نیکیوں پر ثابت قدمی-فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر بندر بن عبد العزیز بلیلہ

الحمد لله! ہر طرح کی حمد وثنا اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے! اس نے اہلِ ایمان کی قدر اپنی نظروں میں بھی بہت بلند رکھی ہے، اپنی زمین اور اپنے آسمان میں بھی ان کی تعریف اور ذکرِ خیر کے چرچے کیے، ان کے لیے اپنے فضل ورحمت کے دروازے کھولے اور پھر ان پر احسانات اور نوازشیں فرمائیں۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ تخلیق میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں اور حکم چلانے میں بھی اس کا کوئی ثانی نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کا وصف بیان کرنے سے نظم بھی قاصر ہے اور نثر بھی۔ اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر، صحابہ کرام پر، استقامت کے ساتھ آپ کی پیروی کرنے والوں پر، ایسی رحمتیں اور سلامتیاں جن میں کبھی کمی واقع نہ ہو۔

بعدازاں! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ اللہ آپ پر رحم فرمائے!

اللہ سے ڈرو۔ اس سے ڈرو، تاکہ وہ تمہارے گناہوں کو بخش دے، اور تمہیں بہت بڑے اجر سے نوازے۔

اے مؤمنو! انسانی زندگی بہت محدود سی ہے، اس کے دن گنے چنے اور زوال پذیر ہیں، وہ گزشتہ کل کتنا قریب اور خوشگوار لگتا ہے کہ جب ہم ایک دوسرے کو رمضان المبارک کی آمد کی خوش خبریاں دے رہے تھے، لیکن آج رمضان کا مہینہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے، بچا ہے تو صرف اس سے حاصل ہونے والا سبق اور نصیحتیں ہی بچی ہیں۔

اے ماہِ رمضان! اے بابرکت مہینے!

تم ہی روزوں اور تہجد کے مہینے ہو، تم ہی جبرائیل اور دوسرے فرشتوں کے نزول کا مہینہ ہو۔ تم آئے تو خوشی کی لہر دوڑ گئی، پھر تم نے ہمارا خوب اکرام کیا اور ہمیں بہت کچھ دیا، مگر اب منہ موڑ کر چل پڑے ہو۔ تو اے اللہ! ہم تیری حمد وثنا بیان کرتے ہیں کہ

تو نے ہمیں رمضان پانے اور اس کے اختتام کو دیکھنے کا موقع دیا۔

اے اللہ! اس میں جو روزے ہم نے رکھے اور جو تہجد گزاری ہم نے کی، وہ ہم سے قبول فرما، اگلا رمضان بھی ہمیں نصیب فرما، اسے ہمارے لیے سلامت رکھنا اور ہمیں اس کے لیے سلامت رکھنا۔

سنو! بہت سے لوگوں نے رمضان میں فرمان برداری کا مزا چکھا، ان کے دل مسجدوں اور با جماعت نماز سے جڑ گئے، مگر اس کے ختم ہوتے ہی وہ غفلت اور کوتاہی کی طرف چل پڑے ہیں۔

سنو! جو رمضان کی عبادت کرتا تھا، وہ جان لے کہ رمضان تو گزر گیا اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے، تو اللہ تو زندہ اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔

اللہ کے بندو! قبولیت کی علامت یہ ہے کہ

عبادت پر استقامت مل جائے، عبادت قبول نہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ انسان پھر سے گناہوں میں لگ جائے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا 0 وَإِذًا لَآتَيْنَاهُمْ مِنْ لَدُنَّا أَجْرًا عَظِيمًا 0 وَلَهَدَيْنَاهُمْ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا﴾ (سورة النساء: 66-68)

’’حالانکہ جو نصیحت انہیں کی جاتی ہے، اگر یہ اس پر عمل کرتے تو یہ ان کے لیے زیادہ بہتری اور زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا اور جب یہ ایسا کرتے تو ہم انہیں اپنی طرف سے بہت بڑا اجر دیتے اور انہیں سیدھا راستہ دکھا دیتے۔‘‘

رمضان المبارک میں جو نیکیاں کی ہیں، ان کی حفاظت ضروری ہے، جن گناہوں سے دوری اختیار کی ہے، اس سے ہمیشہ کے لیے رک جانا انتہائی اہم ہے۔

إِذَا ما المرءُ صامَ عن الدنايا

فكلُّ شهورِه شهرُ الصيامِ

’’اگر انسان حقیر اور بے قیمت چیزوں سے روزے میں رہے، تو اس کے سارے مہینے ہی رمضان بن جاتے ہیں‘‘

اے مسلمانو!

نیکی کے دروازے کھلے ہیں، مگر ان کا رخ کرنے والے کہاں ہیں، بھلائی کے چشمے بھی جاری ہیں، مگر ان سے سیر ہونے والے کہاں ہیں؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ﴾ (سورة المائدة: 48)

’’تو تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو۔‘‘

اسی طرح فرمایا:

﴿وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ﴾ (سورة آل عمران: 133)

’’دوڑ کر چلو اُ س راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اُس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔‘‘

اسی طرح نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

“قال الله -تعالى-: وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، ‌فَإِذَا ‌أَحْبَبْتُهُ ‌كُنْتُ ‌سَمْعَهُ ‌الَّذِي ‌يَسْمَعُ ‌بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بها، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بها، وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ”

’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرا بندہ میرے قرب کی تلاش میں ان عبادتوں سے اچھا کوئی ذریعہ اپنا ہی نہیں سکتا، جو میں نے اس پر فرض کر دی ہیں، پھر میرا بندہ نفل عبادتوں کے ذریعے میرے قرب کا متلاشی رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ پھر جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں، جن سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ کام کرتا ہے، اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرور دوں اور اگر کسی چیز سے پناہ چاہے تو میں اسے ضرور پناہ دوں۔‘‘

نماز اسلام کا ستون ہے۔ عبادتوں کی چوٹی ہے، یہ دل کو تہذیب سکھاتی ہے، یہ گناہو ں سے پاک کرتی ہے، یہ جسم کو توانا کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“الصلواتُ ‌الخمسُ، ‌والجُمُعةُ ‌إلى ‌الجُمُعةِ، ورمضانُ إلى رمضانَ مكفِّرات ما بينهنَّ إذا اجتُنبت الكبائرُ” (أخرجه مسلم)

’’پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعے تک اور ایک رمضان اگلے رمضان تک کے گناہ معاف کرا دیتا ہے، لیکن شریط یہ ہے کہ کبائر سے بچا جائے۔‘‘

جو ان فرض عبادتوں کے ساتھ نفل عبادتیں بھی کرتا ہے، اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“مَا ‌مِنْ ‌عَبْدٍ ‌مُسْلِمٍ ‌يُصَلِّي ‌لِلهِ ‌كُلَّ ‌يَوْمٍ ‌ثِنْتَيْ ‌عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا غَيْرَ فَرِيضَةٍ، إِلَّا بَنَى اللهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ” (أخرجه مسلم).

’’جو بھی مسلمان ایک دن میں فرض نمازوں کے علاوہ اللہ کے لیے بارہ رکعت نفل نماز ادا کرے گا، اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنا دے گا۔‘‘

اسی طرح تہجد گزاری کرنا سال کی ہر رات میں مسنون عبادت ہے، یہ صرف رمضان تک محدود نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“أفضل الصلاة بعد الفريضة صلاة الليل” (أخرجه مسلم)

’’فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے۔‘‘

سیدنا مغیرہ بن شعبہ بیان کرتے ہیں: ’’نبی کریم ﷺ اتنی طویل تہجد پڑھتے تھے کہ آپ ﷺ کے قدموں یا پنڈلیوں میں ورم آ جاتا تھا، جب آپ سے اس بارے میں کچھ کہا جاتا تو فرماتے:

أفلا أكون عبدًا شكورًا” (أخرجه البخاري ومسلم).

’’کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔‘‘

روزہ ایک بہترین نیکی ہے، اس کا اجر بہت زیادہ ہے۔ حدیث قدسی میں آتا ہے:

“كلُّ عملِ ابنِ آدمَ له إلا الصومُ، فإنَّه لي، وأنا أَجزِي به”

’’ابن آدم کا ہر کام اسی کے لیے ہے سوائے روزے کے، وہ تو میرے لیے ہوتا ہے اور میں ہی اس کا انعام دوں گا۔‘‘

اسی طرح رمضان کے بعد ماہِ شوال میں چھ روزے رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔ جو ایسا کرے گا اسے سال بھر روزے رکھنے کا اجر ملے گا، جیسا کہ صحیح روایت میں ثابت ہے۔ سیدنا ثوبان بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

“جعَل اللهُ الحسنةَ بعشر، فشهرٌ بعشرةِ أشهُرٍ، وستةُ أيامٍ بعدَ الفطر تمامُ السنةِ” (أخرجه النسائي وابن ماجه).

’’اللہ نے ایک نیکی کے بدلے دس نیکیاں رکھی ہیں، اس طرح رمضان کا مہینہ دس مہینوں کے برابر ہوا اور شوال کے چھ روزے بقیہ سال کو مکمل کر دیتے ہیں‘‘

اسی طرح روزوں کے حوالے سے یہ بھی مستحب ہے کہ ہر مہینے میں تین روزے رکھے جائیں، پیر اور جمعرات کا روزہ رکھا جائے، عرفات کے دن کا روزہ رکھا جائے، ماہ محرم کے روزے رکھے جائیں اور ماہ شعبان میں بھی روزے رکھے جائیں۔

جہاں تک قرآن کریم کا تعلق ہے تو اللہ کا کلام سب سے سچا کلام ہے، سب سے اچھی باتیں ہیں، یہ ہدایت کا سرچشمہ ہے، رحمت کا مصدر ہے، نور کا مرکز ہے۔ جو اسے پڑھتا یا اس کی تلاوت کرتا ہے تو گویا کہ رحمٰن کو مخاطب کرتا ہے۔ تلاوت کرنے والے کے ساتھ بہت بڑے اجر اور بہت بڑی عطا کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَنْ تَبُورَ * لِيُوَفِّيَهُمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ إِنَّهُ غَفُورٌ شَكُورٌ﴾ (سورة فاطر: 29-30)

’’جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے اُنہیں رزق دیا ہے اس میں سے کھلے اور چھپے خرچ کرتے ہیں، یقیناً وہ ایک ایسی تجارت کے متوقع ہیں جس میں ہرگز خسارہ نہ ہوگا ۔ تاکہ اللہ اُن کے اجر پورے کے پورے اُن کو دے اور مزید اپنے فضل سے ان کو عطا فرمائے بے شک اللہ بخشنے والا اور قدردان ہے۔‘‘

ارشادِ نبوی ہے:

“اقرؤوا القرآنَ؛ فإنَّه يأتي يومَ القيامة شفيعًا لأصحابه” (أخرجه مسلم)

’’قرآن کریم کی تلاوت کیا کرو، کیونکہ یہ روزِ قیامت اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارشی بن کر آئے گا۔‘‘

اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا:

“مَثَلُ ‌الْمُؤْمِنِ ‌الَّذِي ‌يَقْرَأُ ‌الْقُرْآنَ ‌كَمَثَلِ ‌الْأُتْرُجَّةِ ‌رِيحُهَا ‌طَيِّبٌ ‌وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا”

’’قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال سنگترے کی سی ہے، جس خوشبو بھی بہترین اور ذائقہ بھی خوب ہوتا ہے، اور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی سی ہے، جس کا ذائقہ خوب مگر خوشبو نہیں ہوتی۔‘‘

اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا:

“الماهر بالقرآن مع السَّفَرة الكرام البَرَرة، والذي يقرأ القرآن ويتعتع فيه وهو عليه شاق له أجران” (أخرجهما البخاري ومسلم).

’’خوب مہارت سے تلاوتِ قرآن کرنے والا تو نیک اور معزز لوگوں کے ساتھ ہو گا اور جو اٹک اٹک کر قرآن پڑھتا ہے اور اسے تلاوت میں بہت دقت ہوتی ہے، اے دو اجر ملتے ہیں۔‘‘

عبادتیں صرف اتنی ہی نہیں ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عبادت کی بے شمار شکلیں رکھی ہیں، فرمان برداری کے طریقے بھی بہت زیادہ بنائے ہیں، تاکہ سب ان کا رخ کریں اور پوری توجہ کے ساتھ ان میں لگ جائیں۔ تو غور کریں کہ اللہ کی عطائیں کتنی زیادہ ہیں، اس کی کرم نوازی کتنی واضح اور ظاہر ہے۔

میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں شیطان مردود سے!

﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ * أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ (سورة الأحقاف: 13-14)

’’یقیناً جن لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے، پھر اُس پر جم گئے، اُن کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔ ایسے سب لوگ جنت میں جانے والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اپنے اُن اعمال کے بدلے جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں۔‘‘

اللہ مجھے اور آپ کو قرآن حکیم سے برکت عطا فرمائے! نبی کریم ﷺ کی ہدایت سے فائدہ پہنچائے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کے لیے ہر گناہ اور غلطی کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو۔ یقینًا! وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

ہر طرح کی حمد وثنا اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے! جو اس کے ساتھ تعلق جوڑتا ہے، اللہ بھی اس سے رابطہ بحال رکھتا ہے، اس پر اپنا فضل فرماتا ہے اور اس کی دعا سنتا ہے۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ الله کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ شریکوں، مشابہت رکھنے والوں اور تمام تر خیالات سے بالا تر ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے ذریعے دینِ اسلام کے علم کو سربلندی ملی، اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر، صحابہ کرام پر اور استقامت کے ساتھ کی پیروی کرنے والوں پر۔

بعدازاں! اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو!

جان رکھو کہ مستقل مزاجی سے کی جانے والی عبادت کم بھی ہو، تو بھی غیر مستقل عبادت سے بہتر ہے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

“أحبُّ الأعمال إلى الله أدومها وإن قلَّ”

’’اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب نیکیاں وہ ہیں جو مستقل مزاجی سے کی جاتی ہوں، چاہے وہ کم ہی کیوں نہ ہوں۔‘‘ (أخرجه البخاري ومسلم)

عبادت قبول وہی ہوتی ہے جو اللہ کے لیے خالص ہو اور درست بھی ہو۔ جس عبادت میں یہ دونوں چیزیں نہ ہوں یا ان میں سے کوئی ایک نہ ہو تو وہ اسے کرنے والا گناہ گار ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾ (سورة الكهف: 110)

’’پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے۔‘‘

اللہ تعالیٰ بہت قدردان اور کریم ہے، وہ نیکی کرنے والے کو دنیا میں دلی سعادت نصیب فرماتا ہے، اسے شرح صدر بھی نصیب کرتا ہے، اس کے نفس کو مضبوط بھی کرتا ہے، آنکھوں کی ٹھنڈک بھی دیتا ہے، شیطان سے بھی محفوظ کرتا ہے اور آخرت میں رحمت، عفو ودرگزر، خوشنودی اور جنت سے نوازتا ہے۔

﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ (سورة النحل: 97)

’’جو شخص بھی نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور ایسے لوگوں کو ان کے اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے۔‘‘

درود وسلام بھیجو نبی قرشی، ہاشمی محمد بن عبد اللہ ﷺ پر۔ اے اللہ! رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرما آپ ﷺ پر، اہل بیت پر اور صحابہ کرام پر، تابعین پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔ اے کریم اور دینے والے! اپنے فضل وکرم سے ہم سب سے راضی ہو جا۔

اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! دین کے مرکز کی حفاظت فرما! اپنے مومن بندوں کی نصرت فرما! اے اللہ! تمام مسلمانوں کی پریشانیاں دور فرما! مصیبت زدہ مسلمانوں کی مصیبتیں دور فرما۔ قرض داروں کے قرض ادا فرما۔ ہمارے اور تمام مسلمانوں کے بیماروں کو شفا عطا فرما! اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما! ہمارے حکمرانوں اور اماموں کی اصلاح فرما! حق کے ساتھ ہمارے حکمران اور امام کی تائید فرما۔ اے اللہ! اے پروردگار عالم! اسے اور اس کے ولی عہد کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن میں ملک اور قوم کی فلاح وبہبود ہے۔

اے اللہ! سرحد پر تعینات فوجی جوانوں کے نشانے درست فرما۔ اے اللہ!تو ان کا معین اور مددگار بن جا۔ ان کی تائید کرنے والے اور نصرت کرنے والا بن جا۔اے الله، ہم تجھ سے نفع بخش علم کا کشادہ رزق کا، اور نیک عمل کا سوال کرتے ہیں۔

اے اللہ! ہر معاملے میں ہمارا انجام بھلا بنا۔ دنیا کی رسوائی اور عذاب آخرت سے ہمیں محفوظ فرما!

﴿رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ﴾ (سورة آل عمران: 53)

’’پروردگار! جو فرمان تو نے نازل کیا ہے ہم نے اسے مان لیا اور رسول کی پیروی قبول کی، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔‘‘

﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ (سورة البقرة:201)

’’اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی! اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا!۔‘‘

اللہ کے بندو!

﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ 0 وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ﴾ (سورة النحل: 90-91)

’’اللہ عدل واحسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے، بدی، بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو * اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم نے اس سے کوئی عہد باندھا ہو، اور اپنی قسمیں پختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ بنا چکے ہو اللہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے۔‘‘

٭٭٭

شوال کے 6روزے

حدیث رسول ﷺکے مطابق:جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اُس کے بعد6 دن شوال کے روزے رکھے تو وہ ایسا ہے گویا اُس نے سال بھر روزے رکھے۔(صحیح مسلم : 1164)

شوال کے6 روزوں کے سنت رسول ﷺ ہونے پر جمہور علماء کا اتفاق ہے۔

رسول اللہﷺ نے اپنی امت کو بشارت دی ہے کہ ماہِ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے6 روزے رکھنے والا اس قدر اجر وثواب کا حقدار ہوتا ہے کہ گویا اس نے پورے سال روزے رکھے۔

قانون الٰہی کے مطابق ایک نیکی کا ثواب کم از کم 10 گنا ملتا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’جو شخص ایک نیکی لے کر آئے گا اس کو10نیکیوں کا ثواب ملے گا۔‘‘ ( سورۃ الانعام: 160)

حدیث رسول ﷺ کے مطابق جب کوئی ماہ رمضان کے روزے رکھے گا تو 10مہینوں کے روزوں کا ثواب ملے گا ۔(سنن ابن ماجہ : 1715)

حدیث رسول ﷺ کے مطابق جب شوال کے6 روزے رکھے گا تو60 دنوں کے روزوں کا ثواب ملے گا تو اس طرح مل کر 12 مہینوں یعنی ایک سال کے برابر ثواب ہوجائے گا۔(سنن ابن ماجہ : 1715)

حدیث رسول ﷺ کے مطابق رمضان المبارک کے روزوں میں جو کوتاہیاں سرزد ہوجاتی ہیں شوال کے ان 6روزوں سے اللہ تعالیٰ اس کوتاہی اور کمی کو دور فرمادیتے ہیں۔ (صحیح الجامع : 3094)

احادیث میں شوال کے 6 روزے مسلسل رکھنے کا ذکر نہیں ۔

لہٰذا یہ 6 روزے ماہ ِشوال میں عید الفطر کے بعد لگاتاریا وقفے وقفے سے رکھے جاسکتے ہیں ۔

کسی شخص کے رمضان کے روزے کسی عذر کی وجہ سے چھوٹ گئے تو وہ روزوں کی قضا سے پہلے شوال کے6 روزے رکھ سکتاہے۔

کسی شخص نے ان 6 روزوں کو رکھنا شروع کیا، لیکن کسی وجہ سے ایک یا 2روزہ رکھنے کے بعد دیگر روزے نہیں رکھ سکا تو اس پر باقی روزوں کی قضا نہیں ہے ۔

اگر کوئی شخص ہر سال شوال کے 6 روزوں کے رکھنے کا اہتمام کرتا ہے مگر کسی سال نہ رکھ سکے تو وہ گناہ گار نہیں اور نہ ہی اس پر ان روزوں کی قضا واجب ہے۔

تبصرہ کریں