نیک اور سعادت مند خاندان کی بنیادیں۔ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض الثبیتی

نیک اور سعادت مند خاندان کی بنیادیں
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض الثبیتی 
محمد عاطف الیاس (فاضل ام القریٰ یونیورسٹی – مکہ مکرمہ)

پہلا خطبہ

ہر طرح کی حمد وثنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ اسی تخلیق کا آغاز کیا اور اسے راہ دکھائی، پھر حکم ونہی کے ذریعے ان کی رہنمائی کی اور انہیں بے سہارا نہیں چھوڑا۔ ان کے لیے راستے کی نشانیاں واضح فرمائیں، مینار نصب کیے اور علامات دکھائیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے پیغام پہنچا دیا، امانت ادا کر دی، امت کو نصیحت کی اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، اہل بیت پر اور صحابہ کرام پر اور استقامت کے ساتھ قیامت تک ان کی پیروی کرنے والوں پر۔

بعدازاں! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ یہی نجات کا راستہ ہے اور دنیا وآخرت میں سعادت کا راستہ ہے۔

گھرانے معاشرے کی بنیاد اور اس بنیادی حصہ ہیں۔ چونکہ اس کا مقام ومرتبہ بہت بلند ہے، اس لیے تمام قوانین اور نظاموں میں اس کے لیے تفصیلی قانون سازی کی جاتی ہے، جس کے ذریعے حقوق کا تعین ہوتا ہے، واجبات معلوم ہوتے ہیں اور زوجین کے کردار کی وضاحت ہوتی ہے۔ اسلامی شریعت نے بھی زوجین میں سے ہر ایک کے لیے موزوں احکام نازل کیے ہیں، جو ان کی جسمانی قوت کے لحاظ سے بھی مناسب ہیں، نفسیاتی طور پر بھی موزوں ہیں اور ان کی صلاحیتوں اور امکانات کے مطابق بھی ہیں۔

کسی سمجھ دار شخص کو اس بات میں کوئی شک وشبہہ نہیں ہو سکتا کہ زوجین میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ ایک پر سکون، مستحکم اور ضروریات زندگی کو پورا کرنے والا گھرانہ تشکیل دے۔ جو ان کے، ان کی اولاد کے اور معاشرے کے اچھے مستقبل کا ضامن بھی ہو۔

اس معاملے میں عورت کا جو کردار ہے، اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے، کوئی اس کی جگہ لے ہی نہیں سکتا۔ وہی تربیت اور نصیحت کرنے والی ہے، اور بہترین مشورہ دینے والی ہے۔ وہ اپنے شوہر کا مضبوط سہارا بھی ہوتی ہے اور اپنے گھرانے کا بنیادی ستون بھی ہوتی ہے۔ وہی ہم دم ٹپکتا پیار اور رحم دلی کا پیکر ہوتی ہے۔ اس کے جانے کی تلافی نہیں ہو سکتی، بلکہ اس صورت میں گھرانے کی عمارت ہل جاتی ہے، اگر وہ اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ جائے تو گھرانہ نہ صرف کمزور ہو جاتا ہے، بلکہ سارے معاشرے کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ کوئی کمپنی یا کاروبار یا ادارہ اس وقت تک نہیں چل سکتا جب تک اس کا کوئی سربراہ نہ ہو، جو اس کے معاملات کو چلائے، اور اس کا خیال رکھے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ﴾ (سورۃ النساء: 34)

’’مرد عورتوں پر قوام ہیں، اس بنا پر کہ اللہ نے اُن میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے، اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔‘‘

اس لیے قوامیت ایک سرپرستی ہے، جو شوہر کو گھرانے کے معاملات چلانے کی صلاحیت دیتی ہے۔ وہ گھرانے کا ذمہ دار ہوتا ہے، اس کے معاملات سنبھالتا ہے، اس کی حفاظت کرتا ہے، اپنی بیوی اور اولاد کی ضرورتیں پوری کرتا ہے، ان کے لیے کھانا، لباس، رہائش اور نان نفقہ فراہم کرتا ہے۔ اپنی بیوی اور گھرانے کو تعلیم دیتا ہے اور ان کی نگہبانی کرتا ہے۔ یہ سرپرستی حقیقت میں مرد کے لیے ایک شرف بھی ہے اور ذمہ داری بھی، اس سے اس کی ذمہ داریوں اور بوجھ میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس معاملے میں گمراہی یہ ہے کہ اس سرپرستی کو للکارا جائے، شوہر سے وہ ذمہ داری چھیننے کی کوشش کی جائے، جو اللہ نے اس کے سر پر ڈالی ہے۔ اسی طرح یہ بھی بہت بڑی غلطی ہے کہ شوہر اپنی سرپرستی کو استعمال کرتے ہوئے شریعت اسلامیہ کی حدود سے تجاوز کر جائے۔ یہ دونوں چیزیں گھرانے اور معاشرے کو خراب کرنے والی ہیں۔

تاہم دیکھا یہ گیا ہے کہ بعض مرد حضرات سرپرستی کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے میں غلطی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعض تو ایسے ہیں کہ جو اپنے گھر والوں کے سر پر لٹکتی تلوار بن جاتے ہیں، زیادتی اور زبردستی کرتے ہیں۔ وہ اپنے گھر ایسے آقا کی طرح رہتے ہیں کہ جس کے حکم کی کوئی مخالفت نہیں کر سکتا، نہ اس کی رائے کے بارے میں کوئی کچھ کہہ سکتا ہے۔ وہ ایسے فیصلے بھی کر گزرتے ہیں جو بیوی کے مستقبل اور مصیر کے متعلق ہوتے ہیں، وہ بھی اس کی رائے اور مشورے کے بغیر۔ سرپرستی کی اس ذمہ داری کا غلط استعمال یوں بھی ہو سکتا ہے کہ اسے استعمال کرتے ہوئے بیوی کی تنقیص کی جائے یا اسے ایسے کام کہیں جائیں جو اس کے بس میں نہ ہوں، مادی یا معنوی طور پر اسے ستایا جائے یا اس کی تذلیل کی جائے۔ اس سے بیوی کی صلاحیتیں اور قدرات کم ہو جاتی ہیں، اس کی شخصیت مسخ ہو جاتی ہے، وہ ذمہ داری میں شریک ہونے اور اولاد کی تربیت کے قابل نہیں رہتی۔ اس کی وجہ سے سارے گھرانے میں ہر قسم کی پیش قدمی کی صلاحتیں تباہ ہو جاتی ہیں۔

دوسری طرف بعض لوگ ایسے ہیں جو اس سرپرستی کو صرف کھانا، پینا اور رہائش کی فراہمی تک محدود سمجھتے ہیں۔ انہیں یہ اندازا نہیں ہوتا کہ یہ کتنی بڑی ذمہ داری اور امانت ہے۔ یہ لوگ اپنے گھرانے کو بے لگام چھوڑ دیتے ہیں، اس ذمہ داری سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں جو ان کے کندھے پر ڈالی گئی تھی، بھول جاتے ہیں، یا دانستہ بھلا دیتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے اس ذمہ داری کے بارے میں پوچھے گا۔ ان کی فکر بس اتنی ہی ہوتی ہے کہ گھر جا کر سو جائیں۔ سونے سے پہلے اور سونے کے بعد وہ گھر سے باہر ہی رہتے ہیں، کسی محفل کی تلاش میں رہتے ہیں، یا تفریح کی کسی جگہ کو ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ سرپرستی کی اس ذمہ داری کو دیوار پر دے مارتے ہیں۔ ایسے غلط رویوں کی وجہ سے بکھرے ہوئے گھرانے سامنے آتے ہیں، جن کی بنیادیں انتہائی کمزور ہوتی ہیں، اس کے افراد بڑی آسانی سے پھسلائے جا سکتے ہیں، بد خواہوں کے جالوں میں پھنس جاتے ہیں، اور تباہ کن افکار کو اپنا لیتے ہیں۔

سرپرستی ایک ذمہ داری ہے، اور ذمہ داری کا حساب کتاب ہوتا ہے اور اس پر جزا سزا بھی ملتی ہے۔ اس لیے اگر کوئی شخص اس ذمہ داری کو نبھاتا ہے تو اسے اجر ملتا ہے، اگر نہیں نبھاتا، تو خود اللہ کی سزا کا مستحق بناتا ہے۔ اس لیے شوہر کو قائدانہ صلاحیتوں کا حامل ہونا چاہیے، اس میں احساسِ ذمہ داری ہونی چاہیے، اسے اس امانت کا احساس ہونا چاہیے جس کے ذریعے اللہ نے اسے بلند کیا ہے، اور جو اس کے کندھے پر ڈالی ہے۔ اس لیے اسے چاہیے کہ اپنے عظیم گھرانے کے معاملات کو احکامِ شریعت کے مطابق چلائے، مشکل حالات میں وقار اور عقلمندی کا مظاہرہ کرے، جذباتی مواقع پر بردباری کا مظاہرہ کرے، غصے اور غضب کی کیفیت میں صبر سے کام لے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«أكْملُ المؤمنينَ إيمانًا أحسنُهُم خلقًا، وخيارُكُم خيارُكُم لنسائِهِم»

’’سب سے کامل ایمان اسی کا ہے جو بہترین اخلاق والا ہے، آپ میں سے بہترین وہ ہے، جو اپنی عورتوں کے لیے بہتر ہے‘‘

سرپرستی کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی فرمان برداری کی نصیحت کی جائے، اسلامی شعائر کی ترغیب دلائی جائے، جیسے نماز اور روزہ وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا﴾

’’اپنے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کرو اور خود بھی اس کے پابند رہو۔‘‘ (سورۃ طہ: 132)

اسی طرح شریک حیات اور زندگی کے ساتھی کا بھلے طریقے سے ساتھ نبھانا بھی سرپرستی میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوف﴾ (سورۃ النساء: 19)

’’ان کے ساتھ بھلے طریقہ سے زندگی بسر کرو۔‘‘

اسی طرح سرپرستی میں یہ بھی شامل ہے کہ کہ بھلے طریقے سے تعامل کیا جائے، اچھے الفاظ بولے جائیں، گفتگو کے آداب کا خیال رکھا جائے۔ بیوی کو کوئی ایسا کام نہ کہا جائے جو وہ نہ کر سکتی ہو، اسے خوش کیا جائے، اس کی کمزوری میں اس کا ساتھ دیا جائے، کوتاہیوں سے تجاہل عارفانہ برتا جائے، ان چیزوں سے درگزر کیا جائے جو تعلق کے حسن پر اثر انداز ہوں، سختی اور بد تمیزی سے بچا جائے، اس کے لیے خوبصورتی اختیار کی جائے۔ سیدنا ابن عباس بیان کرتے ہیں:

“إني أحب أن أتزين لامرأتي كما أحب أن تتزين لي”.

’’میں اپنی بیوی کے لیے تیار ہونا بھی پسند کرتا ہوں، جیسے میں یہ پسند کرتا ہوں کہ وہ میرے لیے تیار ہو‘‘

اسی طرح سرپرستی میں یہ بھی شامل ہے کہ رازوں کو فاش نہ کیا جائے، عیبوں کو ظاہر نہ کیا جائے، بیوی کو یا اس کے گھر والوں کو برا کہنے یا لعن طعن کرنے سے پچا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“ليس المؤمن بالطعان ولا اللعان ولا الفاحش ولا البذيء” (جامع ترمذی)

’’مومن لعن طعن کرنے والا، فحش اور گندی زبان والا نہیں ہوتا۔‘‘

اسی طرح فرمانِ نبوی ہے:

“إن من أشر الناس عند الله منزلة يوم القيامة الرجل يفضي إلى امرأته، وتفضي إليه ثم ينشر سرها” (رواه مسلم)

’’روزِ قیامت اللہ کے یہاں سب سے برا مقام اس شخص کا ہو گا جو اپنی بیوی کے پاس جاتا اور وہ اس کے پاس آتی، پھر وہ اس کا راز فاش کر دیتا۔‘‘

ان سب چیزوں کو ایک ہی جملے میں سمیٹنے والی حدیث یہ ہے کہ

«استوصوا بالنساء خيرًا»

’’میں آپ کو عورتوں کے متعلق نصیحت کرتا ہوں۔‘‘(صحیح بخاری؛ صحیح مسلم)

رسول اللہ ﷺ کے اخلاق میں یہ بھی شامل ہے کہ آپ ﷺ اچھا تعلق رکھنے والے تھے، ہمیشہ خندہ پیشانی سے رہتے تھے، اپنے گھر والوں سے دل لگی کرتے تھے، ان کے ساتھ مزاح کرتے تھے، ان پر خرچ کرتے تھے، اپنی بیویوں سے ہنسی مذاق کرتے تھے ۔ وہ ان کے ساتھ پیار محبت قائم رکھتے تھے، ان کے کام کرتے تھے، ان کی ضرورتیں پوری کرتے تھے۔ صحیح روایت ہے کہ سیدہ عائشہ سے پوچھا گیا کہ آپ ﷺ گھر میں کیا کرتے تھے؟ اس پر سیدہ نے کہا:

“كان يكون في مهنة أهله”.

’’اپنے گھر والوں کے کام کرتے تھے‘‘

مشورہ ایک ایسا اصول ہے جس کی ترغیب اسلام نے دلائی ہے، اسے گھرانوں میں زندہ رکھا جائے تو وہ مزید مستحکم ہو جاتے ہیں، اس کے افراد ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے متحرک رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا﴾ (سورۃ البقرة: 233)

’’پھر اگر دونوں باہمی رضامندی اور مشورہ سے دودھ چھڑانا چاہیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘

بیوی شریک حیات اور ذمہ داری میں شریک ہوتی ہے، اللہ نے اسے جو عقل، دل اور جذبات دیے ہیں، ان کی بدولت وہ بہترین رائے دے سکتی ہے، اس لیے شریعتِ اسلامیہ نے گھر کو چلانے، شوہر اور اولاد کا خیال رکھنے میں اسے بھی ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اس ذمہ داری کا تقاضا یہ ہے کہ اسے بھی فیصلوں میں شریک کیا جائے، اس کی رائے کا خیال رکھا جائے، اس کی رائے کو سنا جائے، اس کا احترام کیا جائے اور اس کی قدر کی جائے۔ اگر کوئی اختلاف رائے سامنے آ جائے تو پھر فیصلہ شوہر ہی کا ہے، اس کا حق ہے کہ بھلے طریقے سے اس کی اطاعت کی جائے۔ یہ فرمان برداری کوئی مطلق اور غیر مشروع فرمان برداری نہیں ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے:

«لَا طَاعة في معصية الله، إنما الطاعة في المعروف»

’’اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں، بلکہ اطاعت تو نیکی میں ہے۔‘‘(صحیح بخاری؛ صحیح مسلم)

نبی کریم ﷺ مردوں میں سب سے کریم بلکہ مردوں کے سردار تھے، انہوں نے بھی امت سے متعلقہ ایک مسئلے میں ام سلمہ سے مشاورت کی، صرف خاندانی معاملات میں مشاورت پر اکتفا نہ کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ﴾

’’مرد عورتوں پر قوام ہیں۔‘‘(سورۃ النساء: 34)

مرادانگی کے وصف کو دیکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ گھرانے کا سربراہ ایسا شخص ہونا چاہیے جس میں مرادنگی کی صفات پائی جاتی ہوں، جیسے عقلمندی، حکمت، دل کی وسعت قلبی، دور اندیشی، بات چیت کرنے کی قدرت، گھرانے کے افراد کی نگہبانی کی قابلیت اور مسائل کے حل میں مہارت۔

اسی طرح سرپرستی کا تقاضا یہ ہے کہ معمولی اور بے حیثیت چیزوں میں مداخلت نہ کی جائے، لغزشوں کی تلاش نہ کی جائے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

«خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي»

’’تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہے، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہترین ہوں‘‘

اللہ مجھے اور آپ کو قرآن عظیم سے برکت عطا فرمائے! اس میں آنے والی آیات اور ذکر حکیم سے فائدہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے! میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے عظیم اللہ سے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو۔ یقینًا! وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

اللہ کے لیے ویسی تعریف ہے جو اس کی جلالت کے شایانِ شان ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس کی حکومت اور بادشاہت میں اسی کا حکم چلتا ہے۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، اہل بیت پر اور صحابہ کرام پر۔

بعدازاں! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ﴾

’’اللہ کے سے ڈرو، وہ تم کو صحیح طریق عمل کی تعلیم دیتا ہے۔‘‘ (سورۃ البقرة: 282)

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ سرپرستی کا تقاضا یہ ہے کہ بیوی اپنے شوہر کے حقوق ادا کرے، ان حقوق میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ بھلے کاموں میں اس کی فرمان برداری کرے، اس کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلے، جسے وہ پسند نہ کرتا ہو، اسے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہ دے، شوہر اور اولاد کے کام کرے، کیونکہ بیوی کا شرف اور بلندی اسی میں ہے کہ وہ اپنے شوہر کی فرمان بردار ہو۔

اللہ کے بندو! رسول ہدایت پر درود وسلام بھیجو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں آپ کو یہی حکم دیا ہے۔ فرمایا:

﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ (سورۃ الأحزاب: 56)

’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘

اے اللہ! رحمتیں نازل فرما! محمد ﷺ پراور آپ ﷺ کی آل پر، جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائی تھیں۔ تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔ اے اللہ! برکتیں نازل فرما! محمد ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر، جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی تھیں۔ تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔ ان سب پر سلامتی بھی نازل فرما! اے اللہ! خلفائے راشدین سے راضی ہو جا! اصحاب ہدایت اماموں سے، ابو بکر، عمر، عثمان اور علی سے، تمام اہل بیت اور صحابہ کرام سے راضی ہو جا۔ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اپنی معافی، کرم نوازی اور احسان فرما کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔

اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! کفر اور کافروں کو رسوا فرما! اے اللہ! اپنے اور دین کے دشمنوں کو تباہ وبرباد فرما! اے اللہ! اس ملک کو اور تمام مسلمان ممالک کو امن وسلامتی نصیب فرما!

اے اللہ! ہم تجھ سے جنت کا اور جنت کے قریب لیجانے والے تمام اقوال واعمال کا سوال کرتے ہیں۔ آگ سے اور آگ کے قریب لیجانے والے تمام اقوال واعمال سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ساری خیر کا سوال کرتے ہیں۔ جلد آنے والی اور دیر سے آنے والی، اس برائی سے جس کا ہمیں علم ہے اور اس برائی سے جس کا ہمیں علم بھی نہیں ہے۔ ہر برائی سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔ جلد آنے والی اور دیر سے آنے والی، اس برائی سے جس کا ہمیں علم ہے اور اس برائی سے جس کا ہمیں علم بھی نہیں ہے۔ اے اللہ! ہم خلوت وجلوت میں تیری خشیت کا سوال کرتے ہیں، غصے اور خوشی میں حق بات کہنے کی توفیق مانگتے ہیں، تنگی اور فراخی کے دور میں میانہ روی مانگتے ہیں۔ ہم تجھ سے بے انتہا نعمتوں کا سوال کرتا ہوں، آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک مانگتے ہیں جو کبھی منقطع نہ ہو۔ تیرے چہرے کے دیدار کا لطف مانگتے ہیں، تیری ملاقات کا شوق چاہتے ہیں، مگر کسی نقصان کے بغیر، کسی گمراہ کن فتنے کے بغیر۔ اے اللہ! ہمیں بہترین سوال سجھا، بہترین دعا ہمارے دلوں میں ڈال دے، ہمیں بہترین کامیابی نصیب فرما، بہترین کامرانی عطا فرما، بہترین اعمال کی توفیق عطا فرما۔ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! بہترین دعائیں سجھا۔

اے اللہ! ہمارا ہر گناہ کو معاف فرما دے۔ ہماری ہر پریشانی کو دور کر دے، ہمارے قرض ادا کر دے، ہمارے ہر مریض کو شفا دے دے، ہمارے ہر آزمائش زدہ کو عافیت نصیب فرما دے، اپنی رحمت سے، اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے!

اے اللہ! ہمارے فوجی جوانوں کی حفاظت فرما! ہماری سرحدوں کی حفاظت فرما۔ اے پروردگار عالم! ہماری نگہبانی فرما۔ اے اللہ! جو اس ملک کے اور مسلمان ممالک کے خلاف چال چلے تو اسے خود ہی میں مصروف کر دے۔ اے پروردگار عالم! اسی کی چالوں میں اسے ہلاک فرما دے۔ اے اللہ! ہمارے امام اور حکمران خادم حرمین کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ اے اللہ! اسے ہدایت کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما! اے پروردگار عالم! اس کے اعمال اپنی رضا کے مطابق بنا۔ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اس کے ولی عہد کو بھی ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ تمام مسلمان حکمرانوں کو کتاب وسنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما! اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! انہیں اپنی شریعت نافذ کرنے کی توفیق عطا فرما۔

﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾

’’اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا، تو یقیناً! ہم تباہ ہو جائیں گے۔‘‘ (سورۃ الأعراف: 23)

﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ﴾( الحشر: 10)

’’اے ہمارے رب، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے، جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی بغض نہ رکھ، اے ہمارے رب! تو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔‘‘

﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ (سورۃ البقرة: 201)

’’اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی! اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا!‘‘

﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ﴾

’’اللہ عدل، احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ بدی، بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے، تاکہ تم سبق لو۔‘‘ (سورۃ النحل: 90)

اللہ کو یاد کرو، وہ تمہیں یاد رکھے گا۔ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو، وہ تمہیں مزید عطا فرمائے گا۔

﴿وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ﴾ (سورۃ العنكبوت: 45)

’’اللہ کا ذکر اس سے بھی زیادہ بڑی چیز ہے اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کرتے ہو۔‘‘

٭٭٭

تبصرہ کریں