رجا ورغبت (امید) (2)۔ سید حسین مدنی، حیدر آباد

رجاء ورغبت کے مخالف کام

اہل علم نے رجاء ورغبت سے ٹکرانے والے کچھ کام بیان کیے ہيں ، جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

1۔تمنا۔

2۔نا امیدی(یاس)۔

3۔مایوسی(قنوط)۔

4۔اللہ کے مکر سے بے فکری۔

5۔اللہ کے عذاب سے غفلت۔

6۔دھوکے میں پڑے رہنا۔

7۔اللہ کے ساتھ بدگمانی کرنا۔

رجاء ورغبت کی قسمیں

علماے عقيدہ نے کہا کہ رجاء کی دو قسمیں ہیں:

1۔رجاے عبادت۔

2۔اسباب وذرائع سے فائدے کی توقع۔

رجاے عبادت میں محبت ، اطاعت اور عقیدت پائی جاتی ہے، جو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مناسب ہے اور اگر وه غیر اللہ سے وابستہ ہوجائے اور غیر اللہ سے اولاد اور شفا وغیرہ کی امید رکھی جائے تو ايسا عمل شرک اکبر شمار ہوگا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا إِنَّ رَحْمَتَ اللهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ﴾ (سورۃ الاعراف:56)

’’اور زمین کی درستی (کی جانے) کے بعد اس میں فساد مت پھیلاؤ اور تم ڈرتے ہوئے اورپر امیدرہ کر اس کی عبادت کرو، بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک کام کرنے والوں کے نزدیک ہے۔‘‘

نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ مصیبت زدہ کی دعا (یہ ہے) :

” اللَّهُمَّ رَحْمَتَك أَرْجُو فَلَا تَكِلْنِي إِلى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ لَا إِلهَ إِلَّا أَنْتَ” (سنن ابو داؤد: 5090)

’’ اے اللہ !مجھے تیری رحمت ہی کی آس ہے، لہٰذا مجھے اپنے آپ کے حوالے پل بھر کے لیے بھی نہ کر اور میری ہر بگڑی بنادے، (کیونکہ)تیرے علاوہ کوئی (سچا وحقیقی) معبود نہیں۔‘‘

مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے خوف وامید کے ساتھ عبادت کرنے کا حکم دیا، کیونکہ اللہ سے امید رکھنا کفار کے بمقابل اہل ایمان کی امتیازی علامت ہے۔ (سورۃ النساء: 104)جس سے غفلت نہیں برتنی چاہیے۔ (سورۂ نوح: 13)

نفع ونقصان اللہ تعالیٰ کے ہاتھ جانتے ہوئے اسباب وذرائع سے فائدے کی توقع رکھنے کے تین درجات ہیں:

1۔ دلی تعلق اگر اللہ ہی سے رہے لیکن شرعاً درست اسباب کے فائدے کی امید رکھے تو ایسا عمل جائز ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ

’’تم میں سب سے بہترین وہ آدمی ہے جس کے خیر کی امید کی جاتی ہو اور جس کے شر سے محفوظ رہا جاتا ہو اور تم میں بدترین وہ آدمی ہے جس کے خیر کی امید کی جاتی ہے نہ ہی اس کے شر سے محفوظ رہا جاتا ہے۔‘‘ (مسند أحمد، مسند المکثرین من الصحابۃ، مسند أبي ہریرۃ: 8811)

2۔اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے لیے حرام کردہ اسباب سے توقع رکھنا حرام ہے۔

3۔اسباب کے ساتھ دلی تعلق کا پیدا ہو نا شرک اصغر ہے۔(الخوف والرجاء لعبد العزیز الداخل مقال محمل علی موقع ملتقی أہل التفسیر۔)

امام ابن قیم ﷫ نے فرمایاکہ

رجاء کی تین قسمیں ہیں:

جن میں سے دو قابل تعریف ہیں اور ایک قابل مذمت ہے۔

جس نے اطاعت کی اور ثواب کی امید رکھی، یا جس نے خطا کی ، توبہ کی اور مغفرت کی امید رکھی تو امید کی یہ دو قسمیں قابل تعریف ہیں ۔

لیکن جو خطا پر خطا کیے جاتاہے ، غفلت برتنے لگتا ہے اور عمل کے بغیر اللہ کی رحمت کی امید رکھتا ہے تو ایسی امید جھوٹی امید ہے بلکہ ایسا کام محض دھوکا اور تمنا کہلاتا ہے۔(مدارج السالکین بین منازل إیاک نعبد وإیاک نستعین‘ فصل منزلۃ الرجاء‘ حقیقۃ الرجاء)

رجاء ورغبت کے درجات

امام ابن قیم ﷫نے فرمایاکہ رجاء کے تین درجات ہیں:

1۔ایسی امید جو عمل کرنے والے کو مزید جد وجہد کرنے پر ابھارے، خدمت (دین) کی وجہ سے لذت محسوس کرائے اور گناہوں کو چھوڑنے کا شعور بیدار کرے۔

2۔ایسے افراد کی امید جو اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرتے ہوں تاکہ ان کے عزائم وارادے خالص ہوجائیں۔

3۔ایسی امید جو دنیا اور اہل دنیا سے بے رغبت کرے اور خالق ارض وسما سے وابستہ کردے اور یہی درجہ امید کے تمام درجات میں سب سے افضل واعلیٰ ہے، بلکہ خالص ایمان اور خلاصۂ ایمان ہے۔

(مدارج السالکین بین منازل إیاک نعبد وإیاک نستعین‘ فصل درجات الرجاء)

امام ابن تیمیہ﷫نے فرمایا کہ

’’مخلوق سے بے رغبتی کے بعد اللہ سے جب وابستگی ہوگی تو توحید خالص کی وجہ سے مایوسی کے بعد بھی امید کی ایک کرن نظر آئے گی۔‘‘

(مجموع الفتاوی‘ علم السلوک‘ السبب في أن الفرج: 10؍ 331)

رجاء ورغبت کے لوازمات

امام ابن قیم ﷫نے فرمایاکہ

’’جن باتوں کا جاننا ضروری ہے ان میں یہ بھی داخل ہے کہ جس نے کسی شئے کی امید رکھی تو اس امید کے تین لوازمات ہیں:

1۔جس سے امید رکھي ہے اس سے محبت کرے۔

2۔جس شے کی امید ہے اس کے فوت ہونے کا خوف رہے۔

3۔جس شے کی امید ہے اسے پانے کی ہر ممکن کوشش کرے۔

اگر کسی امید میں مذکورہ لوازمات نہیں پائے جائیں تو وہ امید نہیں بلکہ تمنا ہے ، جو کہ امید سے جدا ہے، کیونکہ ہر امیدوار خوف زدہ اور اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہتا ہے اور جب امید چھوٹنے اور آس ٹوٹنے کا ڈر ہو تو اپنی رفتار بڑھا دیتا ہے ، جس کی جانب حدیث(جامع ترمذی: 2450) میں بھی اشارہ کیا گیا ہے۔(الجواب الکافي لمن سأل عن الدواء الشافي -الداء والدواء‘ فصل الرجاء والأماني)

رجاء ورغبت کے فوائد

اہل علم نے رجاء ورغبت کے بہت سارے فوائد بیان کیے ہیں ، جن میں سے بعض درج ذیل ہیں :

1۔امید کی وجہ سے محنت ومشقت کے ساتھ عبادت کی جاتی ہے۔

2۔امید کی وجہ سے ناساز حالات میں بھی عبادت گزار اطاعت پر استقامت کے ساتھ رہتاہے۔

3۔امید کی وجہ سے عبادت میں لذت اور بندگی میں عمدگی پائی جاتی ہے۔

4۔امید کی وجہ سے بندہ بندہ نواز سے کبھی بے نیاز نہیں رہتا ہے۔

5۔امید کی وجہ سے بندہ رب جبار وقہار کے جبر وقہر کی لہر کا سامنا نہیں کرتاہے۔

6۔امید کی وجہ سے بندہ بصد شوق اپنے رب سے لو لگاتاہے۔

7۔امید کی وجہ سے بندہ نعمتوں کی قدردانی اور ان پر شکر گزاری کے لیے آمادہ رہتاہے۔

8۔امید کی وجہ سے بندہ توبہ واستغفار کرتا ہے۔ وغیرہ۔ ۔۔

(علاوہ ازیں جو بھی آثار وثمار خوف وخشیت کے بتائیں گئے ہیں ان میں کے اکثر آثاروثمار رجاء ورغبت کے بھی ہیں۔ )

رجاء ورغبت اور انبیاء

گزشتہ ذیلی موضوعات میں آیات واحادیث سے رجاء ورغبت کی اہمیت وفضیلت معلوم ہوئی ، اس کے بعد مناسب ہے کہ رجاء ورغبت سے متعلق انبيائے کرام﷩ کے اقوال، اعمال اور احوال سےبھی کچھ واقفیت حاصل ہوجائے۔

سیدنا یوسف گم ہوجانے کے باوجود سیدنا یعقوب مایوس نہیں ہوئے بلکہ کئی سال گزرنے کے بعد بھی ان کی تلاشی مہم جاری رکھنے کے لیے بچوں کو نصیحت کی اور اللہ کی رحمت سے مایوس ہونے سے منع کیا۔(سورہ یوسف: 78)

سیدنا موسیٰ نے فرعون کے لشکر کو دیکھا اور امید کے ساتھ فرمایا کہ

’’میرے ساتھ میرا رب ہے۔ ‘‘(سورۃ الشعراء: 62)

رسول الله ﷺ نے سیدنا ابو بکر کو تسلی دی ، امید دلائی اور فرمایا کہ

’’ غم نہ کریں، کیونکہ ہمارے ساتھ اللہ ہے۔‘‘

(سورۃالتوبہ: 40)

٭٭٭

تبصرہ کریں