قیام اللیل کا اجر وثواب دینے والے اعمال۔محمد سلیمان جمالی

بعض نیک اعمال ایسے ہیں جن پر عمل پیرا ہونے سے قیام اللیل کا اجر وثواب حاصل ہوتا ہے۔ ذیل میں ہم ایسے اعمال کا تذکرہ کریں گے جن پر ہم عمل کرکے قیام اللیل یعنی تہجد کا اجر پا سکتے ہیں۔

1۔ اچھے اخلاق رکھنا

سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

«إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَاتِ قَائِمِ اللَّيْلِ صَائِمِ النَّهَارِ.»

’’بلاشبہ مؤمن اپنے اچھے اخلاق کی بنا پر دن کو روزہ رکھنے والے اور رات کو قیام کرنے والے کا مقام پا لیتا ہے ۔ ‘‘(مسند احمد : 24355)

2۔ با جماعت نماز عشاء اور فجر ادا کرنا

سیدنا عثمان بن عفان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

«مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ كَانَ كَقِيَامِ نِصْفِ لَيْلَةٍ، وَمَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ فِي جَمَاعَةٍ كَانَ كَقِيَامِ لَيْلَةٍ.»

’’جس نے جماعت سے عشاء کی نماز پڑھی، گویا اس نے آدھی رات تک قیام کیا، اور جس نے عشاء اور فجر دونوں جماعت سے پڑھیں، اس نے گویا پوری رات قیام کیا ۔‘‘ (سنن أبي داود : 556)

3۔ نماز ظہر سے پہلے چار رکعت ادا کرنا

ابو صالح سے مرفوعا مرسلا روایت ہے کہ

«أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ يَعْدِلْنَ بِصَلاَةِ السَّحَرِ.»

’’ظہر سے پہلے كی چار رکعات سحری ( قیام اللیل ) کی نماز كے کے بر ابر ہیں۔‘‘ (سلسلہ صحیحہ: 1431)

ايک اور روایت میں ان چار رکعتوں کا اجر بیان کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا :

«مَنْ صَلَّى قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا، ‏‏‏‏‏‏وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا، ‏‏‏‏‏‏حَرَّمَهُ اللہ عَلَى النَّارِ .»

’’جس شخص نے ظہر سے پہلے 4 رکعتیں اور ظہر کے بعد 4 رکعتیں پڑھیں تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دے گا ۔‘‘(سنن ابن ماجہ : 1160)

4۔ جمعے کے آداب کا خیال رکھنے والا

سیدنا اوس بن اوس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

«مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَغَسَّلَ وَبَكَّرَ وَابْتَكَرَ وَدَنَا وَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا أَجْرُ سَنَةٍ صِيَامُهَا وَقِيَامُهَا.»

جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور غسل کرایا، اور جلدی پہنچا، شروع سے خطبہ میں شریک رہا، امام کے قریب بیٹھا اور غور سے خطبہ سنا اور خاموش رہا تو اسے اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزے اور رات کے قیام کا ثواب ملے گا ۔(سنن ترمذی : 496)

5۔ تہجد کی نیت کرکے سونا

سیدنا ابودرداء سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

«مَنْ أَتَى فِرَاشَهُ وَهُوَ يَنْوِي أَنْ يَقُومَ فَيُصَلِّيَ مِنَ اللَّيْلِ فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ حَتَّى يُصْبِحَ، ‏‏‏‏‏‏كُتِبَ لَهُ مَا نَوَى وَكَانَ نَوْمُهُ صَدَقَةً عَلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ.»

’’جو شخص سونے کے لیے بستر پر آتا ہے اور اس کی نیت ہوتی ہے کہ وہ رات کو اٹھ کر نماز پڑھے گا ، پھر اس پر صبح تک نیند غالب آ جاتی ہے ، تو اس کے لیے اس کی نیت کے مطابق اجر وثواب لکھا جاتا ہے ( یعنی اس کے لیے قیام اللیل کا اجر و ثوب لکھا جاتا ہے ) اور اس کی نیند اس کے رب کی طرف سے اس پر صدقہ ہے ۔‘‘(سنن ابن ماجہ: 1344)

6۔ مکمل نماز تراویح ادا کرنا

سیدنا ابوذر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ رَمَضَانَ،‏‏‏‏ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا النَّبِيُّ ﷺ حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ مِنَ الشَّهْرِ،‏‏‏‏ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ ثُلُثِ اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ كَانَتْ سَادِسَةٌ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا،‏‏‏‏ فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ،‏‏‏‏ قُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ لَوْ نَفَلْتَنَا قِيَامَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ .

’’ہم نے رمضان میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ روزے رکھے، لیکن رسول اللہ ﷺ ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ رمضان کے مہینہ کی سات راتیں رہ گئیں، تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے ہوئے ( اور پڑھاتے رہے ) یہاں تک کہ تہائی رات کے قریب گزر گئی، پھر چھٹی رات آئی لیکن آپ ہمیں پڑھانے کھڑے نہیں ہوئے، پھر جب پانچویں رات آئی تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے ہوئے ( اور پڑھاتے رہے ) یہاں تک کہ تقریباً آدھی رات گزر گئی، تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ یہ رات پوری پڑھاتے، آپ نے فرمایا: آدمی جب امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام شمار کیا جاتا ہے۔‘‘ ( سنن نسائی : 1369 )

7۔رات کو سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھنا

سیدنا ابومسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

«مَنْ قَرَأَ بِالآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ.»

’’جو شخص رات میں سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھ لے وہ اس کے لیے کافی ہو جائیں گی ۔‘‘ (صحيح بخاری: 4008)

حافظ ابن حجر عسقلانی﷫اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :

کافی ہو جانے سے مراد ہے اسے قیام اللیل میں قرآن پڑھنے سے کافی ہو جائیں گی ۔(فتح الباری : 9؍56)

امام نووی ﷫ فرماتے ہیں :

قِيل : مَعْنَاهُ كَفَتَاهُ مِنْ قِيَام اللَّيْل، وَقِيلَ: مِنْ الشَّيْطَان ، وَقِيلَ: مِنْ الآفَات ، وَيَحْتَمِل مِنْ الْجَمِيع.

’’کہا گیا ہے کہ اسے قیام اللیل سے کافی ہو جائیں گی ، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے شیطان کے مقابلے میں کافی ہو جائیں گی ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے تمام آفات سے کافی ہو جائیں گی ، البتہ ان سب کا احتمال موجود ہے۔‘‘ (شرح النووی :6؍91)

8۔ رات کو ایک سو آیات کی تلاوت کرنا

سیدنا تمیم داری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

«مَنْ قَرَأَ بِمِئَةِ آيَةٍ فِي لَيْلَةٍ كُتِبَ لَهُ قُنُوتُ لَيْلَةٍ.» (سنن دارمی : 3493 )

’’جو شخص رات کو ایک سو آیات پڑھے گا اس کے لیے رات کی عبادت کا اجر وثواب لکھا جائے گا ۔‘‘

9۔ بیواؤں اور مسکینوں کی مدد کرنا

سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«اَلسَّاعِي عَلَى الأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ؛ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللهِ أَوْ الْقَائِمِ اللَّيْلَ الصَّائِمِ النَّهَارَ.»

’’بیواؤں اور مسکینوں کے لیے کوشش کرنے والا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے یا اس شخص کی طرح ہے جو دن میں روزے رکھتا ہے اور رات کو عبادت کرتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 6006)

٭٭٭

شبِ قدر

شاد وخرم نہ ہوں کیوں اہل زمیں آج کی رات

ہے جو مائل بہ کرم عرشِ نشیں آج کی رات

حاملِ دین بنے سرورِ دیں آج کی رات

جن پہ نازل ہوا قرآنِ مبیں آج کی رات

آج کی رات پہ قربان ہزاروں راتیں

صرف اک رات بس اک رات نہیں آج کی رات

بزمِ دنیا میں فرشتوں کی جماعت لے کر

رونق افروز ہیں جبریلؑ امیں آج کی رات

لیلۃ القدر ملی ہے تو غنیمت سمجھو

کیا ہر انسان کو ملتی ہے کہیں آج کی رات

مری شبہہ رگ سے ہے نزدیک مگر اے مولا

آمرے اور قریں اور قریں آج کی رات

پوچھتے کیا ہو شب قدر کی قدر وقیمت

آسماں بن گئی یہ سطح زمیں آج کی رات

خیر وبرکت بھی ہے انوار کی بارش بھی ہے

کتنی پُرکیف ہے اور کتنی حسیں آج کی رات

آج کی رات شب قدر جو کہلاتی ہے

ہر خذف ریزہ ہے ایک درّثمیں آج کی رات

روح کو ملتی ہے بالیدگئ فکر ونظر

تازہ ہو جاتا ہے ایمان ویقیں آج کی رات

بھر گیا گوہرِ مقصود سے دامانِ طلب

شادماں ہو گیا ہر قلب حزیں آج کی رات

آج کی رات ہر اک ذرّہ ہے جو سر بہ سجود

خود بخود جھک گئی میری بھی جبیں آج کی رات

چاند سورج کو ضیاء بخشی ہے جس نے حماد

خانۂ دل میں مکیں ہے وہ حسیں آج کی رات

مولانا ابو البیان حماد عمری

 

تبصرہ کریں