موسم حج۔فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن بن عبد العزیز السدیس۔مترجم: محمد عاطف الیاس

ہر طرح کی حمد وثنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ اے میرے پروردگار! ہم تیری حمد کرتے ہیں، تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں، تیری ہی بخشش کے خواہاں ہیں۔ ساری خیر ہم تیری طرف ہی منسوب کرتے ہیں۔ اے میرے الٰہ اور خالق! تیرے لیے ساری حمد وثنا اور شکر ہے۔ اگرچہ حمد وثنا اور شکر سے تیرے احسانات کا بدلہ نہیں دیا جا سکتا۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ یہی گواہی ہمیں بلند مقام تک پہنچا سکتی ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ جنہوں نے بہترین طریقے سے مناسک ادا کئے، کعبہ کا طواف کیا اور اس کا رخ کیا اور اس گھر کی نشانیوں کو واضح کیا۔

اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے پاکیزہ اہل بیت پر، جو قوموں کی چنیدہ آل ہے، صحابہ کرام پر جو سیدھے راستے پر چلنے والے ہیں، اسی طرح تابعین پر اور استقامت کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر رحمتیں نازل ہوتی رہیں، جب تک حاجی بیت اللہ کا رخ کرتے اور احکام الٰہی کے پابند بنتے ہیں۔ اے اللہ! ان سب پر قیامت تک جاری رہنے والی سلامتی بھی نازل فرما!

بعدازاں! اے اللہ کے بندو! اللہ سے یوں ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے، کیونکہ یہ سب سے قیمتی ذخیرہ اور تمام عبادتوں کا مقصد اور نتیجہ ہے۔

﴿وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى﴾

’’زاد راہ لے لو، یاد رکھو کہ بہترین زاد راہ تقویٰ ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 197)

اے مسلمانو! حج کے بابرکت دن آ پہنچے ہیں، اس کی روشن راتیں جلوہ گر ہو چکی ہیں، محبت کرنے والوں کے شوق کی کیفیت بے مثال ہو گئی ہے، اس مقام کو دیکھنے والے خوش نصیب لوگوں کے دل خوشبو سے معطر ہو گئے ہیں؛ تو یہ گھر بھی ان کے لئے مسکراہٹیں بکھیرنے لگا ہے؛ کہ وہ بھی اس بابرکت موسم کے بہترین وفد کی آمد سے خوش ہے۔ یہ بات کر رہے ہیں حضرت ابراہیم کی لازوال پکار کی اور اسلام کے پانچویں رکن کی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَأَذِّنْ في النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ * لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ في أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ﴾

’’لوگوں کو حج کے لیے اذنِ عام دے دو کہ وہ تمہارے پاس ہر دور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار آئیں * تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں اُن کے لیے رکھے گئے ہیں اور چند مقرر دنوں میں اللہ کا نام لیں۔‘‘ (سورۃ الحج: 27-28]

ایمانی بھائیو! یہ ہیں حرمین شریفین، جو کہ دین اور اسلام کا مرکز ہیں، عزت وعظمت کا مقام ہیں، جو زمانہ در زمانہ اور سالہا سال سے یوں ہی محترم ہیں۔ انہیں اللہ نے چن لیا ہے، ان ہی کی سرزمین پر قرآن نازل ہوا، یہیں پر تمام انسانوں کے سردار نے عبادت کی، آپ ﷺ پر اللہ کی پاکیزہ ترین رحمتیں اور سلامتیاں نازل ہوں۔

على الجَوانِحِ هَبَّت نِسْمَةُ الحَرَمِ

وهامَ كُـلُّ فـؤادٍ للضِّـياءِ ظَمِي

والناسُ من كُلِّ فَجٍ أقبلتْ زُمَرًا

وكُلهم في حِمَى البارِي على قَدَمِ

حرم کی ہوائیں چل پڑی ہیں، نور کے پیاسوں کے دل موہنے لگی ہیں۔ لوگ ہر طرف سے گروہوں میں آتے جا رہے ہیں، سب ہی باری تعالیٰ کی پناہ سے واقف اور مانوس ہیں۔

یہاں زمین پر پہلا گھر ہے جو عبادت کے لئے بنایا گیا، یہ توحید اور اتحاد کی علامت ہے، یہاں شعائر بھی ہیں، مشاعر مقدسہ بھی ہیں اور امن وامان بھی ہی ہے۔

﴿إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ﴾

’’بے شک سب سے پہلی عبادت گاہ جو انسانوں کے لیے تعمیر ہوئی وہ وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے اس کو خیر و برکت دی گئی تھی اور تمام جہان والوں کے لیے مرکز ہدایت بنایا گیا تھا۔‘‘ (سورۃ آل عمران: 96)

رأيتُ البيتَ عاينتُ المقاما

وأديتُ التحيةَ والسَّلامَا

أمامَ البيتِ ما جَفَّتْ دُمُوعي

أَظَلُّ أنَا المُحِبَّ المُسْتَهَامَا

میں نے کعبہ دیکھا، مقام ابراہیم کو دیکھا، اور میں نے تحیۃ المسجد بھی ادا کی اور سلام بھی کیا۔ کعبہ کے سامنے میرے تو آنسو ہی نہ رکے، میں ہی تو ازل سے اس گھر سے محبت کرنے والا۔

اے معزز حجاج کرام: خوش آمدید، آپ کی آمد مبارک ہو، آپ کو اس چناؤ اور انتخاب پر مبارک ہو؛ ہمیشہ اس مقام کی عظمت اور حرمت کو یاد رکھیں، اس کی پاکیزگی اور تقدس کو ذہن میں رکھیں، آپ بیت العتیق میں قریب ہیں، اللہ کی بہترین زمین میں ہیں، اللہ کے نزدیک سب سے محبوب جگہ پر ہیں۔

﴿جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِلنَّاسِ﴾

’’اللہ نے مکان محترم، کعبہ کو لوگوں کے لیے قیام کا ذریعہ بنایا۔‘‘ (سورۃ المائدہ: 97)

رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:

«إن هذا البلد حرمه الله يوم خلق السماوات والأرض، فهو حرام بحرمة الله إلى يوم القيامة»

’’اس شہر کو اللہ تعالیٰ نے اس ہی محترم قرار دے دیا تھا جس دن اس نے زمین وآسمان کو پیدا کیا تھا، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے محترم ٹھہرایا ہوا شہر ہے اور قیامت تک ایسا ہی رہے گا۔‘‘(متفق علیہ)

تو اس کی تعظیم کرنا اللہ کی نشانیوں اور احکام کی تعظیم میں شامل ہے۔

﴿ذَلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ عِنْدَ رَبِّهِ﴾

’’اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا احترام کرے تو یہ اس کے رب کے نزدیک خود اسی کے لیے بہتر ہے۔‘‘ (سورۃ الحج: 30)

’’اور جو شخص ادب کی چیزوں کی جو خدا نے مقرر کی ہیں عظمت رکھے تو یہ (فعل) دلوں کی پرہیزگاری میں سے ہے۔‘‘ (سورۃ الحج: 32)

اے امت اسلام! یہ ہر طرف نظر آنے والا امن اور بے مثال سلامتی کا ماحول صرف نظام بنانے اور اصول وضع کرنے کی بنا پر ہی حاصل نہیں ہوا، بلکہ اسے قائم کرنے اور مستحکم بنانے کے لیے انعام دینے اور سزائیں نافذ کرنے سے کام لیا گیا ہے، سخت تنبیہ سے بھی کام لیا گیا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو اس کی خلاف ورزی کی کوشش کرتے ہیں، یا اسے توڑنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔

﴿وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ﴾

’’اِس میں جو بھی راستی سے ہٹ کر ظلم کا طریقہ اختیار کرے گا اسے ہم درد ناک عذاب کا مزا چکھائیں گے۔‘‘ (سورۃ الحج: 25)

سنُعَظِّمُ موطنَ الزُّلْفَى وإنَّا

على حب القداسة لن نُلاما

فتِلْكَ مواطنُ الذكرى سَنَاهَا

على الآفاق يَكتَسِحُ الظَّلَامَا

ہم عزت کے مقام کی تعظیم کریں گے اور ہمیں، جائے مقدس کی محبت پر کوئی ملامت نہیں کرے گا، یہ یادگار مقامات ہیں جن کا نور ،، آسمانوں پر اندھیروں کو دھکیل رہا ہے۔

حرمین اور ان کے زائرین کی امن سلامتی ایک سرخ لکیر ہے جسے کسی بھی حالت میں پار نہیں کیا جا سکتا، ہر شریعت میں اس کا یہی مقام ہے، خواہ خلافورزی کا ذریعہ کوئی بھی ہو۔

اے ہم عقیدہ موحد بھائیو! حج ایک بڑی عظیم عبادت ہے۔

«مَنْ ‌حَجَّ ‌فَلَمْ ‌يَرْفُثْ، ‌وَلَمْ ‌يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ» (صحیح بخاری و صحیح مسلم).

’’جو حج ادا کرتا ہے اور اس میں نہ کو بے حیائی کا کام کرتا ہے اور نہ کوئی گناہ کرتا ہے، وہ اپنے گناہوں سے یوں پاک ہو کر پلٹتا ہے، جیسے وہ آج ہی پیدا ہوا ہو۔‘‘

وعِندَ الركنِ تنحسِرُ الخطايا

مُلملِمةً جوانَحها انهزامَا

ففي ركنِ الحطيمِ له ائتلاقٌ

إذا رامَ الحجيجُ له استلامَا

رکن یمانی کے پاس خطائیں سکڑ جاتی ہیں ، شکست کھا جاتی ہیں، اپنے پہلووں کو سمیٹتی ہیں۔ حطیم کے پتھر پر بھی نور چمک رہا ہوتا ہے کہ حاجی اسے چھونے کے لیے آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔

اللہ کی خالص توحید کو قائم کرنا سب سے اہم کام ہے، جو اس مقدس شہر میں آنے والوں کو کرنا چاہئے، خاص طور پر کعبہ کے پاس، اور عمومی طور پر تمام مقدس مقامات پر۔

﴿وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَنْ لَا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا﴾

’’یاد کرو وہ وقت جب ہم نے ابراہیمؑ کے لیے اِس گھر کی جگہ تجویز کی تھی کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔‘‘ (سورۃ الحج: 26)

سیدنا جابر بیان کرتے ہیں:

“أَهَلَّ رسولُ اللهِ ﷺ بالتوحيد” ’’رسول اللہ ﷺ نے توحید کا تلبیہ پڑھا۔‘‘ (صحیح مسلم)

یہ سب سے عظیم ہدایت ہے، سب سے بلند مقصد جو بیت العتیق کی چھاؤں میں حاصل ہوتا ہے؛ حج تو ایک شرعی عبادت ہے، اس کے احکام و ضوابط ہیں، اس کی ایک تہذیبی اقدار ہیں، یہ مظاہروں، ریلیوں، اجتماعوں، یا مباحثوں یا زبان لڑانے کا مقام نہیں ہے، جگھڑوں یا زبان درازی کی جگہ نہیں ہے۔ نہ ہی یہ سیاسی نعرے بازی یا گروہی اور فرقہ وارانہ دعوت کی جگہ ہے۔ بلکہ یہاں لوگ کتاب و سنت کے علاوہ باقی ہر راستے سے بلند تر ہو جاتے ہیں۔ اسلافِ امت کے منہج پر قائم ہو جاتے ہیں۔

﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾

’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔‘‘ (سورۃ آل عمران: 103)

اے بیت اللہ کے حاجیو! حرمین شریفین کی تعظیم کے حوالے سے اہم ترین نصیحت اور سب سے پر اثر نیکی، کہ جس کے ذریعے مقامات مقدسہ کا رخ کرنے والوں کو سکون بھی ملتا ہے، وہ یہاں حرام کاموں اور گناہوں سے بچنا ہے۔

﴿الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ في الْحَجِّ﴾

’’حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیت کرے، اُسے خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران اس سے کوئی شہوانی فعل، کوئی بد عملی، کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 197)

اے معزز حاجی، اس بات کا خیال رکھو کہ تمہارے الفاظ پاک ہوں، نظریں نیچی ہوں، نیکیوں اور طاعتوں میں مصروف ہو۔ اپنے دل کو خواہشات اور غلطیوں سے بچائے ہوئے ہو۔ پوری کوشش کرو کہ اپنے بھائیوں کو بھیڑ اور دھکم پیل میں تکلیف نہ پہنچاؤ۔

﴿وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا﴾

’’جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بے قصور اذیت دیتے ہیں، اُنہوں نے ایک بڑے بہتان اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے۔‘‘ (سورۃ الاحزاب: 58)

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ قوانین، ہدایات اور تعلیمات کی پابندی کی جائے، اور اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ بغیر اجازت نامہ کے حج نہ کیا جائے۔ حج کے لیے استطاعت کی شرط وہی پوری کرتا ہے جو اجازت نامہ لے سکتا ہو۔ اس کا اہتمام کرو، تاکہ شرعی مقاصد حاصل کیے جا سکیں، فوائد کو بڑھایا جا سکے برائیوں کو دور کیا جائے اور ان میں کمی لائی جائے سکے اور نیکی کے کاموں میں حکمرانوں کی اطاعت کی جا سکے۔

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہوئے، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں۔‘‘ (سورۃ النساء: 59)

حکمران رعایا کی مصلحت کے مطابق احکامات جاری کر سکتا ہے، تاکہ عبادت کے لیے مناسب ماحول کو برقرار رکھا جا سکے، ایمان کی سفر کو یادگار بنایا جا سکے، قاصدین اور زائرین کی مذہبی تجربے کو بہتر بنایا جا سکے۔ تاریخی نشانیوں کو دیکھ کر سبق حاصل کیا جا سکے، جو کہ مکہ اور مدینہ میں ہیں، جن میں اسباق بھی ہیں اور یادیں بھی، اثرات بھی ہیں اور عبتریں بھی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ﴾

’’اس میں واضح نشانیاں ہیں۔‘‘ (سورۃ آل عمران: 97)

معالمُ لم تُطْمَسْ على العهد آيُهَا

أتاها البِلَا فالآيُ منها تَجَدَّدُ

ان نشانیوں کو زمانے کی گردش سے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکی، جب بھی مٹنے کا وقت آتا ہے تو یہ پھر سے تازہ ہو جاتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حجاج کا حج قبول فرمائے، ان کے امن و استحکام کی حفاظت کرے، ان کے حج کو مبرور بنائے، ان کی کوششوں کو قبول کرے، ان کے گناہوں کو معاف کرے، انہیں صحیح سلامت اپنے گھروں کو واپس لوٹائے؛ یقینًا! وہ بہت دینے والا اور مہربان ہے۔

اللہ مجھے اور آپ کو قرآن وسنت سے برکت عطا فرمائے! اس میں آنے والی آیات، ذکر اور دانش کی باتوں سے فیض یاب فرمائے! میں اپنی بات کو یہیں ختم کرتا ہوں۔ اللہ عظیم وجلیل سے اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کے لیے ہر گناہ اور غلطی کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو اور اسی کی طرف رجوع کرو۔ یقینًا! وہ رجوع کرنے والوں کو معاف کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

ہر طرح کی حمد وثنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ اسی نے حج کو دین کا ایک رکن اور طریقہ بنایا، عمرہ کرنے والوں اور حجاج کے لئے عظیم اجر مقرر کیا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، مشاعر کی بلندیوں اور وادیوں میں مناسک ادا کرنے والے افضل ترین حاجی ہیں۔ اے اللہ! رحمتیں نازل فرما آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے اہل بیت پر، صحابہ کرام پر اور استقامت کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر بھی بہت سلامتی نازل ہوتی رہے۔

بعدازاں! اے حجاج بیت اللہ! اللہ سے ڈرو، ان شاندار اوقات کو غنیمت جانو، انہیں نیک اعمال سے معمور کرو تاکہ تم کامیاب اور کامران ہو اور خیر وبرکت اور رحمتیں حاصل کرو۔

اسلامی بھائیو! اللہ کی عظیم نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے اس نعمت کا بھی ذکر کرنا انتہائی مناسب ہے کہ اس نے ہر مسملان کے دل میں سرزمین حرمین کی محبت رکھی ہے، سب مسلمان اپنے قبلے سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ اس کی نگہبانی فرمائے۔ اس نے سرزمینِ حرمين کو حجاج اور معتمرین کی خدمت کرنے کا شرف عطا کیا ہے، یہ اللہ کی رضا اور اجر کی خاطر یہ ذمہ داری سر انجام دے رہی ہے اللہ کے فضل سے یہ اس مشن پر گامزن ہے۔ یہ مہمانانِ رحمٰن کا خادم ہے۔ اس سلسلے میں یہ مولیٰ کی مدد سے مسلسل کاوشیں کر رہی ہے۔ حرمین شریفین کے حاجیوں، معتمرین، زائرین اور قاصدین کی خدمت کرنا، ان کی امن و سکون کی حفاظت کرنا ان کی سب سے بڑی ذمہ داری اور اہم ترین دینی، تاریخی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ اس موقع پر ہمیں ان خادمین کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے، اور دعا کرنی چاہیے کہ اللہ اپنے وفود کی خدمت کرنے والوں کو بہترین اجر عطا فرمائے۔

یہ عظیم اسلامی اجتماع ہمیں اپنے مظلوم بھائیوں، مصیبت زدہ پیاروں کی یاد دلاتا ہے جو عزیز فلسطین اور مسجد اقصیٰ میں ہیں۔ ہمارا بھائی چارہ اور ایمان ہمیں ان کی مدد اور دعا کرنے پر ابھارتا ہے، خاص طور پر ان بابرکت دنوں میں کہ اللہ ان کو ثابت قدم رکھے اور ان کے دشمنوں پر فتح عطا فرمائے۔ یہاں سعودی عرب کے فلسطینی مسئلہ اور اسلامی مقدسات کے لئے مضبوط اور قابل تعریف موقف کو بھی سراہا جاتا ہے، چاہے دشمنان اور مخالفین کو برا ہی کیوں نہ لگے۔

سنو! اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! درود وسلام بھیجو اس نبی کریم ﷺ پر، کہ جنہوں نے مناسک حج ادا کیے اور ہر حاجی کےلیے ان کی وضاحت فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کریم میں ہمیں یہی حکم دیا ہے کہ ان پر درود وسلام بھیجا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمانِ کریم ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾

’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘ (سورۃ الاحزاب: 56)

صَلَّى عليـه الله، وسَلَّـم اللهُ الذي

أعلاه ما لَبَّى الحجيج وأحْرَمُوا

وعلى قرابتـه المقـرَّرِ فضلُهم

وعلى صحابتـه الذين هُمُ هُمُ

اللہ آپ ﷺ پر رحمتیں اور سلامتیاں نازل فرمائے، کہ جس نے آپ ﷺ کا مقام ومرتبہ بلند فرمایا ہے۔ حاجیوں کے ہر احرام اور ہر تلبیے کے ساتھ آپ پر رحتمیں نازل ہوں، آپ کے معزز رشتہ داروں پر بھی نازل ہوں آپ ﷺ کے صحابہ کرام پر بھی ہوں کہ جو اپنی مثال آپ ہی ہیں۔

اے اللہ! رحمتیں، برکتیں اور سلامتی نازل فرما ہمارے پیارے نبی اور اسوۂ حسنہ، سیدنا محمد بن عبد اللہ ﷺ پر، آپ ﷺ کے پاکیزہ اہل بیت پر، معزز صحابہ کرام پر، مہاجرین وانصار پر، اے اللہ! اصحابِ ہدایت ائمہ خلفائے راشدین سے راضی ہو جا! ابو بکر، عمر، عثمان اور علی سے، تابعین سے اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہو جا۔ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اپنا فضل وکرم اور احسان فرما کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔

اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! ، دین کے مرکز کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمارے حکمران کو اپنی نگہبانی میں رکھ! اس کی حفاظت فرما اور اس کی نگہبانی فرما۔ اے اللہ! خادم حرمین اور اس کے ولی عہد کو بہترین جزا عطا فرما۔ عظیم جزا اور اعلیٰ جزا عطا فرما، کیونکہ انہوں نے بہت بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں، بیت اللہ کے زائرین اور قاصدین کی خدمت کی ہے۔ اسلام مسلمانوں کی خدمت کی ہے اور ان کے مسائل حل کیے ہیں۔ اے اللہ! تمام مسلمان حکمرانوں کو اپنی کتاب پر عمل کرنے کی اور سنت نبی ﷺ کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ! اے رب ذو الجلال! مسلمانوں کے اخلافات دور فرما دے! انہیں کتاب وسنت پر اکٹھا فرما! اے فضل وکرم اور احسان فرمانے والے! انہیں ہدایت، تقویٰ، عفت اور بے نیازی عطا فرما، انہیں اتحاد واتفاق نصیب فرما۔ اے اللہ! مسجد اقصیٰ کو زیادتی کرنے والوں کی زیادتی سے محفوظ فرما ۔ اے اللہ! قیامت تک اسے عزت اور سربنلدی عطا فرما۔ اے اللہ! تو فلسطین میں ہمارے کمزور بھائیوں کا سہارا بن جا۔ اے پروردگارِ عالم! ہر جگہ مسلمانوں کی مدد فرما۔ اے اللہ! مقدسات اسلام کی حفاظت فرما! چال بازوں کی چالوں سے، مکاروں کی مکاریوں سے، زیادتی کرنے والوں کی زیادتی سے محفوظ فرما! اے پروردگار عالم!

﴿رَبَّنَا آتِنَا في الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾

’’اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی! اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 201)

﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ0 ﴿وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ﴾

’’اے اللہ! ہم سے قبول فرما! یقینًا! تو سننے اور جاننے والا ہے۔ہماری کوتاہیوں سے در گزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ:127 – 128)

ہمیں، ہمارے والدین کو اور تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کو بخش دے، چاہے وہ زندہ ہوں یا فوت شدہ۔ یقینًا! تو سننے والا، قریب اور دعائیں قبول کرنے والا ہے۔

﴿سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ 0 وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ 0 وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ (سورۃ الصافات: 180-182].

’’پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں اور سلام ہے مرسلین پر اور ہر طرح کی تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہی ہے۔ ‘‘

تبصرہ کریں