نشہ ہر شر کی کنجی ہے۔سید حسین بن عثمان عمری مدنی، حيدرآباد

انسانوں پراللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں ہیں ۔(سورۃ ابراہیم: 34؛ سورۃ النحل: 18)

جن میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزت بخشی ۔(سورۂ بنی اسرائیل: 70)

اور بقول امام قرطبی﷫ یہ عزت وفضیلت محض عقل کی بنا پر ملی۔( الجامع لاحکام القرآن)

لیکن جب انسان منشیات کے استعمال سے اپنی عقل زائل کرلیتا ہے تو اس کے اور جانوروں کے درمیان کسی بھی قسم کا فرق باقی نہیں رہتا ، بلکہ کبھی کبھار تو حیوان سے بدتر ہوجاتا ہے ، کیوں کہ جانور سے کچھ فائدہ ہوسکتا ہے لیکن نشہ آور اشیا کے استعمال کے ذریعے عقل زائل کرنے والے سے کسی بھی طرح کا فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔

شریعت کے اہم ترین مقاصد میں دین، جان، مال، نسل کے ساتھ ساتھ عقل کی حفاظت بھی داخل ہے۔ (علم مقاصد الشارع لد عبد العزیز بن ربیعہ )

شاید اسی لیے قرآن مجید کی (72) آیات عقل اور عقل سے متعلق تعلیمات وہدایات پر مشتمل ہیں۔

امام حسن بصری﷫ (متوفیٰ 110ھ) نے فرمایا کہ اگر عقل کو ئی شے ہوتی تو لوگ بڑھ چڑھ کر اس کی قیمت لگاتے ٗ پر ایسوں پر بڑا تعجب ہوتا ہے جو خود اپنے مال سے ایسی چیز خریدتے ہیں جس سے ان کی عقل چلی جاتی ہے۔ (ربیع الابرار ونصوص الاخیار للزمخشری ، الباب السادس والسبعون: 61)

دیکھا گیا کہ جب کسی معاشرے میں ذہنی تناؤ، ناانصافی، ناکامی ومایوسی، عدم تحفظ وبدعنوانی اور مستقل افسردگی (Depression) بڑھ جاتی ہے تو لوگ شدت سے نشہ آور اشیا استعمال کرنے لگتے ہیں، دوسری جانب انسان دشمن عناصر اور انسان نما شیطان یا حیوان منشیات کو عام کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہتے ہیں، واضح رہے کہ مے نوشی کی عادت کے متعلق ایک عالمی مطالعے سے انكشاف ہوا کہ اس معاملے میں خواتین مردوں کے برابر پہنچ چکی ہیں ، بلکہ بظاہر دین دار ومہذب گھرانے بھی اس لت سے محفوظ نہیں۔

منشیات کے حوالے سے تین نکات بخوبی سمجھ لینے چاہیے:

٭ ہر نشہ آور (Intoxicant)شراب (Alcohol) ہے ۔(صحیح مسلم: 2003)

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ نے فرمایاکہ اللہ پنے شراب کو محض اس کے نام کی وجہ سے حرام قرار نہیں دیا ، بلکہ اس کے انجام کی وجہ سے حرام قرار دیا ہے ، لہٰذا ہر وہ مشروب جس کا انجام شراب کے انجام کی طرح ہے تو وہ شراب ہی کے درجے میں حرام ہے۔(سنن الدارقطنی : 4669، اس اثر پر کچھ اہل علم نے کلام کیا لیکن امام قرطبی وامام ابن عبد الہادی ﷭ اور دیگر اہل علم نے اس سے استدلال کیا ۔)

شراب وہ ہے جو عقل پر چھا جانے لگے اور اسے متاثر وماؤف کردے۔(صحیح بخاری : 4343)

امام ابن حجر ﷫ نے فرمایاکہ اگر نشہ آور شے سیال (Liquid)نہ ہو تب بھی وہ حرام ہے۔(فتح الباری ، باب الخمر من العسل)

بنا بریں نشہ کرنے کی ساری شکلیں حرام ہیں، جن سے مکمل طور پر بچنا واجب ہے۔

جس چیز کی زیادہ مقدار کا استعمال نشہ پیدا کرتا ہے اس کا کم مقدار میں استعمال کرنا بھی حرام ہے۔ (جامع ترمذی: 1865،بروایت جابر بن عبد اللہ، بَسند صحیح)

نبی ﷺ نے ہر نشہ آور شے اور نشے کا سبب اور ذریعہ بننے والی شے دونوں سے منع فرمایا۔ (سنن ابی داؤد: 3686، بروایت ام سلمہ، اس حدیث پر کچھ اہل علم نے کلام کیا ، جب کہ امام عراقی وشیخ البانی ﷫وغیرہ نے اسے صحیح اور امام ابن حجر﷫ نے اسے حسن قرار دیا۔)

منشيات كا حکم

1۔نبی ﷺ نے جب شرک سے سخت منع فرمایا کہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں یا جلا کر راکھ کر دیے جائیں تب بھی شرک نہ کرنا اسی وقت نشہ آور اشیا کے استعمال سے بھی منع کیا۔( سنن ابن ماجہ: 4034)

2۔نشہ آور اشیا کے استعمال کا گناہ بڑا ہے ۔ (سورۃ البقرہ: 219)

اوربحالت نشہ نماز سے قریب ہونا منع ہے۔ ( سورۃ النساء: 43)

بلکہ نشہ آور اشیا کا استعمال ایسا گندہ اور شیطانی عمل ہے جس سے بغض وعداوت او ردین بے زاری پنپتی ہے ٗ لہذا دونوں جہانوں کی کام یابی کے لیے اس سے مکمل طور پر بچنا چاہیے۔(سورۃ المائدۃ: 90۔91)

3۔صحابہ کے نزدیک زنا اور چوری سے زیادہ سنگین گناہ نشہ آور اشیا کا استعمال تھا ٗ کیوں کہ نشہ خور پر ایک ایسی گھڑ ی گزرتی ہے جس میں وہ رب فراموش ہوجاتاہے۔(شعب الایمان: 5600 اور بعض تحقیقات کے بمطابق 5211، بقول عبد اللہ بن عمرو ، اس اثر پر کچھ اہل علم نے کلام کیا لیکن امام ابن ابی الدنیا﷫ نے اس سے ذم المسکر اور امام سیوطی﷫ نے اس سے الدر المنثور میں استدلال کیا اور امام ابن ابی شیبہ﷫ نے مصنف میں اس کے پہلے ٹکڑے کو ذکر کیا ۔ واضح رہے کہ ابن ابی الدنیاکی سند ثلاثی ہے جس پر بظاہر کوئی غبار نہیں ، بلکہ وہ صحیح لغیرہ ہوسکتی ہے۔ واللہ اعلم)

4۔نبی ﷺ نے ہر نشہ آور کو حرام قرار دیا۔(صحیح مسلم: 2003)

5۔جس دستر (یا Table ) پر نشہ آور اشیا تناول کی جاتی ہوں اس سے دور رہنا اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان کی علامت ہے۔(مسند احمد: 14651، اس حدیث کو امام حاکم ، امام ذہبی اور شیخ البانی ودیگر نے صحیح اور بعض اہل علم نےحسن لغیرہ قراردیا)

منشيات اور عام احکام

1۔نبی ﷺ نے خبیث اشیا کو حرام قرار دیا ۔ (سورۃ الاعراف: 157)

اور جو شے بھی بدن اور دین کے لیے نقصان دہ ہو وہ خبیث ہے۔(تفسیر ابن کثیر)

2۔اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے منع کیا۔(سورۃ البقرۃ: 195، سورۃ النساء: 29)

3۔رسول اللہ ﷺ نے خود کو اور دوسروں کو نقصان پہنچانے سے منع فرمایا۔(سنن ابن ماجہ: 2340، بروایت عبادہ بن صامت ، بسند صحیح)

4۔نبی ﷺ نے مال ضائع کرنے سے منع کیا۔(صحیح بخاری: 1407)

ان عام اصولوں کے پیش نظر سگریٹ نوشی (Smoking) اور تمباکو نوشی (Chewing Tobacco) نشہ آور حقہ ( Vaping) و (Electronic Cigarettes)ودیگرضرر رساں اشیا و منشیات کا استعمال بھی حرام رہے گا۔

منشيات كی تجارت

منشیات کی تجارت گناہ اور زیادتی کے کاموں میں تعاون کی قبیل سے ہے، جس سے اللہ پنے منع کیا۔(سورۃ المائدۃ: 2)

منشیات کی تجارت باطل ہے اور باطل ذریعے سے مال کھانے سے اللہ پنے روکا۔( سورۃ البقرۃ: 188، سورۃ النساء: 29)

اللہ تعالیٰ نے جس چیز کے کھانے کو حرام قرار دیا اس کی قیمت(Price) کو بھی حرام قراردیا۔(سنن ابی داؤد: 3488)

منشيات کے نقصانات

1۔نشہ آور اشیا ہر شر کی کنجی ہیں۔(سنن ابن ماجہ: 3371)

2۔نشہ آور اشیا ام الخبائث یعنی سارے خبیث کاموں کی جڑ ہیں ٗ جو قتل اور زنا جیسے گناہوں کا سبب بنتی ہیں۔ (سنن النسائی: 5666)

3۔نشہ آور اشیا ٗ اُن کو تناول کرنے والا ٗ اُن کو براہ راست فراہم کرنے والا ٗ اُن کا خریدار ، اُن کا بیوپاری ، اُن کا کاریگر ، اُن کو تیار کرانے کا خواہش مند ٗ اُن کو منتقل کرنے والا اور جن کی جانب یہ منتقل کی جارہی ہیں سب کے سب لعنت زدہ ہیں۔(سنن ابی داؤد: 3674)

4۔نشہ خوری کی وجہ سے چالیس دن تک کوئی نماز قبول نہیں ہوتی ۔ (سنن نسائی : 5664)

5۔نشہ خوری حرام خوری ہے ٗ اور حرام خوری کی وجہ سے دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔(جامع ترمذی: 2989)

6۔نشہ خوری سے ایمان چلا جاتا ہے۔(صحیح بخاری: 2475)

7۔نشہ خوری کا عادی بت پرست کی طرح ہے۔ (سنن ابن ماجہ: 3376، اس حدیث بعض اہل علم نے کلام کیا ، لیکن امام ابن حبان﷫ اورامام منذری﷫ نے صحیح اور شیخ البانی﷫ نے کبھی حسن اور کبھی صحیح قرار دیا ۔ (صحیح الجامع: 13701، الصحیحہ: 677)

اوربعض صحیح روایات میں عادی کے بغیر صرف نشہ خور کو بت پرست کی طرح بتایا گیا ہے ۔(صحیح الجامع: 3701)

8۔دنیا میں نشہ خوری کی وجہ سے آخرت میں جنت کی شراب سے محرومی ہوگی۔(صحیح مسلم : 2003)

9۔نشہ خوری کی عادت کی بنا پر جنت سے محرومی ہوگی۔ (مسند احمد : 19569 )

10۔نشہ خوری پر اگر خاتمہ ہوتو جہنم رسید ہونا پڑے گا ٗ اور جہنم میں جہنمیوں کاخون ٗ قے ٗ پشش اور پیپ پینا پڑے گا۔(سنن ابن ماجہ: 3377)

11۔نبی ﷺ نے نشہ خور کو ٹہنیوں اور جوتیوں سے ادب سکھایا ۔ (صحیح مسلم: 1706)

12۔نام تبدیل کرکے نشہ آور اشیاتناول کرنے والوں کو اللہ پ زمین میں دہنسا سکتا ہے اور ان کے چہروں کو بندر اور خنزیر کی صورتوں میں تبدیل کرسکتا ہے۔(سنن ابن ماجہ: 4020)

آج ضرورت ہے کہ ہر طرح کی نشہ آور چیزوں سے بالکل پرہیز کریں ٗ جیسا کہ نشہ آور اشیا کی حرمت نازل ہونے کے بعد صحابۂ کرام نے مدینے کی گلیوں میں شراب بہا دی ۔(صحیح بخاری : 5261)

مشکلات ومصائب میں منشیات کا استعمال کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے ذکر، مساجد سے وابستگی اور نمازوں کے اہتمام پر توجہ دیں ، بالخصوص اللہ تعالیٰ پر توکل اورتقدیر پر ایمان کو مضبوط رکھیں۔ والله أعلم ، وصلی الله علی النبي وسلم

٭٭٭

تبصرہ کریں