مولانا عتیق الرحمن سنبھلی کا دہلی میں سانحہ ارتحال۔ شیرخان جمیل احمد عمری، برمنگھم برطانیہ

میرے دوست اور مولانا سنبھلی﷫ کے داماد جناب محمد فاروق نسیم صاحب جو آج کل اپنی اہلیہ کے ساتھ ہند کے دورہ پر ہیں، ان کا انڈیا سے واٹساپ میسج پہنچا کہ آج 23 جنوری 2022ء کو بعد نماز مغرب ان کے سسر محترم حضرت مولانا عتیق الرحمن سنبھلی 96 سال کی عمر پاکر دہلی میں انتقال کرگئے۔ إنا للّٰه وإنا إليه راجعون، اَللهم اغفر له وارحمه وأدخله الجنة الفردوس. آمين

برطانیہ میں مولانا سنبھلی﷫ سے پچھلے 20 سال سے زائد عرصہ سے میرا تعلق تھا۔ لا تعداد مرتبہ ان سے میری ملاقات رہی۔ ذاتی طور پر مولانا مجھے جانتے تھے اور مجهے بہت عزیز بھی رکھتے تھے۔ مجلسوں میں کبھی نماز کا وقت ہوجاتا تو جماعت سے نماز پڑھتے اور امامت کرانے کا حکم مجھے دیتے۔ میں شدت سے انکار کرتا اور مولانا کی امامت میں نماز پڑھنے کی خواہش ظاہر کرتا تو فرماتے کہ آپ بہت اچھا قرآن پڑھتے تھے، میں آپ کی تلاوت کو سننا چاہتا ہوں کہ کر میرا حوصلہ بڑھاتے اور اصرار فرماتے: “الأمر فوق الأدب” کے تحت ميں مولانا کے حکم کی تعمیل کرتا۔ مولانا سے ذاتی تعارف اور قربت کی ایک بنیادی وجہ ان کے داماد میرے قریبی دوست جناب محمد فاروق نسیم صاحب ہیں۔ جن کا تعلق جمشید پور انڈیا سے ہے۔ ان کے خانوادے کے کئی بچے اور بچیاں جامعہ محمدیہ اور کلیہ عائشہ صدیقہ منصورہ مالیگاؤں کے فارغ التحصیل ہیں۔ فاروق بھائی ایک اچھے شاعر بھی ہیں آپ کی شاعری میں بڑی معنویت ہوتی ہے۔ آپ برمنگھم کی ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے غالبا 30، 35 سال قبل انڈیا سے برلن، جرمنی تشریف لائے، لندن میں شادی ہوئی، خطبہ نکاح مولانا محمود احمد میرپوری﷫ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ نے پڑھایا۔ پھر 1996ء میں آپ بچوں کو اسلامی اسکول میں داخلہ کی غرض سے جرمنی سے برمنگھم برطانیہ تشریف لے آئے اور برطانیہ ہی کے ہوکر رہ گئے۔ فاروق بھائی سے میری پہلی ملاقات 1996ء ميں ہوئی تھی جو دھیرے دھیرے گہری دوستی میں تبدیل ہوگئی۔ ہمارا یہ تعلق گہرے فیملی فرینڈ شپ میں بدل گیا۔

فاروق بھائی کے گھر پر ہی عموماً مولانا سنبھلی سے ملاقات کا شرف حاصل ہوتا تھا۔ اکٹھے کھانا کھاتے۔ مولانا کی مجلس میں رہ کر کئی کئی گھنٹہ استفادہ کا بھی موقعہ ملتا۔ مولانا کا قیام لندن میں تھا اور ان کی بیٹی اور داماد برمنگھم میں مقیم ہیں۔ مولانا سال میں کئی مرتبہ اپنی بیٹی داماد اور بچوں سے ملنے آتے رہتے تھے۔ مجھے اندازہ ہوا کہ مولانا کا اپنی بیٹی اور داماد سے قلبی لگاؤ تھا۔ مولانا لندن سے برمنگھم عموماً کوچ سے آیا کرتے تھے۔ فاروق بھائی کی مصروفیت کی وجہ سے بسا اوقات مجھے مولانا کو برمنگھم کے بس اسٹیشن سے ریسیو کر کے ان کی صاحبزادی کے گھر پہنچانے کا بھی شرف ملتا رہا۔ مولانا ہند کے معروف ومشہور علمی گھرانے کے چشم وچراغ تھے۔ آپ حضرت مولانا منظور احمد نعمانی﷫ کے بڑے صاحبزادے تھے۔ مولانا نعمانی کی وفات کے بعد آپ ہی اپنے خانوادہ کے سرپرست تھے۔ نہایت سادہ مزاج اور بہت ہی نرم و نازک تھے۔ بڑے دھیمے انداز میں گفتگو فرماتے تھے۔ ہمیشہ مسکرا کر بات کرتے تھے۔ آپ کو دیکھ کر لگتا تھا کہ آپ کسی دوسری دنیا کے باشندے ہیں۔ حنفی المسلک تھے قاسمی تھے دیوبند کا دفاع بھی کرتے تھے۔ لیکن آپ کے اندر میں نے توسع بھی دیکھا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنی لخت جگر کا بیاہ ایک اہل حدیث گھرانے میں کیا۔ برطانیہ میں مولانا کے لاتعداد عقیدت مند ہیں انہی میں سے بعض حنفی علماء آپ سے استفسار کرتے کہ ایک حنفی عالم اور بڑے حنفی گھرانے سے ہوتے ہوئے بھی آپ نے ایک اہل حدیث کو کیوں اپنا داماد بنایا؟ یہ سوال آپ کو بہت ناگوار گذرتا تھا۔ آپ کے چہرے کے تأثرات سے لوگ اس کو تاڑ لیتے تھے۔ مولانا اس سوال کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتے تھے اس لئے ٹال جاتے تھے۔ مولانا از راہِ ظرافت مسکرا کر اپنے اہل حدیث نواسہ عزیزم عمر سلمہ اور نواسی عزیزہ فردوس سلمہا سے کہتے کہ میرا انتقال ہوجائے گا تو میرے ایصال ثواب کے لئے آپ لوگ قرآن خوانی تو نہیں کریں گے کیونکہ آپ لوگوں کے مسلک میں یہ نہیں ہے۔ لیکن میرے لئے دعا ضرور کرنا۔ اپنی نواسی فردوس بیگم کا نکاح خود پڑھایا اور بڑی عمدہ نصیحتیں فرمائیں۔

میں نے محسوس کیا ہے کہ آج سے بیس سال قبل مولانا کے اندر مسلک دیوبند کے تئیں جو تعصب اور سختی تھی وہ آخری عمر میں کافی حد تک نرم پڑگئی تھی۔

بہت پہلے مولانا کے کچھ مضامین کا تتبع کرتے ہوئے شیخ عبدالمعید مدنی علی گڑھ نے ماہنامہ اشاعت السنہ دہلی میں 40 صفحہ کا جواب لکھا جس کی فوٹو کاپی میں نے مولانا مرحوم تک پہنچائی۔ مولانا نے اس مضمون کے پڑھنے کے بعد غالبا مسلکی بحثوں پر لکھنا بند کردیا تھا۔ ایک مرتبہ برمنگھم کی مسجد الہجرہ میں ایک سینئر اہل حدیث عالم دین نے خطبہ جمعہ دیا اور نماز پڑھائی۔ خطبہ مقررہ وقت سے بھی کچھ لمبا ہوگیا تھا لیکن نماز نہایت مختصر ، بالکل چھوٹی سورتیں پڑھیں۔ مولانا سنبھلی نے معزز اہل حدیث خطیب کو سنت یاد دلائی کہ خطبہ مختصر ہونا چاہئے اور نماز قدرے طویل۔

ماہنامہ الفرقان لکھنؤ کے بڑے عرصہ تک مدیر رہے۔ پھر ’’محفل قرآن‘‘ تفسیر کا کالم لکھتے رہے۔ میں نے نوٹ کیا کہ آپ تفسیر لکھنے میں ہمیشہ مصروف رہتے تھے بسا اوقات کسی آیت کے معنی و مفہوم کے مختلف گوشوں کو سمجھنے کے لئے موقعہ پانے پر مختلف علماء سے استفسار کرتے تھے، مولانا نے اس حقیر کو بھی کئی مرتبہ اس دشوار مرحلہ سے گذارا۔ تفسیر کے سوال پر میرے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے تھے۔ کئی مرتبہ مولانا سے میں نے بھی مختلف موضوعات پر سوالات کئے تھے۔ بڑی خندہ پیشانی سے جواب مرحمت فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ میں نے سوال کیا کہ قرآن وحدیث میں مردوں کے لئے حوروں کا تذکرہ ہے لیکن عورتوں کے لئے ایسا کوئی ذکر موجود نہیں ہے تو فوری جواب دیا کہ عورتیں شرم وحیا کا پیکر ہوتی ہیں ان کے حق میں اس طرح کا تذکرہ غیر مناسب بات تھی۔ یہ بات ان کی عصمت وہشمت کے منافی تھی۔ ویسے اللہ تعالی نے عمومی طور پر یہ خوش خبری سنادی ہے جو مردوں اور عورتوں کے لئے یکساں طور پر ہے:

﴿وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِىٓ أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ﴾ مولانا کی ایک کتاب ”شہادت حسینؓ اور اس کا پس منظر“ کافی مشہور ومقبول ہوئی۔ کتاب وسنت ڈاٹ کام ویب سائٹ پر اس کو پڑھا جاسکتا ہے۔ اسی ویب سائٹ پر اس کتاب کے تعارف میں تبصرہ نگار نے ذیل کی یہ چند سطور لکھی ہیں:

’’نواسہ رسول ﷺ کی شہادت ایک عظیم سانحہ ہے جس کی مذمت بہرآئینہ ضروری ہے۔ لیکن اس بنیاد پر ماتم، سینہ کوبی اور سب و شتم کا بازار گرم کرنے کی بھی کسی طور تائید نہیں کی جا سکتی۔

زیر نظر کتاب میں مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی نے غیر جانبداری سے سانحہ کربلا پربالدلائل اپنی قیمتی آراء کا اظہار کیا ہے اور اس کا مکمل پس منظر تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ مکمل کتاب 12 ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلا باب شہادت سیدنا عثمان ، خانہ جنگی، صلح حسین پر ہے۔ ایک باب یزید کی ولی عہدی کی تجویز اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ کے عنوان سے ہے جس میں یزید کی ولی عہدی سے متعلق کھل کر بحث کی گئی ہے۔ باب دہم میں واقعہ کربلا کی مکمل سرگزشت بیان کی گئی ہے۔ جبکہ اس سے اگلے باب میں شہادت کے بعد کی کہانی کو کسی لگی لپٹی کے بغیر بیان کیا گیا ہے۔مولانا نے یزید پر سب و شتم کے مسئلہ کو بھی بڑے احسن انداز سے قلم زد کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ شہادت سیدنا حسین میں یزید کسی بھی حوالے سے ملوث نہیں تھے۔ فاضل مؤلف نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ سانحہ کربلا کے اسباب سے نقاب کشائی کرنے کے ساتھ ساتھ واقعات شہادت میں مبالغہ آمیزی کی بھی قلعی کھولی ہے۔ (ع۔م)‘‘

اہل علم مولانا کی جملہ خدمات پر روشنی ڈالیں گے۔ اس وقت یہ چند کلمات فوری نوک قلم پر آگئے ہیں پھر کبھی موقعہ ملے تو تفصیل لکھی جائے گی۔ میں مولانا کے لئے اللہ کی رحمت اور مغفرت کی دعا کرتے ہوئے اللہ سے حسن ظن رکھتا ہوں کہ اللہ ارحم الراحمین مولانا کے ساتھ لطف وکرم کا معاملہ فرمائیں گے، آپ کے تسامحات سے درگذر فرماکر جنت الفردوس میں جگہ عنایت کریں گے۔

ہم مولانا کی صاحبزادی جو میری اہلیہ کی گہری دوست ہیں، خوشی اور غم کی ساتھی ہیں، مثالی مہمان نواز ہیں ان کی اور ان کے شوہر میرے دوست جناب محمد فاروق نسیم صاحب اور مرحوم کے جملہ اہل خانہ کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہوئے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالی ان سب کو صبر دے اور اس کا اجر دے اور ان کو والدین کے حق میں صدقہ جاریہ بنادے آمین۔

تبصرہ کریں