موبائل فون کے گھریلو معاملات پر اثرات-بنت محمد رضوان

الحمد لله والصلاة والسلام علی رسول الله، أما بعد

اللہ رب العالمین ہم سب کے خالق ومالک ورازق ہیں اور اللہ رب العالمین کا احسان عظیم ہے کہ اس نے ہمیں یہ دین حنیف عطا کیا۔ دین حنیف وہ خیر کی کنجی جو انسان کو اعتدال کی راہوں پر گامزن کر دے ان ہی اعتدال کی راہوں میں سے ایک راہ نکاح ہے ، یہ وہ سفر ہے جس پر چل کر نہ صرف انسان اپنی خواہشات اور نظر کی حفاظت ، فتنوں سے بچاؤ کا راستہ اختیار کرتا ہے دوسری جانب یہی وہ راستہ ہے جس میں اللہ رب العزت نے سکون رکھا ہے اور اگر انسان کو دنیا میں سکون کی دولت مل جائے تو اس سے بڑی کوئی بھلائی نہیں اور اگر یہ دولت اور نعمت نصیب نہ ہو تو عاليشان محلوں میں رہنے والے بادشاہ مخملی بستروں پر کروٹیں بدل کر ان کے جسم تھک جاتے ہیں لیکن سکون انہیں نصیب نہیں ہوتا اور یہی وہ دولت ہے جو اللہ رب العزت نے عائلی زندگی میں قدم رکھنے والوں کیلئے رکھی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ

﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ﴾ (سورۃ الروم:21)

’’اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری جنسوں ہی سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی یقیناً غور کرنے والوں کیلئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔‘‘

اور یہ سکون بھی انہیں کو حاصل ہوگا جس نے اپنے نکاح کی بنیادوں کو درست رکھا لڑکی کے نکاح کے لیے معیارکیا رکھا گیا ۔

إِذَا أَتَاكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ خُلُقَهُ وَدِينَهُ فَزَوِّجُوهُ

’’جب تمہارے پاس بیٹی یا بہن کے نکاح کے لیے نکاح کا پیغام آئے اگر اس کا اپنے رب سے تعلق پیارا ہواور اس کا مخلوق سے رویہ اچھا ہو تو اپنی بیٹی یا بہن کا اس سے نکاح کر دو۔‘‘(سنن ابن ماجہ:1967)

لڑکے کے نکاح کیلئے

لڑکی سے نکاح اس کے حسن وجمال، مال ومتاع، حسب ونسب، دین کی وجہ سے کیا جاتا ہے تم دین کوترجیح دینا۔

اور یہی وہ گھرانہ ہوگا جو دینی ماحول وتربیت کی وجہ سے پُر سکون ہوگا اس میں ماحول یہ ہوگا کہ شوہر جب بیوی کو دیکھے گا تو وہ اسے اپنے سلیقے ، خدمت، محبت سے خوش کر دے گی وہ حکم دے گا اطاعت کرے گی غیر حاضر ہوگا تو اپنی عزت کی اس کے مال اوربچوں کی حفاظت کرے گی۔

اور اگر ان بنیادوں پر عائلی زندگی میں قدم نہ رکھا جائے تو انسان بے اعتدالی کا شکار ہوتا ہے اور نہ صرف سکون کی نعمت سے محرومی مقدر بنتی بلکہ وہ ایک کے بعد ایک فتنہ کا شکار ہوکر اپنی زندگی کو تباہی کے چوکھٹ پر لاکرکھڑا کر دیتاہے جہاں وہ ایک ناکام شوہر یا بیوی، ناکام اولاد،ناکام سربراہ ہوتاہے۔آج امت مسلمہ بھی انہی فتنوں سے دوچار ہے اور ان فتنوں میں سے ایک ’’موبائل‘‘ کا فتنہ ہے جہاں اس کے بے شمار فوائد ہیں اس سے کہیں زیادہ اس کے نقصانات ہیں جن کی وجہ سے آج کئی گھرانے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ، کتنے گھروں کے چراغ بجھ گئے ، کتنی ہی بیٹیاں طلاق لے کر گھروں میں بیٹھ گئیں ، کتنے ہی بچے والدین سے محروم ہوگئے، کتنے ہی والدین بچوں کی آواز سننے اور ملنے جلنے کو ترس گئے۔

یہ مضمون مندرجہ ذیل 2نکا ت پرمشتمل ہے:

1۔ موبائل فون کے تباہ کن اثرات

2۔ گھربرکت کا گہوارہ کیسے بنائیں ؟

1۔ موبائل فون کے تباہ کن اثرات

ایمان پر اثرات

انسان(مرد ہو یا عورت) کی فطرت میں ہے کہ وہ حیا اختیار کرتا ہے اور حیا پر ابھارنے والی چیز انسان کا ایمان ہوتا ہے اور حیا وایمان لازم وملزوم ہیں ان میں سے ایک چلا جائے تو دوسرا خود بخود رخصت ہو جاتا ہے۔ اس فطرت حیا کو جو آدم وحوا علیہما السلام کے اندر بھی موجود تھی کہ جب شیطان نے دھوکہ دیکر ان کو پھل کھلا دیا تو بے حجاب ہونے کے بعد وہ اپنے اپنے وجود کو پتوں سے ڈھانپنے لگے یہی فطرت کا تقاضا بھی ہے لیکن دور حاضر کی یہ ایجاد انسان کے اندر سے حیا وایمان کو رخصت کر رہی ہے انسان صرف ایک کلک پر بے حیائی کی ہر حد عبور کر سکتاہے۔فحش فلمیں، گندے لٹریچر (بے حیائی اور سیکس) کے نام پر پوری دنیا میں کتنی ہی ویب سائٹس ہیں جو مسلمان کے ایمان کا سودا کر رہی ہیں جبکہ سرتاج رسل ﷺنے یہ فرمایا :

الحَيَاءُ مِنَ الإِيمَانِ، وَالإِيمَانُ فِي الجَنَّةِ، وَالبَذَاءُ مِنَ الجَفَاءِ، وَالجَفَاءُ فِي النَّارِ

’’حیا ایمان میں سے ہے اور ایمان جنت میں لے جاتاہے اور بے حیائی کوڑا کرکٹ ہے اور کوڑا کرکٹ آگ میں لے جاتاہے۔ (جامع ترمذی:2009)

ایسامواد دیکھنے،اپلوڈ کرنے اور ان فحش چیزوں میں دن ورات بسر کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ قرآن ان کے خلاف کیا اعلان کرتا ہے :

﴿إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾

’’ جولوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کیلئے دنیا وآخرت میں دردناک عذاب ہے اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ نہیں جانتے۔‘‘ (سورۃ النور:19)

اور جس کے اندر حقیقت میں حیا ہوگی تو وہ ایمان سے بھی مزین ہوگا اس کیلئے بھلائی کے راستے ہی پیدا ہوں گے ،فرمان گرامی ہے:

’’ جس میں بے حیائی ہوتی ہے وہ اسے عیب دار بنا دیتی ہے۔‘‘ (جامع ترمذی)

انسان اس موبائل کی زندگی میں رہ کر بے حیا بن کر اپنے ہر عضو کو برائی کے راستوں پر چلادیتاہے جو ہاتھ کیلئے حلال نہیں ہوتا ہاتھ سے وہ سب کچھ تلاش کرتاہے ، جو آنکھ کیلئے حلال نہیں وہ اس سےگناہ کی چیزیں دیکھتاہے جو کان کیلئے حلال نہیں اُن سے وہ سنتا ہے اور یہ سب زنا کے راستے ہیں جو اس کو اس سے بھی بڑے گناہ کی طرف مائل کردیتےہیں۔

سرتاج رسل ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

’’آدمی اپنے تمام حواس سے زنا کرتاہے ، دیکھنا آنکھوں کا زنا ہے ، غیر اخلاقی بات چیت زبان کا زنا ہے ، آواز سے لذت لینا کانوں کا زنا ہے ، ہاتھ لگانا اور ناجائز مقصد کیلئے چلنا ہاتھ اور پاؤں کا زنا ہے ، بدکاری کی یہ تمام تمہیدیں جب پوری ہوجاتی ہیں تب شرمگاہیں یا تو اس کی تکمیل کر دیتی ہیں یا تکمیل کرنے سے رہ جاتی ہیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

جو انسان نظام قدرت کی مخالفت پر اُتر آتاہے تو اس کا دل رب تعالیٰ کے خوف سے خالی ہوجاتاہے وہ ایمان جیسی نعمت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے اور وہ اپنے ہوس کی تکمیل کیلئے درندگی پر بھی اتر سکتاہے اور اسی طرح اس ایجاد نے کتنے باایمان لوگ بے ایمان کر دیئے ہیں۔

خاندانی زندگی پر اثرات

کتنے ہی پھول سے گھرانے تھے جن میں خوب محبت ادب واحترام تھا پھر اس موبائل کے آنے کے بعد یہ سب آہستہ آہستہ ختم ہوگیا اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی کی فضا قائم ہوئی جو آہستہ آہستہ جاکر قطع رحمی پر ختم ہوئی انسان نے جب موبائل کا غلط استعمال کیا تو اپنے خوبصورت محرم رشتوں اوران کی محبت سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

اس ایجاد نےایک کلک سے اس کو ایمان اور حجاب کی فضا سے اٹھا کر بے ایمانی اوربےحجابی بلکہ فحش کی آلودہ فضا میں جاپھینکاہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ﴾(سورۃ النور:30)

’’اے نبی ﷺ ان مؤمن مردوں سے کہیں کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کیلئے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے۔‘‘

اسی طرح عورتوں سے مخاطب ہوکر فرمایا:

﴿وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ﴾(سورۃ النور:31)

’’اے نبی ﷺ ان مؤمنہ عورتوں سے کہیں کہ اپنی نظروں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔‘‘

اور ڈرنا چاہیے مومن مردوں اور عورتوں کو کہ ممکن ہے کہ آج وہ خیانت کرلیں ، دھوکہ دے دیں ، جھوٹ بول کر بچاؤ کر لیں لیکن ایک دن آنے والا ہے جس دن کوئی بھید نہیں رہے گا اور پھر رسوا ہونا پڑے گا ہر اس مرد یا عورت کو جو خیانت کرنے والا اور بے حیا ہوگا کیونکہ قرآن کریم میں ارشاد ہے:

﴿وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَا وَيْلَتَنَا مَالِ هَٰذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا ۚ وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا﴾

’’اور نامۂ اعمال سامنے رکھ دیئے جائیں گے اور تم مجرموں کو دیکھو گے کہ وہ اس کی تحریر سے خوفزدہ ہو رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے(ہائے کم بختی) یہ کیسی کتاب ہے جس نے کوئی چھوٹا بڑا عمل شمار کیئے بغیر نہیں چھوڑا اور جو کچھ انہوں نے کہا تھا سب موجود پائیں گے۔‘‘ (سورۃ الکہف:49)

اور جب کہ بحیثیت والدین ان سے تقاضا تو یہ تھا کہ :

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا﴾ (سورۃ التحریم :6)

’’اے اہل ایمان!اپنے نفسوں اور اہل وعیال کو آگ سے بچاؤ۔‘‘

ایک شوہر اور بیوی جو بظاہر علانیہ ایک دوسرے کے ساتھ sincerity دکھا رہے ہیں بتارہے ہیں لیکن خلوت میں ان تمام برائیوں اور حدود کو پامال کر رہے ہیں جو اللہ رب العزت نے ان کیلئے قائم کی ہیں کیا انہوں نے یہ فرمان رسول ﷺ نہیں سنا :

اللہ کے پیارے حبیب نے اپنے صحابہ کرام سے کہا میں ایسے لوگوں کے بارے میں تمہیں نہ بتاؤں جو روزِقیامت کو آئیں گے، تہامہ کے پہاڑ جتنی نیکیاں لائیں گے اللہ رب العزت ان کی نیکیوں کو دھول بنا کر اڑائیں گے میرے صحابہ وہ تمہارے بھائی ہیں اور تمہارے خاندانوں سے ہوسکتے ہیں جس طرح تم تہجدیں پڑھتے ہو وہ بھی پڑھتے ہوں گے اور وہ اپنی قوم میں جب وہ خلوت میں جاتے ہیں (موقع ملتا ہے اللہ کی حدود کو پامال کرنے کا) اللہ کی حدود کو پامال کرنے میں ڈرتےنہیں۔

فیس بک اور اس کے ٹولز پر سکون حاصل کرنا سکون نہیں اپنے نفس کو دوپل کا مزہ دینا سکون نہیں ، اتنے کم خرچ پر گھنٹوں کے پیکجز کراکر خلوتوں کو آلودہ کرنا سکون نہیں ان سب کاحساب ہونا ہے ،ایک دن آنا ہے جب ہر ایک کو جوابدہ ہونا پڑے گا اس سے پہلے خود کو صحیح کر لو اور اسوۂ حسنہ پر عمل کرو جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي(سنن ابن ماجہ:1977)

’’تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو اپنے(بیوی بچوں) اہل وعیال کے ساتھ اچھا ہے اور میں اپنے اہل وعیال کے حق میں سب سے اچھا ہوں۔‘‘

یہ موبائل اور اس کی ایک اندھا دھند تقلید ایک بیٹی کو اپنے رسول ﷺ کی نافرمانی پر اُبھار رہی ہے وہ اپنے ہر لمحے کی تصویر لیکر محفوظ کر لینا ، چاہتی ہے اس کو علم نہیں کہ پیاری بیٹی یہ وہ دلدل ہے جس کا انجام اچھا نہیں ،حدیث تو کہتی ہے۔

’’اللہ کے ہاں سخت ترین عذاب تصویر بنانے والوں کو ہوگا۔‘‘(صحیح بخاری وصحیح مسلم)

یہی بیٹی اس موبائل کی وجہ سے غلط چیزیں غلط لوگ Follow کرنے لگی ہے ان کو ہی اپنا آئیڈیل سمجھ رہی ہے اس بے حیائی کی چکاچوندنی اسے متأثر کر رہی ہے ان جیسی بننا چاہتی ہے جبکہ رب کا قرآن حیا کی دعوت دے رہا ہے۔

﴿وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ ﴾

’’مسلمان عورتوں سے کہو اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہوجائے اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی آرائش کو ظاہر نہ کریں۔‘‘ (سورۃ النور:31)

اس موبائل نے ایک بیٹے کیلئے نیٹ کیفے کو آج آسان کر دیا ہے کل جو بدنام ترین جگہوں میں شمار تھا آج مسلمان بچوں کے ہاتھوں میں ہے اوروالدین کی نظروں سے بچ کر اس موبائل کی خباثتوں سے دن رات اس سے آلودہ ہورہے ہیں اس کے شب وروز حرام چیزوں کے ساتھ گزر رہے ہیں اور وہ بھول گیا ہے کہ ایک دن آنا ہے جب اس کے اعضاء خود اسی کے خلاف گواہی دیں گے ۔

﴿الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَىٰ أَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ (سورہ یس:65)

’’ہم آج کے دن ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں گواہیاں دیں گے ان کاموں کی جو وہ کرتے تھے۔‘‘

اس موبائل نے(بحیثیت ایک ساس اور بہو کے) دن بھر فضول گوئی ، طنز ومزاح، چغلی وغیبت کی مجالس گرم کر دی ہیں۔ صبح سے لیکر شام تک کے سوشل میڈیا پر سٹیٹ منٹ کبیرہ گناہوں کو آسان کر رہے ہیں اور قطع رحمی کی طرف گامزن ہیں ، کتنا سستا سودا ہے جو نفس نے کیا ہے جبکہ پیارے حبیب ﷺ کا فرمان ہے:

’’نیکی کا حکم ،برائی سے روکنے یا اللہ کا ذکر کرنے کے علاوہ تمام باتیں اس پر وبال ہیں یعنی پکڑ کا ذریعہ ہیں۔‘‘(جامع ترمذی)

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:

’’لوگوں کو ناک کے بل دوزخ میں گرانے والی ان کی زبان ہی کی بری باتیں ہوں گی اور جب تک تم خاموش رہو گے(زبان کی آفت سے) بچے رہو گے اور جب کوئی بات کرو گے تو تمہارے لیے اجر یا گناہ لکھا جائے گا۔ ( طبرانی )

اور کیسا نامۂ اعمال ہے جو انسان اس موبائل کے ذریعے تیار کر رہا ہے اور بھول گیا ہے کہ

﴿مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ﴾

’’(انسان) منہ سے کوئی لفظ نکال نہیں پاتا مگر اس کے پاس نگہبان تیار ہے۔‘‘ (سورۃ ق:18)

صحت پر اثرا ت

’’ دو نعمتیں ایسی ہیں جو انسان کے پاس ہیں لیکن اس کی قدر کم ہی لوگ کرتے ہیں ان نعمتوں میں غفلت کا شکار ہیں ایک صحت دوسری فراغت یہ وہ عظیم نعمتیں ہیں جس کی قدر یا تو کوئی مریض کے علم میں ہے یا اس کے جس کے پاس زندگی سے لطف لینے کیلئے مزید وقت نہیں جہاں اس موبائل نے بڑوں کے رشتوں میں خرابیاں پیدا کیں ہیں وہاں بچوں کی ذہنی وجسمانی نشوونما میں Slow poison کا کردار ادا کیا ہے۔یہ ویڈیو زبچوں میں ہمدردی خیال تعاون کی فضا کو ختم کرکے بے حس اور قتل وغارت کی شرح کو تیزی سے بڑھا رہی ہیں بے حسی کی فضا نے آپس میں بہن ، بھائیوں کے خوبصورت رشتہ کو تیزی سے تبدیل کر دیا ہے ان یہودیوں کے بنائے ہوئے گیمز ہمارے مقدس مقامات اورمقدس چیزوں کی بے حرمتی کرکے ان ننھے بچوں کی غیر اخلاقی تربیت کر رہے ہیں اور مقدس چیزوں کی ہیبت اور عظمت کو ختم کیا جارہا ہے اور نہ صرف یہ بلکہ اس سے نکلنے والی شعائیں مرگی کے دورے کا موجب بنتی ہیں ، کثرت سے کھیلنے والے بچوں کے ہاتھوں میں ریشہ کی بیماری پیدا ہوتی ہے ، بچوں میں ہڈیوں عضلات کی بیماری پیدا ہوگئی ہے ، بچے نفسیاتی مریض ہوگئے ہیں ، مایوسی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے خطرناک گیمز کی بدولت کتنے بچے خودکشی کر چکے ہیں، بچوں میں چڑچڑا پن پیدا ہوا ہے طرح طرح کی منشیات کے استعمال اور جدید اسلحوں کی تعلیم نے بچوں میں جرائم کی شرح کو تیز کر دیا ہے نوجوان نسل Brain Tumer کا شکار ہے ، بے جاہروقت استعمال سے ٹریفک حادثات کی شرح بڑھ گئی ہے ، بیشک جدید سہولیات سے فائدہ اٹھانا بحیثیت امت مسلمہ ہمارے لیے بہت ضروری ہے کہ ہم اس سے اپنے دین کی تبلیغ میں بہترین کردار ادا کر سکیں لیکن اس سے قبل ہمیں ہمارے بچوں کی تربیت کرنی ہے تاکہ ہم چیزوں کے مثبت استعمال کے طریقے سیکھ سکیں اور بحیثیت ایک خاندان ہر ایک کو باور کرانا پڑے گا کہ ہم اب اتنے بھی کمزور نہیں کہ اپنی سوچ اور عمل بدل نہ سکیں۔

2۔گھر برکت کا گہوراہ کیسے بنائیں ؟

اس میں اللہ کے رسول ﷺکی چار نصیحتیں مدنظر رکھیں جو ہمارےگھر کو مثالی،برکت کا گہوارہ اور اپنا کھویا ہوا مقام واپس دلا سکتی ہیں اور یہ اصول بحیثیت شوہر بھی ہیں اور کچھ بحیثیت بیوی بھی ہیں ۔ اسلام صرف ایک سے تقاضا نہیں کرتا اسلام دونوں سے ان کے حقوق کا مطالبہ کرتاہے۔مرد کی ذمہ داری ہے کہ اکیلا جنت کے خواب نہ دیکھے خود نمازیں پڑھتا رہے ، بیوی بچوں کی پرواہ نہیں کہ ان کے شب وروز کہاں گزررہے ہیں ، اللہ کے رسولﷺ تہجد کیلئے اٹھتے تو بیوی کو بھی اُٹھاتے۔ قُوْمِي یَا عَائِشَة ! اے عائشہ! آپ بھی اٹھو اور تہجد ادا کرو۔ اللہ کے رسول شادی کے بعد بھی جاکر سیدہ فاطمہ اور سیدنا علی کو تہجد کیلئے اٹھایا کرتے ،شوہر کو چاہیے اپنی یہ ذمہ داری پوری کرے وہ قوام ہے اس کی ذمہ داری ہے ۔

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا﴾ (سورۃ التحریم :6)

’’اپنے آپ کو اور اہل وعیال کو جہنم کے عذاب سے بچاؤ۔‘‘

اس کے مقابلے میں بیوی کی ذمہ داری ہے کہ شوہر کی اطاعت کرے اور اس کے بچوں کی بہترین تربیت کرے۔

سیدہ عائشہ قریش کی عورتوں کی تعریف کرتے ہوئے فرماتی ہیں :

إحناء علی زوج أرعاه علی ولد

’’یہ ٹوٹ کر شوہر کا اہتمام کرتی ہیں، بچوں کی خوبصورت تربیت کرتی ہیں۔‘‘

مرد کی دوسری ذمہ داری ہے کہ اپنے بیوی بچوں پر اخراجات کرنے کو عبادت سمجھے لیکن وہ خرچ کیا ہوا مال شرط یہ ہے کہ حلال ہو ورنہ حرام کی خباثتیں ان کی زندگیوں کو آلودہ کر دیں گی اور یہ خرچ کرنا مرد کی ذمہ داری ہے۔

إِنَّكَ مَا أَطْعَمْتَ زَوْجَتَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ وَلَدَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ خَادِمَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ نَفْسَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ

’’جو حلال روزی تم بیوی کو کھلاؤ گے وہ تمہارے لیے صدقہ ہے جو حلال روزی تم اپنی اولاد کو کھلاؤ گے تمہارے لیے صدقہ ہے جو حلال روزی اپنے ماتحت لوگوں کو کھلاؤ گے تمہارے لیے صدقہ ہے جو اپنے آپ کو حلال روزی کھلاؤ گے تمہارے لیے صدقہ ہے۔‘‘ (المعجم الکبیر :734)

اس کے مقابلے میں عورت کو چاہیے کہ اپنے خاوند کی خدمت میں کمی نہ چھوڑے اپنے بچوں کی تربیت کی حفاظت کرے ، ان سے رحم کا معاملہ کرے ، ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں آپ نے پوچھا شوہر کی خدمت کرتی ہو ؟ کہا کبھی کمی نہیں کی حتی کہ عاجز آجاؤں، کہا اپنے خاوند کی خدمت کاخیال کرنا

فَإِنَّمَا هُوَ جَنَّتُكِ أَوْ نَارُكِ (مؤطا:952)

پس بیشک وہ تمہاری جنت ہے اور جہنم بھی۔

اور بیوی کو چاہیے کہ شوہر کے ساتھ بچوں کی صحت کا خیال کرے خواہ وہ جنسی صحت ہو ، ظاہری صحت ہو یا باطنی صحت ہو ان کے ساتھ رحم کا معاملہ رکھے۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا :

ہردرخت کا پھل ہوتاہے اور ہر دل کا پھل اولاد ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں کرتے جو اپنی اولاد پر رحم نہیں کرتا۔‘‘ (سنن ابن ماجہ )

خاوند کو چاہیےوسیع الظرف،برداشت اورحلم والاہو، اپنی بیوی اور اولاد کے معاملے میں برداشت کرے، رسول اللہﷺ کا اخلاق تو یہ تھاکہ گھر کے کام کاج بھی کرتے اس کو معیوب نہ سمجھتے،آپ کپڑے ٹانک لیتے،جوتا خود درست کر لیتے، دودھ نکال لیتے، ڈول کی رسی ٹھیک کرلیتے۔کمی کوتاہی ہو جائے بیوی سے تو برداشت کرے، نظرانداز کرے اور اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ فضا قائم کرے ان کی غلطیوں کو نظر انداز کرے۔اس کے مقابلے میں عورت کو چاہیے بصیرت کو اختیار کرے، تربیت میں بصیرت کوآگے رکھے۔

چوتھااور ٓاخری اصول جو مرد اور عورت دونوں سے مطلوب ہے کہ وہ تقوی اختیار کرنا ہے :

﴿وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ ﴾

’’تم سے پہلے جن کوہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب تم کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ اللہ سے ڈرتے رہو ۔‘‘ (سورۃ النساء:131)

اللہ کے رسول ﷺ اور آپ کا تقویٰ خود ایسا تھا کہ آپ کو خود بھی جوابدہی کا ڈر تھا تو ایک شوہر اور بیوی کو اپنی جوابدہی کا اپنے خاندان کی جوابدہی کا کتنا ڈر ہونا چاہیے آخرت کیلئے ان کو کتنا تيار ہونا چاہیے اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں :

اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم کہ آخرت کے روز میرے تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔(صحیح بخاری)

اور سیدنا ابو بکر کے خوف کا عالم یہ تھا ، کہتے ہیں اے کاش ! میں درخت ہوتا کہ مجھے جانور کھاتے اور کاٹ دیاجاتا۔

چڑیوں کو دیکھ کر کہتے : اے پرندوں! تمہیں مبارک ہو کہ جہاں چاہتے ہو چنتےہو جس درخت کے سائے میں چاہتے ہو بیٹھے رہتے ہو اور قیامت میں تم سے کوئی حساب ہوگا نہ کتاب، کاش سیدنا ابو بکر بھی تمہاری طرح ہی ہوتا۔

تقویٰ کا وہ معیار ہے جوہم سے مطلوب ہے آپ کسی بھی درجے پر ہیں ایک شوہر یا ایک بیوی ،آپ بیٹے ہیں یا بیٹی ،آپ ساس ہیں یا بہو آپ خاندان کا جو بھی رکن ہیں اعتدال کی راہوں کو اپنائیں مثبت انداز اختیار کریں ، چیزوں اور ایجادات کے استعمال کا صحیح طریقہ سیکھیں ۔ اس کے منفی پہلو سے خود کو بچا کر رکھیں ۔

دعاؤں سے علاج کریں

ہدایت تقویٰ پاکدامنی کیلئے رب کے حضور یہ دعا کریں ۔

اَللهم إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى (صحیح مسلم:2721)

اے اللہ! بیشک میں تجھ سے ہدایت،تقویٰ، پاکدامنی اور بے نیازی کا سوال کرتاہوں ۔‘‘

اپنے آپ کو گناہوں کی آلودگی سے بچانے کیلئے دعا کریں ۔

اَللهم أَلْبِسْنَا لِبَاسَ التَّقْوَى، وَأَلْزِمْنَا كَلِمَةَ التَّقْوَى، وَاجْعَلْنَا مِنْ أُولِي النُّهَى، وَأَمِتْنَا حِينَ تَرْضَى، وَأَدْخِلْنَا جَنَّةَ الْمَأْوَى، وَاجْعَلْنَا مِمَّنْ بَرَّ وَاتَّقَى، وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى، وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى، وَاجْعَلْنَا مِمَّنْ تُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى، وَتُجَنِّبُهُ الْعُسْرَى، وَاجْعَلْنَا مِمَّنْ يَتَذَكَّرُ فَتَنْفَعُهُ الذِّكْرَى، اللهم اجْعَلْ سَعْيَنَا مَشْكُورًا، وَذَنْبَنَا مَغْفُورًا، وَلَقِّنَّا نَضْرَةً وَسُرُورًا، وَاكْسُنَا سُنْدُسًا وَحَرِيرًا، وَاجْعَلْ لَنَا أَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤٍ، وَحَرِيرًا

’’اے اللہ! ہمیں تقویٰ کا لباس پہنا اور ہمیں تقویٰ والی بات پر قائم فرما، ہمیں عقل والوں میں شامل فرما، موت دے ہم کو جب تو(ہم سے )راضی ہوجائے، ہمیں جنت مأوی میں داخل فرما، متقی لوگوں میں شامل فرما، نیکی کرنے والوں ، بھلائی کی تصدیق کرنے والوں اور اپنے نفس کو خواہشات کی پیروی سے باز رکھنے والوں میں سے بنا، ہمیں ان میں سے بنا جن کیلئے تو آسانی مہیا کرتاہے اور جنہیں مشکل سے دور رکھتا ہے ہمیں ان میں سے بنا، جنہیں نصیحت فائدہ دے ، اے اللہ! ہماری کوشش کی قدر دانی فرما، ہمارے گناہ بخش دے ہمیں تازگی اور خوشی عطا فرما، ہمیں سندس اور ریشم کا لباس پہنا ، ہمیں سونے موتی اور ریشم کے کنگن دینا ۔‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ)

بیویوں اور اولادوں سے ٹھنڈک کا دامن چاہیے تو یہ دعا کریں :

﴿ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا﴾

’’اے ہمارے رب ! ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنادے۔‘‘ (سورۃ الفرقان :74)

اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ پہلے لکھنے والے پھر باقی سب لوگوں کو حقیقتاً اپنی اصلاح کی توفیق دے اور جس طرح ہماری جلوتیں نیک ہیں ہماری خلوتیں اس سے زیادہ صاف وپاک ہوں۔ آمین یا رب العالمین

قارئین کرام ! کیا خیال ہے کہ اگر آپ اپنے گھر میں پانچ سال کے بچے کو سگریٹ ہاتھ میں لیئے کش لگاتا ہوا دیکھیں تو آپ کا رد عمل کیا ہوگا؟ اور اگر اس سے زیادہ خطرناک مثال دی جائے تو یہ کہ اگر آپ اسی پانچ سال کے بچے کو گھر میں شراب کی بوتل ہاتھ میں پکڑا ادھر اُدھر گھومتا پھرتا دیکھیں تو آپ کا رد عمل کیا ہوگا؟ یقیناً آپ ڈر جائیں گے، لیکن یقین جانیئے ، اسی سے ملتی جلتی بلکہ اس سے زیادہ مضر اشیاء ہم اپنے بچوں کو بلا تردد دیئے جارہے ہیں ایک ریسرچ کے مطابق موبائل فون بچوں کے دماغوں میں وہی ہارمونزتخلیق کرتاہے جو سگریٹ اور شراب جیسی اشیا پیدا کرتی ہیں اور اب تو مغرب میں بھی یہ سوال اٹھایا جا رہاہے کہ اگر سگریٹ اور شراب پر 18 سال کی عمر کی قید ہے تو موبائل فون پر کیوں نہیں ہے؟ جبکہ ان تمام چیزوں کے نقصانات برابر ہیں۔ ایک ریسرچ کی گئی کہ ایک عام شرابی اور ایک پکے اور عادی شرابی میں کیا فرق ہے ، تو جو ایک فرق انہیں سب سے زیادہ نظر آیا وہ یہ تھا کہ پکا شرابی جب صبح اٹھتاہے تو اسے سب سے پہلے شراب کی طلب ہوتی ہے، اب آپ پوری ایمانداری کے ساتھ بتائیں کہ آپ صبح اٹھنے کے بعد پہلے 15 منٹ میں کیا کرتے ہیں؟ ایک ریسرچ کے مطابق 95 فیصد لوگ صبح اٹھنے کے بعد 15 منٹ میں اپنے موبائل فونز کو چیک کرتے ہیں جس پر ان کا واٹس اپ ، سوشل میڈیا فیڈز اور دوسری چیزیں شامل ہیں۔ ایک اور ریسرچ کے مطابق ایک درمیانی عمر کا نوجوان یعنی کہ 12 سے 19 سال کی عمر کے درمیان وہ اپنے دن کا چھ سے نو گھنٹے روزانہ موبائل فون پر گیمز اور ویڈیوز دیکھ کر صرف کرتا ہے یعنی کہ ایک نوجوان جتنا سوتا نہیں ہے اس سے کہیں زیادہ وقت وہ موبائل پر صرف کر رہا ہے ۔ ایک اور سروے کے مطابق جس میں تقریباً پانچ ، ساڑھے پانچ ہزار افراد سے یہ سوال پوچھا گیا کہ پچھلے ایک ہفتے میں آپ نے موبائل فون کہاں استعمال کیا یعنی کس جگہ استعمال کیا؟

جواباً 46 فیصد لوگوں نے یہ بتایا کہ ہم نے بستر پر لیٹے ہوئے اپنا موبائل فون استعمال کیا مگر اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ بعض لوگوں نےبتایا کہ انہوں نے اپنا موبائل فون باتھ روم میں استعمال کیا اور ان لوگوں کی تعداد 32 فیصد تھی۔ یہ بات آپ کو حیران کن ضرور لگ رہی ہوگی لیکن آپ غور کریں کہ آپ دن میں کتنی بار اپنا موبائل اٹھاتے ہیں ۔ ایک عام آدمی عمومی طور پر دن میں 250 مرتبہ اپنا موبائل فون چیک کررہا ہے ۔ ہم اپنے گھر والوں کے ساتھ کھانا کھارہے ہوں گے مگر ہم ان کے ساتھ نہیں ہوتے، ہم اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کچھ کام کر رہے ہوں گے مگر ہمارا دماغ ہماری سوشل میڈیا فیڈز پر ہوگا ، ہمارا جسم تووہاں ہےمگر ہمارا دماغ کہیں اور ہو گا۔ تو اب اس بات کو قبول کرنا مشکل نہیں ہے کہ موبائل سے جتنا ایک عام آدمی فائدہ اٹھارہاہے اس سے کہیں زیادہ نقصان اٹھارہا ہے لیکن ہمیں اس بَلا سے کیسے لڑنا ہے اور اس حل کو سب سے پہلے اپنے اوپر لاگو کریں ۔ اپنے آپ سے شروع کریں اور اگر آپ کو اس جنگ میں فتوحات حاصل ہوجائیں تو آپ خود دوسروں کے سامنے ایک مثال بن کر آسکیں گے۔

1۔ صبح اٹھ کر اپنے اوپر ایک پابندی لگائیں کہ آپ ایک یا دو گھنٹے تک موبائل فون استعمال نہیں کریں گے۔

2۔ رات سونے سے پہلے اس چیز کو یقینی بنائیں کہ آپ کا موبائل فون آپ کے پاس نہ ہو ،اپنے ہاتھوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔

3۔رات 8 سے لیکر صبح آٹھ تک اپنے موبائل ڈیٹا پر کرفیو لگادیں۔

4۔ ہفتہ یا اتوار میں سے کوئی ایک دن اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی ایک دن بغیر موبائل فون کے گزاریں یقین جانیئے کوئی قیامت بپا نہیں ہوگی۔

اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی ایک دعا ہے کہ

اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا (صحیح مسلم:2722)

’’اے اللہ میں تجھ سے ایسے علم سے پناہ مانگتا ہوں جو نفع دینے والا نہ ہو اور ایسے دل سے جو ڈرنے والا نہ ہو اور ایسے نفس سے جو سیر ہونے والا نہ ہو اور ایسی دعا سے جو قبول ہونے والی نہ ہو۔‘‘

صبح سے رات تک تمام پیغامات کا جائزہ لیں اور سوچیں کہ آپ نے جو پیغامات موصول کیئے یا بھیجے ان سے آپ کو کتنا فائدہ حاصل ہوا ۔

یقین جانیئے 95 فیصد جو آپ نے آگے بھیجا یا موصول کیا وہ بے فائدہ چیزیں تھیں، اور اسی لیے روزانہ اپنی دعاؤں میں اس دعا کو شامل کریں کہ

اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا (صحیح مسلم:2722)

آج کل ہم سب تیز انٹرنیٹ کی تلاش میں ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمیں فاسٹ انٹرنیٹ کی نہیں، انٹرنیٹ فاسٹ کی ضرورت ہے یعنی انٹرنیٹ کے روزے۔اللہ تعالیٰ ہمارا حامی وناصر ہو ۔ آمین

٭٭٭

آب چشم سے لکھنے کے قابل

علامہ محمد بن سيرين ﷫ نے فرمایا :

’’کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہوں علم حاصل کرنا اور علماء کی مجلسوں میں بیٹھنا ترک کیا اور عبادات میں خود کو مصروف رکھا۔

وہ اس قدر عبادات میں مصروف رہے کہ ان کی کھالیں خشک ہوگئیں پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ انہوں نے سنت کی خلاف ورزی کی اور مسلمانوں کا خون بہانا شروع کردیا۔

مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی الہ نہیں. جس نے بھی علم کے بغیر کوئی عمل کیا تو اس کے عمل میں فساد کا عنصر اصلاح سے زیادہ ہوگا۔‘‘

(الاستذكار از ابن عبد البر : 8؍616)

٭٭٭

علامہ حافظ ابن قيم ﷫ نے فرمایا :

جو خود کو ویسا ڈھال دے جیسا اللہ تعالی چاہتا ہے تو اللہ تعالی ویسا کرے گا جیسا وہ چاہتا ہے۔

اور جو اللہ کی مشیت اور ارادے کے مطابق عمل کرے گا تو اس کے لئے لوہا موم ہوجائے گا۔

اور جس نے اس کے لئے حرام چیزوں کو ترک کرے گا تو اللہ تعالی اسے اس کی توقع سے کہیں زیادہ عطا کرے گا۔

(طريق الہجرتين: 1؍25)

٭٭٭

تبصرہ کریں