محبت ایک عبادت۔مولانا سید حسین عمری مدنی ، حیدر آباد

بندہ مختلف شکلوں میں اللہ کی عبادت انجام دیتا ہے، جن میں بدنی، مالی اور زبانی عبادات کے ساتھ ساتھ قلبی عبادات بھی ہیں اور ان قلبی عبادات میں محبت سرفہرست پائی جاتی ہے۔

جس طرح روح جان کے لیے مقوی اور غذا حیات بخش ہے، اسی طرح حقیقی زندگی کے لیے محبت آب حیات ہے، جس کی بدولت لبوں پر مسکان، چہروں پر چمک اور آنکھوں میں دمک قائم رہتی ہے، محبت ہی کی بنا پر تعلقات استوا ر رہتے ہیں، بلکہ محبت کی زنجیر لوہے کی زنجیر سے زیادہ مضبوط ثابت ہوتی ہے، شاید اسی لیے جس سے محبت ہو اس کی خدمت، صحبت اور رفاقت کی خاطر سردی، گرمی، برسات، حرارت، تمازت، صحت، بیماری، مجبوری، لاچاری، وقت حتیٰ کہ دولت بھی کچھ معنیٰ نہیں رکھتی۔

اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کےر سول ﷺ سے محبت ہی کی وجہ سے صحابۂ کرام اسلام کی داعی وشیدائی بنے، جان آفریں کے لیے جاں فشاں وجاں ستاں ثابت ہوئے، بلکہ دین کی سربلندی کے لیے ہر لمحہ جاں بازو جاں نثار بن کر رہے۔

محبت ہی کی وجہ سے حرام بن ملحان نے جام شہادت نوش کرتے وقت فرمایا:

’’کعبے کی رب کی قسم! میں کامیاب ہو گیا۔‘‘

محبت ہی کی وجہ سے عمیر بن حمام نے کھجور کھانے کے لیے درکار مختصر وقت کو بھی ایک لمبی زندگی سمجھا، کھجوروں کو چھوڑ کر میدان کارزار میں اترے، اور رب کے حضور اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

محبت ہی کی وجہ سے سیدنا عبد اللہ بن عمرو نے شہید ہونے کے بعد اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے آگے دوبارہ زندگی اور پھر سے شہادت کی آرزو کی۔

واضح رہے کہ محبت کا تعلق دل سے ہے، جس میں اگر بہتری وسدھار آ جائے تو سارے کا سارا جسم بہتر اور سیدھا رہے گا اور اگر اس میں بگاڑ و فساد آ جائے تو نتیجتاً سارا جسم متاثر ہو جائے گا۔

محبت اور عبادت

علامہ ابن عثیمین﷫ نے فرمایا کہ

’’محبت سارے اعمال کی اصل وجہ اور ساری عبادات کا ایک بنیادی سبب ہے، اس اعتبار سے محبت حقیقت عبادت ثابت ہوتی ہے جس کے بغیر عبادت بے لطف اور بے جان رہ جاتی ہے۔‘‘

(القول المفيد على كتاب التوحيد لابن العثيمين، باب قول الله تعالى ومن الناس…)

شیخ صالح الفوزان﷾ نے فرمایا کہ صحیح بندگی تین بنیادوں یعنی محبت، خوف اور امید پر قائم ہے اور محبت کے ساتھ عاجزی، اور خوف کے ساتھ امید ضروری ہے کیونکہ جس نے صرف محبت کے ذریعے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی عبادت کی تو وہ زندیق (بے دین اور ملحد) ہے۔ (كبھی کبھار زندیق منافق کےلیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور شیخ نے صرف محبت کے ذریعے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی عبادت کرنے والے کو کبھی زندیق قرار دیا تو کبھی صوفی قرار دیا۔)

جس نے صرف امید کے ذریعے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی عبادت کی تو اس کا تعلق مرجۂ فرقے سے ہے، جس نے صرف خوف کے ذریعے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی عبادت کی تو اس نسبت خوارج سے ہے اور جس نے محبت ، خوف اور امید تینوں کے ذریعے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی عبادت تو وہ مؤمن اور موحد ہے۔ (عقیدة التوحيد وبيان …، الفصل السادس في بيان ركائز العبودية الصحيحة، بلکہ یہ قول امام ابن تیمیہ﷫ کا بھی ہے ، مجموع الفتاوى: 10/81، اور امام غزالی﷫ نے امام مکحول﷫ کی جانب اسے منسوب کیا۔ إحياء علوم الدين، ربع المنجيات، كتاب الخوف والرجاء، الشطر الأول فى الرجاء، بيان دواء الرجاء…

مزید فرمایا کہ جب کبھی عبادت کے یہ تینوں ستون بیک وقت جمع اور اثر انداز رہیں گے تو عبادت صحیح معنوں میں واقع بلکہ فائدہ مند ثابت ہو گی اور جب کبھی ان تینوں ستونوں میں خلل آئے گا تو انسان کا روزہ، نماز اور حج ادا ہونے کے باوجود صحیح نہیں ہو گا۔ (إعانة المستفيد بشرح كتاب التوحيد، للفوزان، الباب الواحد والثلاثون)

اہل علم نے کہا کہ عبادت کے ارکان تین ہیں:

1۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے کامل درجے کی محبت (سورة البقرة: 165)

2۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے بدرجۂ اتم خوف وخشیت (سورة الاسراء: 57)

3۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے کما حقہ امید اور آس (سورة الاسراء: 57)

عبادت کے اہم ترین ان ارکان کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نےسورۃ الفاتحہ میں جمع کیا، جیسا کہ ﴿ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ میں محبت پائی جاتی ہے، کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نعمتوں سے سرفراز کرنے والا ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ جس کی نعمتوں سے ہم جس قدر سرخرو ہوں گے اس سے اسی قدر محبت کریں گے۔

﴿الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ﴾ میں امید پائی جاتی ہے، کیونکہ جس کی صفت رحمت یعنی رحم وکرم کرنا اور مہربان ہونا ہو اس سے آس لگی رہتی ہے۔

﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ میں خوف وخشیت پائی جاتی ہے، کیونکہ جو جزا وسزا کا مالک ہو اس کی گرفت سے ڈرا جاتا ہے، اسی لیے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے محبت، امید اورخوف والی آیات کے بعد عبادت والی آیت نازل کی۔ (أصول الإيمان في ضوء الكتاب والسنة لنخبة من العلماء، طباعة وزارة الأوقاف بالسعودية، الباب الأول، الفصل الثاني، المطلب الأول)

امام ابن قیم  رحمہ للہ نے فرمایا کہ عبادت کی خاصیت ہی یہ ہے کہ ٹوٹ کر اور ڈوب کر شدت کی محبت محبوب (معبود) سے ہونی چاہیے، لہٰذا جس نے کسی سے محبت کی اور اس کے آگے اپنے آپ کو پست کر دیا تو اس کا دل اس کا غلام ہو گیا، بلکہ بندگی اور غلامی تومحبت کا آخری مرتبہ ہے۔ (الجواب الكافي لمن سأل عن الدواء الشافي (الداء والدواء، فصل خاصية التعبد)

مزید فر مایا کہ دل اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی جانب متوجہ ہونے میں پرندے کی مانند ہے، محبت اس کا سر اورامید و خوف اس کے پر ہیں، اس اعتبار سے بھی جب کبھی سر اور پرصحیح سالم رہیں گے تو پرندہ اونچی پرواز کرے گا، اگر سر کاٹ دیا جائے تو مر جائے گا اور پر ضائع ہو جائیں تو کسی بھی شکاری کے ہاتھوں شکار ہو جائے گا۔ (مدارج السالكين بين منازل إياك نعبد وإياك نستعين، فصل منزلة الإشفاق)

محبت کی قسمیں:

امام ابن قیم﷫ نے فرمایا کہ نفع بخش محبت کی تین قسمیں ہیں:

1۔ اللہ سے محبت

2۔ اللہ کی خاطر محبت

3۔ فرمان برداری کے لیے معاون کاموں سے محبت

اور کہا کہ نقصان دہ محبت کی (بھی) تین قسمیں ہیں:

1۔ اللہ کے ساتھ (شرکیہ) محبت

2۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے یہاں ناپسندیدہ کاموں سے محبت

3۔ ایسے امور سے محبت جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی محبت کو کم یا ختم کر دے۔

محبت کی کل چھے قسمیں ہیں جن پر ساری مخلوق کی محبتوں کا دارومدار ہے۔ (إغاثة اللفهان من مصايد الشيطان، الباب الثالث عشر، کبھی محبت کی چار قسمیں بیان کی ہیں۔ الجواب الكافي لمن سأل عن الدواء الشافي (الداء والدواء)، فصل أنواع المحبة)

شیخ ابن عثیمین﷫ نے ابتداءً محبت کی دو قسمیں بیان کی ہیں:

1۔ محبت عبادت

2۔ ایسی محبت جو بذات خود عبادت نہیں۔

او ردوسری قسم کو چار حصوں میں تقسیم کیا:

1۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی خاطر محبت، جیسے انبیاء، خلفاء، صحابہ اولیاء اور خیر کے کاموں سے محبت۔

2۔محبت، شفقت ورحمت، جیسے اولاد سے، چھوٹے بچوں سے، کمزوروں اور بیماروں سے محبت

3۔ احترماً محبت، جیسے والدین، اساتذہ اور بڑوں سے محبت

4۔ فطر ی محبت، جیسے کھانے، پینے، لباس، سواری اور گھر سے محبت (القول المفيد على كتاب التوحيد، باب قول الله تعالى ومن الناس…)

شیخ صالح الفوزان﷾ نے بھی محبت کی بنیادی طور پر دو قسمیں بیان کی ہیں:

1۔ محبت عبادت

2۔ محبت (غیر عبادت)

لیکن دوسری قسم کو کچھ فرق کے ساتھ چار حصوں میں یوں تقسیم کیا:

1۔ فطری محبت، جیسے کھانے، پینے اور بیوی سے محبت

2۔ تکریمی محبت، جیسے ماں باپ اور محسنین سے محبت

3۔ محبت شفقت، جیسے اولاد سے محبت

4۔ دوستانہ محبت، جیسے ہم سبق اور کسی کام میں شراکت دار سے محبت (إعانة المستفيد بشرح كتاب التوحيد للفوزان، الباب الواحد والثلاثون) امام ابن قیم﷫ نے کبھی بنیادی تقسیم کے بغیر محبت کی براہ راست تین قسمیں بیان کی ہیں، جس سے عبد الرحمٰن بن سعد ﷫ نے بھی اتفاق کیا۔ (روضة المحبين ونزهة المشتاقين لابن القيم، الباب الحادي والعشرون في اقتضاء المحبة، والقول السديد في مقاصد التوحيد أو شرح كتاب التوحيد لابن السعدي، باب قول الله تعالى ومن الناس…، اور شیخ صالح آل الشیخ ﷾ نے بھی اس سے مشابہ اور قریبی تقسیم پیش کی، كفاية المستزيد بشرح كتاب التوحيد،جب کہ بعض اہل علم نے کہا کہ محبت کی تین قسمیں ہیں:

1۔ واجب محبت یعنی اللہ اور اس کے رسول اور عبادات سے محبت

2۔ جائز اور فطری محبت جیسے اولاد اور دوست سے محبت

3۔ شرکیہ محبت جو تعظیم وبندگی کے ساتھ غیر اللہ کے لیے ہو۔

تبصرہ کریں