قدیم کارکن ممتاز علی کھوکھر کی وفات-مولانا محمد عبد الہادی العمری

جمعیت اہل حدیث برطانیہ کے قدیم کارکن، مدرسہ سلفیہ کے ٹیچر ماہنامہ صراط مستقیم کے معاون ممتاز علی کھوکھر 29دسمبر 2023ء جمعہ کی دوپہر 85 برس کی عمر پا کر برمنگھم میں انتقال کر گئے۔ممتاز صاحب مرکز اور برانچوں کے علماء اور منتظمین کے درمیان رابطہ ایک کڑی کی حیثیت رکھتے تھے ۔

مرکزی عمارت 20 گرین لین جب 1980 ء میں خریدی گئی، مرکزی سکریٹریٹ اور جامع مسجد کے لئے، اس وقت سے جن احباب نے اسٹاف میں شمولیت اختیار کی ان میں ایک نام ممتاز صاحب کا بھی تھا، جن کا تعلق راولپنڈی سے تھا، عرصہ سے برطانیہ میں مقیم تھے۔ اپنی آمد کے بعد ابتدائی کچھ مدت انہوں نے بریڈ فورڈ میں قیام کیا۔ وہاں بس ڈرائیور کی حیثیت سے کام کرتے رہے، پھر برمنگھم منتقل ہو گئے تو تادم آخریں یہیں کے ہو رہے۔

جمعیت اہلحدیث کا عارضی دفتر جب جارج آرتھر روڈ المراک سے گرین لین منتقل ہوا، اس وسیع و عریض عمارت میں مرکزی مدرسہ سلفیہ کا بھی باقاعدہ آغاز ہوا، اگر چہ کہ مدرسہ 1975 ء ہی سے جب جمعیت کی بنیاد رکھی گئی، جاری تھا لیکن اب مزید با قاعدگی کے ساتھ بھرپور کلاسیں شروع ہوئیں، اس وقت والدین کی خواہش ہوتی کہ بچوں کو اردو زبان کی اتنی تعلیم ضرور دی جائے کہ اپنے والدین اور فیملی کے افراد کے ساتھ گفتگو کرنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے میں تردد نہ ہو، اسی لئے اس وقت دینیات و غیره اکثر مضامین اردو میں پڑھائے جانے لگے بعد میں بتدریج یہ سلسلہ انگریزی میں منتقل ہوتا گیا ۔ اردو کی ضرورت گھٹتی گئی، لہٰذا اس وقت ایسے اساتذہ کی ضرورت تھی جو اردو اور انگریزی سے واقف ہوں تاکہ والدین کی خواہش اور طلبہ کی ضرورت کی تکمیل ہو سکے، اس ابتدائی ٹیم میں دیگر علماء اور ٹیچرز کے ساتھ ممتاز صاحب بھی شامل ہو گئے جو اردو، فارسی اور انگریزی سے واقف تھے ۔

اس وقت مسلم آبادی کچھ پھیلی ہوئی سی منتشر تھی، بچے صبح سے سہ پہر تین بجے تک سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم ہوتے اور مدرسہ سلفیہ میں مسائی تعلیم پانچ بجے سے شروع ہوتی، اکثر والدین کام کاج کی مصروفیات کے باعث بچوں کو خود سے مدرسہ نہیں پہنچا سکتے۔ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ

مدرسہ کی جانب سے سواری کا بندوبست کیا جائے تاکہ بچوں کی آمد و رفت میں سہولت ہو، اس کے لیے کچھ رضاکار ڈرائیونگ کی ذمہ داری نبھایا کرتے ان میں ایک ممتاز صاحب بھی تھے۔ چونکہ دیگر احباب مدرسہ کے وقت حاضر ہو کر یہی ڈیوٹی انجام دیتے لیکن ممتاز صاحب کا بیشتر وقت مرکزی دفتر ہی میں گزرتا اور طبیعت بھی مرنجا مرنج تھی اس لیے ان کی حیثیت مرکزی دفتر میں فری لانس ورکر جیسی ہوگئی، مرکز کی ایک گاڑی بھی ان کے قبضہ میں ہوتی ، طلبہ کے علاوہ جمعیت کا آرگن ماہنامہ صراط مستقیم پریس تک پہنچانا ، بروقت نیا شمارہ پریس سے اٹھانا، بلکہ حسب ضرورت اس کی پروف ریڈنگ، ترجمہ بھی کیا کرتے۔ دفتر کے حساب و کتاب کے لیے بنک پہنچنا ، پوسٹ آفس کی ضروریات مہمانوں کی آمد و رفت کے موقع پر انہیں اسٹیشن یا بس ڈبو پہنچانے کے علاوہ مختلف کام ان کے ذمہ ہوتے گئے ، ان کی خدمات سے فائدہ اٹھانا ہر کسی کے لیے آسان تھا، وہ ہر ایک کے بھی خواہ اور ہمدرد تھے، ہفتہ اور اتوار مرکز کی مختلف برانچوں کے علماء کے دورہ میں وہ شامل رہا کرتے، اپنے ظریفانہ مزاج سے سفر کی دوری اور تھکان کو ہلکا کئے رکھتے، اس وقت برطانیہ میں پھیلی مختلف شاخوں کے تنظیمی، تبلیغی اور تربیتی دوروں کیلئے زیادہ تر ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت مولانا محمود احمد میرپوری اور راقم جایا کرتے۔ یوں ممتاز صاحب مختلف برانچوں کے تنظیمی مسائل سے خوب واقف تھے۔ لوگ بھی ان کے ساتھ مانوس اور محبت سے پیش آیا کرتے ۔

ایک مرتبہ مولانا محمود احمد ، راقم اور ممتاز صاحب ڈیوز بری کے دوره سے برمنگھم واپس لوٹ رہے تھے، پروگرام کے ختم ہوتے ہوتے شام ہو گئی، ہلکی برفباری ہو رہی تھی۔ کچھ ہی دور چلے تھے کہ

برفباری میں شدت آتی گئی، گاڑی جو مولانا محمود صاحب کی تھی ممتاز صاحب ڈرائیو کر رہے تھے، اس کی بیٹری جواب دے گئی، کچھ دیر کے لیے گاڑی کھڑی کر دی گئی بلکہ کھڑی ہوگئی، چاروں طرف برف کی سفید چادر سی تن گئی اوپر سے لگاتار برفباری جاری تھی، ایسے موقعوں پر عموماً مولانا محمود اور ممتاز صاحب کے درمیان مکالمے اور نوک جھونک دلچسپ ہوا کرتے، مولانا اس ناگہانی پر نارا ضگی کا اظہار کر رہے تھے اور ممتاز صاحب اپنی بے بسی کا، کہ اتنے بڑے مولانا ہو کر اتنی قدیم گاڑی رکھی کیوں ؟ بہرحال اب کوئی چارہ تھا نہیں۔ طے پایا کہ ہم دونوں گاڑی کو دھکا دیتے ہیں شاید کچھ دیر حرکت ہو تو اسٹارٹ ہو جائے، راقم اور محترم مولانا یخ بستہ سردی میں گاڑی دھکیلتے رہے اور ممتاز صاحب اسٹیرنگ سنبھالے ان نازک لمحات میں ظریفانہ حس سے محظوظ ہوتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ واہ رے قسمت، ممتاز کے نصیب دو دو مدنی علماء مجھے گاڑی میں بٹھا کر اس کڑاکے کی سردی میں دھکیل رہے ہیں، میرے لیے یہ کیا ہی تاریخی لمحات ہیں!

عرصہ تک میرا ہفتہ واری در س قرآن لیسٹر میں ہوا کرتا، جماعت کے قدیم بزرگ جناب مبارک علی وڑائچ کے گھر درس ہوتا اس وقت جماعت کی مسجد نہیں تھی، اس درس میں اسلامک فاونڈیشن کے وابستگان اور مختلف اہل علم شریک ہواکرتے ۔

ہر ہفتہ یہ سفر ممتاز صاحب ہی کی رفاقت میں طے ہوتا ، راستہ میں متنوع موضوعات پر بے دھڑک اظہار خیال کرتے،مر کزی دفتر اور مدرسہ میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے نتیجہ میں تقریباً پچیس سال بعد ان کی ریٹائرمنٹ ہوگئی، پھر ہماری ملاقاتوں میں تسلسل باقی نہ رہا کبھی کبھار سر راہ ملاقات ہو جاتی یا کبھی کسی مناسبت خصوصاً ادبی اجتماعات میں یکجائی ہوتی، انہیں شعر گوئی کا ذوق سلیم تھا ۔ اس لحاظ سے حلقہ احباب اردو میں بھی وہ مشہور تھے۔

ان کے فرزند تیمور نے بذریعہ واٹس ایپ انتقال کی خبردی، 31؍ دسمبر بروز اتوار کی ظہر جامع مسجد اہلحدیث ان کا جنازہ لایا گیا۔ جہاں برسہا برس انہوں نے خدمات انجام دی تھیں ، ان کا دیدار کیا تو ماضی کی ’’یادوں میں کھو گیا‘‘ کچھ بکھری ہوئی یادوں کے قصے بھی بہت تھے۔ فیملی کے افراد کے ساتھ بہت سے شناساؤں نے شرکت کر کے خراج محبت پیش کی۔

نماز جنازہ کے فوری بعد مجھے موسم سرما کی مناسبت سے برید فورڈ میں منعقد ہونے والے پروگرام میں شرکت کے لیے روانہ ہونا تھا، جنازہ ہی میں شرکت کی خاطر منتظمین اجلاس سے اپنی باری مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی کیونکہ رفیق دیرینہ کے جنازہ میں عدم شرکت گوارہ نہیں تھی، لیکن آج کا یہ سفر ممتاز صاحب کی نہیں ان کی یادوں کی رفاقت میں طے ہوا۔

اللہ تعالیٰ ان کی بشری لغزشوں کو درگزر فرمائے، حسنات قبول کر کے اعلیٰ علیین میں جگہ عطا کرے۔ اہلیہ کا اور ایک بیٹے کا چند مہینے قبل ہی انتقال ہو چکا تھا صرف ایک بیٹا اور کچھ رشتہ دار ہیں ۔ اللہ صبر کی توفیق بخشے ۔ آمین

٭٭٭

عافیت یا صبر؟!

امام احمد بن حنبل کے فرزند صالح کہتے ہیں:

اعتللت من عَيْني لَيْلَة فَلم يزل عِنْدِي. فَقلت: اللَّهُمَّ أَنِّي أَسأَلك الصَّبْر. فَقَالَ: سل الله الْعَافِيَة، فان الصَّبْر إِنَّمَا يكون مَعَ الْبلَاء.

’’ایک رات میری آنکھوں میں تکلیف تھی؛ میرے والد ساری رات میرے پاس رہے۔ میں نے دعا کی: اے اللّٰہ! میں تجھ سے صبر کا سوال کرتا ہوں۔

والد کہنے لگے: خدا سے عافیت کا سوال کرو کہ صبر تو تکلیف اور آزمایش کے ساتھ ہوتا ہے۔‘‘

(سيرة الإمام أحمد از صالح، ص: 41)

تبصرہ کریں