قطر کی جیت۔ مولانامحمد عبد الہادی عمری مدنی

تندی باد مخالف سے نہ گھبرا ائے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

20؍ نومبر 2022ء اتوار کا دن تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ان شاء اللہ

اس دن دنیا کی نظریں ریاست قطر پر لگی ہوئی تھیں، خاص طور پر مغربی ممالک کے عوام ،دانشور اور میڈیا کی،ہر ایک چاہتا تھا کہ انہونی انہونی ہی رہے ،ہونی میں تبدیل نہ ہوجائے ،لیکن قطری حکومت نے ا س انہونی کو واقعہ بنانے کا فیصلہ کررکھا تھا ،اس دن مختلف ایشوز میں بڑے بڑے پنڈتوں کو المناک اور ذلت آمیز رسوائی اور شکست سے دو چار ہونا پڑا۔ فیفا کی جانب سے ورلڈکپ فٹبال ٹورنمنٹ کا وقت مقررہ پر ریفری نے سیٹی بجاکر پہلے میچ کا باقاعدہ آغاز کر دیا، ریفری کی سیٹی اگر چیکہ بظاہر دوٹیموں کے درمیان میچ شروع کرنے کی علامت تھی لیکن درحقیقت یہ قطر کی کامیابی اور فتح کی سیٹی تھی ،اس سیٹی کے ساتھ ہی قطر کی تاریخ فتح کا اعلان ہوگیا اور مخالف پنڈتوں کی پیشین گوئیاں ناکام ہوگئیں ،مغربی میڈیا کا زہر یلا پروپیگنڈہ ملیامیٹ ہوگیا حتی کہ بی بی سی سمیت مختلف عالمی چینلز نے افتتاحی تقریب کا بائیکاٹ کر رکھا تھا جسے دکھانے کے لیے ہمیشہ بڑے جتن کئے جاتے تھے،کیونکہ ان کی توقعات سے کہیں بڑھ کر قطر کو کامیابی مل رہی تھی ،ان کی خواہشات کے برعکس یہاں کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا جسے بریکنگ نیوز کے طور پر وہ دکھانا چاہتے تھے ،اس سے یہ حقیقت بھی آشکار ہوگئی کہ میڈیا کتنا آزاد اور کتنا متعصب ہے ریفری کی سیٹی بجتے ہی معاندین کی رال ٹپکنے لگی اور قطر کی کامیابی کا پرچم لہرانے لگا ، اس سیٹی کے ساتھ ہی مخالفین کی نظریں جھک گئیں اور خیر خواہوں کی نگاہوں میں فتح وکامرانی کی چمک دکھائی دینے لگی ،ریفری نے سیٹی بجائی اور بعض میڈیا کی اینکرز کے گلے خشک ہوگئے ان کی آواز حلق ہی میں اٹک کر رہ گئی کیونکہ انہوں نے تیاری کررکھی تھی کسی حادثہ یا ناکامی کی خبر دینے کے لیے لیکن یہاں توزائرین اور شائقین کی امیدوں سے زیادہ کامیابی دکھائی دے رہی تھی ،اگر چیکہ اس پہلے میچ میں قطری فٹبال ٹیم کو شکست ہوئی جوکہ کسی بھی میچ کا حصہ ہے ٹیم کی یہ شکست ہمارے لیے اہمیت نہیں رکھتی اور نہ ہی فٹبال ہماری دلچسپی کا موضوع ہے۔ ہم ذاتی طور پر کھیل کو صرف کھیل ورزش اور تفریح طبع کی حد تک ہی رکھنے کے قائل ہیں کیونکہ چیزیں جائز حدود میں رہیں ان کا فائدہ ہی فائدہ ہے کوئی بھی چیز حدود سے تجاوز کر جائے تو اس کے منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہوجاتے ہیں ، تاہم اس میچ کی اہمیت اس حیثیت سے بھی زیادہ ہے کہ اکثر مغربی ممالک ان کا آزاد میڈیا اور بعض مشرقی بہی خواہوں نے ان مقابلوں کے خلاف سخت اشتعال انگیز اور منفی پروپیگنڈہ شروع کررکھا تھا ،بارہ سال قبل جس وقت یہ اعلان کیا گیا 2022ء کا ٹورنامنٹ قطر میں ہوگا ،اس وقت سے قطر، اسلامہ، مسلمان ،عرب کلچر کے خلاف توپوں کے دھانے کھول دئیے گئے تھے ،اور جوں جوں تاریخ قریب آرہی تھی اس پروپیگنڈہ میں تیزی آتی گئی۔قطر میں ہونے والے انسانی مظالم، اظہار رائے پر پابندی اسلامی تعلیمات جیسے عنوان سے مشق ستم بنے رہے ،ایک طرف تاریخ قریب آرہی تھی دوسری طرف تندی مخالف شدید ترہورہی تھی حتی کہ اندیشہ ہوچلا تھا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ مخالفتوں کے طوفان اور تلاطم خیز موجوں سے قطر اپنی کشتی پار لگاسکے گا ، لیکن قطری حکومت کے آہنی عزم نے مغربی فولادی پروپیگنڈہ کو پگھلا کر رکھ دیا ٹورنامنٹ کی میزبانی کا قرعہ جب قطر کے نام نکلا اس وقت ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ دوحہ قدیم طرز کا ایک مختصر سا شہر ہے ،وہاں عالمی مقابلہ کا انعقاد کیسے ممکن ہوسکتا ہے ۔ لیکن اس قلیل عرصہ میں تجزبہ نگاروں کی توقعات کے برخلاف دوحہ کو دولہن کی طرح حمل ونقل وغیرہ وغیرہ جیسے بڑے پروجیکٹ 10 سال کے قلیل عرصہ میں مکمل کرلیے گئے اور دوحہ کو ترقی یافتہ شہروں کی فہرست میں لاکھڑا کردیا گیا تو اعتراضات کا رخ قدرے موڑ کر کہا جانے لگا کہ یہ دولت کا ضیاع ہے اتنی دولت اس پر کیوں خرچ کی گئی ، لیکن قطری حکومت نے یہ دولت صرف میچ کی تیاری یا اسٹیڈیم کی تعمیر پر نہیں خرچ کی بلکہ شہر کو ماڈرن ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے خرچ کی جس کی افادیت تا دیر برقرار رہے گی ۔تاہم اگر کہیں کوئی شخص ،قوم یا ملک اسراف اور فضول خرچی کرے تو وہ غلط ہے کیونکہ ہمیں اسراف کی اجازت نہیں دی گئی چاہے وہ شخصی اور انفرادی زندگیوں میں ہو یا ملکی اور اجتماعی امور میں ،پھر یہاں حقوق انسانی کی تنظیمیں میدان میں کود پڑیں کہ قلیل عرصہ میں بڑے پروجیکٹ مکمل کرنے کے لیے مزدوروں کو خوب تھکایا گیا اور بعض تو جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ،بلاشبہ کسی ایک انسان پر ہونے والا ظلم انتہائی تکلیف دہ ہے اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا لیکن حقوق انسان کی یہ باتیں ان کے منہ سے عجیب لگتی ہیں جن کے ممالک میں فلسطین میں ہونے والے مظالم کا ذکر بھی معیوب قرار دیا جاتا ہے بلکہ قابل مواخذہ جرم ہے ،جو ہر ماہ میں ہونے والی خونچکاں داستاں سننے اور دیکھنے کے باوجود چپ سادھے رہے۔عراق،شام اور افغانستان کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا وہاں سب کی اپنی اپنی مصلحتیں سامنے آتی ہیں،کبھی عرب کلچر خصوصاً اسلامی اقدار کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ،لیکن اس مسئلہ میں قطری حکومت کی جرأت اور حوصلہ کو سلام پیش کرنا چاہئے،انہوں نے مخالفتوں کی آندھیوں میں اسلام کا چراغ جلائے رکھا۔ معذرت خواہانہ اسلوب نہیں بلکہ خم ٹھونک کر میدان میں اترآئے اورمخالفین کو للکارا کہ ہم اٹھائیس روزہ میچس کے لیے اپنے عقائد ،نظریات اور تہذیب سے سمجھوتہ نہیں کرسکتے،دنیا سن لے کہ ہم مسلمان ہیں ہماری اپنی تہذیب اور شناخت ہے، میچز کے دوران بھی عوامی جگہوں پر شراب نوشی اور جنسی بے راہ روی کی اجازت نہیں دی جاسکتی ،ہم جنس پرستی کو نہ صرف ہم بلکہ تمام مذاہب عالم غلط سمجھتے ہیں ۔’’ہم گے اور لیزبین‘‘ کلچر کی علامت لوگو کی نمائش کی بھی اجازت نہیں دے سکتے ،کسی ٹیم یا کھلاڑی کو اجازت نہیں ہوگی کہ وہ اپنے لباس پر ہم جنس پرستی کا لوگو لگاکر میدان میں اترے، جرمنی کے کھلاڑیوں نے اس پر خوب واویلا کیا لیکن منتظمین اپنے اصولوں پر جمے رہے،گویا یہ جراتمندانہ اعلان تھا کہ تم ہماری دولت کے محتاج ہو ہم تمہارے کلچر کے ضرورتمند نہیں ،افتتاحی پروگرام سے دو روز قبل فیفا کے چیرمین مسٹر جیانی انفینٹو نے عالمی پریس کانفرنس میں جن خیالات کا اظہار کیا وہ ناقدین کے منہ پر زنائے دار طمانچہ سے کم نہیں ،ہم ان کی ہی گفتگو کا خلاصہ پیش کرنا کافی سمجھتے ہیں کیونکہ جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے گواہی وہ جو ان ہی کے منھ سے نکلے، انہوں نے قطر کو حقوق انسانی اور اخلاقی درس دینے والے یورپی باشندے اگر چیکہ میں خود بھی پورپین ہوں وہ دنیا کے مختلف لوگوں کے ساتھ گزشتہ 3 ہزار سال سے جو کچھ کرتے چلے آئے اور آرہے ہیں انہیں آئندہ 3 ہزار سال تک معذرت کرنی چاہئے،پھر زیب دیتا ہے کہ دوسروں کو اخلاقیات کا درس دیں۔ ورنہ یہ منافقت ہوگی ،مزدوروں کے حقوق جو یورپ میں اور وہاں ان کی جو حالت ہے ،قطر میں حالات اس سے زیادہ مختلف نہیں قطر ٹورنامنٹ کے لیے ہر طرح تیار ہے بلکہ شائقین کی میزبانی پچھلے میچیس کے مقابلہ میں بہتر ہوگی۔

افتتاحی پروگرام میں امیر قطر ،ان کے والد گرامی،سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ،ترکی صدر طیب اردگان وغیرہ وغیرہ کو ایک صف میں بیٹھا دیکھ کر ناقدین کو کئی جوابات سے مل گئے ہوں گے اور ان ریسرچ اسکالروں کو بھی جو شخصی، ملکی اور سرحدی اختلافات کو مسلک ،فقہ اور عقائد کے ابواب میں تلاش کیا کرتے ہیں ،اور جواز یا عدم جواز کا فتوی صادر کرنے میں عجلت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہیں ،شاہ سے بڑھ کر شاہ کی وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے اس کو حق وباطل کا رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں ،اس میں سب کے لیے سبق ہے کہ ان بڑوں کے درمیان اختلافات کی بنیاد عموماً عقائد ،دینی اصول اور عبادات کے مسائل نہیں بلکہ سیاسی اور شخصی مصلحتیں ہوتی ہیں،اسی لیے باہمی رنجش ہوتے ہی ایک دوسرے کے پاسپورٹ سے تک نفرت دکھائی دینے لگتی ہے پھر مصالحت ہوتے ہی اسی رنگ کے پاسپورٹ کے حاملین کو سرحد پر کھڑے پھول پیش کرتے دکھائی دیں گے ،حالانکہ کسی عقائد اور اعمال میں تبدیلی نہیں ہوتی، لہٰذا ان بڑوں کے جھگڑوں میں کود پڑنے اور تفسیر واحادیث کی کتابیں کھنگالنے والوں سے گزارش ہوگی کہ اب ان سب کو ایک ہی صف میں بیٹھے دیکھ کر کون کونسی کتابوں کی ورق گردانی کیجئے گا ،ہمیں چیزوں کو دیکھنے اور سمجھنے کے زاویہ نظر کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔

اسلامی اصول اتنے ٹھوس ہیں کہ وہ کسی شخصی یا ملک کے گردنہیں گھومتے ،ہماری دین پسندی شخصیات یا ممالک کے گرد گھومتی نہ دکھائی دے،جہاں سے بھی کوئی خیر ملے اسے قبول کریں اور جہاں شر ہو اس سے اجتناب کریں، اس وقت کوئی ملک یا شخص ہمارے لیے اسوہ کامل نہیں ،ہمارے پیش نظر ’’خذ ماصفا ودع ماکدر‘‘ کا اصول اور فارمولہ ہونا چاہئے۔

پروگرام کی افتتاحی نشست جسے براہ راست دیکھنے کے لیے نئے تعمیر شدہ اسٹیڈیم میں تقریباً 60 ہزار سے زیادہ شائقین جمع تھے اور میڈیا کے دوش پر شامل ہونے والے دنیا بھر میں کروڑوں لوگ مشتاق تھے، منتظمین نے اس تقریب کو نہ صرف یادگار بلکہ معنی خیز بنانے کے لیے جو پروگرام مرتب کیا تھا اس کی نظیر ابھی تک کسی عالمی میچ میں نہ دیکھنے میں آئی اور نہ ہی سننے میں ،ناقدین اور مویدین سب تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ایک منفرد نوعیت کا پروگرام تھا ،دنیائے فلم ہالی ووڈ کے بادشاہ مورگین فری مین کو جن کا نام ہی پروگرام کی کامیابی کی ضمانت اور شائقین کی دلچسپی کی علامت سمجھا جاتا ہے ،جن کی ہاٹ دار قدرتی آواز کی نقالی کو لوگ باعث اعزاز سمجھتے ہیں اسٹیج پر اس طرح نمودار ہوئے کہ ایک معذوراور ناتواں نوجوان کے سامنے فرش پر بیٹھ کر دریافت کرنے لگے کہ دنیا کے مختلف انسانی رنگ وبو ،خاندان اور زبانوں کے اختلافات کے باوجود باہمی پیار ومحبت کے ساتھ کیسے زندگی بسر کرسکتے ہیں ،اس چبھتے ہوئے نازک سوال کا معذور اور ناتواں قطری نوجوان غانم المفاتح جو پیدائشی معذور ہے اس کے جسم کا نچلا دھڑا نہیں ہے اس نے مسکراتے ہوئے قرآن مجید کی ایک آیت سے جواب دیا سورۂ حجرات آیت13 ﴿ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ﴾ اس آیت کے مقابلہ میں بڑے بڑے لیکچرز اور تحقیقاتی اداروں کی ریسرچ نظر آئے گی ،جواب سن کر ایک بڑا نامور شخص اپنا ہاتھ اخوت انسانی سے سرشار کمزور کے ہاتھ میں دینے پر محبور ہوگیا ،اس مکالمہ کو عالمی انگریزی میں جب کروڑوں لوگوں نے دیکھا اور سنا انہیں اپنی مشکلات اور پریشانیوں کا موثر حل قرآن مجید کی اس ایک آیت میں دکھائی دینے لگا ، اگر کتاب ہدایت کی ایک آیت اتنی اثرانگیز ،ٹھوس اور فطرت کے عین مطابق ہے تو ساری کتاب کتنی موثر ہوگی۔ نہیں معلوم یہ ایک آیت کتنوں کی ہدایت کا ذریعہ بنے گی،پروگرام کے آغاز میں اس ایک آیت کو اتنے مؤثر تمثیلی اسلوب میں پیش کیا گیا کہ دنیا کے ایک ایسے شخص کو جو شہرت ،دولت اور عزت کی چوٹی پر ہے اس آیت قرآنی کی صداقت کو تسلیم کرتے ہوئے کچھ یوں دکھایا گیا کہ مختلف اخباروں نے یہاں تک سرخی لگادی کہ شاید فری مین نے اسلام قبول کرلیا ہے ، اس نے اسلام قبول کیا یا نہیں لیکن آیت قرآنی کی حقانیت کے سامنے سر تسلیم خم تو کر دیا۔

اس تاریخی تقریب کو تعارف اسلامی کا ذریعہ بنانے کی بھی سعی مشکور کی گئی ،مساجد ،ائمہ اور مؤذنین کے لیے ہدایات جاری کی گئیں کہ مساجد کے دروازے غیر مسلموں کے لیے کھلے رہیں ، انہیں دین کے متعلق ضروری معلومات اور مواد مختلف زبانوں میں فراہم کرنے کا بندوبست رہے ،مشہور داعیان دین اور کچھ مبلغین کو بطور خاص مدعو کیا گیا ، ڈاکٹر ذاکر نائیک جن کے داخلہ پر کئی مغربی اور مشرقی ممالک نے پابندی عائد کررکھی ہے، اظہار خیال کی آزادی کے دعویداروں نے ان کا ویزا کینسل کردیا۔ جن کے ٹی وی چینل پیس ٹی وی پر قدغن لگارکھی ہے ،قطری حکومت نے اس مناسبت سے انہیں مدعو کرکے معاندین کو بھر پور جواب دیا کہ اس شخص کے داخلہ اور بات کرنے پر پابندی کیوں ؟ جو کہتا ہے: ربی اللہ، جو اللہ کی کبریائی اور بڑائی کا اعلان کرتا ہے جو مخلوق کو خالق حقیقی کا راستہ دکھارہا ہے ،چنانچہ میچ اور تفریحی مشاغل کے لیے جمع ہونے والے متلاشیان حق کی توجہ ادھر بھی موڑ دی گئی ،اور کئی سلیم الفطرت نے برضا ورغبت قبول حق کا اعلان کیا ،غور کرنے والوں کے لیے ذاکر نائیک کی موجودگی قطر میں ایک جواب بھی ہے کہ جن ممالک میں ان کے داخلہ پر پابندی لگائی گئی لیکن خود وہاں کے باشندے ان چرنوں میں آ گرے۔ جو وہاں پہنچے تو تھے عارضی سکون اور وقتی تفریح کے لیے لیکن انہیں اسلام کی صورت میں دائمی سکون اور مستقل راحت کا نسخہ ہاتھ لگ گیا۔

پاسبان مل گئے کعبہ کو صنم خانہ سے

قطر نے پہلے دن سے جس بات کا اعلان کر رکھا تھا آفرین ہے ان کے جذبۂ صداقت اور دین پسندی کو کہ انہوں نے اخیر تک اپنے نظریات اور اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا ،حتی کہ فائنل میچ جو کہ شراب نوشی اور رقص وسرور کے لیے نمایاں حیثیت رکھتا ہے، اس تاریخی موقع پر بھی کسی کو سرعام شراب نوشی اور جنسی بے راہ روی کی اجازت نہیں دی گئی ، اور فاتح عالم ٹیم ارجنٹینا کو جب اسٹیج پر بلایا گیا ،یہ وہی عالمی چیمپین ہے جنہیں پہلے میچ میں سعودی عرب کی ٹیم نے شکست سے دو چار کرکے میدان فٹبال کے ماہرین کو ششدر کردیا تھا جسے میچ کی طویل تاریخ کا انوکھا واقعہ قرار دیا گیا کہ مقابلہ کے میدان میں کسی بھی نتیجہ کی توقع کی جاسکتی ہے، عام طور پر اس پر مسرت موقع پر فاتح ٹیم کو ٹرافی کے ساتھ شراب کی بڑی بوتل شامپین پیش کی جاتی ہے جسے کھلاڑی حرکت دے کر جب کھولتے ہیں تو شراب فوارہ کی شکل میں نکلنے لگتی ہے اور سارے کھلاڑی اس آب نشاط انگیز سے اپنے حلق اور جسم کو ترکرنے لگتے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ کامیاب کھلاڑیوں کو میڈل اور ٹرافی سے نوازا گیا اور ٹیم کے کپتان میسی کو شراب کی بوتل کے بجائے عربی عبایہ پہنایا گیا جسے مشلہ کہا جاتا ہے ،یہ کسی بھی شخصیت کے لیے احترام کا عربی تہذیب کے مطابق اعلیٰ مظاہرہ ہوتا ہے ،بلکہ اسلامی تہذیب میں جبہ ودستار کی مسلمہ حیثیت رہی ہے۔ یوں قطر نے کپتان کو جبہ پہناکر مزید ایک نیا باب رقم کیا، اسلاموفوبیا کے پروپیگنڈہ کا شکار میڈیا کو عملی جواب دیا گیا ،جس تہذیب کے خلاف زہر افشانی کی جا رہی تھی فاتح عالم کو اسی لباس میں ملبوس کرکے ایک نیا نمونہ قائم کیاگیا،یہ پہلا اور منفرد واقعہ ہے کہ عالمی چمپین کے ہاتھ میں شراب کی بوتل نہیں تھمائی گئی، اسے بھی عربی جبہ میں زیب تن کرکے اپنی تہذیب اور ثقافت کی برتری کی مہر ثبت کی گئی ،یہ اگر چیکہ ایک رداہے لیکن یہ چادر عفت وعصمت تہذیب اور شرافت کی علامت ہے ۔

یوں بھی اب تو متعدد حق پسند مغربی سیاح شراب کی قباحتوں پر کھل کر بیانات دینے لگے ہیں اور مختلف خواتین نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ہم اپنے ملکوں سے زیادہ قطر میں خود کو محفوظ محسوس کررہی ہیں ،اگر عوامی مقامات پر سر عام شراب نوشی کی ممانعت سے یہ مثبت اثرات دکھائی دے رہے ہیں اگر اس سے کلیۃً پرہیز کیا جائے تو کتنے مفید نتائج دیکھے جاسکتے ہیں، برطانیہ کے شعبہ صحت کی رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے فراہم کئے جانے والے بجٹ کا 40 فی صد حصہ شراب نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور نقصانات کی روک تھام پر خرچ ہوجاتا ہے،کیا اب بھی کوئی سلیم الفطرت اس حقیقت کے تسلیم کرنے پر ترددکر سکے گاکہ یہ ام الخبائث ہے۔

زندہ آباد قطر پائندہ آباد قطری جرأت

٭٭٭

تبصرہ کریں