ملت کا ایک گمنام مردِ مجاہد!۔ محمد حفیظ اللہ خان المدنی

ہر ملک و قوم میں ہمیشہ کچھ ایسے افراد پیدا ہوتے رہے ہیں جن کی ملک و ملت کی خاطر کی جانے والی دینی رفاہی اور ملی بے لوث خدمات بہت کم منظر عام پر آتی ہیں۔چونکہ وہ اپنی خدمات کے عوض لوگوں سے شہرت ، تعریف ، نام و نمود اور تمغوں کے طلب گار نہیں ہوا کرتے ، محض بے لوث خدمت گزاری ان کے پیش نظر ہوتی ہے ۔ ایسے لوگ ملک و ملت کے گمنام ہیرو کہلائے جاتے ہیں ۔تعلیم و تربیت کے شعبے ہوں یا کھیل کے میدان ، طب و سائنس کی رہگذاریوں ہوں یا کوئی اور شعبہ، وہ چپ سادھے مال و زر کی لالچ کے بغیر اپنی خدمات انجام دیتے رہتے ہیں۔

برطانوی عوام کی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ ایسے افراد کو تلاش کر کے انہیں Unsung Hero کے طور پر عزت و شرف سے نوازتے ہیں۔ ہر دور میں ایسے افراد ملت اسلامیہ میں بھی پیدا ہوتے رہے ہیں مگر ہم اب تک اتنے وسیع الظرف نہ ہو سکے کہ ایسی شخصیات کو ان کی دینی و ملی خدمات پر عزت وشرف سے نواز سکیں ۔ انہی شخصیات میں ایک شخصیت ایسی بھی ہے جن کا تعلق یورپ اور امریکہ سے نہیں بلکہ دور افریقی جنگلات کے درمیان آباد ایک چھوٹے سے غریب مسلمان ملک گامبیا سے ہے ، جن کا نام نامی ابوبکر تمباڈو ہے ، عہدے کے اعتبار سے یہ اس ملک کے وزیر قانون ہیں ۔ اگر ہم ان کو Unsung Heroکی فہرست میں شامل کر رہے ہیں تو اس کی وجہ ان کا وہ عظیم کارنامہ ہے جس کے ذریعہ انہوں نے موجودہ دور کے مظلوم ترین ان برماوی مسلمانوں میں برما کی حکومت کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ دائر کر کے جینے کی امنگ پیدا کر دی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت روئے زمین پر فقط برماوی مسلمان ہیں کہ جن کا اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے علاوہ کوئی سہارا نہیں ۔ برما کی حکومت گزشتہ کئی سالوں سے ان مسلمانوں کی نسل کشی کے جرائم میں ملوث چلی آ رہی ہے ، ان کو اپنے گھروں ، جائیداد ، تجارت اور اموال سے محروم کر کے ملک سے دربدر کیا جاتا رہا ہے۔ ان کو نقل مکانی پر مجبور کرتے ہوئے ہزاروں مسلمان بچوں ، بوڑھوں کو انتہائی بربیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے موت کے گھاٹ اتارا جاتا رہا ہے۔ ماؤں کی ممتا تڑپتی رہی ، بلکتی رہی مگر ظالم ان کے معصوم بچوں کو ان کی نگاہوں کے سامنے بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈالتے رہے ۔ عفت مآب مسلمان لڑکیوں اور خواتین کی عزتوں کو ان کے اہل خانہ کے سامنے تار تار کیا جاتا رہا۔

موجودہ ترقی یافتہ دور میں دن دھاڑے درندگی کا یہ کھیل کھیلا جا تا رہا۔ اراکان جلتا رہا ، حیوانیت ناچتی رہی مگر عالم اسلام سمیت ساری دنیا پر مجرمانہ خاموشی طاری رہی۔ محض زبانی بیانات اور کچھ مالی تعاون کے علاوہ کسی نے ان کا ہاتھ نہیں تھاما۔ اس دوران گامبیا کے وزیر قانون ابوبکر تک بھی اس ظلم و بربریت کے کچھ واقعات پہنچے ، وہ تڑپ اٹھے ۔ ان مظلوم اور بے سہارا مسلمانوں کا سہارا بننے کی غرض سے وہ بنگلہ دیش کے علاقے کاکس بازار میں جا پہنچے جہاں ان مسلمانوں کی سب سے بڑی خیمہ بستی آباد ہے۔ ان نادار اور بے بس مسلمانوں کی زبانی برماوی افواج کی جانب سے ان پر کئے جانے والے لرزہ خیز مظالم کی داستانیں سن کر ان کو آج سے ربع صدی قبل ان کے پڑوس ملک روانڈا میں کئے جانے والے قتل و خون کا سانحہ یاد آ گیا جس میں کم و بیش ایک ملین افراد ہلاک کئے گئے۔ ان مظالم کی روک تھام کیسے ہو ، ظالم اور جابر برماوی حکومت کو اس کے مظالم سے کیسے روکا جائے؟ کافی سوچ بچار کے بعد انہوں نے انصاف کے لئے عالمی عدالت کا رخ کیا اوربرماوی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا اور عدالت سے یہ مطالبہ کیا کہ روہنگیا میں مسلمانوں پر کئے جانے والے ناقابل بیان ظلم و تشدد کو روکنے ، ان کی جانوں ، مال اور عزتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات کئے جائیں ۔ اس موقعہ پر برما کی بدنام زمانہ آنگ سان سوچی کی جانب سے عدالت سے اس کیس کو نہ سننے کی درخواست کی گئی۔ اس کیس کو ختم کرنے کی اس لیڈر نے ہزار ہا کوششیں کیں اور بنفس نفیس اس کیس کو ختم کرنے کی غرض سے ہیگ بھی پہنچ گئی، مگر اس کی تمام مذموم مساعی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پچھلے دنوں عدالت کی جانب سے قائم کئے گئے ۱۷ رکنی ججز پر مشتمل بینچ نے برما کی حکومت کو خبردار کیا کہ وہ اولاً روہنگیا میں مسلمانوں کی نسل کشی کو روکنے کی غرض سے ضروری اقدامات کرے جب کہ کیس کا تفصیلی فیصلہ آئندہ چند ماہ میں سنائے جانے کی توقع ہے۔

ہم تہہ دل سے جناب ابوبکر تمباڈو کو ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہیں ۔ امت کے ایک مظلوم ترین طبقہ کے ساتھ ان کا یہ تعاون ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ نام و نمود ، شہرت اور تعریفی تمغوں سے بے نیاز جناب ابوبکر حقیقت میں امت مسلمہ کے Unsung Hero ہیں۔

جزاہ اللہ خیرا احسن الجزاء

تبصرہ کریں