نمازوں کے بعد کے ثابت شدہ اذکار ۔حسان بن عبد الغفار

ذکر اللہ رب العزت کی سب سے بڑی عبادت ہے ۔

اللہ تعالی فرماتا ہے :

﴿ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ ﴾ (سورۃ العنكبوت : 45)

’’ اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے۔‘‘

نیز تمام عبادتوں میں سب سے آسان بھی ہے ۔

وہ اس طور سے کہ نہ تو اس کے لئے وضو کی ضروت ہے، نہ قبلہ رخ ہونے کی ضرورت ہے، نہ ہی مسجد جانے کی ضروت ہے بلکہ انسان جب چاہے جہاں چاہے اللہ رب العزت کا ذکر کر سکتا ہے ۔

ساتھ ہی سب سے زیادہ ثواب حاصل کرنے والا عمل ہے حتی کہ سونے چاندی کو خرچ کرنے اور اللہ کے راستے میں گردن کاٹنے اور کٹانے سے بھی زیادہ افضل اور اکبر ہے۔ (جامع ترمذی: 3377)

ذکر واذکار میں سے کچھ مطلق ہیں یعنی آپ انہیں کبھی بھی پڑھ سکتے ہیں جیسے : سُبْحَانَ اللهِ ، اَلْحَمْدُ لِلَّهِ، اَللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِالله ِوغيره ۔

اور کچھ بعض اوقات کے ساتھ خاص ہیں ۔ جیسے : صبح وشام کے اذکار ۔

لہٰذا وہ اذکار جو کسی وقت کے ساتھ خاص ہیں، ان میں ایک ’ نماز کے بعد کے اذکار ‘ ہیں ۔

سو ان شاء اللہ ہم اس مضمون میں نماز کے بعد کے ثابت شدہ اذکار کو جاننے کی کوشش کریں گے ۔

” اللَّهُ أَكْبَرُ “

’’ اللہ سب سے بڑا ہے۔‘‘ (صحيح بخاری: 842)

نوٹ : بہت سارے علماء کرام نے سلام پھیرنے کے بعد “اَللَّهُ أَكْبَرُ” کہنے کو مشروع قرار نہیں دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ حدیث میں صراحت کے ساتھ “اَللَّهُ أَكْبَرُ” کہنے کا ثبوت نہیں ملتا ہے بلکہ صرف “التَّكْبِيرِ” کا لفظ آیا ہے ۔

جیسا کہ سیدنا ابن عباس کہتے ہیں :

“كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ النَّبِيِّ ﷺ بِالتَّكْبِيرِ ” ( صحيح بخاری: 842)

’’ میں نبی کریم ﷺ کی نماز ختم ہونے کو تکبیر کی وجہ سے سمجھ جاتا تھا ۔‘‘

چنانچہ لفظ ’ تکبیر‘ کہہ کر کبھی “الله أكبر” کہنا مراد لیا جاتا ہے ۔

اور کبھی کبھی ’’ مطلق اذکار ‘‘ بھی مراد لیا جاتا ہے ۔

اور چونکہ فرض نمازوں کے بعد کے جو اذکار رسول اکرم ﷺ سے صراحت کے ساتھ ثابت ہیں ان میں “اَللهُ أَكْبَرُ” کا تذکرہ نہیں ہے ؛ لہذا اس حدیث میں ’تکبیر ‘ سے فرض نمازوں کے بعد کے مطلق اذکار مراد لئے جائیں گے ۔

لیکن چونکہ ’ تکبیر ‘ سے عام طور پر “اَللهُ أَكْبَرُ” کہنا ہی مراد ہوتا ہے اس لئے یہاں بھی تکبیر سے “اَللہُ أَکْبَرُ” مراد لے کر اسے پڑھنے کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔

تین مرتبہ استغفار ۔ یعنی : “أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ” میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں وغیرہ کہے ۔

جیسا کہ سیدنا ثوبان کہتے ہیں :

” كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا ” (صحيح مسلم: 591)

’’ رسول اکرم ﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تو تین مرتبہ استغفار کرتے ۔‘‘

سوال : کن الفاظ اور صیغوں میں استغفار کیا جائے؟؟

جواب : اس سلسلے میں رسول اکرم ﷺ سے استغفار کے کوئی خاص الفاظ اور صیغے وارد نہیں ہوئے ہیں ۔

اسی لئے مذکورہ حدیث کے راوی ’ ولید ‘ نے اپنے استاذ ’ امام اوزاعی ﷫‘ سے سوال کیا کہ کیسے استغفار کیا جائے تو انہوں نے جواب دیا کہ تم “أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ ” کہو ۔

لہٰذا آپ چاہیں تو تین مرتبہ ” أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ ” کہیں ۔

یا پھر تین مرتبہ” أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ” بھی کہہ سکتے ہیں ۔ کیونکہ ان الفاظ کے ذریعہ آپ ﷺ کثرت کے ساتھ استغفار کرتے تھے ۔ (صحيح بخاری: 6307)

اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ

’’ اے اللہ ! تو ہی سلامتی والا ہے اور تیری طرف ہی سلامتی ہے ، تو بابرکت ہے اے بزرگی اور عزت والے ۔‘‘(صحيح مسلم: 591)

بعض روایت میں “تَبَارَكْتَ” کے بعد ’یا ‘ کا اضافہ بھی ہے ۔

یعنی : ” تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ” ۔

(مذکورہ حدیث اور سنن ابو داؤد : 1512)

لہٰذا دونوں میں سے کوئی بھی پڑھ سکتے ہیں البتہ بہتر یہ ہے کہ کبھی ’ یا‘ کے ساتھ پڑھیں اور کبھی بغیر ’یا ‘ کے۔

نوٹ: اگر کوئی شخص امام ہے تو مذکورہ دونوں یا تینوں دعاؤں کو پڑھنے کے بعد مقتدی کی طرف چہرہ کرے۔ (صحيح مسلم : 592)

ایک مرتبہ ” لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ.” ( صحيح بخاری: 844)

’’ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، بادشاہت بھی اسی کی ہے اور تمام تعریف بھی اسی کے لیے ہے ، وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ اے اللہ جو تو دے اسے روکنے والا کوئی نہیں اور جو تو نہ دے اسے دینے والا کوئی نہیں اور کسی مال دار یا کوشش کرنے والے کو اس کی دولت یا کوشش تیرے مقابلے میں فائدہ نہیں دے سکتی ۔‘‘

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ، وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ

’’ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، بادشاہت بھی اسی کی ہے اور تمام تعریف بھی اسی کے لیے ہے ، وہ ہر چیز پر قادر ہے ، اللہ کی توفیق و مدد کے بغیر ، (گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے ) ، اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ، ہم اس کی عبادت کرتے ہیں ، اسی کے لئے نعمت ہے ، اسی کے لئے فضل ہے اور اسی کے لئے بہترین تعریف ہے ، اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ، ہم اسی کے لیے عبادت کو خالص کرنے والے ہیں اگرچہ کافروں کو ناپسند ہو ۔‘‘( صحيح مسلم: 594)

“سُبْحَانَ اللَّهِ” 33 مرتبہ ۔ “الْحَمْدُ لِلَّهِ” 33 مرتبہ اور “اَللَّهُ أَكْبَرُ ” 34 مرتبہ ۔ ( صحيح مسلم : 596)

یا پھر “اللَّهُ أَكْبَرُ” کو بھی 33 دفعہ پڑھیں اور سو کی تعداد پوری کرنے کے لئے ایک مرتبہ ” لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ” کہیں ۔‘‘

( صحيح مسلم: 597)

یا پھر

“اَللَّهُ أَكْبَرُ” کو صرف 33 دفعہ ہی پڑھیں اور سو کی تعداد پوری نہ کریں ۔ ( صحيح بخاری: 843)

یا پھر25 مرتبہ “سُبْحَانَ اللَّهِ” ۔ 25 مرتبہ “الْحَمْدُ لِلَّهِ” ۔ 25 مرتبہ “اَللَّهُ أَكْبَرُ” ۔ اور 25 مرتبہ ” لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ” ۔ ( سنن نسائی: 1350؛ سلسلہ صحیحہ: 1؍210)

یا پھر سُبْحَانَ اللَّهِ” 10 مرتبہ ۔ “الْحَمْدُ لِلَّهِ” 10 مرتبہ ۔ اور “اَللَّهُ أَكْبَرُ” 10 مرتبہ ۔

( سنن نسائی: 1348؛ جامع ترمذی: 3410 )

سوال: ان پانچوں طریقوں میں سے کون سا طریقہ اختیار کریں؟

جواب : جب کوئی عبادت متعدد شکل میں وارد ہو تو ہر شکل کو وقفے وقفے سے اختیار کرنا چاہئے اس سے عمل میں نشاط بھی پیدا ہوگا اور ہر نص اور حدیث پر عمل بھی ہو جائے گا ۔

جیسا کہ ضابطہ ہے : “العبادات الواردة على وجوه متنوعة تفعل على جميع وجوبها في أوقات مختلفة”. ( تلقيح الأفہام العلية بشرح القواعد الفقهية، ص : 3)

لہٰذا کبھی پہلی شکل تو کبھی دوسری شکل تو کبھی تیسری شکل تو کبھی چوتھی شکل اور کبھی پانچویں شکل ۔ تاکہ تمام نصوص پر عمل ہو سکے اور کوئی بھی نص متروک قرار نہ پائے ۔

سوال : کیا متقدم حدیث کو متاخر حدیث کے ذریعہ منسوخ قرار نہیں دے سکتے؟

جواب : ہرگز نہیں !!!

اس لئے کہ نسخ کے اندر کسی ایک دلیل کا ’ابطال ‘لازم آتا ہے جبکہ کسی بھی شرعی دلیل کا ’ابطال ‘ اس وقت تک جائز، نہیں ہو سکتا جب تک اس پر عمل ممکن ہو ۔

اور یہاں پر ہر حدیث پر عمل کرنا ممکن ہے اور کسی بھی حدیث یا شکل پر عمل کرنے سے دوسری حدیث یا شکل کی مخالفت لازم نہیں آتی ہے ۔

نیز اس سلسلے میں یہ ضابطہ مشہور ہے کہ “إعمال الدليلين أولى من إهمال أحدهما ما أمكن.” (شرح سنن أبی داود لابن رسلان: 14؍221؛ شرح قواعد الأصول ومعاقد الفصول للحازمی: 13؍28)

اگر دونوں دلیلوں پر عمل کرنا ممکن ہو تو کسی ایک کو چھوڑ دینے سے زیادہ بہتر ہے ۔

سوال: کیا پانچوں حدیثوں یا شکلوں میں سے کسی حدیث یا شکل کو راجح قرار دے کر صرف اسی پر عمل کر سکتے ہیں؟

جواب : ترجیح کا معنی یہ ہوتا ہے کہ ” مرجوح ” دلیل کو مکمل طور سے باطل قرار دے دیا جائے ۔

اور یہ نسخ سے بھی بڑا ہوتا ہے کیونکہ نسخ میں منسوخ حدیث پر ناسخ حدیث سے پہلے عمل ہوتا ہے جبکہ مرجوح میں بالکل عمل ہی نہیں ہوتا ۔

لہٰذا جب نسخ درست نہیں ہو سکتا تو مرجوح بدرجہ اولیٰ درست نہیں ہو سکتا ۔

سوال: کیا صرف ایک شکل پر عمل کرکے بقیہ شکلوں کو ترک کر سکتے ہیں؟

جواب : نہیں!

اس لئے کہ ایسی صورت میں دوسری شکلوں کا ابطال لازم آئے گا جو صحیح دلیلوں سے ثابت ہیں ۔

” رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ، أَوْ تَجْمَعُ عِبَادَكَ “.

’’اے پروردگار ! تو آخرت کے دن اپنے عذاب سے مجھے بچا ۔‘‘ ( صحيح مسلم: 709)

٭ ایک ایک مرتبہ معوذتین یعنی : سورۃ الفلق ، سورۃ الناس ۔

قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ 0 مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ 0 وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ 0 وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ 0 وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ .

’’ کہہ دو! میں صبح کے رب کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ، اس چیز کی برائی سے جو اس نے پیدا کیا ہے اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے اور گرہوں میں پھونک مارنے والیوں کے شر سے ، اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے ۔‘‘

قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ 0 مَلِكِ النَّاسِ 0 إِلَهِ النَّاسِ 0 مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ 0 الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ 0 مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ.

’’ کہہ دو ! میں لوگوں کے رب کی پناہ میں آتا ہوں ، لوگوں کے مالک کی ، لوگوں کے معبود کی ، وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے ۔‘‘ (جامع ترمذی: 2903 ؛ سنن ابو داؤد : 1513 ؛ سنن نسائی: 1336)

نوٹ: بعض علماء نے سورۃ اخلاص کو بھی معوذات والی سورتوں میں شمار کیا ہے ۔

اس اعتبار سے سورۃ اخلاص پڑھنے کی بھی گنجائش نکل سکتی ہے ۔

مگر جو بات راجح معلوم ہوتی ہے وہ یہی کہ سورۃ اخلاص ’ معوذات ‘ میں داخل نہیں ہے۔ واللہ اعلم

اسی طرح بعض کتابوں اور پوسٹروں میں ’ معوذات یعنی : سورۃ الفلق ، سورۃ الناس یا سورۃ اخلاص کو ‘ مغرب ، اور ’ فجر ‘ کے بعد تین تین مرتبہ پڑھنے کو کہا گیا ہے جو کی درست نہیں ہے اور کسی بھی حدیث سے ثابت نہیں ہے ۔

٭ ایک ایک مرتبہ آیۃ الكرسی:

اللَّهُ لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ وَلا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ

’’اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ، وہ زندہ اور بذات خود قائم رہنے والا ہے ، نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ ہی نیند ، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کی ملکیت ہے ، کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے پاس سفارش کرسکے ، وہ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے، وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے ، اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو سمائے ہوئے ہے اور ان دونوں کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں، وہ بلندو برتر اور عظمت والا ہے ۔‘‘ (السنن الكبرى: 9928؛ طبرانی: 8؍134، رقم الحديث: 7532)

مگر ابن قيم ﷫ فرماتے ہیں : ” وقد روي هذا الحديث من حديث أبي أمامه وعلي بن أبي طالب وعبد الله بن عمر والمغيرة بن شعبة وجابر بن عبد الله وأنس بن مالك وفيها كلها ضعف ولكن إذا انضم بعضها إلى بعض مع تباين طرقها واختلاف مخارجها دلت على أن الحديث له أصل وليس بموضوع.” ( زاد المعاد في هدي خير العباد : 1؍294)

’’ یہ حدیث ابو امامہ، علی بن ابی طالب، عبد اللہ بن عمر، مغیرۃ بن شعبہ، جابر بن عبد اللہ اور انس بن مالک سے روایت کی گئی ہے اور سب کی سب ضعیف ہیں البتہ اگر روایت کے طرق اور مخارج کو باہم مختلف ہونے کے باوجود بھی ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت کی کوئی اصل (حقیقت) ہے اور موضوع نہیں ہے ۔‘‘

اسی وجہ سے بہت سارے علماء نے اس روایت کو ضعیف کہا ہے ۔

ان کے علاوہ کوئی اور ذکر فرض نمازوں کے بعد ثابت نہیں ہے ۔

یہاں پر کچھ دعائیں ایسی ہیں جن کے سلسلے میں بہتر یہ ہے کہ انہیں سلام پھرنے سے پہلے تشہد میں پڑھا جائے ، مگر عام طور پر لوگ انہیں سلام پھیرنے کے بعد پڑھتے ہیں ۔

٭ “اَللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ”

’’ اے اللہ ! اپنے ذکر، شکر اور اپنی بہترین عبادت کے سلسلہ میں میری مدد فرما ۔‘‘

سوال: اس دعا کو سلام پھیرنے سے پہلے کیوں پڑھا جائے جبکہ حدیث میں ” دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ” کے الفاظ آئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز مکمل کرنے کے بعد پڑھنا ہے ۔

جیسا کہ سیدنا معاذ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : “أُوصِيكَ يَا مُعَاذُ ، لَا تَدَعَنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ تَقُولُ : ” اللَّهُمَّ أَعِنِّي … (سنن ابو داؤد: 1522)

’’ اے معاذ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں : ہر نماز کے بعد (یہ دعا) پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا…۔‘‘

جواب : اس کے دو وجوہات ہیں :

پہلی وجہ: فرض نمازوں کے بعد کی تعبیر کے لئے بعض احادیث میں ” دُبُرُ الصَّلَاةِ ” کا جو لفظ وارد ہوا ہے اس کا اطلاق دو چیزوں پر ہوتا ہے ۔

1۔ سلام پھیرنے سے قبل نماز کے آخری حصہ پر ۔

2۔ سلام پھیرنے کے بعد کے اوقات پر ۔

لہٰذا جب کسی حدیث میں “دُبُرُ الصَّلَاةِ: نماز کے بعد” کا لفظ آئے تو اس سے کبھی سلام پھیرنے سے قبل نماز کا آخری حصہ مراد ہوتا ہے اور کبھی سلام پھیرنے کے بعد کا وقت مراد ہوتا ہے۔ (شرح الباقيات الصالحات من الأذكار بعد الصلوات للعصيمی ص : 9)

سوال: کیسے معلوم ہوگا کہ فلاں حدیث میں “دُبُرُ الصَّلَاةِ” سے سلام پھیرنے سے قبل نماز کا آخری حصہ مراد ہے اور فلاں حدیث میں سلام پھیرنے کے بعد کا وقت مراد ہے ؟

جواب: ابن عثیمن ﷫فرماتے ہیں: “ما قيد بدبر الصلاة فإن كان ذكرًا فمحله بعد السلام، وإن كان دعاء فمحله قبل السلام”. (فتاوى نور على الدرب للعثيمين: 2؍24)

’’ جن کلمات اور صیغوں کے ساتھ ” دبرالصلاۃ ” کے الفاظ وارد ہوئے ہیں اگر ان کلمات اور صیغوں کا تعلق اذکار سے ہے تو ایسی صورت میں ان ( کو پڑھنے ) کا محل سلام پھیرنے کے بعد کا وقت ہے اور اگر ان کلمات اور صیغوں کا تعلق دعاؤں سے ہے تو پھر ( ان کو پڑھنے) کا محل سلام پھیرنے سے قبل نماز کے آخری حصہ سے ہے ۔‘‘ ( مزید تفصیل کیلئے :مجموع فتاوى ابن باز : 11؍194؛ مجموع فتاوى ابن عثيمين : 13؍268)

دوسری وجہ : نیز سنن نسائی میں صراحت بھی موجود ہے ۔

چنانچہ اس کے الفاظ ہیں: ” فَلَا تَدَعْ أَنْ تَقُولَ فِي كُلِّ صَلَاةٍ:رَبِّ أَعِنِّي… “ ( سنن نسائی: 1303)

’’ ہر نماز کے اندر اسے پڑھنا نہ چھوڑنا … ۔‘‘

٭ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ “.

’’اے اللہ! میں بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ عمر کے سب سے ذلیل حصے ( بڑھاپے ) میں پہنچا دیا جاؤں اور تیری پناہ مانگتا ہوں میں دنیا کے فتنوں سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے ۔‘‘ ( صحيح بخاری: 2822)

اس کے الفاظ اس طرح ہیں: “إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْهُنَّ دُبُرَ الصَّلَاةِ : ” اللَّهُمَّ إِنِّي … “۔

لیکن چونکہ اس کے الفاظ اور کلمات ’دعائیہ ‘ ہیں ذکر واذکار والے الفاظ نہیں ہیں اس لئے اس دعا کو سلام پھیرنے سے پہلے ہی پڑھنا بہتر اور مناسب ہے ۔

نیز اسی سے ملتی جلتی ایک حدیث ان الفاظ میں ہے : “إِذَا تَشَهَّدَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ يَقُولُ: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ.” ( صحيح مسلم: 588)

’’جب تم میں سے کوئی نمازی تشہد پڑھ چکے تو ان چار چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے : جہنم کے عذاب، قبر کے عذاب، زندگی اور موت کی آزمائش اور مسیح دجال کے شر سے ۔‘‘

اس سے اشارہ ملتا ہے کہ اس طرح دعا اور تعوذ پر مشتمل الفاظ کو پڑھنے کا محل سلام پھیرنے سے پہلے تشہد ہے ۔

٭ اَللَّهمَّ إنِّي أعوذُ بكَ مِن الكُفرِ، والفَقرِ، وعَذابِ القَبرِ.”

’’ اے اللہ! میں کفر، فقر اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ ( سنن نسائی: 1347)

سوال: کیا دعا اور ذکر کے درمیان فرق ہے اور اگر ہے تو کیسے تفریق کریں گے؟

جواب : دعا کی دو قسمیں ہیں :

1۔ دعائے عبادت: اس میں انسان کے وہ تمام اقوال وافعال شامل ہیں جو اطاعت الہی کی نیت سے ادا کئے جائیں ۔

2۔ دعائے حاجت یا مسئلہ : جس میں طلب اور سوال ہو جیسے : “رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِيْ صَغِيْرًا”

چنانچہ عموماً ذکر اور دعائے عبادت کے مفہوم میں یکسانیت پائی جاتی ہے جبکہ ذکر اور دعائے حاجت میں عموم وخصوص مطلق کی مناسب پائی جاتی ہے وہ اس طور سے کہ ہر دعا کو ذکر کہہ سکتے ہیں مگر ہر ذکر کو دعا نہیں کہہ سکتے ۔

خلاصہ یہ کی مطلق طور پر ذکر اور دعا کا مفہوم ایک ہوتا ہے، اسی لئے اکثر اذکار کی کتابیں دعاؤں پر مشتمل ہوتی ہیں یا اس کے برعکس دعاؤں کی کتابوں میں اذکار بھی ہوتے ہیں ۔

جیسے صبح وشام کے اذکار کہ ان میں بہت سارے الفاظ دعائیہ ہیں ۔

البتہ کبھی کبھی نصوص میں تطبیق دینے کے لئے یا حدیث کی دلالت کو صحیح طور پر سمجھنے کے لئے دونوں کے درمیان فرق کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے ۔

لہٰذا ایسی صورت میں ’ ذکر‘ سے مراد ایسے الفاظ اور کلمات ہوں گے جن میں اللہ کی حمد وثناء، تسبیح وتکبیر ، تہلیل وتمجید اور عظمت وبڑائی بیان ہو جبکہ ’دعاء ‘ سے مراد ایسے الفاظ اور کلمات ہوں گے جن میں بندہ اللہ سے کچھ طلب کرے ۔

جیسے: “اَللهم اغْفِرْلِيْ.”’اے اللہ مجھے بخش دے۔ ‘

“اَللهم ارْحَمْنِيْ”’’ اے اللہ مجھ پر رحم فرما ۔ وغیرہ ‘‘

سوال : اس تفریق کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

جواب : اس وجہ سے کہ نماز کے بعد ’ ذکر ‘ کے علاوہ کوئی بھی خصوصی ’دعاء ‘ رسول اکرم ﷺ سے ثابت نہیں ہے ۔

یعنی: ایسی حدیث نہیں ملتی جس سے پتہ چلتا ہو کہ رسول اکرم ﷺ نے نماز کے بعد ’دعا ‘ کی ہو یا دعا کرنے کی تعلیم دی ہو ۔

جیسا کہ ابن تیمیہ ﷫ فرماتے ہیں: ” الأحادِيثُ المَعْرُوفَةُ فِي الصِّحاحِ والسُّنَنِ والمَسانِدِ تَدُلُّ عَلى أنَّ النَّبِيَّ ﷺ كانَ يَدْعُو فِي دُبُرِ صَلاتِهِ قَبْلَ الخُرُوجِ مِنها وكانَ يَأْمُرُ أصْحابَهُ بِذَلِكَ ويُعَلِّمُهُمْ ذَلِكَ ولَمْ يَنْقُلْ أحَدٌ أنَّ النَّبِيَّ ﷺ كانَ إذا صَلّى بِالنّاسِ يَدْعُو بَعْدَ الخُرُوجِ مِن الصَّلاةِ هُوَ والمَأْمُومُونَ جَمِيعًا لا فِي الفَجْرِ ولا فِي العَصْرِ ولا فِي غَيْرِهِما مِن الصَّلَواتِ بَلْ قَدْ ثَبَتَ عَنْهُ أنَّهُ كانَ يَسْتَقْبِلُ أصْحابَهُ ويَذْكُرُ اللَّهَ ويُعَلِّمُهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ عَقِيبَ الخُرُوجِ مِن الصَّلاةِ”. (مجموع الفتاوى: 22؍492)

’’صحاح ، سنن اور مسانید کی مشہور حدیثیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ رسول اکرمﷺ دعائیں نماز کے اخیر میں سلام پھیرنے سے پہلے کیا کرتے تھے اور صحابہ کرام کو بھی اسی بات کا حکم دیتے اور اسی بات کی تعلیم دیتے تھے، اور یہ بات کسی سے بھی منقول نہیں کہ رسول اکرم ﷺ لوگوں کو نماز پڑھا کر فارغ ہونے کے بعد دعا کرتے یا تمام صحابہ کرام دعائیں کرتے تھے ، نہ تو فجر اور عصر میں اور نہ ہی ان دونوں کے علاوہ کسی اور نماز میں ، بلکہ جو بات ثابت ہے وہ یہ کہ آپ ﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تو صحابہ کی طرف رخ کرکے اللہ کا ذکر کرتے تھے اور صحابہ کرام کو بھی اللہ کے ذکر کی تعلیم دیتے تھے ۔‘‘

جبکہ ابن قیم﷫فرماتے ہیں : ” وأمّا الدُّعاءُ بَعْدَ السَّلامِ مِنَ الصَّلاةِ مُسْتَقْبِلَ القِبْلَةِ سَواءٌ الإمامُ والمُنْفَرِدُ والمَأْمُومُ فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ مِن هَدْيِ النَّبِيِّ ﷺ أصْلًا ولا رُوِيَ عَنْهُ بِإسْنادٍ صَحِيحٍ ولا حَسَنٍ وخَصَّ بَعْضَهُمْ ذَلِكَ بِصَلاتَيِ الفَجْرِ والعَصْرِ ولَمْ يَفْعَلْهُ النَّبِيُّ ﷺ ولا الخُلَفاءُ بَعْدَهُ ولا أرْشَدَ إلَيْهِ أُمَّتَهُ وإنَّما هُوَ اسْتِحْسانٌ رَآهُ مَن رَآهُ عِوَضًا مِنَ السُّنَّةِ بَعْدَهُما “. ( زاد المعاد فی ہدی خير العباد: 1؍249؛ فتح الباری لابن حجر: 11؍133)

’’ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد قبلہ رخ ہوکر امام، منفرد یا مقتدی کا دعا کرنا سرے سے رسول اکرم ﷺ کا طریقہ نہیں ہے اور نہ کسی صحیح یا حسن سند سے مروی ہے، اور بعض لوگوں نے فجر اور عصر کی نماز کے ساتھ دعا کرنے کو خاص کر لیا ہے، حالانکہ نہ تو رسول اکرم ﷺ نے ایسا کیا ہے اور نہ ہی آپ کے بعد خلفاء راشدین نے، اور نہ ہی آپ ﷺ نے اپنی امت کو اس کی طرف رہنمائی کی ہے ۔ حقیقت میں اس عمل کو فجر وعصر کے بعد بعض لوگوں نے سنت کے عوض مستحسن سمجھ لیا ہے ۔‘‘

نیز قرآن میں بھی اسی بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: ﴿ فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِكُمْ﴾

’’ پھر جب تم نماز ادا کر چکو تو کھڑے ، بیٹھے اور لیٹے ہر حال میں اللہ کا ذکر کرو ۔‘‘ ( سورۃ النساء: 103)

اس کے برعکس سلام پھیرنے سے قبل تشہد کے اخیر میں کثرت کے ساتھ دعائیں کرنے کا ثبوت بھی ملتا ہے ، جیسا کہ رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے :

” ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ الْمَسْأَلَةِ مَا شَاءَ.”

أو: ” ثُمَّ يَتَخَيَّرُ بَعْدُ مِنَ الدُّعَاءِ “.

أو: ” ثُمَّ لْيَتَخَيَّرْ بَعْدُ مِنَ الْمَسْأَلَةِ مَا شَاءَ أَوْ مَا أَحَبَّ” ( صحيح مسلم : 402)

’’ … پھر جو بھی دعا چاہے ، مانگے ۔‘‘

نیز اوپر کے سطور میں یہ بات واضح کی جا چکی ہے کہ “دُبُرُ الصَّلَاةِ ” ( نماز کے بعد) کا اطلاق جس طرح سلام پھیرنے کے بعد کے وقت پر ہوتا ہے اسی طرح کبھی کبھی سلام پھیرنے کے پہلے نماز کے آخری حصے پر بھی ہوتا ہے جیسا کہ ایک روایت میں ” فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ” ( ہر نماز کے بعد میں) کہا گیا ہے اور پھر دوسری روایت میں اس کی وضاحت اور تعیین ” فِي كُلِّ صَلَاةٍ ” ( ہر نماز میں) کے ذریعہ کر دی گئی ہے ۔ ( تفصیل اوپر گزر چکی ہے)

نیز دعاء نماز کی حالت ہی میں کرنا اولی اور افضل ہے اس لئے کہ بندہ نماز میں اللہ سے مناجات کر رہا ہوتا ہے اور جب سلام پھیر دیتا ہے تو مناجات کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے، لہٰذا بندے کا اپنے رب سے مناجات اور گفتگو کی حالت میں سوال اور دعا کرنا مناجات اور گفتگو ختم ہو جانے کے بعد سوال اور دعا کرنے سے زیادہ بہتر اور مناسب ہے۔ ( تفصیل کے لئے دیکھیں، مجموع الفتاوى : 22؍513 ؛ زاد المعاد لابن القيم: 1؍250)

اسی طرح یہ بات بھی واضح کی جا چکی ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد رسول اکرم ﷺ سے صرف ذکر واذکار ہی ثابت ہے اور اسی کا آپ ﷺ نے حکم دیا ہے تو پھر کیوں نہ ان الفاظ اور کلمات کو سلامنے پھیرنے سے قبل نماز کے آخری حصے میں پڑھیں جو الفاظ اور کلمات دعاؤں پر مشتمل ہیں یعنی : جو دعا کے قبیل سے ہیں تاکہ تمام نصوص پر عمل ہو سکے !!!

جیسا کہ ابن عثیمین﷫فرماتے ہیں : ” وأما الدعاء بعد الصلاة النافلة والفريضة فليس له أصل عن النبي ﷺ، فإن الله تعالى قال: ” فَإذا قَضَيْتُمْ الصَّلاةَ فاذْكُرُوا اللَّهَ” . ولم يقل فادعو الله والدعاء إنما يكون قبل السلام هكذا أرشد النبي ﷺ إليه فقال حين ذكر التشهد ثم ليتخير من الدعاء ما شاء.” (فتاوى نور على الدرب للعثيمين : 2؍8)

’’رہی بات نفل یا فرض نماز کے بعد دعاؤں کی تو رسول اکرم ﷺ سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

’’ جب تم نماز سے فارغ ہو تو اللہ کا ذکر کرو ۔‘‘ یہ نہیں کہا کہ ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد) دعاء کرو ، بلکہ رسول اکرم ﷺ نے تو سلام پھیرنے سے پہلے دعا کرنے کی رہنمائی کی ہے ، چنانچہ تشہد کا ذکر کرتے وقت فرمایا : ’’ پھر اس کے بعد جو دعا چاہے کرے ۔‘‘

سوال : سلام پھیرنے کے بعد رسول اکرم ﷺ سے استغفار کرنا ثابت ہے جو کہ دعا ہی کے قبیل سے ہے تو پھر دعا کرنے میں کیا حرج کیا ہے؟

جواب: اس اشکال کا جواب دیتے ہوئے علامہ ابن عثیمین﷫ فرماتے ہیں : ” فإن قال: قائل أليس قد ثبت عن النبي ﷺ أنه إذا سلم من الصلاة استغفر ثلاثًا وقال: اللهم أنت السلام ومنك السلام وهذا دعاء؟ فالجواب: أن هذا دعاء خاص متعلق بالصلاة؛ لأن استغفار الإنسان بعد سلامه من الصلاة من أجل أنه قد لا يكون أتم صلاته، بل أخل فيها إما بحركة أو انصراف قلب أو ما أشبه ذلك، فكان هذا الدعاء بالمغفرة لاصقًا بالصلاة متممًا، وليس دعاء مطلقًا مجردًا “. (فتاوى نور على الدرب للعثيمين : 2؍4)

’’ اگر کوئی کہے کہ : کیا رسول اکرم ﷺ سے یہ ثابت نہیں ہے کہ آپ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد تین مرتبہ استغفار کرتے تھے، پھر کہتے :

” اللهم أنت السلام ومنك السلام … اور یہ ( استغفار) دعاء ہے؟!

تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دعا نماز ہی سے متعلق خاص ہے ، کیونکہ نماز کے بعد انسان استغفار اس لئے کرتا ہے تاکہ دوران نماز ( بلاوجہ) حرکت کرنے یا دل کہیں اور چلے جانے وغیرہ کی وجہ سے نماز میں کمی ہوئی ہو اور نماز پوری طرح سے مکمل نہ ہوئی ہو تو نماز کے معا بعد مغفرت کی یہ دعاء ( دوران نماز ہونے والی کمیوں کو دور کرکے اسے ) مکمل کر دے گی ، لہٰذا یہ عام اور مطلق دعاء نہیں ہے ۔‘‘

سوال: اگر کوئی مذکورہ دونوں دعاؤں یا اس کے علاوہ کوئی اور دعا نماز کے بعد کرتا ہے تو کیا اس کا شمار بدعت میں ہوگا یا ایسا کرنے والا گنہگار ہوگا؟

جواب: اس کا صحیح علم اللہ اور اس کے رسول کو ہے البتہ علماء کے اقوال کو پڑھنے سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ نماز کے بعد دعا کرنا نہ تو بدعت ہے اور نہ دعا کرنے والا گنہگار ہے ۔ مگر رسول اکرم ﷺ اور خلفاء راشدین کا نہ یہ طریقہ رہا ہے اور نہ ہی ان سے ثابت ہے ، اور ہر قسم کی بھلائی رسول اکرمﷺ کے طریقے پر چلنے میں ہے ۔

لہٰذا آپ کے لئے بہتر اور مناسب یہ ہے کہ آپ دعائیں نماز میں مانگیں یا اذان اور اقامت کے درمیان مانگیں اور نماز کے بعد صرف انہیں اذکار کو پڑھنے پر اکتفاء کریں جو صحیح سند سے ثابت ہیں ۔

اس سلسلے میں تفصیل جاننے کے ایک مختصر رسالہ بنام ’الأحاديث الواردة المقيدة بأدبار الصلوات في كتب السنة جمعا ودراسة لغالب محمد أبو القاسم حامضي۔‘ پڑھنا مفید ہوگا۔

٭٭٭

تبصرہ کریں