نصرانیت کے نگہبان کنگ چارلس کی تاجپوشی۔ مولانامحمد عبد الہادی عمری مدنی

6؍مئی 2023ء کو 74 سالہ چارلس کی باقاعدہ رسم تاجپوشی انگلینڈ کے مرکزی کنیسا میں چرچ آف انگلینڈ کے روحانی پیشوا نے ادا کی، اگر چہ کہ ان کی والدہ ملکہ الزبتھ کی وفات کے بعد سرکاری طور پر انہیں برطانیہ کے تخت شاہی کا وارث قرار دیا جا چکا تھا اور اس کا مشاہدہ دنیا کر چکی تھی لیکن تاجپوشی کی رسم چند ماه بعد ادا کی گئی، اسی طرح ملکہ الزبتھ اپنے والد جارج کی وفات 16 فروری 1952ء کے ساتھ ہی ملکہ قرار دی جا چکی تھیں لیکن تاجپوشی کی رسم تقریباً 16 ماہ بعد 2؍جون 1953ء کو ادا کی گئی۔

چارلس کے بادشاہ بننے میں کوئی بڑی رکاوٹ نہیں تھی کیونکہ وہ ملکہ الزبتھ کے بڑے بیٹے ہیں اور دستور شاهی کے مطابق سربراہ کی پہلی اولاد تخت شاهی کی وارث ہوتی ہے لیکن ضمنی کچھ امور تھے، انہوں نے اپنی پہلی شادی کی ناکامی کے بعد دوسری شادی کرلی، اور جس خاتون سے شادی کی ان کا تعلق عیسائیت کے کیتھولک فرقہ کے ساتھ ہے۔ وغیرہ وغیرہ لیکن دم توڑتی عیسائیت میں ان باتوں کو گوارہ کر لیا گیا، نہ صرف ان امور کو برداشت کر لیا گیا بلکہ تقریب تاجپوشی کو دراصل احیاء نصرانیت کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی گئی ۔ نصرانی افکار و نظریات کی ترویج کی گئی۔ نصرانیت کے ٹمٹماتے مذہبی چراغ کو اس کے ذریعہ توانائی فراہم کی گئی، جیسے ملکہ کی موت اور مراسم جنازہ کے موقع پر کیا گیا ۔ اس تقریب میں شرکت کے لیے چنندہ سیاسی، سماجی اور مذہبی افراد کو مدعو کیا گیا تھا انہیں مذہبی اور تخیلاتی مراسم کی انجام دہی کے لیے مکمل دو گھنٹے بٹھائے رکھا گیا، اور کنیسا کی حیثیت کو باور کرایا گیا کہ رسم تاجپوشی ہو یا ملکہ کی وفات یا تقریب شادی ہو یا غم اس کی انجام دہی کے لیے چرچ میں آنا ہوگا ، مذہبی پیشوا ہی تاج شاہی اپنے ہاتھوں سے بادشاہ سلامت کے سر پر رکھے گا۔ وغیره وغیره

اس مناسبت سے خصوصی اہتمام کے ساتھ بائبل کا قدیم نسخہ حلف برداری کے لیے لایا گیا ۔ قدیم روایات کو برقرار رکھتے ہوئے بطور نیک شگون چارلس کو بارہ سو سالہ قدیم کرسی پر بٹھا یا گیا، شاہی لباس جسے زیب تن کرکے وہ چرچ میں طمطراق کے ساتھ داخل ہوئے تھے، اتار کر نہایت سادہ لباس جو عجز و انکساری کا نمونہ پیش کر رہا تھا پہنایا گیا ، بیت المقدس سے لائے جانے والے روغن زیتون جو یروشلم کے بشب لئے حاضر ہوئے تھے ۔حصول برکت کے لیے چارلس پر مَلا گیا، کیونکہ روغن زیتون کو نصرانی اور یہودی پیروکاروں کے ہاں خدائی تحفہ سے تعبیر کیا جاتا ہے قرآن مجید اور احادیث میں اس کے درخت، پھل اور تیل کی تعریف کی گئی جبکہ قدیم یونانی تہذیب میں شاخ زیتون کو امن اور امید کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔

پھر کنگ چارلس سراپا عجز و انکساری کا مجسم نمونہ بنے سرنگوں کچھ دیر کھڑے رہے کہ گویا بارگاہ ایزدی سے تخت شاہی پر متمکن ہونے کے لیے فیوض و برکات حاصل کر رہے ہیں، اور جب کچھ دیر بعد بشپ نے اشارہ دیا کہ فیوض حاصل ہو چکے ہیں دوبارہ انہوں نے خلعت شاهی زیب تن کیا ، اور ہیرے

جواہرات سے مزین تاج ان کے سر پر رکھا گیا، ان کے ہاتھوں میں عصا اور کرہ Orband تھمایا گیا جو نصرانی عقیدہ کے مطابق قوت و سطوت کی علامت ہے ۔حلف نامہ پڑھتے ہوئے دیگر امور کے علاوہ چارلس نے اعلان کیا کہ وہ نصرانیت کی نگہبانی کریں گے۔

Defender  of The Faith ، چارلس جب ولی عہد تھے، ایک موقع پر انہوں نے کہدیا تھا کہ میں خود کو کسی مخصوص مذہب کے محافظ کے بجائے تمام مذاہب کا محافظ کہلانا پسند کروں گا۔ اگر چہ کہ یہ بات برطانیہ کے بدلتے ہوئے سماجی اور مذہبی حالات کے پیش نظر حقیقت پر مبنی تھی۔ لیکن اس کے خلاف مسیحی دنیا اور برطانیہ کے کرسچن رہنماؤں نے طوفان کھڑا کر دیا، کیونکہ ان کے نظریہ کے مطابق برطانیہ کا سر براہ اصلاً نصرانیت کا محافظ ہوتا ہے۔ ضمناً دیگر مذاہب کا خیر خواہ ہو تو قابل قبول ہے لیکن اس کے اظہار کی ضرورت نہیں ورنہ تمام ادیان کو مساوی حیثیت دی جائے تو چرچ آف انگلینڈ کی امتیازی حیثیت متاثر ہوگی ۔ کرسچن مشنریوں کی جانب سے پروپیگنڈہ اتنا شدید اور منظم تھا کہ ولی عہد کو ہتھیار ڈالنا پڑا اور تقریب حلف برداری میں نصرانیوں کی لکھی ہوئی عبارت کہ میں مذہب خاص نصرانیت کا محافظ رہوں گا کہنا پڑا۔

اس پر کئی دانشوروں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چارلس کا خیال حقیقت پسندانہ تھا، لیکن مذہبی جنونیوں کے آگے کون ہمت کرے کیونکہ آج کا برطانیہ ان کی والدہ کی رسم تاجپوشی سے بہت مختلف برطانیہ ہے، اس وقت اس تقریب میں مختلف مذاہب کے لوگ شریک ہیں۔ برطانیہ متنوع ثقافتوں اور مذاہب کا ملک بن چکا ہے، اس کے ایک اہم حصہ اسکاٹ لینڈ کا وزیر اول حمزہ یوسف، ویسٹ منسٹر انگلینڈ کا میر حمزه تاوزال دونوں باریش مسلمان ہیں ، انگلینڈ کا وزیر اعظم ہندو رشی سناک، لندن کا میئر جو براہِ راست عوامی ووٹوں سے منتخب ہوتا ہے۔ صادق خان مسلمان ہے۔ وغیرہ وغیرہ جو اس وقت اس تقریب میں موجود ہیں، اور بادشاہ تو سب کا ہوتا ہے، اگر وہ کسی مخصوص مذہب ہی کا محافظ ہونے کا اعلان کرے تو دیگر لوگوں کے مذہبی جذبات کی ترجمانی کیسے ہو سکے گی۔

لیکن میدان سیاست کے انداز اور پیمانے نرالے ہوتے ہیں، یہاں آدمی کو بار بار سچائی اور انصاف سے پیچھے ہٹنا ہوتا ہے ، یہاں مفادات، خود غرضی، مکرو فریب اور خیانت کا راج ہوتا ہے، خود اگر اقتدار پر براجمان ہوں تو جو اصول اپنائے جاتے ہیں، اپوزیشن میں ہو کر وہی جرم اور قابل مواخذہ بن جاتے ہیں ۔

مختلف خاندانوں اور قبیلوں کی طرح شاہی خاندان میں بھی آپسی چپقلش اور ریشہ دوانیاں جاری ہیں، جو کبھی بڑھ جاتی ہیں اور کبھی کم اور کبھی مصنوعی طریقہ سے دبائی جاتی ہیں، کم سے کم فوٹو گرافوں کے سامنے مسکرا کر مصافحہ کرنا ہوتا ہے، چاہے دل کتنا ہی مجروح ہو۔

یہ دل لگی نہیں دل لگانا ہے کہ زخم کھا کے اس پہ مسکرانا ہے۔

شاہی محلات کی سازش تو تاریخ کا عبرتناک باب رہا ہے،زرق برق لباس، فلک بوس عمارتوں اور چمچماتی کاروں کے پیچھے کتنی خوفناک سازشیں جنم لیتی ہیں کہ قریب ترین رشتہ دار بھی ایک دوسرے کے جانی دشمن ہوتے ہیں، جو حصول اقتدار کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، اس مسئلہ میں مسلم اور غیر مسلم ممالک کے درمیان کوئی فرق نہیں ۔ الاماشاء اللہ

برطانیہ کے شاہی افراد میں بھی اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن محدود سطح پر، تقریب تاجپوشی میں کنگ چارلس کے دوسرے فرزند ہیری کی شرکت بہت ساروں کے لیے باعث اطمینان رہی۔ ورنہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ شاید وہ شرکت ہی نہ کریں، کیونکہ کچھ عرصہ سے انہوں نے شاہی اعزازات اور ذمہ داریوں سے خود کو علیحدہ کر رکھا ہے، وہ زیادہ وقت اپنی امریکی بیوی کے ساتھ امریکا میں گزار رہے ہیں۔

یہ دنیا رنج و راحت کا غلط اندازہ کرتی ہے

خدا ہی خوب واقف ہے کہ کس پر کیا گزرتی ہے

برطانوی دستور کے مطابق بادشاه اگر چہ کہ سربراہ مملکت ہوتا ہے لیکن وہ سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتا، یہ عہدہ اور منصب علامتی نوعیت کا ہوتا ہے، پارلیمنٹ کے خصوصی سیشن میں ان کی تقریر تو ہوتی ہے ، نئی حکومت کی تشکیل کا آرڈر وہی دیتا ہے، لیکن یہ تقریر حکومت ہی کی تیار کردہ ہوتی ہے۔ اس طرح شاہی افراد عوامی تنقید اور تبصروں سے بڑی حد تک محفوظ رہتے ہیں، نہ وہ پالیسی ساز ہوتے ہیں، نہ سیاسی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں، کسی پروگرام میں ان کی شرکت عموماً ایک اعزاز سمجھا جاتا ہے، دنیا میں بدلتے ہوئے رجحانات کے پیش نظر یہ محفوظ اسلوب دکھائی دیتا ہے ، ورنہ اگر بادشاہ کے ہاتھ سیاسی زمام کار ہو تو کئی نقصانات اور خرابیوں کا سبب بنتی ہے۔ موجودہ ترقی یافتہ آزاد معاشرہ کے لیے یہ بات قابل قبول نہیں کہ شاہی فیملی میں پیدا ہونے والا شخص ہی پدرم سلطان بود کہتے ہوئے اقتدار پرمتمکن ہو، چاہے وہاں تک پہنچنے میں اس کے ہاتھ کتنوں کے خون سے رنگین ہوئے ہوں اور کتنوں کی کھوپڑیوں پر قدم رکھتے ہوئے وہاں تک پہنچا ہو اس پر مزید یہ کہ اپنی کرسی کی حفاظت کے لیے ملکی دولت کا ایک وافر حصہ بے دریغ خرچ کیا جائے، جس کا عوامی خوشحالی یا ملکی ترقی سے کوئی تعلق نہیں، یہ دولت صرف بادشاہ کو سلامت رکھنے کے لیے خرچ ہوتی ہے۔ نیز جہاں ایسی بادشاہت ہے وہاں عوامی جذبات کا خون عام سی بات ہے ۔حتی کہ لب کشائی بھی قابل مواخذہ جرم متصور ہوتا ہے ۔ لیکن برطانوی طرز بادشاہت کا فائدہ یہ ہے کہ ملکہ الزبتھ کے طویل ترین دورانیہ کے باوجود وفات کے وقت کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 62 فیصد لوگ نظام شاہی کی تائید بلکہ متوالے نظر آئے۔ اب بھی تقریب تاجپوشی اور سرکاری پریڈ اور شوکت شاہی کا مظاہرہ دیکھنے کے لئے سردی اور بارش کے باوجود طویل قطار میں لوگ بیتاب تھے۔

برطانوی فوجی پریڈ اور ڈسپلن ضرب المثل ہے، دنیا کی

بڑی قوتوں کو بھی اس کا اعتراف ہے۔

رسم تاجپوشی کے ساتھ ہی مذہبی رہنما بشب نے خود ہی سب سے پہلے کنگ چارلس کی بیعت کی، پھر ولی عہد پرنس ولیم نے ، اس کے بعد بیعت عامہ کا اعلان کر دیا گیا کہ بجائے اس کے کہ لوگ حاضر ہو کر انفرادی طور پر پیمان عہد و وفا کریں، اپنی اپنی جگہوں سے اقرار کرلیں کافی ہے۔ اس موقع پر شرکاء نے جذبہ خیر سگالی کا اظہارکرتے ہوئے دعا کی کہ

GOD SAVE KING CHARLES

کہ خدا شاہ چارلس کو سلامت رکھے

ہم بھی دعا کرتے ہیں کہ وہ رعایا کے لئے باعث خیر ثابت ہوں ۔

پھر مخصوص دھن پر بینڈ باجے کے ساتھ مذہبی نغمے پڑھے گئے ۔ کنڈیکٹر کے اشاروں پر عجیب انداز سے اتار چڑھاؤ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہاں عبادت شائستگی، خشوع اور للہیت کے بجائے بینڈ باجے اور موسیقی کی دھنوں کے گرد گھومتی ہے، ایسے ہی مشرکین عرب کے دنیا کی مقدس ترین سرزمین بیت اللہ میں عبادت کے نام پر غیر شائستہ حرکتیں کیا کرتے، مختلف آوازیں خصوصاً پرندوں کی آواز میں نکالتے اور تالیاں بجایا کرتے ۔ عبادت کے نام پر اس غیر مہذب انداز کو انہوں نے اپنے بتوں کی خوشنودی اور تقرب کا ذریعہ بنایا تھا۔ اس تناظر میں سوره الانفال کی آیت 35 کا مطالعہ اہمیت رکھتا ہے:

﴿وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِندَ الْبَيْتِ إِلَّا مُكَاءً وَتَصْدِيَةً﴾

اس کی جھلک چرچ کے اندر دیکھنے میں آئی ، دوسری طرف محفل قوالی اور صوفیانہ مجالس میں بھی اس کے نمونے دیکھے جاسکتے ہیں ۔نصرانیوں نے مذہبی رسوم اور عبادات کو پرکشش بنانے کے لئے نت نئے وسائل اور انداز اختیار کئے، لیکن جب کبھی شعائر دینی اپنی جگہ سے ہٹ جائیں تو اس میں وقتی کشش تو دکھائی دیتی ہے، لیکن اس کو دوام اور بقا نہیں ۔

٭٭٭

تبصرہ کریں