قربانی کے بعض اہم مسائل۔حافظ عمران ایوب لاہوری

قربانى كى روح

شریعت كے وہ چند مسائل جو ہمارى توجہ كسى نہ كسى تاريخى واقعہ كى طرف مبذول كرتے ہيں ان میں سے ايك قربانى بهى ہے۔ ايسے مسائل سے مقصود محض انہيں مقررہ وقت پر كر لينا ہى كافى نہيں ہے بلكہ ان تاريخى واقعات پر گہرى نگاہ ڈالتے ہوئے اس جذبہ عبادت اور قربانى كى ناقابل فراموش كنہ وحقيقت كو سمجھ كر اپنانے كى كوشش كرنابهى ضرورى ہے جس كے باعث يہ مسائل ہمارى اسلامى روايات میں جزوِلاينفك كى حيثيت اختيار كر گئے۔ جيسا كہ حاجيوں كے ليے صفا مروہ كى سعى كرنا محض ايك دوڑ نہيں ہے بلكہ يہ اس تاريخى واقعہ كى غماز ہے جس میں ايك طرف ننها سا بچہ شدتِ پياس كے باعث زمين پر ايڑياں مارتا نظر آتا ہے اور دوسرى طرف سیدہ ہاجِرہ عليها السلام پانى كى تلاش میں صفا مروہ كى پہاڑيوں كے چكر لگا تى نظر آتى ہيں كہ جنہيں سیدنا ابراہیم اللہ تعالىٰ كے حكم پر اپنى تمام تر محبتيں قربان كر كے مكہ كى بے آب وگياہ زمين میں تنہا چهوڑ گئے تهے۔ بعينہ قربانى كا مسئلہ بهى ہے یعنى عيد ِقربان كے دن جانور ذبح كرنا، كچھ گوشت تقسيم كردينا،كچھ كها لينا اور پهر خود كو شريعت كے ہر حكم سے آزاد تصور كرنا اور قربانى كے مقصد يا غرض وغايت پر سنجيدگى سے غور وفكر نہ كرنا، كسى طور كافى نہيں ہے بلكہ يہ بهى ضرورى ہے كہ جانور قربان كرنے كے ساتھ ساتھ سیدنا ابراہیم كى مثالى اطاعت وفرمانبردارى اور اثر آفريں عقیدت واِردات كو بهى پيش نظر ركها جائے كہ جس كى وجہ سے انہوں نے اللہ تعالىٰ كے حكم پر اپنا كم سن خوبصورت بيٹا بهى قربان كرنے سے دريغ نہ كيا۔

اگرچہ چهرى ذبح نہ كرسكى اور پهر حكم الٰہى كے مطابق مينڈها ذبح كر ديا گيا ليكن وہ اللہ تعالى سے كيسى محبت ہوگى اور اللہ تعالى كے ليے ہر چيز قربان كر دينے كا كيسا جذبہ ہوگا كہ جس كى بدولت وہ اس مشكل ترين عمل سے بهى پیچھے نہ ہٹے۔ پهر اللہ تعالىٰ نے بهى اس محبت واطاعت كا صلہ یوں ديا كہ اس عمل كو تمام مسلمانوں كے ليے مسنون قرار دے كر قيامت تك كے ليے سیدنا ابراہیم كى سنت كو جارى وسارى كر ديا۔ لامحالہ ہم سے بهى اسلام صرف جانوروں كى قربانى نہيں چاہتا بلكہ اس جذبہ اطاعت اور خشيت ِالٰہى كو بهى اُجاگر كرنا چاہتا ہے جس كے ذريعے ہم اپنى ہر چيز بوقت ِضرورت اللہ تعالىٰ كى خاطر قربان كردينے كے ليے تيار ہوجائيں اور یقیناً آج اسلام كو جانوروں كى قربانيوں سے كہيں زيادہ ہمارى محبوب ترين اشيا يعنی مال، اولاد اور جان كى قربانيوں كى ضرورت ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہيے كہ اس عمل كو محض ايك تہوار ورسم سمجهتے ہوئے تفاخر اور رياء ونمود كا ذريعہ ہى نہ بنا ڈاليں كہ جس كے باعث ہمیں دنيا میں تو اسلامى شعائر وروايات اپنانے كا اعزاز مل جائے ليكن ہمارى عقبىٰ تباہ وبرباد ہو كر رہ جائے بلكہ ہمیں چاہيے كہ اس عمل كے پيچهے چھپى اُس عظيم قربانى كو مدنظر ركهتے ہوئے اپنے ايمانوں كو اس قابل بنائيں جو ہمیں دنياوى لہو ولعب اور مصنوعى عيش ونشاط سے نكال كر اپنى زندگى كا ہر لمحہ اور ہر گوشہ رضاے الٰہى كى خاطر قربان كر دينے كے ليے تيار كردے۔

قربانى كا معنى ومفہوم اور وجہ تسمیہ

لفظ قربانى ’قربان‘ سے مشتق ہے اور مصباح اللغات كى رو سے لغوى طورپر قُربان سے مراد:

’’ہر وہ چيز ہے جس سے اللہ كا تقرب حاصل كيا جائے چاہے ذبيحہ ہو يا كچھ اور۔‘‘ (ص668)

صاحب ِقاموس فرماتے ہيں كہ ’’قُربان ’ضمہ‘ كے ساتھ يہ ہے كہ جس كے ذريعے اللہ تعالىٰ كا قرب حاصل كيا جائے۔‘‘ (القاموس المحيط: 127)

صاحب المعجم الوسیط فرماتے ہيں كہ

’’قربان ہر وہ چيز ہے جس كے ذريعے اللہ تعالىٰ كا تقرب حاصل كيا جائے خواہ وہ ذبیحہ ہو يا اس كے علاوہ كچھ اور۔‘‘(المعجم الوسيط :ص723)

بعض علما نے كہا ہے كہ لفظ ِ قربانى قرب سے مشتق ہے چونكہ اس عمل كے ذريعے قربِ الٰہى حاصل كرنا مقصود ہوتا ہے، اسى ليے اسے قربانى كا نام ديا گياہے۔

اصطلاحى اعتبار سے قربانى سے مراد

’’اونٹ، گائے اوربهيڑ بكريوں وغيرہ میں سے كوئى جانور عيد الاضحىٰ كے دن يا ايامِ تشريق میں اللہ تعالىٰ كا تقرب حاصل كرنے كے ليے قربان كرنا ہے۔‘‘(فقہ السنة ازسيد سابق :3؍195)

قربانى كى مشروعيت

قربانى سیدنا ابراہیم اور نبی کریم ﷺ دونوں كى سنت ہے اور اللہ تعالىٰ نے قرآن میں ان دونوں انبیا كى سنت اپنانے اور اتباع كرنے كى تلقین فرمائى ہے۔(سورۃ آلِ عمران:31)

علاوہ ازيں قربانى كى مشروعيت كے مزيد دلائل حسب ِذيل ہيں :

1۔ ارشاد بارى تعالىٰ ہے كہ

﴿فَصَلِّ لِرَ‌بِّكَ وَانْحَرْ‌﴾ (سورۃ الكوثر:2)

’’پس تو اپنے رب کے لئے نماز پڑھ اور قربانی کر۔‘‘

2۔ سیدنا انس فرماتے ہيں كہ

’’نبى كريمﷺ 2 مینڈهوں كى قربانى كرتے تهے اور میں بهى 2 مینڈھوں كى قربانى كرتا تها۔‘‘ (صحیح بخارى :5553)

3۔ سیدنا ابو ہريرہ فرماتے ہيں كہ رسول اللہﷺ نے فرمايا:

’’جس كے پاس وسعت وطاقت ہو اور وہ قربانى نہ كرے تو وہ ہمارى عيد گاہ كے قريب بهى ہر گز نہ آئے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ:3123)

4۔ سیدنا انس بن مالك روايت كرتے ہيں كہ رسول اللہ ﷺنے فرمايا :

’’جس نے نماز سے پہلے (جانور) ذبح كرليا، وہ دوبارہ قربانى كرے۔‘‘ (صحیح بخارى:5549)

5۔ ايك روايت میں ہے كہ نبىﷺ نے فرمايا :

’’اے لوگو! بے شك ہر گهر والوں پر ہر سال قربانى (كرنا مشروع) ہے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ :3125)

6۔ امام ابن قدامہ﷫ فرماتے ہيں كہ

’’مسلمانوں كا قربانى كى مشروعيت پر اجماع ہے۔‘‘ (المغنى : 13؍360)

قربانى كا حكم

اگرچہ اس كے حكم میں اختلاف ہے اور بعض علما نے صاحب ِاستطاعت شخص كے ليے اسے واجب بهى قرار ديا ہے ليكن راجح بات يہ ہے كہ قربانى سنت ِ موكدہ ہے اور يہ موقف محض راقم ہى كا نہيں بلكہ درج ذيل كبار علما بهى يہى موقف ركهتے ہيں :

سیدنا ابن عمر كا فتوى ہے:

“هي سنة ومعروف.” (صحیح بخارى: 5545)

’’يہ سنت ہے اور يہ امر مشہور ہے۔‘‘

امام ترمذى﷫ كا فتوىٰ:

’’اہل علم كے نزديك اسى پر عمل ہے كہ قربانى واجب نہيں ہے بلكہ رسول اللہ ﷺ كى سنتوں میں سے ايك سنت ہے اور اسى پر عمل كرنا مستحب ہے اور امام سفيان ثورى﷫ اور امام ابن مبارك﷫ بهى اسى كے قائل ہيں۔‘‘ (جامع ترمذى: بعد الحديث ؛1506)

وہ صورتيں جن میں قربانى واجب ہوجاتى ہے:

1۔ اگر كوئى شخص نذر كے ذريعے اپنے اوپر قربانى واجب كرلے تو اس پر قربانى واجب ہو جائے گى جيسا كہ اللہ تعالىٰ نے قرآن میں ايمان والوں كى صفات بيان كرتے ہوئے ذكر فرمايا ہے كہ ﴿يُوفُونَ بِالنَّذْرِ‌﴾(سورۃ الدهر : 7)’’وہ نذر پورى كرتے ہيں۔‘‘

اور ايك حديث میں ہے كہ سیدہ عائشہ سے روايت ہے كہ نبى ﷺ نے فرمايا:

’’جس نے اللہ تعالىٰ كى اطاعت و فرمانبردارى كى نذر مانى، وہ اس كى اطاعت كرے (يعنى اس نذر كو پورا كر لے)۔‘‘ (صحیح بخارى :6696)

2۔ كسى جانور كے متعلق اگر يہ نيت كر لى جائے كہ يہ اللہ كے ليے ہے يا يہ صرف قربانى كے ليے ہے تو پهر اسے اللہ كے ليے قربان كرنا ضرورى ہو جاتا ہے۔ كيونكہ اب وہ وقف ہو چكا ہے اور وقف چيز كا حكم يہ ہے كہ نہ تو اسے فروخت كيا جا سكتا ہے، نہ اسے ہبہ كيا جا سكتا ہے اور نہ ہى اسے وراثت میں تقسيم كيا جا سكتا ہے بلكہ اسے صرف اللہ تعالىٰ كے ليے ہى صرف كيا جائے گا جيسا كہ صحيح مسلم میں سیدنا ابن عمر كى حديث سے يہ بات ثابت ہے۔ (صحیح مسلم:4224)

3۔ اگر كوئى شخص حالت ِاحرام میں شكار كے جانوركو قتل كر بيٹها تو اس پر فديہ كے طور پر قربانى لازم ہو جائے گى۔ (سورۃ المائدة :95)

4۔ حج تمتع يا حج قران كرنے والوں كے ليے بهى قربانى كرنا واجب ہے۔

مزيد تفصيل كے ليے ملاحظہ ہو: فقہ الحديث از راقم اورمناسكِ حج از البانى

جو قربانى كى طاقت نہيں ركهتا، وہ كيا كرے؟

جيسا كہ گذشتہ سطور میں بيان كيا جا چكا ہے كہ قربانى سنت ِموكدہ ہے اور تقربِ الٰہى كا ذريعہ ہے۔ اس ليے جو قربانى كر سكتا ہے اسے ضرور قربانى كرنى چاہيے ليكن اگر كوئى اس كى طاقت ہى نہ ركهتا ہو تو يقيناً اسے قربانى نہ كرنے سے كوئى گناہ نہيں ہو گا۔ كيونكہ يہ تو سنت ہے اور اگر انسان طاقت نہ ہونے كى وجہ سے فرض زكوٰة بهى ادا نہ كرے يا فرض حج بهى نہ كرے تب بهى اس پر بالاتفاق كوئى گناہ نہيں ۔ ہاں ايسا شخص اگر قربانى كا اجر حاصل كرنا چاہتا ہے تو اسے چاہيے كہ ذوالحجہ كا چاند طلوع ہونے كے بعد اپنے بال اور ناخن نہ كاٹے، بلكہ عيد كے روز تك انہيں موٴخر كر دے۔ جيسا كہ ايك حديث میں ہے كہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے روايت ہے كہ نبىﷺ نے فرمايا:

’’مجهے يوم الاضحىٰ كو عيد كا حكم ديا گيا ہے، اسے اللہ تعالىٰ نے اس اُمت كے ليے مقرر فرمايا ہے۔ ايك آدمى نے عرض كيا: آپ مجهے بتلائيں كہ اگر میں قربانى كے ليے موٴنث دودہ دينے والى بكرى كے سوا نہ پاؤں تو كيا اس كى قربانى كروں ؟ آپﷺ نے فرمايا نہيں ،ليكن تم اپنے بال اور ناخن تراش لينا اور اپنى مونچھیں كاٹنا اور شرمگاہ كے بال مونڈ دينا۔ اللہ تعالىٰ كے ہاں تمہارى مكمل قربانى ہوجائے گى۔‘‘ (سنن ابو داؤد: 2789، كتاب الضحايا )

قربانى كى فضيلت

قربانى كى فضيلت میں مندرجہ ذيل روايت پيش كى جاتى ہے:

«ماعمل ابن آدم يوم النحر عملا أحب إلى الله من إراقة دم وإنها لتأتي يوم القيامة بقرونها وأظلافها وأشعارها وإن الدم ليقع من الله عزوجل بمكان قبل أن يقع على الأرض فطيبوا بها نفسا»

’’10 ذوالحجہ كو خون بہانے سے بڑھ كر ابن آدم اللہ تعالىٰ كے ہاں كوئى بہتر عمل نہيں كرتا۔ يہ جانور قيامت كے دن اپنے سينگوں ’ كهروں اور بالوں سميت آئيں گے اور خون كے زمين پر گرنے سے پہلے اللہ كے ہاں اس كا ايك مقام ہوتا ہے سو تم يہ قربانى خوش دلى سے ديا كرو۔‘‘

ليكن يہ روايت ثابت نہيں ، كما قال الألباني (ضعيف ترمذى: 1493) مزيد تفصيل كے ليے:’فضائل قربانى كى احاديث كا علمى جائزہ‘ از غازى عزير (ماہنامہ محدث:ج 23 ،عدد 3)

تاہم قربانى كى سنت پر عمل كا جو اجر وثواب اللہ تعالىٰ نے مقرر كر ركها ہے، وہ بہر حال قربانى كرنے والے كو ضرور ملے گا كيونكہ قربانى عبادت اور نيك عمل ہے اور ہر نيكى كے متعلق قرآن میں اللہ تعالىٰ كا ارشاد ہے:

﴿مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ‌ أَمْثَالِهَا﴾

’’جو شخص نیک کام کرے گا اس کو اس کے دس گنا ملیں گے۔‘‘(سورۃ الانعام :160)

قبوليت ِقربانى كى شرائط

1۔ قربانى خالص اللہ كى رضا كے ليے كى جائے،كيونكہ قربانى عبادت ہے اوركوئى بهى عبادت اس وقت تك قبول نہيں ہوتى جب تك كہ خالصتاً اللہ كے ليے نہ كى جائے جيسا كہ اللہ تعالى نے ارشاد فرمايا كہ

﴿وَمَا أُمِرُ‌وا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾ (سورۃ البينہ:5)

’’انہيں اس کے سوا كوئى حكم نہيں كہ صرف اللہ كى عبادت كريں اور اس كيلئے دين كو خالص كريں ۔‘‘

اور سیدنا عمر بن خطاب سے مروى ہے كہ رسول اللہﷺ نے فرمايا:

«إنما الأعمال بالنيات »

’’عملوں كا دارومدار نيتوں پر ہے۔‘‘ (صحیح بخارى؛ 1)

علاوہ ازيں قربانى كے متعلق بالخصوص ايك آيت میں يہ الفاظ موجود ہيں :

﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ﴾ (سورۃ الانعام :162)

’’آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔‘‘

قربانى نہ تو غير اللہ كے ليے جائز ہے اور نہ ہى ايسى جگہ پر درست ہے جہاں غيراللہ كى عبادت ہوتى ہو نيز ايسى قربانى بهى حلال نہيں جس پر غير اللہ كا نام پكارا گيا ہو۔ سیدنا على سے مروى ہے كہ رسول اللہﷺ نے فرمايا: ’’اللہ ايسے شخص پر لعنت كرے جس نے اپنے والد پر لعنت كى، اللہ تعالىٰ ايسے شخص پر لعنت كرے جس نے غيراللہ كے ليے ذبح كيا،اللہ تعالىٰ ايسے شخص پر لعنت كرے جس نے كسى بدعتى كو پناہ دى اور اللہ تعالىٰ ايسے شخص پر لعنت كرے جس نے زمين كى علامات تبديل كرديں ۔‘‘ (صحیح مسلم :141)

2۔ پاكيزہ مال سے ہو، حرام مال سے نہ ہو۔جيسا كہ ايك حديث میں ہے كہ سیدنا ابوہريرہ سے روايت ہے كہ رسول اللہ ﷺ نے فرمايا:

«أيها الناس إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا» (صحيح مسلم :2346)

’’اے لوگو! بے شك اللہ تعالىٰ پاك ہے اور صرف پاكيزہ چيز كو ہى قبول كرتا ہے۔‘‘

سود كى آمدن يا حرام مال سے كى ہوئى قربانى قبول نہيں ہوتى۔(صحیح مسلم:2346، كتاب الزكوٰة اور مسلم : 535، كتاب الطہارة)

3۔ سنت كے مطابق ہو جيسا كہ اگر كوئى شخص نماز عيد سے پہلے قربانى كر لے تو اس كى قربانى قبول نہيں ہو گى۔اس كا مفصل بيان آئندہ صفحات میں آئے گا۔

4۔ قربانى ايسے جانوروں كى نہ ہو جن جانوروں كى قربانى قبول نہيں ہوتى۔اس كا بهى تفصيلى بيان آگے آئے گا۔

قربانى كا جانور كيسا ہو؟

ايسے جانورں كى قربانى كى جائے جن پر بهيمة الأنعام كا لفظ بولا جاتا ہے، قرآن میں ہے

﴿وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِّيَذْكُرُ‌وا اسْمَ اللَّـهِ عَلَىٰ مَا رَ‌زَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ﴾

’’اور ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کے طریقے مقرر فرمائے ہیں تاکہ وه ان چوپائے جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں دے رکھے ہیں۔ ‘‘ (سورۃ الحج :34)

بهيمة ايسے جانوروں كو كہتے ہيں جو چار ٹانگوں والے ہوں خواہ پانى میں ہى ہوں جيسا كہ صاحب ِقاموس نے اس كى يہى وضاحت كى ہے۔

(القاموس المحيط:بهم)اور أنعام میں چار قسم كے نر اور مادّہ جانور شامل ہيں:

1۔ اونٹ 2۔گائے3۔بهيڑ4۔بكرى

(مزيد تفصيل كے ليے ملاحظہ ہو: تفسير فتح القدير: 2؍210 اورتفسير ابن كثير :3؍100)

علاوہ ازيں مذكورہ مويشيوں میں ہر ايك كا مُسِنّة (یعنى دوندا) ہونا بهى ضرورى ہے، ہاں اگر كوئى مجبورى ہو يا ايسا جانور میسر نہ ہو تو بهیڑ كا كهيرا بهى كفايت كر جاتا ہے جيسا كہ سیدنا جابر سے مروى ہے كہ رسول اللہﷺ نے فرمايا:

«لاتذبحوا إلامسنة إلا أن يعسر عليكم فتذبحوا جذعة من الضأن» (صحیح مسلم :117)

’’مُسِنّہ ہى ذبح كرو، الايہ كہ تم پر تنگى ہو تو بهیڑ كا كهیرا ذبح كر لو۔‘‘

ياد رہے كہ بهيڑ كے كهيرے كى اجازت كا مفہوم يہ ہر گز نہيں ہے كہ ہر حال میں اس كى قربانى جائز ہے جیسا كہ آج كل بعض مقامات پر قربانى كا جانور بیچنے والے يہى كہہ كر عوام كو جانور فروخت كررہے ہوتے ہيں كہ كهيرے كى قربانى بهى جائز ہے، حالانكہ اس كى قربانى صرف ايك خاص صورت (یعنى مجبورى وتنگ دستى) میں ہى جائز قرار دى گئى ہے اگر يہ صورت نہ ہو تو مُسِنّہ كے علاوہ كوئى جانور بهى كفايت نہيں كرے گا۔

مُسِنّة (یعنى دوندا) ايسے جانور كو كہتے ہيں جس كے دودہ كے دانت گر چكے ہوں ۔ امام نووى﷫ شرح صحيح مسلم میں فرماتے ہيں كہ

المسنة هي الثنية من كل شيءمن الإبل والبقر والغنم فما فوقها وهذا تصريح بأنه لايجوز الجذع من غير الضأن في حال من الأحوال

’’مُسِنّة اونٹ، گائے اور بكرى وغيرہ میں سے دو ندے كو كہتے ہيں اور يہ واضح ہے كہ بهیڑ كے علاوہ كسى حالت میں كهيرا قربان كرنا جائز نہيں ۔‘‘ (شرح نووى: 13؍99؛ نيل الاوطار:5؍202)

نيز واضح رہے كہ اونٹوں میں دوندا عمر كے پانچويں سال میں ہوتا ہے،گائے میں دوندا عمر كے تيسرے سال میں ہوتا ہے اور بكرى میں دوندا عمر كے دوسرے سال میں ہوتا ہے اور كهيرا (جذعہ) بهيڑ كا وہ بچہ ہوتا ہے جو ايك سال كا ہو اور دوندا نہ ہو۔ لہٰذا اونٹ، گائے اور بكرى میں دوندے سے كم عمر والے جانور كى قربانى جائز نہيں ، البتہ دنبے میں (كسى مجبورى كے وقت) دوندے سے كم عمر كے جانور كى قربانى بهى جائز ہے۔مزيد تفصيل كيلئے: ‘جذعة من الضأن كى تحقیق’ از عبد الرحمن عزيز (محدث: ج31؍عدد3)

رسول اللہﷺ كا طرزِ عمل

1۔ سیدنا انس سے روايت ہے كہ

“انكفأ رسول الله ! إلى كبشين أقرنين أملحين فذبحهما بيده”

’’رسول اللہﷺ سينگ والے دو چتكبرے مينڈهوں كى طرف متوجہ ہوئے اورانہيں اپنے ہاتھ سے ذبح كيا۔‘‘ (صحیح بخارى :5554)

2۔ سیدنا ابو سعيد خدرى سے روايت ہے كہ

“كان رسول الله ! يضحي بكبش أقرن فحيل ينظر في سواد ويأكل في سواد ويمشي في سواد.” (سنن ابو داؤد: 2796)

’’رسول ﷺ سينگ والا موٹا تازه مينڈها ذبح كرتے جس كى آنكھیں ، منہ اور ٹانگيں سياہ ہوتيں ۔‘‘

3۔ سیدنا انس سے روايت ہے كہ

’’نبى ﷺ نے كهڑے كهڑے سات اونٹ اپنے ہاتھ سے نحر كيے اور مدينہ میں دو سینگوں والے چتكبرے مينڈهے ذبح كيے۔‘‘ (سنن ابو داؤد:2793)

كس جانور كى قربانى افضل ہے؟

امام شوكانى﷫ كا فتوىٰ: ’’اور افضل قربانى وہ ہے جو زيادہ موٹى تازى ہو۔‘‘ (الدررالبهية :كتاب الأضحية)

ايك اور مقام پر رقمطراز ہيں كہ

’’سب سے افضل قربانى اونٹ كى ہے،پهر گائے كى اور پهر بكرى كى۔‘‘ (ايضاً:كتاب الحج)

امام ابن قدامہ﷫ كا فتوى:

’’قربانيوں میں افضل اونٹ ہے پهر گائے ہے پهر بكرى ہے پهر اونٹ میں شريك ہونا ہے اور پهر گائے میں شريك ہونا ہے۔‘‘ (المغنى:13؍ 366)

سعودى مجلس افتا كا فتوىٰ:

’’قربانيوں میں افضل اونٹ، پهر گائے پهر بكرى اور پهراونٹنى يا گائے كى قربانى میں شركت ہے كيونكہ آپ ﷺ نے جمعہ كے متعلق فرمايا:

’’جو پہلى گهڑى میں (مسجد میں ) گيا گويا كہ اس نے اونٹ كى قربانى كى، اور جو دوسرى گهڑى میں گيا گويا كہ اس نے گائے كى قربانى كى، اور جو تيسرى گهڑى میں گيا گويا كہ اس نے سينگ والے مينڈهے كى قربانى كى اور جو چوتهى گهڑى میں گيا گويا كہ اس نے ايك مرغى كى قربانى كى اور جو پانچويں گهڑى میں گيا گويا كہ اس نے ايك انڈہ قربان كيا۔‘‘

اس حديث میں محل شاہد اللہ تعالىٰ كى طرف تقرب میں اونٹ، گائے اور بهيڑ بكريوں كے درميان ايك دوسرے پر فضيلت كا وجود ہے اور اس میں كوئى شك نہيں كہ قربانى اللہ تعالىٰ كا قرب حاصل كرنے كا بہت بڑا ذريعہ ہے اور اونٹ قیمت، گوشت اور نفع كے لحاظ سے سب سے زيادہ ہے۔ ائمہ ثلاثہ يعنى امام ابوحنيفہ، امام شافعى اور امام احمد﷭ بهى اسى كے قائل ہيں اور امام مالك﷫ نے فرمايا كہ (قربانى میں ) افضل بهيڑ كا كهيرا ہے پهر گائے اور پهر اونٹ ہے كيونكہ نبى ﷺ نے دو مينڈهے قربان كيے اور آپ ﷺ صرف افضل كام ہى كرتے تهے ۔ اس كے جواب میں يوں كہا جا سكتا ہے كہ يقيناً آپ ﷺ بعض اوقات غير افضل كام كو بهى امت پر نرمى كرنے كى غرض سے اختيار فرما ليا كرتے تهے كيونكہ وہ آپ كى اقتدا كرتے تهے اور آپﷺ پسند نہيں كرتے تهے كہ ان پر مشقت ڈاليں ليكن آپ ﷺ نے اونٹ كى گائے اور بهيڑ بكريوں پر فضيلت بيان كر دى ہے جيسا كہ ابهى پیچھے گذرا ہے۔ واللہ اعلم (فتاوىٰ اسلاميہ :2؍320)

1۔ قربانى كے جانور كو كهلا پلا كر موٹا كرنا مستحب ہے۔ (المغنى: 13؍367، صحیح بخارى: 5553)

خصى جانور كى قربانى

خصى جانور كى قربانى جائز ہے اور اس كے دلائل حسب ذيل ہيں :

سیدنا ابو ہريرہ سے روايت ہے كہ

’’رسول اللہ ﷺ جب قربانى كا ارادہ فرماتے تو دو بڑے بڑے موٹے تازے سينگ والے’ چتكبرے خصى مينڈهے خريد لاتے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ:3122)

سیدنا جابر بن عبداللہ سے روايت ہے وہ كہتے ہيں كہ ’’نبى ﷺ نے قربانى كے دن سينگ والے 2 چتكبرے خصى مينڈهے ذبح كيے۔‘‘(سنن ابوداؤد: 2795)

امام ابن قدامہ﷫ فرماتے ہيں كہ

’’خصى جانور (قربانى میں ) كفايت كرجاتا ہے كيونكہ نبى ﷺ نے 2 خصى مينڈهے ذبح كيے۔‘‘ (المغنى: 13؍371)

سيد سابق ﷫فرماتے ہيں كہ ’’خصى جانور كى قربانى كرنے میں كوئى حرج نہيں ۔‘‘(فقہ السنہ:3؍196)

بھینس كى قربانى

شریعت نے ايسے جانور بطور قربانى ذبح كرنے كا حكم ديا ہے جن پر بهيمة الأنعام كا لفظ بولا جاسكتا ہو اور وہ جانور صرف اونٹ، گائے، بهيڑ اور بكرى ہيں جيسا كہ پیچھے بيان كيا جاچكا ہے اس ليے صرف انہى جانوروں كى قربانى كرنى چاہيے او ر بهینس كى قربانى سے اجتناب ہى بہتر ہے بالخصوص اس ليے بهى كہ رسول اللہ ﷺ سے بهى بهینس كى قربانى ثابت نہيں ہے۔ تاہم بعض اہل علم اسے گائے كى نوع میں شمار كركے قابل قربانى قرار ديتے ہيں ۔واللہ اعلم

كن جانوروں كى قربانى جائز نہيں ؟

1۔ سیدنا براء بن عازب كى حديث میں ہے كہ رسول اللہ ﷺ نے فرمايا:

«أربع لاتجوز في الأضاحي:العوراء بيّن عورها والمريضة بين مرضها والعرجاء بين ظلعها والكسير التي لاتنقي» (سنن ابو داؤد:2802)

’’چار جانور قربانى میں جائز نہيں : واضح طور پر آنكہ كا كانا، ايسا بيمار جس كى بيمارى واضح ہو، لنگڑا جس كا لنگڑا پن ظاہر ہو،اور ايسا كمزور جس میں چربى نہ ہو۔‘‘

سیدنا على سے مروى ہے كہ

أمرنا رسول الله ! أن نستشرف العين والأذن

’’رسول اللہ نے ہمیں حكم ديا كہ ہم آنكہ او ركان اچهى طرح دیکھیں۔‘‘ (سنن ابوداؤد :2704)

اس بنا پر بيان كردہ اوصاف والے جانور كى قربانى ناجائز ہوگى۔

حاملہ جانور كى قربانى

حاملہ جانور كى قربانى جائز ہے جيسا كہ مندرجہ ذيل حديث اس پر شاہد ہے:

’’سیدنا ابو سعيد سے روايت ہے وہ كہتے ہيں كہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پيٹ كے بچے كے متعلق سوال كيا تو آپ ﷺ نے فرمايا : ’’اگر تم چاہو تو اسے كهالو۔‘‘ اور مسدد﷫ كہتے ہيں كہ ہم نے كہا اے اللہ كے رسول! ہم اونٹنى’ گائے اور بكرى ذبح كرتے ہيں تو ہم اس كے پيٹ میں بچہ پاتے ہيں كيا ہم اسے پھینک ديں يا اسے كهاليں ؟ آپ ﷺ نے فرمايا:”اگر تم چاہو تو اسے كهالو كيونكہ اس كا ذبح اس كى ماں كا ذبح كرنا ہى ہے۔‘‘ (سنن ابو داؤد:2827)

اس صحيح حديث سے معلوم ہوا كہ حاملہ جانور خواہ اونٹنى ہو، گائے ہو يا بكرى ہو اسے قربانى كے ليے ذبح كيا جاسكتا ہے اور اس كے پيٹ كے بچے كو ذبح كيے بغير كهانا درست ہے ليكن اگر طبعى كراہت كے پيش نظر اسے پهينك ديا جائے تب بهى كوئى حرج نہيں كيونكہ نبى ﷺ نے صحابہ كو لازمى طور پر پيٹ كا بچہ كهانے كا حكم نہيں ديا بلكہ اسے ان كى طبيعت و چاہت پر ہى معلق ركها۔

علاوہ ازيں بعض حضرات نے جو اس كى يہ تاويل كى ہے كہ اس حديث كا مطلب يہ ہے : ’’بچے كو بهى اسى طرح ذبح كرو جيسے اس كى ماں كو ذبح كرتے ہو۔‘‘

يہ تاويل نہايت بے بنياد ہے اور مذكورہ سیدنا ابوسعيد كى حديث ہى اس كا رد كرديتى ہے۔

قربانى كے جانور پر سوارہونا

’’سیدنا ابو ہريرہ سے روايت ہے كہ رسول كريمﷺ نے ايك شخص كو قربانى كا جانور لے جاتے ديكها تو آپ ﷺ نے فرمايا كہ اس پر سوار ہو جا۔ اس شخص نے كہا كہ يہ تو قربانى كا جانور ہے، آپ ﷺ نے فرمايا كہ اس پر سوار ہو جا۔ اس نے كہا كہ يہ تو قربانى كا جانور ہے تو آپ ﷺ نے پهر فرمايا افسوس! سوار بهى ہو جاؤ (ويلك آپ ﷺ نے) دوسرى يا تیسری مرتبہ فرمايا۔‘‘ (صحیح بخارى ، كتاب الحج:،باب ركوب البدن: 1689؛ صحیح مسلم :2323)

اس حديث كى شرح میں مولانا داؤد راز﷫ نقل كرتے ہيں كہ

’’زمانہ جاہليت میں عرب لوگ سائبہ وغيرہ جو جانور مذہبى نياز نذر كے طور پر چهوڑ ديتے ان پر سوار ہونا معيوب جانا كرتے تهے۔ قربانى كے جانوروں كے متعلق بهى جو كعبہ میں لے جائى جائيں ان كا ايسا ہى تصور تها۔ اسلام نے اس غلط تصور كو ختم كيا اور نبی کریم ﷺ نے بالاصرار حكم ديا كہ اس پر سوارى كرو تا كہ راستہ كى تھكن سے بچ سكو۔ قربانى كے جانور ہونے كا مطلب يہ ہرگز نہيں كہ اسے معطل كر كے چهوڑ ديا جائے۔ اسلام اسى ليے دين فطرت ہے كہ اس نے قدم قدم پر انسانى ضروريات كو ملحوظ نظر ركها ہے اور ہر جگہ عين ضروريات انسانى كے تحت احكامات صادر كيے ہيں ۔ (شرح بخارى:3؍42)

مزيد اسى حديث كے متعلق امام ترمذى﷫ رقمطراز ہيں كہ

’’سیدنا انس كى حديث حسن صحيح حديث ہے اور بے شك نبىﷺ كے صحابہ اور ان كے علاوہ دوسرے لوگوں میں سے اہل علم كى ايك جماعت نے قربانى كے اونٹ پر سوارى كى رخصت دى ہے جبكہ وہ شخص اس كى سوارى كا محتاج ہواور يہى قول امام شافعى،امام احمد اور اسحق﷭ كا بهى ہے اور ان میں سے بعض نے كہا كہ جب تك وہ شخص اسكى طرف مجبور نہ ہو جائے سوارى نہ كرے۔‘‘ (جامع ترمذى: كتاب الحج، باب ماجآء فى ركوب البدنة)

كيا قربانى كا جانور فروخت كيا جاسكتا ہے؟

اگر انسان قربانى كى نيت سے كوئى جانور خريدے تو پهر اسے فروخت كرنا درست نہيں كيونكہ اب وہ جانور اللہ تعالىٰ كا ہو چكا ہے اب اسے صرف اللہ كے ليے قربان كرنا ہى ضرورى ہے جيسے وقف شدہ مال كو نہ فروخت كرنا جائز ہے، نہ ہبہ كرنا جائز ہے اور نہ ہى وراثت میں تقسيم كرنا جائزہے بلكہ اسے اللہ ہى كے ليے صرف كرنا ضرورى ہے۔ (صحیح مسلم :4224)

ہاں اگر اسے فروخت كرنے سے مقصود اسے تبديل كرنا ہے تو درست ہے مثلا اگر كوئى شخص بكرى خريد لايا ہے ليكن پهر وہ اسے فروخت كر كے گائے خريدنا چاہتا ہے تو يہ درست ہے كيونكہ يہ افضل قربانى كى طرف پیشرفت ہے۔ اور اس صورت میں بهى فروخت كرنا جائز ہے كہ اگر جانور خريدنے كے بعدعلم ہو كہ يہ بيمار ہے يا اس میں كوئى ايسا نقص ہے جس كى وجہ سے يہ قربانى كے قابل نہيں تو اسے فروخت كر كے دوسرا جانور خريدا جا سكتا ہے۔ واللہ اعلم

قربانى كرنے والا كن امور سے اجتناب كرے؟

جو شخص قربانى كا ارادہ ركهتا ہو اسے چاہيے كہ ذوالحجہ كا چاند ديكهنے كے بعد اپنے بال اور ناخن نہ كاٹے۔ جيسا كہ سیدہ امّ سلمہ سے مروى ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمايا:

«إذا رأيتم هلال ذي الحجة وأراد أحدكم أن يضحي فليمسك عن شعره وأظفاره» (صحیح مسلم :3655)

’’جب تم ذو الحجہ كا چاند ديكھ لو اور تم میں سے كوئى قربانى كا ارادہ ركهتا ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن كاٹنے سے رك جائے۔‘‘

امام نووى﷫ رقمطراز ہيں كہ

’’سیدنا سعيد بن مسيب، امام ربيعہ، امام احمد، امام اسحاق، امام داوٴد اور بعض اصحابِ شافعى ﷭ نے كہا ہے كہ ايسے شخص پر اپنے بال اور ناخن میں سے كچھ بهى كاٹنا اس وقت تك حرام ہے جب تك كہ وہ شخص قربانى كے اوقات(ايام تشريق) میں قربانى نہ كرلے۔‘‘ (شرح مسلم: 7؍154؛ المغنى: 13؍ 362)

جو شخص قربانى كا ارادہ نہ ركهتا ہو تو اس كے ليے بال، ناخن كاٹنے كى ممانعت نہيں ،تا ہم اگر وہ بهى ان دنوں بال اور ناخن نہ كاٹے تو اسے بهى قربانى كا ثواب مل جاتا ہے ۔ديكهئے: حديث سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص زير عنوان ’’جو قربانى كى طاقت نہ ركهے۔۔۔‘‘(سنن ابوداؤد: 2789)

جس كى طرف سے قربانى كى جا رہى ہے كيا وہ بهى بال اور ناخن نہ كاٹے ؟

شيخ ابن جبرين﷫ فرماتے ہيں كہ اور صحيح حديث میں آياہے كہ

’’جب عشرہ ذو الحجہ شروع ہو جائے اورتم میں سے كوئى شخص قربانى كرنے كا ارادہ كرے تو اپنے بال اور اپنے چمڑے (یعنى جسم ) سے كچھ نہ كاٹے۔ ‘‘ (اس حديث میں ) آپ ﷺ نے ايسے شخص كاذكر نہيں كيا جس كى طرف سے كوئى اور قربانى كر رہا ہوليكن بعض علما نے ايسے شخص كا(بال وغيرہ ) كاٹنا بهى ناپسند كيا ہے جس كى طرف سے كوئى اور قربانى كر رہاہواس كے ساتھ كہ ان میں سے جس نے كسى چيز كو كاٹانہ تو اس پر كوئى فديہ ہے،نہ اس كى قربانى باطل ہوگى اور نہ ہى اسے قربانى كرنے سے پیچھے ہٹنا چاہيے وہ ان شاء اللہ اس كى طرف سے قبول ہو جائے گى۔ (فتاوىٰ اسلاميہ : 2؍318)

قربانى كا وقت

قربانى كا وقت نماز عيد كے بعد شروع ہوتا ہے اور جس نے نماز عيد سے پہلے قربانى كى خواہ وہ كسى بهى علاقے میں ہو اس كى قربانى قبول نہيں ہوگى بلكہ اسے نماز عيد كے بعد قربانى كے ليے دوسرا جانور ذبح كرنا پڑے گا۔ جيسا كہ سیدنا براء بن عازب سے روايت ہے كہ رسول اللہﷺ نے فرمايا:

’’جو شخص نماز عيد سے پہلے قربانى كرليتا ہے وہ صرف اپنے كهانے كے ليے جانور ذبح كرتا ہے اور جو نمازِ عيد كے بعد قربانى كرے اس كى قربانى پورى ہوتى ہے اور وہ مسلمانوں كى سنت كو پاليتا ہے۔‘‘ (صحیح بخارى: 5556 نيز 5549،5560،5561،5562)

قربانى كتنے دنوں تك كى جاسكتى ہے؟

عيد الاضحىٰ اور اس كے بعد تين دن یعنى 13؍ذو الحجہ كى شام تك قربانى كى جاسكتى ہے كيونكہ عيد الاضحىٰ كے بعد 11،12،13ذو الحجہ كے دنوں كو ايام تشريق كہتے ہيں ۔(تفسير احسن البيان: 82 ؛ نيل الاوطار : 3؍490)

اور تمام ايام تشريق كو ذبح كے دن قرار ديا گيا ہے اس كى دليل مندجہ ذيل حديث ہے:

عن جبير ين مطعم عن النبيﷺ! :كل أيام التشريق ذبح

’’تمام ايام تشريق ذبح كے دن ہيں۔‘‘ (مسند احمد: 4؍82؛ صحيح ابن حبان: 3842؛ صحيح الجامع الصغير: 4537)

اگر چہ اس حديث كے منقطع ہونے كا دعوى كيا گيا ہے ليكن امام ابن حبان﷫ نے صحيح ابن حبان میں اسے موصول بيان كيا ہے او رامام ہيثمى﷫ نے بهى اس روايت كو مرفوع بيان كيا ہے اور كہا ہے كہ احمد وغيرہ كے رجال ثقہ ہيں۔ (بلوغ الامانى للبنا: 13؍94،95)

امام شوكانى ﷫ كا فتوى:

انہوں نے اس ضمن میں پانچ مختلف مذاہب ذكر كرنے كے بعد اس مذہب كو ترجيح دى ہے كہ

“أيام التشريق كلها أيام ذبح وهي يوم النحر وثلاثة أيام بعده.”

’’سارے ايام تشريق ذبح كے دن ہيں او روہ دن يہ ہيں : يوم النحراور اس كے بعد تين دن۔‘‘

(نيل الاوطار : 5/125)

سیدنا جبير بن مطعم﷫، سیدنا ابن عباس ، عطا، حسن بصرى، عمر بن عبدالعزيز، سليمان بن موسى الاسدى، مكحول،شافعى، اورداود ظاہرى ﷭سے بهى يہى قول منقول ہے۔ (نيل الاوطار: 3؍490؛ بيہقى : 5؍296،297)

البتہ بعض فقہاء نے يوم النحر كے بعد مزيد صرف 2دنوں تك قربانى كى اجازت دى ہے ان كى دليل سیدنا ابن عمر ، سیدنا عمراور سیدنا انس كا يہ اثر ہے:

“الأضحى يومان بعد يوم الأضحى.”

’’قربانى يوم الاضحىٰ كے بعد 2 دن ہے۔‘‘

(موٴطا امام مالک :2؍487؛ بیہقى: 9؍ 297، شرح مسلم للنووى : 7؍128)

ليكن يہ بات درست نہيں كيونكہ پہلى سیدنا جبير بن مطعم﷫ كى حديث مرفوع یعنی رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے اور سیدنا ابن عمر وغيرہ كى روايت محض ان كا اپنا قول ہى ہے اس ليے پہلى حديث كو ترجيح دى جائے گى نیز جس روايت میں ايك دن كم كا ذكر ہے، اس میں زيادتى كى نفى بهى نہيں ہے۔

كس دن كى قربانى افضل ہے؟

اكثر علما كا يہ مو قف ہے كہ پہلے دن كى قربانى افضل ہے كيونكہ نبى ﷺ ہميشہ اسى پر عمل پيرا رہے۔ آپ ﷺ مدينہ میں 10 سال رہے اور قربانى كرتے رہے۔ حجۃ الوداع كے موقع پر آپ ﷺ نے 100 اونٹ قربان كيے۔ ان سب قربانيوں میں آپ ﷺ كا ہميشہ يہى معمول رہا كہ آپ ﷺ پہلے دن قربانى كرتے جيسا كہ اس حديث سے بهى اس كى طرف اشارہ ملتا ہے كہ

عن البراء بن عازب قال قال النبي! إن أول ما نبدأ به في يومنا هذا نصلي ثم نرجع فننحر،من فعله فقد أصاب سنتنا

’’سیدنا براء بن عازب سے روايت ہے كہ رسول اللہ ﷺ نے فرمايا: آج (عيدالاضحىٰ كے دن) كى ابتدا ہم نماز (عيد) سے كريں گے پهر واپس آكر قربانى كريں گے جو اس طرح كرے گا وہ ہمارى سنت كے مطابق عمل كرے گا۔‘‘ (صحیح بخارى :5545)

اس حديث سے معلوم ہوا كہ نبى ﷺ جس دن نماز عيد پڑهتے اسى دن قربانى كرتے اور يہ بات دليل كى محتاج نہيں كہ نماز عيد پہلے دن ہى ادا كى جاتى ہے۔

علاوہ ازيں ايك اور حديث سے بهى پہلے دن كى افضيلت معلوم ہوتى ہے

عن عبد الله بن قرط عن النبيﷺ! قال:إن أعظم الأيام عند الله يوم النحر ثم يوم الغد

’’سیدنا عبداللہ بن قرط سے روايت ہے كہ نبىﷺ نے فرمايا: ’’بے شك اللہ تعالىٰ كے نزديك دنوں میں سب سے عظیم دن یوم النحر ( یعنی عيدالاضحىٰ كا پہلا دن) ہے پهر يوم الغد (یعنى دوسرا دن)ہے۔‘‘ (سنن ابو داؤد :1765)

اگر كوئى يہ خيال كرے كہ آخرى دنوں میں قربانى كرنے سے غرباء و مساكين كو زيادہ فائدہ ہو سكتا ہے تو بعض علما نے اسے بهى پہلے دن كے برابر ہى قرار ديا ہے۔ (واللہ اعلم)

قربانى كے گوشت اور كهال كے مسائل

قربانى كا گوشت كيسے تقسيم كيا جائے؟

بعض علما نے كہا ہے كہ قربانى كا گوشت تقسيم كرنے كا افضل طريقہ يہ ہے كہ گوشت كے تين حصے كيے جائيں۔ ايك حصہ خود كهايا جائے،دوسرا حصہ اپنے اقربا اور دوست احباب وغيرہ كو كهلا ديا جائے اور تيسرا حصہ غرباء و مساكين میں تقسيم كر ديا جائے۔ امام احمد﷫ بهى اسى كے قائل ہيں ۔ ان حضرات كى دليل سیدنا ابن عمر سے مروى يہ قول ہے كہ انہوں نے كہا كہ

’’قربانیوں كا تیسرا حصہ تمہارے ليے ہے اور تیسرا حصہ تمہارے گهروالوں كے ليے ہے اور تیسرا حصہ مساكين كے ليے ہے۔‘‘ (المغنى لابن قدامہ: 13؍379)

اگر چہ علما نے اس تقسيم كو افضل كہا ہے ليكن يہ تقسيم ضرورى نہيں ہے بلكہ حسب ِضرورت حالات كے مطابق بهى گوشت تقسيم كيا جاسكتا ہے یعنى اگر فقراء ومساكين زيادہ ہوں تو زيادہ گوشت صدقہ كر دينا چاہيے اور اگر ايسا نہ ہو بلكہ اكثر وبیشتر لوگ خوشحال ہوں تو زيادہ گوشت خود بهى استعمال كيا جاسكتا ہے اور اسى طرح آئندہ ايام كے ليے ذخيرہ بهى كيا جاسكتا ہے كيونكہ قرآن میں مطلقاً قربانى كا گوشت كهانے اور كهلانے كا حكم ديا گيا ہے جيسا كہ ارشادِ بارى ہے :

﴿وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُم مِّن شَعَائِرِ‌ اللَّـهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ‌ ۖ فَاذْكُرُ‌وا اسْمَ اللَّـهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ ۖ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ‌﴾ (سورۃ الحج : 36)

’’قربانی کے اونٹ ہم نے تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی نشانیاں مقرر کر دی ہیں ان میں تمہیں نفع ہے۔ پس انہیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو، پھر جب ان کے پہلو زمین سے لگ جائیں اسے (خود بھی) کھاؤ اور مسکین سوال سے رکنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ۔‘‘

ايك اور آيت میں ہے كہ

’’اپنے فائدے حاصل كرنے كے ليے آجائيں اور ان چوپايوں پر جو پالتو ہيں ، ان مقررہ دنوں میں اللہ كا نام ياد كريں ۔ پس تم خود بهى كهاؤ اور بهوكے فقيروں كو بهى كهلاؤ۔‘‘

درج بالا آيات سے معلوم ہوا كہ حسب ِضرورت قربانى كا گوشت كهايا اور كهلايا جاسكتا ہے، البتہ تين دن سے زيادہ ذخيرہ كرنے سے رسول اللہ ﷺ نے خاص مصلحت كے تحت ابتداے اسلام میں منع فرما دیا تها جيسا كہ ايك حديث میں ہے كہ

’’سیدنا ابن عمر سے روايت ہے كہ نبى ﷺ نے فرمايا: كوئى بهى اپنى قربانى كا گوشت تين دن سے اوپر نہ كهائے۔‘‘ (صحیح مسلم:5100،كتاب الاضاحى)

ليكن پهر اس كى اجازت دے دى تهى جيسا كہ ايك دوسرى حديث میں ہے كہ

سیدنا سلمہ بن اكوع سے روايت ہے كہ رسول اللہ ﷺ نے فرمايا:

’’تم میں سے جو قربانى كرے تیسرے دن كے بعد اس كے گهرمیں اس میں سے كوئى چيز باقى نہ ہو۔ پس اگلے سال صحابہ كرام نے عرض كيا: اے اللہ كے رسول ﷺ! كيا اس سال بهى ہم اسى طرح كريں جس طرح ہم نے گذشتہ سال كيا؟ آپ ﷺ نے فرمايا ’’كهاؤ اور كهلاؤ اور ذخيرہ كرو۔ بے شك اُس سال لوگ مشقت میں تھے تو میں نے ارادہ كيا كہ تم ان كى مدد كر دو۔‘‘ (صحیح بخارى :5569،كتاب الاضاحى)

مذكورہ دلائل سے يہ بات ثابت ہو جاتى ہے كہ قربانى كے گوشت كے تين يا دو حصے بنا كر تقسيم كرنا ضرورى نہيں بلكہ حالات كے مطابق كسى بهى طريقے سے گوشت كهايا اور كهلايا جاسكتا ہے اور ذخيرہ بهى كها جاسكتا ہے۔

امام ابن قدامہ﷫ كا فتوى

’’تین دنوں سے زيادہ قربانيوں كا گوشت ذخيرہ كرنا جائز ہے۔‘‘ (المغنى : 13؍381)

كيا غير مسلم كو قربانى كا گوشت ديا جاسكتا ہے؟

غير مسلم اگر مستحق ہو توا سے بهى تاليف ِقلب كے طور پر قربانى كا گوشت ديا جاسكتا ہے۔

امام ابن قدامہ﷫ كا فتوى:

’’اور يہ جائز ہے كہ كوئى قربانى كے گوشت سے كسى كافر كو كهلائے اور امام حسن﷫،امام ابو ثور﷫ اور اصحاب الرائے بهى اسى كے قائل ہيں ۔‘‘ (المغنى: 13؍381)

سعودى مجلس اِفتا كا فتوى:

’’قربانى میں مستحب يہ ہے كہ اس كے گوشت كے تين حصے بنائے جائيں : ايك تہائى قربانى كرنے والے كے ليے، ايك تہائى اس كے دوست احباب كے ليے،اورايك تہائى مساكين كے ليے اور اس سے كافر كو دينا بهى جائز ہے اس كے فقر كى وجہ سے، يا اس كى قرابت دارى كى وجہ سے، يا اس كى ہمسائیگی كى وجہ سے، يا اس كى تالیفِ قلب وجہ سے۔‘‘ (فتاوىٰ اسلاميہ: 2؍324)

قربانى كى كھالوں كا مصرف

قربانى كى كھالوں كا بهى وہى مصرف ہے جو قربانى كے گوشت كا ہے یعنى جيسے قربانى كا گوشت خود بهى كهايا جا سكتا ہے، دوسروں كو بهى كهلايا جاسكتا ہے اورصدقہ بهى كيا جاسكتا ہے اسى طرح كهال كو خود بهى استعمال كيا جاسكتا ہے كسى دوسرے كو بهى استعمال كے ليے دى جاسكتى ہے اور صدقہ بهى كى جاسكتى ہے كيونكہ اس كے استعمال كا كوئى الگ طريقہ كتاب وسنت میں موجود نہيں ،بلكہ كتب ِاحاديث میں ہے كہ صحابہ كرام قربانى كے جانور كى كهال كا مشكيزہ بنا كر اسے گهر میں استعمال كر ليتے تهے۔( صحیح مسلم: 5103)

كيا قربانى كا گوشت يا كھال فروخت كى جاسكتى ہے؟

نہ تو قربانى كا گوشت فروخت كيا جاسكتا ہے اور نہ ہى اس كى كهال فروخت كى جاسكتى ہے كيونكہ شریعت نے انہيں استعمال كرنے كا جو طریقہ بتلايا ہے فروخت كرنا اس میں شامل نہيں ۔

امام ابن قدامہ﷫ كا فتوى:

’’من جملہ قربانى كى كسى چيز كو بهى فروخت كرنا جائز نہيں نہ تو اس كا گوشت اور نہ ہى اس كا چمڑا خواہ قربانى واجب ہو يا نفلى ہو كيونكہ وہ ذبح كے ساتھ متعين ہوچكى ہے۔‘‘ (المغنى: 13؍382)

امام احمد﷫ كا فتوى:

’’وہ اسے (یعنى قربانى كے جانور كو) فروخت نہيں كرسكتا ہے اور نہ ہى اس كى كوئى چيز (گوشت يا كهال وغيرہ) فروخت كرسكتا ہے اور (امام احمد﷫) مزيد فرماتے ہيں كہ’سبحان اللہ’ وہ اسے كیسے فروخت كرسكتا ہے جبكہ وہ اسے اللہ تبارك وتعالىٰ كے ليے مقرر كر چكا ہے۔‘‘ (ايضاً)

کیاقربانى كا گوشت يا كهال قصائى كو بطور اُجرت دى جاسكتى ہے؟

ايسا كرنا جائز نہيں كيونكہ نبى ﷺ نے اس سے منع فرمايا ہے جيسا كہ

’’سیدنا على كہتے ہيں كہ مجهے رسول اللہ ﷺ نے حكم ديا كہ میں ان قربانى كے جانوروں كے جهول اور ان كے چمڑے صدقہ كردوں جن كى قربانى میں نے كردى تهى۔‘‘ (صحیح بخارى: 1707)

اور صحيح مسلم میں ہے كہ

’’سیدنا على سے روايت ہے كہ رسول اللہ ﷺ نے مجهے حكم ديا كہ میں آپ ﷺ كى قربانیوں كى نگرانى كروں اور میں ان قربانیوں كا گوشت اور ان كے چمڑے اور ان كى جھولیں صدقہ كر دوں اور ان سے (كچھ بهى) قصائى كو نہ دوں ۔ ‘‘

اور سیدنا على كہتے ہيں كہ

’’ہم اسے (قصائى كو) اپنے پاس سے (معاوضہ) ديا كرتے تهے۔‘‘(صحیح مسلم :3180،كتاب الحج )

ان احاديث سے معلوم ہوا كہ قربانى كے جانوروں كى ہر چيز حتى كہ جھول تك بهى صدقہ كر دى جائے اور قصائى كو ان میں سے اُجرت میں كچھ نہ ديا جائے بلكہ اُجرت عليحدہ دينى چاہيے۔

دوسروں كى طرف سے قربانى

زندہ افراد كى طر ف سے قربانى

اپنے علاوہ دیگر زندہ افراد كى طرف سے قربانى كرنا بالا تفاق جائز و مباح ہے اور اس كى دلیل يہ حديث ہے كہ ’’سیدہ عائشہ سے روايت ہے كہ رسول اللہ ﷺ نے اپنى بیویوں كى طرف سے گائے كى قربانى كى۔‘‘ (صحیح بخارى: 5548)

ايك اور حديث میں ہے كہ

’’سیدہ عطاء بن یسار﷫ سے روايت ہے كہ میں نے سیدنا ابو ایوب انصارى سے دريافت كيا كہ رسول اللہ ﷺ كے زمانے میں قربانى كیسے ہوتى تھى تو انہوں نے كہا : نبى كريم ﷺ كے زمانے میں آدمى اپنى طرف سے اور اپنے گهر والوں كى طرف سے ايك بكرى قربان كرتا تها، وه (اسے) كهاتے اور كهلاتے تهے۔‘‘ (جامع ترمذى: 1505)

اس حدیث سے ثابت ہوا كہ اگر كوئى زندہ افراد یعنى گهروالے يا دوست احباب وغيره كى طرف سے قربانى كرنا چاہے توجائز ہے۔

میت كى طرف سے قربانى

اس كى ايك صورت تو يہ ہے كہ قربانى تو زندہ افراد كى طرف سے كى جائے ليكن اس میں فوت شدگان كو بهى شريك كرليا جائے، يہ جائز ہے جيسا كہ نبی کریمﷺ نے جانور ذبح كرتے وقت فرمايا:

’’اللہ كے نام كے ساتھ اے اللہ! محمد، آلِ محمد اور اُمت ِمحمد كى طرف سے (اسے) قبول فرما۔‘‘ (صحیح مسلم :5091)

ايك اور حديث میں ہے كہ آپ نے جانور قربان كرتے وقت فرمایا:

بسم الله والله أكبر عن محمد! وأمة من شهد الله بالتوحيد وشهد لي بالبلاغ

’’اللہ كے نام كے ساتھ اور الله سب سے بڑا ہے، (يہ جانور) محمد كى طرف سے اور اس كى اُمت میں سے جس نے اللہ تعالىٰ كى توحيد كى گواہى دى اور ميرے لیے پیغام پہنچانے كى گواہى دى، كى طرف سے (قبول فرما)۔‘‘ (ارواء الغليل: 4؍251)

ان احاديث سے معلوم ہو اكہ نبى ﷺ نے قربانى میں اپنے گھر والوں كے ساتھ پورى اُمت كو بهى شريك كيا اور یقیناً اس وقت آپ ﷺ كى اُمت كے كئى افراد فوت ہوچكے تهے۔ لہٰذا ثابت ہوا كہ اپنى قربانى میں فوت شدگان كو بهى شريك كيا جاسكتا ہے۔

شيخ ابن باز﷫ كا فتوى:

شيخ ابن باز﷫ نے بھى اسى كى طرف اشارہ كيا ہے :

’’قربانى زندہ اور مردہ كى طرف سے مشروع ہے كیونكہ نبى ﷺ مدينہ میں ايك بكرى اپنى طرف سے اور اپنے گهر والوں كى طرف سے قربان كرتے تهے، حالانكہ اُن میں بعض فوت ہوچكے تهے جيسے سیدہ خدیجہ اور آپ ﷺ كى دو بیٹیاں سیدہ رقیہ اور سیدہ اُمّ كلثوم اور اس ليے بهى مشروع ہے كہ يہ صدقہ اور قربت ہے پس یہ بقیہ صدقات كے مشابہ ہوگئى اور یہ زندہ افراد كى طرف سے زیادہ موٴكد ہے آپ ﷺ كے فعل كى وجہ سے اور آپ ﷺ كے اِس قول كى وجہ سے كہ

’’جب ذوالحجہ كا مہینہ شروع ہوجائے اور تم میں سے كوئى قربانى كا ارادہ ركهتا ہو تو وہ اپنے بالوں اور اپنے ناخنوں سے كچھ نہ كاٹے۔‘‘ اسے امام مسلم﷫ نے اپنى كتاب صحيح مسلم میں سیدہ اُمّ سلمہ كى حدیث سے تخريج كيا ہے۔‘‘ (فتاوىٰ اسلاميہ: 2؍321)

شيخ ابن عثيمين﷫ كا فتوى:

’’میت كے ليے قربانى كى دو قسمیں ہیں :

1۔ (پہلى )يہ كہ شرعى قربانى ہو اور وہ یہ ہے كہ جو عیدالاضحىٰ میں اللہ كا تقرب حاصل كرنے كے ليے ذبح كى جاتى ہے اور اس كا ثواب ميت كے ليے مقرر كر ديا جاتا ہے تو اس میں كوئى حرج نہيں ۔ ليكن اس سے بهى افضل يہ ہے كہ انسان اپنى طرف سے اور اپنے گهر والوں كى طرف سے قربانى كرے اور اس كے ساتھ زندہ اور فوت شدہ(افراد) كى بهى نيت كر لے تو تبعاً ميت بهى اس میں شامل ہو جائے گى كيونكہ نبى ﷺ نے صرف اپنے گهر كے فوت شدگان میں سے كسى كى طرف سے قربانى نہيں كى۔ آپ ﷺ كى تين بیٹیاں:

سیدہ زينب،سیدہ امّ كلثوم اور سیدہ رقيہ فوت ہوئيں ليكن آپ ﷺ نے ان كى طرف سے قربانى نہيں كى اور اسى طرح سیدہ خديجہ جو آپ كو بیویوں میں سب سے زیادہ محبوب تهيں ،آپ نے ان كے ليے بهى قربانى نہيں كى، اور اسى طرح آپ كے چچا سیدہ حمزہ٭ جو جنگ ِاُحد میں شہید كر دیے گئے، آپ نے ان كى طرف سے بهى قربانى نہيں كى ۔ہاں ! ليكن آپ ﷺ نے اپنى طرف سے اور اپنے گهر والوں (مجموعى طور پر ،زندہ يا فوت شدہ )كى طرف سے قربانى كى ہے۔‘‘

2۔ غیرعیدا لاضحىٰ میں میت كى طرف سے جانور ذبح كرنا جيسا كہ بعض جاہل لوگ ايسا كرتے ہيں كہ میت كے ليے اس كى وفات كے ساتویں روز جانور ذبح كيا جاتا ہے يا اس كى وفات كے چالیسویں روز، يا اس كى وفات كے تیسرے روز، يہ بدعت ہے اور جائز نہيں كيونكہ يہ ايسے بے فائدہ كام میں مال كا ضياع ہے جس میں نہ تو دينى فائدہ ہے اور نہ دنياوى، بلكہ دينى نقصان میں (مال كا ضیاع ہے) اور تمام بدعتیں گمراہى ہيں جيسا كہ آپ ﷺ نے فرمايا:

’’ہر بدعت گمراہى ہے۔‘‘ (واللہ الموفق) (فتاوىٰ منار الاسلام : 2؍411)

جہاں تك صرف میت كى طرف سے قربانى كرنے كا تعلق ہے توبقول شيخ ابن عثیمین ﷫اس سے اجتناب ہى بہتر ہے، جبكہ ديگر اہل علم مثلاً علامہ ابن تیمیہ، امام بغوى وغيرہ اس كے جواز كے بهى قائل ہيں ۔( فتاوىٰ: 26؍306 ؛ شرح السنہ: 4؍258)

كيا مقروض شخص قربانى كرسكتا ہے؟

شريعت سے كوئى ایسى دلیل نہیں ملتى جس سے یہ ثابت ہوتا ہو كہ مقروض شخص قربانى نہيں كرسكتا، ہاں اتنا ضرور ہے كہ قرض لینے كے بعد اسے جلد از جلد اتارنے كى كوشش كرنى چاہیے لیكن اس كا يہ مطلب ہر گز نہيں كہ اگر مقروض شخص قربانى كرے گا تو اس كى قربانى قبول نہيں ہوگى بلكہ قربانى عبادت ہے اور نبى ﷺ كى سنت ہے اس ليے اگر مقروض شخص بهى قربانى جیسى عبادت كے ذريعے تقربِ الٰہى حاصل كر سكتا ہے تو اسے ضرور ايسا كرنا چاہيے۔ (واللہ اعلم)

جانور كو ذبح كرنے كے مسائل

٭ عيد گاہ میں قربانى كى جائے كيونكہ رسول اللہﷺ كا يہى معمول تها جيسا كہ سیدنا ابن عمر فرماتے ہيں كہ

كان رسول الله يذبح وينحر بالمصلى

’’رسول الله ﷺ (قربانى) ذبح اور نحر عید گاہ میں كيا كرتے تهے۔‘‘ (صحیح بخارى :5552)

٭جانور قبلہ رخ لٹانا چاہيے جيساكہ سیدنا جابر بن عبداللہ سے روايت ہے، انہوں نے كہا نبى ﷺ نے قربانى كے دن سینگ والے دو چتكبرے، خصى مینڈهے ذبح كيے پس جب آپ ﷺ نے انہیں قبلہ رخ كيا۔ (سنن ابوداؤد :2795 )

٭جانور ذبح كرتے وقت اس كے پہلوپر پاؤں ركهنا سنت سے ثابت ہے جيسا كہ سیدنا انس فرماتے ہيں :

ضحى النبيﷺ! بكبشين أملحين فرأيته واضعا قدمه على صفاحهما

’’نبى كريم ﷺ نے دو چتكبرے مینڈهوں كى قربانى كى، میں نے ديكها كہ آپ ﷺ اپنے پاؤں ان جانوروں كے پہلوؤں پر ركهے ہوئے ہيں ۔‘‘ (صحیح بخارى :5558)

٭ قربانى كے لئے چهرى خوب تیز كرنا چاہئے :

1۔ سیدنا شدادبن اوس﷫ سے روايت ہے كہ رسول اللہ ﷺ نے فرمايا:

’’جب تم ذبح كرو تو اچهے طريقے سے ذبح كرو اور تم میں سے ايك اپنى چهرى تيز كرے اور اپنے ذبيحہ كو آرام پہنچائے۔‘‘ (سنن ابو داؤد:2814)

٭ چهرى چلانے سے پہلے رسول اللہ ﷺ سے مختلف دعائيں ثابت ہيں :

1۔بروایت ِ سیدنا انس : بِسْمِ اللهِ وَاللهُ اَكْبَرْ: (صحیح بخارى :5565)

2۔ بروايت سیدنا جابر (بِسْمِ اللهِ وَاللهُ اَكْبَرْ هَذَاعَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ اُمَّتِي) (سنن ابو داؤد: 2810)

3۔ بروايت سیدہ عائشہ (اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ) (صحیح مسلم: 1967)

وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّذِىْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيْفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ إِنَّ صَلَاتِىْ وَنُسُكِىْ وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِىْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَبِذٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ بِسْمِ اللهِ وَاللهُ اَكْبَرْ

(سنن ابو داؤد:2795)

حديث سے معلوم ہو اكہ جانور قربان كرنے سے پہلے چهرى كو خوب اچهى طرح تيز كرلينا چاہيے تاكہ جانور آسانى سے ذبح ہوجائے اور اسے زيادہ تكليف نہ ہو كيونكہ گذشتہ روايت میں يہ الفاظ بهى موجود ہيں:

’’بے شك اللہ تعالىٰ نے ہر چيز پر احسان لكھ ديا ہے پس جب تم قتل كر و تو (اس میں بهى) احسان كرو۔‘‘

2۔ ايك اور روايت میں ہے كہ سیدنا انس فرماتے ہيں:

’’رسول اللہ ﷺ نے جانورں كو باندھ كر ذبح كرنے سے منع فرمايا ہے۔‘‘ (سنن ابوداؤد:2815)

3۔ سیدہ عائشہ سے روايت ہے كہ رسول اللہﷺ نے سینگ والا ايك مینڈھا لانے كا حكم ديا جس كے ہاتھ ’پاؤں‘ پیٹ اور آنكھیں سیاه ہوں تو وہ قربانى كے ليے لايا گيا۔ آپ ﷺ نے سیدہ عائشہ سے كہا: چهرى لاؤ۔ پهر آپ ﷺ نے فرمايا: اسے پتهر كے ساتھ تيز كرو تو انہوں نے ايسا ہى كيا۔ پهر آپ ﷺ نے چهرى كو پكڑا اور مینڈھے كو ذبح كرنے كے ليے لٹا ديا۔ پهر كہا:’’اللہ كے نام كے ساتھ،اے الله! محمد ، آلِ محمد اور اُمت محمد كى طرف سے قبول فرما۔‘‘ پهر آپ ﷺ نے اسے ذبح كر ديا۔‘‘ (صحیح مسلم :5091)

اونٹ نحر كرنے كا طريقہ

اونٹ كو ذبح نہيں بلكہ نحر كرنا چاہیے اور نحر كا طريقہ يہ ہے كہ اونٹ كا اگلا بایاں گھٹنا باندہ كر اسے تين ٹانگوں پر كھڑا كردینا چاہیے اور كوئى تیز دهار چیز مثلاً چھرى ’چاقو‘ نیزه یا برچهى وغيره اس كى گردن میں مارنى چاہیے، آہستہ آہستہ خون بہہ جائے گا اور اونٹ ايك طرف گر جائے گا پهر اس كى كهال وغيره اتار كر گوشت بنا لینا چاہیے، اونٹ كو نحر كرنے كے دلائل حسب ِذيل ہيں :

1۔ارشادِ بارى تعالى ہے كہ ’’قربانى كے اونٹ ہم نے تمہارے ليے اللہ تعالىٰ كى نشانیاں مقرر كر دى ہيں ، ان میں تمہیں نفع ہے پس انہيں كهڑا كر كے ان پر اللہ كا نام لو۔ پهر جب ان كے پہلو زمين سے لگ جائيں تواس سے كهاؤ۔‘‘ (سورۃ الحج : 36)

سیدنا ابن عباس ’صواف‘ كى تفسیر میں فرماتے ہيں كہ

’’اس كا معنى قياما معقولۃ یعنى ايك ٹانگ باندہ كر كهڑا كرنا ہے۔‘‘ (تفسیر فتح القدير: 3؍558)

امام شوكانى﷫آيت ﴿فَإذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا﴾ كے متعلق فرماتے ہيں كہ وجوب (سے مراد )ساقط ہونا ہے یعنى جب نحر ہونے كے بعد اونٹ گر جائے۔ اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب اس كى روح نكل جاتى ہے۔(تفسير فتح القدير :13؍556)

2۔ سیدنا ابن عمر سے روايت ہے كہ وہ ايك ایسے آدمى كے پاس سے گزرے جس نے اونٹ كو ذبح كرنے كى غرض سے بٹھا ركھا تها تو انہوں نے كہا:

’’اس كا گھٹنا بانده كر اسے كھڑا كرو، يہى محمد ﷺ كى سنت ہے۔‘‘ (صحیح بخارى، كتاب الحج: 1713)

3۔ سیدنا جابر سے روايت ہے كہ رسول اللہﷺ اور آپ كے صحابہ اونٹ كى بائيں ٹانگ باندہ كر اسے نحر كرتے تهے اور وہ اپنى باقى ٹانگوں پركهڑاہوتاتہا۔ (سنن ابوداؤد :1767)

4۔ سیدنا جابر سے حجۃ الوداع كے بيان میں حديث مروى ہے اور اس میں ہے كہ

’’رسول اللہﷺ نے اپنے ہاتھ سے 63 اونٹ نحر كيے۔ آپ ﷺ اونٹوں كى گردنوں میں اپنے ہاتھ میں موجود چهوٹا نيزه مارتے تهے۔‘‘ (صحیح مسلم: 1218)

زندہ جانور سے كاٹا ہوا گوشت حرام ہے

جانور كو ذبح يا نحر كرنے كے بعد جب تك اچهى طرح اس كا خون بہہ كر روح نہ نكل جائے اس كا گوشت بنانا شروع نہيں كرنا چاہيے كيونكہ اگر زندہ جانور سے ہى گوشت كاٹ ليا جائے تو وہ حرام ہے جيسا كہ حديث میں ہے كہ سیدنا ابو واقد لیثى ﷫ سے مروى ہے كہ اللہ كے رسول ﷺ نے فرمايا :

’’زندہ جانور سے جو كچھ كاٹ ليا جائے وہ مردار ہے۔‘‘ (سنن ابو داؤد :2858)

ہر خون بہا دينے والى چيز سے ذبح كرنا جائز ہے …

سوائے دانت اور ناخن كے، جيسا كہ مندرجہ ذيل حديث اس كا واضح ثبوت ہے:

1۔ سیدنا رافع بن خديج نے نبى ﷺ سے روايت كياہے كہ

’’جو چيز خون كو بہادے اور اسے اللہ كا نام لے كر ذبح كيا گيا ہو تو اس جانور كو كهالو۔ ذبح كرنے كا آلہ دانت اور ناخن نہيں كيونكہ دانت تو ہڈى ہے اور ناخن حبشيوں كى چهرى ہے۔‘‘(صحیح بخارى : 5498)

يہ حديث مطلق دانت اور ناخن سے ممانعت پر دلالت كرتى ہے (یعنى )دانت اور ناخن خواہ انسان كا ہو يا كسى اور جانور كا ‘الگ اور جدا ہو يا جسم كے ساتھ لگا ہو ، خواہ لوہے سے بنايا ہو(ہر صورت میں ان دونوں سے ذبح كرنا ممنوع ہے)۔(سبل السلام : 4/1852)

2۔ سیدنا كعب بن مالك سے روايت ہے كہ ايك عورت نے پتهر سے ايك بكرى كو ذبح كر ديا، نبى کریمﷺ سے اس كے كهانے كے متعلق پوچھا گيا تو آپ ﷺ نے اسے كهانے كا حكم فرمايا۔‘‘ (صحیح بخارى :5504)

اس حديث سے معلوم ہوا كہ چهرى كے علاوہ اور چيزوں سے بهى جانور ذبح كرنا درست ہے بشرطيكہ اس سے خون بہہ جائے جيسا كہ اس عورت نے ايك نوكدار پتهر سے ذبح كيا تها اور اس سے خون بہہ گيا تها۔

جانور خود ذبح كرنا چاہيے!

جيسا كہ اس كے دلائل حسب ِذيل ہيں :

1۔ سیدنا جابر سے حجۃ الوداع كے بيان میں حديث مروى ہے اور اس میں ہے كہ ’’رسول اللہﷺ نے اپنے ہاتھ كے ساتھ تريسٹہ (63) اونٹ نحر كيے۔ آپ اپنے ہاتھ میں موجود چهوٹا نيزه اونٹوں كى گردنوں میں مارتے تهے۔‘‘ (صحیح مسلم: 1218)

2۔ سیدنا انس سے روايت ہے كہ

’’نبى ﷺ نے كهڑے كهڑے سات اونٹ اپنے ہاتھ سے نحر كيے اور مدينہ میں دوسینگوں والے چتكبرے مینڈهے ذبح كيے۔‘‘(سنن ابو داؤ د:3 9 7 2 )

3۔ سیدنا انس سے روايت ہے كہ

’’رسول اللہ ﷺ سینگ والے دو چتكبرے مینڈهوں كى طرف متوجہ ہوئے اور انہيں اپنے ہاتھ سے ذبح كيا۔‘‘ (صحیح بخارى :5554)

4۔ سیدنا انس نے بيان كيا ہے كہ نبى كريم ﷺ نے دو چتكبرے مینڈهوں كى قربانى كى۔میں نے ديكها كہ نبی کریم ﷺ اپنے پاؤں جانور كے اوپر ركهے ہوئے ہيں اور بسم اللہ و اللہ أكبر پڑھ رہے ہيں۔ اس طرح آپ ﷺ نے دونوں مینڈهوں كو اپنے ہاتھ سے ذبح كيا۔‘‘ (صحیح بخارى :5558)

درج بالا احاديث سے ثابت ہوا كہ انسان كو اپنى قربانى خود ذبح كرنے كى كوشش كرنى چاہيے كيونكہ رسول اللہ ﷺ ہميشہ اپنى قربانى خود ذبح كيا كرتے تهے۔

امام ابن قدا مہ ﷫ فرماتے ہيں كہ

’’اور اگر وہ شخص قربانى كا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح كرے تو يہ افضل ہے۔‘‘ (المغنى لابن قدامہ: 13؍389)

سيد سابق ﷫ فرماتے ہيں كہ

’’جو شخص عمدہ طريقے سے جانور ذبح كر سكتا ہواس كے ليے مسنون ہے كہ وہ اپنى قربانى اپنے ہاتھ كے ساتھ ذبح كرے ۔‘‘ (فقہ السنہ: 3؍198)

كيا قصائى سے ذبح كرانا درست ہے؟

بہتر تو يہ ہے كہ جانور خود ذبح كيا جائے جيسا كہ نبىﷺ اپنا جانور خود ہى ذبح كرتے تهے ليكن اگر كوئى ايسا نہ كر سكتا ہو تو قصائى سے ذبح كرانا بهى درست ہے۔ كيونكہ كسى صحيح حديث میں اس كى ممانعت موجود نہيں ۔

كيا عورت ذبح كرسكتى ہے؟

اگر عورت كوجانور ذبح كرنے كا طريقہ آتا ہو تو اس كے ليے جانور ذبح كرنا جائز ہے جيسا كہ اس كے دلائل حسب ِذيل ہيں :

1۔ امام بخارى﷫ رقمطراز ہيں كہ

’’سیدنا ابو موسى اشعرى نے اپنى بیٹیوں سے كہا كہ وہ اپنى قربانى اپنے ہاتھ سے ہى ذبح كريں ۔‘‘ (صحیح بخارى قبل الحديث :5559)

علامہ عینی﷫ فرماتے ہيں كہ

’’اس حديث میں يہ دليل ہے كہ عورتيں اگر اچهى طرح ذبح كر سكتى ہوں تو وہ اپنى قر بانياں خود ذبح كر سكتى ہيں ۔‘‘ (عمدة القارى : 21؍155)

2۔ سیدنا كعب بن مالك سے روايت ہے كہ ايك لونڈى سِلَع پہاڑى پر بكرياں چرايا كرتى تهى ۔(چراتے وقت ايك مرتبہ) اس نے ديكها كہ ايك بكرى مرنے والى ہے چنانچہ اس نے ايك پتهر توڑ كر اس سے بكرى ذبح كر دى تو سیدنا كعب بن مالك نے اپنے گهر والوں سے كہا كہ اسے اس وقت تك نہ كهانا جب تك میں رسول اللہ ﷺ سے اس كا حكم نہ پوچھ آؤں يا (انہوں نے كہا كہ) میں كسى كو بهیجوں جو نبی کریمﷺ سے مسئلہ پوچھ آئے۔ پهر وه نبی کریمﷺ كى خدمت میں حاضر ہوئے يا كسى كو بهيجا اور نبی کریمﷺ نے اس كے كهانے كى اجازت بخشى۔‘‘ (صحیح بخارى:5501)

شيخ ابن جبرين﷫ كا فتوى:

كسى نے دريافت كيا كہ جب قربانى كا وقت ہوجائے اور گهر پر كوئى آدمى موجود نہ ہو تو اس صورت میں كيا عورت قربانى كا جانور ذبح كرسكتى ہے؟ تو شيخ نے جواب میں كہا كہ

’’ہاں اگر جانور ذبح كرنے كى ديگر شرائط پورى ہو رہى ہوں تو بو قت ِضرورت عورت قربانى وغيرہ كا جانور ذبح كر سكتى ہے ۔قربانى كا جانور ذبح كرتے وقت اُس زندہ يا فوت شدہ آدمى كا نام لينا مسنون ہے جس كى طرف سے قربانى كى جارہى ہو۔ اور اگر ايسا نہ بهى ہوسكے تو نيت كرلينا ہى كافى ہے اگر ذبح كرنے والا غلطى سے اصل شخص كى بجائے كسى اور كا نام لے لے تو بهى كوئى نقصان نہ ہوگا، اس ليے كہ اللہ ربّ العزت نيتوں سے بخوبى آگاہ ہيں ۔( والله الموفق)

(فتاوىٰ اسلاميہ :2؍ 318)

اس حديث سے يہ مسئلہ نكلتا ہے كہ بامر مجبورى عورت ذبح كرسكتى ہے، كيا عام حالات میں بهى اس كى اجازت ہے، صريح دليل كوئى نہيں پيش كى۔

مكمل اہل وعيال كى طرف سے ايك بكرى بهى كفايت كرجاتى ہے اور اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ہے:

’’عطاء بن يسار﷫ سے روايت ہے كہ میں نے سیدنا ابو ايوب انصارى سے دريافت كيا كہ رسول اللہﷺ كے زمانے میں قربانى كیسے ہوتى تهى؟ تو انہوں نے كہا : نبى كريم ﷺ كے زمانے میں آدمى اپنى طرف سے اور اپنے گهر والوں كى طرف سے ايك بكرى قربان كرتا تها، وہ (اسے) كهاتے تهے اور كهلاتے تهے۔‘‘ (جامع ترمذى: 1505)

ايك اور حديث میں ہے كہ

’’سیدنا ابو سريحہ سے روايت ہے كہ ہمارے گهر والوں نے ہم كو خلافِ سنت كام پر مجبور كيا اُس كے بعد كہ جب ہم سنت پر عمل كرتے تهے تو ايك گهر والے بكرى يا دو بكريوں كى قربانى كرتے اور اب اگر ہم ايسا كرتے ہيں تو ہمارے ہمسائے ہمیں بخيل كہتے ہيں ۔‘‘ (سنن ابن ماجہ: 3148)

درج بالا احاديث سے معلوم ہوا كہ ايك بكرى مكمل اہل وعيال كى طرف سے كفايت كر جاتى ہے۔ اس حديث كو نقل كرنے كے بعد امام ترمذى﷫ فرماتے ہيں كہ

’’بعض اہل علم كے نزديك اسى پر عمل ہے اور امام احمد﷫اور امام اسحق﷫ كا بهى يہى قول ہے… اور بعض اہل علم نے كہا ہے كہ بكرى صرف ايك نفس كى طرف سے ہى كفايت كرتى ہے اور يہ قول عبد اللہ بن مبارك﷫ اور ان كے علاوہ (بعض ديگر) اہل علم كا ہے۔‘‘

بہر حال راجح موقف امام احمد﷫ وغيرہ كا ہى ہے كيونكہ سیدنا ابو ايوب انصارى كى گذشتہ صحيح حديث اسى كو ثابت كرتى ہے۔

امام شوكانى﷫ كا فتوى:

’’ حق بات يہ ہے كہ ايك بكرى (مكمل ) گهر والوں كى طرف سے كفايت كى جاتى ہے، اگرچہ وہ سويا اس سے بهى زياده نفس ہوں جيسا كہ سنت نے يہى فيصلہ كرديا ہے۔‘‘ (نيل الاوطار: 5؍137؛ ا لسيل الجرار: 3؍233)

امام ابن قیم﷫ كا فتوى :

’’آپ ﷺ كى سنت سے يہ بهى ہے كہ ايك بكرى آدمى كى طرف سے اور اس كے گهروالوں كى طرف سے كفايت كرجاتى ہے خواہ ان كى تعداد زيادہ ہو۔‘‘ (كمافى تحفہ الاحوذى :5؍73)

امام ابن قدامہ﷫ كا فتوى:

’’اس میں كوئى حرج نہيں كہ آدمى اپنے گهر والوں كى طرف سے ايك بكرى ذبح كر دے۔‘‘ (المغنى: 13؍365)

اونٹ اور گائے كے حصے

اونٹ كى قربانى میں دس افراد جبكہ گائے كى قربانى میں سات افراد شريك ہوسكتے ہيں اور اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ہے:

سیدنا ابن عباس سے روايت ہے، وہ كہتے ہيں : ہم رسول اللہ ﷺ كے ساتھ سفر میں تهے تو قربانى كا وقت ہو گيا۔ہم اونٹ میں دس آدمى شريك ہوئے اور گائے میں سات۔‘‘ (سنن ابن ماجہ :3131)

ايك اور حديث سے بهى يہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے جيسا كہ سیدنا رافع بن خديج فرماتے ہيں كہ

’’ہم نبى ﷺ كے ساتھ ذوالحليفہ مقام پر تهے۔ ہمارے ہاتھ بكرياں اور اونٹ لگے۔ لوگوں نے جلدى جلدى اُنہيں ذبح كر كے ہانڈياں چڑها كر اُبالنى شروع كر ديں۔ نبىﷺ تشريف لائے۔

آپﷺ نے ہانڈياں اُلٹ دينے كا حكم اور

(ثم عدل عشرة من الغنم بجزور)

’’پهر آپﷺ نے دس بكريوں كو ايك اونٹ كے برابر قرار ديا۔‘‘ (صحیح بخارى :2507)

اور جن روايات میں ہے كہ اونٹ میں سات آدمى شريك ہوسكتے ہيں مثلاً سیدنا جابر سے روايت ہے كہ رسول اللہ ﷺ نے فرمايا : ’’گائے سات آدميوں كى طرف سے قربان كى جاسكتى ہے اوراونٹ بهى سات آدميوں كى طرف سے قربان كيا جاسكتا ہے۔‘‘ (سنن ابو داؤد:2808)

تو ایسى تمام روايات كے متعلق بعض علما كہتے ہيں كہ يہ حج كے متعلق ہيں یعنى دورانِ حج قربانى كرنے والے ايك اونٹ میں صرف سات افراد ہى شريك ہوں گے۔ اور بعض علما كاخيال ہے كہ يہ اللہ كى طرف سے رخصت ہے یعنى اونٹ میں 10 آدمى بهى شريك ہو سكتے ہيں اور سات بهى ۔ (واللہ اعلم)

علاوہ ازيں اگر استطاعت ہو تو اكيلا آدمى بهى اونٹ يا گائے كى قربانى كر سكتا ہے جيسا كہ سیدہ عائشہ سے روايت ہے كہ ’’بے شك رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع كے موقع پر آلِ محمد كى طرف سے ايك گائے قربان كى۔‘‘ (سنن ابن ماجہ:3135)

كيا مختلف لوگ مل كر ايك بكرى قربان كر سكتے ہيں ؟

ايسا كرنا جائز نہيں كيونكہ شريعت میں اتنا تو ثابت ہے كہ ايك بكرى مكمل گهر والوں كى طرف سے كفايت كر جاتى ہے ليكن يہ بالكل ثابت نہيں كہ ايك بكرى زيادہ گهرانوں يا مختلف افراد كى طرف سے كفايت كرتى ہے۔

ايك قربانى ايك سے زيادہ افراد كى طرف سے ہوجاتى ہے ، كفايت كرجانے كا مقصد كيا ہوا، كيا يہ فرض ہے جو ان كے ذمہ سے ساقط ہوجاتا ہے، يہ كہنا درست نہيں كہ ايك بكرى تمام گهر والوں كى طرف سے كفايت كرجاتى ہے، ثواب میں شركت اور شے ہے، اور كفايت كرنا اور…؟

قربانى كرنا افضل ہے يا قربانى كى قیمت صدقہ كر دينا؟

قربانى كى قیمت صدقہ كر دينے سے قربانى كرنا افضل ہے كيونكہ قربانى ایسى عبادت ہے جسے رسول اللہﷺ صحابہ كرام ، تابعين اور ائمہ عظام نے اپنايا ہے اگر قربانى كے بجائے جانور كى قیمت صدقہ كرنا شروع كر ديا جائے تو يہ عبادت ختم ہوتى چلى جائے گى۔ علاوہ ازيں اگر صدقہ كرنا افضل ہوتا تو رسول اللہ ﷺ ضرور اس كى وضاحت فرما ديتے حالانكہ آپ ﷺ سے نہ تو يہ ثابت ہے كہ قیمت صدقہ كر دينا قربانى سے افضل ہے اور نہ ہى يہ ثابت ہے كہ قربانى كے جانور كى قیمت صدقہ كر دينا قربانى كے برابر ہے۔

امام ابن قدامہ كا فتوى:

’’قربانى كى قیمت صدقہ كرنے سے قربانى كرنا افضل ہے، امام احمد﷫ نے اس پر نص بيان كى ہے، امام ربیعہ﷫ اور امام ابو الزناد﷫ نے بهى يہى بات كہى ہے۔‘‘ (المغنى : 13؍361)

شيخ ابن باز كا فتوى:

’’اور قربانى كا جانور ذبح كرنا اس كى قیمت صدقہ كردينے سے افضل ہے كيونكہ اس میں سنت كا احيا اور اس كا اظہار ہے اور نبى ﷺ اور آپ كے صحابہ كى اقتدا ہے۔‘‘ (فتاوىٰ اسلاميہ: 2؍321)

مساكين و مہاجرين تك رقم ادا كركے گوشت پہنچانے كامسئلہ ايك علاحدہ صورت ہے جس كى وضاحت بهى يہاں ضرورى ہے۔ ليكن اس سے امرا كے لئے سہولت كا ايك پہلو بهى نكلتا ہے۔

٭٭٭

سماجی رہنما راجہ شبیر احمد جنجوعہ کا انتقال

جامع مسجد کوئینس کراس ڈڈلی کے سابق سیکرٹری اور کیمونٹی کے سماجی اور رفاہی قائد حاجی راجہ محمد شبیر جنجوعہ بھی داغ مفارت دے چکے، ہر شخص کی زبان پر ان کی تعریف تھی۔ اللہ تعالیٰ نے کمیونٹی کی خدمت کا طویل عرصہ فراہم کیا، ڈاکٹر عبد الرب ثاقب نے نماز جنازہ پڑھائی، مسجد میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی، علماء اورسکالرز کی شرکت اور ان کے خطابات راجہ کرم داد مرحوم کے فرزند راجہ محمد شبیر جنجوعہ کشمیر جیولرز مختصر علالت کے بعد خالق حقیقی سے جا ملے اور متعلقین و احباب کو داغ مفارت دے چکے، تقریباً 40 سال تک وہ جامع مسجد کوئینس کراس اور ڈڈلی کی کمیونٹی کی خدمت کرتے رہے۔

ڈاکٹر عبد المجید لوٹن، مولانا محمد حفیظ اللہ خان المدنی، مولانا حبیب اللہ اثری اور ڈاکٹر عبد الرب ثاقب نے اپنے خطاب میں ان کی ہمدردی اور دوسروں کی مدد کرنا اور ان کے اچھے اخلاق کی تعریف کی اور کہا کہ یہ اس حدیث کے مصداق ہیں، جس میں اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:’’لوگوں میں بہترین شخص وہ ہے جو دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو۔‘‘

واقعی راجہ شبیر دوسروں کی خدمت میں پیش پیش ہوتے تھے، اللہ نے انہیں 70 سال کی عمر عطا فرمائی تھی، مگر ہر ایک زبان پر مرحوم کے لیے کلمہ خیر تھا، بقول شاعر زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو۔ اللہ نے انہیں 2 بیٹے اور 2 بیٹیوں سے نوازا تھا۔

ثاقب شبیر اور نبیل شبیر، تبریز طارق ، ڈاکٹر راجہ منیر اور عبد النقیب ان کے علاوہ حاجی حبیب الرحمٰن بہنوئی (ہالینڈ) کونسلر ظفر الاسلام، کونسلر محمد شوکت، مولانا شیر خان جمیل احمد عمری، راجہ انیس، حافظ ضوباش، سابق کونسلر لوٹن ریاض بٹ، مولانا محمد ابراہیم میرپوری (امیر جمعیت)، حافظ حبیب الرحمٰن جہلمی (ناظم اعلیٰ) مولانا عبد الہادی العمری اور بہت سے علماء نے مرحوم کے بچوں سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور متعلقین و احباب کو صبر جمیل بخشے۔ آمین یا رب العالمین

تبصرہ کریں