مشاہدات امریکہ(قسط 4)۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

1۔نیچرل ہسٹری میوزیم

تاریخ فطرت کے عجائب گھر میں نیروبی، لندن اور مانچسٹر میں دیکھ چکا ہوں۔ اس لئے واشنگٹن کے اس میوزیم میں میرے لئے دلچسپی کی کوئی چیز نہ تھی ۔ ان عجائب گھروں میں عموماً شرق و غرب میں پائے جانے والے جانوروں کے ممی شدہ مجسموں کو شیشے کے شوکیسز میں سجا کر رکھا جاتا ہے۔ بقول مغربی سائنس دانوں کے تمام زندہ مخلوقات ایک خلیہ سے متعدد خلیات تک اور پھر بند رنا حیوان سے انسانی مخلوق تک بذریعہ ارتقاء پہنچی ہے، جسے مجسموں کی شکل میں ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ظاہر ہے کہ لاکھوں کروڑوں سالوں پر محیط اس ارتقاء کا کوئی عملی ثبوت تو وه پیش نہیں کر سکتے۔ اس لیے اسے تمثیلی انداز میں پیش کرکے اپنا مقدمہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔ میوزیم کے بڑے بڑے ہال ہیں، جن میں کسی ایک موضوع کو اجاگر کیا گیا ہے ۔ ایک کا ذکر تو میں نے کر دیا ، پھر مختلف حیوانات اور خاص طور پر افریقہ کے حیوانات کے لئے پورا ایک ھال مخصوص ہے، ظاہر ہے میرے لئے اس میں کیا دلچسپی ہو سکتی ہے کہ میں خود افریقہ میں نو سال گزار چکا ہوں ، اس لئے بہتر سمجھا کہ ایک جگہ کسی خالی نشست کا سہارا لیکر کیوں نہ اپنی ٹانگوں کو آرام نہ دوں جب تک کہ میرے ساتھی اپنے مشاہدات سے فارغ ہو کر واپس نہ آجائیں۔

سامنے دیکھا تو ایک چارٹ کی مدد سے سمندر کی گہرائی کو یوں ظاہر کیا گیا تھا کہ دو سو میٹر تک گہرائی سطح سمندر کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے اور پھر ایک ہزار میٹر تک اسے شفق کا نام دیا گیا ہے اور پھر اگلے چار ہزار میٹر تک سمندر کی وہ کیفیت ہے جسے قرآن نے ﴿ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ﴾ ’’تا ریکیوں کے اوپر تاریکیوں) سے تعبیر کیا گیا۔

سمندر کی عمیق ترین گہرائی بحر الکاہل میں پائی جاتی ہے جو 11 ہزار میٹر تک جاتی ہے۔ مجھے اس چارٹ کی طرف یوں بھی توجہ ہوئی کہ علم بحار کے فاضلین سمندر کی ان گہرائیوں کو فٹ اور میٹر کے حساب سے بتا چکے ہیں کہ جہاں ایک غوطہ خور کو مختلف رنگوں کا ادراک رکھتا ہے اور جوں جوں وہ گہرائی میں اترتا جاتا ہے، ایک کے بعد دوسرا رنگ غائب ہوتا چلا جاتا ہے اور پھر وہ مسافت کہ جس کے بعد مکمل تاریکی چھا جاتی ہے، اُسے سورة النورکی مذکورہ بالا آیت میں یوں بیان کیا گیا ہے۔

﴿إِذَا أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَاهَا﴾ ’’آدمی اگر اپنا ہا تھ بھی نکالے تو اُسے دیکھ نہ پائے گا ۔‘‘

2۔یادگار ابراهام لنکن

واشنگٹن شہر کا مرکز چند نمایاں عمارات پرمشتمل ہے، جن میں ایک یہ بلند و بالاعمارت ہے جو امریکہ کے سولہویں صدر کی عظمت کو چار چاند لگاتی ہے۔

ايتھنز (یونان) کے معابد کی طرز پر بنا ہوا یہ ہال ایک اونچے چبوترے پر واقع ہے کہ جہاں تک پہنچنے کے لئے آپ کو ایک پختہ زینے کی پہلے 23 اور پھر 18 سیڑھیاں چڑھنی پڑتی ہیں ۔

یہ ھال (36) استونوں پر قائم ہے ۔ ہر کالم پر ایک ریاست کا نام کندہ کیا گیا ہے جو لِنکن کی وفات (1865ء) تک ریاستہائے متحدہ امریکہ کا مقدر بن چکی تھیں ۔ تعمیر کی تکمیل (1922ء) تک ان کی تعداد بڑھ کر 48 ہو چکی تھی تو عمارت کے بالائی احاطہ پر ان کے ناموں کا بھی اضافہ کر دیا گیا۔

ھال میں داخل ہوں تو سامنے کی دیوار کے بیچوں بیچ ایک بڑے سے چبوترے پر ایک دیو قامت کرسی پر لنکن کا ماربل سے بناگر انڈیل مجسمہ ایستاده نظر آئے گا ، اپنے اصلی قدو قامت سے تین گنا بڑا !!

خود اس کی قامت چھ فٹ کے قریب تھی۔ یہ مجسمہ19 فٹ کا ہے اور اگر یہ کھڑا کر دیا جاتا تو 28 فٹ کی قامت کو پہنچ جاتا۔

مجسمے کے دونوں طرف کی دیواریں انگریزی تحریر سے منقش ہیں۔ یہ تحریر لنکن کی دو تاریخی تقریروں پر مشتمل ہے جن میں اس کی وہ تقریر شامل ہے، جو اس نے صدر بننے پر بطور افتتاحی خطاب پیش کی تھی ۔

مجسمہ سازی کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں، مسلمانوں کی کوئی بھی عظیم شخصیت اپنے کردار، اپنے افعال اور اپنی بے پناہ قربانیوں کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں اپنا گھر بناتی ہے ۔ مغربی تہذیب بلکہ تمام مشرکانہ تہذیبوں میں اس عظمت کو اجاگر کرنے کے لئے مجسموں کا سہارا لیا گیا ہے۔

کہنا یہ مقصود ہے کہ ابراہام لنکن نے امریکیوں کے دلوں میں یہ حسین مقام کیسے حاصل کیا، وہ شخص جو کہ معمولی کلرک کی حیثیت سے کام کرتا رہا وہ اس مقام تک کیسے پہنچا ۔ ’راز حیات‘ کے مؤلف ’مایوسی نہیں‘ کے عنوان کے تحت اس کی زندگی کے بارے میں یہ سطور قلمبند کرتے ہیں ۔

امریکہ کے ایک شخص نے 1831ء میں تجارت کی۔ اس میں وہ نا کام ہو گیا۔ 1832 میں اس نے ملکی سیاست میں حصہ لیا مگر وہاں بھی اس نے شکست کھائی۔ 1834 میں اس نے دو بار تجارت کی۔ اس بار بھی وہ اپنی تجارت کو چلانے میں ناکام رہا۔

1841 میں اس کے اعصاب جواب دے گئے ۔ 1843 میں وہ دوبارہ سیاست میں داخل ہوا۔ اس کو امید تھی کہ اس بار اس کی پارٹی اس کو کانگرس کی ممبری کے لیے نامزد کر دے گی ۔ مگر آخر وقت میں اس کی امید پوری نہ ہو سکی۔ اس کا نام پارٹی کے امیدواروں کی فہرست میں نہیں آیا۔ 1855 میں اس کو پہلی بار موقع ملا کہ وہ سینٹ کے لیے کھڑا ہو۔ مگر وہ الیکشن میں ہار گیا۔ 1858 میں وہ دوبارہ سینٹ کے الیکشن میں کھڑا ہوا اور دوبارہ شکست کھائی۔

یہ بار بار نا کام ہونے والا شخص ابراہام لنکن (65-1809 ) تھا جو 1860 میں امریکہ کا صدر منتخب ہوا ۔ اس نے امریکہ کی تعمیر میں اتنا بڑا کام کیا کہ آج وہ نئے امریکہ کا معمار سمجھا جاتا ہے۔ (راز حیات از وحید الدین خان : ص 156۔188 )

اور جیسا کہ ہم پہلے تحریر کر چکے ہیں کہ یہ وہ شخص ہے جو امریکہ میں سیاہ فام باشندوں کی آزادی کا علمبردار بنا۔ شمال اور جنوب کی ریاستوں میں اس موضوع پر خانہ جنگی کا آغاز ہوچکا تھا لیکن لنکن اس جنگ میں فاتح کی حیثیت سے نمایاں ہوا اور اپنے استقلال، حوصلہ مندی اور کامیاب منصوبہ بندی کی بنا پر امریکہ کو ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے بچا گیا۔

اس ہال کے باہر نکل کر آپ نگاہ دوڑائیں تو دور دور تک آپ کو آسمان سے چھوتی ہوئی عمارتیں نظر نہ آئیں گی اور یہی فرق ہے واشنگٹن اور نیو یارک کا ، وہاں تو بادلوں سے ہم کنار بلند و بالا عمارتیں ہیں اور یہاں بادل بغیر کسی رکاوٹ کے زمین کو جل تھل کرنے پر آمادہ رہتے ہیں۔

یہاں ایک مرغزار آپ کے سامنے ہے ، یا پیادہ لوگوں کے چلنے کے لئے ایک وسیع اور طویل راہداری آپ کو نظر آئے گی، جس کے درمیان شالا مار باغ کی طرز پر ایک مستطیل تالاب ہے، جس کے کناروں پر فوارے پانی کی چھلکار کا خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں ۔ دور بہت دور ایک اونچا مخروطی مینار ہے جسے علامت واشنگٹن (Monuement) بھی نام دیا گیا ہے اور پھر اس سے بھی ماوراء ایک پہاڑی پر جسے ( CAPITAL HILL ) کہا جاتا ہے ایک سفید گنبد نظر آتا ہے جو امریکہ کی سب سے طاقتور اتھارٹی یعنی پارلیمنٹ (کانگریس) کا عنوان ہے۔

اس راہداری کو نیشنل ھال کا نام دیا گیا ہے ، سوا دو میل کی طوالت رکھتا ہےاور جسے اوسط رفتار کے ساتھ پونے گھنٹے میں طے کیا جاسکتا ہے ۔

مجھے اس راہداری پر جانے کا اتفاق نہیں ہوا لیکن ذخیره معلومات یہ بتاتا ہے کہ اس شاہراہ پر کئی دوسری یادگاریں، کھلی فضا میں اپنے مجسموں، تحریروں، نقش ونگار یا کہیں کہیں چند متواضع عمارتوں کی شکل میں سیاحوں کے لئے قابل کشش قرار دی گئی ہیں ۔ ان کے نام یہاں تحریر کرتا جاتا ہوں :

1۔ کوریا، ویتنام وار کے فوجیوں کی حالت زار پر مشتمل مجسمے

2۔مخروطی مینا ر

3۔امریکہ کے تیسرے صدر تھامس جیفرسن کا مجسمہ جس نے آزادی امریکہ کی قرار پاس کی۔

4۔ جارج میسون میموریل جس نے انسانی حقوق کا بل منظور کیا تھا۔

5۔ درختوں کے جھرمٹ میں آئن اسٹائن کو اپنی کتاب کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔

6۔ایک دیوار کی چھاؤں میں صدر ٹیڈی روز ویلٹ کا مجسمہ

7۔مارٹن لوتھر جونئیر کا 34فٹ کا بلند مجسمہ

8۔جنگ عظیم دوئم میموریل

9۔FDR یا صدر فرینکلن ڈی کا مجسمہ جس نے جنگ عظیم دوئم کے درمیان‎ سوشل اسکیوریٹی سسٹم متعارف کرایا تھا اور اسی طرح مز دور کی کم سے کم اجرت کو متعین کیا تھا ۔

3۔ ایک دریا کی کہانی

واشنگٹن کے ایک طرف میری لینڈ کی ریاست ہے تو دوسری طرف ریاست ورجينيا – واشنگٹن کے نام سے علیحدہ ریاست بھی ہے جو امریکہ کے مغربی ساحل پر کینیڈا کی سرحد کو چھوتی ہے ۔واشنگٹن شہر چونکہ ایک فیڈرل کیپیٹل ہے اور وہ کولمبیا ڈسٹرکٹ میں واقع ہے، اس لیے اسے ہمیشہ واشنگٹن DC لکھا جاتا ہے۔ کولمبیا کا نام کرسٹوفر کولمبس کے نام پر رکھا گیا ہے پر رکھا گیا ہے، اور یہ شہر ور جینا اور میری لینڈ سے کاٹ کر بنایا گیا ہے ۔ اور دار السلطنت ہونے کی بنا پر آپ اپنی مستقل شناخت رکھتا ہے ۔ ہم جب بھی یہاں آتے ہیں تو POTOMAC دریا پر بنے پل کو پار کر کے اس شہر میں داخل ہوتے ہیں ۔

اسے بحر اطلانتک سے وابستہ دریاؤں میں چوتھے بڑے دریا کی حیثیت حاصل ہے اور سارے ملک کے دریاؤں میں وہ 21ویں نمبر پر آتا ہے۔

405 میل طوالت رکھنے والا یہ دریا ALLEGHONY کے پہاڑوں سے نکلتا ہوا اپنا طویل سفر طے کر کے اور چار ریاستوں سے گزرتا ہوا واشنگٹن پہنچتا ہے اور پھر وہاں سے CHESPEAKE کی خلیج میں جا گرتا ہے جس کے ڈانڈے بحر اطلا نتک سے جا ملتے ہیں۔

بتایا گیا کہ ہماری اپنی ر ہا ئش ( STERLING ) ورجینیا سے کوئی دس میل کے فاصلے پر یہ دریا متعدد آبشاروں کا حسین منظر پیش کرتا ہے اور اسے دونوں ریاستوں یعنی میری لینڈ اور ورجینیا سے رسائی حاصل ہے لیکن میری لینڈ کی جانب زیادہ وسعت رکھتی ہے ، چنانچہ ایک شام ہم مجاہد اور بچوں کے ساتھ سوئے دریا روانہ ہوئے ۔ گاڑی پارک کرنے کے بعد ہم نے نقشے کے مطابق راستے کا انتخاب کیا۔ ہمارے بائیں طرف ایک نہر کے آثار دکھائی دیئے جس پر لاک لگائے گئے تھے۔ مراد یہ ہے کہ جب نہر کی سطح اونچی ہو تو کشتیوں کو اوپر سے نیچے لانے کے لئے لاک بنائے جاتے ہیں، یعنی کشتی کو آہنی دروازوں کی رکاوٹ کھڑی کر کے پانی کے ساتھ نیچے لایا جاتا ہے تاکہ وہ نچلی سطح آب کے برابر آسکے اور پھر گیٹ کھول دیا جاتا ہے تاکہ کشتی اپنا سفر جاری رکھ سکے۔ یہی عمل کشتی کو نچلی سطح سے بالائی سطح تک لانے کے لیے کیا جاتا ہے۔

یہ نہر کسی زمانے میں قابل استعمال رہی ہوگی ، اب تو صرف آثار قدیمہ کا نمونہ پیش کر رہی تھی، بالآخر ہم ایک چوبی تختوں سے بنی گزر گاہ میں داخل ہوئے جو اپنے پہلے پُل پر پہنچتی ہے،یہاں دریا کا منظر ہمارے سامنے ہے۔ دریا کا پانی بڑے بڑے پتھروں ، چٹانوں سے رستا نظر آتا ہے اور پھر کسی اونچی چٹان سے گرتا ہوا آبشار کی شکل اختیار کر لیتا ہے، اس طرح کی بیس آبشاریں ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ ایک آبشار کی اونچائی بیس فٹ بتا ئی گئی ہے ۔ ہم نے اس گزرگاہ پر کوئی چار پل پار کئے اور آخری پل سے سب سے بڑی آبشار کے پانی کو گرتے دیکھا ۔ یہ آبشارچوڑائی میں کچھ وسعت رکھتی تھی۔ لیکن اونچائی و ہی تھا جس کا تذکرہ کر چکا ہوں ۔ یہاں یہ دریا اپنی روانی اور جولانی کے ساتھ بہتا نظر آتا ہے ۔ دور دوسرا کنارہ نظر آتا ہے اور یہ وہ مقام ہے جہاں ریاست درجینیا کی طرف سے آنے والوں کے لئے مقام دید بنایا گیا ہے۔

حکومت نے دریا کے دونوں اطراف میں ایک وسیع علاقے کو پارک کی حیثیت دے رکھی ہے جہاں زائرین اور سیاح آبشار کی پھوار سے لطف اندوز ہوتے ہیں ، سبزہ زار اور مرغزار میں چہل قدمی کرتے ہیں اور نیچے جھولوں اور اڑن کھٹولوں کا مزا لیتے ہیں اور صناعی قدرت کے یہ حسین مناظر قلب سلیم اور عقل فہیم کو خالق کائنات کے نام کی تسبیح وتحمید بجالانے کا پیغام دیتے ہیں ۔

4۔ه واشنگٹن کا ایک گرمائی مقام

اسلام آباد سے جیسے مری جانا ہو تو ایسے ہی واشنگٹن سے SHENONDOH کی پہاڑیوں کا سفر ہے، ہماری اپنی رہائش سے 73 میل کا فاصلہ تھا۔ کوئی پچاس میل بعد یہ پہاڑی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور سب سے اونچی پہاڑی تک پہنچنےکے لئے کوئی بیسں میل کی وہ شاہراہ ہے، جو ہر پہاڑی راستے کی طرح پیچ وخم اور نشیب وفراز کے مزے چکھاتی ہے۔

مقامی زبان میں ’ شیمندوہ‘ کا مطلب ہے ’ستاروں کی خوبرو بیٹی ‘ یعنی شہروں کی مصنوعی روشنی سے دور اگر رات کو ستاروں کا جھرمٹ دیکھنا ہو تو یہاں چلے آؤ ۔ جوں جوں ہم بلندی کی طرف بڑھتے گئے طول وطویل درختوں کا ہجوم بھی بڑھتا گیا اور ساتھ ساتھ خنکی بھی ۔ 3550 فٹ کی بلندی پر SKYLAND کاریسٹ ہاؤس ہے کہ اس بعد مزید 50فٹ اور چلے آئیں تو سب سے اونچے مقام تک پہنچا جا سکتا ہے۔ یہاں کے مختصر عجائب گھر کی زیارت کے لئے کمربستہ ہو گئے کہ وقت تھوڑا تھا اور عجائب گھر اور اس سے ملحقہ دكان نوادرات کے بند ہونے میں تھوڑا سا وقت باقی تھا ۔

تصاویر، اشکال، رسوم کے ذریعے اس بلندی تک سڑک کی تعمیر کے مراحل کو واضح کیا گیا تھا جس کا افتتاح 1937 ء میں کیا گیا تھا اور پھر اسی قدرتی جگہ کو دیکھنے کے لئے سیاحوں کا ہجوم امڈ آیا۔ پہلے ہی سال سات لاکھ اور پھر اس سے اگلے سال 10 لاکھ (ایک ملین) زائرین یہاں کے خوبصورت مناظر، خوشگوار ہوا اور با پیادہ ٹیڑھے میڑھے راستوں کی خاک نوردی کے لئے پہنچ گئے تھے۔ اس شاہراہ کی لمبائی 105 میل بتا ئی گئی ہے۔

صدر روز ویلٹ نے خاص طور پر اس جگہ کو اپنے گرمائی مقام استراحت کے لئے منتخب کیا تھا۔ خیال رہے کہ 1946 ء تک یہاں کی استراحت گاہوں میں کالوں اور گوروں کے درمیان تفریق رکھی جاتی تھی اور اگر یہاں غلاموں کا ذکر آیا ہے تو بیان کرتا چلوں کہ بُرده فروشی کی یہ تاریخ پچھلے تین سو سالوں پر محیط ہے ۔

پلی متھ (انگلینڈ) کا جان ہاکین 1600ء کے لگ بھگ غلاموں کی تجارت میں اولین مقام رکھتا ہے ۔

افریقہ سے بُردہ فروش، برٹش اجارہ داری کے تحت امریکی بندر گاہوں پر 29فیصد غلاموں کو اور برازیل کے ساحلوں پر 41فیصد غلاموں کو ان کے آقاؤں کے حوالہ کرتے تھے اور پھر کوئی ڈھائی سو سالوں کے بعد یعنی 1863ء میں لنکن کے قرار آزادئ غلاماں کے بعد سرکاری طور پر غلامی کا خاتمہ عمل میں لایا گیا لیکن جیسا کہ قبل ازیں تحریر کیا گیا ، پبلک مقامات پر سیاہ فام افراد کو اپنے حقوق حاصل کرنے میں مزید نوے یا 100 سال کا انتظار کرنا پڑا ۔

واضح رہے کہ

برطانیہ میں اس تاریخ سے تیس سال قبل بردہ فروشی پر پابندی عائد کر دی گئی تھی ۔ شام کے پونے پانچ بجے عجائب گھر کے دروازے بند ہو رہے تھے ، ادھر ہلکی ہلکی برفباری بھی شروع ہو چکی تھی، اس لئے ہم نے واپسی کی راہ لی اور دو گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد اپنی اقامت گاہ کو جالیا ۔

5۔ مسك الختام : (تلخيص خطاب جمعہ)

واشنگٹن شہر میں وائٹ ہاؤس ، کانگریس اور اسے ملحقہ لائبریری کو میں کئی سال قبل اپنی پہلی آمد کے موقع پر دیکھ چکا تھا۔ اس دفعہ کانگریس ( پارلیمینٹ ) کو دیکھنے کا ایک اور موقع تھا لیکن اس کے لئے پیشگی بکنگ لازمی تھی ۔ اس لیے وہاں جانا تو ہوا لیکن نچلی منزل پر واقع مطالعاتی سنٹر اور نمائش تک رسائی حاصل رہی اور اسی پر ہماری واشنگٹن یاترا اختتام کو پہنچی ۔

5؍جنوری 2024ء کا جمعہ مسجد آدم میں ادا کیا۔ خطیب ایک پاکستانی ریٹائرڈ ڈاکٹر تھے ، انہوں جو چند باتیں پیش کیں ان کی تلخیص کو مسک الختام کے طور پر عرض کیے دیتا ہوں:

مفہوم استعانت : شاہراہ عام پر آپ کار ڈرائیو کر رہے ہوں اور آپ کی کار کا ٹائر پنکچر ہو جاتا ہے ، کیا آپ گاڑی کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہیں گے اور ہر گزرنے والے سے استدعا کریں گے کہ وہ آپ کا اضافی ٹائر فکس کر دے،نہیں، آپ خود اپنی سی کوشش میں لگ جائیں گے ، کوئی نہ کوئی گاڑی والا آپ کی مدد کو ضرور آئے گا اور کہے گا کہ کیا میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں تو پھر آپ اس کے شکرگزار ہوں گے ، مطلب یہ ہے کہ جو کچھ آپ کر سکتے ہیں ۔ وہ کرنا شروع کر دیں تو پھر آپ کی غیبی امداد کے دروازے بھی کھلتے جائیں گے ۔

2۔ نماز قائم کرنا

نماز پڑھنے اور نماز قائم کرتے ہیں کیا فرق ہے ؟

آپ اپنے دفتر میں ہیں، نماز کا اہتمام کرواتے ہیں ، نماز کے لئے جگہ مختص کرتے ہیں ، اسٹاف کو نماز کے لئے بلاتے ہیں اورایسے ہی گھر میں اپنے بیوی بچوں سے پوچھتے رہتے ہیں کہ آیا انہوں نے نماز ادا کی یا نہیں ! ایک اور مثال بیان کی۔

ترکی کی ایک جمعیت کی طرف سے ایک پاکستانی عالم کو نماز کی اہمیت کے بارے میں لیکچر میں دینے کے لئے بلایا گیا ۔ ہال میں بےشمار لوگ موجود تھے ۔ یہ صاحب آئے،بلند آواز سے سلام کیا ، سب نے جواب دیا اور پھر انہوں نے کہا کہ کچھ کام در پیش ہیں، اس لیے میں لیکچر نہیں دے سکتا ۔ والسلام علیکم

کہا اور پھر ہال سے باہر نکل آئے۔ لوگ حیران وششدر ہیں کہ ان کو اتنی دور سے لیکچر کے لئے بلایا گیا اور یہ حضرت کام کا بہانہ بنا کرغائب ہو چکے ہیں !!

اتنے میں وہ دوبارہ ہال میں داخل ہوتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ اس شخص کی مثال ہے جیسے اقامت صلاۃ کے لئے بلایا گیا اور اس نے بحیثیت مسلمان اس دعوت کو قبول بھی کیا۔ لیکن پھر کام کا بہانہ کرکے نماز قائم کرنے سے گریز کرتا رہا

﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ ﴾

اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت نہیں بدلتے ۔

3۔نصرت الٰہی کے لئے اللہ پر مکمل اعتماد

مجھے کورٹ میں اپنا مقدمہ پیش کرنا ہو تو میں کیسے وکیل کی خدمات حاصل کروں گا ؟

اس کی جوا بھی ابھی وکالت پاس کر کے آیا ہے یا اس وکیل کی جسے وکالت کا سالہا سال کا تجربہ ہے۔ ہمیں تویہ بتایا گیا کہ کہ ﴿ حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ﴾ ہمیں تو یہ کہا گیا ہے کہ

’’اللہ ہمیں کافی ہے اور کیا ہی وہ اچھا ہے کہ جس پر بھروسہ کیا جا رہا ہے!!

4۔ ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ

ایک آدمی کو صرف اس ایک آیت سے ہدایت نصیب ہوئی۔

اس نے کہا: کوئی مؤلف اس بات کا دعوی نہیں کر سکتا کہ جو کچھ ا س نے لکھا ہے، وہ غلطیوں سے بالکل محفوظ ہے ۔ یہ دعویٰ صرف اللہ کی ذات ہی کر سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہود و نصاریٰ کے بارے میں یہ کہنا کہ

﴿الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ﴾’’جنہیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا ۔‘‘ اس بات کی دلیل ہے کہ اصل كتاب یعنی القرآن تو صرف مسلمانوں ہی کو عطا کیا گیا ہے ، یہود اور نصاری کو تو اس کا کچھ حصہ ہی دیا گیا ہے۔

5۔آيات محكمات اور متشابہات

ہمیں اللہ تعالیٰ نے عقل اور نقل دونوں عطا کئے ہیں۔ ایک شخص جو صرف عقل پر اعتماد کرتا ہے، اس کے لیے یہ سمجھنا بہت مشکل ہے کہ سیدہ مریم علیہا السلام بغیر شوہر کے ایک بچے کی ماں کیسے بن گئیں لیکن ایک مؤمن کے لئے یہ بات کسی الجھن کا سبب نہیں بنتی کہ ہمارے پاس یہ خبر نقل محفوظ سے پہنچی ہے، اس لیے ہمیں اس پر پورا اعتماد ہے ۔

٭٭٭

عرفہ کا روزہ

امام شافعی ﷫ فرماتے ہیں:

’’ میں اس دن کے روزے کو پسند کرتا ہوں سوائے حاجی کے، اس کے لیے میں پسند کرتا ہوں عرفہ کے دن کا روزہ نہ رکھے کیونکہ وہ فریضۂ حج ادا کرنے والا، قربانی کرنے والا اور مسافر ہے اور اصل بات یہ ہے کہ نبی کریمﷺنے حج میں اس دن روزہ نہیں رکھا ، تاکہ حاجی دعا کے لیے خوب توانا رہے اور عرفہ کے دن کی دعا افضل دعا ہے۔‘‘

(مختصر المزنی: ص59؛ فضائل الاوقات للبیہقی : ص364)

٭٭٭

تبصرہ کریں