موسم سرما نفل روزوں کے لیے وقت غنیمت عبد الولی عبد القوی، داعی مکتب دعوۃ وتوعیۃ الجالیات، الحائط، سعودی عرب

الحمد لله و الصلاة والسلام على رسول الله و أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شریك له و أشهد أن محمدا عبده و رسوله و بعد:

اسلام میں فرض روزوں کے بعد نفل روزوں کی انتہائی اہمیت ہے، اسی بنا پر رسول اللہ ﷺ بکثرت نفل روزے رکھتے تھے اور اس کی ترغیب بھی دیتے تھے ، صحابہ کرام آپﷺ کی اتباع اور پیروی میں نفلی روزے رکھتے تھے، خصوصاً یہ موسم سرما نفل روزوں کے لئے بہترین وقت غنیمت ہے جس میں بھوک و پیاس کی بہت زیادہ کلفت کے بغیر عظیم اجر و ثواب حاصل کیا جاسکتا ہے، رسول اللہﷺ سے ان نقل روزوں کی فضیلت سے متعلق بہت سی احادیث مروی ہیں ، ہم ذیل میں ان میں سے چندکا ذکر کرتے ہیں:

1۔ روزه دخول جنت کا ذریعہ ہے:

سیدنا ابوامامہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے کہا: ’’مجھے کسی ایسے عمل کی راہ نمائی فرمائیے کہ میں اس پر عمل کر کے جنت میں داخل ہوجاؤں، تو آپﷺ نے فرمایا: ’’ تم اپنے اوپر روزه لازم کرلو کیوں کہ اس جیسی کوئی دوسری عبادت نہیں ہے۔“ (صحیح الترغیب والترہیب : 1؍580)

2۔ اللہ نے روزہ دار کے لئے جنت میں باب الریان کو خاص کر رکھا ہے:

سیدنا سہل بن سعد بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جنت کا ایک دروازہ ہے جس کا نام ریان ہے قیامت کے روز اس دروازے سے بجز روزہ داروں کے اور کوئی داخل نہ ہو سکے گا، کہا جائے گا، روزہ دار کہاں ہیں ؟ وہ لوگ کھڑے ہوجائیں گے، اس دروازے سے ان کے سوا کوئی نہ داخل ہوگا جب وہ داخل ہوجائیں گے تو اسے بند کردیا جائے گا اور اس میں اور کوئی داخل نہ ہو سکے گا۔ ‘‘ (صحیح بخاری: 1899؛ صحیح مسلم: 1152)

3۔ روزه جہنم سے حفاظت کا ذریعہ ہے :

سیدنا جابر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

’’روزہ ڈھال ہے جس کے ذریعہ بندہ مسلم خود کو جہنم سے بچاتا ہے۔‘‘ (صحیح الترغیب والترہیب: 1؍578)

سیدنا کعب بن عجرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا: ’’اے کعب بن عجرة ! نماز (ایمان کی) دلیل ہے روزہ (گناہوں سے بچنے کے لئے) مضبوط ڈھال ہے اور صدقہ و خیرات سے گناہ معاف ہوتے ہیں جس طرح پانی سے آگ بجھ جاتی ہے۔“ (جامع ترمذی: 214؛ صحیح الترمذی: 1؍336)

4۔ روزه جہنم سے حفاظت کا مضبوط قلعہ ہے :

سیدنا ابو ہریرہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا: ’’روزہ (گناہوں سے بچنے کے لئے) ڈھال ہے اور جہنم سے حفاظت کا مضبوط قلعہ ہے۔‘‘ (صحیح الترغیب والترہیب: 1؍578)

5۔ روزه قیامت کے دن روزه دار کے لئے سفارش کرے گا:

سیدنا عبد اللہ بن عمر و بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’روزه اور قرآن قیامت کے دن بندہ کے لئے سفارش کریں گے، روزہ کہے گا: اے میرے رب ! میں نے اس بندے کو کھانے پینے اور اپنی خواہشات (پوری کرنے ) سے روکے رکھا، لہٰذا اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما، قرآن کریم کہے گا: اے میرے رب ! میں نے اس بندے کو رات میں قیام کے لئے سونے سے روکے رکھا، لہٰذا اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما، چنانچہ دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی ۔“(صحیح الترغیب والترہیب: 1؍579)

نفل روزوں کی دو قسمیں ہیں:

پہلی قسم: مقید روزے: مقید روزوں سے مراد وہ روزے ہیں جن کے رکھنے کی احادیث میں ترغیب وارد ہے اور ان کے رکھنے کے لئے وقت یاز مانہ کی تحدید بھی کی گئی ہے، مثلاً شش عیدی روزے، ، دوشنبہ اور جمعرات کے روزے وغیرہ جن کی تفصیل ذیل میں آرہی ہے۔

دوسری قسم :غیر مقید روزے: غیر مقید روزوں سے مراد وہ روزے ہیں جن کے رکھنے کی احادیث میں ترغیب تو وارد ہے لیکن ان کے رکھنے کے لئے کسی وقت یا زمانہ کی تحدید پر نہیں کی گئی ہے۔

مقید روزے غیر مقید روزوں سے مؤکد اور افضل ہیں جس طرح مقیدنفل نماز میں غیر مقید نفل نمازوں سے افضل ہیں ۔ ( الشرح الممتع: 6؍462)

پہلی قسم: مقيد نفل روزے:

ہم ذیل میں مقید نفل روزوں کا ذکر کرتے ہیں :

1۔ شش عیدی روزے : سیدنا ابو ایوب انصاری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«مَنْ صَامَ رَمَضانَ ثُمَّ أَتَبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ كانَ كصِيَامِ الدَّهْرِ»

’’جوشخص رمضان کے روزے رکھنے کے بعد شوال میں چھ روزے رکھے اسے عمر بھر کے روزوں کا ثواب ملتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم: 194)

سیدنا ثوبان بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جوشخص عيد الفطر کے بعد (شوال کے مہینہ میں ) چھ روزے رکھے اس کو سال بھر کے روزوں کا ثواب ملتا ہے (اس لئے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا﴾ (سورة الانعام:160) ’’ جوشخص نیک کام کرے اس کو اس کا دس گنا ملے گا۔“ (صحيح ابن ماجہ: 1؍286)

وضاحت: رمضان کے 30 اور شوال کے 6 روز سے کل 36روزے ہوئے اور جب 36 کو10 میں ضرب دیا جائے تو 360 ہوئے ،لہٰذا رمضان کے 30 اور شوال کے 6 روز سے رکھنے والے کو 360 یعنی سال بھر کے روزوں کا ثواب ملا اور اگر ہر سال باقاعدگی کے ساتھ یہ روزے رکھے جائیں تو عمر بھر کے روزوں کا ثواب ہوجائے گا۔

شوال کے 6 روزے لگاتار رکھے جائیں یا الگ الگ، مہینے کے شروع میں یا آخر میں، اس میں کوئی فرق نہیں ہے کیوں کہ حدیث بغیر کسی پابندی کے مطلق وارد ہے۔ (الشرح الكبير مع المقنع: 7؍521؛ سبل السلام: 2؍231)

2۔ عرفہ کے دن روزه ركهنا:

حجاج کے علاوہ باقی لوگوں کے لئے عرفہ کے دن (9 ذو الحجہ کو) روزہ رکھنا مستحب ہے۔

سیدنا ابو قتادہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’عرفہ کے دن روزہ رکھنا میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے اُمید رکھتا ہوں کہ ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئندہ کے گناہوں کو ختم کر دے گا ۔“ (صحیح مسلم: 1162)

امام نووی ﷫ فرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں حجاج کے علاوہ کے لئے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کی ترغیب ہے کہ جو اس دن روزہ رکھے اس کے دو سال کے گناہ معاف کر دئے جائیں گے۔“ (شرح النووی علی صحیح مسلم : 8؍51)

3۔ ماه محرم کا روزه:

جن روزوں کا رکھنا مسنون ہے، ان میں ماہ محرم کا روزہ بھی ہے، ماه محرم کا روزہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ ہے۔

سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«أَفْضَلُ الصِّيَامِ، بَعْدَ رَمَضَانَ، شَهْرُ اللهِ الْمُحَرَّمُ، وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ، بَعْدَ الْفَرِيضَةِ، صَلَاةُ اللَّيْلِ» (صحیح مسلم:1163)

’’ماه رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ اللہ کے مہینہ محرم کا روزہ ہے اور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل رات کی نماز (تہجد ) ہے ۔“

4۔ عاشوراء (دسویں محرم) کا روزہ رکھنا:

ماہ محرم کے روزوں میں عاشوراء کے روزوں کی تاکید اور ان کی فضیلت وارد ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ دور جاہلیت کے لوگ دسویں محرم کو روزہ رکھتے تھے اور رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام نے بھی دسویں محرم کو روزہ رکھا لیکن جب ماہ رمضان کے روزے فرض کردئے گئے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ عَاشُورَاءَ يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ اللهِ، فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ»

’’عاشوراء ( دسویں محرم ) اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے لہٰذا جو چاہے اس دن روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔ ‘‘ (صحیح مسلم: 1126)

سیدنا عبد اللہ بن عباس بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو یوم عاشوراء (دسویں محرم ) کو روزہ رکھتے ہوئے دیکھ کر دریافت فرمایا: ’’تم اس دن روزہ کیوں رکھتے ہو؟ ‘‘ انہوں نے کہا: ’’یہ وہ مبارک دن ہے جس میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن (فرعون) سے نجات دی تھی تو اس کے شکریہ میں سیدنا موسیٰ نے یہ روزہ رکھا تھا، تو آپ ﷺ نے فر مایا: سیدنا موسیٰ کی اتباع کا میں تم سے زیادہ حقدار ہوں، چنانچہ آپﷺ نے خود بھی اس دن روزہ رکھا اور صحابہ کرام کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ ‘‘ (صحیح بخاری: 2004؛ صحیح مسلم: 1130)

رسول اللہﷺ سے عاشوراء کے روزہ کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپﷺ نے فرمایا: ’’مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے عاشوراء کے روز ہ سے ایک سال کے گناه معاف ہو جائیں گے۔‘‘ (صحیح مسلم: 1162)

سیدنا عبد اللہ بن عباس بیان فرماتے ہیں کہ

’’میں نے رسول اللہﷺ نے جب عاشوره کے دن سے بڑھ کر کسی اور دن کے روزے اور ماہ رمضان سے بڑھ کر کسی اور مہینے کی فضیلت دیتے ہوئے نہ دیکھا۔‘‘ (صحیح بخاری: 2006؛ صحیح مسلم: 1132)

سیدنا عبد اللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب عاشورہ (دسویں محرم ) کو روزہ رکھا اور صحابہ کرام کو اس کے روزہ کا حکم دیا ،تو صحابہ کرام نے فرمایا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہود و نصاریٰ اس دن کی تعظیم کرتے ہیں ، تو رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«فَإِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ صُمْنَا الْيَوْمَ التَّاسِعَ»

’’ان شاء اللہ اگلے سال (دسویں محرم کے ساتھ) نویں محرم کو بھی روزہ رکھیں گے۔‘‘

لیکن اگلا سال آنے سے پہلے ہی رسول الله ﷺ کا انتقال ہوگیا ۔ (صحیح مسلم: 1134)

لہٰذا سنت یہ ہے کہ ہم یہود کی مخالفت میں دو روزے رکھیں، دسویں محرم سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد اور اگر دسویں کے ساتھ نویں اور گیارہویں کا روزہ رکھا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ بعض روایات میں وارد ہے:

“صوموا يوما وبعده يوما”

’’دسویں محرم سے ایک روز پہلے اور ایک روز بعد روزہ رکھو۔‘‘

ر ہا مسئلہ صرف دسویں محرم کو روزہ رکھنے کا تو یہ مکروہ ہے۔

5۔ ماه شعبان میں بکثرت روزے ركهنا:

سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسلسل روزے رکھتے جاتے یہاں تک کہ ہم یہ کہتے کہ آپ روزہ چھوڑیں گے ہی نہیں اور پھر بھی مسلسل بغیر روزہ کے رہتے اور ہمیں گمان ہوتا کہ آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں اور مجھے معلوم نہیں کہ رسول اللہﷺ نے رمضان کے علاوہ کسی مہینہ میں پورے روزے رکھے ہوں ۔ شعبان کے علاوہ کسی مہینہ میں زیادہ روزے رکھے ہوں۔ ‘‘ (صحیح بخاری: 1969؛ صحیح مسلم: 1156)

سیدہ ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو شعبان اور رمضان کے علاوہ کسی اور مہینہ میں لگا تار روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ (صحیح جامع ترمذی:1؍391)

سیدنا اسامہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ (کیا بات ہے کہ ) کہ میں آپ کو جتنے دن شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھتا ہوں اتنا کسی اور مہینہ میں نہیں دیکھتا، آپﷺ نے فرمایا:

«ذَلِكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ وَهُوَ شَهْرٌ تُرْفَعُ فِيهِ الأَعْمَالُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ »

’’رجب اور رمضان کے درمیان یہ ایک ایسا مہینہ ہے کہ جس کی فضیلت سے لوگ غافل ہیں، یہ ایک ایسا مہینہ ہے جس میں رب العالمین کی طرف اعمال اٹھائے جاتے ہیں، اس لئے میں چاہتا ہوں کہ میراعمل اس حال میں اٹھایا جائے کہ میں روزے سے ہوں۔ ‘‘ (صحیح نسائی: 2357)

6۔ دوشنبہ اور جمعرات کو روزہ رکھنا:

ہر ہفتہ دو شنبہ اور جمعرات کو روزہ رکھنا مستحب ہے۔

سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللهﷺ دو شنبہ اور جمعرات کے روزہ کو تلاش کرتے تھے۔ (صحیح ترمذی: 745)

سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

« تُعْرَضُ الأَعْمَالُ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ »

’’بندوں کے اعمال اللہ کی بارگاہ میں ہر دوشنبہ اور جمعرات کو پیش کئے جاتے ہیں، لہٰذا میں پسند کرتا ہوں کہ میر اعمل اللہ کی بارگاہ میں پیش ہواور میں روزے سے ہوں۔‘‘ (صحیح الترمذی: 1؍395)

7۔ہر مہینہ میں تین روزے رکھنا

ہر مہینہ میں تین روزے رکھنا رسول اللہﷺ کی سنت ہے۔

سیدنا معاذه عدویہ نے رسول اللہ ﷺکی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ سے دریافت کیا:

کیا رسول اللہﷺ ہر ماہ تین دن کے روزے رکھا کرتے تھے؟ سیدہ عائشہ نے فرمایا:

’’ہاں، معاذہ عدویہ نے عرض کیا: مہینہ کے کون سے تین دن؟ سیدہ عائشہ نے فرمایا: ’’کوئی سے تین دن رکھ لیا کرتے تھے۔‘‘ (صحیح مسلم: 1160)

سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میرے خلیل محمدﷺ نے مجھے تین باتوں کی وصیت کی:

1۔ ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کی۔

2۔ چاشت کی دو رکعت نماز پڑھنے کی۔

3۔ سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی۔ (صحیح بخاری: 1981؛ صحیح مسلم: 761)

مستحب ہے کہ یہ تین روزے ایام بیض (یعنی چاند کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ ) کور کھے جائیں، کیونکہ رسول اللہﷺ نے ابو ذر سے فرمایا:

« يا أبا ذر إذا صمت من الشهر ثلاثة فصم ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة»

’’اے ابوذر! جب تم مہینہ کے تین روزے رکھنا چا ہو، تو تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کے روزے رکھا کرو۔‘‘ (صحیح ترمذی: 1؍402، حدیث 761)

سیدنا ملحان القیسی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ہمیں ایام بیض (یعنی چاند کی تیرہویں چودہویں اور پندرہویں تاریخ ) کو روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ (ان کا ثواب ) عمر بھر روزہ رکھنے کی طرح ہے۔ (صحیح ابو داؤد: 2؍464، حدیث: 2115)

8۔ صوم داؤدی: (ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن نہ رکھنا: جس کے پاس طاقت ہو اس کے وقت میں مستحب ہے کہ ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن نہ رکھے جسے صوم داؤدی کہا جاتا ہے۔

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا: ’’۔۔۔ا للہ کے یہاں سب سے پسند یدہ روزہ سیدنا داؤد کا روزہ ہے، آپ ایک دن روزہ رکھتے اور دوسرے دن نہ رکھتے۔ ‘‘ (صحیح بخاری : 1131؛ صحیح مسلم: 1159)

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”سیدنا داؤد کے روزے سے بڑھ کر کوئی روزہ نہیں، وہ نصف زمانہ کا روزہ ہے ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن نہ رکھو۔“ (صحیح بخاری: 1980)

آپﷺ نے سیدنا عمرو بن عاص سے فرمایا: ”ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن نہ رکھواس لئے کہ یہ سیدنا داؤد کا روزہ ہے اور یہ سب سے افضل روزہ ہے ، سیدنا عمرو بن عاص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اس سے بہتر نہیں ہوسکتا۔“ (صحیح بخاری: 1976؛ صحیح مسلم: 1159)

’’لیکن یہ روز ہ مشروط ہے کہ روزہ رکھنے سے بندہ کا جسم اس قدر کمزور نہ ہو جائے کہ وہ روزہ سے افضل اور بہتر چیز حقوق الشاور حقوق العباد کو ادا نہ کر سکے ، ورنہ روزہ ترک کرنا افضل ہے۔“ (الشرح الممتع: 6؍474)

9۔ موسم سرما میں بکثرت روزے رکھنا:

موسم سرما میں بکثرت روزے رکھنا مستحب ہے۔ سیدنا عامر بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«الغنيمة الباردة الصوم في الشتاء»

’’بھوک و پیاس کی بہت زیادہ کلفت کے بغیر حاصل ہونے والا اجر موسم سرما کا روزہ ہے۔‘‘ (صحیح ترمذی: 1؍418، حدیث: 797)

10۔ وہ شخص جس کے پاس کھانے کے لئے کچھ نہ ہو، جس کے پاس کھانے کے لئے کچھ نہ ہو اس کے حق میں مستحب ہے کہ اس دن روزہ رکھ لے، جیسا کہ رسول اللہﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب گھر تشریف لاتے اور کھانے کے لئے کوئی چیز نہ ہوتی ، تو آپﷺ روزہ کی نیت کر لیتے۔

سیدہ عائشہ بیان فرماتی ہیں ایک روز رسول اللہﷺ میرے پاس تشریف لا ئے، فرمایا: تمہارے پاس کھانے کے لئے کوئی چیز ہے، میں نے کہا نہیں: آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تب میں روزہ سے ہوں، پھر آپﷺ دوسرے دن گھر میں تشریف لائے ، تو ہم نے کہا: ’’اے اللہ کے رسول ! کسی نے حیس بطور ہدیہ بھیجا ہے، آپﷺ نے فرمایا: مجھے کھلا ؤ، میں نے صبح روزہ کی حالت میں کی ہے، آپﷺ نے اس میں سے کھایا۔ (حیس : وہ کھانا جو کجھور، گھی اور پنیر سے مل کر بناتے ہیں) (صحیح مسلم: 1154)

سیدہ ام ہانی بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«الصَّائِمُ المُتَطَوِّعُ أَمِير نَفْسِهِ، إِنْ شَاءَ صَامَ، وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ»

’’نفلی روزہ رکھنے والا خود کا امیر ہے چاہے تو روزہ رکھے اور چاہے تو توڑ دے۔‘‘ (صحیح الجامع الکامل: 3854)

علامہ عبدالروف المناوی﷫ لکھتے ہیں:

’’مذکورہ حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ نفلی روزہ رکھنے والے پر لازم نہیں ہے کہ روزہ شروع کرنے کے بعد وہ اسے پورا ہی کرے اور اگر توڑ دے تو اس پر اس کی قضا لازم نہیں ہے۔‘‘ (فيض القدير:4؍231)

11۔وہ نوجوان جو اپنے بارے میں زنا سے ڈرے وہ روزہ رکھے :

وہ نوجوان جسے شہوت جماع پریشان کر رکھی ہولیکن مالی بحران کی وجہ سے وہ شادی کی طاقت نہ رکھتا ہو اس کے حق میں مستحب ہے کہ روزہ رکھے کیوں کہ روزہ سے شہوتِ جماع کمزور ہوتی ہے۔

سیدنا عبداللہ مسعود بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ؛ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ»

’’اے نوجوانو کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھتا ہو وہ شادی کرلے، کیونکہ شادی سے نگاہ نیچی رہتی اور شرمگاہ کی حفاظت ہوتی ہے اور جو (مالی قدرت نہ ہونے کی وجہ سے) شادی کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ روزے رکھے کیوں کہ روزہ اس کے لئے ڈھال ہے۔ ‘‘ (صحیح بخاری: 1905، 5065؛ صحیح مسلم: 1400)

علامہ ابن بطال﷫ مذکورہ حدیث کی شرح میں رقمطراز ہیں:

”مذکورہ حدیث میں رسول اللہﷺ نے امت کو شادی کی ترغیب دی ہے تا کہ وہ اپنی نگاہوں کو پست رکھ سکیں اور شرمگاہ کی حفاظت کر سکیں، لیکن جس کو مالی فقدان کی وجہ سے شادی کی طاقت نہ ہو اور وہ اپنے بارے میں زنا کاری کا ڈر محسوس کرتا ہو ، وہ روزہ رکھ کر شہوت جماع سے دفاع کرے۔ ‘‘ (شرح البخاری لابن بطال: 7؍29)

دوسری قسم: غير مقيد نفل روزے:

سیدنا انس بیان کرتے ہیں کہ

رسول اللہﷺ کبھی (نفل) روزہ نہ رکھتے یہاں تک کہ میں گمان گزرتا کہ آپ اس مہینہ میں روزہ رکھیں گے ہی نہیں اور کسی مہینہ لگاتار روزے رکھتے ، ہمیں خیال آتا کہ آپ روزہ چھوڑیں گے ہی نہیں اورتم رات کو جب بھی آپﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تو دیکھ لیتے اور سوئے ہوئے دیکھنا چاہتے تو دیکھ لیتے۔‘‘ (صحیح بخاری: 1131)

سیدنا حمید بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس سے رسول اللہﷺ کے روزوں کی بابت پوچھا، تو انہوں نے کہا : میں آپﷺ کو روزہ کی حالت میں دیکھنا چاہتا تو دیکھ لیتا اور افطار کی حالت میں دیکھنا چاہتا تو دیکھ لیتا اور (اسی طرح) رات کو سوتے جاگتے جس حالت میں دیکھنا چاہتا دیکھ لیتا اور کوئی حریر و ديباج (کاٹکڑا) رسول اللہﷺ کی ہتھیلی سے نرم اور کسی بھی مشک و عنبر کی خوشبو آپ کی خوشبو سے بڑھ کر نہ تھی۔ (صحیح بخاری: 1973)

سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ لگاتار روزے ر کھتے رہتے یہاں تک کہ لوگ کہتے کہ آپ روزہ رکھنا نہیں چھوڑیں گے اور آپ روزہ رکھنا چھوڑ دیتے یہاں تک کہ لوگ کہتے کہ آپ روزہ نہیں رکھیں گے۔ ‘‘ (صحیح النسائی: 1؍199، حدیث: 2347)

علام عینی ﷫ لکھتے ہیں :

’’مذکورہ حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ نفلی روزوں اور نماز تہجد کی بابت رسول اللہﷺ کا حال مختلف ہوتا تھا چنانچہ آپ نفل روزے کبھی مہینہ کے شروع،کبھی بیچ اور کبھی آخر میں رکھتے تھے، جیسا نفل نمازیں کبھی رات کے شروع ، کبھی بیچ اور کبھی آخر شب میں پڑھتے تھے ، لہٰذا اگر کوئی شخص ایک دو مرتبہ کا مراقبہ کرتا تو کسی نہ کسی مرتبہ آپ کو روزہ اور نماز کی حالت میں پا جاتا، یہی مفہوم ہے مذکورہ حدیث کا ، کہ ’’تم جب رات میں آپﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تو دیکھ لیتے اور سوئے ہوئے دیکھنا چاہتے تو دیکھ لیتے اور جب روزہ کی حالت میں دیکھنا چاہتے تو دیکھ لیتے۔‘‘ یہ مراد نہیں ہے کہ آپ برابر روزہ بھی رکھتے تھے اور پوری رات نماز ہی پڑھتے تھے۔ (عمدة القاری: 11؍68؛ فتح الباری: 4؍255)

امام نووی ﷫ رقمطراز ہیں:

”مذکورہ احادیث کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ بندہ مسلم کے لئے مستحب ہے کہ اس کا کوئی مہینہ بلا روزہ نہ گزرے اورنفل روزوں کے لئے کسی مخصوص وقت کی تعین نہیں ہے بلکہ عیدین اور ایام تشریق کے علاوہ سال کے کسی بھی وقت میں رکھے جا سکتے ہیں۔“ (شرح النووی علی صحیح مسلم: 8؍37)

اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سنت رسولﷺ کی اتباع میں بکثرت نفل روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمين وصلى الله على نبينا محمد وبارك وسلم

تبصرہ کریں