نزیل مدینہ ڈاکٹرف عبدالرحیم-ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

آج ف عبد الرحیم کی یاد میں راہدار قلم کو مہمیز لگائی ہے تو معلوم ہوا کہ اس ہمہ گیر شخصیت کو جتنا میں نے ان کے چلے جانے کے بعد جانا ہے، اتنا تو پہلے کبھی نہ جانا تھا۔ 1969ء میں وہ ام درمان اور خرطوم کی جامعات میں تین سال گزارنے کے بعد شیخ ابن باز﷫ کی دعوت پر مدینہ تشریف لے آئے تھے اور میں دوسال قبل یعنی 1967ء کے اوائل میں جامعہ اسلامیہ مدینہ سے فراغت کے بعد نیروبی سدھار چکا تھا، اس لیے ان سے تعارف حاصل ہوتے ہوتے مدت گزر گئی لیکن بعد ازاں جب کبھی متبدئین کو عربی زبان پڑھانے کا آغاز کیا تو ایک کتاب کے سراپے نے گھیرے رکھا اور وہ تھی ف عبد الرحیم کی مایہ ناز تصنیف’دروس اللغۃ العربیہ لغیر الناطقین بہا‘

تین اجزاء پر مشتمل اس کتاب نے اتنا عروج حاصل کیا کہ اکثر غیر عربی ممالک کے مدارس اور معاہد میں اس نے اپنا بسیرا جا بسایا بلکہ یوں کہیے کہ ڈنکا جابجایا۔

میری بارہا مدینہ حاضری ہوتی رہی، تعارف کی راہ نکل آئی۔ والد محترم مولانا عبد الغفار حسن مدینہ منورہ میں 1980ء تک بحیثیت استاد حدیث اور اصول حدیث درس وتدریس میں مصروف رہے، ف عبد الرحیم سے ان کے گہرے مراسم تھے، اس لیے ان سے ملاقات کی سبیل بھی پیدا ہوتی رہی۔

جو طلبہ میرے تعارفی خط (تزکیہ) کے ساتھ مدینہ منورہ جاتے رہے، ان سے ڈاکٹر ف عبد الرحیم کی شفقت اور عنایت کے چرچے سنتا رہا۔ پھریہ بھی معلوم ہوا کہ جامعہ میں 26 سال کی تدریس کے بعد وہ جامعہ ہی سے متصل شاہ فہد کمپلیکس کی نذر ہو چکے ہیں جہاں انہیں معانی قرآن پر مشتمل مختلف تراجم پر نظرثانی کے بعد ان کی طباعت کا شرف حاصل ہوتا رہے گا۔ وہ یقیناً اس عظیم کام کے لیے اہل ترین شخص تھے کہ

جنہیں نہ صرف عربی، اردو، انگریزی بلکہ کئی دوسری مشرقی ومغربی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔

یہ فروری 2017ء کی ایک شام تھی، میں نے حجاز آمد کے بعد عمرہ کی ادائیگی کے بعد مدینہ کا قصد کیا۔ برادرم ضیاء الرحمٰن اعظمی نے گھر پر مدعو کر رکھا تھا۔ بتایا کہ ف عبد الرحیم بھی ان کی وسیع وعریض کوٹھی کے ایک گوشے میں کرایہ دار کی حیثیت سے مقیم ہیں اور کھانے پر حاضر رہیں گے۔ یہ وہ پہلا اور آخری موقع تھا کہ جب ہمیں ایک دوسرے کو مزید جاننے کا موقع ملا۔ انہوں نے ازراہِ کرم اپنی ایک تازہ تالیف بعنوان ’پردہ اٹھا دوں اگر چہرہ الفاظ سے۔۔۔‘ ہدیۃًعنایت فرمائی اور پھر یہ عقد کھلا کہ گو ان کا تعلق ہندوستان کی ریاست تامل ناڈو سے ہے لیکن اردو زبان کا فسوں ایک مدراسی صاحب علم کو بھی ویسے ہی اسیر کیے ہوئے ہے جیسے ذوق اور غالب کے ہم وطنوں کو۔

اور پھر اس کتاب سے یہ راز بھی افشاں ہوا کہ ان کے نام کا سابقہ ’ف ‘ دراصل انگریزی “V” کا متبادل ہے اور “V”سے مراد ان کی جائے پیدائش ’وامباڑی‘ کے پہلے حرف سے ہے اور یہ اس لیے کہ مدراسی روایات کے مطابق وہاں کے باسی اپنی شناخت کے لیے اپنے نام کے ساتھ اپنے وطن کے نام کے چند الفاظ لگانا پسند کرتے ہیں اور پھر انگریزی کا “V” ف کے روپ میں سما گیا۔ اب ان کی وفات کے بعد ان کے حالات زندگی کا مطالعہ کیا تو ان کی سحرانگیز شخصیت پر چھائے پردے سمٹنے شروع ہو گئے۔

انہوں نے مدراس یونیورسٹی سے انگریزی زبان اور لٹریچر میں ڈگری حاصل کی، علی گڑھ یونیورسٹی سے عربی میں ایم اے کیا۔ ماہر لسانیات کی حیثیت سے صدارتی ایوارڈ پایا، عربی زبان کی کشش انہیں دیار نیل لے گئی۔

الازہر میں داخلہ کیسے ملا، اس کی سرگزشت ان کے ایک شناسا، ڈاکٹر خلیل تماندار (کینیڈا)، ان الفاظ میں لکھتے ہیں کہ

جب انہیں کسی عرب ملک میں عربی کی تعلیم حاصل کرنے کا شوق سمایا تو 1963ء میں عید الفطر کی مناسبت سے انہوں نے مصر کے صدر کرنل جمال عبدا لناصر کو پیغام تہنیئت بھیجا جس میں انہوں نے الازہر میں اپنی عربی تعلیم مکمل کرنے کے اشتیاق کا اظہار کیا۔ یہ مبارکباد ایسی نہیں تھی کہ

اسے یاد رکھا جاتا لہٰذا اسے بھیج کر وہ بھول گئے لیکن آپ کو اچانک دو ہفتے کے بعد مصر کے نائب صدر حسین الشافعی کا ایک جواب موصول ہوا جس میں آپ کو مصری سفارت خانے میں اپنی تعلیمی اسناد اور کاغذات پیش کرنے کو کہا گیا۔ آپ نے ضروری سفر کی کاروائی کی اور جنوری 1964ء میں ازہر شریف میں تعلیم کا آغاز کر دیا۔ چونکہ اس وقت تک علی گڑھ یونیورسٹی کی اسانید کا یہاں اعتراف نہیں ہوا تھا لہٰذا آپ کا داخلہ اہلیتی امتحان لے کر کیا گیا۔

انہوں نے ڈاکٹریٹ کے لیے عربی زبان میں غیر عربی الفاظ وتراکیب کی آمیزش کا عنوان چنا اور اس موضوع پر تحقیق کا حق ادا کرتے ہوئے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی اور پھر اسی موضوع پر متعدد کتب بھی تصنیف کر ڈالیں۔ انہوں نے صرف لسانیات بلکہ تفسیر قرآن، شرح احادیث اور تایخ وسیرت کو بھی اپنا موضوع بنایا۔

مقصد صرف یہی تھا کہ عربی زبان کی تحصیل کے لیے ان بابرکت نصوص کا سہارا لیا جائے۔ کل 41 تصنیفات میں سے 24 بزبان عربی، 14 بزبان انگریزی اور 3 بزبان اردو، فہرستِ تالیفات میں نمایاں ہیں۔ دروس و مقالات کا سلسلہ اپنی جگہ پر ہے، ان کی تالیف کردہ واحد اردو کتاب جو میری لائبریری کی زینت بنی وُہی کتاب ہے جو انہوں نے مجھے تحفۃً عنایت کی تھی۔ جی چاہتا ہے کہ اس کے چند اقتباسات نقل کرتا چلوں کہ ان سے ف عبد الرحیم کی لغت شناسی، بحرلسانیات میں ان کی غواصی اور پھر اپنے چنیدہ موتیوں کی کوکھ سے برآمد نکتہ رسی، علم ومعرفت کے ساتھ ساتھ ایک پیغام کی خبر بھی لاتی ہے۔

پانچ الفاظ کو منتخب کیا ہے جن کی اصل اور نسل کو ڈاکٹر صاحب نے بڑی عمدگی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ملاحظہ ہو:

اندلس: یہ بہت ہی خوبصورت لفظ ہے اور اس ملک سے مسلمانوں کی شاندار تاریخ وابستہ ہے۔ عہد اسلامی کا اندلس تہذیب وتمدن کا گہوارہ، علم وفن کا مرکز اور معارف وحکمت کا منبع بنا ہوا تھا۔

لیکن لغوی اعتبار سے اس لفظ کی تاریخ لوٹ مار، غارتگری، تہذیب وتمدن کی تباہی کی مترادف رہی ہے۔

چوتھی اور پانچویں صدی عیسوی میں جرمنی کے شمالی مشرقی علاقے سے ایک قوم اٹھی۔ اس نے مغربی یورپ پر حملہ کیا اور قتل وغارت کا بازار گرم رکھا۔ 455ء میں اٹلی کے شہر روم (Rome) کو تاخت وتاراج کیا، وہاں کے گرجا گھروں کو مسمار کیا۔ اس قوم کا نام ونڈل (Vandals) ہے، اسی لفظ سے انگریزی اور دوسری یورپی زبانوں میں (Vandalism) کا لفظ آیا ہے جس کے معنیٰ ہیں: علوم وفنون کو تباہ کرنا، ہر خوبصورت چیز کو پامال کرنا۔

اس قوم کے کچھ لوگ جنوبی ہسپانیہ میں بس گئے، جس کی وجہ سے اس علاقے کا نام ’ونڈلوسیا‘ پڑ گیا۔ بعد میں جب اس لفظ کا سرکٹ گیا تو یہ ’انڈلوسیا‘ بن گیا، پھر یہ علاقہ تہذیب وتمدن کا گہوارہ بنا اور اس لفظ نے ’اندلس‘ کی نہایت ہی حسین صورت اختیار کر لی۔

جوبلی: کسی واقعہ کے پچاس سال مکمل ہونے پر بنائی جانے والی تقریب یہ دراصل یہودیوں کی عید ہے، یہ عید پچاس سال میں ایک مرتبہ منائی جاتی ہے اور اس موقعہ پر غلاموں کو آزاد کیا جاتا ہے، قرضے معاف کیے جاتے ہیں اور غصب شدہ چیزیں واپس کر دی جاتی ہیں اور اس جشن کا اعلان مینڈھے کے سینگ میں پھونک کر کیا جاتا تھا۔

انگریزی میں اس کا املاء Jubilee ہے، اسی سے Jubilation کا لفظ مشتق ہوا ہے جس کے معنی جشن منانے کے ہیں۔

یہ عبرانی لفظ ہے اور اس زبان میں اس کی اصل ’یوبیل‘ ہے جس کے معنیٰ ہیں: مینڈھے کا سینگ۔ عربی میں اسے ’یوبیل‘ کہتے ہیں۔

مسلمانوں کو اس لفظ کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔

سبابہ: عربی میں انگشت شہادت کو کہتے ہیں۔

اس کے اصل معنیٰ ہیں:

گالی دینے والی انگلی، اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ انسان گالی دیتے وقت اسی انگلی سے اشارہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ’’تم ایسے ہو، تمہارے ساتھ ایسا کروں گا۔‘‘ وغیرہ

یہ لفظ حدیثوں میں بھی آیا ہے، چنانچہ بخاری کی ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

’’میں اور یتیم کی دیکھ بھال کرنے والا جنت میں ایسے قریب ہوں گے اور آپﷺ نے سبابہ اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا۔‘‘

بعد میں اس کا نام ’مسبحہ‘ پڑ گیا یعنی تسبیح والی انگلی اور اس کو یہ نام اس لیے دیا گیا کہ نماز میں تشہد کے دوران اس سے اشارہ کیا جاتا ہے۔

مسافت: یہ عربی لفظ ’ساف‘ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں: سونگھنا اور ’مسافۃ‘ اسم مکان ہے، یعنی (سونگھنے کی جگہ)۔ بھلا اس لفظ میں فاصلہ اور دوری کے معنی کیسے پیدا ہو گئے۔ اس سوال کا جواب صحرا نشین عربوں کی طرزِ زندگی میں پوشیدہ ہے۔

لق ودق صحراء میں سفر کرنے والے مسافر یہ جاننے کے لیے کہ

آیا وہ صحیح راستے پر گامزن ہیں یا نہیں راستے کی مٹی اٹھا کر سونگھتے تھے اور اس کی بو سے صحیح راستے کا پتہ لگا لیتے۔

مشہور عربی شاعر رؤبۃ اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے:

إذا الدليل استاف أخلاق الطرق

یعنی جب رہبر راستے کے حالات معلوم کرنے کے لیے اس کی مٹی سونگھے۔

المصباح المنیر کے مصنف الفیومی کہتے ہیں:

’’لفظ مسافۃ ساف سے ماخوذ ہے جس کے معنیٰ ہیں: سونگھنا، اس کی وجہ یہ ہے کہ بھٹکا ہوا رہبر راستے کی مٹی لے کر سونگھتا ہے، اگر اس کو (اونٹوں کے) پیشاب اور (ان کی ) مینگنیوں کی بو آئے تو اس کو اطمینان ہو جاتا ہے کہ قافلہ صحیح راہ پر گامزن ہے اور اگر مٹی میں پیشاب کی بو نہ ہو تو پھر اسے اس بات کا یقین ہو جاتا ہے کہ قافلہ راہ بھٹک چکا ہے۔‘‘

غبارِ راہ سے راستہ معلوم کرنے کا یہ طریقہ آج کل بھی مستعمل ہے۔ میرے ایک دوست نے بتایا کہ ایک دفعہ وہ اپنے نابینا دوست کے ساتھ ٹیکسی سے جا رہے تھے، راستے میں ٹیکسی خراب ہو گئی اور ان کو پیدل چلنا پڑا، میرے دوست اس جگہ سے ناواقف تھے نابینا نے کہا:

کوئی فکر کی بات نہیں، میرے دوست اس جگہ سے ناواقف تھے، نابینا نے کہا:

کوئی فکر کی بات نہیں، میں ابھی معلوم کرتا ہوں ، انہوں نے زمین کی مٹی اٹھا کر سونگھی اور کہنے لگے: مجھے پتہ چل گیا کہ ہم کہاں ہیں اور ان کی راہنمائی میں وہ منزل مقصود تک پہنچ گئے۔ صحرا نو ردوں نے کتنا فاصلہ طے کر لیا ہے اور منزل مقصود تک کتنا فاصلہ باقی ہے؟ بھٹکے ہوئے مسافر راہ راست سے کتنے دور اور ہلاکت سے کتنے قریب ہیں؟ چونکہ ان باتوں کا علم راستے کی مٹی سے سونگھنے سے حاصل ہوتا ہے اس لیے لفظ ’مسافت‘ سے ’بو‘ نکل گئی اور اس کی جگہ ’فاصلہ‘ نے لے لی۔

ہنی مون: Honymoon کے Moon سے عام طور پر مہینہ مراد لیا جاتا ہے، یعنی شہد جیسی حلاوت کا مہینہ۔ مگر انگریزی زبان کے محققین بتاتے ہیں کہ یہاں Moon سے مراد مہینہ نہیں بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ شادی کی ابتدا میں دولہا دلہن کی محبت عروج پر ہوتی ہے، لیکن مرورِ زمانہ سے اس میں چاندکی طرح گھٹاؤ پیدا ہونے لگتا ہے۔ 1656ء کی ایک عبارت میں اس کی طرف واضح اشارہ ہے:

Honeymoon applyed to those marryed persons that love well at first, and decline in affection afterwards; it is honey now, but it will change as the moon.

یعنی ہنی مون کا اطلاق ان شادی شدہ اشخاص پرہوتا ہے جو ابتدا میں ایک دوسرے کو بہت چاہتے ہیں لیکن بعد میں ان کی محبت گھٹنے لگتی ہے، ابھی تو شہد کی حلاوت ہے لیکن یہ حلاوت چاند کی طرح گھٹ جائے گی۔

یہ عجوبہ روزگار شخصیت 9؍اکتوبر 2023ء کو اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئی۔ رہے نصیب کہ بقیع (مدینہ منورہ) میں دفن ہونے کی سعادت پائی۔

اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه وأدخله فى جنتك الفردوس

٭٭٭

آخر عمر میں نیک اعمال کی کثرت کا جذبہ

قيل لنافع مولى ابن عمر : ماذا كان يصنع ابن عمر في بيته؟ قال: لاتطيقونه، الوضوء لكل صلاة والمصحف في ما بينهما

’’سیدنا عبداللہ بن عمر کے آزاد کردہ غلام نافع سے پوچھا گیا: ابن عمر ( ) گھر میں کیا کرتے تھے؟ کہا: تم اس کی ہمت نہیں رکھتے؛ ہر نماز کے لیے وضو کا اہتمام اور ان کے درمیان مصحف کی تلاوت۔‘‘

(سير أعلام النبلاء:3؍215)

٭٭٭

رجب کے کونڈوں کی حقیقت

22رجب کوامام جعفر صادق﷫ کا دن منانے کے حوالے سے کونڈے کیے جاتے ہیں۔ حالانکہ اس کی حقیقت یہ ہے کہ

امام جعفر صادق نہ تو اس دن پیداہوئے اور نہ ہی وفات پائی جبکہ 22رجب سیدناامیرمعاویہ کی وفات کا دن ہے۔ سیدنا امیرمعاویہ صحابی رسول،کاتبِ وحی اور رسول اکرمﷺ کی زوجہ سیدہ ام حبیبہ کے حقیقی بھائی تھے۔ آپ کا سیدناعلی المرتضیٰ سے سیدنا عثمان غنی کی شہادت کی وجہ سے قصاص کا مسئلہ رہا جس کی وجہ سے ایک طبقہ آپ کا شدید مخالف تھا۔

یہی وجہ تھی کہ سیدنا امیرمعاویہ کی وفات کے دن یعنی22رجب کو یہ طبقہ خوشیاں مناتا تھا اور اس خاطر کہ اس کااظہار نہ ہو گھروں کے اندربند ہوکر حلوے مانڈے پکاتے اورکھاتے تھے جو انتہائی گھناؤنا جرم اور بدترین حرکت تھی۔ کسی صحابی کے غم پر خوشیاں منانا کتنا بڑا جرم ہے اس کے بارے میں رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:

’’جس نے میرے صحابہ پر شب وشتم کیا،(انہیں جرح وتنقید اور برائی کاہدف بنایا) تواس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبرانی:12؍142)

کونڈوں کی یہ رسم بعد میں عام مسلمانوں میں کس طرح پھیلی:

1906ء میں ریاست رام پور میں امیرمینائی لکھنوی کے فرزند خورشید احمدمینائی نے ایک عجیب وغریب لکڑھارے کی کہانی چھپواکر رام پور کے مسلمانوں میں تقسیم کروادی اس کہانی کی کوئی سند نہیں ہے اور نہ ہی کسی مستند کتاب میں موجود ہے۔ اس جھوٹی داستان کانام ’’داستانِ عجیب‘‘ اور’’نیازنامہ‘‘ رکھاگیا۔ اس کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ 22 رجب کو اگر کوئی شخص امام جعفرکے نام کی کونڈوں کی نیاز کرے گا تو اس کی ہرحاجت پوری ہوگی، اگر ایسا نہ ہوتوقیامت کے دن وہ میرا(امام جعفر) کا دامن پکڑسکتاہے۔ معاذاللہ کوئی مسلمان ایسی بات نہیں کرسکتا یہ امام جعفر پر بہتان ہے کہ وہ شرک اور کفر کی تلقین کریں۔

٭٭٭

تبصرہ کریں