مسجد اقصیٰ (تعارف اور مختصر تاریخ)۔ الشیخ حماد امین چاولہ

مسجد اقصیٰ کا محل وقوع

مسجد اقصیٰ شام کے علاقے (یعنی موجودہ فلسطین) میں واقع ہے اور اس کو القدس بھی کہا جاتاہے، القدس یروشلم کا عربی نام ہے۔ اسلام سے قبل اس کا نام ایک رومی بادشاہ ہیرڈوس نے ایلیا رکھا تھا اور یہ بحر روم سے 52 کلو میٹر ، بحر احمر سے 250 کلو میٹر اور بحر مردار سے22 کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ بحر روم سے اس کی اونچائی 750 میٹر اور بحر مردار کی سطح سے اس کی بلندی 1150 میٹر ہے۔ سب سے پہلے یہاں یبوسین آکر آباد ہوئے، ایک روایت ہے کہ اس شہر کو ”سام بن نوح “ نے آکر آباد کیا۔ سب سے پہلے 1013 قبل مسیح میں سیدناداؤد نے اس کو فتح کیا۔ (خطط الشام ج:5،ص:252، القدس دراسۃ وتاریخیۃً)

مسجد اقصیٰ کی تاریخی حیثیت

ایک قول ہے کہ زمین پر پہلی مسجد، مسجد ِاقصیٰ ہے، لیکن یہ بات درست نہیں کیونکہ قرآن مجید کی روشنی میں اس زمین پر اللہ کی عبادت کے لیے جو سب سے پہلا گھر و مسجد بنائی گئی وہ مسجد بیت الحرام ہے، جس کو فرشتوں نے تعمیر کیا ہے: جیساکہ صحیح بخاری میں بھی سیدناابوذر سے روایت ہے، جس میں یہ صراحت ہے کہ مسجد بیت الحرام کی تعمیر اور مسجد اقصیٰ کی تعمیر میں چالیس سال کا عرصہ ہے اور ایک روایت میں ہے کہ مسجد بیت الحرام کو ابن آدم کی پیدائش سے دو ہزار سال پہلے فرشتوں نے تعمیر کیا۔

امام قرطبی﷫ فرماتے ہیں کہ ان دونوں روایتوں سے یہ بات ثابت ہوئی کہ سیدناابراہیم بیت الحرام کے اور سیدناسلیمان مسجدِ اقصیٰ کے مجدّد ہیں، نہ کہ مؤسس اور مسجدِ اقصیٰ کا ذکر قرآن کریم کی اس آیت میں ہے، جس میں معراجِ نبوی ﷺکا تذکرہ ہے۔(الانس الجلیل بتاریخ القدس والخلیل ص:8-10)

مسجد اقصیٰ کی تعمیر کے ادوار اس بارے میں مختلف روایات ہیں کہ مسجد اقصیٰ کا مؤسّسِ اول کون ہے:

پہلا قول : سب سے پہلے فرشتوں نے تعمیر کی۔

دوسرا قول :سیدناآدم نے سب سے پہلے تعمیرکی۔

تیسرا قول :سیدناسام بن نوح سب سے پہلے تعمیر کرنے والے ہیں۔

اور چوتھا قول : سیدناداؤداورسلیمان ﷧ پہلے تعمیر کرنے والے ہیں۔

علامہ احمد بن عبد الواحد المقدسی فرماتے ہیں:

’’ ان سب روایتوں میں اس طرح تطبیق ہوسکتی ہے کہ سب سے پہلے فرشتوں نے ، پھر سیدناآدم نے، پھر سیدناسام بن نوح ﷧ نے اور پھر سیدناداؤد وسلیمان ﷧ نے بالترتیب تعمیر کیا ہو۔‘‘ (ایضاً)

مسجد اقصیٰ پر آنے والے حوادثات

مسجد اقصیٰ کی تعمیر کے بعد اس پر مختلف قسم کے حوادثات آئے، جس کی وجہ سے دوبارہ اس کی تجدید اور تأسیس کی ضرورت پڑتی رہی،لیکن تاریخ کی کتابوں میں چھ(6) حوادثات کا ذکر ہے، جن میں سرِ فہرست حوادث:

باہر سے القدس پر حملہ ہونا، مسجد کو دو مرتبہ نقصان پہنچنا ہے۔ ان دو واقعوں کا ذکر قرآن پاک کی سورہٴ اسراء کے شروع میں ہے۔

پہلا واقعہ جس میں مسجد کی تعمیر کو نقصان پہنچا، وہ سیدناسلیمان کی وفات کے 415 برس بعد 588 ق-م میں پیش آیا، جب اہل ِفارس کے بادشاہ بخت نصر نے اس پر حملہ کیا اور پورے شہر کو آگ لگادی، جس میں مسجد کی عمارت منہدم ہوگئی، پھر شاہ ایران کے تعاون سے دوبارہ اس کی تعمیر ہوئی۔

دوسرا واقعہ 63 ق-م میں ہوا، جس میں دوبارہ رومی قابض ہوگئے۔ پھر سیدناعیسیٰ کے رفع جسمانی کے چالیس سال بعد 70ء میں طیطلس نامی بادشاہ نے اس شہر کو بالکل تباہ کردیا، اس میں بھی مسجد کو نقصان پہنچا۔ 135ء میں رومی بادشاہ ہیرڈوس نے اس شہر کو دوبارہ بسایا اور اس کا نام ایلیاء رکھا۔ 614ء میں دوبارہ اہل فارس نے قبضہ کرلیا، لیکن مسجد اقصیٰ 70ء سے سیدنا عمر کے زمانے تک ویران رہی۔(تفسیر حقانی:5؍:64۔71؛ خطط الشام: 5؍252)

مسجد ِاقصیٰ کا اسلامی دور

سیدناعمر کے دور خلافت میں سیدناابو عبیدہ بن الجراح نے 16ھ میں بیت المقدس کا محاصرہ کیا اور ان کے سامنے اپنا پیغام رکھا، نہ ماننے کی صورت میں قتل اور صلح کی صورت میں جزیہ اور خراج کا حکم سنایا، تو وہ ایک شرط پر صلح کے لئے تیار ہوگئے کہ خلیفہٴ وقت صلح کے لئے خود تشریف لائیں۔ سیدنا ابوعبیدہ نے سیدناعمر کو خط لکھ کر ساری صورتحال سے آگاہ کیا تو سیدناعمر ، سیدناعلی کے مشورہ سے بیت المقدس جانے پر راضی ہوگئے، یوں 17ھ میں سیدناعمر کے دور خلافت میں مسجد اقصیٰ اسلام کے سائے میں آگئی۔ سیدناعمر نے مسجد کو صاف کروایا اور وہاں پر مسجد تعمیر کرالی، جس کو مسجد عمر کہتے ہیں۔(البدایہ والنہایہ: 12؍ 344تا 348؛ الروختین فی اخبار الدولتین: 3؍206-260)

اسلامی دور میں مسجد اقصیٰ کی تعمیر وترقی

17ھ میں فتح کے کافی عرصہ بعد اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان نے 65ھ میں اس کی تعمیر اور مرمت کا آغاز کیا اور ولید بن عبد الملک نے مصر کے سات سال کا خراج اس کی تعمیر کے لئے وقف کردیا تھا۔ 130ھ اور 158ھ کے زلزلوں میں اس کی عمارت کو نقصان پہنچا تو 169ھ میں مہدی کے دور حکومت میں دوبارہ اس کی تعمیر نو کی گئی۔ 407ھ کے زلزلے میں قبّہ کی دیوار یں منہدم ہوگئیں تو 413ھ میں ظاہر فاطمی نے اس کی دوبارہ تعمیر کی اور افرنگی بادشاہوں نے مسلمان بادشاہوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 492ھ میں بیت المقدس پر حملہ کردیا اور سیدنا عمر کے برخلاف اس بادشاہ نے مسلمانوں کا قتل عام کیا اور مسجد کی بے حرمتی کی اور مسجد میں گھوڑوں کے لئے اصطبل بنایا، جس کو ”اصطبل سلیمان“ کہا جاتا تھا اور مال متاع لوٹ لیا تھا۔ 91 سال تک مسجد اقصیٰ ان کے قبضہ میں رہی۔ پھر سلطان نور الدین زنگی کے فتوحات کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کے جانشین سلطان الناصر صلاح الدین یوسف بن ایوب نے 553ھ میں دوبارہ قبضہ کرلیا اور مسجد کی صفائی کروا کر اس کی مرمت کی۔ (معجم البلدان:؍168؛ خطط الشام: 5؍253،252)

اس کے بعد مسلمان بادشاہ اس کی مرمت اور تزیین میں حصہ لیتے رہے: 655ھ میں ملک معظم نے، 668ھ میں ظاہر بیبرس نے، 786ھ میں منصور قلادوں نے، 769ھ میں ملک اشرق نے، 789ھ میں ظاہر برثوق اور ظاہرجقمق العلانی نے، 877ھ میں الاشرف ابو النصر نے تجدید کی۔

خلافتِ عثمانیہ کے خلفاء بھی حصہ لیتے رہے، خاص طور پر سلیمان القانونی نے 949ھ میں تجدید کی۔ اس کے بعد عثمانی خلفاء نے اس کی طرف خاص توجہ نہ دی، بہرحال پھر بھی 1232ھ، 1256ھ، 1291ھ اور اس کے بعد بھی تزیین وآرائش کا کام جاری رہا اور موجودہ تعمیر ترک سلاطین کے دور میں سلطان عبد الحمید( 1853ء) اور سلطان عبد العزیز (1874ء) کے دور حکومت کی تعمیر کردہ ہے۔(خطط الشام: 5؍252،251؛ القدس دراسۃً تاریخیۃً)

مسجد ِاقصیٰ کی مساحت

مسجد اقصیٰ کا اطلاق اس پورے احاطے پر ہوتا ہے، جس کو سیدناسلیمان نے تعمیر کیا ہے اور اس پر مسجد اقصیٰ کا اطلاق کیا ہے۔ اس اعتبار سے اور ہردورمیں گز اور میٹر کے اختلاف کی وجہ سے مسجد اقصیٰ کے طول وعرض میں مؤرخین کے مختلف اقوال ہیں:”احسن التقاسیم“ اور ”مختصر کتاب البلدان“ میں ہے کہ مسجد کی لمبائی ایک ہزار گز اور چوڑائی 700 گز ہے۔(احسن التقاسیم: 147)

”معجم البلدان“ میں ہے کہ اس کی لمبائی اس کی چوڑائی سے زیادہ ہے۔

ناصر خسرو نے اپنے سفرنامے میں جو 438ھ میں ہوا، اس میں لکھا ہے کہ مسجد بیت المقدس کی لمبائی 754 گز اور چوڑائی 455 گز ہے، یہ خراسان وغیرہ کے گز کے حساب سے ہے۔

ابن جبیر نے اپنے سفرنامہ میں جو 578ھ- 581ھ میں ہوا، اس میں لکھا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی 780 گز لمبائی اور 450 گز چوڑائی ہے اور حدود حرم کے اندرونی ہال کا طول 600 گز اور عرض 700 گز ہے، نہایت عمدہ اور خوبصورت نقش ونگار کیا ہوا ہے۔

تمام مؤرخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسجد اقصیٰ روز اول سے جن حدود پر قائم ہوئی، آج بھی انہیں حدود پر قائم ہے۔ کبھی چار دیواری کے اندر پورے احاطے کو مسجد اقصیٰ کہا جاتا ہے اور کبھی صرف اس خاص حصہ کو مسجد اقصیٰ کہا جاتا ہے۔(القدس دراسۃً تاریخیۃً)

مسجد اقصیٰ کے متعلق فضائل

مسجد اقصیٰ کے فضائل احادیث میں آئے ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ”رسول اللہﷺ نے فرمایا :تین مسجدوں کے علاوہ (کسی دوسری جگہ کیلئے) تم اپنے کجاووں کو نہ باندھو (یعنی سفر نہ کرو): مسجد حرام، مسجد رسول (یعنی مسجد نبوی) اور مسجد اقصیٰ۔ “ (صحیح بخاری)

ایک روایت میں ہے کہ ”جو شخص بیت المقدس میں نماز پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کے تمام (صغیرہ) گناہ معاف فرمائیں گے۔‘‘ (فضائل بیت المقدس:ص107)

مسجد ِاقصیٰ کی حدود میں دیگر بھی ایسی چیزیں موجود ہیں، جو مسلمانوں کے لئے باعث فخر ہیں، جن میں سے حدود حرم میں واقع قبے، مینارے اور مدرسے ہیں، جنکو مسلمان بادشاہ مختلف ادوار میں تعمیر کرواتے رہے، ان میں سے چندمشہور قبّوں کے نام یہ ہیں:

قبۃ المعراج، قبۃ السلسلۃ، قبۃ النحویہ، قبۃ الصخرة۔ (خطط الشام: 5؍257)

ان سب میں سے زیادہ مقدس قبۃ الصخرة ہے، جس کا قدرے تفصیل سے ذکر کیا جاتا ہے۔

قبۃ الصخرة !

قبہ گنبد کو اور الصخرة چٹان کو کہتے ہیں، یہ قبہ ایک چٹان پر واقع ہے۔ ناصر خسرونے اپنے سفرنامہ میں اس کے اوصاف بیان کئے ہیں کہ یہ قبة الصخرة ایک چبوترہ میں واقع ہے اور صخرہ قبہ کے وسط میں ہے اور قبة الصخرة مثمّن الاضلاع (آٹھ پہلوؤں والا) ہے، آٹھ پہلوؤں میں سے ہر پہلو 33 گز کا ہے اور چاروں طرف دروازے ہیں اور قبہ کا اندرونی احاطہ 53 میٹر ہے، سیڑھیوں سے چڑھ کر اوپر کی طرف پہنچتے ہیں، سیڑھیوں کے اختتام پر دروازے ہیں اور قبہ کا اندرونی حصہ تین حصوں پر مشتمل ہے: پہلے میں چٹان، دوسرے میں ستون اور تیسرا حصہ دروازے کے ساتھ متصل ہے۔

قبہ میں اندر کی طرف ستون کی دوقطاریں ہیں۔ پہلی قطار چٹان کے اردگرد ہے، اس میں چار بڑے مربّعة الاضلاع (چار پہلووٴں والے) اور دو گول چھوٹے ستون ہیں۔ دوسری قطار ذرا فاصلہ پر ہے، اس میں آٹھ بڑے مسدّسۃ الاضلاع (چھ پہلووٴں والے) اور (16) سولہ چھوٹے ستون ہیں اور ان ستونوں پر سونے کا پانی چڑھا ہوا ہے۔

سب سے پہلے اس کی تعمیر خلیفہ عبد الملک بن مروان نے کی ہے یا تاریخ یعقوبی کے مصنف نے یہ ایک بات نقل کی ہے کہ جب خلیفہ عبد الملک بن مروان کا سیدناعبد اللہ بن زبیر سے اختلاف ہوا تو حجاز پر سیدناعبد اللہ بن زبیر کا کنٹرول تھا ، خلیفہ نے لوگوں کی توجہ حرمین شریفین سے ہٹانے کے لئے مسجد اقصیٰ میں قبۃ الصخرة تعمیر کروایا، لیکن یہ بات درست نہیں ہے، کیونکہ تاریخ یعقوبی کا مصنف شیعہ ہے اور وہ اموی خلفاء کو (اپنی شیعیت کی وجہ سے) پسند نہیں کرتا، دوسری وجہ یہ ہے کہ خلیفہ عبد الملک بن مروان نے اسی دور میں جامع مسجد دمشق اور دیگر مقدس مقامات پر شاندار، خوبصورت عمارتیں تعمیر کروائیں، یہ بھی ان میں سے ہے۔(خطط الشام: 5؍253؛ تاریخ یعقوبی: 2؍182 ،القدس)

بہرحال قبۃ الصخرة اموی دور کا ایک اہم شاہکار تصور کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے مسجد اقصیٰ کی رونق میں اور اضافہ ہوتا ہے۔ قبۃ الصخرة کی تعمیر مشہور تابعی ”رجاء بن حیوہ“ اور ”یزید بن سلام“ کی نگرانی میں مکمل ہوئی، جب تعمیر مکمل ہوئی تو ان حضرات نے خلیفہٴ وقت کو لکھا کہ ایک لاکھ دینار بچ گئے ہیں، تو خلیفہ نے ان کو ان کی ایمان داری اور دیانت کا انعام دینا چاہا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم اس اعزاز میں اور نعمت کے شکرانے کے طور پر اپنی بیویوں کے زیور اس پر لگادیں، چہ جائیکہ اس کے بدلے انعام لیں، تو خلیفہ نے حکم دیا کہ اس کے سونے کو پگھلا کر طلا کاری کردی جائے۔ یہ ان کے اخلاص کا نتیجہ تھا۔(فضائل بیت المقدس:ص73)

الصخرة

یہ قبہ جس چٹان پر واقع ہے، وہ چٹان ایک قدرتی پتھر ہے، جس کی لمبائی 56 فٹ اور چوڑائی 42 فٹ ہے اور نیم دائرے کی غیر منظم شکل ہے۔ ناصر خسرو اپنے سفرنامہ میں لکھتے ہیں کہ اس کا کل احاطہ 100 گز ہے اور یہ غیر منظم شکل ہے اور نہ ہی مدوّرة اور نہ ہی مربّعۃ، یہ عام پہاڑوں کی طرح ہے۔(القدس دراسۃً تاریخیۃً)

اس چٹان کے کئی فضائل ہیں ۔ سیدناابن عباس سے روایت ہے کہ یہ چٹان جنت کی چٹانوں میں سے ہے۔ اکثر مؤرخین کے نزدیک یہ وہی جگہ ہے، جہاں پر اسرافیل کھڑے ہوکر نفخہٴ اخیرہ پھونکیں گے۔ یہی انبیاء سابقین ﷩ کا قبلہ رہا ہے اور16،17 ماہ تک نبی کریمﷺ بھی اس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے۔ یہودیوں کا قبلہ اول ہونے کی وجہ سے عیسائی وہاں پر کوڑا کرکٹ پھینکتے تھے، جب سیدناعمر نے فتح کیا تو اس کو صاف کروایا۔(فضائل بیت المقدس:ص123)

غار

اسی چٹان کے نیچے ایک غار ہے، جو مربعہ شکل میں ہے ۔اس غار کی لمبائی 11 فٹ اور زمین سے اونچائی 30 فٹ ہے۔ غار تک پہنچنے کے لئے قبلہ کی طرف گیارہ سیڑھیاں ہیں اور غار کے دروازے کے پاس ایک عمارت ہے جو دوستونوں پر مشتمل ہے اور سنگ مرمر سے اس کی تزیین کی گئی ہے ۔ عمارت کے اندر دو محراب ہیں۔ محراب کے نیچے دوستون انتہائی خوبصورت اور سنگ مرمر سے بنے ہوئے ہیں۔ دائیں طرف والے محراب کے سامنے ایک چبوترہ ہے، جس کو مقامِ خضر کہا جاتا ہے۔ شمال میں واقع چبوترہ کو ”باب الخلیل“ کہا جاتا ہے۔ قبّہ اور غار کا فرش خوبصورت سنگ مرمر سے بنا ہوا ہے،جس سے اس کی چمک اور خوبصورتی میں اور اضافہ ہوتا ہے۔(خطط الشام:5؍254)

مسجد کا اندرونی حصہ

مسجد کے اندرونی حصے کے مغربی جانب جامع النساء ہے، جس کو فاطمیین نے تعمیر کروایا اور مغربی جانب جامع عمر ہے، جس کو سیدناعمر نے فتح کے بعدتعمیر کرایا تھا اور اسی عمارت کی طرف ایک بڑا خوبصورت ایوان ہے، جس کو” مقامِ عزیر“ کہا جاتا ہے، اسی ایوان کے شمال کی جانب ایک خوبصورت محراب ہے، جس کو” محرابِ زکریا“ کہا جاتا ہے اور اس کی لمبائی اور چوڑائی 606 میٹر ہے۔ مغربی جانب ایک لوھے کا جنگلہ ہے، جس میں ایک محراب ”محرابِ معاویہ “کے نام سے ہے۔ قبلہ کی جانب ایک بڑا محراب ہے، جس کو محرابِ داؤد کہتے ہیں اور اس کے ساتھ ایک منبر ہے، یہ منبر سلطان نور الدین زنگی نے مسجد اقصیٰ کے لئے بنوایا تھا، خود انتقال کرگئے ، لیکن ان کے جانشین سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس کو فتح کے بعد حلب سے منگوا کر نصب کیا۔(خطط الشام: 5؍255)

دیوارِ براق

یہ دیوار روم کے جنوب مغرب میں ہے، اس کی لمبائی 47 میٹر اور بلندی 17 میٹر ہے۔ روایات میں ہے کہ حضور ﷺ نے معراج والی رات یہاں اپنی سواری باندھی تھی، اسی مناسبت سے اس کو دیوار براق کہتے ہیں۔

مسند احمد کی روایت میں ہے کہ سیدناعمر نے فتح کے بعد کعب احبارسے پوچھا کہ کہاں نماز پڑھوں؟ انہوں نے فرمایا کہ چٹان کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھیں، تاکہ سارا قُدُس آپ کے سامنے ہو۔ سیدناعمر نے فرمایا کہ آپ نے تو یہودیوں سے ملی جلی بات کہی، میں تو وہاں پر نماز پڑھوں گا، جہاں پر رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی تھی، چنانچہ آپ قبلہ کی جانب گئے اورفاتحین صحابہ کے ساتھ براق باندھنے کی جگہ کے قریب نماز پڑھی، آپ نے وہاں پر مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ (البدایہ والنہایہ:12؍347؛ خطط الشام: 5؍255؛ القدس دراسۃً تاریخیۃً)

مینارے

مسجد اقصیٰ کے شمال اور مغرب کی جانب چار مینارے تھے، یہ چاروں مینارے چاروں دروازوں کے ساتھ تعمیر کئے گئے تھے، ان کو باب المغاربۃ کا مینارہ، باب السلسلہ کا مینارہ اور باب الاسباط کا مینارہ کہا جاتا ہے۔ یہ مینارے ممالیک کے دور حکومت (769ھ تا 1367ھ) میں تعمیر ہوئے۔(خطط الشام: 5؍254)

مسجد اقصیٰ میں تعلیم وتعلّم اور علمی شخصیات

مسلمان بادشاہوں نے مسجد اقصیٰ کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اس میں تعلیم و تعلّم کے لئے بھی سہولتیں فراہم کیں:

طلباء کے لئے کمرے اور درسگاہیں تعمیر کیں، ان میں سے جامعۃ المغاربہ، مدرسہ عثمانیہ، مدرسہ کریمیہ، مدرسہ باسطیہ اور مدرسہ طولونیہ وغیرہ تعمیر کرائے۔ مسجد اقصیٰ کی طرف بہت سی علمی اور مذہبی شخصیات نے سفر کئے، جن میں مشہور نام یہ ہیں:

سیدناعمر کے دور خلافت میں سیدنا عبادة بن صامت اور شداد بن اوس وہیں رہے۔ مشہور مفسر مقاتل بن سلیمان اور فقیہ امام عبد الرحمن بن عمرو اوزاعی اور عراق کے مشہور عالم امام سفیان ثوری اور مصر کے امام لیث بن سعد اور فقہ شافعی کے بانی امام محمد بن ادریس شافعیاور حجۃ الاسلام ہیں۔

اس کے بعد عیسائیوں کے قبضہ میں جانے کے بعد یہ سلسلہ موقوف ہوگیا تھا ، لیکن سلطان صلاح الدین ایوبی ﷫ کی فتح کے بعد دوبارہ اس میں تعلیم اور تعلّم کا سلسلہ جاری ہوگیا اور ہندوستان کے مشہور خطیب مولانا محمد علی جوہر کا مقبرہ مدرسہ خاتونیہ کے باہر واقع ہے۔(معجم البلدان: 5؍172)

تبصرہ کریں