نفس کی رذالتیں اور ان کاعلاج۔ ابومعاذ

کتاب و سنت سے ہٹے ہوئے اور نفس پرستی سے لبریز شریر نفس کے بارے میں حافظ ابن القیم رحمۃ اللہ نے فرمایا: سبحان اللہ !نفس میں ابلیس کا تکبر ، قابیل کاحسد، قوم عاد کی سر کشی ، قوم ثمود کی طغیانی، نمرود کی جرأ ت ، فرعون کا حد سے تجاوز ودست درازی ، قارون کی ہٹ دھرمی اور تریاہٹ ، ہامان کی بے شرمی ، بِلعام کی خواہش پرستی ،سبت والوں کی حیلہ سازی ، ولید (بن مغیرہ )کی اکڑ اور ابو جہل کی جہالت موجود ہے۔

اس نفس میں درندوں کی صفات میں سے کوئے کی حرص ، کتے کی طمع اور لالچ ، مور کی بد دماغی اور ناسمجھی، گندگی خور کیڑے کی رذالت و کمینگی ، سو سمار (ضب) کی بد سلوکی ، اونٹ کا کینہ، چیتے (تیندوے)کی حملہ آوری ، شیر کی خون خواری، چوہے کا فسق ، سانپ کی خباثت، بندر کی فضول و بیہودہ اچھل کود، چیونٹیوں کی حرص کہ بہت کچھ اکٹھا ہو جائے ، لومڑی کا مکر ، پروانوں کا ہلکا پن اور بجو کی نیند(بھی )موجود ہے ۔

سوائے اس کے کہ (ایمان کے ساتھ)محنت اور مجاہدے سے یہ سب چیزیں ختم ہوسکتی ہیں۔ پس جس نے اپنے نفس کو کھلا چھوڑ دیا تو وہ اسی مذکورہ گروہ میں سے ہے ۔ (الفوائد ص۴۶۳۔۴۶۴،مجموع رسائل علمیہ و دعویہ للشیخ محمد بن عبداللہ الامام الیمنی حفظہ اللہ ص۲۲۸)کامیاب وہ شخص جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا اور مذکورہ تمام برائیوں سے بچتا ہواکتاب و سنت کے راستے پر گامزن رہا۔ (دیکھئے سورۃ الشمس :۹) ’’اور جو شخص اپنے نفس کا غلام بنا ، اسے کھلا چھوڑ دیا تو یہ شخص دنیا اور آخرت میں رسواہے۔‘‘ وَنَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِانْفُسِنَا

اے اللہ !میرے نفس کو تقویٰ عطا کر دے اور اس کا بہترین تزکیہ فرما۔ تو ہی اس کا ولی و نگہبان ہے۔ (آمین) {ابومعاذ}

تبصرہ کریں