محرم الحرام میں بعض نئے کام-ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

سورۃ التوبہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اس (اللہ تعالیٰ) کے نوشتہ میں بارہ ہی ہے۔ اور ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں (رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم) یہی ٹھیک ضابطہ ہے (کیلنڈر کا)، لہٰذا ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے سب مل کر لڑو۔ جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں اور اچھی طرح جان لو کہ اللہ تعالیٰ متقین ہی کے ساتھ ہے (یعنی متقین کا حق ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کا ساتھ دے۔) ‘‘ (سورۃ التوبۃ: 36)

ان 4مہینوں میں محرم کی مزید اہمیت رسول اکرمﷺ کے اقوال مبارکہ سے بھی عیاں ہوتی ہے۔ محرم کا معنی ہے بہت زیادہ قابل تعظیم۔ ان مہینوں کی حرمت ابتدائے آفرینش سے ثابت ہے۔

خطبہ حجۃ الوادع میں نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’لوگو! زمانہ گھوم پھر کر اپنی اصلیت پر آ گیا ہے۔ سال کے بارہ مہینے ہوا کرتے ہیں۔ جن میں سے چار حرمت والے ہیں۔‘‘(صحیح مسلم: 1679)

جب نبی ﷺ مدینہ تشریف لے گئے تو آپ ﷺ نے یہودیوں کو عاشوراء کا روزہ رکھتے دیکھا، آپ نے اس کی وجہ پوچھی تو انھوں نے جواب دیا کہ یہ بنی اسرائیل کا فرعون سے نجات کا دن ہے، اس دن سیدنا موسیٰ نے شکرانے کے طور پر روزہ رکھا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا:

’’ سیدنا موسیٰ کے ساتھ موافقت رکھنے میں (ان کی خوشی میں شریک ہونے کے) ہم زیادہ حق دار ہیں۔‘‘ آپ ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور اپنے ساتھیوں کو بھی عاشوراء کا روزہ رکھنے کی تلقین کی۔(صحیح بخاری: 3397)

یہودیوں کے ساتھ مشابہت سے بچنے کی خاطر نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’اگر میں اگلے سال دنیا میں موجود ہوا تو محرم کی نو تاریخ کو (بھی) روزہ رکھوں گا۔‘‘ (صحیح مسلم: 1134)

نبی کریم ﷺ اگلے سال اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے لیکن آپ کی تائید اور حکم باقی رہا۔ صحابہ کرام نے اس ارشاد پر عمل کیا اور دسویں کے ساتھ نو یا گیارہ تاریخ کا روزہ رکھا۔

10محرم کا روزہ رکھنا بہت اہمیت کا حامل ہے، حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’رمضان المبارک کے بعد محرم الحرام کے روزے رکھنا افضل ہے۔‘‘ (صحیح مسلم: 1163)

مزید فرمایا: ’’عاشورہ کے دن روزہ رکھنے سے گزشتہ ایک سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم:1162)

مذکورہ بالا احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عاشوراء کی فضیلت ابتدا ہی سے ہے مگر مسلمانوں کی اکثریت محرم اور عاشوراء کے بارے میں یہی خیال کرتی ہے کہ اس کا تعلق سیدنا حسین کی شہادت سے وابستہ ہے۔

ایسی محفلوں میں شریک ہونے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کی جاتی جہاں علانیہ بدعات کا ارتکاب ہو رہا ہوتا ہے۔ بلکہ اب تو سنّی گھرانوں میں بھی مجالس ومحافل اور تقریبات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

بدعاتِ محرم

محرم الحرام میں بہت ساری بدعات کا ارتکاب کیا جاتا ہے جن میں سے چند ایک یہ ہیں: روزہ رکھنے کی بجائے عصر کے بعد کا فاقہ کرنا، نوحہ اور ماتم، گریہ و زاری، سوگ میں کالے کپڑے پہننا، رشتہ طے نہ کرنا۔ محرم میں شادی نہ کرنا، نئے کپڑے نہ سلوانا نہ پہننا، کپڑے الٹ کر کے پہننا، بستر کی چادریں الٹی کر کے بچھانا، چار پائی الٹ کر رکھنا وغیرہ۔

نوحہ وماتم

نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جو ماتم کرے، رخسار اور منہ پیٹے، گریبان پھاڑے، جاہلیت کی طرح بین ڈالے، وہ ہم میں سے نہیں۔ میں اس سے بے زار ہوں جو ماتم میں سر کے بال مونڈے یا بلند آواز سے روئے یا کپڑے پھاڑے۔‘‘ (صحیح بخاری: 1294 ؛ صحیح مسلم: 104)

نبی ﷺ نے نوحہ کرنے والی اور اس محفل میں شامل ہو کر غور سے سننے والی عورت پر لعنت بھیجی ہے۔ (سنن ابو داؤد: 3130)

دو باتیں مسلمانوں میں کفر کی ہیں: نسب میں طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔(صحیح مسلم: 67)

امت کے تمام علماءِ حق کا اس بات پر اتفاق رہا ہے کہ نوحہ اور جاہلیت کے طریقے پر بین کرنا حرام ہے۔

امام ابن حجر مکی الصواعق المحرکہ میں فرماتے ہیں: ’’اس بات کی بہت تاکید ہے کہ انسان روافض کی بدعات میں مشغول ہونے سے پرہیز کرے۔ نوحہ، ماتم اور بین ڈالنے سے اپنے آپ کو بچائے، اس لیے کہ یہ سب اعمال و افعال شائستہ ایمان والوں کے اخلاق کے منافی ہیں۔ اگر نوحہ و غم جائز ہوتا تو رسول اللہ ﷺ کی وفات کا دن اس کا زیادہ حق دار تھا۔‘‘

شاہ عبدالحق محدث دہلوی لکھتے ہیں:

’’اہل سنت کا دستور یہ ہونا چاہیے کہ عاشوراء کو فرقہ رافضیہ کی نکالی ہوئی بدعات، مثلاً: مرثیہ، ماتم و نوحہ وغیرہ سے احتیاط کریں۔ یہ کام مومنوں کے نہیں ہیں۔ ۔۔ اگر ایسا جائز ہوتا تو نبی اکرمﷺ کی وفات کا دن سب سے زیادہ غم کا دن ہے۔‘‘ (شرح سفر السعادات، ص: 673)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫ منہاج السنہ میں فرماتے ہیں:

’’رافضیوں نے عاشوراء کو ماتم کا دن بنا لیا ہے۔ نوحہ کے شعر و اشعار پڑھتے ہیں، پیاسے رہتے ہیں، رخساروں پر طمانچے مارتے ہیں، گریبان اور کپڑے پھاڑتے ہیں، کفار کی طرح چیختے چلاتے ہیں۔۔۔ یہ سب بدعات ہیں۔‘‘

سوگ

سوگ کے حوالے سے بھی شریعت نے راہنمائی فرمائی ہے۔ اس حوالے سے شریعت کی تعلیمات درج ذیل ہیں:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’جو عورت اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔ ہاں اپنے خاوند کے فوت ہونے پر وہ 4 ماہ 10دن سوگ منائے گی۔‘‘(صحیح بخاری: 1281)

گویا کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ حرام ہے۔ بیوہ عورت پر 4 ماہ 10 دن سے زیادہ کا سوگ نہیں۔ اس مدت کے بعد اس کا سوگ میں رہنا حرام ہے۔

خلافِ سنت کام کرنا ہر مسلمان کے لیے منع ہے۔ ہر وقت اور ہر لمحہ اسوۂ رسول کی پیروی لازمی ہے۔

عشرہ محرم میں زیب و زینت سے دور رہنا، شادی نہ کرنا، اظہار غم میں ننگے سر اور ننگے پاؤں یا ننگے بدن رہنا شیطانی سوچوں کا نتیجہ ہے۔

نبی کریم ﷺ ایک بار جنازے پر تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے اظہار غم کے لیے اپنے اوپر سے چادریں اتار رکھی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

’’کیا تم جاہلیت کا کام کرتے ہو، جاہلیت کی رسم کی مشابہت کرتے ہو۔‘‘ (مسند أحمد)

کفار سے ملتی جلتی رسمیں چاہے وہ خوشی کی ہوں یا غم کی مسلمانوں کے لیے ہرگز جائز نہیں ہیں۔ مرنے والے کی مرثیہ خوانی سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔( سنن ابن ماجہ: 1592)

مرثیہ خوانی کرتے کرتے لوگ ہجو پر اتر آتے ہیں۔ ایک کی محبت میں شدت ظاہر کرنے کے لیے دوسروں کی ہتک کرتے ہیں۔ محرم میں جو مرثیہ خوانی کی مجالس منعقد ہوتی ہیں ان میں اصحابِ رسول کو گالیاں دی جاتی ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ’’میرے اصحاب کو گالی مت دینا۔‘‘ (صحیح بخاری: 3673)

مزیدفرمایا:

’’ڈرو اللہ تعالیٰ سے میرے اصحاب کے بارے میں۔ ان کو میرے بعد طعن و تشنیع کا نشانہ مت بنا لینا (یعنی ان کی برائی نہ کرنا۔) جو ان کو دوست رکھتا ہے وہ مجھے دوست رکھتا ہے۔ جو ان سے دشمنی رکھتا ہے تو گویا وہ مجھ سے دشمنی رکھتا ہے۔‘‘ (جامع ترمذی: 3862)

علامہ غزالی ﷫ ’’احیاء العلوم‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’صحابہ کرام کے باہمی اختلافات اور نزاعات کو مجالس میں بیان نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ (بشری کمزوریوں کو زیر بحث لانے سے) صحابہ کرام کے بارے میں کینہ پیدا کرنے کا باعث ہے۔ ہم تک دین ان کے ذریعے سے پہنچا ہے ۔۔۔ صحابہ کرام ہمارے محسن ہیں۔‘‘

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ﷫ فرماتے ہیں :

’’ان محفلوں میں شامل ہونا (چاہے کسی بھی نیت سے ہو، مثلاً: دوستی نبھانا) درست نہیں جہاں بزرگوں کی ہجو کی جاتی ہو ۔۔۔ واقعات میں اپنی مرضی سے کمی وبیشی کر کے سنایا جاتا ہو، فرضی داستانیں سنائی جاتی ہوں۔ بدعتی مجالس میں شریک ہو کر ان کی تعداد بڑھانا بدعتی عمل میں شراکت ہی ہے۔ جو شخص کسی قوم کے مجمع کو بڑھائے وہ اسی میں سے ہو گا اور جو کسی بدعتی کے کام کو پسند کرے وہ اسی کام میں شریک ہو گا۔‘‘ (فتاویٰ عزیزیہ:1؍71۔72)

سیدنا حسین کے بارے میں غلو

سیدنا حسین کے فضائل و مناقب میں بہت ساری احادیث منقول ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ’’سیدنا حسن اور سیدنا حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔‘‘ (جامع ترمذی: 3768)

مزید فرمایا:

’’یہ دونوں میرے دنیا کے دو پھول ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری: 3753)

سیدنا حسن و سیدنا حسین کی والدہ محترمہ کے بارے میں نبی ﷺ کا فرمان ہے:

’’سیدہ فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری: 3624)

سیدنا حسین کے فضائل و مناقب بجا ہیں، البتہ بات اس وقت بگڑتی ہے جب ان کے فضائل ومناقب میں غلو کر کے دیگر صحابہ کرا م کو سب وشتم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سیدنا حسین کی شہادت کے تناظر میں دیگر صحابہ کرام کو دین اسلام سے خارج قرار دے دیا جاتا ہے۔

سیدنا حسین کی شہادت کے بعد دنیا میں سب سے پہلے نوحہ و ماتم کرنے والا بقول روافض حضرات کے خود یزید تھا۔

ملا جعفر اپنی مشہور کتاب جلاء العیون میں لکھتا ہے کہ ’’جب اہل حسین کا قافلہ کوفہ سے دمشق آیا اور یزید کے دربار میں پیش ہوا تو یزید کی بیوی ہندہ بے تاب ہو کر بے پردہ دربارِ یزید میں چلی آئی۔ یزید نے دوڑ کر اس کے سر پر کپڑا ڈال دیا اور کہا کہ

گھر کے اندر جاؤ اور آلِ رسول پر نوحہ و ماتم کرو۔ ابن زیاد نے ان کے بارے میں عجلت سے کام لیا۔ میں قتلِ حسین پر ہرگز راضی نہ تھا ۔۔۔ اہل بیتِ یزید نے زیور اتار کر لباس ماتم پہنا، صدائے گریہ و ماتم بلند کیا، یزید کے گھر تین روز تک ماتم برپا رہا۔ ‘‘ (جلاء العیون: 256)

تعزیہ و جلوس

ماتم کے علاوہ ایک خاص رسم تعزیہ داری ہے۔ تعزیہ کے لغوی معنی کسی مصیبت زدہ کو صبر کی تلقین کرنے اور اس کے لیے تسکین کی دعا کرنے کے ہیں۔ کسی کی موت پر صبر کی تلقین کرنا اور ڈھارس بندھانا تعزیت کرنا کہلاتا ہے۔ محرم کا تعزیہ یوں ہے کہ سیدنا حسین کی قبر پر بنی ہوئی عمارت کی ایک نقل تیار کی جاتی ہے جس کو سجایا جاتا ہے ۔۔۔

ہزاروں مرد اور عورتیں اس کے پاس دست بستہ تعظیم کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ جھک جھک کر سلام و سجدہ کرتے ہیں اور اپنی منتیں، مرادیں اور دعائیں کرتے ہیں ۔۔۔

اس کے زیر سایہ آنے کے لیے، اس کو ہاتھ لگانے کے لیے خلقت ٹوٹ پڑتی ہے کہ آفات و بلیات کے دور ہونے اور مرادیں پوری ہونے کا یہی ذریعہ ہے۔ (استغفر اللہ)

شاہ عبدالعزیز دہلوی﷫ تحفہ اثنا عشریہ باب گیارہ میں رقم طراز ہیں :

’’کسی چیز کی صورت اور نقل کو اصل ٹھہرا لینا ایک وہم ہے (دنیا میں بت پرستی کا پہلا قدم اسی وہم کا نتیجہ ہے) روافض حضرات بھی اسی وہم میں مبتلا ہیں۔ یہ سیدناعلی، سیدہ فاطمہ اور سیدنا حسن و سیدنا حسین کی قبروں کی نقل بنا کر خیال کرتے ہیں کہ یہ ان کی نورانی قبریں ہیں۔۔۔ فاتحہ و درود و سلام پیش کرتے ہیں، سجدے کرتے ہیں، مکھیوں سے بچانے کے لیے مور چھل ہلاتے ہیں۔‘‘

بدعاتِ محرم کی ابتدا

علامہ جلال الدین سیوطی ﷫ تاریخ الخلفاء صفحہ: 277 میں ذکر کرتے ہیں کہ 341ھ میں ایک گروہ، جو تناسخ کا قائل تھا، ظاہر ہوا۔ ان میں سے ایک نوجوان شخص نے دعویٰ کیا کہ

سیدنا علی کی روح اس کے اندر حلول کر گئی ہے اور اس کی بیوی کا دعویٰ تھا کہ سیدہ فاطمہ کی روح اس کے اندر آ گئی ہے۔ اسی گروہ کے ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ وہ خود جبرائیل ہے۔

خلیفہ وقت (مطیع باللہ القاسم) کو معلوم ہوا تو اس نے ان لوگوں کو عبرت کا نشان بنانے کا حکم دیا۔ تب اس گروہ نے مکر و فریب سے کام لے کر خود کو اہل بیت کے ساتھ منسوب کر لیا ۔۔۔ معزالدولہ شیعی نے ان کو سفارش کر کے بچا لیا۔

معزالدولہ کی نسبت امام سیوطی﷫ فرماتے ہیں:

’’یہ اس کے لعنتی کاموں میں سے ہے۔‘‘

یاد رہے یہ وہی شخص ہے جس نے میلاد کی محافل برپا کرنے کی رسم سرکاری طور پر شروع کی تھی۔

علامہ سیوطی﷫ نے اپنی کتاب میں مزید لکھا کہ

’’معزالدولہ کے بعد اس کے بیٹے عزالدولہ نے مذہب شیعہ امامیہ کی ترویج کی اور اسی نے اذان میں کلمہ بڑھایا: ’’حی علی خیر العمل‘‘ اس کے معاون جعفر بن فلاح نے اس کو دمشق میں پھیلا دیا۔ ایک اور بات قابلِ غور ہے کہ اسی زمانے میں احادیث کے وضع کرنے کا رجحان زوروں پر تھا۔

معزالدولہ نے سب سے پہلے بغداد میں بزور حکومت عشرہ محرم میں نہایت دھوم دھام سے رسمِ ماتم منائی اور مخالفین پر زبانِ طعن و دشنام کا اضافہ کیا۔ (تاریخِ ابن خلدون:3؍425)

معزالدولہ نے حکم دیا کہ سب دوکانیں بند کر دی جائیں۔ خرید و فروخت کا کام روک دیا جائے ۔۔۔ لوگ ماتم کریں، کمبل کا لباس پہنیں، عورتیں پراگندہ بال اور بین کرتی ہوئی، سینے پہ دوہتڑ مارتی ہوئی شہر کا چکر لگائیں۔(الکامل لابن اثیر: 2؍197)

سید امیر علی ’’سپرٹ آف اسلام‘‘ میں صفحہ: 641 پر لکھتے ہیں کہ

’’معزالدولہ نے بیادگار شہادت حسین و دیگر شہدائے کربلا، عاشوراء محرم کو ماتم کا دن مقرر کیا۔

مولوی اعجاز حسین شیعی اپنی کتاب مرقع کربلا میں صفحہ: 79-78 میں بحوالہ تاریخ الخلفاء تسلیم کرتے ہیں کہ معزالدولہ پہلا بادشاہ مذہب امامیہ پر تھا اور اس نے سرکاری طور پر ماتم کا اہتمام کیا۔

محبت میں غلو اور افراط وتفریط کا شکار احترام امت مسلمہ کے لیے سمّ قاتل ہے۔ اس کا علاج نہ ہوا تو ہماری بحیثیت مسلمان داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں ۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں دین اسلام پر عمل پیرا ہونے اور بدعات و خرافات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

٭٭٭

تبصرہ کریں