مرزا محمد علی جہلمی کے عقائد ونظریات پر مستند علماء کا فتویٰ۔ لجنہ علماء

 

سوال:عصرِ حاضر میں سوشل میڈیا اورانٹرنیٹ پر ایک شخص ’مرزا محمد علی جہلمی‘ کے نام سے معروف ہے، صحابہ کرام ، ائمہ دین اور دیگر مسلمہ عقائد سے متعلق اسکے کئی ایک بیانات اور ویڈیوز مشہور ہیں، کئی ایک علما کا خیال ہے کہ ایسے شخص کو نظر انداز کرنا چاہیے، اور یہ فتنہ مرورِ زمانہ کے ساتھ خود بخود ختم ہوجائے گا، لیکن بہت سارے علما کا یہ خیال ہے کہ چونکہ عوام کا مطالبہ ہے کہ اس شخص کی اصلیت واضح کی جائے، اس لیے اس کے عقائد ونظریات کو سامنےرکھتے ہوئے، اس کے متعلق ایک متفقہ بیان جاری ہونا چاہیے۔

ذیل میں ہم مرزا مذکور کے کچھ بیانات ونظریات ذکر کرتے ہیں، تاکہ علمائے کرام ومفتیانِ عظام ان کو سامنے رکھتے ہوئے، اس کے متعلق رہنمائی کرسکیں۔

صحابہ کرام کی توہین

 سقیفہ بنی ساعدہ میں سیدنا ابو بکر کا انتخاب بہت بڑی غلطی تھی، جس کی وجہ سے امت کی بربادی اور خون ریزی ہوئی۔اگر ابو بکر آج زندہ ہوں تو خود اس انتخاب پر خون کے آنسو روئیں۔

 اسلام کی اصل سیاسی روح کے مطابق خلافت صرف سیدنا علی کی ہے۔

 سب صحابہ کرام سے اللہ راضی نہیں ہوا۔ اللہ کی رضامندی کا سرٹیفکیٹ صرف بیعتِ رضوان والے 1400 صحابہ کرام کے لیے ہے۔سب صحابہ سے اللہ کو راضی سمجھنا قرآن کی معنوی تحریف ہے۔

 سب صحابہ جنتی نہیں۔سورۃ الحدید،آیت 10میں وکلا وعد اللہ الحسنٰی (اللہ نے سب صحابہ سے جنت کا وعدہ کیا ہے)کا معنی یہ ہے کہ (اپنے اعمال کی سزا بھگت کر)آخر کار صحابہ جنت میں چلے جائیں گے۔

 فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کرنے والے صحابہ کرام نے موت کے ڈر سے کلمہ پڑھا تھا۔

 آج موبائل سے دیکھ کر قرآن پڑھنے والے کو زبانی قرآن پڑھنے والے صحابہ کرام سے زیادہ ثواب ملتا ہے۔

 نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد بہت سے صحابہ مرتد ہو گئے تھے، حوضِ کوثر سے روکے جانے والے وہی ہوں گے، جو نبی کریم ﷺ کی زندگی میں صحابی تھے۔

 وفات کے وقت نبی کریم ﷺ کچھ صحابہ کرام سے ناراض تھے اور ناراضی کی حالت میں ہی فوت ہوئے۔

 سیدنا علی سے اختلاف کرنے والے صحابہ کے بارے میں دِل صاف نہیں ہے، ان کے بارے میں دل میں رنج ہے۔

  (جنگ ِ جمل وصفین میں صحابہ کرام کے باہمی اختلاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) جنہوں نے حضرت علی جو واقعی امام بھی تھے اور خلیفہ راشد بھی تھے،ان کی بیعت نہیں کی، وہ واقعی جاہلیت کی موت مرے۔

 نبی کریم ﷺ نے ایک دعوت کھڑی کی، کتنا آپ نے تزکیہ کیا، لیکن تیس سال بعد جب اس دعوت میں دراڑیں پڑی ہیں، وہ کس بنیاد پر پڑی ہیں؟ مال کے فتنے کی وجہ سے۔( یعنی صحابہ کرام کا باہمی اختلاف مال کی بنا پر تھا، اجتہادی نہ تھا)

 صحیح مسلم میں 12 منافقین کا ذکر ہے، جن میں سے 8 منافقین کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ دُبَیلہ پھوڑے سے مَریں گے، آپ نے تاثر یہ دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ آٹھوں یا اُن میں سے کچھ وہ ہیں، جنہیں اہلِ سنت صحابہ کہتے ہیں۔

 سیدنا موسیٰ کے ساتھ سب سے بڑے معاون ہارون تھے،نبی کریم ﷺ کے ساتھ اس لیول کے معاون نہ سیدنا ابو بکر تھے، نہ سیدنا عمر ، بل کہ صرف سیدنا علی تھے۔

 روحانی طور پر سیدنا علی پہلے خلیفہ ہیں، جب کہ سیاسی طور پر سیدنا ابو بکر صدیق پہلے خلیفہ ہیں۔

 نبی ﷺ نے اپنے بعد حقِ ولایت سیدنا علی کو دے دیا تھا۔

 سیدنا عثمان کے خلاف بغاوت کرنے والوں کا موقف بالکل درست تھا، سیدنا عثمان کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے صحابہ کرام نے ان کا گھیراؤ کیا اور شہید کیا۔

 سیدنا عثمان نے نظامِ خلافت کو چلانے میں بہت سی غلطیاں کیں، جن کی وجہ سے لوگ ان کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ۔

 سیدنا خالد بن ولید کو نبی نے صحابیت سے نکال دیا۔

 صحابہ پر لعنت کرنا معاویہ کا جاری کردہ طریقہ ہے، میں اسے بدعت کہنے میں بھی عار محسوس نہیں کرتا۔

 معاویہ اہلِ بیت پر لعنت کرتے اور کرواتے تھے۔

 سیدنا معاویہ، سیدنا مغیرہ بن شعبہ، سیدنا عمرو بن عاص نے ’’امت نال کم پایا اے‘‘ (یعنی انہوں نے پوری امت کو بہت بڑا دھوکا دیا ہے)۔

 کتابتِ وحی کوئی فضیلت نہیں، سیدنا معاویہ سفارشی بھرتی ہوئے۔

 میں حضرت معاویہ کے نام کے ساتھ ” “کہتا ہوں تو یہ نہ سمجھا جائے کہ اللہ ان پر راضی ہو چکا ہے۔

 اہلِ سنت کی طرف سے سیدنا معاویہ کا دفاع اور سیدنا علی کی محبت ،یہ آگ اور پانی ہیں، ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔

 سیدنا معاویہ بہت سے معاملات میں جان بوجھ کر سنت کی مخالفت کرتے اور کرواتے تھے، لوگ ان سے ڈر کر بھی سنت کی مخالفت کرتے تھے۔

ائمہ دین واہل سنت سے دشمنی

 امام ترمذی ناصبیت اور فرقہ واریت کی بیماری میں مبتلا تھے اور تابعی امام ابراہیم نخعی کے دل میں بنو امیہ نے بغضِ اہلِ بیت بھر دیا تھا۔

 محمد بن قاسم ہندوستان میں اسلام کے غلبے کے لیے نہیں، بلکہ اہل بیت کے افراد پر ظلم ڈھانے آیا تھا۔

 امام بخاری﷫ حدیث گول کر گئے۔۔۔ بنو امیہ سے ڈرتے تھے۔۔۔لیکن حدیثیں چھپ تو نہیں سکتی تھیں، بعد والوں نے پوری بیان کر دی۔۔۔

 جو ائمہ مشاجراتِ صحابہ کے بیان سے روکتے ہیں، ان کے ختنے چیک کرنے چاہییں،کہ وہ مسلمان بھی ہیں یا نہیں؟

 گستاخِ رسول کی سزا قتل نہیں۔ ابنِ تیمیہ نے شاتمِ رسول کی سزا کے قتل ہونے پر جو کتاب (الصارم المسلول)لکھی ہے، آج اگر وہ زندہ ہوتے تو اس کتاب کی وجہ سے میں ان پر انٹرنیشنل عدالت میں مقدمہ کرتا۔

 لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِیْ اور وَکَانَ یَکْتُب الْوَحی ۔۔۔اتنی حدیث بیان کرنے والے علمائے اہل سنت (دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث سب ) علمی خائن، چور، یہودی کردار والے ہیں۔

قادیانیت وغامدیت نوازی

 قادیانی اہل کتاب سے بہتر ہیں۔

 مرزا غلام احمد قادیانی نے صراحتا کہیں بھی دعوی نبوت نہیں کیا۔

 غامدی صاحب حق گو عالم دین ہیں۔

 موسیقی، سود،گستاخِ رسول کی سزا وغیرہ میں غامدی صاحب کو سنیں۔

 غیر نبی کا مباہلہ کرنا دعوی نبوت کے مترادف ہے، مباہلہ صرف نبی ہی کر سکتا ہے۔

رافضیت نوازی

سب صحابہ کرام کے بارے میں عموما اور بعض صحابہ کرام کے بارے میں خصوصا ان کے نظریات روافض سے مستعار تو ہیں ہی، جیسا کہ شروع میں بیان ہو چکا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ درج ِ ذیل معاملات میں بھی رافضیت نوازی سے خوب کام لیا ہے:

 وقتِ افطار کے بارے میں روافض کا موقف درست ہے، چوبیس منٹ تک تاخیر بالکل درست اور ناقابل قدغن ہے۔

 روافض مٹی کی ٹھیکری پر سجدہ کرتے ہیں،یہ عمل سنت کے زیادہ مطابق ہے۔

 نہج البلاغہ میں اہل سنت کی کتبِ حدیث (بشمول صحیح بخاری )سے بھی بڑھ کر توحید بیان ہوئی ہے۔

نوٹ:یہ سب عقائدونظریات مرزا صاحب کی ویڈیوز اور تحریرات سے لیے گئے ہیں، اوران میں کوئی بھی بات سیاق وسباق سے ہٹاکر بیان نہیں کی گئی، یہ سب اور مزید باتیں مرزا صاحب کی اپنی زبان سے سننے کے لیے درج ذیل لنک کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے:

https://youtu.be/p7zCiLrnHsY

مستفتی: (ڈاکٹر) حافظ ابو یحیی نور پوری ()

جواب: الحمدلله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!

مذکورہ عقائد ونظریات رکھنے والا شخص ایک بدعتی اور گمراہ انسان ہے، اس کا اہل سنت واہلِ حدیث، اور منہجِ سلف سے کوئی تعلق نہیں ۔

اس شخص نے کئی ایک صحابہ کے نام لیکر مثلا: سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا معاویہ، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر، سیدہ عائشہ، سیدنا مغیرہ بن شعبہ، سیدنا ابو موسی اشعری، سیدنا عمرو بن عاص پر تنقید کی ہے، اور کئی ایک صحابہ کرام کی عدالت وصداقت کومشکوک قرار دینے کی سعی لاحاصل کی ہے۔ صحابہ کرام کے متعلق یوں دیدہ دلیری سے گفتگو کرنا رافضیوں کا منہج ہے، اہل سنت اور اہل حدیث کا طریقہ نہیں ہے۔

صحابہ کرام وہ ہستیاں ہیں،جن کے حق میں گواہی قرآنِ کریم میں موجود ہے، ارشادِ باری ہے:

﴿أُولَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾ (المجادلہ: 22)

’’اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کے دلوں میں ایمان ثبت کردیا ہے، اور ان کی خاص تائید کی ہے، اور اللہ تعالی انہیں جنت میں داخل فرمائے گا، اللہ ان سے راضی ہوگیا ہے، وہ اللہ سے راضی ہیں، جان لو یہی اللہ کی جماعت ہے، اور یہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘

نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کی شان وعظمت کو یوں بیان فرمایا:

«لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ» (صحیح بخاری:3673 ، صحیح مسلم:2540)

’’میرے صحابہ کرام کو برا بھلا نہ کہو، اللہ کی قسم ! اگر تم احد پہاڑ برابر سونا بھی خرچ کرو، تو ان کے ایک مُد بلکہ آدھے مد کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتے۔‘‘

سورہ فتح کے آخر میں نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کی فضیلت بیان کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ﴾

’’تاکہ اللہ تعالی ان صحابہ کی وجہ سے کافروں کو غیظ وغضب دلائے۔‘‘ (سورۃ الفتح: 29)

امام مالک ﷫ فرماتے ہیں:

“من أصبح من الناس في قلبه غيظ على أحد من أصحاب رسول الله، فقد أصابته هذه الآية.” [تفسير القرطبي:16/297]

’’جس شخص کے دل میں صحابہ میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی کینہ وبغض ہے، وہ اس آیت کا مصداق ہے۔‘‘

گویا ناقدینِ صحابہ کافروں کے ہمنوا ہیں ۔

امام قرطبی﷫ اس کی توجیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: کیونکہ یہ لوگ در حقیقت اللہ رب العالمین کی تردید ، اور قرآن و حدیث دونوں کے انکار میں مبتلا ہیں۔ (حوالہ سابقہ)

امام احمد ﷫ فرماتے ہیں:

“إذا رأيت رجلاً يذكر أحداً من الصحابة بسوء فاتهمه على الإسلام.”

’’جو صحابہ کرام کی برائیاں کرے، اس کا اسلام ہی مشکوک ہے۔‘‘ (البداية والنهاية:8/142)

امام ابو زرعہ رازی ﷫ فرماتے ہیں:

“إذا رأيت الرجل ينتقص أحداً من أصحاب رسول الله ﷺ فاعلم أنه زنديق، وذلك أن الرسول ﷺ عندنا حق، والقرآن حق، وإنما أدى إلينا هذا القرآن والسنة أصحاب رسول الله ﷺ وإنما يريدون أن يجرحوا شهودنا ليبطلوا الكتاب والسنة، والجرح بهم أولى، وهم زنادقة.” (الكفاية للخطيب:97)

’’اگر آپ کسی آدمی کو دیکھیں کہ وہ صحابہ کرام میں سے کسی کی تنقیص اور خامیاں بیان کر رہا ہے، تو جان لو کہ یہ شخص زندیق (بے دین) ہے، کیونکہ ہمارے لیے قرآن وسنت پر ایمان لانا ضروری ہے، اور ان دونوں کو ہم تک نقل کرنے والے یہی صحابہ کرام ہیں، ان پر تنقید کرنے والے در اصل کتاب وسنت کو باطل ٹھہرانا چاہتے ہیں، حالانکہ یہ گستاخانِ صحابہ خود مجروح وناقابل اعتبار ہیں، کیونکہ یہ بے دین اور زندیق ہیں۔‘‘

امام طحاوی ﷫ صحابہ کرام سے متعلق مسلمانوں کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:

“ونحب أصحاب رسول الله ﷺ، ولا نفرط في حب أحد منهم ، ولا نتبرأ من أحد منهم ، ونبغض من يبغضهم، وبغير الخير يذكرهم، ولا نذكرهم إلا بخير، وحبهم دين وإيمان وإحسان، وبغضهم كفر ونفاق وطغيان.” (العقيدة الطحاوية: 57)

’’ہم رسول اللہ ﷺ کے اصحاب سے محبت رکھتے ہیں، نہ کسی کی محبت میں غلو کرتے ہیں، اور نہ ہی کسی صحابی سے براءت کا اظہار کرتے ہیں، جو ان سے بغض رکھتا ہے، یا ان کی برائیاں کرتا ہے، ہم اس سے بغض رکھتے ہیں، ہم صحابہ کی صرف اچھائیاں بیان کرتے ہیں، اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان سے محبت دین، ایمان اور احسان ہے، اور ان سے بغض رکھنا، کفر، نفاق اور سرکشی ہے۔‘‘

اسلافِ امت اور ائمہ دین جیسا کہ امام محمد بن سیرین تابعی، امام ابراہیم نخعی تابعی، امام بخاری، امام ترمذی اور امام ابن تیمیہ﷭کے متعلق اس کے تبصروں سے واضح ہوتا ہے کہ یہ صحابہ کرام کے ساتھ ساتھ علما اور محدثین کا بھی گستاخ ہے، جو کہ اس کے گمراہ ہونے کی ایک واضح اور آسان فہم علامت ہے۔

علما کی شان وعظمت کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے اور فرشتوں کے ساتھ بطور گواہ کے ذکر کیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ﴾ (سورة آل عمران: 18)

’’اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور اہل علم نے یہ گواہی دی ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے۔‘‘

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ»

’’علماء انبیاء کے وارث ہیں۔‘‘ (سنن أبی داؤد:3641)

امام طحاوی ﷫ لکھتے ہیں:

“علماء السلف من السابقين ومن بعدهم من التابعين أهل الخير والأثر وأهل الفقه والنظر لا يذكرون إلا بالجميل ومن ذكرهم بسوء فهو على غير السبيل.”

’’اہلِ سنت والجماعت کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اسلافِ امت كو اچھے طریقے سے یاد کرتے ہیں، اور جو شخص ان کی برائی کرتا ہے، وہ سیدھے راستے سے ہٹا ہوا ہے۔‘‘ (العقيدة الطحاوية:57)

حقیقت یہ ہے کہ جس نے بھی کوئی بڑا مذہبی فتنہ یا فکری فساد برپا کیا، اس نے سب سے پہلے عوام کو علماء سے بد ظن کیا ،کیوں کہ اس کو معلوم تھا کہ میری رائے کی اس وقت تک کوئی اہمیت نہ بن پائے گی جب تک لوگ اہل علم کی طرف رجوع، یا انہیں سننے پر آمادہ رہیں گے۔ مرزا مذکور نے بھی اپنے پیروکاروں کو علماء سے اس قدر بد ظن کر نے کی کوشش کی، تاکہ وہ اہل علم کی بات سننے کو ہی تیار نہ ہوں، اور اندھی تقلید میں پڑے رہیں، اور اسی پر خوش ہو کر اسے ’علمی کتابی‘ سمجھتے رہیں۔

اس کی طرف سے قادیانیت ورافضیت جیسے منحرف گروہوں کی تائید ، اور ان کی طرف سے اس کی تحسین وحوصلہ افزائی بھی اس کی حقیقت کو واضح کرتی ہے۔

اس شخص کے بیانات اورتحریرات سے یہ بات نمایاں ہوتی ہے کہ یہ قرآن و حدیث سے اس قدر جاہل ہے کہ اوپر سے دیکھ کر صحیح عبارت نہیں پڑھ سکتا، اور دیگر دینی علوم وفنون سے بھی بالکل نابلد ہے، صرف معمولی چرب زبانی اور طلاقتِ لسانی کی بنیاد پر انٹرنیٹ کی آڑ لیکر کچھ لوگوں کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوا ہے، ورنہ علم وتحقیق کے میدان میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ علما کی بجائے ایسے جہلا کو پیشوا سمجھنا، قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

«إِنَّ اللهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَتْرُكْ عَالِمًا، اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا» (صحيح بخاری: 100،صحیح مسلم:2673)

’’اللہ تعالیٰ اس طرح علم نہ اٹھائےگا کہ لوگوں کے دلوں سے چھین لے،بلکہ علماکواٹھا ئے گا،یہاں تک کہ جب کوئی عالم نہ رہےگا، تولوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنالیں گے،جن سے لوگ سوال کریں گے، اور وہ بغير علم جواب دیں گے، یوں خود بھی گمراہ ہونگے اور دوسروں کوبھی گمراہ کریں گے۔‘‘

نادانی کی انتہا تو یہ ہے کہ یہ لوگ صحابہ کرام پر تنقید کو جائز سمجھتے اور کرتے ہیں، لیکن اپنے نام نہاد علمی کتابی امام کو معصوم کے درجے پر فائز کر رکھا ہے۔ اس کے پیروکار اس کے لیے وہ سب کچھ کرتے ہیں جو کسی جھوٹے پیر کے مرید اس کے لیے کرتے ہیں، لیکن کمال یہ ہے کہ اس نام نہاد امام نے اپنے مریدوں کو یہ یقین دلا رکھا ہے کہ اسلام میں پیری مریدی اور بابوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

اس بدعتی، گستاخانِ صحابہ اور دشمنِ علمائے امت کو سننا، اور اس کی تشہیر وترویج کرنا، قطعا نادرست ہے۔ اللہ تعالی نے قرآنِ کریم میں پاکباز خواتین پر تہمت طرازی کرنے والوں کی گواہی کو مردود قرار دیا ہے۔ (سورہ نور:4) ، تو صحابہ کرام ، سلفِ امت پر زبان درازی کرنے والا کیونکر قابلِ التفات ہوسکتا ہے۔

لہٰذا ہر مخلص مسلمان ، محبِ صحابہ، سچے سنی، اور اہل حدیث کو ایسے فسادی شخص سے براءت ونفرت کا اظہار کرنا چاہیے۔

ملک کے متعلقہ اداروں اور اربابِ اقتدار کو اس شخص کے بیانات وتقاریر پر پابندی عائد کرنی چاہیے، تاکہ مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے اور دینی تعلیمات کے ساتھ کھلواڑ کا یہ سلسلہ بند ہو۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

مفتیانِ کرام

فضیلۃ الشیخ ابو محمد عبد الستار حماد ﷾

فضیلۃ الشیخ عبد الحلیم بلال ﷾

فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی ﷾

فضیلۃ الدکتور عبد الرحمن یوسف مدنی ﷾

فضیلۃ الشیخ سعید مجتبی سعیدی ﷾

فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر ﷾

فضیلۃ الشیخ عبد الرؤف بن عبد الحنان ﷾

نوٹ: مزید علمائے کرام کے اسمائے گرامی، اس فتوی کے اگلے ایڈیشن میں شامل کیے جائیں گے، جو ہم ایک کتابچہ کی شکل میں نشر کریں گے، اس میں قدرے تفصیلی فتاوی جات اور موضوع سے متعلق تحاریر ہوں گی۔ ان شاءاللہ۔

تبصرہ کریں