میں بھی حاضر تھا وہاں۔ حافظ عبدالاعلیٰ درانی

بادشاہی مسجد میں تحریک ختم نبوت(1974) کے سلسلہ کے آخری اجتماع کا آنکھوں دیکھا حال

سات ستمبر1974 کو پاکستانی پارلیمنٹ نے مکمل تحقیق و بحث اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد علی وجہ البصیرت متفقہ طور پرقادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جو تاریخ مذاہب کاایک عظیم الشان فیصلہ تھا۔ اس سلسلہ میں گزشتہ چار پانچ ماہ سے مسلسل عوامی تحریک چل رہی تھی۔ جو دن بدن روز افزوں تھی کہ قادیانیوں کو غیرمسلم قراردیاجائے ، ربوہ کو کھلا شہر قراردیا جائے اور تمام قادیانیوں کو حکومت کے کلیدی عہدوں سے علیحدہ کیا جائے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے مکمل بحث مباحثے اور چھان بین کرکے فیصلے کیلئے 7ستمبر کادن متعین کردیا تھا۔ تحریک تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ کا آخری عوامی اجتماع ۷۔ستمبرسے غالباً دو دن پہلے ( حتمی تاریخ یاد نہیں) باد شاہی مسجد میں منعقد ہوا۔ جس سے تمام قائدین نے خطاب کرنا تھا۔میں ان دنوں لاہور میں زیر تعلیم تھا تحریک کی وجہ سے ساری تعلیمی سرگرمیاں معطل تھیں ، جہاں بھی کوئی جلسہ ہوتا ہم سب ساتھی وہاں پہنچ جاتے ۔کسی بھی تحریک کی کامیابی کیلئے اہل لاہور کا شامل ہونا اس کی کامیابی کی دلیل سمجھا جاتاتھا ۔روزانہ کہیں نہ کہیں جلسہ منعقد ہوتاتھا ۔آج کاجلسہ ایک آخری جلسہ تھااور تحریک کے سبھی نامور قائدین مدعو تھے ۔ مولاناسیدیوسف بنوری ، مولاناابوالاعلیٰ مودودی، مولانا مفتی محمود، بطل حریت آغاشورش کاشمیری ، مولانا شاہ احمد نورانی، شیر دل نوجوان قائد علامہ احسان الٰہی ظہیر ،علامہ سید مظفر علی شمسی جیسے اکابروقائدین کے خطاب کا پروگرام تھا۔مقررین اور حاضرین مجلس سبھی جذبہ حب ناموس رسالت سے سرشار تھے ۔ اس لیے بڑے شوق کیساتھ ہی ہم پیدل شاہی مسجد پہنچ گئے جو ہمارے گھر سے تین فرلانگ کے فاصلے پر تھی، عظیم الشان مسجد کھچاکھچ بھری ہوئی تھی، ہم بچتے بچاتے اگلی صف میں بالکل سٹیج کے عین سامنے پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ مختلف قائدین کے خطابات ہوتے رہے ۔بانی جماعت اسلامی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی بہت دھیمے لہجے میں گفتگوکر رہے تھے ۔مولانا مودودی کا خطاب جاری تھا کہ مولانا مفتی محمود سامنے والے گیٹ سے اندر داخل ہوئے ۔مولانا سید مودودی اسلامی جمعیت طلباء کے سالار اعلیٰ تھے اور مفتی محمود صاحب جمعیت طلباء اسلام کے قائد ، معلوم نہیں یہ مفتی محمود صاحب کا ذاتی فعل تھا یا سوچا سمجھا منصوبہ تھاکہ وہ مقررین کے لیے مخصوص دروازہ چھوڑ کر سامنے والے گیٹ سے اپنے ہمراہیوں کے جلو میں تشریف لائے اور پھر عین اس وقت جب مولانا مودودی کابیان ہو رہا تھا۔ مفتی صاحب کا ورود ایک زلزلے کی طرح ثابت ہوا ۔ بادشاہی مسجد میں نعرے بازی شروع ہوگئی ۔ مولانا مودودی اس ماحول میں تقریر جاری نہ رکھ سکے اور اپنی لکھی ہوئی تقریر سٹیج کے حوالے کرکے بڑی شرافت کے ساتھ بغلی دروازے سے باہر نکل گئے اور مفتی صاحب سٹیج پر آگئے۔ اب نوجوان بے قابو ہوگئے اوران کی نعرہ بازی نے جلسہ درہم برہم کرڈالا ۔ خطرہ تھا کہ افراتفری میں کہیں انسانی جانیں ضائع نہ ہونی شروع ہوجائیں ۔اور یہ جلسہ ہنگامہ آرائی کی نذر ہوکرناکام نہ ہوجائے۔ اس سے تحریک کی ساری کارروائی ضائع ہوسکتی ہے ، آخری جلسہ اور وہ بھی بادشاہی مسجدکا اگر ناکام ہوگیاتو جانثاران ختم نبوت کو لینے کے دینے پڑجائیں گے ۔اس خطرے کا احساس کرتے ہوئے ،وقت کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے بڑے بڑے خطیبوں نے مجمع کو خاموش کرانے کی کوشش کی ۔ آغاشورش کاشمیری جیسے دبنگ خطیب نے بھی اپنی سی کوشش کردیکھی لیکن مجمع کسی کے کنٹرول میں نہ آسکا۔ایسے میں ایک ایسے نوجوان نے جلسے کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لی اور بڑی بلند آہنگی کے ساتھ چند ایسے جملے بولے کہ پورا مجمع ان کی مٹھی میں آگیا۔اور خاموشی کی چادر تن گئی کہ جیسے یہاں کوئی ہے ہی نہیں ۔ لوگ اس نوجوان خطیب کا نام جاننا چاہتے تھے یہ تھے لاہور کی تاریخی مسجد چینیانوالی کے نوجوان خطیب اور مجاہد ملت آغا شور کاشمیری کے دست راست علامہ احسان الٰہی ظہیر( شہید و مدفون جنت البقیع ) ۔ان کی خطابت کا طنطنہ اس قدر بلند آہنگ تھا کہ ہزاروں کے مجمع میں جیسے کوئی سانس نہیں لے رہاتھا ۔ہلچل پر قابو پالینے کے بعد ( جس کی توقع بہت کم ہوگئی تھی)انہوں نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض بھی خود سنبھال لیے۔ علامہ صاحب کسی بھی مقرر کی آمد کااعلان کرتے تو ایسے الفاظ میں تعارف کراتے کہ عوام تو عوام، خود مقرر بھی چاہتاتھاکہ میری بجائے علامہ احسان الہی ظہیر ہی اپنا بیان جاری رکھیں ۔اس دن علامہ احسان الہی کاہی کارنامہ تھا کہ یہ جلسہ انہوں نے سنبھال لیا۔اوربعد کے مقررین کے خطاب کی راہ ہموار کی ۔حاضرین نے بہت داد دی اس نوجوان قائد کو۔جلسہ نہایت کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا تو لوگ علامہ ظہیرسے ہاتھ ملانے کیلئے دیوانہ وار ٹوٹ پڑے ۔آغا شورش کاشمیری تو پہلے ہی علامہ پر فخرکرنے والے تھے ۔ وہ ہر جلسے میں ان کا پہلے تعارف کراتے کہ یہ وہ نوجوان ہے اردو جس کے ہاتھ کی چھڑی ہے ، عربی ان کے بازو کی گھڑی ہے وغیرہ وغیرہ لیکن اس روز تو آغا صاحب کی سرشاری دیکھی نہ جاتی تھی ۔مولاناشاہ احمد نورانی ،مولانایوسف بنوری اور دیگر قائدین تحریک انہیں گلے لگاتے رہے اور پیشانی کا بوسہ لیتے رہے ،گویاآج کے اجتماع کی کامیابی علامہ احسان الٰہی ظہیر کے نام لگادی۔ اگلے دن اخبارات میں جلسے کی ساری کارروائی شائع ہوئی اور مولانا مودودی کی پوری تقریربھی جو ناتمام رہ گئی تھی شائع ہوئی۔ خلیل جبران کا ایک مقولہ ہے کہ اس نے ساحل سمندر پر اپنا نام کئی جگہ لکھا ۔اگلے دن اس نے آکر دیکھا تو پانی کی لہروں نے سب نام مٹادیے تھے صرف ایک اندھے کی لاٹھی کے نشان باقی تھے ۔

تبصرہ کریں