مشاہدات امریکہ(قسط 1)-ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

میں کوئی سات سال سے امریکہ نہ جا سکا تھا ، حالانکہ اب تو وہاں میرے بڑے فرزند وہیب کے علاوہ سب سے چھوٹے بیٹے ڈاکٹر مجاہد کو پہلے ایک سالہ کورس اور پھر ریاست ورجینیا میں کام کرتے کل تین سال ہو چکے ہیں ۔ وجہ نہ جانے کی یہ ہوئی کہ صدر ٹرمپ کے عہد میں ویزا کے حصول کو مشکل بنا دیا گیا تھا۔ ایک شرط یہ بھی تھی کہ ویزے کا طلبگار پچھلے دس سال کے دوران ان پانچ ممالک میں سے کسی ایک کو سلام پیش نہ کر سکا ہو اور وہ تھے صومالیا ، سوڈان ، یمن، افغانستان اور عراق ، میں 2012ءمیں مسلم ایڈ کے وائس چیئر مین کی حیثیت سے ایک ہفتے کے لئے خرطوم (سوڈان) جا چکا تھا اور وہ بھی صرف دفتری کام کے لئے، کہ مسئلہ حساب کتاب کا تھا کہ جس کی خاطر میں اس تنظیم کے محاسب اور ڈائریکٹر کے ساتھ خرطوم آفس کا دورہ کرنے اور پھر اس دورے کی رپورٹ تیار کرنے کا پابند تھا لیکن میری یہ وضاحت لندن میں متعین سفارت کار کی فہم و فراست سے بالا تھی، اس لئے اس نے لال جھنڈی دکھانے پر اکتفا کیا ۔ خیر سے جب جوبائڈن کی صدارت کا آغاز ہوا اور اس نے کئی پابندیاں اٹھانے کا اعلان بھی کیا تو بچوں کے اصرار پر سوچا کہ کیوں نہ ایک دفعہ پھر طبع آزمائی کی جائے، زیادہ سے زیادہ فیس کے 120 پاؤنڈ کا نذرانہ ہی تو پیش کرنا ہوگا۔ چنانچہ پچھلے مارچ میں درخواست دی تو انٹرویو کے لئے اگست کی تاریخ ملی ۔ میری یہ کوشش کامیاب رہی اور سفارت کار نے چند رسمی سوالات کے بعد ویزا کی منطوری کا فرمان ہا تھ میں تھما دیا۔

جمعرات 14 دسمبر 2013ء کو اہلیہ اور اپنے پوتے حصیب بن وھیب کے ساتھ روانگی کا دن ٹھہرا۔، یونائیٹڈ امریکی ائر لائنر سے ہماری پرواز کا پہلا مرحلہ ریاست ایری زونا کے مرکزی شہر ڈینور (DENVER ) کا ائر پورٹ تھا۔

دس گھنٹے کی اس طویل پرواز کو سوتے جاگتے پھر معاشی اصطلاحات پر مشتمل ایک انگریزی کتاب کے مطالعہ اور پھر مالکم ایکس کی زندگی پر ایک معلوماتی اور دستاویزی فلم کی دید میں گزارا ۔

1978 ء میں جب میں پہلی مرتبہ شیکاگو پہنچا تھا کہ جہاں 50 افریقی امریکن اماموں کے چالیس روزہ کورس میں مجھے بحیثیت استاد حصہ لینا تھا ، وہا ں کی ایک بک اسٹور میں ما لکم ایکس کی سوانح حیات پر ایک کتاب ہاتھ لگی کہ جس کے مطالعہ سے اسی داعی اسلام شخصیت کی زندگی کے ساحرانہ اور خطیبانہ پہلو سے میں متعارف ہوا۔ زبان انگریزی میں اس کی فصاحت وبلاغت میرے لئے ہمیشہ دلکش دل ربا رہی اور اس کی زندگی کے بارے میں یہ ڈاکومنٹری مجھے امریکہ میں اسلام کی دریافت کے نئے پہلو متعارف کرا گئی ۔

یہاں سے ہم نے دو گھنٹے بعد ریاست کیلی فورنیا کے ایک دور افتاده شہر (SAN Diego ) کی پرواز پکڑنا تھی لیکن ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے قوانین و ضوابط کے تحت آپ نے جس ائر پورٹ پر سب سے پہلے قدم رکھا ہو۔ وہیں پاسپورٹ ، ویزا اور سامان کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے اور اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ پچھلے دو تین تلخ تجربات کے بعد اس دفعہ دو تین رسمی سوالات ہی پوچھے گئے اور پاسپورٹ ہمارے حوالے کر دیئے گئے ۔

شاید انہوں نے ہماری کبر سنی اور سفید بالوں کی لاج رکھ لی ہو اور یا اس بات کی کہ ہمارا مقصد صرف بیٹے اور اس کے اہل خانہ کی زیارت ہے جو عرصہ دراز سے امریکہ کے کئی سائنسی تحقیقی مراکز کو اپنے جو ہر تحقیق کا رمز شناس بنانے پر مامور ہے ۔ امیگریشن کے مرحلہ سے نکلتے ہیں ہمیں اپنے سامان کو اپنی تحویل میں لے کر خود ہی ایک دوسرے کاؤنٹر پر پہنچانا تھا تا کہ وہ منزل مقصود تک پہنچ پائے۔ عموماً لندن سے مڈل ایسٹ یا پاکستان آتے جاتے ہوئے اگر ایک جگہ رک کر ملحقہ پرواز پکڑنی ہو تو سامان کو دونوں منزلوں کا ٹیگ لگا دیا جاتا ہے کہ مقامی اہلکار ایک جہاز سے سامان اتاریں اور پھر ہر بیگ کو اس کے ٹیگ کے مطابق دوسری منزل کی پرواز تک پہنچائیں لیکن امریکہ بہادر کو شایدا پنے اہلکاروں پر بھروسہ نہیں ہے، اس لیے خود مسافر ہی کو اس کار خیر کا پابند بنایا گیا ہے۔ حصیب سلمہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کو بخیر و خوبی ادا کیا ۔ اگلی پرواز تیار تھی اور وہ ڈیڑھ گھنٹے کی پرواز کے بعد منزل مقصود جا اُتری ۔ ائر پورٹ شہر کے بالکل متصل واقع ہے اور جہاز کے لینڈ ہوتے وقت ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ جہاز شہر کی عمارتوں کے درمیان میں سے ہوتا ہوا زمین کو چھونے کی کوشش کر رہا ہے ۔

یہاں مجھے اس بات کا اعتراف کرنے میں کوئی باک نہیں کہ اس سفر کے دوران ہم دونوں کو کچھ پیرانہ سالی کی بنا پر اور کچھ پیر کی تکلیف کی بنا پر متحرک کرسی ( وہیل چیئر) کی خواہش رہی جو لندن ، ڈنیور اور سان ڈی ایگو کے ایئرپورٹ کے عملہ نے بخوشی مہیا کی اور ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ان تینوں مقامات پر یہ ڈیوٹی دیسی افراد ( یعنی پاکستانی، صومالی، عرب اور چند غیر امریکن) ہی ادا کرتے رہے ۔ یہ خدمت بالکل مفت ادا کی جاتی ہے لیکن ام وہیب نے کہیں بھی بنام بخشش انہیں اپنی داد رسی سے مایوس نہیں کیا۔

ائر پورٹ پر وہیب اپنی بیگم اور بچی نورہ کے ساتھ منتظر تھے اور پھر کوئی ایک گھنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد وہ ہمیں ایک خوبصورت پہاڑی پر ایک نئی آبادی کی ایک فراخ کوٹھی میں لے آئے۔ ہمیں صدر دروازے کا تو بعد ہی میں پتہ چلا ۔ عموماً قاعدہ یہی ہے کہ گاڑی میں بیٹھے بیٹھےگیراج کا دروازه بصورت شٹر اوپر اُٹھ جاتا ہے اور گاڑی سے اتریں تو گیراج ہی میں سے ایک دروازہ مکان کے اندر لے جاتا ہے۔

ہمیں گھر سے نکلے کوئی دو گھنٹے ہو رہے تھے یعنی لندن کے حساب سے رات کے 2 بج رہے تھے لیکن یہاں کا دن لندن کی صبح سے آٹھ گھنٹے کے بعد طلوع ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ یہاں ابھی شام کے چھے ہی بجے تھے گویا آج کے دن میں آٹھ گھنٹے کا اضافہ ہو گیا اور یوں ہمیں مقامی وقت کے اعتبار سے جلد سونےاور صبح جلد اٹھنے کا موقع میسر آ گیا، ہمارا یہ سفر خالصۃً ذاتی نوعیت کا تھا۔ مقصود دونوں بیٹوں ، پوتے پوتیوں اور دونوں بہوؤں سے ملاقات تھی اور ان دونوں شہروں کے قابل دید مقامات کی سیاحت تھی ۔ ہر شخص کا کوئی نہ کوئی من پسند مشغلہ (HOBBY) ہوتا ہے۔ مجھے سیاحت کا چسکا ہے اور پھر اپنے مشاہدات کو موئے قلم سے زینت قرطاس بنانا ہے، اس لئے آئندہ صفحات میں صرف اپنے مشاہدات پر اکتفا کروں گا۔

میرے متعدد پچھلے اسفار اس پر شاہد ہیں، ان میں سے اکثر دعوتی اسفار تھے لیکن میں نے انہیں اپنے مشاہدات اور مناظر کے بیان سے آراستہ وپیراستہ رکھا ، لیکن یہ سفر چونکہ ذاتی نوعیت کا تھا ، زیادہ تر سیاحت میں گزرا ۔اس میں دعوتی عنصر کی کمی ملاحظہ فرمائیں تو میری لغزشوں سے درگزر کرتے ہوئے میرے ساتھ ان مقامات کی سیاحت کرتے جائیں۔ جہاں شاید آپ کا جانا نہ ہوا ہو۔

میں نے اپنی اس روئیداد کو معمولات زندگی (کہ جس میں کھانا پینا، بچوں کے ساتھ وقت گزارنا اور فرائض دین کا ادا کرنا) ان سب کے تذکرے سے اجتناب کیا ہے تاکہ یہ مشاہدات طوالت کا شکار نہ ہوں۔

1۔ مقامی مسجد میں نماز جمعہ

یہ مسجد یا اسلامی مرکز و ہیب سلمہ کی رہائش گاہ سے قریب ترین جگہ تھی، امریکہ کے مراکز اسلامیہ کا کیا کہنا ؟ یہ ایک مضافاتی مسجد ہے جس کا ایک بڑا سا ھال ہے لیکن اس کے چاروں اطراف ملحقہ قطعہ زمین اتنا بڑا ہے کہ اس میں غالباً 100 سے زیادہ تو گاڑیوں کی پارکنگ کی گنجائش ہوگی اور لوگ چونکہ دور دور سے آتے ہیں اس لئے گاڑیوں کی بھر مار ہے ۔ ھال کے پچھلے حصے میں ایک میٹرکی اونچائی کے برابر لکڑی کی فصیل لگا دی گئی ہے کہ جس کےعقب میں خواتین کے لئے نماز کا اہتمام کیا گیا ہے۔

خطیب کا تعلق غالباً سوڈان سے تھا کہ وہ اپنے لہجے اور قراءت سے پہچانے جاتے ہیں ۔ اُن کی ایک بات بھلی لگی ، غزہ کے تعلق سے کہا کہ ایک عالم سے پوچھا گیا کہ مسلم ممالک ان کی مدد کے لئے کیوں نہیں آئے تو امت مسلمہ کی طرف سے یہ جواب آیا کہ اگر میرا جسم صحیح اور سلامت

ہوتا تو میں مدد کو آتی لیکن میرے جسم کے تو انہوں نے ستاون (57) ٹکڑے کر ڈالے ہیں تو میرے اُٹھنے ہیں سکت کہاں سے آئے ؟

مسجد کے باہر قبلے کی سمت میں بھی صفیں بچھا دی گئی تھیں جہاں خطبے کی آواز پہنچ رہی تھی دل میں خدشہ ہوا کہ کیا یہ لوگ امام کے آگے ہو کر نماز کی ادائیگی کریں گے لیکن امام صاحب خطبے کے بعد آگے چلے آئے جہاں پہلی صف کے آگے ان کا مصلی بچھا دیا گیا تھا۔

نمازیوں میں اکثر پاک وہند کے چہرے نظر آئے تو گمان غالب یہی ہے کہ اس دور افتادہ شہر میں بھی اپنے وطن سے وابستہ لوگوں کی تعداد کم نہیں ۔

خیال رہے کہ ریاست کیلی فورنیا، امریکہ کے مغرب میں وہ آخری ریاست ہے کہ جس کے ساحل سے بحر الکاہل کا پانی ٹکراتا ہے + یہ ریاست شمالاً جنوبا نو(9) سو میل کا طویل ساحل رکھتی ہے ، سان ڈیگو جنوب میں وہ آخری شہر ہے جہاں سے میکسیکو کا بارڈر صرف سترہ (17) میل کی مسافت پر ہے۔ یہ شہر امریکہ کے فوجی اڈے کی مناسبت سے بھی پہچانا جاتا ہے ۔

2۔ سیل (SEALS )اور سمندری شیر ( SEA LIONS) کا ایک منظر :

یہ شہران دنوں معتدل درجہ حرارت رکھتا ہے ، اس لیے سردی کا احساس نہیں ہوتا۔ البتہ شام تک گرم کپڑے کی حاجت محسوس ہوتی ہے ۔

ہم شام کو ساحل کی طرف جا نکلے ، جابجا ٹیلوں کی اونچائی سے بحر الکاہل کی موجوں کا نظارہ بخوبی کیا جا سکتا ہے ۔ ایک جگہ جھانکا تو کئی چٹانوں پر ایک سمندری مخلوق استراحت کرتی نظر آئی۔ ایک بھیڑ یا دُنبے کے برابر جسم رکھنے والی یہ مخلوق سمندر سے نکل کر اپنے دو پنجوں پر کھسکتی ہوئی ساحل کی ریت پر اور زیادہ تر چٹانوں پر محو خواب نظر آتی ہے۔ ایک جگہ نیچے جانے کے لئے زینہ بنا دیا گیا ہے ۔ ہم بھی نیچے اترے اور ساحل تک جا پہنچے جہاں یہ مخلوق جسے دریائی بچھڑے کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ بہت قریب سے قابل دید تھی ، سیاح حضرات اس کے بہت قریب ہو کر اپنی فوٹو بنا رہے تھے۔ نظاہر ایک بے ضرر مخلوق دکھائی دی لیکن بعد از تحقیق معلوم ہوا کہ کاٹ کھانے والے دانت رکھتی ہے اور اگر اسے خطرے کا احساس ہو تو اپنے دانتوں کے جوہر دکھانے سے باز نہیں آتی، اس لئے ہدایت کی گئی ہے کہ اس سے دور ہی رہا جائے اور اس بات کی تصدیق ایک خبر سے بھی

ہو گئی کہ جس ساحلی کونے پر ہم اترے تھے وہاں ایک ہفتہ بعد یہ دیکھا گیا کہ یہ بچھڑا چندسیاحوں کے پیچھے تیزی سے کھسکتا ہوا آ رہا ہے اور وہ اب دوڑ لگانے پر مجبور ہیں ۔

ہماری موجودگی میں بھی کوسٹ گارڈ کی طرف سے یہ اعلان ہورہا تھا کہ جو حضرات ساحل سے ٹکرانے والی موجوں کے ساتھ اپنے سکی بورڈ کے ساتھ آنکھ مچولی کر رہے ہیں (جسے (SURF) کہا جاتا ہے وہ اس مخلوق کی موجودگی کے باعث جلد با ہر نکل آئیں۔

ایک دو سر ازینہ بھی دیکھا کہ جس کے ساحل سے ٹکراتے قد مچے اس مخلوق کے ایک پورے خاندان کو جائے استراحت مہیا کر رہے تھے۔

اگلے دن اس مخلوق کو بیچ سمندر میں بھی دیکھا جس کے لئے ہم نے واٹر بس کا سہارا لیا، ہم پہلے شہر کے مرکزی حصے سے ہوتے ہوئے جھیل نما سمندر کے اس حصے تک پہنچے جہاں چھوٹی بڑی بے شمار کشتیاں اور بجرے پارک نظر آئے ، یہاں واٹر بس کی سواری کے ٹکٹ خریدے گئے ، یہ بس ان معنوں میں ہے کہ سٹرک پر اپنے ٹائروں کے بَل رواں دواں رہتی ہے اور پھر پانی میں اترتی ہے تو کشتی کا روپ دھار لیتی ہے ۔

ہم نے کچھ دیر انتظار کیا ۔ دیکھا کہ یہ بس اپنے پہلے چکر کے بعد سیاحوں کو لے کر واپس پہنچی ہے ۔ اس کی نشستوں کی اونچائی اتنی تھی گویا کہ یہ ایک ڈبل ڈیکر بس کی بالائی منزل ہو ۔ڈرائیور کی نشست کے عقب سے ایک آہنی سیڑھی لٹکا دی گئی اور مسافروں سے کہا گیا کہ وه سیدھے رخ نہ اتریں بلکہ پیٹھ کے بل اسی سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے اور دونوں طرف کی ریلنگ کا سہارا لیتے ہوئے نیچے اتریں ۔ جب تمام مسافر اتر چکے تو پھر ہمارے چڑھنے کی باری تھی۔ معلوم ہوا کہ اس کی دوسری جانب عمر رسیده یا معذور افراد کے لئے ایک لفٹ کا انتظام بھی کیا گیا ہے، ہم نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا اور ہم دونوں (میں اور اہلیہ) اس بیرونی لفٹ کے ذریعے بس میں داخل ہوئے ۔ دونوں اطراف کی کھڑکیاں کھلی تھیں اور سرد ہوا چہروں سے ٹکرا رہی تھی۔

جب بس مسافروں سے بھر چکی تو میزبان خاتون نے مائیک سنبھالا اور ہم سب کو خوش آمدید کہا اور پھر شگفتہ انداز میں بس کی روانگی کے ساتھ ساتھ کمنٹری جاری رکھی۔ اس نے سواریوں میں کچھ ہلکے کمبل بھی تقسیم کئے تاکہ سرد ہوا کا کچھ مداوا ہو سکے۔ بس جھیل کے ساتھ ساتھ ایک شاہراہ پر رواں دواں تھی۔ دور سمندر میں ایک بڑا جہاز دیکھا جو حامل ہوائی جہاز کہلاتا ہے۔ اپنے ایک طویل رن وے کے دونوں اطراف جنگی جہازوں کی ایک قطار رکھتا ہے۔ ایسے کئی امریکی جہاز دنیا کے کئی سمندری مقامات تک رسائی رکھتے ہیں جہاں اس گرانڈیل بحری سفینہ سے یہ جہاز اڑتے ہیں، اپنے مشن پر روانہ ہوتے ہیں اور پھر دوبارہ وہیں لینڈ کر جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک جہاز آج کل بحرروم میں غزہ کے قریب ، اسرائیل کی پیٹھ تھپکنے کے لئے عفریت کا کردار ادا کر رہا ہے۔

ایک اور بحری جہاز کو بندر گاہ کی زینت بنے دیکھا ۔ نام اس کا ’ستارہ ہند‘ ہے جو اب ایک ریسٹوران کا روپ دھار چکا ہے۔

یہاں سے چونکہ ہوائی اڈہ بہت قریب ہے اس لئے ہمارے سامنے کئی مسافر جہاز لینڈ کرتے یا پرواز کرتے نظر آئے۔ کوئی آدھا گھنٹہ یہ بس کئی موڑ کاٹنے کے بعد وہاں پہنچی جہاں ڈھلان تھی اور اسی ڈھلان سے ہوتی ہوئی وہ پانی میں اُتر آئی اور پھر اس نے ٹائروں کو خیر آباد کہا اور کشتی کی شکل اختیار کر لی۔

اب ہم مزید آدھے پونے گھنٹے کے لئے بحر الکاہل کے ساکن پانی میں داخل ہو چکے تھے اور بالآخر یہ کشتی ایک طویل خشبی پلیٹ فارم کے قریب جاپہنچی، جہاں دریائی بچھڑے یا سمندری شیر کے غول در غول انسانوں کی اس فیاضی سے لطف اندوز ہو رہے تھے جو ان کے لئے استراحت گاہ کی حیثیت رکھتی تھی۔

کشتی اس پلیٹ فارم سے ہوتے ہوئے کچھ آگے گئی اور پھر ایک چکر لگا کر ایک دوسرے پلیٹ فارم کے پاس سےگزری تا کہ کشتی کے دوسری طرف کے مسافر مخلوق کو قریب سے دیکھ سکیں ۔

اب ہمارا واپسی کا سفر شروع ہو چکا تھا لیکن پھر کپتان نے کشتی کا رخ دوبارہ پلیٹ فارم کی طرف موڑ دیا ۔ معلوم ہوا کہ ایک بچی نے سرد ہو اسے بچنے کے لئے جو ہیٹ پہناہوا تھا ، ہوا اُسے اڑا کر سمندر کی نذر کر چکی تھی ۔

کپتان نے از راه کرم اس ہیٹ کو برآمد کرنے کی ایک ناکام کوشش کی لیکن اس ہیٹ کا دُور دُور کوئی پتہ نہ تھا۔ یہ بچی میری اپنی پوتی نورہ ہی تھی جو اپنی والدہ کے ساتھ کھڑ کی کے ساتھ والی نشست پر فروزاں تھی۔

واپسی کا سفر بہت سرعت کے ساتھ طے ہو گیا ۔ میزبان خاتون کی چرب زبانی جاری رہی وہ اپنی مصروفیات کا بھی ذکر کرتی رہی، کہا کہ اس کرسمس کے موقع پر چاہتی ہوں اپنے خاوند کے ساتھ کچھ وقت فلاں فلاں جگہ کسی سیاحت اور ضیافت میں گزار لوں ۔

وھیب سلمہ نے بتایا کہ یہی کہانی وہ ایک دوسرے موقع پر بھی سن چکے ہیں اور مقصود یہ ہے کہ اُسے ہم لوگوں سے اچھی ٹپ (بخشش) ملے سکے۔

یہ کشتی دوبارہ اس ڈھلان تک پہنچی جہاں اب اس کے ٹائر دوبارہ باہر نکل آئے اوراس نےبس کا پرانا روپ دھار لیا اور اللہ کا شکر ہے کہ ہمیں پیٹھ پیچھے سیڑھی پر اترنے کی نوبت نہیں آئی۔ ہمیں اور ایک دوسرے جوڑے کو لفٹ کے ذریعہ اتار لیا گیا ۔

3۔ ’سان جوان کا پیسٹرا نو‘ کا قدیم تاریخی چرچ

ریاست کیلی فورنیا میں عیسائیت کا آغاز کیسے ہوا ؟

یہ کہانی ہسپانوی نسل کے پادریوں کی پیہم جدوجہد ، اپنے مشن کے لئے جان کھپانے کا عزم، ایک غیر مانوس فضا میں قدم جمانے کی جرأت رندانہ کی روئیداد ہے ۔

اگر اس ریاست کے نقشے پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ صرف اس ریاست کا شمال سے جنوب تک پھیلا ہوا ساحل نوسو (900) میل کی طوالت رکھتا ہے ۔ جنوب میں سان ڈیگو ہے کہ جہاں میکسیکو کے ہسپانوی علاقے رومن كیتهو لك مشن کا آغاز ہوا۔ اس سارے علاقے میں ریڈ انڈین آباد تھے ،مشن کے ساتھ 1769 ء میں اسی شہر کی بنیاد پڑی اور پھر چون (54) سال کے عرصے میں شمال کی طرف عیسائیت کے فروغ کا مشن جاری رہا اور پھر سان فرانسسکو یعنی اگلے پانچ سو (500) میل تک ایک کے بعد دوسرا مشن قائم ہوتا رہا کہ جن کی تعداد اکیس (21) بنتی ہے۔

ان میں سے اکثر کا نام کسی نہ کسی مقدس ہستی (SAINT) کے نام سے منسوب ہے جو ہسپانوی زبان میں (SAN) کا روپ دھار لیتا ہے اور اگر وہ ہستی خاتون ہو تو اُسے ( SANTA) کا لقب دے دیا جاتا ہے۔

1769 ء میں پادری جونی پیرو سرا نے سان ڈی ایگو میں پہلا مشن قائم کیا تھا ، یہاں مقامی آبادی یعنی ریڈ انڈین کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ۔ چرچ تو قائم ہو گیا لیکن چھ (6) سال بعد جلا کر خاک کر دیا گیا اور ان خاک ہو جانے والوں میں پادری اور اس کے دو ساتھی بھی تھے ۔ دوباره از سرنو تعمیر کی گئی ۔

ہم خود ایک گھنٹہ کی مسافت پر یعنی لاس انجلیز کے لگ بھگ ساحلی شاہراہ سے سفر کرتے ہوئے سان جُوان CAPISTRANO کے چھوٹے سے قصبے میں پہنچے جہاں یہاں کا سب سے قدیم ترین چرچ واقع ہے اور اپنی وسعت، تاریخ اور حکایت طیور (جس کا ذکر آگے آرہا ہے) کی بنا پر عیسائی دنیا کے لئے مرجع خلائق ہے۔ یہ چرچ ایک اطالوی پادری سینٹ جان کپسٹرانو کے نام سے منسوب ہے۔

مشن کا قیام 1776ء میں عمل میں لایا گیا تھا اور چرچ کی گرانڈیل عمارت 1797ء سے 1806ء کے درمیان تعمیر ہو چکی تھی لیکن پھر چھ سال بعد یعنی 1812 ء میں ایک مہیب زلزلے کے باعث عمارت کا اکثر حصہ زمین بوس ہوگیا ۔ اس عظیم سنگی شاہکار کا وہ حصہ جو محرابی شکل کا ہے ، گرنے سے بچ گیا جسے ویسے ہی چھوڑ دیا گیا لیکن بعد ازاں اس کے بغل میں ایک نیا چرچ تعمیر کر لیا گیا ،جواب تک قابل استعمال ہے ۔

موجودہ چرچ کی دیوار اس مستطیل احاطے کا ایک حصہ ہے جس کے تین اطراف میں چھوٹے بڑے حجروں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے جو مختلف مقاصد کے لئے استعمال ہوتے رہے ہیں اور انہیں ان فوجی حضرات کی رہائش گاہ بھی شامل ہے جو اپنی سروس پوری کرنے کے بعد عوام کے رحم وکرم پر چھوڑ دیے جاتے تھے،چرچ نے انہیں پناہ دے کر سر چھپانے کی جگہ عطا کی۔

احاطہ کے وسط میں ایک فوارہ ہے اور چاروں طرف ایک باغ کے قطعات ہیں اور پھر احاطے کے ساتھ چلتے جائیں تو ایک کونے میں چند قدم نیچے اترنے کے بعد ایک بڑے مطبخ کے آثار ملتے ہیں جہاں چرچ کے زائرین ، پناہ گزین اور غربا کے لئے کھانا پکایا جاتا تھا۔ اس مطبخ کے عقب میں وہ زراعتی زمین ہے جہاں سبزیوں ، ترکاریوں کی بیلیں اور پھلوں کے درخت ہیں جو دستر خوان کی زینت بنتے رہے ہیں۔

اس سیا حتی مقام میں داخلے کی فیس مقرر ہے، ہر زائر کو موبائل کی مانند ایک آلہ تھما دیا جاتا ہے ۔ آپ نقشے کے مطابق ہر قابل دید جگہ پر دیے گئے نمبر کو دبائیں تو بزبان انگریزی اس کی پوری تاریخ آپ کے گوش گزار کردی جائے گی۔

’ حکایت طیور‘ فادر سنیٹ جان اوسلی وان ( 1933ء) نے اپنی کتاب میں یوں بیان کی ہے کہ ہر سال 19مارچ (سینٹ جوزف ڈے) کے موقع پر ایک خاص قسم کی چڑیا ( SWALLOWS ) کے جُھنڈ کے جُھنڈ اس علاقے کا رخ کرتے ہیں ۔ یہ ایک چھوٹا سا پرندہ ہے جو نیلگوں رنگ ، گلا سرخ اور لمبی دُم رکھتا ہے، اسے کیچڑ کا پرندہ بھی کہا گیا ہے۔ شمالی کرہ ارض کے گرم علاقوں میں بسیرار کھتے ہیں اور موسم سرما میں حنوب کی طرف ہجرت کر جاتے ہیں۔ مارچ اپریل میں ان کی آمد ہے اور اکتوبر تک واپسی۔

سینٹ جان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک دن ایک دکاندار کو دیکھا جو دکان کے چھتے پر موجود ایک گھونسلے کو اپنی جھاڑو سے روندنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پادری نے اعتراض کیا تو بولا کہ یہ کیچڑ آلود پرندے میری دکان کو خراب کر رہے ہیں، اس لیے انہیں صاف کر رہا ہوں ۔ پادری نے کہا : تو پھر وہ آخر کہاں جائیں؟

دکاندار نے کہا: میری بلاسے کہیں بھی جائیں!!

پادری نے باواز بلند کہا: اے میرے پرند و ! میرا چرچ حاضر ہے ، وہ تمہیں پناہ دے گا ، وہاں تم سب کے لئے کافی جگہ ہے۔

اور اگلے دن پادری نے دیکھا کہ چرچ کی دیوار کے جھروکوں میں یہ پرندے اپنا اپنا گھونسلہ بنانے میں مصروف تھے۔ پھر یہ بات زبان زد عام ہو گئی کہ ہر سال 19 مارچ کے لگ بھگ ان پرندوں کا ورود نامسعود ہوتا ہے۔

ایک شاعر کا اس مناسبت سے یہ گیت بہت مقبول ہوا ہے:

“WHEN THE SWALLOWS COME BACK TO CAPISTRANO!”

یہاں اتنا تو معلوم ہوا کہ روایات کیسے پروان چڑھتی ہیں لیکن کیا اب تک یہ روایت قائم ہے ؟

خود عیسائی مؤرخین کہتے ہیں کہ 1990ء میں اس چرچ کی تعمیر نو کے بعد یہ گھونسلے ہٹا دیے گئے تھے جس کے ساتھ اس روایت کا بھی خاتمہ ہو گیا۔

معلوم ہوتا ہے کہ کیلے فورنیا زلزلوں کی سر زمین ہے ، ان اکیس مشن کی عمارتوں میں کئی عمارات زلزلوں کا شکار ہوئیں ۔ ایک زلزلے میں تو چرچ میں موجود چالیس ریڈ انڈین ہلاک ہوگئے تھے ۔

تاریخی اعتبار سے ملاحظہ ہو کہ 1834 ء میں میکسیکو کی طرف سے ہسپانوی غلبے کو ختم کر دیا گیا تھا اور تمام پادریوں کو واپس چلے آنے پر مجبور کر دیا گیا تھا لیکن 1850ء میں یہ علاقہ امریکہ کی ابھرتی ہوئی نئی سلطنت نے فتح کر لیا تھا اور دوبارہ پادریوں کو اپنی سرگرمیاں شروغ کرنے کی اجازت دی گئی تھی ۔

سان جوان مشن 1776 ء میں قائم ہوا تھا ۔ یہ سال اس لحاظ سے بڑا اہم ہے کہ یہ وہ سال ہے کہ جس میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ، برطانوی استعمار سے آزاد ہونے کا اعلان کر رہا تھا۔ اور اسی سال امریکہ کے اس دور افتادہ مغربی خطے میں عیسائیت کی ترویج کے لئے چند باہمت ، مستقل مزاج پادریوں نے اس سنگلاخ اور غیر موافق علاقے میں اپنے دین کی ترویج کے لئے دن رات ایک کر دیا تھا ، ہر پادری سے ایک داستان وابستہ ہے ، دنیا میں انسان کو اپنی محنت کا پھل ملتا ہے اور یقیناً دنیوی اعتبار سے یہ لوگ اپنے مشن میں کامیاب رہے ۔

وہ امریکہ جسے بقول محققین دیار غرب کو طبس نے 1492ء (یعنی غر ناظہ کی مسلم حکومت کا سال زوال) کے بعد دریافت کیا تھا، وہ دراصل حزائر غرب الہند (WEST INDEAS) کے جزیرہ بار بے ڈوس‘‘ تک پہنچا تھا ، لیکن اس کی یہ دریافت یورپ کے مہم پسند جنگجوؤں ، مذہبی منافرت کے مارے پروٹسٹنٹ مہاجروں اور نئی دنیا میں اپنے بہتر مستقبل کی امید رکھے مفلس خاندانوں کو امریکہ کے مشرقی ساحل تک پہنچنے کی تگ و دو کاراستہ مہیا کرتی گئی ۔

امریکہ کی سیاسی اور مذہبی تاریخ ایک الگ موضوع ہے ،جس پر آئندہ گفتگو رہے گی۔

یہاں اتنا ذکر کافی ہے کہ یورپین اقوام جن میں انگریز، فرا نسیسی ، ولندیزی، ہسپانوی، جرمن، آئرش سبھی شامل ہیں ، اپنے اپنے مقاصد کی تکمیل کی خاطر امریکہ میں آباد ہوتے گئے۔ لاطینی یعنی جنوبی امریکہ اسپین کے زیر اثر رہا وہاں ہسپانوی طالع آزماؤں کے جلو میں رومن کیتھولک پادریوں نے عیسائیت کی تبلیغ کی۔ ان میں سے کچھ افراد نے شمالی امریکہ کا بھی رخ کیا اور وہ امریکہ کے مشرقی ساحل یعنی فلوریڈ ا میں سولہویں صدی کے اوائل میں پہنچ چکے تھے اور جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے کہ جہاں تک مغربی ساحل کا تعلق ہے تو وہاں اٹھارویں صدی تک وہ اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہو سکے تھے ۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جن ہمت کے جیالوں نے سیاسی میدان کو اپنی ترکتازیوں کو جولان گاہ بنایا وہ بالآخر 1776 میں تاج برطانیہ سے علیحدہ ہو کر اپنا اعلان آزادی کرنے اور تیرہ ریاستوں کی یونین بنانے میں کامیاب ہو گئے اور پھر اگلے سات سال انگریزوں سے مستقل محاذ آرائی کے بعد انگریزی استعمار کو گھر بھجوانے میں سرخرو ہو گئے۔ شمال کی سات اور جنوب کی چھ (6) ریاستوں کے اتحاد کی شکل میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی خشت اول نے جنم لیا اور پھر اگلے دو سو سالوں میں اس نے پچاس ریاستوں کے اتحاد کی شکل میں ایک سپر پاور کی حیثیت اختیار کرلی ۔

انہی مہم جوؤں میں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ مشن سے وابستہ افراد بھی تھے جنہوں نے اس پورے براعظم بشمول کینیڈا کو عیسائیت سے روشناس کروایا۔ امریکی فاتح قوم کا افریقہ سے لائے گئے غلاموں اور مقامی ریڈ انڈین باشندوں کے ساتھ جو غیر منصفانہ بلکہ جابرانہ سلوک جاری رہا وہ امریکہ کی تاریخ کی پیشانی پر کلنک کا ٹیکہ لگا چکا ہے ۔ گو ابراہام لنکن اور اس کے ہم نوا قائدین نے غلامی کو نیست و نابود کرنے اور انہیں مساویانہ حقوق دینے کی جدوجہد میں ایک تاریخی کردار ادا کیا لیکن امریکی طبائع میں جو کبر ، نخوت اور احساس برتری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، آزادی کے ڈھائی سو سال کے بعد بھی دنیا کے مختلف خطوں میں جنگیں بھڑ کانے اور ناپسندیدہ عناصر کی نسل کشی کے روپ میں اب تک جاری ہے ، جس کی ایک ہولناک شکل اب مظلوم فلسطینیوں کی مدد کے بجائے اُس ظالم، نسل پرست اور د شمن انسانیت قابضانہ حکومت کا ساتھ دیتا ہے جواس کے اپنے اعلان آزادی، حقوق انسانیت کے منشور اور جمہوریت اور مساوات کے اصولوں کی پاسداری کی مکمل نفی کرتا ہے۔

بہرحال یہ اصول تو طے ہو گیا کہ اس عالم رنگ و بو میں ہرانسان اور ہر قوم کو اپنی محنت کا پھل ملتا ہے ۔ موجودہ امریکہ میں یورپین اقوام کے ساتھ ساتھ عرب اور غیر عرب مسلمانوں کی ہجرت، مساجد اور اسلامی مراکز قائم کرنے میں ان کی جدو جہد، اس براعظم کے خدو خال کو نکھارنے کا باعث بن رہی ہے اور اللہ سے امید ہے کہ کلمہ گو حضرات کو بھی اپنی محنت کا پھل ملتا رہے گا ۔ (جاری ہے)

تبصرہ کریں