قونیہ میں چار دن (دوسری اور آخری قسط)۔ ڈاکٹر صہیب حسن ، لندن

اس جگہ کو میوزیم کا نام1926ء؁ میں دیا گیا۔ اس سے قبل یہ خانقاہ اور اس کے لوازمات پر ہی مشتمل تھا۔ ہم نے آمنے سامنے دو عمارتوں کو پایاکہ جن کے درمیان وہ مسقف فوارہ ہے جسے سلطان سلیم نے 1512ء؁میں تعمیر کروایا تھا اور جسے ’شب عروس‘ کا نام دیا گیا ہے ۔ اس کے سامنے احاطہ کی بیرونی دیوار سے متصل تقریباً سترہ حجرے ہیں جو مریدان باصفا کی اقامت کے لئے مختص تھے ۔ اب پہلے پانچ حجروں میں انتظامیہ کے دفاتر ہیں اور باقی حجرے میوزیم میں تبدیل کر دئیے گئے ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے حجرے ہیں کہ جن میں بیک وقت آٹھ دس اشخاص بھی ہجوم کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس لئے ہم چند حجروں میں جا سکے ۔ باقی کو باہر کی جالیوں سے تانک جھانک کر کے گزار ا کر لیا ۔ ان حجروں میں خطاطی کے نمونے ہیں ، مولانائے روم کی تصنیفات کے مخطوطے بغرض مشاہدہ رکھے گئے ہیں ۔ محافل سماع سے خاص آلات طرب و غناء ہیں۔ مریدوں کے مجسموں کو حالت مراقبہ میں بیٹھے تسبیح کرتے دکھایا گیا ہے ، ان کی عبائوں ، ٹوپیوں اور خرقوں کی نمائش کی گئی ہے ۔ آخر میں ایک بڑی سی عمارت کو میدان شریف کا نام دیا گیا ہے جس میں مجسموں کی شکل میں مریدوں کو بھی شیوخ حالت ذکر اور مراقبے میں دکھایا گیا ہے ۔ ایک جانب مطبخ ہے جس کے دیوہیکل ظروف کھانے پینے کے اہتمام کو بتا رہے ہیں اور ایکطرف چند مزارات بھی ہیں ۔ ہم اس عمارت سے نکل کر گنبد خضراء والی عمارت میں داخل ہوئے ۔ آغاز میں کمرہ تلاوت ہے ، ماضی میں یہاں قرآن کی تلاوت کی جاتی تھی لیکن اب اس جگہ قرطاس بننے والے خوبصورت خطاط کے نمونوں سے سجایا گیا ہے ایک خط کا نمونہ ترکی میں یہ پیغام دے رہا ہے۔

’’عشاق کے لئے یہ وہ کعبہ ہو کہ جسمیں ناقص داخل ہو تو کامل ہو کر نکلے‘‘

اب ذرا آگے بڑھیں ، داخل ہوتے ہی وہ بڑا سا احاطہ ہے جس میں سلطان العلماء بہائو الدین مولانائے روم اور ان کے صاجزادوں اور چند مریدان باصفا کی قبریں ہیں اور ترکی رسم و رواج کے مطابق ان قبروں کو قد آدم کہنا مناسب ہو گا جنہیں منقش چادروں سے ڈھانپا گیا ہے، دونوں مرکزی پیران طریقت کی قبروں کے اوپر سبز پگڑی اس انداز میں ایستادہ ہے کہ اس میں انگوٹھے کی مانند دستہ خشت نکلتا نظر آتا ہے ۔ (زبان انگریزی SARCO PHAGUS)۔ ہم قبرستان میں داخل ہونے کی مسنون دعا پڑھ کر داخل ہوئے تھے اور اسی دعاء کا ورد کرتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔ اندرونی دیوار’ حضرت مولانا‘ کی ایک بڑی تختی کے جلو میں قرآنی آیات کی منقش خطاطی کے ساتھ جلوہ افروز تھی۔بائیں طرف مڑتے ہوئے ہم سماع خانہ میں داخل ہوئے جہاں مثنوی ، دیوان کے نسخے ، آلات سماع و طرب ، کہیں شیشوں کے صندوق میں، اور کہیں دیواروں پرآویزاں نظر آئے، ایک جگہ چند مرد و خواتین ایک دائرے کی شکل میں فرشی نشست سنبھالے ہوئے تھے، ان میں ایک صاحب مثنوی کی تلاوت کر رہے تھے اور باقی ہمہ تن گوش تھے، کسی ایک کونے میں ایک مغربی خاتون حالت مراقبہ میں دکھائی دیں۔ سماع خانہ سے اگلے قدم پر ایک بڑا سا چبوترہ نظرآیا جو اس خانقاہ میں بطور مسجد بنایا گیا تھا اور جس کے قبلہ رخ وہ تمام مزارات تھے کہ جن سے ہم گزر کر آئے تھے۔

ہم مسجد کے چبوترے کے پاس سے گزرتے ہوئے ، عالم مراقبہ میں مگن لوگوں پر الوداعی نظر ڈالتے ہوئے صدر دروازے سے باہر آگئے اور پھر چند قدم چلنے کے بعد احاطہ کا وہ گیٹ تھا کہ جس کے بعد ہم اپنی دنیا میں لوٹ آئے۔ یہاں بڑا سا میدان ہے جس میں احاطہ کے سامنے مسجد سلطان سلیم ہے جس میں اللہ کے حضور سر بسجود ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ میدان کو پار کرنے کے بعد ہم ان دکانوں کے سامنے سے گزرے جنہیں زائرین کے لئے یادگار ی تحفے قرینے سے سجائے گئے تھے۔ ایک دروازے پر مساج کا بورڈ لکھا تھا تو پنڈلی کا درد یاد آگیا جس نے کئی دنوں سے ہمارا چلنا دوبھر کر دیا تھا۔ سوچا کیوں نہ مساج کے نسخے کو آزمایا جائے اور پھر ہم زینہ چڑھتے دوسری منزل پر پہنچے جہاں ایک معمر ترکی شخص نے ہمارا استقبال کیا۔ بتایا کہ صرف زیریں جسم کا مساج ساتھ لیرے (تقریباً دس پائونڈ) میں ہو گا اور اگر کمر کا ناپنا بھی شامل ہو تو دوگنی قیمت ہو گی۔ ہم نے صرف ٹانگوں کے مساج کی حامی بھری اور یوں زندگی میں پہلی مرتبہ اس طریقہ علاج سے گزرے کہ جس کے بارے میں سنا تو بہت تھا لیکن اب تک واسطہ نہ پڑا تھا۔ ایک گھنٹہ دروانیے کے اس عمل میں راحت کا احساس تو ہوا لیکن ہڈیوں کی چٹخ پٹخ نے جسم کو ہلا کر رکھ دیا ۔ ہمارے معالج نے تیل کی دو چھوٹی چھوٹی ڈبیاں بھی عنایت کیں جو بوقت ضرورت استعمال کے لئے عطا کی گئی تھیں۔

ہمارا آج کا یہ دن کئی سوالات کو جنم دے گیا اور انہی گتھیوں کو سلجھانے میں رات کٹ گئی۔ یااللہ !تیری سنت ہے کے یلحق صلاح الآباء الا بناء، باپ دادوں کی نیکی اولاد تک سرایت کر تی ہے۔ میں سلطان العلماء بہاء الدین کو جد امجد کی حیثیت سے دیکھتا ہوں اور پھر ان کی اگلی دو تین پشتوں کو بھی ، تو عروج و زوال کی ایک تصویر ابھرتی ہے۔ سلطان العلماء بہاء الدین نے اپنے علم و فضل کی وجہ سے شہرت پائی ، امام رازی کی عقلیت اور خوارزم شاہ کی عصبیت امارت کا مقابلہ کرتے رہے لیکن پھر اپنے قلبی رحجانات کی حفاظت کے لئے ہجرت میں امان پائی اور پھر یہ ہجرت ان کے لیے اللہ کی زمین میں کشائش اور آسائش کا پیغام لائی ۔ شاہ سلجوق علائو الدین کیقباد خود انہیں قونیہ میں باعزت و افتخار بسا دیتا ہے ، ان کے صاجزادے مولانائے روم علم و فضل ، خطابت و تدریس اور افتاء نویسی میں اپنے والد سے ایک قدم آگے نظر آتے ہیں پھر ان کی کایا پلٹی ہے ، وہ تصوف بمعنی فقر واستغناء اور فنافی اللہ کی تصویربن جاتے ہیں۔ خلق خدا کی اصلاح کا جذبہ انہیں مثنوی کی تالیف پر ابھارتا ہے ۔ جو قصص و حکایات ، اشارہ و کنایہ، رمزو استفہام کے پیرائے میں حکمت وعبرت کے دروس و مواعظ کی پھلجھڑیاں بکھیر دیتا ہے لیکن یہ کیا کہ وہ اپنے شیخ شمس تبریز کی جدائی کو برداشت نہیں کر پاتے ہیں اور سماع کے نام سے دین میں ایک نئی روایت کو روشناس کرتے نظر آتے ہیں اور پھر ان کے صاجزادے سلطان ولد نے طریقہ مولویہ کے نام سے سماع کے ساتھ ساتھ رقص درا ویش کو بھی متعار ف کروا دیا۔ باپ کے ہاں صرف بانسری کا ساز تھا، آغا ز مثنوی ملاحظہ ہو:

بشنواز نے چوں حکایت می کنند وزجدا ئیہا شکایت می کنند

(بانسری سے سن کیا بیان کرتی ہے اور جدائیوں کی کیا شکایت کرتی ہے)۔ بیٹے نے سازو آواز کا ایک رم جھم برپا کر دیا۔ مولانائے روم نے تو باپ کے مرقدپر گنبد اور عمارت بنانے سے انکار کیا لیکن بیٹے نے باپ دادا دونوں کے مراقد کو آستانے میں تبدیل کر کے رکھدیا۔ سلطان العلماء بہاء الدین حب اللہ وحب الرسول کی حد تک رہے، مولانا ئے روم نے بات عشق تک پہنچا دی ، جس کا ذکر نہ قرآن میں اور نہ کسی صحیح حدیث میں۔ مثنوی کا ایک ادبی و علمی مقام ہے ، پند و نصیحت کے باب میں وہ ایک بصرت افروز کوشش ہے، اور متصوفانہ رموز و اشارات میں ، اہل تصوف کے نزدیک ، وہ ایک قابل قدر اضافہ ہے، لیکن اردو میں اس کے ترجمان اور شارح قاضی سجاد حسین مقدمہ کتاب میں، مولانا اشرف علی تھانوی کا یہ اقتباس دینے پر مجبور ہیں:

مثنوی کی احادیث اور تفسیر:

حضرت مولانا اشرف علی صاحب رحمۃ اللہ نے کلید ِ مثنوی میں فرمایا ہے کہ صوفیاء اور بزرگوں کے کلام میں ایسی احادیث پائی جاتی ہیں جو احادیث کی کتابوں میں نہیں ہیں اور محدثین کے نزدیک اُن کا حدیث ہونا ثابت نہیں ہوتا ہے تو ان بزرگوں کے اس فعل کی توجیہیں ہیں: ایک تو یہ کہ جس طرح محدثین نے خواب کی احادیث پر حدیث کا اطلا ق کر دیا ہے اسی طرح ان بزرگوں نے اپنے کشف وغیرہ کی بناء پر اُن کو احادیث کہہ دیا ہے:دوسرے یہ کہ ان احادیث سے جو مقصد ہے وہ دوسرے شرعی دلائل سے ہو جاتا ہے ۔ لہٰذا ان احادیث کا غیر واقعی ہونا مقصد کے ثبوت کے لئے مضر نہیں ہے۔ رہی یہ بات کہ غیر حدیث کیوں کہہ دیتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان بزرگوں پر حسن ِ ظن غالب رہتا ہے جو کچھ سن لیتے ہیں یا لکھا ہوا دیکھ لیتے ہیں ۔ اُس پر یقین کر لیتے ہیں۔ ان کو زیادہ چھان بین کی عادت ہوتی ہے نہ مہلت یہ وہ تبصرہ تھا جو مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: بہر حال مثنوی میں بہت سی احادیث وہ ہیں جو محدثین کی اصطلاح میں کسی طرح بھی حدیث کہلانے کی مستحق نہیں اور ایسی احادیث کو حدیث کہہ کر بیان کر دینے کے معاملہ میں محدثین کا طرز عمل بہت سخت ہے ۔ اسی طرح مولانا نے مثنوی میںصحابہ سے متعلق بعض ایسے واقعات کا ذکر کیا ہے جن کا ذکر صحابہ کے حالات پر مشتمل کتابوں میں کہیں نہیںملتا ہے۔ نیز مولانا نے مثنوی میں بعض آیات کی وہ تفسیر کی ہے جو معتبر مفسرین کے نزدیک کسی طرح درست نہیں ہے ۔ لہٰذا مثنوی کا مطالعہ کرنے والوں کو ان اُمور کا لحاظ رکھنا چاہیے اور مثنوی کا مطالعہ محض تصوف کی کتاب سمجھ کر کرنا چاہیے اور تصوف کے مسائل ہی میں اُس کو شمع راہ بنانا چاہیے ۔ مولانا کی بیان کردہ احادیث و تفسیرپر اعتماد کرنا درست نہیں ہے‘‘۔

اور اگر یہی بات درست ہے تو پھر کتاب کے ٹائٹل پر ’ہست قرآن در زبان پہلوی‘ کا جسارت آمیزلاحقہ کیا معنی رکھتا ہے۔ہم اس رات انہی خیالات میں گرداں اور پیچاں رہے اور پھراس دعا کے ساتھ آنکھیں موند لیں کہ یا اللہ! ہمیں اس صراط مستقیم پر قائم و دائم رکھ کر جسے تیرے برگزیدہ پیغمبر حضرت محمدﷺ نے کتاب و سنت کی شکل میں امت مرحومہ کو عطا کیا ہے۔ ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذھد یتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب

اتوار 22ستمبر2019: ہمارا یہ ہوٹل تھری اسٹار ہونے کی بنا پر اتنا آرام دہ نہ تھا ، خاص طور پر وہ کمرہ جو ہمیں الاٹ کیا گیا تھا۔ اس لئے ہم ناشتے کے لوازمات پورے کرنے کے بعد چلتے چلتے نسبتاً ایک اچھے ہوٹل کو تلاش کر پائے جس کی رہائش گاہ قابل قبول نظر آئی۔ ہم واپس آئے اور ہوٹل کے مالک سے اجازت چاہی کہ ہم ایک دوسری جگہ منتقل ہونا چاہتے ہیں، وہ کسی صورت آمادہ نظر نہ آیا۔ الا ّیہ کہ ہم اگلے تین دن کی اجرت ادا کریں اور اپنا بوریا بسترا اٹھا لیں اور وہ اس لئے کہ ہم نے پیشگی چار دن کی بُکنگ کرا رکھی تھی۔ بالآخر اس بات پر راضی ہوا کہ پہلی منزل پر وہ ہمارے لئے ایک بہتر کمرہ خالی کروا دے گا۔ چنانچہ یہ کلفت دور ہوئی اور ایک حد تک ہماری شکایت بھی رفع دفع ہو گئی۔

ٹورسٹ گائیڈ کتابچے کی مدد سے ہم نے شہر سے کوئی دس کلو میٹر دور ایک قابل دید جگہ تلاش کی جہاں بذریعہ ٹیکسی پہنچا جا سکتا تھا۔ ہم نے اس سفر میں اس شہر کے طول و عرض کو اچھی طرح دیکھا بھالا، واقعی یہ ایک صاف ستھرا شہر ہے، وسیع شاہراہیں ہیں، جدید ترین ٹرام سڑک کے مابین رواں دواں ہے۔ ہم جس جگہ کا قصد کر کے آئے تھے وہ ایک وسیع و عریض باغ ہے جس میں نہ صرف ترکی بلکہ مشرق اوسط اور مشرق بعید کی تاریخی عمارات کے مصغر نمونے جا بجا زمین کے سینے پر سجا دئیے گائے ہیں، عمارتوں کے یہ نمونے اتنی جسامت رکھتے ہیں کہ آپ ان کے ساتھ کھڑے ہو کر یا بنچ پر بیٹھ کر اپنی ایک یادگار تصویر بنا سکتے ہیں اور یوں ہم نے گو اصلی تاج محل کو تو کبھی دیکھا نہ تھا لیکن یہاں اس کے ماڈل کے سامنے کھڑے ہو کر یہ حسرت پوری کر لی۔ دہلی کے مقبرہ ہمایوں کا ماڈل بھی ایساتھا، اور پھر نہ پوچھئے ان مدارس، معابد، مساجد، مہمان خانوں کو جو سمر قند و بخارا سے لیکر ترکستان ، قازقستان اور بلغاریہ سے ہوتے ہوتے اناطولیہ کے مختلف شہروں کی زینت بنے ہوئے تھے اور آج ان کے ماڈل تاریخ کے اوراق کی طرح ہمارے سامنے پلٹے جا رہے تھے، اب آپ چلتے جائیے، ایک ایک ماڈل پر نظر ڈالئے اور اس کی تاریخ بھی پڑھتے جائیے جو اس کے سامنے ایک تختی پر تحریر ہے اور پھر ایک عمود پر اس آڈیو کو بھی سنتے جائیے ، جس میں یہی تاریخ ترکی اور انگریزی میں ریکارڈ کی گئی ہے۔

ایسا ہی ایک باغ ہم استنبول میں بھی دیکھ چکے تھے لیکن قونیہ اس فن میں بازی لیتا نظر آیا ،ہمیں بائیں طرف ایک بڑا سا گیٹ نظر آیا جس کے نقش و نگار تیار تھے کہ یہ حصہ بچوںکی جودت طبع کے لئے مختص کیا گیا ہے ، ہم اتنا تھک چکے تھے کہ ا س کا صرف ایک طائرانہ معائنہ کیا، جہاں ان تمام کہانیوں کے ماڈل اپنے گھروں ، جھولوں ، سواریوں کے ساتھ موجود تھے جو عالم ِ اطفال میں کارٹون فلموں کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ مکِی ہائوس سے شیرک تک، ہر طرح کے ماڈل انہیں دکھلا رہے تھے اور زائرین بچوں کا بس نہ چلتا تھا کہ وہ انہیں اپنے بازوئوں میں سمیٹ لیں۔پھر ریسٹورنٹ میں ذرا سستانے کے بعد ہم ایک تیسرے حصے کی طرف چلے جو جراسک پارک کی یاد دلا رہا تھا۔ ما قبل تاریخ بڑے ڈیل ڈول والے سبزی خور جانوروں کے ماڈل اپنے اصلی قد و قامت میں نہ صرف زمین کو دھلا رہے تھے بلکہ اپنی بھاری بھرکم دھاڑوں سے ٹورسٹ کے دلوں کو بھی دھڑکنے پر مجبور کر رہے تھے ، ہم قد آدم رکھتے ہوئے بھی ان بڑے جانوروں کی پنڈلی تک پہنچ پائے۔ٹورسٹ کا دل لبھانے کے لئے ایک جگہ وہ چبوترہ بھی بنا دیا گیا تھا جس پر چڑھ کر ان میں سے ایک جانور کی پیٹھ پر بیٹھ کر اپنی یادگار تصویر بنانے کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ اس حصے میں بھی ہمارا آنا جانا سرسری رہا کہ تھکن مزید قدم بڑھانے سے روک رہی تھی ، واپسی پر انکشاف ہوا کہ یہاں ٹیکسی ندارد ہے ، مقامی لوگ تو اپنی گاڑیوں سے یہاں پہنچ پاتے ہیں ۔ پھر دیکھا کہ ایک بس کچھ لمبے وقفے کے بعد صدر دروازے سے گزرتی ہے ۔ چنانچہ ہم نے اس بس کاسہارا لیا جس نے مولانائے روم کے میوزیم تک پہنچا دیا۔

ہمارے پاس اتنا وقت تھا کہ ہم مساج پارلر سے اس شام کمر کے سہلانے اور دل کو بہلانے کو بندوبست کر سکیں اور پھر ہوٹل سے قریب ترین مسجد ’’مسجد شرافت‘‘میں عشاء کی نماز ادا کر کے واپس ہوٹل کی راہ لیں۔اللہ بھلا کرے آئی فون کے اس میٹر کا جو آپ کو بتا دیتا ہے کہ آج آپ کتنے قدم چلے اور اس کے کتنے کلو میٹر بنتے ہیں۔ جو اب تھا کہ کل کے حساب میں پانچ کلو میٹر اور آج کے حساب میں سات کلو میٹر ہمارے کھاتے میں لکھے گئے ہیں۔

پیر23ستمبر2019ء؁: مسجد شرافت میں فجرکی ادائیگی کے بعد میں ہوٹل کی طرف واپس لوٹا۔ کچھ فاصلے پر ایک دوسری مسجد کا مینار باعث ِ کشش بنا رہا۔ سوچا کہ اس مسجد کا حدود اربعہ بھی علم میں آنا چاہیے ۔ اس لئے ایک دو سڑکیں پار کرنے کے بعد اس احاطے تک پہنچا جس نے مسجد کو گھیررکھا تھا۔ یہ ایک قدیم مسجد تھی جسے مسجد شمس تبریز کا نام دیا گیا تھا اور اسی کی مناسبت سے ہمارے ہوٹل کا نام بھی شمس ہوٹل تھا۔ وزارت اوقاف کی جانب سے اس کی مرمت کا کام جاری تھااس لئے عارضی طور پر یہاں نماز کی ادائیگی موقوف تھی اور مسجد کے دروازے ایک باڑ کی رکاوٹ کے پیچھے نظروں سے اوجھل کر دئیے گئے تھے۔ ظہر سے قبل ہم حضرت مولانا سے متصل ایک عظیم نمائش گھر یا آڈیٹوریم میں پہنچے جہاں ہماری ناقص معلومات کے مطابق گردشی درویشوں کا معروف رقص ہونے والا تھا۔ یہ بدعت طریقہ مولویہ کی ایجاد ہے جسے مولانائے روم کے صاجزادے سلطان ولد نے روشناس کرایا تھا۔ ہم نے سوچا کہ جب قونیہ آہی گئے ہیں تو اس رقص بے خودی کا ایک دفعہ پھر مشاہدہ کر لیا جائے جسے ہم ایک مرتبہ استنبول کی زیارت میں دیکھ چکے تھے۔ یہ ایک کئی منزلہ عمارت تھی جس کے ایک مختصر سے مصلے میں ہم نے ظہر و عصر (جمع و قصر کے ساتھ)ادا کی۔ اور پھر چند قدم نیچے اتر کر ایک بڑے سے ہال میں پہنچے جس میں تحائف اور نوادارات کی چھوٹی چھوٹی دکانیں تھیں، یہاں اس وقت سوائے ہمارے اور کوئی گاہک نظر نہ آیا لیکن یہ چند یادگاری تحائف کو سمیٹنے کا اچھا موقع تھا۔ میں نے اپنی عادت کے مطابق اس دکان کا رخ کیا جس کی شیلفوں میں چند کتابیںجھانک رہی تھیں ۔ مثنوی مولانائے روم کا ایک اردو ترجمہ چھوٹے سائز کی چھ جلدوں میں نظر آیا جسے ایک گتے کے باکس میں سجا کر پیش کیا گیا تھا۔ اس میں فارسی کے اصل اشعار محذوف تھے، صرف اُردو ترجمہ دیا گیا تھا اور یہ وہی قاضی سجاد حسین والا ترجمہ تھا جو فارسی اصل کے ساتھ تین جلدوں میں میری لائبریری کی پہلے ہی زینت بن چکا تھا اور جسے ہمارے دیرینہ خیر خواہ جناب اسلم بھٹی نے مجھے ہدیۃًعنایت کیا تھا۔

قونیہ کی یادگار کے طور پر نوے لیرا ادا کر کے اس باکس کو اپنے سامان کی زینت بنانا اچھا لگا، اتنی مٹر گشت کے بعد آڈیٹوریم کا رخ کیا کہ اکثر زائرین وہاں اپنی کرسیاں سنبھال چکے تھے، اسٹیج پر ایک صاحب کا بزبان ترکی تعارف کرایا گیا اور پھر وہ صاحب کوئی پون گھنٹے تک اپنی زبان میں فلسفہ اور معارف کے موتی بکھیرتے رہے اور پھر اس کے بعد انہوں نے اپنا گیٹار سنبھالا، ہاتھ ان کے تاروں کو سہلا رہے تھے اور منہ سے مولانائے روم کے قصائد بزمان ترکی !ترک سامعین کی سماعت کو باریاب اور ہماری سماعت کو باعذاب کرتے محسوس ہوئے،یہ ہماری غلط فہمی تھی کہ یہاں آج رقص درویشاں ہوگا، معاملہ فغان ترک پر جا کر ختم ہوا بلکہ ہمارے لئے ایک خواب پریشان بن کر نازل ہوا۔

ہم ثقل سماعت کا تحفہ لے کر باہر پہنچے اور پھر ٹیکسی لے کر شہر سے باہر ایک اور نادر نمونے کا رخ کیا۔ یہ تھا قونیہ کا ایک پارک جسے بستان جاپانی کا نام دیا گیا تھا۔ ہمیں جاپان جانے کا اتفاق نہیں ہوا لیکن جاپانی طرز کے جھروکے ، پانی سے لبالب بھرے ایک تالاب کے اردگرد نصب شدہ آہنی باڑ کے پار سیر کرنے والوں کی راہداریاں ، کہیں فرش صاف اور نرم اور کہیں آڑے ترچھے پتھروں کی بنا پر سخت اور قدموں کے لئے قابل رحم ، اور پھر وہ چھوٹے چھوٹے لکڑی کے پل جن پر چڑھنا اترنا ہمارے لئے یوں باعث کوفت رہا کہ پنڈلی درد بھی ہر اٹھتے قدم کے ساتھ پارے کی طرح بڑھتا اور چڑھتا محسوس ہو رہا تھا۔ یہاں کی زمین کی ہریالی ، گھنے درختوں کا ہجوم ، فواروں اور چھوٹی چھوٹی آبشاروں سے اُٹھتی ہوا ماحول کو خوشگوار بنا رہی تھی، ہم نے ایک دو جگہ سستانے کے لیے اُن بنچوں کا سہارا لیا جو جابجا نصب تھے ، ہم چاہتے تو مخالف سمت والے دروازے سے نکل سکتے تھے لیکن ریسٹوران کی کشش نے ہمیں دوبارہ واپسی کی راہ دکھائی۔ کچھ راہداریاں لکڑی کے ان جھروکوں کی طرف لیجا رہی تھیں جو تالاب کے وسط میں ستونوں پر بنائے گئے تھے لیکن ہم نے تالاب کے کنارے اُن کرسیوں تک پہنچنے میں عافیت سمجھی جو تالاب کے کنارے کو چھو رہے تھے۔ بچوں نے نوڈل کا مزا چکھا اور ہم ایک ٹھنڈے مشروب سے اپنے لبوں کو تر کرتے رہے ٹیکسی والا منتظر تھا، ہم نے یورو کی تلاش میں ہوٹل کے قریب ہی ایک صراف کو تلاش کر ڈالا جو شام سے ہجرت کر کے آنے والوں میں سے ایک عرب مہاجر تھا، اس بات سے خوشی ہوئی کہ شامی مہاجرین میں سے سب حکومت کی امدادی رقوم پر گزارا نہیں کر رہے بلکہ کچھ اپنے پائوں پر بھی کھڑے ہونے کی استطاعت رکھتے ہیں۔

منگل :24ستمبر2019ء؁: قونیہ میں یہ ہمارا آخری دن تھا ۔ ٹورسٹ گائیڈ کی مدد سے ہم نے آج تتلیوں کے باغ میں مٹر گشت کرنے کا پروگرام بنایا۔ شہر سے کافی فاصلے پر جہاں چھوٹے چھوٹے ٹیلے اور پہاڑیاں سر اُٹھا رہی تھیں ۔ ایک نئی نویلی خوبصورت تعمیر نظر آئی ۔ لوہے، المونیم ، فولاد، نہ جانے کن کن مواد سے یہ دیو ہیکل بیضوی ڈھانچہ کھڑا کیا تھا جس میں طرح طرح کی تتلیوں (Butterfly)کو ایک قدرتی ماحول میں رکھنا مقصود تھا۔ اندر کی فضا کسی استوائی خطے کی مانند تھی۔ ہم لکڑی کی راہداری پر اوپر کی طرف چل رہے تھے ۔ ہمارے اردگرد درخت تھے، بیلیں تھیں، پھول اور پتے تھے کہ جن کے اوپر لاتعداد تتلیاں منڈلا رہی تھیںمعلوماتی تختیوں سے بتایا جا رہا تھا کہ ان تتلیوں کو مختلف ممالک بشمول کینیا(افریقہ)سے بازیاب کیا گیا ہے ۔ راہداری ہمیں بالائی منزل کی سیر کرانے کے بعددوبارہ پھر فرش پر لے آئی جہاں چند الماریوں میں مردہ تتلیوں کے ماڈل شیشے کے پیچھے سے اپنے وجود کا احساس دلا رہے تھے۔ پھر چند حجروں میں جانا ہوا۔ ایک جگہ پر دہ سیمیںپر تتلی کی زندگی کا سفر دکھایا جا رہا تھا جو ’’لاروا‘‘سے شروع ہو کر تتلی بننے تک مختلف مراحل سے گزرتا ہوا دکھایا گیا تھا۔ دوسرے حجروں میں چارٹس، نقشوں اور تصاویر کی مدد سے زائرین کی معلومات میں اضافے کا اچھا خاصا مواد موجود تھا، ہم نے کوئی دو گھنٹے تتلیوں کی معیت میں گزار کے بیرونی دروازے کی راہ لی۔ واپسی کے سفر میں کچھ بدمزگی ہوئی ۔دراصل ہم پچھلے تجربات کی روشنی میں ٹیکسی کا حصول یقینی بنانا چاہتے تھے، اس لئے ہم جس ٹیکسی سے آئے تھے اُس سے یہ طے کر چکے تھے کہ وہ دو گھنٹے بعد ہمیں واپس لے جائے گا ۔ ہم نے باہر کوئی دس پندرہ منٹ اس کا انتظار کیا اور پھر اُسے نہ پا کر ایک دوسری واحد ٹیکسی کا سہارا لیا جو کافی دیر سے کسی مسافر کے انتظار میں سڑک کے پار حالت انتظار میں تھی ، جونہی ہم ٹیکسی میں براجمان ہو کر روانہ ہوئے، پہلا ٹیکسی والا بھی پہنچ گیا۔ ہم اب چونکہ اپنا سفر شروع کر چکے تھے اس لئے چلنے پر مجبور تھے لیکن جلد ہی یہ محسوس ہو گیا کہ وہ ہمارا تعاقب کر رہا ہے اور پھر ایک جگہ جونہی ہماری ٹیکسی ٹریفک کی وجہ سے روکی تو وہ بالمقابل آکر کھڑا ہو گیا۔ اس نے ہم سے تو کچھ نہ کہا کہ زبان یا ر ترکی ومن ترکی نمی دانم لیکن دونوں ڈرائیورو ں میں گاڑیوں کی کھڑکی سے خوب توں توں میں میں ہوئی۔ شکر ہے مقابلہ پولیس تک نہیں پہنچا اور خیر سے بدھو گھر کو لوٹے۔لیکن گھر لوٹنے سے پہلے ہم ایک اور جگہ ہو آئے۔ حضرت مولانا کے قریب ہی جنگ آزادی کا میوزیم ہے۔ اونچے اونچے ستونوں پر مشتمل ایک کھلے ہال کی دیواروں پر ان تمام ترک فوجیوں کے نام مع نمبر درج تھے ۔ جو پہلی جنگ عظیم میں داد شجاعت دیتے ہوئے زندگی کی جنگ ہار گئے تھے اور جس کے نتیجے میں عظیم خلافت ِ عثمانیہ کا زوال ہوا اور پھر اس کی کوکھ سے موجودہ جمہوریہ ترکی نے جنم لیا۔

ہم ایک دوسرے ہال میں پہنچے جہاں ایک مستطیل عمارت میں چلنے کے لئے صرف ایک راہداری تھی اور اس کے دونوں طرف بڑے بڑے قطعات میں دیہی اور جنگی میدان دکھائے گئے تھے ۔ جہاں ماڈلز کی شکل میں فوجی ، ان کی گاڑیاں ، ان کے گھوڑے ، جنگی سازوسامان جن میں توپیں اور بندوقیں شامل تھیں ، دیہات کے وہ مکانات جہاں پر فوجیوں کے لئے کیمپ ، ڈسپنسری ، اسٹورز وغیرہ بنائے گئے تھے۔ ہمیں ایک اور ناخوشگوار حادثہ کی بنا پر میوزیم کو جلد ہی چھوڑنا پڑا کہ اہلیہ کی انگلی کو ایک نامعلوم بھیڑ نے اپنی ضیافت طبع کا نشانہ بنایا تھا۔ وہاں کوئی مرہم تو نہ ملا کہ جس سے تکلیف کامداواکیا جاتا، اس لئے وہاں سے نکلنے میں ہی عافیت سمجھی۔ہمارے بائیں طرف میوزیم کی جالیوں سے وہ شہر خموشاں نظر آ رہا تھا کہ جس کے لئے حضرت مولانا کے وسیع احاطے میں باپ خموشاں کا اضافہ کیا گیا ہے۔

ہم سلطان سلیم کی مسجد میں نماز عصر ادا کرتے ہوئے ہوٹل کی طرف پلٹے ، راستے میں سو چاکہ جائے مساج کی آخری زیارت کر لی جائے اور یوں مغرب سے قبل ایک ساعت ٹانگوں کی مالش کی نذر ہو گئی۔مغرب و عشاء کے لئے دوبارہ مسجد سلطان سلیم کی طرف لوٹے ، پھر ایک مقامی ریستوران میں کام و دھن کی ضیافت چکانے کے بعد بالآخر ہوٹل کا راستہ لیا۔ہم نے استقبالیہ پر اپنی رہائش کا حساب چکایا اور وہ اس لئے کہ صبح پانچ بجے کے لگ بھگ ہمیں استنبول کی پرواز پکڑنا تھی اور جس کے لئے ہمیں صبح تین بجے ہوٹل چھوڑ دینا تھا۔

قونیہ سے استنبول کی ایک گھنٹہ پرواز کے بعد ہم استنبول کے گرانڈیل ائیر پورٹ پر اپنی پوری ہمت اور طاقت کو عمل میں لا رہے تھے تاکہ مقامی پروازوں کے ٹرمینل سے بین الاقوامی پروازوں کے ٹرمینل کو یوں چھو سکیں کہ ہماری اپنی لندن کی پرواز کہیں ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے۔ الحمد للہ کے ہم بروقت گیٹ پر پہنچ پائے ، اللہ کا نام لے کر جہاز پر سوار ہوئے اور پھر تین گھنٹے فضا میں گزارنے کے بعد ہم لندن کی فضائی حدود میں داخل ہو چکے تھے لیکن بھلا ہو لندن ایئر پورٹ کے ٹریفک کنٹرول کا کہ ہمارے جہاز کو مزید ایک گھنٹہ فضا میں گردش کرتے رہنے کا حکم ہوا تاکہ ہمارے جہاز کے لئے ایئر پورٹ کی قدم بوسی کرنا ہموار ہو سکے، اور بالآخر ہم خیریت و عافیت کے ساتھ گھر پہنچے۔

’’والحمد اللہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات‘‘

٭٭٭

تبصرہ کریں