رجا ورغبت (امید)۔ سید حسین مدنی، حیدر آباد

بندہ مختلف شکلوں میں اللہ تعالیٰ کی عبادت انجام دیتا ہے، جن میں بدنی ، مالی اور زبانی عبادات کے ساتھ ساتھ قلبی عبادات بھی داخل ہیں اور ان قلبی عبادات میں محبت اور خوف وخشیت کی طرح رجاء ورغبت یعنی امید رکھنا بھی شامل ہے ۔

امام ابن قیم﷫نے فرمایا کہ اگر امید کی روح نہ ہو تو دل اور اعضا کی بندگی ضائع ہوجائے گی اور عبادت گاہیں ڈھادی جائیں گیں جن میں بکثرت اللہ کا نام لیا جاتا ہے، بلکہ اگر امید کی روح نہ ہو تو اعضا اطاعت کے لیے آمادہ نہ ہوں گے۔

مختصراً یہ کہ امید ہر عبادت گزار کے لیے ضروری ہے اور جب کبھی امید ٹوٹے گی اور آس چھوٹے گی تو ہلاک ہوجائے گا یا ہلاکت سے قریب ہو جائے گا کیونکہ وہ یا تو ایسے گناہ میں ملوث رہتا ہے جس کی مغفرت کی امید رہتی ہے، یا کسی عیب سے وابستہ رہتا ہے جس کی اصلاح کی توقع رہتی ہے، یا کوئی عمل صالح کیا ہوتاہے جس کی قبولیت كی آس لگی رہتی ہے، یا استقامت کے ساتھ رہتا ہے جس سے اللہ کی قربت بندھی رہتی ہے۔ (مدارج السالکین بین منازل إیاک نعبد وإیاک نستعین، فصل منزلۃ الرجاء، مناقشۃ شیخ الإسلام)

رجاء ورغبت کا معنیٰ

رجاء (امید) مایوسی کی ضد ہے ، جو کسی قریبی یا دیرینہ فائدے کی دلی خواہش کا نام ہے ، جو کبھی امید کے لیے تو کبھی کسی شئے کے کنارے کیلئے اور بسااوقات خوف کے لیے بھی استعمال ہوتاہے، یعنی بندہ اعمال کی قبولیت اور ان سے وابستہ فضیلت کی امید کے ساتھ ساتھ یہ خوف بھی رکھے کہ اعمال کسی غلطی کی وجہ سے رد نہ کردیے جائیں۔ (معجم مقاییس اللغۃ، کتاب الراء، رجي، والتعریفات للجرجاني، باب الراء؛ النہایۃ في غریب الحدیث والأثر ، حرف الراء، باب الراء مع الجیم، رجا؛ مدارج السالکین بین منازل إیاک نعبد وإیاک نستعین، فصل منزلۃ الرجاء، حقیقۃ الرجاء؛ شرح ثلاثۃ الأصول لابن العثیمین، أنواع العبادۃ، النوع الثالث الرجاء، والرجاء لعبد العزیز الداخل، مقال محمل علی موقع ملتقی أہل التفسیر؛ الرجاء لد نہی قاطرجي ؛ مقال محمل علی موقع صید الفوائد)

امام ابن قیم ﷫ نے فرمایا کہ رجاء ورغبت درحقیقت ایک ایسا محرک ہے جو قلوب(دلوں)کو محبوب( اللہ پر اور آخرت) کی جانب آگے بڑھاتا ہے، اس کی جانب رجحان ومیلان کو پاکیزہ و خوش نما بناتا ہے اور کبھی رب کریم کے کرم اور رب جواد کی جود وسخا کی وجہ سے بندے کی فرحت ومسرت اور راحت بھی رجاء ورغبت کہلاتی ہے لیکن رجاء ورغبت اور تمنا کے درمیان فرق یہ ہے کہ تمنا میں محنت کے ساتھ سنجیدگی کی بجائے سستی پائی جاتی ہے ، جب کہ رجاء ورغبت میں عمل و اطاعت اورحسن توکل و محنت دونوں پائے جاتے ہیں۔(مدارج السالکین بین منازل إیاک نعبد وإیاک نستعین، فصل منزلۃ الرجاء؛ حقیقۃ الرجاء، والروح ، فصل والفرق بین الرجاء والتمني)

بعض اہل علم نے کہا کہ رجاء ورغبت ایک عبادت ہے، جو عمل اور توبہ کے ساتھ رحمت الٰہیہ کی وسعت سے جڑی رہتی ہے، جس کے لیے اللہ کے اسمائے حسنیٰ اور صفات علیا کی معرفت ضروری ہے ۔

رجاء ورغبت اور خوف وخشیت

امام یحیی بن معاذ الرازی﷫ نے فرمایاکہ ایمان تین (باتوں کے مجموعے کا نام) ہے :

خوف، امید اور محبت، خوف کی وجہ سے انسان گناہوں کو چھوڑتا ہے اور جہنم سے نجات پاتا ہے۔

امید کی وجہ سے اطاعت کرتا ہے اور اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے اور محبت کی وجہ سے ناپسندیدہ کاموں سے بچتا ہے اور رضائے الٰہی حاصل کرلیتا ہے۔(شعب الإیمان ، الثاني عشر؛ الرجاء من اللہ تعالی: 1002)

امام بخاری﷫ نے اپنی صحیح میں عنوان باندھا اور فرمایا: خوف کے ساتھ امید کا باب۔(صحیح البخاري، کتاب الرقاق، باب الرجاء مع الخوف)

امام ابن حبان ﷫نے اپنی صحیح میں عنوان باندھا اور فرمایا، اس بات کا بیان کہ مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اپنے لیے دو سواریاں رکھے، ایک امید اور دوسری خوف۔( صحیح ابن حبان، کتاب الرقائق، باب الخوف والتقوی، ذکر البیان بأن الواجب)

اسی طرح امام ہیثمی﷫ نے مجمع الزوائد ومنبع الفوائد میں باب ما جاء في الخوف والرجاء باب باندھا اور امام بوصیری﷫ نے اِتحاف الخیرۃ المہرۃ بزوائد المسانید العشرۃ میں باب ما جاء في الخوف والرجاء باب باندھا۔

امام ابن ابی العز﷫نے امام طحاوی﷫ کے قول بے خوفی اور مایوسی ملت اسلامیہ سے خارج کردیتی ہے اور اہل قبلہ کے لیے حق کا راستہ ان دونوں کے درمیان کا راستہ ہےکی شرح میں فرمایا کہ ضروری ہے کہ بندہ ڈرتارہے اور امید بھی وابستہ رکھے‘ کیونکہ سچا اور قابل ستائش خوف وہی ہے جو ڈرنے والے کو حرام کاموں سے روکے رکھے اور لائق تحسین امید اسی شخص کی ہے جس نے اللہ کے نور کی روشنی میں فرماں برداری کی ، پھر ثواب کی امید رکھی، یا اس شخص کی ہے جس نے کوئی گناہ کیا ، پھر اس سے توبہ کی اور اپنی مغفرت کی امید رکھی لیکن عمل کے بغیر رحمت کی امید لگائے بیٹھنا اور خطاؤں میں حد سے آگے بڑھ جانا تو جھوٹی امید، دھوکا اور محض تمنا ہے۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ، ما ینبغي علی؛ الجمع بین الخوف والرجاء، قولہ والأمن والإیاس)

امام ابن حجر﷫ نے فرمایا کہ خوف کے ساتھ امید قابل تحسین ہے ، اسی لیے دونوں میں سے کسی ایک کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ، اگر خوف کو نظر انداز کیا جائے گا تو اللہ کے مکر سے بے خوف ہوجائے گا ، اور اگر امید کو پس پشت ڈال دیا جائے گا تو مایوسی کا شکار ہوجائے گا، حالانکہ یہ دونوں شکلیں قابل مذمت ہیں اور امید سے مقصود یہ ہے کہ جس سے کوتاہی ہو وہ اللہ سے اچھا گمان رکھے اور اپنے گناہ کی مغفرت کی امید رکھے، اسی طرح جو اطاعت گزار ہو وہ اپنی نیکی قبول ہونے کی امید رکھے، لیکن جو امید کے سہارے توبہ کے بغیر گناہوں پر اڑا ہو تو ایسا شخص دھوکے میں ہے۔

اور اس ضمن میں ابو عثمان جیزی﷫ کی بات بڑی اچھی ہے کہ سعادت مندی کی علامت میں یہ داخل ہے کہ تم اطاعت کرو ، لیکن تمہیں ڈر لاحق ہوکہ تمہاری نیکی قبول نہ کی جائے اور بد بختی کی علامت میں یہ داخل ہے کہ بچنے کی امید لیے گناہ کرتے جاؤ۔(فتح الباري، کتاب الرقاق، باب الرجاء مع الخوف)

امام ابن کثیر﷫نے فرمایا کہ خوف وخشیت اور رجاء ورغبت کے بغیر عبادت مکمل نہیں ہوتی، کیونکہ خوف ہی کی وجہ سے انسان منع کردہ کاموں سے بچتا ہے اور امید ہی کی وجہ سے اطاعت وفرماں برداری پر آمادہ ہوتا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر، تفسیر سورۃ الاسراء: 58)

علاوہ ازیں قرآن وحدیث میں متعدد مقامات پر رجاء ورغبت اور خوف وخشیت بیک وقت استعمال ہوئی ہے‘ مثال کے طور پر:

1۔ عبادت کے بیان کے ساتھ۔ (سورۃ الأعراف: 56؛ سورۃ السجدہ: 16)

2۔ دعا کی قبولیت کے وقت۔(سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر الموت: 4261)

3۔ اہل ایمان کو عذاب وعقاب سے ڈرانے یا کافر کو رحمت کی آس دلانے کے لیے۔(صحیح مسلم، کتاب التوبۃ، باب في سعۃ رحمۃ: 7155)

4۔جنت وجہنم کو انتہائی قریب ترین بتانے کے لیے۔(صحیح البخاري، کتاب الرقاق، باب الجنۃ أقرب: 6488)

5۔بارش کا ذکر کرنے سے پہلے۔(سورۃ الرعد: 12؛ سورۃ الروم: 24)

رجاء ورغبت مقدم رہے یا خوف وخشیت غالب رہے ؟

امام ابن عثیمین﷫نے فرمایا کہ علماء کا اس مسئلے میں اختلاف ہے کہ انسان امید کو مقدم رکھے یا خوف کو غالب رکھے۔

1۔ امام احمد﷫نے فرمایاکہ خوف وامید یکساں رہنی چاہیے، ورنہ آدمی بے فکری یا مایوسی کا شکار ہوجائے گا۔

2۔ بعض اہل علم نے کہا کہ فرماں برداری کے وقت امید کے پہلو کو مقدم رکھیں اور نافرمانی کے ارادے کے وقت خوف کو غالب رکھیں۔

3۔ بعض اہل علم نے کہا کہ صحت مندی میں خوف کے پہلو کو غالب رکھیں اور بیماری میں امید کے پہلو کو مقدم رکھیں۔

ان اقوال کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ میرے نزدیک حالات کے اعتبار سے مسئلے کی نوعیت بدلتی رہتی ہے ، جب کبھی اللہ کی رحمت سے مایوسی کا ڈر ہوتو رحمت کے پہلو کو مقدم رکھنا ضروری ہوگا اور جب اللہ کے مکر سے بے فکر ی غالب آرہی ہو تو ایسی صورت میں خوف کے پہلو کو آگے رکھا جائے گا، دراصل انسان کا دل زندہ ہو تو وہ خود اپنا علاج کرے گا لیکن اگر دل ہی مردہ ہوجائے تو اسے کسی بات کی پروا نہیں رہتی۔ (فتاوی أرکان الإسلام لابن العثیمین ، فتاوی العقیدۃ، سؤال رقم/22)

رجاء ورغبت کی فضیلت

اللہ پنےقرآن مجید میں ان افراد کی مدح سرائی کی جو اللہ پر سے رجاء ورغبت رکھتے ہیں۔ (سورۃ الأحزاب: 21؛ سورۃ الممتحنہ: 6)

اس سے ملاقات کی (سورۃ العنکبوت: 5؛ سورۃ الکہف: 110)

اور اس کی رحمت کی توقع رکھتے ہیں۔ (سورۃ الزمر: 53؛ سورۃ الاسراء: 27، 57)

اور ایسی تجارت کی امید بھی رکھتے ہیں جو کبھی خسارے میں نہ ہوگی۔( سورۂ فاطر: 30)

نبی ﷺ نے بھی ہدایت کی کہ مرنے سے پہلے اللہ سے حسن ظن رکھا جائے۔ (صحیح مسلم، کتاب الجنۃ، باب الأمر بحسن: 7412)

اسی لیے یزید بن الأسود جب سکرات کے عالم میں تھے تو واثلہ بن الأسقع نے ان سےپوچھا کہ تمہاری کیفیت كيا ہے؟ جواب دیا کہ خوف وامیدمحسوس کر رہا ہوں، پوچھا کہ ان دونوں میں کون غالب ہے؟ جواب دیا کہ امید ، اس پر واثلہ نے اللہ اکبر کہا اور فرمایاکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ نے فرمایا کہ میرا بندہ میرے متعلق جیسا گمان رکھے گا مجھے ویسا پائے گا۔(شعب الإیمان، الثانی عشر من شعب الإیمان، باب الرجاء من اللہ تعالی: 974)

علاوہ ازیں امید کے ساتھ دعائیں کرنی چاہیے کیونکہ آسمان بھر گناہ اور زمین برابر خطائیں بھی معاف ہو سکتی ہیں۔(جامع الترمذي، أبواب الدعوات، باب في فضل التوبۃ: 3540)

اور اس کے بالمقابل اللہ نے ایسوں کی مذمت وبرائی بیان کی جنہیں اللہ سے ملاقات کی امید ہے نہ اس کا خوف ، (سورۂ یونس: 7) اور اس کی رحمت سے مایوس ہونے سے منع کیا۔ (سورۃ الزمر: 53) بلکہ مایوسی کو کفر قرار دیا ۔ (سورۂ یوسف: 87)

کیونکہ اللہ کی رحمت اللہ کے غضب پر غالب آچکی ہے۔ (صحیح البخاري، کتاب بدء الخلق، باب ما جاء في قول: 3194)

جس کے 99 حصے اسی کے پاس (اپنے خاص بندوں پر رحم کرنے کے لیے محفوظ) ہیں۔ (صحیح البخاري، کتاب الأدب، باب جعل اللہ الرحمۃ، : 6000)

اللہ سے مایوسی اور بے رغبتی پر وعید

اللہ سے رجاء ورغبت پرجہاں بے شمار فضیلتیں بیان کی گئی ہیں وہی اگر کوئی غیر اللہ سے امید رکھے یا اللہ سے امید نہ رکھے تو قرآن مجید میں اس کے لیے مختلف وعیدیں بیان کی گئی ہیں، مثال کے طور پر:

1۔ اللہ انہیں ان کی کرتوتوں کا بدلہ دے گا۔(سورۃ الجاثیہ: 14)

2۔ اللہ انہیں ان کی سرکشی میں بھٹکتے رہنے دے گا۔ (سورۂ یونس: 11)

3۔ اللہ ان کے اعمال کو برباد کردے گا۔ (سورۃ الفرقان: 21-23)

4۔ اللہ انہیں بالکل تباہ وبرباد کردے گا۔(سورۃ الفرقان: 37-40)

5۔ اللہ انہيں قیامت کے دن عذاب دے گا۔(سورۂ یونس: 15)

6۔ اللہ ان کا ٹھکانہ آگ بنائے گا۔(سورۂ یونس: 7-8)

7۔ اللہ انہیں جہنم رسید کر دے گا۔ (سورۃ النبا: 21-30)

٭٭٭

نعت مصطفیٰﷺ

میں چاہتا ہوں، کوئی نعتِ مصطفیٰ لکھوں

میں چاہتا ہوں کوئی نعت مصطفیٰ لکھوں

چھڑی ہے ذہن وقلم میں کہ کیسے، کیا لکھوں

چھڑی ہے ذہن وقلم میں کہ کیسے، کیا لکھوں

وہ مصطفیٰ جنہیں محبوب کبریا کہیے

سلام ان پہ کہ ختم الرسل کہا رب نے

وہ مصطفیٰ جنہیں سردار انبیاء کہیے

سلام ان پہ بڑا مرتبہ کیا رب نے

وہ مصطفیٰ جنہیں چشم جہاں نما کیہے

سلام ان پہ کہ جو کچھ کہا سنا رب نے

وہ مصطفیٰ جنہیں سرچشمۂ عطا کیے

سلام ان پہ شفاعت کا حق دیا رب نے

میں چاہتا ہوں کوئی نعت مصطفیٰ لکھوں

میں چاہتا ہوں کوئی نعت مصطفیٰ لکھوں

چھڑی ہے ذہن وقلم میں کہ کیسے، کیا لکھوں

چھڑی ہے ذہن وقلم میں کہ کیسے، کیا لکھوں

وہی کہ جس نے زمانے کو نور بخشا ہے

ہمارے پاس ابو بکرؓ کی صفا بھی نہیں

وہی کہ جس نے کہا لاشریک مولا ہے

جناب حضرت فاروق کی ادا بھی نہیں

بتایا یہ بھی کہ پھر بندگی رب کیا ہے

وفا وجذبہ عثمان ومرتضیٰ بھی نہیں

سکھایا یہ بھی کہ آخر کہاں کو جانا ہے

حسن حسین سے نسبت کا شائبہ بھی نہیں

میں چاہتا ہوں کوئی نعت مصطفیٰ لکھوں

میں چاہتا ہوں کوئی نعت مصطفیٰ لکھوں

چھڑی ہے ذہن وقلم میں کہ کیسے، کیا لکھوں

چھڑی ہے ذہن وقلم میں کہ کیسے، کیا لکھوں

وہ کوہِ فاراں جس نے صدائے حق دی ہے

حضور! تابشِ مہدی فقیر ولاغر ہے

عزیزوں اور قریبوں سے دشمنی لی ہے

قصور اس سے نہ ہو جائے کوئی یہ ڈر ہے

وہ شب پرستوں نے جس کی مزاحمت کی ہے

عجیب فکر وتردد کا ایک منظر ہے

مگر شکست کسی حال میں نہ مانی ہے

قلم نہ آگے بڑھانا ہی آج بہتر ہے

میں چاہتا ۂں کوئی نعت مصطفیٰ لکھوں

میں چاہتا ہوں کوئی نعت مصطفیٰ لکھوں

چھڑی ہے ذہن وقلم میں کہ کیسے، کیا لکھوں

چھڑی ہے ذہن وقلم میںکہ کیسے، کیا لکھوں

مرے حضور محمد بھی اور احمد بھی

جہاں میں باعث رحمت ہے ان کی آمد بھی

نہیں ہے مدح وستایش کی ان کی کچھ حد بھی

کہ ہم کلام ہوا ان سے رب امجد بھی

ڈاکٹر تابش مہدی

تبصرہ کریں