مشاہدات امریکہ(قسط 2)۔ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

یہ 24 دسمبر یعنی کرسمس سے ایک دن قبل کی صبح تھی جب ہم نے سان ڈیگو کو الوداع کیا۔ ہماری اگلی منزل واشنگٹن تھی، جہاں عزیزم مجاہد سلمہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اگلا پڑاؤ طےتھا، یہ کوئی ساڑھے چار گھنٹے کی فلائٹ تھی یعنی امریکہ کے مغربی کنارے سے مشرقی کنارے تک ،جیسے اسلام آباد سے جدہ تک کی پرواز ۔

میرے دستی بیگ میں نیلسن منڈیلا کی آپ بیتی پر مشتمل کتاب تھی، جس کا مطالعہ کئی دنوں سے جاری تھا اور اب اس پرواز میں بقول متنبّی

أعَزُّ مَكانٍ في الدُّنَى سَرْجُ سابحٍ

وَخَيرُ جَليسٍ في الزّمانِ كِتابُ

’’دنیا میں عزیز ترین جگہ ایک تیز رفتار گھوڑے کی کاٹھی ہے اور زمانے میں بہترین ہمنشین کتاب ہے۔‘‘

یہاں دونوں چیزیں میسر تھیں، کہاں گھوڑے کی کا ٹھی اور کہاں 30 ہزار فٹ کی بلندی پرہوائی گھوڑے کی سواری ، اور پھر کتاب کا کیا کہنا کہ جو ایک طالب حریت کی جہد مسلسل کی داستان ہے جو 624 صفحات میں سمو دی گئی تھی، حاصل مطالعہ کے عنوان سے ان مشاہدات کے اختتام پر چند سطور قلمبند کرنے کا عزم رکھتا ہوں۔

ہم ساڑھے پانچ بجے شام واشنگٹن کے ڈلس ائیرپورٹ پر تھے لیکن یہاں کا مقامی وقت تین گھنٹے آگے جا چکا تھا یعنی ساڑھے آٹھ بج رہے تھے ۔ اتنے وقت کا فرق تو اگر لندن سے پرواز کریں تو جدہ تک پہنچنے میں ہو جاتا ہے ۔ یہاں ایک ہی ملک میں تین ٹائم زون کا فاصلہ طے ہو چکا تھا ۔

مجاہد، آمنہ اور چاروں بچے ہمارے استقبال کے لئے چشم براہ تھے۔ کچھ دیر انتظار کیا تو میرے نو اسے شیبان (بڑی بیٹی خولہ کے صاحبزادے) ہمارا ساتھ دینے کے لئے لندن سے براه لزبن (پرتگال) پہنچ رہے تھے ۔ ائیر پورٹ سے کوئی ایک گھنٹہ کی مسافت پر ہم ریاست ورجینیا کی ایک کاونٹی اسٹرلنگ میں وارد ہوئے جہاں ایک وسیع شاہراہ کی بغل میں بصورت ہلال سہ منزلہ مکانات کی ایک آبادی میں مجاہد نے اپنا آشیانہ آباد کر رکھا ہے۔

واشنگٹن کو ورجینیا ہی کا حصہ ہونا چاہیے لیکن فیڈرل کیپٹیل ہونے کی وجہ سے اس کی علیحدہ شناخت رکھی گئی ہے لیکن ہمارے لئے یہ ایسا ہی تھا گویا ہم واشنگٹن کے مضافات میں ایک گھنٹہ کی مسافت پر مقیم ہیں اور یوں ہم اپنے دس روزہ قیام میں کوئی چار مرتبہ تو واشنگٹن یا ترا سے فیضیاب ہوتے رہے۔

ہماری دلچسپی امریکہ کے دارالحکومت کے سنٹرل علاقے سے وابستہ تھی جہاں وائٹ ہاؤس کانگریس، نیشنل لائبریری، یادگا را براهام لنکن اور وہ متعدد تحائف گھر (میوزیم) تھے کہ جن کی زیارت اور جن کے وسیع و عریض ہالز میں چہل قدمی امریکہ کی تاریخ ، ثقافت اور تمدن پر پڑے دبیز پردے چاک کرنے کے لئے ہماری منتظر تھی۔

لیکن پہلے ہم ان تین مساجد کا تذکرہ کرتے چلیں جہاں دوران اقامت ہمیں سجدہ ریز ہونے کی سعادت حاصل ہوتی رہی ۔

٭آدم ( (ADAMS اسلامک سنٹر

یہ اس تنظیم کا نام ہے جس کی انتظامیہ متعدد امریکی علاقوں میں اپنے مراکز قائم کر چکی ہے اور انہیں خوش اسلوبی سے چلا رہی ہے۔

مجاہد سلمہ کی رہائش سے یہ قریب ترین مسجد ہے جو کوئی آٹھ دس منٹ کی ڈرائیو پر واقع ہے ،امریکہ میں اسلامی مراکز کا ایک خوبصورت ماڈل !!

ایک وسیع قطعہ زمین میں مرکز کی عمارت اپنی تین منزلوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے، دورِ اَرضى (گراؤنڈ فلور) میں مسجد کا مرکزی ہال ، اس سے ملحقہ جسمانی ورزش کی JIM ) کیفے ٹیریا واقع ہیں ۔ نچلی اور بالائی منزل میں ایک پرائمری اسکول کی درسگاہیں جلوہ گر ہیں جہاں سرکاری سلیبس کے ساتھ حفظ قرآن اور دینیات کی تعلیم کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔

بلڈنگ کے چہار اطراف گاڑیوں کی پارکنگ کا وافر انتظام ہے۔

مجاہد نے مرکز کے سربراہ شیخ ماجد (سوڈانی) سے میرا تعارف کروایا جنہوں نے مجھے اگلے جمعے کی خطات اور امامت کی دعوت دی۔

مسجد کے مرکزی ہال کے عقب میں مسجد سان ڈی ایگو کی مانند ایک میٹر بلند خشبی فصیل تھی کہ جس کے پیچھے خواتین کے لئے نماز کی ادائیگی کی سہولت مہیا کی گئی تھی۔

معلوم ہوا کہ جمعہ کی نماز کے تین اوقات رکھے گئے ہیں تا کہ قرب و جوار کے تمام مسلمان جمعہ کی ادائیگی کی سعادت حاصل کر سکیں ۔ میں نے جماعت نمبر 2 ، کا انتخاب کیا۔ یہاں بھی مسجد توحید (لندن) کی مانند اذان کے بعد پہلا خطبہ دیا جاتا ہے، جس میں حمد و ثنا کے بعد مقامی زبان یعنی انگریزی میں خطاب کیا جاتا ہے اور دوسرے خطبے میں درود ( الصلاة علی النبی) کے بعد دعاؤں کا التزام کیا جاتا ہے۔

اور پھر نماز جمعہ ادا کی جاتی ہے، لیکن بعض مساجد میں مسلک احناف کے مطابق دونوں خطبوں میں غیر عربی کی مطلق گنجائش نہیں ہے ، اس لئے پہلے مقامی زبان میں بیان کے عنوان سے ایک خطاب کا اضافہ کیا جاتا ہے اور پھر بعد از اذان دو مختصر خطبے عربی زبان میں دیے جاتے ہیں۔

یہ دونوں آراء اجتہاد پر مبنی ہیں ۔ فقہاء احناف نے خطبے کی ظاہری ہیئت کو برقرار رکھا ہے لیکن وعظ و نصیحت کے لئے ایک تیسرے خطاب کا اضافہ کیا ہے جسے ’ بیان‘ کا نام دیا گیا ہے ، دیگر فقہاء نے خطبے کے مقصود اور مآل کو پیش نظر رکھتے ہوئے مقامی زبان میں خطبے کی گنجائش رکھی ہے۔

شیخ ابن باز بھی اس بات کے قائل ہیں کہ خطبے کے تین بنیادی عناصر ( حمد و ثناء، تقویٰ سے متعلق چند آیات کی تلاوت اور صلاۃ علی النبی ) کو عربی ہی میں ادا کیا جائے ، لیکن عوام سے اسی زبان میں خطاب کیا جائے جو وہ سمجھتے ہوں ۔

اہل حدیث ، اکثر بلادِ غرب اور تُرکی کی مساجد میں اسی رائے پر عمل کیا جاتا ہے، عقلی اور منطقی تقاضا بھی یہی ہے کہ جمعہ کا خطاب وعظ و نصیحت کے

لئے بہترین موقع مہیا کرتا ہے۔ لوگ جمعہ کے تعلق سےبڑے ذوق و شوق سے کھنچے چلے آتے ہیں اور ان کا یہ حق ہے کہ وہ خطیب کی بات کو سمجھ سکیں اور اس حال میں واپس جائیں کہ انہیں ایمان کی تازگی، فہم قرآن و سنت کی لطافت اور دلی تاثرات کی حرارت نصیب ہو۔

اور یہ مقامی حالات کے بھی مطابق ہے کہ جمعہ کا دن بلادِ غرب میں تعطیل کا دن نہیں ہے۔ لوگ اپنے دفاتر سے لنچ کے وقفہ میں نماز کے لئے وقت نکالتے ہیں اور وہ بمشکل مسجد میں آدھا پونا گھنٹہ گزار سکتے ہیں، وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اصل مطلوب دونوں خطبوں اور نماز کی حاضری ہے نہ کہ ابتدائی بیان کی ۔ اورا س لیے وہ اگر تاخیر سے بھی آئیں اور مسنون خطبے میں شامل ہوسکیں تو ان کی نماز ہوجاتی ہےاور یوں وہ وعظ و نصیحت سے محروم ہو جاتے ہیں۔

میرا خطبہ اس حدیث نبوی کے بارے میں تھا کہ جس میں بتایا گیا ہے کہ ابن آدم کو بروز قیامت ، میدان محشر سے اس وقت تک نہ اٹھایا جائے گا جب تک کہ وہ ان پانچ باتوں کا جواب نہ دے لے، زندگی کیسے گزاری، جوانی کہاں بیتی، مال کیسے کمایا اور پھر کہاں خرچ کیا اور جو علم حاصل ہوا تھا اس پر کہاں تک عمل کیا۔

شیخ ماجد کی خواہش پر عشاء کی نماز میں دوبارہ حاضری رہی اور نماز کے بعد 10، 15 منٹ کے لئے عمومی خطاب کی دعوت دی گئی تھی۔ عربی میں ایسے خطاب کو ’خاطرة ‘ (دلی خیالات) کا نام دیا جاتا ہے ۔ چونکہ یہ دسمبر 2023ء کا آخری جمعہ تھا س لئے میں نے مناسب جانا کہ سال نو کے نام پر منائی جانے والی مسرفانہ تقریبات کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر کو واضح کرتا جاؤں اور اس ضمن میں مسلمانوں کے سال نو یعنی ہجری تقویم بمقابلہ شمسی تقویم پر گفتگو رہی جو سامعین کے لئے کافی دلچسپی کا باعث رہی ۔

٭ اہل ترکیہ کی مسجد اور اسلامی مرکز

ور جینیا سے متصل میری لینڈ کی ریاست ہے۔ نصف گھنٹے کی مسافت (تقریباً چالیس میل) طے کرنے کے بعد ہم اس خوبصورت مسجد میں پہنچے جسے ترکیہ کی ’دیانت‘ یعنی وزارت اسلامی امور نے تعمیر کروایا ہے۔ مجاہد کی خواہر نسبتی سیدہ اسماء کی رہائش اسی ریاست میں ہے، اور وہ خود بھی (CARE) یعنی تنظیم برائے خیر خواہی مسلمانان میں کام کرتی ہیں اور یہاں وہ ہماری رہنمائی کے لئے موجود تھیں۔

استنبول کی مساجد کی طرز پر یہ مسجد تعمیر کی گئی ہے ۔ گو مختصر ہے لیکن خوبصورت اور جاذب نظر ہے ۔ اندرونی دیواروں کا بالائی حصہ قرآنی آیات

کی خطاطی سے مزین تھا۔ خط نسخ تو بخوبی بڑھا جاتا ہے لیکن بعض آیات خطوط در خطوط ( خط ثلث متراکب) میں لکھے جانے کے باعث قاری کے لئے ایک معمہ بن جاتی ہیں جس کا حل صرف یہ ہوتا ہے کہ ان آیات کا سرا ہاتھ آجائے تو پھر قراءت آسان ہو جاتی ہے۔

مجھے کتابوں کی شیلف میں علامہ عبداللہ یوسف علی کا ترجمہ معانی و مطالب قرآن نظر آیا ۔اس نسخے کو دیکھ کر خاص طور پر مسرت ہوئی کہ یہ وہ نسخہ تھا جو ملك فہد کمپلیکس (مدینہ منورہ) سے 80 کی دہائی میں شائع ہوا تھا اور جس کے حواشی پر میں نے ڈاکٹر سید متولی الدرش (امام وخطيب مركزی مسجد لندن )کے ساتھ دار الافتاء، ریاض کے ہیڈ کوارٹر میں 80 کی دہائی میں ، دو ڈھائی ماہ کی مراجعت اور نظر ثانی کے عمل سے گزارا تھا۔

یہ نسخہ عالم اسلام میں کثرت سے تقسیم ہوتا رہا ، لیکن اب یہ نا پید ہو چکا ہے ، اس لئے اس کا ہاتھ لگنا میرے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ کا باعث بنا، اس مسجد کے ارد گرد ایک وسیع قطعہ زمین ہے، مسجد کے عقبی حصے میں وہ دالان ہے ،جس کے وسط میں قدیم مساجد کی طرح ایک فوارہ بنایا گیا ہے، جو وضو کے لئے قابل استعمال ہے ۔ ایک کونے سے ایک زینہ نچلی منزل کی طرف لے جاتا ہے جہاں باقاعدہ حمامات اور وضو کا انتظام ہے اور ایک ہال میں وہ بڑی سی دکان بھی ہے، جہاں کتب اور یادگاری تحائف زائرین کی دلچسپی کا باعث رہتی ہیں۔

مسجد کے بائیں طرف چند دو منزلہ عمارات ہیں جس میں ایک تعلیمی درسگاہ ہے۔ دوسری ان زائرین کی اقامت گاہ کے لئے ہے جو عارضی رہائش کے لئے کرائے پر دستیاب ہے ، تیسری عمارت میں لیکچر ز ہال ہے جس کی بالائی منزل میں واقع لائبریری شائقین علم کی توجہ چاہتی ہے ۔ اکثر کتب ترکی زبان میں ہیں لیکن عربی کتب میں ابن القیم کی کتاب الروح اور سعودیہ کی مطبوعہ متعدد کتب دیکھ کر خوشی ہوئی ۔

ایک سرسری نظر ڈالنے کے بعد ہم ریسٹورانٹ کی طرف روانہ ہوئے جہاں ترکی مشروبات سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملا ۔ ریسٹورانٹ سے متصل ایک گروسری بھی دیکھی کہ جس کی موجودگی کسی دور دراز اسٹور میں جانے کی زحمت سے بچا رکھتی ہے ۔ ہم کوئی عصر کے وقت یہاں داخل ہوئے تھے اور پھر مغرب و عشاء کی نماز ( قصر اور جمع ) کے ساتھ ادا کرنے کے بعد واپس روانہ ہوئے ۔

٭واشنگٹن اسلامک سنٹر

کولمبیا ڈسٹرکٹ (DC ) میں واقع اسلامک سنٹر اپنی قدامت، خوبصورت طرز تعمیر اور اپنی مرکزیت کی بنا پر امریکی کیپٹل سٹی کے شایان شان

اور قابل زیارت مقامات میں سے ہے ۔

یہاں کافی عرصہ قبل واشنگٹن میں اپنی پہلی آمد کے موقع پر ایک دفعہ جمعہ کی نمازادا کرنے کی سعادت حاصل کر چکا ہوں ۔

اب جو آنا ہوا تو وہ بچوں کی معیت میں تھا۔ ہم آئے تو شہر کے مرکز ہی میں تھے لیکن واپسی میں اس مسجد کو دوبارہ دیکھنے کا شوق، گاڑی کا رخ بدلنے پر آمادہ کر گیا ۔ لندن کی مرکزی مسجد (ریجنٹ پارک) کی طرح یہ مرکز شہر کے گنجان علاقہ میں واقع ہے ، اس فرق کے ساتھ کہ لندن کا مرکز ایک وسیع قطعہ زمین پر محیط ہے، زیر زمین گاڑیوں کی پارکنگ رکھتا ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ (بس، انڈر گراونڈ ٹیوب) سے قریب ہونے کی بنا پر لوگوں کے لئے آسانی سے دستیاب ہے واشنگٹن مسجد کی عمارت اسلامی طرز تعمیر کا ایک شاہکار ہے ، پار کنگ دستیاب نہ ہونے کی بنا پر ہم اتنی سی دیر کے لئے گاڑی سے باہر نکلے کہ ظہر و عصر کی دو دو رکعت ( قصر اور جمع) کے ساتھ ادا کر سکیں ۔

اب ذرا اس مرکز کی مختصری تاریخ بھی ملاحظہ ہو۔

مرکز کی جگہ 1946ء میں مسلم ممالک کے سفراء اور خاص طور پر مصر کے سفیر کامل عبدالرحیم کی مساعی سے خرید لی گئی تھی اور پھر سعودیہ ، کویت اور دیگر مسلم ممالک کے تعاون سے تعمیر کا آغاز ہوا ، جس میں مصر کے دور ممالیک (یا خاندان غلاماں) کے طرز تعمیر کا لحاظ رکھا گیا تھا ۔ عمارت 1954ء میں پایہ تکمیل تک پہنچ چکی تھی۔ 28 جون 1957 ء کو بعہد صدر آئزن ہاور اس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔ مسجد کے حسن کو چار چاند لگانے کے لئے مصر سے شانڈ لیر اور دیواروں کی خطاطی کا اہتمام کیا گیا ۔ محراب کی ٹائلیں ترکی نے مہیا کیں اور فرش ایرانی قالینوں سے ڈھانپ دیا گیا۔ مسجد کے باہر اسلامی ممالک کے جھنڈے ا س مرکز کی عالمیت کا پیغام دے رہے ہیں ۔

9/11 کے واقعہ کے بعد 2001 ء میں صدر بُش نے 17ستمبر کو مرکز میں آنے کی سعادت حاصل کی اور اپنے خطاب میں قرآن کی چند آیات کے حوالے سے مسلمانوں کے امن پسند ہونے کی گواہی دی ۔

مکتبہ بيت الحكمہ

کسی بین الاقوامی جگہ آنا ہو اور پھر ایک بک شاپ کی زیارت نہ ہو ؟

میرا اندازہ تھا کہ واشنگٹن جیسے عالمی شہرمیں کوئی نہ کوئی عربی کتب کی دکان ضرور ہوگی ۔ مجاہد نے گوگل کی مدد سے مکتبہ بیت الحکمہ کو تلاش کر ہی لیا۔

مسجد کی زیارت سے قبل ہم نے اس مکتبے میں حاضری دی ۔ مالک مکتبہ ایک عراقی تعلیم یافتہ شخص تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اصلاً طائف سے ہیں اور ان کا جدی پشتی تعلق سیده حلیمہ سعدیہ کے قبیلہ بنی سعد سے ہے۔ یہ ایک اچھی بڑی دکان تھی ، جس کی الماریاں کتابوں سے مالا مال تھیں ۔ درمیان میں ایک لمبی چوڑی میز بھی بہت کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھی۔

میں صرف کسی اچھوتی کتاب کی تلاش میں تھا کہ جو زیارت واشنگٹن کی یاد دلاتی رہے،تلاش بسیار کے بعد تین کتب ہاتھ آئیں ۔

عبد اللہ دراز کی دراسات اسلامیہ ،صلاح الصاوى كى فقہ النوازل اور محمد کمال الدین امام کی اصول الفقہ الاسلامی

اہلیہ نے جبران (عمر دس سال) کے لئے قرآن بمع تجوید کا ایک نسخہ خریدا جو علیحدہ علیحدہ 30 پاروں پر مشتمل تھا ۔ امید ہے کہ جبران بھی اپنے باپ (مجاہد) کی طرح حفظ قرآن کی سعادت حاصل کر سکےگا ۔

شیبان جو کہ یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کر چکا ہے اور ایک عرصہ سے بطریق زووم میری ہفتہ وار تعلیم لغت عربیہ کی کلاس میں شریک ہو رہا ہے اور ابھی ’النحو الواضح ‘جزء ثانی کے مرحلہ میں ہے ، اس نے ایک انگریزی کتاب کا انتخاب کیا جو قرانی اصطلاحات کے انڈکس کا عنوان رکھتی تھی۔

مجھے ایک عراقی عالم لغت قرآن ڈاکٹر فاضل صالح سامرائی کی کتب کا ہمیشہ اشتیاق رہتا ہے ۔ دکان سے نکلتے نکلتے مالک دوکان سے اس بات کا ذکر کیا تو اس نے بتایا کہ ان کی متعدد کتابیں اسٹاک میں موجود ہیں لیکن تلاش کی محتاج ہیں۔

چند ماه قبل صاحبزادی خولہ (ام شیبان) نے مجھے ان کی ایک کتاب ’التعبیرالقرآنی‘ کا ایک نسخہ ہدیہ کیا تھا ۔ معلوم ہوا کہ یہ نسخہ اسی مکتبہ سے بطريق ’أمیزون ‘خریدا گیا تھا اور پھر بذریعہ ڈاک موصول ہوا تھا۔

اور ان سطور کی تحریر سے چند دن قبل میرے ایک شاگرد محمد خان میرے لئے ان کی چار کتابیں لے کر آئے جوانہوں اپنے ایک دوست کے توسط سے کویت کے ایک مکتبہ سے حاصل کی تھیں۔

عربی دان قارئین یوٹیوب پر ان کا ایک پروگرام بعنوان ’لمسات بیانیہ‘ تلاش کر سکتے ہیں ہیں جو ایک زمانہ ہوا۔ شارقہ ٹی وی سے نشر ہوتا رہا ہے اور جس نے عالم عرب میں بہت مقبولیت بھی حاصل کی تھی ۔ (جاری ہے۔)

٭٭٭

تبصرہ کریں