مسلمانوں کےليے بيت المقدس اہميت۔شیخ محمد صالح المنجد

مسلمانوں کےليے بيت المقدس کی کيااہميت ہےاورکيااس ميں یہودیوں کا بھی کوئی حق ہے ؟

ميں مسلمان ہونے کے ناطے مسلسل يہ سنتارہا ہوں کہ قدس شہر ہمارے ليے بہت ہی اہم ہے ليکن اس کا سبب کيا ہے ؟ مجهےاس کا توعلم ہے کہ نبی الله يعقوب نے مسجد اقصی اسی شہر ميں بنائی اورہمارے نبی محمد ﷺ نے مسجد اقصی ميں سب انبياء کی نمازميں امامت کرائی جو کہ سب انبياء کی رسالت اوروحی الٰہی کی وحدت پردليل ہے۔ توکيا اس کے علاوہ کوئی اوربهی ايسا سبب پاياجاتا ہے جواس شہرکی اہميت واضح کرے ، يا کہ اس سبب سےکہ ہم یہودیوں کے ساتھ معاملات نہ کريں ؟

یہودیوں کی طرف سے کیے جانے والے پراپیگنڈا سے تو مجهے توايسا لگتا ہے کہ اس شہرميں ہم سے زيادہ حصہ يہوديوں کا ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

اول : بیت المقدس کی اہمیت

اللہ تعالی آپ پررحم فرمائےآپ کے علم میں ہونا چاہيےکہ بیت المقدس کے فضائل بہت زيادہ ہیں جس کےبارہ میں آیات و احادیث بہت ہیں :

اللہ سبحانہ وتعالی نے قرآن مجید میں اسے مبارک قرار دیا ہے ۔ فرمان باری تعالیٰ ہے :

﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ﴾

’’ پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ، اس لیے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں۔‘‘ (سورۃ الاسراء :1 )

اورقدس ہی وہ شہراورعلاقہ ہے جومسجد کے اردگرد ہے تواس لحاظ سےوہ بابرکت ہوا ۔

اسی علاقہ کواللہ تعالی نے سیدنا موسیٰ کی زبان سے مقدس کا وصف دیا ، فرمان باری تعالیٰ ہے :

﴿يَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوا عَلَىٰ أَدْبَارِكُمْ فَتَنقَلِبُوا خَاسِرِينَ﴾  (سورۃ المائدۃ : 21 )

’’ اے میری قوم! اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ تعالی نے تمہارے نام لکھ دی ہے ۔‘‘

اس سرزمین میں مسجد اقصی پائی جاتی ہے جہاں ایک نماز اڑھائی صد ( 250 ) نمازوں کےبرابر ہے۔

سیدنا ابوذر بیان کرتے ہيں کہ ہم نبی ﷺ کی موجودگی میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ مسجدنبوی افضل ہے یا کہ بیت المقدس ؟ تورسول اکرم ﷺ فرمانے لگے : میری مسجد میں پڑھی جانے والی ایک نماز وہاں (بیت المقدس) کی چار نمازوں سے افضل ہے اور وہ بھی نماز کے لیے کتنی عمدہ جگہ ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ کسی آدمی کے پاس اس کے گھوڑے کی رسی جتنی زمین کا ٹکڑا ہوگا جہاں سے اسے بیت المقدس نظرآئے گا ، تویہ اس کے لیے ساری دنیا سے بہتر ہوگی۔ ( مستدرک الحاکم: 4؍509 ) امام حاکم﷫ نے اسے صحیح قرار دیا اورامام ذہبی﷫ اورعلامہ البانی ﷭ نے اس میں ان کی موافقت کی ہے۔ (دیکھیں سلسلۃ احادیث صحیحہ، حدیث نمبر 2902)

مسجد نبوی میں ایک نماز ہزارنماز کےبرابر ہے تواس طرح مسجداقصی میں ایک نمازاڑھا‏ئی سو (250 ) نمازکے برابر ہوئی۔

مسجداقصی میں ایک نمازپانچ سونمازکے برابروالی لوگوں میں مشہور حدیث ضعیف ہے۔ ( دیکھیں تمام المنۃ للشیخ البانی ﷫: ص 292 )

اوروہ ایسی پاکيزہ سرزمین ہے جہاں پرکانا دجال بھی داخل نہیں ہوسکتا، جیسا کہ حدیث میں ہے :

’’ وہ دجال حرم اوربیت المقدس کے علاوہ باقی ساری زمین میں گھومےگا ۔‘‘ ( مسنداحمد : 23090)

سیدنا عیسی دجال کواسی علاقے کے قریب قتل کریں گے جیسا کہ حدیث نبویﷺ میں ہے :

’’سیدنا نواس بن سمعان بیان کرتے ہيں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا :

« فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَابِ لُدٍّ، فَيَقْتُلُهُ »

’’ عیسی بن مریم دجال کو باب لد میں قتل کریں گے ۔‘‘ ( صحیح مسلم : 2937 )

لد بیت المقدس کے قریب ایک جگہ کا نام ہے ۔

یہ وہی جگہ ہے جہاں نبی ﷺ کومعراج کے لیے مسجد حرام سے مسجد اقصی لے جايا گيا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس طرح فرمایا ہے: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى﴾ ’’پاک ہے وہ اللہ تعالی جواپنے بندے کورات ہی رات میں مسجدحرام سے مسجد اقصی تک لے گيا ۔‘‘ (سورۃ الاسراء : 1 )

یہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیث میں ہے ، سیدنا براء بیان کرتے ہیں کہ

«صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا»

نبی ﷺ نے سولہ یا سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف نمازپڑھی ۔ (صحیح مسلم : 525 )

معروف ومعلوم ہےکہ وہ جگہ مہبط وحی اورانبیاء کرام﷩ کا وطن ہے ۔

بیت المقدس ان مساجدمیں سے ہے جن کی طرف سفرکرنا جائزہے :

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :

«لاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ: المَسْجِدِ الحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الرَّسُولِ ﷺ، وَالمَسْجِدِ الأَقْصَى»

’’ تین مساجدکے علاوہ کسی اورکی طرف ثواب کی نیت سے سفر نہیں کیا جاسکتا ، مسجد حرام ، مسجد نبوی ﷺ اور مسجد اقصی ۔‘‘ ( صحیح بخاری : 1189)

ایک لمبی حدیث ہے میں جسے سیدنا ابوہریرہ نے راویت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے اسی مسجد میں سب انبیاء ﷩ کی ایک نمازمیں امامت کرائی۔ حدیث کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں :

« فَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَأَمَمْتُهُمْ » ’’نمازکا وقت آیا تومیں نے ان کی امامت کرائی۔‘‘ (صحیح مسلم : 172 )

تواس لیے ان تین مساجد کے علاوہ زمین کے کسی بھی علاقہ کی طرف عبادت کی غرض سے سفرکرنا جائزنہيں ہے ۔

دوم: سیدنا یعقوب کا مسجد اقصی کے تعمیر کرنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اب یہودی مسلمانوں سے مسجداقصی کے زیادہ حق دار ہیں حالانکہ سیدنا یعقوب موحد اورتوحید پرتھے اوریہودی مشرک ہیں تویہ کیسے ہوسکتا ہے کہ یہودی مشرک اس میں کچھ بھی حق رکھیں ۔

اس کا معنی یہ نہیں کہ ان کے باپ سیدنا یعقوب نے مسجد اقصی بنائی تواب یہ ان کی ہوگئی، بلکہ انہوں نے توان کے لیے یہ مسجد اس لیے بنائی کہ اس میں موحد اوراہل توحید نماز پڑھیں اوراللہ تعالی کی عبادت کریں اگرچہ وہ ان کے اولاد کے علاوہ کوئی اورہی کیوں نہ ہوں ، اورمشرکوں کواس سے دورکیا جائے چاہے وہ ان کی اولاد میں سے کیوں نہ ہوں ۔

اس لیے کہ انبیاء کی دعوت نسلی نہیں بلکہ تقوی پرمشتمل ہوتی ہے ۔

سوم : اورآپ کا یہ کہنا کہ نبی ﷺ نے سابقہ انبیاء کرام ﷩کی نما زمیں امامت کرائی یہ وحدت الٰہی اور وحدت رسالت کی پختہ دلیل ہے ۔

تویہ بالکل صحیح ہے اس لیے کہ سب انبیاء کا دین اورعقیدہ ایک ہی ہے کیونکہ ان سب کے دین کا منبع اورمصدر ایک وحی ہے جس سے سب انبیاء نے اپنی دینی تشنگی دورکی ۔

اوران کا عقیدہ بھی ایک ہی عقیدہ توحیدہے جو کہ اس کی طرف دعوت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک اور صرف وہی عبادت کے لائق ہے ، اگرچہ انبیاء کی شریعتوں میں تفاصیل کے اعتبار سے اختلاف ہے ، ہمارے نبی ﷺ نے بھی اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :

«أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَالْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ، أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ»

’’ میں سیدنا عیسی بن مریم کا دنیا اورآخرت میں زيادہ حق دار ہوں ، اورسب انبیاء علاتی بھائی ہيں ان کی مائيں مختلف اوردین ایک ہی ہے ۔‘‘ (صحیح بخاری : 3434)

علاتی بھائی کا معنیٰ یہ ہے کہ جن کا باپ ایک ہواور ماں الگ الگ ہواسے علاتی بھائی کہا جاتا ہے ۔

اورہم یہاں آپ کویہ کہيں گے کہ آپ ایسا اعتقاد رکھنے سے بازرہیں کہ یہود ونصاری اورمسلمان اب ایک ہی مصدر پر ہیں کیونکہ یہ غلط اور غیرصحیح ہےجس کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے اپنے دین میں تحریف کرڈالی جس میں یہ تھا کہ وہ ہمارے نبی محمدﷺ پرایمان لائيں اوران کی اتباع کریں اوران کے ساتھ کفرنہ کریں ، تواب آپ دیکھیں کہ وہ نبی ﷺ کی نبوت کے ساتھ کفرکرتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے ، اوراللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ۔

چہارم : قدس میں یہودیوں کا کچھ حصہ نہیں ہے اس لیے کہ وہ زمین دووجہوں سے مسلمانوں کی بن چکی ہے اگرچہ پہلے وہاں پریہودی رہتے رہے ہیں :

1۔ اس لیے کہ یہودیوں نے کفرکا ارتکاب کیا اوربنی اسرائیل کے مومنوں کے دین پر جنہوں نے موسیٰ کی پیروی واتباع کیا اوران پرایمان لائے اوران کی مدد کی یہودی ان کے دین پرواپس نہیں آئے اوراس پرعمل نہیں کیا ۔

2۔ ہم مسلمان ان سے اس جگہ کا زيادہ حق رکھتے ہیں ، اس لیے زمین پہلے رہائش اختیارکرنے سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ زمین کا مالک تووہی بنتا ہے جواس میں حدوداللہ کا نفاذ کرے اوراس میں اللہ تعالی کے حکم کوچلائے ، وہ اس لیے کہ زمین اللہ تعالیٰ نے پیدافرمائی اورانسانوں کو اس لیے پیدا فرمایا کہ وہ اس زمین پررہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اوراس میں اللہ تعالیٰ کا دین اورشریعت و حکم نافذ اورقائم کریں ۔

اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۖ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ﴾ (سورۃ الاعراف: 128 )

’’یقیناً زمین اللہ تعالیٰ کی ہی ہے وہ جسے چاہے اپنے بندوں میں سے اس کا وارث بنا دے اورآخر کامیابی انہیں کوہوتی ہے جومتقی ہیں ۔‘‘

تواسی لیے اگرکوئی عرب قوم بھی وہاں آجائے جو کہ دین اسلام پرنہ ہوں اوروہاں کفرکا نفاذ کریں توان سے بھی جہاد وقتال کیا جائےگا حتی کہ وہاں اسلام کا حکم نافذ ہویا پھر وہ قتل ہوجائيں ۔

اوریہ معاملہ کوئی نسلی اورمعاشرتی نہیں بلکہ یہ تو توحید و اسلام کا معاملہ ہے ۔

فائدے کے لیے ہم چندایک مقالہ نگاروں کی کلام نقل کرتے ہیں : ’’تاریخ اس بات کی شاہدہے کہ فلسطین میں سب سے پہلے بودوباش اورسکونت اختیارکرنے والے کنعانی تھے ، جنہوں نے چھ 6ہزارسال قبل میلاد وہاں رہائش اختیار کی جوکہ ایک عرب قبیلہ تھا اورجزیرہ عربیہ سے فلسطین میں آیا اوران کے آنے کےبعد ان کے نام سے اسے فلسطین کا نام دیا گیا ۔ ‘‘ (کتاب الصیھونية أنشطتھا تنظیماتھا ، انشتطھا، احمد العوضی : ص 7 )

اوریہودی تویہاں پر سیدنا ابراہیم کے آنے کے بھی تقریبا چھ سو سال بعد آئے ہیں یعنی اس کا معنی یہ ہوا کہ یہودی یہاں پر پہلی مرتبہ چودہ سو سال قبل میلاد آئے ، تواس طرح کنعانی یہودیوں سے چار ہزار پانچ سوسال پہلے فلسطین میں داخل

ہوئے اوراسےاپنا وطن بنایا۔(ایضا ص 7 )

تواس طرح یہ تاریخی طورپربھی ثابت ہوتا ہےکہ فلسطین میں یہودیوں کا نہ تو اب کوئی حق ہے اورنہ ہی اس سے پہلے کوئی حق تھا ، اورنہ توکوئی شرعی اوردینی حق ہے اور نہ ہی قدیم رہائشی اورمالک ہونے کے اعتبارسے ہی کوئی حق ہے ، بلکہ یہ لوگ غاصب اورظالم ہيں ۔

ہم اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں وہ ان نجس اورپلید یہودیوں سے جلداز جلد بیت المقدس کوپاک کرے اورانہیں وہاں سے نکالے اوراس میں دیرنہ کرے بلاشبہ اللہ تبارک وتعالیٰ اس پرقادرہے اوروہ دعاکوقبول کرنے والا ہے۔ والحمدللہ رب العالین ۔ واللہ اعلم

مبارک عید قرباں

مبارک عیدِ قرباں کا مہینہ پھر سے ہے آیا

خوشی اور شادمانی سے بھرا اب جام ہے لایا

پیمبرؐ کی وہ سنت بھول بیٹھے تھے جسے ہم سب

اسی سنت کو زندہ کرتا ہے دن عیدِ قرباں کا

جزائے خیر ہے ہر ایک بُنِ موئے ذبیحہ پر

یہی وہ ماہ ہے جس نے دل مومن کو گرمایا

نہ کیوں اب شادماں ہو جائیں فقراء بھی یتامیٰ بھی

کہ ان پر سایہ افگن ہو رہی ہے رحمتِ مولا

نہ بھولے اپنے پالنہار کو جوشِ مسرت میں

مسلماں کے لیے سب سے فزوں تر مرضئ مولا

ہمیں یاد آئے ابراہیم ؑ، ثاقب عیدِ قرباں سے

ہماری جانچ کی خاطر خدا نے دن یہ دکھلایا

نتیجۂ فکر

ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

 

تبصرہ کریں