ بن زکریا اور سیدنا عیسیٰ بن مریم کو انہوں نے سلام کیا، انہوں نے جواب دیامرحباکہا اور نبوت کااقرار کیا۔پھر تیسرے آسمان پر سیدنا یوسف کودیکھا، انہیں سلام کیا، انہوں نے جواب دیا، مرحبا کہااور آپﷺکی نبوت کا اقرار کیا۔چوتھے آسمان پر سیدنا ادریس کودیکھا اور انہیں سلام کیا، انہوں نے جواب دیا اور آپﷺ کی نبوت کااقرار کیا۔پھر آپﷺ کو پانچویں آسمان پر لے جایا گیا، وہاں ہارون کو دیکھا اورانہیں سلام کیا، انہوں نے سلام کاجواب دیا اورمرحباکہا اور آپﷺکی نبوت کااقرار کیا۔چھٹے آسمان پر موسیٰ بن عمران سے ملاقات ہوئی آپ نے انہیں سلام کیا، انہوں نے جواب دیااور مرحباکہا اور آپﷺکی نبوت کا اقرار کیا۔ساتویں آسمان پر آپﷺ کی ملاقات سیدنا ابراہیم سے ہوئی، آپ نے انہیں سلام کیا اور مرحبا کہا اور آپﷺ کی نبوت کااقرار کیا۔

پھرآپﷺ کوسدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیااس کے پتے ہاتھی کے کان جیسے تھے اور پھل بڑے کونڈوں جیسے۔پھر آپ کو جبار جلّ جلالہ کے حضور لے جایاگیا۔اس وقت اللہ نے اپنے بندے پر وحی فرمائی اور آپﷺ پر اور آپﷺ کی اُمت پر پچاس وقت کی نمازیں فرض کیں۔پھر آپﷺ سیدنا موسیٰ کے قریب سے گزرے تو انہوں نے پوچھا:

’’ آپ کے رب نے آپ کو کس بات کا حکم دیا ہے؟‘‘ آپﷺ نے فرمایا:

’پچاس نمازوں‘ کا۔ انہوں نے کہا آپ کی اُمت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ اپنے رب سے تخفیف کا سوال کیجئے۔یوں سیدنا موسیٰ اور اللہ کے درمیان آپﷺ کی آمدورفت جاری رہی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں کردی۔اس کے بعد پھر آپﷺ سیدنا موسیٰ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے تخفیف کامشورہ دیا اور کہا کہ میں نے اس سے کم پر بنواسرائیل کوبلایا، لیکن وہ اس کی ادائیگی سے قاصر رہے اور اسے چھوڑ دیا۔نبی کریمﷺنے فرمایا:

’’اب مجھے اپنے رب سے شرم آرہی ہے میں اسی پر راضی ہوں اور اس کو تسلیم کرتا ہوں۔ ‘‘(صحیح بخاری:349، 3887)

پھر اسی رات نبی کریمﷺمکہ مکرمہ تشریف لائے۔ صبح ہوئی تو آپﷺنے اپنی قوم کو ان دو بڑی نشانیوں کی خبر دی جو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو دکھلائیں تھیں، قوم کی اذیت اور ضرر رسانی میں سختی آگئی اور کچھ لوگ تو سیدنا ابوبکر صدیق کے پاس دوڑے آئے اور انہیں خبر دی، انہوں نے کہا:

’’اگر یہ بات آپﷺنے کہی ہے تو سچ ہے‘‘ اسی پر آپ کا لقب صدیق( ) پڑ گیا۔ (سیرت ابن ہشام :1؍399)

٭٭٭

تبصرہ کریں