موسموں کے آنے جانے میں اللہ کی قدرت کے نظارے۔معالی الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن بن عبد العزیز السدیس

پہلا خطبہ

ہر طرح کی حمد وثنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ ہم اللہ کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں، اسی پر بھروسہ اور اعتماد کرتے ہیں اور اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ہم ساری خیر اسی کی طرف منسوب کرتے ہیں۔

اللہ کے لیے مسلسل اور جاری رہنے والی تعریف،اس کی ان نعمتوں پر جو ہمیشہ سے بڑھتی جا رہی ہیں۔

اسی کے لیے ہر وقت، ہمیشہ دائم رہنے والا شکر،روز قیامت جس کے اجر وثواب کی امید رکھتے ہیں۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ ایسی گواہی جو عمر کو برکتوں اور نور سے مالا مال کر دے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے وقت سے فائدہ اٹھانے میں جلدی کرنے کی تلقین فرمائی۔

اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر، آپﷺ نے ہمیں شریعت کی آسانیوں کا ہر دم جاری چشمہ عطا فرمایا۔ آپ ﷺ کے نیک اور پاکیزہ اہل بیت پر، جن کی پاکیزگی کا نور سارے جہان پر چھا چکا ہے، اسی طرح نیک صحابہ کرام پر جنہوں نے اخلاق کی بہترین نہر جاری کی۔ تابعین پر جنت کے شوق میں ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔ اے اللہ! ان سب پر سلامتی بھی نازل فرما!

بعدازاں! اللہ کے بندو!

بہترین نصیحت، تقویٰ کی نصیحت ہے۔ سفر واقامت میں اور آنے جانے میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ سنو! پرہیز گاری بہترین سامان اور عظیم ترین ذخیرہ ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’زاد راہ لے لو، یاد رکھو کہ بہترین زاد راہ تقویٰ ہے۔‘‘ (سورۃ البقرۃ: 197)

میں نے دیکھا ہے کہ

’’تقویٰ ہی میں شان و شوکت ہے ۔

آخرت کے دن یہی عزت وشرف کا باعث بنتی ہے۔

تقویٰ کا سامان بہترین سامان ہے ۔

تقویٰ کا ذخیرہ سخت دنوں کا بہترین ذخیرہ ہے۔‘‘

اے مؤمنو! موسموں، تہواروں اور دن ورات کے آنے جانے میں بڑی عبرت اور نصیحت ہے۔ اہلِ عقل ودانش کے لیے عبرت پکڑنے، محاسبہ کرنے اور مستقبل کے بارے میں سوچ وبچار کرنے کے لیے ذرا ٹھہر جانا ضروری ہوتا ہے۔ کیونکہ بہت سے قدم یوں ہی اٹھ جاتے ہیں اور بہت سے وقت ایسے ہی گزر جاتے ہیں، ان کے گزر جانے کا احساس بہت کم ہوتا ہے، ان سے شاید ہی کوئی سبق سیکھا جاتا ہے اور کم ہی کوئی نصیحت پکڑی جاتی ہے۔

’’وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا، ہر اس شخص کے لیے جو سبق لینا چاہے، یا شکر گزار ہونا چاہے۔‘‘ (سورۃ الفرقان: 62)

اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! خیال رکھنا کہ یہ زمانہ حقیقت میں چند سانسوں کا مجموعہ ہے، جو ایک مرتبہ نکلنے کے بعد پھر کبھی نہیں آتے۔ انہیں غفلت میں گزار دیا گیا تو وقت نکلتا جائے گا، مواقع ضائع ہوتے جائیں گے اور افسوس بڑھتا جائے گے۔ پھر جب انسان کو نقصان کا احساس ہو گا، تو تدارک کے لیے واپس لوٹنا چاہے گا، مگر اسے لوٹنے نہ دیا جائے گا۔

انسان عمر کی سواری پر محوِ سفر ہے ۔

ہر مہینہ، بلکہ ہر دن اسے فنا کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

ہر صبح اور ہر شام ۔ وہ دنیا سے دور اور قبر سے قریب تر ہو چکا ہوتا ہے۔

اللہ کے بندو! ان دنوں میں آسمان نے اپنا لباس پہن رکھا ہے، ہوائیں اپنے چھپے راز دکھا رہی ہیں، سردی اپنی نظروں ہمیں تاڑ رہی ہے، اپنی انگلیوں سے ہمیں کاٹ رہی ہے۔ بعض لوگوں کو سردی نے اپنے سینے میں جکڑ لیا ہے۔ یہ حالت سوچنے پر اکسا رہی ہے، سبق سکھا رہی ہے اور جہنم کی سخت سردی کی یاد دلا رہی ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’آگ نے اپنے پروردگار سے شکویٰ کیا، اے پروردگار! میرے کچھ حصہ دوسرے حصوں کو کھاتے جا رہے ہیں۔ تو اللہ نے اسے دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دے دی۔ ایک موسم سرما میں اور ایک موسم گرما میں۔ اسی لیے تم گرمیوں میں سخت گرمی دیکھتے ہو، اور سردیوں میں سخت سردی دیکھتے ہو۔‘‘ (صحیح بخاری؛ صحیح مسلم)

امام حسن بصری ﷫ فرماتے ہیں:

’’ہلاک کرنے والی سردی جہنم کے اس سانس کی وجہ سے ہے۔ اسی طرح ہلاک کرنے والی گرمی بھی جہنم کے سانس کی وجہ سے ہے۔‘‘

امام ابن رجب ﷫ رماتے ہیں:

’’دنیا کی ہر چیز آخرت کا ثبوت اور اس کو یاد دلانے والی ہے۔ گرمیوں میں گرمی کی شدت جہنم کی گرمی کی یاد دلاتی، بلکہ اسی کا حصہ ہوتی ہے۔ اسی طرح سردیوں میں سردی جہنم کی سردی کی یاد دلاتی، بلکہ اسی کا حصہ ہوتی ہے۔‘‘

موسمِ سرما کی ایک حکمت یہ ہے کہ جہنم کی سردی اور اس سے پناہ مانگنے کی کی یاد آتی ہے۔ اللہ اپنے فضل وکرم سے ہمیں اور ہمارے والدین کو عافیت سے نوازے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’موسم سرما مؤمن کی بہار ہوتی ہے۔ اس کے دن چھوٹے ہ وتے ہیں تو وہ روزہ رکھ لیتا ہے، اس کی رات طویل ہوتی ہے تو وہ تہجد پڑھ لیتا ہے۔‘‘ (مسند احمد)

امام ابن رجب ﷫ فرماتے ہیں:

’’موسم سرما مؤمن کی بہار اس لیے ہے کہ وہ اس کے دوران باغ ہائے خیر کی سیر کرتا ہے، میدان ہائے عبادت میں گھومتا ہے، اور آسان نیکیوں کے باغیچوں میں لطف اندوز ہوتا ہے۔‘‘

امام بیہقی﷫ نے سیدنا جابر اور سیدنا انس سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’سردیوں کا روزہ آسان غنیمت ہے۔‘‘

اہل علم بیان کرتے ہیں:

’’آسان اس لیے کہ غنیمت تو دشمن کی زمین میں ہوتی ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے جنگ میں کودنا پڑتا ہے اور اس کی سختیاں جھیلنا پڑتی ہیں، فرمایا:

’’یہ ایسی غنیمت ہے جس میں لڑائی اور جنگ کی بھی ضرورت نہیں۔‘‘

اے اہل ایمان! صحابہ کرام چونکہ سردیوں میں فرمان برداری اور عبادت کی بہت لذت محسوس کرتے تھے، اس لیے وہ موسمِ سرما کی آمد کی خوشیاں مناتے تھے۔

سیدنا ابن مسعود کہا کرتے تھے:

’’میں سردیوں کو خوش آمدید کہتا ہوں، اس میں برکتیں نازل ہوتی ہیں، تہجد کے لیے رات کافی طویل ہو جاتی ہے، اور روزہ کے لیے دن مختصر ہو جاتا ہے۔‘‘

سیدنا معاذ بن جبل موت اشکبار ہو کر کہنے لگے:

’’میرا دل گرمیوں کے طویل دنوں کی پیاس کے لیے، سردیوں کی راتوں کے قیام کے لیے اور علماء کی مجلسوں میں شرکت کے لیے بیتاب ہے۔‘‘

’’سریاں کتنی لمبی ہو سکتی ہیں،جلد بھار آئے گا اور پھر خزاں بھی گزر جائے گا۔

گرمیوں کے بعد سردیاں آ جائیں گیاور موت کی تلوار گردن پر رسید ہو جائے گی۔

اے دنیا کی مختصر زندگی والے!آخر یہ ٹال مٹول کب تک چلے گی؟‘‘

ابن جوزی ﷫ فرماتے ہیں:

’’انسان کو زمانے کی فضیلت اور وقت کی قیمت کا احساس ہونا چاہیے۔ ایک لمحہ بھی کسی نیکی سے خالی نہیں گزرنا چاہیے۔ اس بات کی تاکید ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں بھی ملتی ہے۔ آپ ﷺ کے تمام حالات ہی پیروی کے قابل ہیں، حتیٰ کہ آپ کا آرام بھی راحت وسکون بھی تقلید کے لائق ہے۔ کمال درجے کا توسط اور اعتدال! بے مثال بلندی اور کمال! شان، خوبصورتی اور انتہا درجے کی عظمت! میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان! آپ کی سختی اور نرمی سب کے لیے عیاں تھی۔ آپ کی شفقت، مہربانی اور بردباری سب سے بڑھ کر تھی۔‘‘

امام ابن قيم ﷫ فرماتے ہیں:

’’اگر زمانے میں بس ایک ہی موسم ہوتا تو لوگ بقیہ فصلوں کے فوائد سے محروم رہ جاتے۔ اگر صرف گرمی ہی گرمی ہوتی تو سردیوں کے فوائد جاتے رہتے، اور صرف سردی ہی سردی ہوتی تو گرمیوں کے فائدے نہ نصیب ہوتے۔ سردیوں میں گرمی زمین کے اندر، پہاڑوں کے نیچے اور بند جگہوں میں گھس جاتی ہے، اس طرح پھل اور دیگر پودے اگنے لگتے ہیں۔ زمین کا ظاہری حصہ سرد ہو جاتا ہے۔ ہوا میں پانی کا تناسب بڑھ جاتا ہے، اس لیے بادل بنتے ہیں، بارش برستی ہے، زالہ باری اور برف باری ہوتی ہے جس سے زمین اور اہل زمین میں جان آ جاتی ہے۔‘‘

اے امت اسلام! سردیوں میں چند فقہی احکام نمایاں ہوتے ہیں، جن سے کسی مسلمان کو لا علم نہیں رہنا چاہیے۔ اس لیے ان احکام کو سمجھ لینا چاہیے تاکہ عبادت علم وبصیرت کی بنیاد پر ہو سکے۔ ان میں سے ایک یہ ہے مسافر تین دنوں اور تین راتوں تک اور مقیم ایک دن اور رات تک وضوء کے وقت موزوں پر مسح کر سکتا ہے۔ جب مغیرہ بن شعبہ وضوء کے لیے رسول اللہ ﷺ کے موزے اتارنے لگے تو آپ ﷺ نے انہیں منع کرتے ہوئے فرمایا:

’’انہیں رہنے دو؛ کیونکہ میں نے انہیں پاک کر کے ہی موزوں میں گھسایا تھا۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے ان پر مسح کیا۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

امام حسن بصری ﷫ فرماتے ہیں:

’’مجھے 70 صحابہ کرام نے بتایا ہے کہ رسول اللہﷺ موزوں پر مسح کرتے تھے۔‘‘ یہ اسلام کی رواداری اور آسانی کا ایک پہلو ہے۔

اسی طرح سردی کے موسم میں اور بھی آسانی اور نرمی کے پہلو نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر سخت بارش اور تیز ہوا کے وقت نمازوں کو جمع کر کے قصر کے ساتھ پڑھنے کی اجازت دینا۔ جمع وقصر بھی ان شرائط کی کے مطابق ہی ہو گا جنہیں اہل علم نے بیان کیا ہے۔ جن میں اہم ترین یہ ہے کہ

جمع نہ کرنے کی صورت میں لوگوں کو واضح مشقت کا سامنا ہو، بارش شدید ہو، یا سیلاب ہو، یا تیز ہوا یا بہت کیچڑ ہو۔

اسی طرح سردیوں میں یہ بھی خیال رکھنا چاہیے کہ کچھ لوگ اپنے منہ اور ناک کو رومال وغیرہ سے باندھ کر ہی نماز پڑھنے لگ جاتے ہیں۔

جبکہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں اپنے منہ کو ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابو داؤد، صحیح ابن حبان)

پیارے بھائیو! جب ہم ہم گرم کپڑے پہن کر گرم کمبلوں میں گھس جاتے ہیں، تو اس وقت ہمیں فقراء ومساکین، بیواؤں اور یتیموں کی یاد آنی چاہیے، تاکہ انہیں تسلی دی جائے اور ان کے زخموں پر مرہم لگائی جائے، اسی طرح اپنے ان بھائیوں کی بھی یاد آنی چاہیے جو دنیا کے مختلف علاقوں میں سردی اور خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ جو کیمپوں یا کھلے میدانوں میں رہتے ہیں، زمین کو فرش اور آسمان کو لحاف بنائے رہتے ہیں۔ جنہیں سخت سردی نے جکڑ رکھا ہے اور برف نے گھیر رکھا ہے۔ ہمارے وہ مہاجر، پناہ گزین اور بے گھر بھائی جن کے گھر تباہ کر دیے گئے ہیں۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیے گئے صرف اِس قصور پر کہ وہ کہتے تھے: ہمارا رب اللہ ہے۔‘‘ (سورۃ الحج: 40)

اس کی مثالیں فلسطین میں بھی ملتی ہیں، شام، برما اور اراکان میں اور دوسرے ملکوں میں بھی ملتی ہیں۔ کم سے کم ان کا احساس تو دل میں ہو اور ان کے لیے دعا تو کی جائے۔ اس موقع پر میں قابل اعتماد خیراتی اداروں کی بھی تعریف کرتا ہوں جن میں سر فہرست وہ کاوشیں ہیں جو قابل ذکر بھی ہیں اور قابل شکر بھی جو شاہ سلمان سنٹر برائے امداد وخدمت انسانیت انجام دے رہا ہے۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں جو مستحقین تک امداد کی رسائی میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔

اسلامی بھائیو! موسم سرما میں اللہ تعالیٰ ہمیں مسلسل نازل ہونے والی بارشوں سے نوازتا ہے، اس موسم میں بادل چھائے اور برستے رہتے ہیں، جن سے اللہ لوگوں پر پانی نازل فرماتا ہے، پہاڑوں اور پہاڑیوں کو سیر کرتا ہے، پودوں اور جانوروں کو زندگی بخشتا ہے۔

اس موقع پر میں شدید بارش اور سیلاب سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ ایسے اوقات میں وادیوں اور پانی کے بہاؤ کے راستوں میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو اپنے فضل وکرم سے سلامتی سے نوازے۔

بارش لکھتی ہے اور ساری کائنات سطریں ہی سطریں ہیں،اور بارش کے قطرے کاغذ ہیں۔

تو اللہ کی قدرت کے نظارے دیکھو،کہ پروردگار نے کیا کیا بنایا ہے اور وہ کیسے کیسے رزق دیتا ہے۔

یہ ساری چیزیں ان مسلمانوں کو سکھاتی ہیں جو سمجھ دار بھی ہیں، دانشمند بھی ہیں، عقل مند بھی ہیں اور جان کار بھی ہیں کہ وہ عزت اور مغفرت والے خالق کی ایجادات پر غور وفکر کریں، موسموں کے آنے اور جانے میں حکمتیں تلاش کریں، بلکہ وقت کے گزرنے میں بھی نصیحتیں ڈھونڈیں۔ ہمارے علم رکھنے والے بادشاہ کا فرمان ہے:

’’زمین اور آسمانوں کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری سے آنے میں اُن ہوش مند لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں۔‘‘ (سورۃ آل عمران: 190)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’اس کے لیے تباہی ہے، جو ان آیات کو پڑھنے مگر ان پر غور نہ کرے۔‘‘ (صحیح ابن حبان )

تو الحمد لله! پھر الحمد للہ! جس نے موسموں کے آنے جانے کو اپنی عظمت کی دلیل بنائی ہے۔ آخرت کی یاد دلانے والی بنائی ہے۔ مؤمن تو وہ ہے جو کائنات میں غور وفکر کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کی عبادت یوں کرنے لگتا ہے، گویا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہو۔ سلف صالحین نے کائنات کی مختلف نشانیوں پر خوب غور وفکر کیا، ان کی عظیم حکمتیں تلاش کیں اور ان پر غور وفکر کا حق ادا کیا۔ اسی لیے وہ ان چیزوں میں کامیاب رہے جن میں دوسرے ناکام رہے۔ میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں شیطان مردود سے!

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’رات اور دن کا الٹ پھیر وہی کر رہا ہے اِس میں ایک سبق ہے آنکھوں والوں کے لیے۔‘‘ (سورۃ النور: 44)

سنو! اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے!

اللہ سے ڈرو۔ فصلوں کے آنے جانے میں چھپی حکمتوں کو تلاش کر کے اللہ کا قرب تلاش کرو، تاکہ آپ کی امیدیں پوری ہو جائیں، اور دنیا وآخرت کی خوشیاں نصیب ہو جائیں۔

اللہ مجھے اور آپ کو قرآن وسنت سے برکت عطا فرمائے! انسانوں اور جنوں کے سردار کی ہدایات سے فیض یاب فرمائے۔

میں اپنی بات کو یہیں ختم کرتا ہوں۔ اللہ عظیم وجلیل سے اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ اور غلطی کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو اور اسی کی طرف رجوع کرو۔ یقینًا! وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

الحمد لله! اس کی عطاؤں کی برکھا ہم پر مسلسل برس رہی ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ

اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی نے زمانے کی تقدیر لکھی اور اس کا نظام بنایا۔

میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ مخلوق میں افضل ترین ہیں، اخلاق ومہربانیوں میں اعلیٰ ترین ہیں۔ اللہ کی درجنوں اور دہری رحمتیں اور بہت سلامتیاں ہوں آپ ﷺ پر، اہل بیت پر اور صحابہ پر۔

تابعین سے اور قیامت تک استقامت کے ساتھ ان نقش قدم پر چلنے والوں سے بھی راضی ہو جا۔

اے اللہ! آپ ﷺ پر سلامتی بھی نازل فرما!

بعدازاں! اللہ کے بندو!

اللہ سے یوں ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے! یاد رکھو کہ عمریں تیزی سے گزرنے والی ہیں، اس لیے تقویٰ کا سامان تیار کرو تاکہ تمہارے احوال درست ہو جائیں اور اعمال قبولیت کے زینے چڑھ جائیں۔

اے مؤمنو! موسم سرما کے بعد بہار کا موسم آتا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تم دیکھتے ہو زمین سونی پڑی ہوئی ہے، پھر جونہی کہ ہم نے اس پر پانی برسایا، یکایک وہ پھبک اٹھتی ہے اور پھول جاتی ہے یقیناً جو خدا اس مری ہوئی زمین کو جلا اٹھاتا ہے وہ مُردوں کو بھی زندگی بخشنے والا ہے یقیناً وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘ (سورۃ فصلت: 39)

موسم بہار ہنستا مسکراتا آیا چاہتا ہے،خوبصورتی سے لدا ہوا خوشی سے وہ بولا چاہتا ہے۔

اسے دیکھ کر آنکھوں میں رونق آ گئی ہے،لوگ اسی کے بارے میں چہ مگوئیاں کرنے لگے ہیں۔

ہمارے کچھ بزرگ بہار کے دنوں میں، جب ریحان اور طرح طرح کے پھل عام نظر آتے تھے، تب وہ بازاروں میں نکلتے، ان پھلوں کو دیکھتے اور اللہ سے جنت کا سوال کرتے۔

موسمِ بہار میں بارشوں کا اثر ظاہر ہو جاتا ہے، درخت سرسبز ہو جاتے ہیں۔ زمین میں سبزہ پھیل جاتا ہے، اور اس کی خبوصوتی اور حسن عیان ہو جاتا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’دیکھو اللہ کی رحمت کے اثرات کہ مُردہ پڑی ہوئی زمین کو وہ کس طرح جِلا اٹھاتا ہے۔‘‘ (سورۃ الروم: 50)

کس طرح موسمِ بہار پھولوں کو تیار کرتا ہے، اور کیسے کیسے نور پھیلاتا ہے۔

امام ابن قيم ﷫ فرماتے ہیں:

’’سب سے زیادہ تندرستی والا موسم، موسم بہار ہے، اس میں بیماریاں کم ہو جاتی ہیں، جسم اور بدن درست ہو جاتے ہیں۔ اس میں مسلمان کے لیے شکر کا پیغام ہے، جنت حاصل کرنے کیلئے نیک اعمال کے جاری رکھنے کا حکم ہے۔ بھار زمانے کی جوانی، اور آرام وسکون کا وقت ہے۔

حقیقی زندگی تو بہار کی روشن زندگی ہی ہے،جب وہ آتا ہے تو نور ہی نور پھیل جاتا ہے۔‘‘

تو اے اللہ کے بندو!

نعمتوں اور عطاؤں کا شکر ادا کرنے میں خوب محنت کرو۔ شکر ہی سے نعمتیں قائم رہتی ہیں۔ اس موسم میں کھیل کود کو اپنے دلوں کی راہ نہ دکھاؤ، بلکہ اس موسم کو عبرت پکڑنے، سبق لینے اور نصیحت اخذ کے کا موقع سمجھو، تاکہ تمہارا عزت ومعافی والا مولیٰ راضی ہو جائے۔

سنو! اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے!

درود وسلام بھیجو چاند کی طرح روشن، مخلوق میں بہترین نبی پر، جنہوں نے لوگوں کے دلوں کو یوں جوڑا کہ پھر ان کا شمار الفت ومحبت کے تاروں میں شمار ہونے لگا، ایسا درود وسلام جو خوشبو سے بھرا ہو اور پھولوں کی مانند خوبصورت ہو۔ آپ کے رب ذو الجلال نے بھی آپ کو اپنی عظیم اور محکم کتاب میں یہی حکم دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمانِ عظیم ہے:

’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبیﷺ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘ (سورۃ الاحزاب: 56)

آپ ﷺ نے فرمایا:

’’جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔‘‘

٭٭٭٭

تبصرہ کریں