مولانا یوسف جمیل جامعی (اعلیٰ سیرت وکردار سے متصف ادیب اور شاعر۔ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب

یوسف جمیل جامعی نہ صرف مولانا تھے بلکہ ایک ادیب اور شاعر اور ایک ہمدرد انسان تھے، ہر ایک کے وہ کام آتے تھے، ایک مشفق اور مہربان ادب نواز انسان تھے۔ وہ جامعہ رائیدرگ کے فارغ التحصیل تھے مگر جنوبی ہند کے ہر جامعہ میں مقبول ومحمود تھے۔ جامعہ دار السلام عمر آباد کے سالانہ مشاعرہ میں تشریف لائے تو اپنے صدارتی خطاب میں شعروشاعری اور علم وادب پر یادگار خطبہ صدارت پیش کیا، جس سےسارے سامعین بہت ہی محفوظ اور مسرور ہوئے۔ کرنول میں ان کا حلقۂ اثر بڑا وسیع تھا۔ مولانا عبد الجبار عمر ی، مولانا عبد الغنی عمری، مولانا خرم جامعی حیدرآبادی، مولانا ظہیر دانش عمری حیدر آبادی، ریاض پاشاہ عمری، شیخ اسماعیل افضل حیدر آبادی وغیرہم ان کے حلقہ احباب میں شامل تھے۔ کتابوں کے بڑے رسیا تھے، پتہ نہیں گھر میں دینی اور ادبی کتنی کتابیں ہوں گی مگر جہاں کہیں انہیں کوئی نئی کتاب نظر آتی بڑھ کر اسے خرید لیتے اور اپنا سرمایہ بنا لیتے تھے۔  مولانا حبیب الرحمٰن زاہد اعظمی عمری﷫ ایڈیٹر ماہنامہ ’راہ اعتدال‘ عمر آباد  بھی ان کا ذکر خیر فرماتے تھے۔ وہ انتہائی متواضع اور منکسر المزاج تھے، ان کے اندر کسی قسم کا عجب اور گھمنڈ نہیں تھا، وہ ایک مثالی عالم دین اور ادیب وشاعر تھے۔ ان کے فرزند اور دختر ان بھی دینی اور عصری علوم سے آراستہ وپیراستہ اور بہترین  اخلاق وتربیت سے مزین ہیں جن  میں والدین  کی تربیت کا رنگ نمایاں ہے۔ مولانا جمیل دو شعری  مجموعے چھوڑ گئے ہیں:

1۔ عکس جمیل             2۔ ذوق جمیل

تیسرے مجموعے کے تعلق سے انہوں نے بذریعہ واٹس ایپ یہ بتایا کہ تیسرے مجموعہ کے بقدر کلام موجود ہے، میں نے عرض کیا کہ آپ اس کی طباعت کی تیاری کریں اور یہ بات  ان کی وفات  سے صرف چند دن قبل ہوئی تھی۔ ماشاء اللہ وہ خود ایک بہترین کمپوزر تھے، اس لیے ٹائپنگ اور سیٹنگ  کا مسئلہ  بھی کوئی نہیں تھا۔ اب ان کے فرزند عقیدت مند اور ادیب وشعراء حضرات کی ذمہ داری ہے کہ ان کے ادبی اور علمی باقیات کو منظر عام پر لائیں تاکہ خلق خدا اس سے مستفید ہو سکے۔

اب آئیے اس معروف ادیب اور شاعر کا مختصر تعارف ہو جائے۔

شاعر کا نام: محمد یوسف

قلمی نام: جمیل جامعی

تاریخ و مقام پیدائش: 20؍ اگست 1951ء، بلہاری، کرناٹک

قابلیت: سند فضیلت وعالمیت جامع محمدیہ عربیہ  رائیدرگ۔ منشی فاضل، تروپتی یونیوسٹی، ایم اے اردو میسور یونیورسٹی، بی او ایل عثمانیہ یونیورسٹی۔

پیشہ: استاد فارسی، عمر عربک ہائی سکول کرنول

مشغلہ: دعوت وارشاد و خطبات جمعہ، شعر وشاعری ونثرنگاری۔

جن مجلات میں مضامین شائع ہوئے تھے: روزنامہ رہنمائے دکن، رونامہ منصف، روزنامہ سیاست حیدر آباد، دکن، راشٹریہ سہارا، بزم سہارا، پندرہ روزہ  ترجمان دہلی، نوائے اسلام دہلی، بزم آئینہ، پیکر خوشبو وشاہین کرنول، صوت الاسلام ممبئی، ماہنامہ صراط مستقیم برمنگھم، راہ اعتدال عمر آباد وغیرہ۔

صحافت: مدیر کاروان سلف

ایوارڈز واعزازات: نیشنل بیسٹ ٹیچر، اردو اکیڈمی آندھرا پردیش اسٹیٹ۔۔ بیسٹ ٹیچر ایوارڈ کرنول ڈسٹرکٹ، بدست پنڈٹ دیال شنکر شرما صدر جمہوریہ ہند کے ہاتھوں  1992ء میں دیا گیا۔۔۔ فخر  جامعہ ایوارڈ، جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ۔۔ خادم جماعت ایوارڈ، احیاء التراث الاسلامی کویت۔۔۔ سرپرست بزم اردو کرنول۔ مرحوم جماعت اہل حدیث آندھرا پردیش کے سابق امیر  بھی رہ چکے تھے۔ زندکی بھر ان کی کوشش اتحاد امت کی طرف مبذول رہی، چونکہ اپنے اس مشن میں وہ مخلص تھے، اس لیے اس کے ثمرات بھی انہیں اور دیگر جمعیتوں کے اکابرین و اراکین کو دیکھنے کو ملے۔

صرف ایک ہفتہ کہ معمولی بخار کے بعد وہ 3اپریل  2020ء بروز جمعرات افطار کے بالکل قریب مالک حقیقی سے جا ملے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون اور کرونا کے کھاتہ میں ڈالے گئے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ انہیں اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائےاور ان کے بچوں کو جو عالم وفاضل اور عالمات ہیں ان کو والد مرحوم کی طرح دین اسلام کے مخلص داعیان بنائے۔ آمین

مولانا جمیل اپنے دوسرے مجموعہ کلام ذوق  جمیل کے دیپاچہ میں رقمطراز ہیں کہ

’’ تعلیم کی تکمیل کے بعد میں ملازمت کی غرض سے کرنول آیا تو یہاں خوبصورت ادبی ماحول نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا۔ سچ پوچھیے تو میری ادبی زندگی کا حقیقی سفر یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ ان دنوں کرنول میں علامہ یسیر کا طوطی بولتا تھا۔ طرز غالب میں لکھنے کی وجہ سے انہیں  غالب دکن کا خطاب دیا گیا تھا۔ ان کے مصاحبین میں مولانا عبد الغنی غنی ( جو بڑے باریک بین اور تحقیقی ذہن کے مالک تھے) سے بھی رسم و راہ ہوئی۔ آگے چل کر  میں نے انہیں دو حضرات سے مشورہ سخن کیا جس کی وجہ سے میرے کلام میں پختگی آ گئی۔۔‘‘

جمیل جامعی کے کلام میں حمد ونعت، منقبت ومناجات، غزلیات، نظمیں، رباعیات، قطعات، تعزیتی نظمیں، ترانے اور تہنیتیں اور مزاحیہ کلام غرضیکہ تمام اصناف سخن پر طبع آزمائی کی ہے۔ رباعیات میں امجد حیدر آبادی کا رنگ نمایاں ہے، اکثر آیات قرآنی اور احادیث نبوی کو رباعیات میں ڈھال کر اپنے کلام کو زندہ جاوید کر دیا ہے۔

یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ وہ ایک قادر الکلام شاعر تھے، اب ان کے چند اشعار  بطور نمونہ پیش کیے جاتے ہیں:

٭ تو اگر   نہیں دل میں آسودگی نہیں ہے

تو جہاں جہاں نہیں ہے وہاں زندگی نہیں ہے

٭ ہے سکت کہاں یہ آقا کہ جمیل حمد کہہ دے

مرے نطق اور قلم میں کوئی عمدگی نہیں ہے

٭ مٹا دے اپنے ہستی کو جو ناموسِ محمدﷺ پر

اسی کی عالم بالا میں اونچی شان ہوتی ہے

٭ بچا کر چلو اپنا اپنا عقیدہ

عقیدہ اٹھانے کے دن آ گئے ہیں

٭ فراق یار میں  اکثر جمیل ایسا بھی ہوتا ہے

خموشی سے چھلک جاتے ہیں بس آنکھوں کے پیمانے

٭ وہ زیر لب تبسم ہی سے قتل عام کرتے ہیں

مزاج یار میں پائی گئی ہے سادگی کتنی

٭یوسف ہو اگر  چاک گر یباں بھی تو غم کیا

اعلان تری پاکی کا کرتے ہیں شب وروز

٭ میرے اشعار مری فکر کا آئینہ جمیل

جھانکئے ان میں اگر گہری بصیرت ہو گی

٭ پہرے لگا کے آب پہ نازاں ہوا عدد و

اس کو خبر کہاں کہ سمندر حسین ہیں

اب آخر میں دو رباعیاں بھی دیکھ لیجیے:

٭ صدقے سے زر ومال میں برکت ہو گی

منفق کے لیے حشر میں راحت ہو گی

٭ ممسک ہو گر زاہد بحر وبر بھی

قسمت میں کبھی اس کی نہ جنت ہو گی

٭ ایک پیمانۂ لبریز ہوا جاتا ہوں

صورت برف میں ہر روز گھلا جاتا ہوں

٭ منتظر ہوں میں ترے حکم کا اے رب کریم

تیرا بندہ ہوں ترے پاس چلا آتا ہوں

اب آخر میں یہی کہوں گا:

’’خدا بخشے بہت سے خوبیاں تھیں، یوسف جمیل، میں‘‘

آمین یار ب العالمین!

راقم الحروف نے ان کی وفات پر چند اشعار میں اپنے تاثرات غم کا اظہار کیا ہے، ملاحظہ فرمائیں:

وہ تو تھے سب کے خلیل نام تھا جن کا جمیل

کام تھا ان کا عظیم          مرتبہ ان کا جلیل

رکھتے تھے قلب سلیم     خواہشیں ان کی قلیل

فکروفن، کردار میں      رکھتے تھے جوہر جلیل

علم دیں سے لیس وہ      دین سے دیتے دلیل

اک سخنور معنی خیز        شعر کہتے وہ جمیل

بے سبب کرتے نہ تھے   ہر کسی سے قال وقیل

چل دیے وہ ناگہاں        سن کے آواز رحیل

زندگی ہے مختصر            آخرت راہِ طویل

بخش دے جنت انہیں    اے خداوند جلیل

کر عطا کوثر کے جام        بخش ان کو سلسبیل!

٭٭٭

مولانا مختار احمد ندوی رحمہ اللہ کی اہلیہ محترمہ وفات پا گئیں

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کےسابق امیر، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سابق نائب صدر، معروف مصنف  اور خطیب اور مشہور عالم دین مولانا مختار احمد ندوی رحمہ اللہ کی اہلیہ محترمہ اوراسلم مختار، مولانا اکرم مختار اور مولانا ارشد مختار کی والدہ ماجدہ اور مولانا شیر خان جمیل احمد عمری کی خوشدامن صاحبہ 90 سال کی عمر پا کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ إنا لله وإنا إليه راجعون

مرحومہ نہایت خلیق اور پابند شرع خاتون تھیں، مولانا مرحوم نے جہاں دینی، دعوتی، تصنفی، تالیفی، تعلیمی اور رفاہی میدانوں اور جمعیت وجماعت کے پلیٹ فارم  سے بہت ساری خدمات  انجام دیں، ان تمام مختلف  وکثیر الجہات مراحل میں مرحومہ نے ایک مثالی شریک حیات کا بھرپور کردار ادا کیا، اس طرح ایک مثالی  شریک حیات  اور مثالی ماں کی حیثیت سے بھرپور زندگی گزار کر اس دار فانی  سے دار البقا کو کوچ کر گئیں، مرحومہ  کے فرزند  نے نماز جنازہ پڑھائی اور ویسٹ ممبئی سانتا کروز میں تدفین عمل میں آئی۔ برمنگھم میں مولانا جمیل نے ان کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی۔

پسماندگان میں تین صاحبزادے اور پانچ عالمہ فاضلہ صاحبزادیاں اور متعدد پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں شامل ہیں جو مختلف  ممالک ومتعدد جگہوں پر  توحید وسنت  کے کاز سے جڑے ہوئے ہیں، جو مولانا مرحوم کے ساتھ ساتھ مرحومہ کے لیے بھی صدقہ جاریہ ثابت ہوں گے۔ ان شاء اللہ

دعا ہے کہ اللہ کریم مرحومہ کو جنت الفردوس  عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل بخشے۔

آمین یا رب العالمین

٭٭٭

تبصرہ کریں