پارٹنر شپ یا نکاح (اداریہ)۔ محمد حفیظ اللہ خان المدنی

پاکستان کے علاقے سوات سے تعلق رکھنے والی ملالہ یوسف زئی کسی تعارف کی محتاج نہیں، وہ برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے ڈگری یافتہ اور اب تک کی سب سے کم عمر نوبل انعام یافتہ خاتون ہیں۔ اس وقت بچوں میں تعلیم کو عام کرنے کی غرض سے پاکستان سمیت کئی ایک ممالک میں وہ اداروں کی سرپستی بھی کر رہی ہیں۔ رفاہی کاموں کے علاوہ وقتاً فوقتاً ان کے مختلف بیانات آتے رہے ہیں اور کچھ عرصہ قبل ان کی باقاعدہ ایک سوانح حیات بھی منظر عام پر آ چکی ہے۔

دیکھا گیا ہے کہ سوانح عمری سمیت ان کے بیانات میں مختلف ایشوز پر ان کی رائے نہ صرف متنازع رہی ہے، بلکہ دین کی بنیادی تعلیمات سے متصادم بھی رہی ہے۔

ابھی حال میں ایک امریکی فیشن میگزین Vouge میں ان کا ایک تفصیلی انٹرویو شائع ہوا ہے۔ جس میں حسب معمول ملالہ نے شادی اور نکاح کے حوالے سے کیے جانے والے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بلاجھجک کہہ دیا کہ لوگ آخر شادی کیوں کرتے ہیں۔ یہ بات میرے لیے ناقابل فہم ہے، اگر آپ زندگی میں کسی کےساتھ رہنا چاہتے ہیں تو نکاح نامے پر دستخط کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ صرف زندگی کے پارٹنر بن کر کیوں نہیں رہ سکتے۔ دیگر الفاظ میں ملالہ کا کہنا ہے کہ نکاح وقت کا ضیاع ہے۔ نکاح کے بغیر بھی مرد اور عورت کے مابین ازدواجی تعلقات قائم کیے جا سکتے ہیں۔

ملالہ کی یہ سوچ بلاشبہ نہایت خطرناک ہے۔ کیونکہ یہ کھلم کھلا بدکاری کو جواز فراہم کرنا ہے۔ جس کا اظہار ایسی خاتون کر رہی ہےجو نہ صرف مسلمان ہے بلکہ عالمی شہرت کی حامل بھی ہے۔ مسلمان نوجوان طبقہ خصوصاً خواتین اور نوجوان لڑکیاں انہیں اپنا رول ماڈل تصور کرتی ہیں۔ اس خاتون پر وہ فخر کا اظہار بھی کرتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کی اپنی رائے، ان کی اپنی شخصیت تک محدود نہیں رہ سکتی۔ اس رائے کی بنیاد پر مسلمان نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں بے راہ روی اور دین ومذہب سے آزاد رہنے کی سوچ کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملالہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ ہیں ۔ کئی ایک موضوعات پر بلا جھجک بول سکتی ہیں۔ مگر ایک خالص اسلامی مسئلہ پر اپنی رائے دینے سے قبل وہ اسلام میں نکاح اور شادی کے مقاصد کا مطالعہ کر لیتیں تو اس قسم کی ہرزہ سرائی نہ کرتیں۔ تعجب ہے کہ محض پارٹنرشپ پر مبنی جس طرز زندگی کو وہ پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھ رہی ہیں اور شاید اس طرز زندگی کو کئی ایک ازدواجی مسائل اور مشکلات کا حل بھی سمجھتی ہوں گی، اسی پارٹنرشپ نے مغربی ممالک میں خاندانی نظام کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے۔ جہاں ماں اور باپ کے حوالے سے تشکیل پانے والے نئے رشتوں کی، پارٹنرشپ کی زندگی جینے والی اولاد کے دل میں عزت وحرمت اور صلہ رحمی کا تصور تو دور کی بات ہے، ماں اور باپ خود اولاد کی نگاہ میں کسی عزت یا اہمیت کے حامل نہیں ہوتے۔ خاندان کیا ہوتا ہے، خاندان کی کیا اہمیت ہے، قطعاً اولاد کو اس کا علم نہیں ہوتا۔ اس کی ایک اہم وجہ نکاح کے بغیر ایک ساتھ زندگی گزارنے والے پارٹنرز اپنی اولاد کے تئیں کسی ذمہ داری کا نہ ادراک رکھتے ہیں اور نہ ہی وہ ایک پارٹنر پر قناعت کرتے ہیں۔

چنانچہ مرد ہو یا عورت ان کے تعلقات بیک وقت دیگر کئی مردوں اور عورتوں سے استوار رہتے ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد ہوس رانی اور جنسی خواہشات کی تکمیل ہوتا ہے۔ چونکہ وہ آپس میں کئی معاہدے میں بندھے نہیں ہوتے، لہٰذا جب جی چاہا ایک دوسرے کی زندگی سے یا تو ہمیشہ کے لیے غائب ہو جاتے ہیں یا محض ہو س رانی کی تکمیل کی غرض سے ان کی کبھی کبھی میل ملاقات رہتی ہے۔ ہمیں ایسے کئی نو مسلم نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں سے ملنے کا اتفاق ہوا جن کو اپنی ولدیت کا کوئی علم نہیں۔ محض پارٹنرشپ کی بنیاد پر پیدا ہونے والی اولاد والدین کی کامل توجہ، تربیت، محبت وشفقت، ایثار، مہربانی سے محروم ہو کر بے راہ روی کا شکار ہو جاتی ہے۔ حالیہ سروے کے مطابق یورپین ممالک میں جرائم پیشہ افراد میں 70 فیصد سے زائد ایسے نوجوانوں کی ہے جن کا بچپن Single parent یعنی صرف ماں یا باپ کے ساتھ گزرا ہے۔ اس احساس محرومی کی وجہ سے معاشرے کے خلاف ان کے سینے میں انتقامی جذبات پرورش پانے لگتے ہیں۔

کیا معاشرے کو ملالہ یوسف زئی اپنے اس پیغام کے ذریعہ یہی سوغات دینا چاہتی ہیں کہ جہاں جرائم کا چلن عام ہو، نئی نسلیں تباہ ہو رہی ہوں اور آپس میں محبت، ایثار وقربانی کا جذبہ ناپید ہو رہا ہو۔

اس کے مقابلے میں نکاح معاشرے میں پاکیزگی، عفت اور پاکدامنی کو فروغ دیتا ہے۔ نکاح کے ذریعے مرد اور عورت ایک معاہدے کے ذریعہ اپنے آپ کو ایک پاکیزہ بندھن میں باندھ لیتے ہیں۔ مرد ایک شوہر اور باپ کی حیثیت سے نہ صرف اپنی ذمہ داریوں کا بخوبی ادراک رکھتا ہے بلکہ اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے انتہائی خوشدلی اور محبت کے ساتھ ہر قسم کی قربانی کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ دوسری جانب عورت ایک بیوی اور ماں کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے خوشی ہو یا غمی، مشکلات ہوں کہ آسائش ہمہ وقت اپنے شوہر کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے۔ نیز بچوں کی تربیت اور ان کی ہر ضرورت کی تکمیل میں ہمہ وقت کوشاں۔ گویا شوہر اور بیوی نکاح کی بنیاد پر محبت والفت، ہمدردی اور ایثار میں ایک دوسرے کے لیے اس لباس کی طرح بن جاتے ہیں۔ جو سرد وگرم موسم کے نقصانات سے محفوظ رکھنے والا، جسمانی عیوب کی پردہ پوشی کرنے والا اور انسانی خوبصورتی میں اضافہ کرنے والا ہوتا ہے۔ گویا کہ شوہر اور بیوی ایک دوسرےکے لیے اور اپنی اولاد کے لیے ہر قسم کے تحفظ اور سلامتی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

یقیناً ایسے ماحول میں پرورش پانے والی اولاد پاکیزہ بنیادوں پر نسل انسانی کی بقا کی ضامن بن جاتی ہے۔ اسی نکاح کی بنیاد پر سینکڑوں پاکیزہ رشتے استوار ہوتے ہیں جو باہمی محبت ہمدردی، اپنائیت اور عزت واحترام جیسی اعلیٰ صفات سے متصف ہوتے ہیں اور انہی رشتوں کی بنیاد پر خاندان تشکیل پاتے ہیں اور یہی خاندان ایک ایسے پاکیزہ معاشرے کی تشکیل کرتے ہیں جو ہر قسم کی فحاشی، عریانیت، بے راہ روی اور فسق وفجور سے پاک صاف ہوتا ہے۔

کیا ملالہ کے لیے یہ بہتر نہیں ہے کہ اگر انہیں معاشرے میں عزت وشہرت نصیب ہوئی ہے تو اس اعلیٰ مقام کو دین کے نام پر نہ سہی، انسانی شرافت ونجابت اور اعلیٰ اخلاق وکردار کو فروغ دینے اور معاشرے میں نیکی اور بھلائی کو عام کرنے کی غرض سے، پارٹنرشپ پر مبنی زندگی کے بجائے نوجوان طبقہ کو نکاح کی جانب راغب کرے اور اگر ان میں یہ حوصلہ نہیں تو کم ازکم اپنی شخصیت کو معاشرے میں فحاشی، بے راہ روی اور فسق وفجور کو فروغ دینے کا ذریعہ نہ بنائے اور ہمیشہ دین کے معاملے میں رائے کا اظہار کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو پیش نظر رکھے کہ

﴿إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾  ( سورة النور: 19)

’’بےشک جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلے ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اور اللہ (ایسے لوگوں کے عزائم کو) جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘

والله ولي التوفيق

٭٭٭

نکاح سکون ومحبت کا ذریعہ

اسلام میں نکاح کوکسی نا محرم سے آپسی پیار و محبت اور جائز تعلق کی بنیاد قرار دیا گیا اور اسے زندگی کی بہت سی اہم ترین ضروریات کی تکمیل، سکون واطمینان اور باہمی الفت و مودت کا ذریعہ بنادیا گیا:

﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً﴾ (سورۃ الروم: 21)

”یعنی اللہ نے تمہاری ہی نسلوں سے تمہارے لیے جوڑا بنا کر ایک دوسرے کے سکون اور آپسی پیار ومحبت کا انتظام فرمایا اور اس کو اللہ کی نشانیوں میں اہم نشانی قرار دیا۔‘‘

نکاح نسل انسانی کے تحفظ کا ذریعہ

نکاح اور شادی فطری جنسی خواہشات کی تکمیل، نئی نسل کے وجود، پیدائش اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے بچوں کی کفالت اور پرورش کا ذریعہ بھی ہے۔اسی لیے خاتون کو بیک وقت ایک مرد کے ساتھ وابستہ کرکے نسل انسانی کا تحفظ، نطفۂ انسانی کے مشتبہ ہونے کے امکان کو ختم کرنے اور نو مولود بچے کے تئیں ماں باپ کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا پابند کیا گیا اور اس کو یقینی بنادیا گیا کہ اصل باپ اور پرورش وکفالت کا ذمہ دار معلوم و متعین رہے اس میں کسی طرح کا شک و شبہ نہ رہے۔

٭٭٭

نکاح مختلف رشتوں اور قرابت داری کا ذریعہ

نکاح وہ سنت ہے جس کے ذریعہ صرف دو لوگوں کو باہمی پیار و محبت اور الفت و مودت کے ساتھ مربوط نہیں کیا جاتا بلکہ بہت سے ایسے نئے رشتے بھی عطا کئے جاتے ہیں جو زندگی خوشگوار بنانے اور اس کی خوشیوں کو دو بالا کرنے اور دکھ درد بانٹنے کا سبب بن جاتے ہیں اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے نسبی رشتوں کی طرح نکاح کی وجہ سے بننے والے رشتوں کو اپنے انعام و احسان کے طور پر بیان فرمایا:

﴿وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا﴾ (سورۃ الفرقان : 54)

” اور وہی ہے جس نے پانی (کی مانند ایک نطفہ) سے آدمی کو پیدا کیا پھر اسے نسب اور سسرال (کی قرابت) والا بنایا۔ ‘‘

٭٭٭

تبصرہ کریں