مسجداقصیٰ بیت المقدس کی فضیلت۔ الشیخ حزب اللہ بلوچ

زمانہ قدیم میں جس علاقے کو’’شام‘‘ کہاجاتاتھا، وہ لبنان ،فلسطین، اردن اور شام کی سرزمین پر مشتمل تھا،احادیث میں جس کی فضیلت ذکر فرمائی گئی ہے، اس سرزمین کو یہ اعزازحاصل ہے کہ یہاں کثرت سے انبیاء کرام کومبعوث فرمایاگیا،نیزدیگر کئی علاقوں سے انبیاء کرام﷩ نے ہجرت فرماکر اس علاقے کو اپنامسکن بنایا، جن میں سے چند یہ ہیں:

سیدنا ابراھیم، سیدنا اسحاق،سیدنا یعقوب، سیدنا یوشع ﷩، سیدنا موسیٰ نے تو اس سرزمین (بیت المقدس) پر اپنی موت کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعافرمائی تھی۔(صحیح بخاری:1339)

سیدنا داؤد،سیدنا سلیمان،سیدنازکریا،سیدنالوط،سیدنا یحیٰ، سیدناعیسیٰ ﷩ ،یہودیوں نے سیدنا عیسیٰ کے قتل کی سازشیں کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ آسمان پر اٹھا لیا،اور ان کا دوبارہ نزول اسی سرزمین پر ہو گا۔ محمدرسول اللہ ﷺ کی پیدائش اور بعثت اگرچہ مکہ میں ہوئی لیکن معراج کے موقعہ پر آپﷺ کو اس مقدس سرزمین یعنی مسجداقصیٰ (بیت المقدس) کی سیر کرائی گئی جہاںآپﷺ نے تمام انبیاء کرام کی امامت فرمائی اور معراج کی ابتداء یہیں بیت المقدس (مسجد اقصیٰ) سےہی ہوئی۔

مندرجہ ذیل آیات میں اللہ تعالیٰ نے اسی بابرکت زمین کاذکر فرمایا ہے۔

بابرکت ،مقدس اور پاک سرزمین

(1)﴿ سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ‎﴾ (بنی اسرائیل:1)

اس اللہ کی ذات پاک ہے جو اپنے بندے(محمدﷺ) کو ایک ہی رات میں مسجد حرام سےمسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس (بھی) ہم نے(بڑی) برکت رکھی ہے تاکہ ہم اپنے بندے محمدﷺ کو اپنی بعض نشانیاں دکھائیں بلاشبہ وہ اللہ سننے والا،دیکھنے والاہے۔

نوٹ:اقصیٰ کا معنی دوردراز کاہے چونکہ مسجد اقصیٰ مسجد الحرام اور (مسجد نبوی) سے کافی دور ہے اس لئے اسے یہ نام دیاگیا ۔(تفسیر قرطبی 10؍217)

(2)﴿ وَنَجَّيْنَاهُ وَلُوطًا إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ﴾ (سورۃ الانبیاء:71)

اور ہم ابراہیم اور لوط(﷧)کو ان (ظالموں) سے نجات دے کر ایسی زمین کی طرف لے کر آئے جس میں ہم نے جہان والوں کیلئے برکتیں کی ہیں۔

امام ابن کثیر﷫آیت کی تفسیر میں لکھتےہیں :

“مھاجرا إلی بلاد الشام إلی الأرض المقدسة منھا.”

یعنی اللہ تعالیٰ نے ابراھیم کو بلادشام میں مقدس سرزمین (بیت المقدس) کی طرف ہجرت کاحکم دیا۔

3۔ سیدنا موسیٰ نے اپنی قوم کوحکم دیا:

﴿يَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ ﴾ (المائدہ:21)

’’اےمیری قوم!اس مقدس(پاک) سرزمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے۔‘‘

یعنی یہ مقدس سرزمین موسیٰ کو ماننے والے ایمان لانے والے، ادب واحترام کرنے والے لوگوں کیلئے ہے نہ کہ ان کیلئے جو بہت بڑے فتنہ گر،عہد شکنی کرنے والے،آسمانی کتب میں تحریف کرنے والے، حق کو چھپانے والےاور، انبیاء کی جماعت کے قاتل ہیں ۔

اسی طرح آیت:

﴿ وَإِذْ قُلْنَا ادْخُلُوا هَٰذِهِ الْقَرْيَةَ ﴾(سورة البقرہ:58)

﴿اسْكُنُوا هَٰذِهِ الْقَرْيَةَ ﴾ (سورۃ الاعراف:161)

میں بھی بیت المقدس کا ذکرکیاگیاہے۔(تفسیرابن کثیر)

(4) ﴿وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ عَاصِفَةً تَجْرِي بِأَمْرِهِ إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا﴾ (سورۃ الانبیاء:81)

’’اور سیدنا سلیمان( )کیلئے ہم نے تندوتیزہوا کو بھی تابع بنا دیا تھا جو ان کے حکم سے اس سرزمین (شام) کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکت رکھی تھی۔‘‘

تفسیر طبری میں ہے:

“الأرض التی بارکنا فیھا، یعنی إلی الشام.”

یعنی: اس بابرکت سرزمین سے مراد شام ہے۔

اسی طرح آیت:

﴿ وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا﴾ (سورۃ الاعراف:137)

سے مفسرین نےیہی سرزمین مراد لی ہے۔

(6)کئی مفسرین آیت:

﴿ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا قُرًى ظَاهِرَةً﴾ (سورۃ سبا:18)

میں مذکور بستیوں سےشام کی بستیاں مراد لیتے ہیں۔ (ابن کثیر، طبری)

(7) ﴿وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ آيَةً وَآوَيْنَاهُمَا إِلَىٰ رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ﴾ (سورۃ المؤمنون:50)

اور ہم نے مریم کے بیٹے(عیسیٰ )اور ان کی والدہ کو (اپنی قدرت کی) ایک نشانی بنادیااورا نہیں ایک ایسے ٹیلے (بلندمقام) پر جگہ دی جوپرسکون ،قابل اطمئنان اور چشمے والاتھا۔

حافظ ابن کثیر﷫ نے اس کو ترجیح دی ہےکہ اس بلند جگہ یاٹیلے سےمراد بیت المقدس ہے۔

(8)﴿ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ ﴾ (سورۃ التین:1)

یہاں اللہ تعالیٰ نے انجیر اور زیتون کی قسم کھائی ہے۔ حافظ ابن کثیر﷫ نے’’والزیتون‘‘ کی تفسیر میں قتادہ،ابن زید اور کعب الاحبار کا یہ قول نقل کیاہے :

“ھو مسجد بیت المقدس .”

یعنی زیتون سے مراد بیت المقدس یعنی مسجد اقصیٰ ہے۔

(9)اسی طرح آیت: ﴿وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾ (سورۃ بنی اسرائیل:7) میں جس مسجد کا ذکر فرمایاگیا ہے وہ بیت المقدس ہے۔ (تفسیر ابن کثیر)

(10)﴿ وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ﴾ (ق:41)

میں قریبی مکان سے مراد بیت المقدس ہے۔(تفسیر ابن کثیر)

کائنات ارضی پر دوسراگھر

سیدنا ابوذر نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا یارسول اللہ! کرۂ ارض پر سب سے پہلی مسجد کونسی تعمیر کی گئی؟آپﷺ نے فرمایا: مسجدالحرام، پھر عرض کیا دوسری کونسی مسجد تعمیر ہوئی؟ آپﷺ نے فرمایا:مسجدالاقصیٰ ،انہوں نے سوال کیا ان دونوں کی تعمیر کے درمیان کتنا عرصہ ہے؟ آپﷺ نے فرمایا:چالیس سال۔‘‘

(صحیح بخاری:3366،مسلم:520)

اللہ تعالیٰ کافرمان:

﴿‏ إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ﴾ (سورۃ آل عمران:96)

یعنی سب سے پہلاگھر جولوگوں کی عبادت کےلئے بنایاگیا وہ بابرکت گھر مکہ میں ہے۔

﴿وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ﴾(سورۃ البقرہ:127)

’’یعنی ابراہیم اور اسماعیل﷧ نےبیت اللہ کی بنیادیں اٹھائیں ۔‘‘

سیدنا داؤد نے بیت المقدس کی تعمیر شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ بقیہ تعمیر سلیمان کریں گے۔(طبرانی بحوالہ فتح الباری، تحت حدیث:3366)

جب سیدنا سلیمان نے بیت المقدس کی تعمیر شروع کی تواللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کیں۔ (سنن نسائی:3366)

لیکن ان نصوص سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ بیت اللہ اور بیت المقدس کی ابتدائی تعمیر کس نے فرمائی؟

بالفرض مندرجہ بالہ تعمیرات کو ابتدائی تعمیر قرار دیا جائے تو اوپرصحیح بخاری والی چالیس سال کےعرصے والی روایت کی تکذیب لازم آتی ہے کیونکہ سیدنا ابراہیم وسیدنا اسماعیل اور سیدنا داؤد وسیدنا سلیمان﷩ کے درمیان تو ایک ہزار سال کا فاصلہ ہے، لامحالہ تسلیم کرناپڑے گا کہ ان کی یہ تعمیر ابتدائی تعمیر نہیں ہے بلکہ بعد کی کوئی تعمیر ہی ہوسکتی ہے، چنانچہ حافظ ابن حجر ﷫ نےایسی روایات واقوال نقل کئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں مقدس مقامات بیت اللہ اوربیت المقدس کی تعمیرآدم نے فرمائی تھی اور آدم کی اس تعمیر کا درمیانی عرصہ چالیس سال تھا، جب بیت المقدس کی تعمیر سلیمانی پہلی تعمیر ہی نہیں ہے تویہودیوں کا ہیکل سلیمانی اور تولیت اقصیٰ کا دعویٰ پاش پاش ہوکر رہ جاتاہے مگر یہ بات توقطعی طور پرثابت ہے کہ یہ مقامات مقدسہ بیت اللہ، بیت المقدس اور مسجد نبوی انبیاء کرام کی میراث ہیں اور انبیاء کرام﷩ کے حقیقی وارث ہی ان مقامات کے وارث ومتولی ہیں ،اورانبیاء کے حقیقی وارث صرف مسلمان ہی ہیں۔

فتح کی بشارت

سیدنا عوف بن مالک کی ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«اعدد ستا بین یدی الساعة موتی ثم فتح بیت المقدس » (صحیح بخاری:3176)

’’قیامت کی چھ نشانیاں شمار کرلو،ایک میری موت اور پھر بیت المقدس کی فتح۔۔۔‘‘

مسلمانوں کا قبلہ سابقہ

سیدنا براء بن عازب فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ ہجرت کے بعد بھی رسول اللہ ﷺ سولہ یاسترہ مہینوں تک بیت المقدس کی طرف رُخ کرکے نمازیں ادا فرماتے رہے اس کے بعد بیت اللہ کی طرف رُخ کرنے کا حکم دیا گیا۔ (صحیح بخاری: 7252،399، 4492؛ صحیح مسلم:525)

زیادہ ثواب کی امید سے مسجد اقصیٰ کی طرف سفرکاجواز

سیدناابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین مساجد کے علاوہ کسی جگہ کا (زیادہ ثواب اور برکت کی نیت سے خاص) قصد کر کے سفر کرناجائز نہیں ہے:1۔مسجد الحرام2۔مسجد الرسول(نبوی) 3۔مسجد الاقصیٰ ۔‘‘

(صحیح بخاری:1189،صحیح مسلم:1397)

سرزمین اسراء ومعراج

نبی کریم ﷺ کے عظیم الشان معجزہ اسراء ومعراج کے موقعہ پر آپﷺ کومسجد الحرام سے براق (ایک جانور) پرسوار کیا گیا جس پر آپ بیت المقدس مسجد اقصیٰ میں تشریف لائے،وہیں آپﷺ نے دودھ کے برتن کواختیار فرمایا، جبرئیل نے کہا: “اخترت الفطرة.”آپ نے فطرت کو اختیار کیا وہیں بیت المقدس سے ہی آسمان کی طرف معراج کاآغاز ہوا جیسا کہ سیدناانس کی حدیث میں مروی ہے۔(صحیح مسلم:162)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫ نے(مکہ سے بیت المقدس کی طرف اسراء کے لئے لے جانے کی یہ حکمت) ذکر کی ہے کہ مکہ سے اسلام کی ابتداء،بعثت ومخرج ہے اور دین اسلام کا کمال ظہور اور اتمام مہدی(اور عیسیٰ ) کے ہاتھوں شام کے علاقے سے ہو گا۔ (مناقب الشام واہلہا،ص:1،2)

مسجد اقصیٰ میں امام الانبیاء کی امامت

بیت المقدس مسجد اقصیٰ میں محمد رسول اللہ ﷺ نے تمام انبیاء کرام﷩ کی امامت فرمائی۔ (صحیح مسلم: 172) میں ہے:

“فحانت الصلاة فاممتھم.”

یعنی جب نماز کا وقت ہوا تو میں نےانبیاء کی امامت کی۔

مسند احمد:2324میں ہے :

“فإذا النبیون أجمعون یصلون معه.”

یعنی تمام انبیاء نے آپﷺ کی اقتداء میں نماز پڑھی۔(الاسراء والمعراج للالبانی: ص 14-27)

زمین کی پشت پر مسجد اقصیٰ وہ واحد جگہ ہے جس میں ایک ہی وقت میں تمام انبیاء کرام﷩ کا اجتماع ہوا ا ور باجماعت نماز ادا فرمائی، یہ اعزاز کسی اور جگہ کو حاصل نہیں ہے۔

بیت المقدس میں نماز کی فضیلت

سیدنا ابوذررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک ہی مجلس میں آپس میں اس بات پر گفتگو کی کہ بیت المقدس کی مسجد (اقصیٰ) زیادہ افضل ہے یارسول اللہ ﷺ کی مسجد (نبوی)؟تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میر ی اس مسجد (نبوی) میں ایک نماز (اجروثواب کے اعتبار سے)اس (بیت المقدس ،مسجداقصیٰ) میں چار نمازوں سے زیادہ افضل ہے اور وہ( مسجداقصیٰ) نماز پڑھنے کی بہترین جگہ ہے : «ولنعم المصلی هو»

عنقریب ایسا وقت بھی آنیوالا ہے کہ ایک آدمی کے پاس گھوڑے کی رسی کے بقدرزمین کاایک ٹکڑا ہو جہاں سے وہ بیت المقدس کی زیارت کرسکے (اس کے لئے بیت المقدس کو ایک نظر دیکھ لینا)پوری دنیا یا فرمایا دنیاومافیھا سے زیادہ افضل ہوگا۔

(مستدرک حاکم:8553،صححہ ووافقہ الذھبی، السلسلۃ الصحیحۃ تحت حدیث: 2902؛ طبرانی اوسط: 6983،8230،شعب الایمان :3849،صحیح الترغیب:1179)

نیز مسجد نبوی میں ایک نماز کاثواب ایک ہزار (1000) نمازوں کے برابر ہے۔ (صحیح بخاری: 1190؛ صحیح مسلم:1394)

مندرجہ بالادونوں حدیثوں کاحاصل نتیجہ یہ ہے کہ مسجد اقصیٰ میں ایک نماز کااجروثواب دوسو پچاس (250) نمازوں کے برابرہے۔

مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کے اجروثواب کے بارے میں مندرجہ بالہ حدیث کے علاوہ اکثروبیشتر روایات غیرثابت وضعیف ہیں، تفصیل کیلئے دیکھیں:(السلسلۃ الضعیفۃ:5355،الارواء الغلیل:1130)

یاد رہے کہ مسجد الحرام میں ایک نماز ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔(سنن ابن ماجہ :1406)

مستدرک حاکم کی حدیث سے بھی یہ معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے دلوں میں مسجد اقصیٰ کی محبت بھری ہوئی ہے اسے کوئی نہیں نکال سکتا، لیکن اس کی زیارت کے سلسلے میں مزیدمصائب وآلام کا شکار ہونا ممکن ہے،واللہ اعلم

مسجد اقصیٰ میں نماز گناہوں کی معافی کا سبب

سیدناعبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ: جب سلیمان بن داؤد( )بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کیں:

1۔یا اللہ!میرے فیصلے تیرے فیصلے کے مطابق (درست)ہوں۔

2۔یا اللہ!مجھے ایسی حکومت عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو ایسی حکومت نہ ملے۔

3۔یااللہ! جو آدمی اس مسجد (بیت المقدس)میں صرف نماز پڑھنے کے ارادے سے آئے وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجائے جیسے وہ اس دن گناہوں سے پاک تھا جب اس کی ماں نے اسے جناتھا۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سلیمان( )کی پہلی دودعائیں تو قبول فرمالی ہیں(کہ ان کا ذکر توقرآن مجید میں موجود ہے)مجھے امید ہے کہ ان کی تیسری دعا بھی قبول کرلی گئی ہوگی۔ (سنن ابن ماجہ: 1408؛ سنن نسائی:693)

کیا مسجد اقصیٰ حرم ہے؟

کئی لوگ مسجد اقصیٰ کو ثالث الحرم یعنی مسجد الحرام، مسجد نبوی کے ساتھ تیسرا حرم کہتے ہیں جو کہ قرآن وحدیث کے دلائل سےثابت نہیں ہے، حرم کے خاص احکامات ہیں کہ

وہاں شکار نہ کیا جائے، درخت نہ کاٹے جائیں وغیرہ، بلاشبہ مسجد الاقصیٰ بیت المقدس پاکیزہ گھر،انتہائی بابرکت، انبیاء کا ماوی ومسکن ہے، لیکن قرآن وحدیث میں کہیں اسے حرم قرار نہیں دیا گیا،حرم صرف مکہ ومدینہ ہی ہیں۔ (دیکھئے: اقتضاء الصراط المستقیم لشیخ الاسلام ابن تیمیہ،ص:434،مجموع الفتاویٰ 27؍14،15۔26؍117)

سرزمین شام،فلسطین،بیت المقدس اور قرب قیامت

قیامت سے قبل فتنوں کے ادوار میں ان علاقوں خصوصاً شام (بیت المقدس) میں رہائش اختیار کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔(جامع ترمذی:2217)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میری والدہ نے خواب دیکھاتھا کہ ان سے ایک نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے۔(مستدرک حاکم:3566،صححہ ووافقہ الذھبی، ابن حبان: 6404، الصحیحۃ: 373،1925)

قرب قیامت جب فتنے بکثرت ہونگے تو ایمان اور اہل ایمان (زیادہ تر) شام کے علاقوں میں ہی ہونگے۔

(مستدرک حاکم:8554،8413)

شام کیلئے خوشخبری ہے اللہ کے فرشتوں نے اس پر (حفاظت کیلئے) اپنے پرپھلارکھے ہونگے۔ (جامع ترمذی،3954،الصحیحۃ:503)

فتنوں کے زمانے میں اہل اسلام کی مختلف علاقوں میں مختلف جماعتیں اور لشکر ہوں گے اس دور میں آپﷺ نے شام اور اہل شام کے لشکر کو اختیار کرنے کی ترغیب دلائی کیونکہ اس دور میں ان کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نےلی ہوگی۔(یہ مہدی اور عیسیٰ کا لشکرہوگا) (سنن ابوداؤد: 2483)

آخری وقت زمانہ قرب قیامت میں خلافت اسلامیہ کا مرکز ومحور ارض مقدسہ ہو گی۔ (سنن ابوداؤد: 2536)

قیامت سے قبل مدینہ منورہ (غیرآباد)ویران ہو جائے گا اوربیت المقدس آباد ہوگا تو یہ زمانہ بڑی لڑائیوں اور فتنوں کا ہوگا، اس کے بعد دجال کا خروج ہوگا۔(سنن ابوداؤد:4294)

دجال کا فتنہ اس امت کابہت بڑا فتنہ ہے اس سے ہر نبی نے اپنی قوم کوڈرایا۔(صحیح بخاری:3337)

مگردجال چارمقامات پر داخل نہیں ہوسکےگا:

1۔مکۃ المکرمہ 2۔مدینہ منورہ 3۔بیت المقدس، مسجد الاقصیٰ 4۔طور۔(مسند احمد:23683)

سیدناعیسیٰ کا نزول بھی ان ہی علاقوں دمشق کے مشرق میں سفید مینار کے پاس ہوگا۔(سنن ابن ماجہ :4075)

سیدناعیسیٰ دجال کو’’باب لد‘‘ کے پاس قتل کر دیں گے۔(صحیح مسلم:2937)

باب لد فلسطین کے علاقے میں بیت المقدس کے قریب ہے، پر جس اسرائیل غاصب نے قبضہ کر رکھاہے۔

فتنہ یاجوج وماجوج کی ہلاکت اور انتہاء بھی بیت المقدس کے قریب’’جبل الخمر‘‘ کے پا س ہو گی۔ (صحیح مسلم:2937)

قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی کہ جب تک یہودیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا نہ دیاجائے، قیامت سے پہلے یہ وقت ضرور آئے گاکہ

مسلمان یہودیوں کو چن چن کر قتل کریں گے حتی کہ اگر کوئی یہودی کسی درخت یا پتھر کے پیچھے چھپے گا تو وہ بھی بول اٹھے گا کہ اے مسلمان! میرے پیچھے یہودی چھپاہوا ہے آکر اسے قتل کردو۔

(صحیح بخاری: 2926 ،3593،صحیح مسلم: 22، 2921)

پوری دنیا سے یہودی اپنے مقتل’’اسرائیل‘‘ میں جمع ہورہے ہیں۔

سرزمین محشرومنشر

قیامت سے پہلے ایک آگ لوگوں کودھکیلتی ہوئی میدان محشر (شام) کی طرف لے کر آئے گی،وہ آگ صبح دوپہر اور شام ہر وقت ان کے ساتھ ہوگی حتی کہ وہ انہیں میدان محشرتک پہنچادے گی۔(صحیح بخاری:6522)

شام محشر ومنشر کی سرزمین ہے۔(یعنی محشر سرزمین شام میں بپا ہوگا۔)(جامع ترمذی :3918،السلسلۃ الصحیحۃ:3073)

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ﴾ (سورة ق:41)

اور یہ بات تم غور سے سن لو جس (قیامت) کے دن ایک پکارنے والا(فرشتہ اسرافیل صورپھونک کر) ایک قریبی جگہ (صخرہ بیت المقدس) سےپکارے گا۔

یہ پکارنے والافرشتہ اسرافیل یا جبرائیل ہوگا اور یہ پکار نفخۂ ثانیہ ہوگا جس سے لوگ میدان محشر میں جمع ہو جائیں گےاور قریبی جگہ جہاں سے یہ ندا ہوگی اس سے بعض نے صخرہ بیت المقدس مراد لیا ہے۔(مفہم من تفسیر ابن کثیر واحسن البیان)

٭٭٭

کسی آدمی کی نماز اور روزہ تمہیں دھوکہ میں نہ ڈال دے

سیدنا عمر بن خطاب کا قول ہے کہ

“لا تغرنكم صلاة امرئ ولا صيامه، ولكن إذا حدث صدق، وإذا اؤتمن أدى.”

(مكارم الأخلاق للخرائطي : 556)

’’کسی آدمی کی نماز اور روزہ تمھیں دھوکے میں نہ ڈال دے۔ اصل یہ ہے کہ بات کرے تو سچ بولے اور امانت دی جائےتو اسے پورا لوٹائے! ‘‘

٭٭٭

تبصرہ کریں