قوموں کی مادی اور اخلاقی ترقی-فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس

پہلا خطبہ

ہر طرح کی حمد وثنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ ہم اللہ کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں، اسی پر بھروسہ اور اعتماد کرتے ہیں اور اسی سے معافی مانگتے ہیں۔ ساری خیر اسی کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ہم اللہ پاک کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں کہ اسی کے ہاتھ میں تمام معاملات کی کنجیاں اور تقدیر کی چابیاں ہیں۔ وہ نگاہوں کی چوری سے بھی واقف ہے اوردلوں کے راز بھی جانتا ہے۔ اللہ کے لیے بے انتہا، پاکیزہ اور ہمیشہ رہنے والی تعریف ہے۔ ساری تعریفیں اسی کے لیے ہیں، اور وہ اکیلا اور یکتا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ یہی وہ گواہی ہے عرض ونشور کے دن ہمیں بچا سکتی ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کے ذریعے لوگوں کو اندھیروں سے روشنیوں کی طرف نکالا ہے۔ اے اللہ! رحمتیں، برکتیں اور سلامتی نازل فرما آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر اور صحابہ کرام پر۔ ان سب پر ہر صبح وشام متجدد ہونے والی سلامتی بھی نازل ہو۔

بعدازاں! اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! عبادتوں کے ذریعے اس کے قرب کے متلاشی بنو، خلوتوں میں بھی اور جلوتوں میں بھی، لفظوں میں بھی اور لمحوں میں بھی، نظروں میں بھی اور خیالات میں بھی۔

﴿وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى﴾ (سورۃ البقرہ: 197)

’’زاد راہ لے لو، یاد رکھو کہ بہترین زاد راہ تقویٰ ہے۔‘‘

فَالْبَسْ شِعَارَ التُّقَى وَالنَّدَمِ

قَبْلَ زَوَالِ الْقَدَمِ

وَاخْضَعْ خُضُوعَ الْمُعْتَرِفْ

وَلُذْ مَلَاذَ الْمُقْتَرِفْ

وَاعْصِ هَوَاكَ وَانْعَطِفْ

عَنْهُ انْعِطَافَ الْمُقْلِعِ

’’موت کی لپیٹ میں آنے سے پہلے تقویٰ اور ندامت کی پوشاک پہن لو۔ اقرار کرنے والے کی سی تواضع اپناؤ، گناہ گار کی سی گریہ زاری کرو۔ اپنی خواہشات کی نافرمانی کرو اور انہیں ہمیشہ کے لیے ترک کر دو۔‘‘

اسلامی بھائیو! دنیا میں برپا ہوتی تبدیلیوں اور اختلافات کے طوفان کے مقابلے میں اٹل ضابطوں کو تقویت پہنچانے اور شرعی اور کائناتی طریقوں کی تکمیل کرنے کے لیے، شکوک وشبہات کی بڑھتی ہوئی لہروں اور خارجی خیالات کا پھیلاؤ، اسلامی اور انسانی اصول واقدار پر سودے بازی کو دیکھتے ہوئے، فکری، امنی اور ترقیاتی چیلنجوں، آفتوں اور بحرانوں کا سامنا کرتے ہوئے، دنیا کی قومیں اور معاشرے ایسی بنیادیں اور اصول قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جن کے ذریعے وہ ترقی اور خوشحالی حاصل کر سکیں، بلندیوں کو گلے لگایا سکیں اور دوسری تہذیبوں کا مقابلہ کر سکیں۔ یہ اصول ومبادی دین اور اقدار کے گرد ہی گھومتے ہیں، کیونکہ وہی فخر اور عزت کا مرکز ہیں، ان ہی کے ذریعے عزم بلند ہوتا ہے، چوٹیوں تک پہنچا جاتا ہے اور قوموں کو عروج نصیب ہوتا ہے۔

ان اصول ومبادی کی بنیاد:

ایمانِ خالص، سکون بھرا امن وامان، شاندار اقدار، واضح اعتدال اور میانہ روی، ضروری علم، اچھی تربیت، پائیدار ترقی، مفید ڈیجیٹلائزیشن، دلوں کو موہ لینے والی انسانیت، اور زندگی کے ہر کام میں معیار کا خیال رکھنے پر ہوتی ہے۔ یہ پوری دس چیزیں ہیں، جو معاشروں میں خوشیاں لانے کی ضامن ہیں، تہذیبوں کو عروج اور بلندیاں دلانے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

ہماری اسلامی تہذیب ایسی دینی اور اخلاقی بنیادوں پر استوار ہے، کہ جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی، کیونکہ ہمارا اسلامی پیغام ایک بین الاقوامی اور مہذب پیغام ہے۔

﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ﴾ (سورۃ الانبیاء: 107)

’’اے محمد(ﷺ)، ہم نے جو تم کو بھیجا ہے تو یہ دراصل دنیا والوں کے حق میں ہماری رحمت ہے۔‘‘

اس کی خوبصورت خصوصیات میں سے ایک واضح خاصیت یہ ہے کہ اس نے تمام آسمانی شریعتوں کے جوہر اپنے اندر سمو لیے ہیں، یہ الٰہی پیغامات کا خلاصہ ہے۔ اسلام انسان کی طرف ایک جامع، دقیق اور متوازن نگاہ سے دیکھتا ہے، جس کی بدولت انسان کے معاملات درست ہو جاتے ہیں، اس کے حقوق کی تکمیل ہوتی ہے اور اس کے وقار پر حرف نہیں آتا، اس معاملے میں کوئی سودے بازی یا سمجھوتہ نہیں ہوتا، چاہے حالات بدل جائیں یا زمانے گزر جائیں۔

اے مؤمنو! جب انسانی فہم اسلام اور اس کے احکام وحکیمانہ اسرار، اور ان میں کارفرمان انسانی فوائد ومنافع کے بلند مداروں تک رسائی حاصل کر لیتی ہے، تو اسے یہ سمجھنے میں دقت نہیں ہوتی کہ اس نے دین اور اقدار کو اپنا ستون بنایا ہے۔ تو ایمان، عقیدہ اور توحید زندگی کی وہ بنیادیں ہیں، جو نفس کو عزت وشرف اور پاکیزگی کی بلندیوں تک پہنچاتے ہیں، اسے بت پرستی، شرک اور بدبختی کے وبال سے محفوظ کرتے ہیں، بالخصوص جب الحاد کی لہریں پھیل رہی ہوں، ذاتِ الٰہی کو اور آسمانی پیغامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہو، توہم پرستی اور خرافات کا دور دورہ ہو، مہینوں اور زائچوں سے بدفالی عام ہو۔

﴿أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ﴾ (سورة الزمر: 3)

’’خبردار، دین خالص اللہ کا حق ہے۔‘‘

ذہن نشن کر لو کہ بندوں کا اولین فرض اللہ کی توحید ہے۔ امام ابن قيم ﷫ فرماتے ہیں:

“وما أنعَم اللهُ على عباده نعمةً هي أعظمُ من نعمةِ التوحيدِ، فبه أُرسلتِ الرسلُ، وأُنزلتِ الكتبُ، وقامَتْ سوقُ الجنةِ والنارِ.”

’’اللہ نے اپنے بندوں کو توحید سے بڑی کوئی نعمت نہیں عطا کی، اسی کے لیے رسول بھیجے گئے، کتابیں نازل ہوئیں اور جنت وجہنم کی بنیادیں بنیں۔‘‘

فَلِوَاحِدٍ كُنْ وَاحِدًا فِي وَاحِدٍ

أَعْنِي سَبِيلَ الْحَقِّ وَالْإِيمَانِ

’’تو ایک ہی الٰہ کے لیے، ایک ہی، یعنی حق وایمان کے، راستے پر چلنے والوں میں ایک بن جاؤ۔‘‘

اسلام ہی نے اخلاق واقدار کو فروغ دیا، پھر مختلف تہذیبوں کو بنانے والے اور دنیا کے سمجھدار لوگ اسی میٹھے چشمے سے سیراب ہوتے گئے اور اسی پاکیزہ اور بہتی ندی سے فیض حاصل کرتے گئے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّمَا بُعِثتُ لأتممَ صالحَ الأخلاقِ» (أخرجه الإمام أحمد في المسند، والبخاري في الأدب المفرد)

’’مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔‘‘

تو اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اسلامی اقدار روح کے زینے ہیں، جو متوازن اور بلند شخصیت کی تعمیر کرتے ہیں۔ اچھے اخلاق کی بدولت ہی آج تک کی سلطنتیں قائم رہیں اور برے اخلاق کی وجہ سے ہی بہت سے ممالک کو شکست ہوئی۔

إِنِّي لَتُبْهِجُنِي الْخِلَالُ كَرِيمَةً

بَهَجَ الْغَرِيبِ بِأَوْبَةٍ وَتَلَاقِ

وَيَهُزُّنِي ذِكْرُ الْمَرُوءَةِ وَالنَّدَى

بَيْنَ الشَّمَائِلِ هِزَّةَ الْمُشْتَاقِ

فَإِذَا رُزِقْتَ خَلِيقَةً مَحْمُودَةً

فَقَدِ اصْطَفَاكَ مُقَسِّمُ الْأَرْزَاقِ

’’اچھے اخلاق سے مجھے خوشی ہوتی ہے، گویا کہ کوئی مسافر لوٹ آیا ہو اور اپنے گھر والوں سے مل رہا ہو۔ مروت اور سخاوت کا نام سن کر مجھے ایسی مسرت ہوتی ہے، جیسے دور رہنے والے کسی اپنے کا نام لیا گیا ہو۔ اگر آپ کو تعریف کے لائق اخلاق ملے ہیں، تو جان لیجیے کہ رزق تقسیم کرنے والے نے آپ پر بڑی مہربانیاں کی ہیں۔‘‘

اس طرح سچائی اور امانت داری کو بلندی ملتی ہے، نرمی، عزت، بہادری اور آسانی، والدین کی فرمان برداری، صلہ رحمی، بہن بھائیوں کے حقوق کی ادائیگی، یتیم کی دیکھ بھال، خیراتی اور رضاکارانہ امدادی کاموں اور انسانی خدمت کو فروغ ملتا ہے۔ تشدد اور بدسلوکی، نافرمانی اور حقوق کی عدم ادائیگی سے بچنا ممکن ہوتا ہے۔

اے مؤمنو! پھر ان میں سر تاج کی حیثیت مستحکم امن وامان، استحکام اور اطمینان کی ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے عظیم نعمتوں میں شمار کیا ہے۔ فرمایا:

﴿الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ﴾ (سورۃ القریش: 4)

’’جس نے اُنہیں بھوک سے بچا کر کھانے کو دیا اور خوف سے بچا کر امن عطا کیا۔‘‘

وَمَا الدِّينُ إِلَّا أَنْ تُقَامَ شِعَائِرٌ

وَتُؤْمَنُ سُبْلٌ بَيْنَنَا وَشِعَابُ

’’دین نام ہی اس چیز کا ہے کہ اسلامی شعائر قائم ہوں اور راستے محفوظ ہوں۔‘‘

اسی طرح فکری اور کردار کی خرابیوں کے پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے فکری امن وامان کی فراہمی بھی انتہائی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سرزمین حرمین کو امن وسلامتی کی نعمت سے نوازا ہے۔ تو اے اللہ کے بندو! ہم اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں، کیونکہ ہم ارد گردکے مختلف ملکوں کے لوگوں کو خوف اور انتشار میں مبتلا دیکھتے ہیں، جبکہ ہم اس مبارک ملک میں ہیں، اللہ اس کی حفاظت فرمائے، امن وامان، ایمان، استحکام سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، اپنے دین اور اپنی اقدار پر فخر کرتے ہیں، اللہ کی اس مہربانی پر ہم اس کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں۔

یہاں اس بات پر زور دینا مناسب ہے کہ قومی وابستگی صرف ایک جذبے اور عمل سے خالی احساس کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک جذبے کے ساتھ ساتھ احساسِ ذمہ داری بھی ہے، فرائض کی ادائیگی بھی ہے، کیونکہ حقیقی شہریت یہ ہے کہ تمام اہلِ وطن اپنی زندگی، اپنے انجام اور تمام چیلنجز میں، صلاحیتوں، کمائیوں اور کامیابیوں میں اور حقوق وواجبات کی ادائیگی میں برابر کے شریک ہو جائیں۔ اس کے لیے مستقبل کا وزن طے کریں، اسٹریٹجک منصوبہ بندی کریں، ثقافتی سرمایہ کاری کریں، میڈیا اور ڈیجیٹلائزیشن کریں، مثبت اور فعال کام کریں۔ مفید شراکت کو فروغ دیں، جو ٹیکنالوجی ڈیجیٹلائیزیشن اور مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری پر اکساتی ہے، تاکہ تکنیکی عروج کے دور کے تقاضوں کو دیرپا ترقی کے ذریعے اور دنیا کی سائنسی وبین الاقوامی ترقی کے ساتھ چلتے ہوئے پورا کیا جا سکے، مگر اپنے اصول ومبادی کو برقرار رکھتے ہوئے، چھوٹے اور فروعی مسائل میں وسعت اختیار کرتے ہوئے۔

حب الوطنی کے ثمرات میں وحدت، اتحاد واتفاق، اجتماعیت، حکمران کی فرمان برداری، میانہ روی اور اعتدال پسندی شامل ہے، جس کے بعد کوئی مبالغہ آرائی رہتی ہے نہ انتہا پسندی، نہ کوتاہی اور نہ بے دینی، بلکہ اتحاد واتفاق کی ایسی مستحکم فضا قائم ہوتی ہے جو تمام اختلافات، جھگڑوں اور تقسیموں سے بالاتر ہو ہوتی ہے، جس نہ بہتان تراشی ہوتی ہے، نہ درجہ بندی، اور نہ اختلافات۔

﴿وَإِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ﴾ (سورة المؤمنون: 52)

’’اور یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس مجھی سے تم ڈرو۔‘‘

اے مسلمانو! اعلیٰ اقدار کے مظاہر میں مخالِف اور دشمن کے ساتھ عدل و انصاف شامل ہے۔

﴿وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى﴾ (سورۃ المائدہ: 8)

’’کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔‘‘

اسلام مخالفین پر ظلم وستم یا ان کی حق تلفی یا زبردستی ان کے عقائد کی تبدیلی کی بنیاد پر قائم نہیں ہوا۔

﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ (سورۃ البقرہ: 256)

’’دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔‘‘

اسلام نے ناجائز طور پر لوگوں کی جانوں، عزتوں اور اموال پر حملے نہیں کیے، بلکہ اس نے آزادی کی ضمانت دی ہے، مگر حدود میں رہتے ہوئے اور بے لگامی سے بچاتے ہوئے، کیونکہ آزادی دینی اور اخلاقی، معاشرتی اور قانونی اقدار پر مبنی ہونی چاہیے، اس میں رواداری، بقائے باہمی، مکالمے اور امن کی ایسی خصوصیات پائی جاتی ہیں جس کی مثال ہمیں دیکھنے کو نہیں ملتی۔

اے امت اسلام! اگر اس دور کی بات کی جائے، تو یہ وہ دور ہے جس میں بنی نوع انسان فکری، تہذیبی اور تکنیکی عروج کو پہنچ چکا ہے، مگر یہی وہ دور بھی ہے جسے ایسے علم و معرفت کی سخت ضرورت ہے جس میں آگہی اور تربیت بھی ہو۔ امید ہے کہ ہمارے بیٹے اور بیٹیاں جو نئے تعلیمی سال کا آغاز کر رہے ہیں، وہ ان باتوں کو سمجھ جائیں گے کہ جہالت اور ناخواندگی کے خاتمے کے لیے تعلیمی اور تربیتی نظام کو ترقی دینے میں خاندان اور اسکول کے درمیان عمدہ تعلق انتہائی ضروری ہے، تاکہ اخلاقی چیلنجوں کا مقابلہ ہو سکے، خاص طور پر سوشل میڈیا پر پھیلنے والی بد اخلاقیوں کا، جو ہر رطب ویابس پیش کرتے ہیں اور جنہیں اسٹار کے لقب سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو قانون کے دائرے میں لانا ضروری ہے۔

اے مسلمانو! تمام تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، دینِ اسلام کاموں کی احسن انداز میں تکمیل اور معیار کا مطالبہ کرتا ہے، پھر عمدگی، جدت اور تخلیقی صلاحیت کو بھی فروغ دیتا ہے۔ تو اس اعزاز سے بہتر بھی کوئی فخر و اعزاز ہو سکتا ہے!! معیار کے اصولوں اور انسانیت کے عالمگیر قوانین پر غور کرنے والا یہ جان لیتا ہے کہ اسلامی شریعت نے ان تمام قوانین کو رائج کرنے میں سبقت حاصل کی ہے، جو کہ اصل میں دینی بنیادوں اور اسلامی قوانین کا حصہ ہیں۔ اسے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ اسلام نے ان پر زور دیا اور انہیں راسخ کرنے کی کوشش کی ہے، کیونکہ کام سے محبت کرنا، اس کو پوری طرح مہارت اور اخلاص کے ساتھ سرانجام دینا اور اس میں اللہ کو یاد رکھنا، ایسے اصول ہیں جن کی اسلام نے ترغیب دلائی ہے اور ان پر عمل کرنے والے کے ساتھ اجر عظیم اور وثواب جزیل کا وعدہ کیا ہے۔ تو معیار کا خیال رکھنے اور انسانیت کے قوانین کا پاس رکھنے کا مفہوم دین کی تمام تعلیمات میں موجود ہے، بلکہ یہ عظیم اسلامی اقدار کی وہ شکل ہے، جو تمام دینی اور دنیاوی کاموں میں موجود ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا﴾ (سورۃ الملک: 2)

’’جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔‘‘

اسی طرح فرمانِ نبویﷺ ہے:

«نَّ اللهَ يُحِبّ إِذَا عَمِلَ أحدُكم عَمَلًا أَنْ يُتقِنَه» (أخرجه البيهقي في شُعَب الإيمان)

’’اللہ کو یہ پسند ہے کہ جب تم کوئی کام کرو تو خوب مہارت سے کرو۔‘‘

اس طرح امت میں توانا معاشرے، بڑھتی ترقی اور دور اندیش قومیں پیدا ہوتی ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کا روشن چہرہ دنیا کے لیے عیاں ہوتا ہے۔ اور یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔

اللہ مجھے اور آپ کو قرآن وحدیث سے مستفید فرمائے، سردارِ دو جہاں کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے، میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اللہ عظیم وجلیل سے اپنے لیے ، آپ کے لیے اور مسلمان مردوں اور عورتوں کے لیے ہر گناہ اور غلطی کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو اور اسی کی طرف رجوع کرو۔ اے اللہ! تو ہمارا مولیٰ ہے، تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہی معاف کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔

دوسرا خطبہ

ہر طرح کی حمد وثنا اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے! اس نے ہمیں بڑی نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ اپنے جلال وعظمت میں بہت پاکیزہ ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ پیغام الٰہی اور مقامِ محمود کے لیے چنیدہ ہیں۔ اے اللہ! ہمارے پیارے نبی، ہمارے لیے اسوۂ حسنہ، محمد بن عبداللہ پر رحمتیں نازل فرما۔ آپ ﷺ کی آل پر، صحابہ کرام پر، جو آپ ﷺ کی سنت پر عمل کرنے والے اور اس پر قائم رہنے والے ہیں۔ تابعین پر اور استقامت کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر بھی رحمتیں اور سلامتیاں نازل فرما، جب تک سورج اور چاند پے در پے آ رہے ہیں اور اپنے مداروں میں جاری ہیں۔

بعدازاں! اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! اپنے رب سے ڈرو اور اس کی اطاعت کرو، اسے یاد رکھو اور اس کی نافرمانی سے بچو۔ یاد رکھو کہ سب سے سچا کلام اللہ کی کتاب ہے، بہترین طریقہ نبی اکرم ﷺ کا طریقہ ہے۔ ایجاد کردہ عبادتیں بد ترین کام ہیں۔ اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ مسلمان جماعت کے ساتھ جڑے رہو۔ کیونکہ اللہ کے ہاتھ جماعت کے ساتھ ہے جو جماعت سے لگ ہوتا ہے، وہ جہنم میں گر جاتا ہے۔

اسلامی بھائیو! اسلامی معاشرے کو دوسروں سے ممتاز کرنے والی چیز یہ ہے کہ اس کے لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ سب ایک دوسرے کو سچ بولنے اور اس پر قائم رہنے کی نصیحت کرتے ہیں۔ سب نیکی اور تقویٰ کے کاموں مین تعاون کرتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

«كُلُّكُمْ راعٍ وكُلُّكُمْ مسؤولٌ عن رعيَّته» (مُتَّفَق عليه)

’’تم سب ذمہ دار ہو اور ہر ایک سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا۔‘‘

ہماری روشن شریعت عزلت پسندی اور رہبانیت کو نہیں جانتی، سختی اور جمود کو نہیں پہچانتی، مگر تبدیلیوں اور جدت کے ساتھ ساتھ ترقی کرنے، تجدید اپنانے اور لچک اختیار کرنے کو خوب جانتی ہے، ساتھ ساتھ اصولوں اور طے شدہ چیزوں کو برقرار رکھتی ہے۔

یہ ہمارا دینی، اخلاقی اور قومی فریضہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک، بالخصوص قائدین، علمائے کرام، اہل فکر، اہلِ رائے، میڈیا کے لوگ، معاشرے کے معروف لوگ، رہنما، نوجوان بچے اور بچیاں، اور عورتیں، مل کر دین اور وطن کی حرمت کو پامال کرنے والوں کے مقابلے میں متحد ہو جائیں، بدنیتی پر مبنی افواہوں جعلی خبروں، مشکوک ایجنڈوں، منحرف گروہوں، گمراہ جماعتوں اور بدمعاش دہشت گرد تنظیموں کا مقابلہ کریں، جو الجھنوں اور جھگڑوں، افراتفری اور بدنظمی، مذہبی اور قومی غداری کو ہوا دینے کی پوری کوشش کرتے ہیں، تاکہ ہم سب کو امن اور استحکام نصیب ہو، دینی اتحاد کو برقرار رکھیں، قومی ہم آہنگی کو بچائیں، دیانتداری اور شفافیت کو فروغ دیں، ہر قسم کی بدعنوانی کا مقابلہ کریں، عوامی املاک کا تحفظ کریں، ان پر حملے نہ کریں اور عوامی سہولیات اور املاک کی بھی حفاظت کریں، جرائم اور ان کے مرتکبین کی رپورٹنگ کرائیں، بین الاقوامی جرائم کی روک تھام کریں اور ان کے پیچھے کارفرما منظم نظریات کا خاتمہ کریں؛ تاکہ معاشروں کو ان کے مضر اثرات سے پاک رکھا جا سکے۔ اسی طرح منشیات اور سائیکو ٹراپک مادوں کا مقابلہ کریں۔ ہم اپنے ملک ونوجوانان کو منشیات سے بچانے کے لیے کام کرنے والے لوگوں کی قدر کرتے ہیں، جو بد ترین زہر اور تباہ کن جرائم کی لعنت سے لوگوں کو بچانے کے لیے کوشاں ہیں، جو ملک اور عوام کو جنگوں، بحرانوں اور آفات کی لعنت سے محفوظ کرنے کے لیے محنت کر رہے ہیں، جو مصیبتوں، غربت، وبائی امراض اور حادثات کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہیں۔ اس کے لیے اچھی تربیت کر رہے ہیں، تاکہ نوجوان وہ بنیادی باتیں سیکھ لیں جو انہیں مصیبتوں سے محفوظ کر سکتی ہیں۔ اس حوالے سے ہمیں تاریخ سے بھی سبق لینا چاہیے، قبل اس کے کہ ہم پر بھی آنسو بھانے کی نوبت آ جائے۔

تو اے مسلمان بھائی! اپنے نفس سے مخاطب ہو، اسے کسی سکون کے لمحے میں کہنا:

وَيْحَكِ يَا نَفْسُ احْرِصِي

عَلَى ارْتِيَادِ الْمَخْلَصِ

وَطَاوِعِي وَأَخْلِصِي

وَاسْتَمِعِي النُّصْحَ وَعِي

وَاعْتَبِرِي بِمَنْ مَضَى

مِنَ الْقُرُونِ وَانْقَضَى

وَاخْشَيْ مُفَاجَاةَ الْقَضَا

وَحَاذِرِي أَنْ تُخْدَعِي

’’اے نفس! تیرا بھلا ہو! جان بچانے والی چیزوں کے لیے کوشاں رہو، فرمانبرداری کرو، مخلص بنو، نصیحت کو سنو اور سمجھو۔ گزری قوموں سے عبرت پکڑو، اچانک نازل ہونے والی تقدیر سے ڈرو، فریب کا شکار ہونے سے ہوشیار رہو۔‘‘

اللہ سے دعا ہے کہ وہ احوال کی اصلا ح فرمائے، امیدیں پوری فرمائے، دنیا میں بھی اور عاقبت میں بھی۔ یقینًا! جن سے مانگا جاتا ہے، ان میں وہ سب سے بہتر ہے، جن سے امیدیں لگائی جاتی ہیں، ان میں وہ سب سے کریم ہے، وہ بہت سخی اور کریم ہے۔

اللہ آپ پر رحم فرمائے! درود وسلام بھیجو اس ہستی پر جو دونوں جہانوں میں بڑے مقام ومرتبہ والے ہیں، جن کے گھر والے اور صحابہ افضل ترین لوگ ہیں۔ ایسا درود وسلام جو مشک کی خوشبو سے لدا ہو، بالکل ویسے جیسے کے مولیٰ عزیز وحمید نے حکم دیا ہے، وہ اپنی کتابِ مجید میں فرماتا ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ (سورۃ الاحزاب: 56)

’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘

فصلَّى اللهُ والأملاكُ جمعًا

على داعي البرية للرشادِ

وآلٍ صالحينَ لهم ثناءٌ

بنورِ القلبِ سطَّرَهم مدادي

’’اللہ اور اس کے فرشتے اس ہستی پر درود بھیجتے ہیں جو تمام انسانوں کی رہنمائی کرتے تھے، آپ ﷺ کے اہل بیت بھی قابل تعریف ہیں جن کا ذکر میرے دل پر نقش ہے۔‘‘

﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ (سورة البقره: 201)

﴿سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ * وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ * وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ (سورۃ الصافات: 180۔182)

٭٭٭

تبصرہ کریں