مصائب کے موقعوں پرثابت قدمی۔ خطیب: ڈاکٹر صالح بن محمد آل طالب

مصائب کے موقعوں پرثابت قدمی۔ خطیب: ڈاکٹر صالح بن محمد آل طالب

ترجمہ : ڈاکٹرعبدالمنان محمد شفیق (مدرس ام القری یونیورسٹی ، مکہ مکر مہ)

بے شک ہر قسم کی حمد اللہ ہی کے لئے ہے۔ ہم اسی کی حمد بیان کرتے ہیں ۔ اسی سے مدد طلب کرتے ہیں ۔ اسی سے مغفرت چاہتے ہیں ۔ ہم الله کی بارگاہ میں اپنے نفسوں کی برائیوں اور اپنی بد اعمالیوں سے پناہ طلب کرتے ہیں ۔ جس کو اللہ ہدایت دے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے اور جس کو گمراہ کر دے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ما سوا اللہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ اللہ کی رحمت ، سلامتی اور برکت نازل ہو آپﷺ پر، آپﷺ کے اہل وعیال پر، آپﷺ کے صحابیوں پر تابعین پر اور تا قیامت حق کے ساتھ ان کی اتباع کرنے والوں پر۔

أمابعد:

بلاشبہ سب سے بہتر کلام اللہ کی کتاب ہے۔ اور سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے۔ اور بد تر ین امر دین میں نئی ایجاد کردہ چیزیں ہیں ۔ ہر نئی ایجاد کردہ چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔

اے لوگو! میں خود کو اور آپ کو اس چیز کی نصیحت کرتا ہوں جس کی نصیحت اللہ نے گذشتہ قوموں کو کی اور موجودہ امت کو بھی۔ اللہ کا فرمان ہے:

﴿وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ﴾

’’تم سے پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی نصیحت کی تھی اور اب تم کو بھی یہی نصیحت کرتے ہیں کہ الله کا تقویٰ اختیار کرو۔ ‘‘ (سورة النساء: 131)

لہٰذا جس نے اللہ کا تقوی اختیار کیا وہ نجات پا گیا ، اور جو خبردار رہا وہ محفوظ ہو گیا ، جو غافل رہا وہ نادم ہوا۔ عنقریب لوگوں کو زندہ کیا جائیگا۔ میزان نصب کئے جائیں گے ۔ اس لئے اپنا سامان تیار کرلو ۔

فرمان الٰہی ہے:

﴿وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ۖ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ﴾ (سورۃ البقرہ: 281)

’’اس دن سے ڈرو جس دن تم سب اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور ہرشخص کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ ‘‘

مسلمانو! جب اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ اس باعظمت دین کا سورج اس ملک سے طلوع اور روشن ہو، اور اس نے لکھ دیا کہ یہ رات و دن کی حد کو پہنچے۔ یقیناً اسی وقت سے پاک ذات نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری لے لی اور اس نے فیصلہ کر دیا کہ اس اُمت کا ایک گروہ ہمیشہ غالب رہے گا اسے کسی کی مخالفت اور کنارہ کشی سے کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ اور اس جماعت والے وہ ہیں جو انہیں چیزوں پر عمل پیرا ہیں، جس پر نبی کریم ﷺ اور آپ کے اصحاب تھے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس عظیم دین کے پیرو کاروں پر آزمائش وابتلاء کی سنت جاری کی جو رسول کریم ﷺاور آپ کے محترم صحابہ کرام سے شروع ہو کر تا قیامت ان کے متبعین پر جاری رہے گی ۔ تا کہ اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو جدا کر دے اور سچوں کو جان لے۔ اور جب جب زمانہ نبوت کے بعد کچھ دہائیاں گذری ہیں تو امت کے باہر یا اندر سے دین اور منافقت ظاہر ہوئے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کچھ ایسے علماء اور حاکموں کا انتظام کرتا رہا ہے، جو اس کی دین کی طرف سے مدافعت کرتے ہیں ، لوگوں کو حق دکھاتے ہیں۔ ان کو صاف خالص گھاٹ کی طرف لوٹاتے ہیں ، اور ان کو قرآن و سنت کی پابندی کرواتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَالَّذِينَ يُمَسِّكُونَ بِالْكِتَابِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُصْلِحِينَ﴾

’’جو لوگ کتاب کی پابندی کرتے ہیں اور جنہوں نے نماز قائم کی، یقیناً ایسے نیک کردار لوگوں کا اجر ہم ضائع نہیں کریں گے۔ ‘‘ (سورۃ الاعراف: 170 )

موجودہ اور گذشتہ صدی میں امت کو اس کے دین اور قوت کو بہت نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ اور یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے جزیرہ عرب ،نز ول وحی کی جگہ اور رسولﷺ کے ہجرت گاہ کی حفاظت فرمائی ، جہاں عالمی جھگڑوں اور دنیاوی جنگوں کے مابین ایک باوقار حکومت وجود میں آئی جس کو اللہ نے جنگوں کے فتنوں ، فکری اور گروہی کشمکش سے نجات دی۔ اور جس نے خود کے لئے دین و دنیا میں ایک درمیانہ منہج اختیار کیا۔ لہٰذا اس نے اپنا دستور قرآن اور حدیث کو قرار دیا ، بدعات اور خرافات سے کنارہ کشی اختیارکی ، لوگوں کے لئے خالص دین کو ظاہر کیا۔ اور نہ ہی اس کو اپنے دین پر مضبوطی سے جمے رہنے نے اپنی دنیا کی سیاست، اقتصاد علوم، صنعت و حرفت، فکر اور گفت وشنید میں حصہ لینے سے روکا۔ تو اللہ نے اس کو اقتدار عطا کی ۔ زمین کے خزانوں کو اس کے لئے کھول دیا اور اسے مالدار کر دیا۔ لہٰذاوہ بھی مظلوم کے لیے تقویت، کمزور کے لئے مدد، عمل، تجارت اور طلب رزق کا مرکز بنی۔

اس کی بھلائیاں ہر محتاج ملک و فردکو پہنچیں ۔ اور اس کا انکارصرف وہی کرے گا جو حاسد ہے۔ اور اس ملک کو یہ مقام صرف اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حاصل ہوا کیونکہ اس نے خالص توحید اپنائی۔ عظمت والی شریعت کی تنفیذ کی ۔ اللہ کے دین میں عدل وحق کے ساتھ اعتدال کا راستہ اپنایا۔ صحیح اسلام کے اقدار واصولوں کی پابندی کی یہاں تک کہ اسے تمام مسلمانوں کا احترام حاصل ہوا اور انہوں نے اس کی قیادت کو سراہا۔ ساتھ ہی پوری دنیا کے اکثر مسلمانوں میں بہت خیر موجود ہے۔ وہ اس کی تائید و حمایت کرتے ہیں ۔ اور جب بھی حادثات رونما ہوتے ہیں تو مملکت حق و عدل پر قائم اصول و اقدار ہیں جن میں اس کی تائید و حمایت اس کے سگے برادران اورمخلص خلفا کرتے ہیں۔

مسلمانو! ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کی سنت حق و باطل کے مابین کشمکش، انسانوں کے درمیان اختلاف اور لڑائی جھگڑا اورشر خیر میں مبتلا کرتا رہا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے ولیوں کو ان کے حوالہ نہیں کر دیا ہے بلکہ ان کو تعلیم عطا کی ہے۔ ان کی رہنمائی کی ہے۔ اور ان کے سامنے کتاب رکھ دی ہے جس کے طریقہ سے ہدایت طلب کرتے ہیں اور جس کے نور سے فائدہ اٹھاتے ہیں، ضروری ہے کہ یہی ان کا ملجا وماوی ہو۔ اور اللہ کے رسول کی سنت ان کا قدوہ ونمونہ ہو۔ خواہ ان کی بلائیں کہیں بھی ہوں اور ان کی پریشانیاں وتکلیفیں کیسی بھی ہوں۔

پوری دنیا کے مسلمانو ! تمہارے لئے اللہ کی کتاب سے یہ ایک مشعل اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابیوں کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعہ میں ایک درس ہے، جس میں اہل ایمان کے لئے ثابت قدمی، زخمیوں کے لئے تعزیت اور ثابت قدم رہنے والوں کے لئے تقویت ہے۔ بنابریں سورہ آل عمران میں قرآنی آیات نے ہمارے نبی ﷺ اور آپ کے صحابیوں کی ان کی مشرک قوم کے ساتھ جد و جہد، مسلمانوں کا بدر میں غلبہ حاصل کرنا، احد میں ان کا شکست کھا جانا، آزمائشیں اورمشقتیں، مسلمانوں اور شہداء کے حالات ، منافقوں اور دشمنوں کے رویے کو پیش کیا ہے۔ یہ آیات ایک لمبی سرگذشت عبرتوں ونصیحتوں کے ساتھ پیش کرتی ہیں ۔ واقعات کا سبب بیان کرتی ہیں ۔ قوانین ربانیہ کی تصویرکشی کرتی ہیں ۔ اسباب و انجام میں غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں ۔ اصول ومواقف میں یقین اور ثابت قدمی پر ابھارتی ہیں ۔ اصول کے باب میں یہ آیت ہے:

﴿فَإِنْ حَاجُّوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ﴾ (سورۃ آل عمران:20)

’’اب اگر یہ لوگ آپ سے جھگڑا کریں تو ان سے کہو میں نے اور میرے پیروؤں نے تو اللہ کے آگے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ ‘‘

مواقف کے متعلق یہ آیت ہے:

﴿وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾ (سورۃ آل عمران:139)

’’دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے، اگر تم مومن ہو۔ ‘‘

جبکہ یہ آیت زخمی مؤمنوں کی تعزیت میں ہے:

﴿إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ ۚ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَتَّخِذَ مِنكُمْ شُهَدَاءَ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ ‎0 وَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ﴾ (سورۃ آل عمران:140۔141)

’’ اس وقت اگر تمہیں زخم لگا ہے تو اس سے پہلے ایسا ہی زخم تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکا ہے۔ یہ تو زمانہ کے نشیب وفراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ (شکست اُحد ) اس لئے تھی کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو جان لے اور تم میں سے بعض کو شہادت کا درجہ عطا فرمائے ۔ اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ہے۔ (یہی وجہ بھی تھی) کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو بالکل الگ کردے اور کافروں کو مٹا د ے ۔ کیونکہ باطل کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا ہے۔ ‘‘

ایسی پریشانیاں اور آزمائشیں ضروری ہیں جو دشمن کو دوست سے اجاگر کر دیں ، خودغرضوں و مفادات پرستوں کو الگ کر دیں ۔ اہل اخلاص وصدق کو باقی رکھیں جو اپنے نبی کی مصیبت و تکلیف میں مدد کرتے ہیں۔ اور اپنے رب کی پناہ میں آنا چاہتے ہیں خواہ کتنے بھی برے حالات ہوں۔

مسلمانو! احد میں شکست کے بعد مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ بھی واقع ہوا، اس کا تذکرہ اللہ نے اس سورہ میں کیا ہے۔ اسی وجہ سے اس نے اپنے اولیاء کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:

﴿الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ﴾ (سورۃ آل عمران: 172)

’’جنہوں نے زخم کھانے کے بعد بھی الله اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہا۔ ‘‘

اور اس واقعہ کا نام غزوہ حمراء الاسد ہے، جس میں سیاست ، غلبہ اور فدائیت کا درس ہے۔ کیونکہ مسلمانوں کو اُحد میں زخم لگا۔ ان کو شکست ہوئی ۔ 70 صحابہ کرام شہید ہوئے۔ مشرکین واپس ہوئے اور روحاء میں جا کے قیام کیا۔ جس سے نبی کریمﷺ کو یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں مشرکین مسلمانوں کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر مدینہ اور اس میں موجود مال و اولا د پر دوبارہ حملہ نہ کریں۔

راوی کا بیان ہے: جب رسول اللہ ﷺ نے جنگ احد کے بعد صبح کی نماز اَدا کی اور آپ کے ساتھ اوس وخزرج کے سردار تھے، جنہوں نے مسجد ہی میں رات گذاری تھی ۔ لہٰذا جب اللہ کے رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز سے واپس ہوئے تو آپ نے سیدنا بلال کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ

’’اپنے دشمن کا پیچھا کرو اور ہمارے ساتھ صرف وہی جائے گا جس نے کل لڑائی میں حصہ لیا ہے۔ ‘‘

راوی کا کہنا ہے کہ یہ سن کر سیدنا سعد بن معاذ اپنے گھر کے لئے نکل پڑے تا کہ اپنی قوم کو روانگی کا حکم دیں ۔

راوی کا کہنا ہے کہ عام طور سے لوگ زخمی تھے۔ بنوعبدالاشہل کے عام لوگ بلکہ سبھی زخمی تھے۔ چنانچہ سعد بن معاذ آئے اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے تمہیں اپنے دشمن کا پیچھا کرنے کا حکم دیا ہے۔

راوی کا بیان ہے کہ یہ سن کر سیدنا اُسید بن حضیر نے فرمایا جبکہ ان کے بدن پر سات زخم تھے اور وہ ان کا علاج کرنا چاہتے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں اور اطاعت کرتے ہیں ۔ لہٰذا انہوں نے ہتھیار اٹھایا اور اپنے زخم کی مرہم پٹی کا ارادہ نہیں کیا اور رسول اللہ ﷺ سے جا ملے۔

اسی طرح سیدنا سعد بن عبادہ اپنی قوم بنو ساعدہ کے پاس تشریف لائے اور ان کو کوچ کرنے کا حکم دیا، لہذا وہ لوگ بھی ہتھیار پہن کر نبی کریم ﷺ سے جا ملے ۔ اور سیدنا ابو قتادہ ابل خر بی کے پاس گئے، درانحالیکہ وہ اپنے زخموں کا علاج کر رہے تھے اور ان سے کہا کہ رسول اللہﷺ کا منادی تمہیں اپنے دشمنوں کا پیچھا کرنے کا حکم دے رہا ہے۔ یہ سنتے ہی وہ اپنے ہتھیاروں پر جھپٹ پڑے اور اپنے زخموں کی کوئی مرہم پٹی نہیں کی ۔ چنانچہ بن سلمہ سے چالیس زخمی روانہ ہوئے جن میں طفیل بن نعمان کو 13 زخم تھے۔ خراش بن صمہ کو 10 زخم تھے۔ کعب بن مالک کو 13 سے 19 کے درمیان زخم تھے۔ قطبہ بن عامر کو 9 زخم تھے۔ یہاں تک کہ وہ سب لوگ راس الثنیہ کے قریب واقع ابوعنبہ کنواں کے پاس نبی کریم ﷺ سے جا ملے۔ وہ سب اسلحہ سے لیس تھے اور رسول اللہ ﷺ کے لئے صف بہ صف کھڑے ہوئے ۔ چنانچہ جب نبیﷺ نے ان کو دیکھا اور زخم ان کے اندر پھیلے ہوئے تھے تو فرمایا :

’’ اے اللہ تو بنوسلمہ پر رحم فرما۔ ‘‘

واقدی کہتے ہیں کہ مجھ سے عتبہ بن جبیر نے اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے حوالے سے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ ورافع بن سہل بن عبدالاشہل اُحد سے واپس ہوئے۔ وہ دونوں بہت زیادہ زخمی تھے۔ ان میں عبداللہ زخم سے زیادہ بوجھل تھے۔ لہٰذا جب لوگوں نے صبح کی اور سیدنا سعد بن معاذنے ان کوخبر دی کہ رسول اللہﷺ نے ان کو اپنے دشمنوں کے پیچھا کرنے کا حکم دیا ہے۔ تو ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا، اللہ کی قسم! اگر ہم نے کوئی غزوہ رسول اللہﷺ کے ساتھ چھوڑ دیا تو یہ دھوکہ ہے۔ الله کی قسم! ہمارے پاس سواری کا کوئی جانورنہیں ہے اور ہم نہیں جانتے کہ کیا کریں۔ یہ سن کر عبداللہ نے کہا کہ ہمارے ساتھ چلو ، رافع نے جواب دیا کہ نہیں ، اللہ کی قسم! میں نہیں چل سکتا ہوں ۔ ان کے بھائی نے کہا: ساتھ ساتھ میانہ روی سے چلتے ہیں۔ چنانچہ وہ دونوں پاؤں گھسیٹتے ہوئے نکلے۔

لیکن رافع کمزور پڑ گئے۔ لہٰذ اعبداللہ ان کو اپنی پشت پر اٹھا کے ایک مشکل چڑھائی پر چلتے اور دوسری مشکل چڑھائی پر پیدل چلتے تھے۔ یہاں تک کہ عشاء کے وقت رسول اللہﷺ کے پاس پہنچے ۔ اس راستے سیدنا عباد بن بشر آپ کی نگرانی پر تھے۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ کس چیز نے تم دونوں کو روکے رکھا؟ تو انہوں نے آپ کو اپنی بیماری کے بارے میں بتلایا ۔ چنانچہ آپ نے ان کے لیے خیر کی دعا کی۔ اور فرمایا کہ اگر تم کو ایک طویل مدت ملی تو تم کو گھوڑے ،، خچر اور اونٹ کی سواری حاصل ہوگی۔

اللہ کے رسول ﷺ نکلے جبکہ آپ کا چہره دوز رہ کے اثر سے زخمی تھا ۔ آپ کی پیشانی کا اوپری حصہ مجروح تھا، آپ کے رباعی دانت ٹوٹ گئے تھے۔ آپ کا ہونٹ اندر سے زخمی تھا۔ آپ کا دایاں کندھا ابن قمیئہ کے وار سے کمزور تھا اور آپ کے دونوں گھٹنوں میں خراش تھا۔ اس حالت میں رسول اللہﷺ مسجد میں داخل ہوئے۔ دو رکعت نماز ادا کی۔ اسی درمیان لوگ اکٹھا ہو چکے تھے ۔ عوالی کے لوگ بھی آ چکے تھے۔ کیونکہ ان کو بھی مدد کی پکار پہنچ چکی تھی پھر آپ نے دو رکعت پڑھی ۔

بعد ازاں آپ نے اپنے گھوڑے کو مسجد کے دروازہ پر لانے کو کہا، اور آپ کے گھوڑے کو سیدنا طلحہ نے پکڑا کیونکہ انھوں نے منادی کو اعلان کر تے ہوئے سنا تھا۔ لہٰذ وہ نکل کر دیکھنے لگے کہ رسول اللہﷺکب روانہ ہوتے ہیں؟ اس بیچ اچانک رسول اللہﷺ نکلے۔ آپ کے اوپر زرہ اور خودتھا۔ صرف آپ کی دونوں آنکھیں نظر آتی تھیں۔ آپ نے پوچھا: اے طلحہ! تمہارا اسلحہ کہاں ہے؟ میں نے جواب دیا ، قریب ہی ہے ۔

سیدنا طلحہ کہتے ہیں ، میں وہاں سے دوڑتے ہوئے نکلا ، اپنی زرہ پہنی اور اپنی ڈھال اپنے سینہ پر ڈالا درانحالیکہ میرے جسم پر 9 زخم تھے۔ اور میں اپنے زخم سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے زخم کے بارے میں فکر مند تھا۔ پھر رسول اللہﷺ سیدنا طلحہ کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ اس وقت قوم کہاں پر ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ وہ لوگ سیالہ میں ہیں ۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ میرا یہی خیال تھا لیکن اب اس لیے وہ لوگ کل کی طرح ہم سب کو ہرگز نقصان نہیں پہنچا پائیں گے، یہاں تک کہ اللہ ہمارے لیے مکہ فتح کردے ۔

رسول اللہﷺ اپنے صحابیوں کے ساتھ روانہ ہوئے یہاں تک کہ حمراء الاسد میں پڑاؤ ڈالا، سیدنا جابر بیان کرتے ہیں کہ ہمارا عام تو شہ کھجور تھا۔

سیدنا سعد بن عبادہ ذبح کرنے کے قابل 30 اونٹ لیکر حمراء پہنچے ۔ لہٰذا کسی دن 2 اور کسی دن 3 ذبح کرتے تھے۔

رسول اللہ ﷺ ان کو دن میں لکڑیاں جمع کرنے اور شام کو آ گ جلانے کا حکم دیتے ۔ لہٰذا ہر آدمی آگ جلاتا تھا۔ ہم لوگ ان راتوں میں 500 آلاؤ جلاتے تھے جو دور ہی سے دکھائی دیتا تھا۔ جس سے ہمارے خیمہ والوں کا ذکر چاروں طرف پھیل گیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے دشمن کو ذلیل و خوار کیا۔ جس کے بارے میں الله کا قول ہے:

﴿الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ 0 فَانقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ وَاتَّبَعُوا رِضْوَانَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ﴾ (سورۃ آل عمران: 173۔174)

’’جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں، تم ان سے ڈرو، تو یہ سُن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا، اور انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے، آخر کار وہ الله تعالیٰ کی نعمت اورفضل کے ساتھ لوٹے ، ان کو کسی قسم کا ضرر نہ پہنچا، اور انہوں نے الله تعالیٰ کی رضامندی کی پیروی کی ۔ اللہ بہت بڑا فضل والا ہے۔‘‘

یہ حمراء الاسد کا قصہ اور یہ ان کی خبر ہے۔

بلاشبہ نبی کریمﷺ اور آپ کے اصحاب نے مشقت کے باو جود صبر کا مظاہرہ کیا، اپنے ساتھ اپنی تکلیفوں اور زخموں کو لے کر روانہ ہوئے اور اپنی پسلیوں کے درمیان اپنے کرب کو چھپائے ہوئے تھے تا کہ دشمن کے لیے واضح کر دیں کہ اب بھی ان میں طاقت اور قوت ہے۔ گھر کے حامی ومحافظ موجود ہیں اور زخموں کے باوجود ان کو شکست نہیں ہوئی۔ اور جب چراگاہ سے شیر غائب ہوں تو اس کو لومڑیاں روندتی ہیں ۔ اس طرح اللہ نے مؤمنوں کی مدد فرمائی اور ظالموں کے مکر کو ناکام کردیا۔ میں اللہ کی جناب میں مردودو شیطان سے پناہ مانگتا ہوں :

﴿ وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ‎0‏ إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ ۚ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَتَّخِذَ مِنكُمْ شُهَدَاءَ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ 0 وَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ ‎0‏ أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ﴾ ( سورۃ آل عمران: 139۔142)

’’دل شکست نہ ہو، غم نہ کرو تم ہی غالب رہو گے اگر تم مؤمن ہو۔ اس وقت اگر تمہیں زخم لگا ہے تو اس سے پہلے ایسا ہی زخم تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکا ہے۔ یہ تو زمانہ کے نشیب وفراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے در میان گردش دیتے رہتے ہیں ۔ ( شکست احد ) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو جان لے اور تم میں سے بعض کو شہادت کا درجہ عطا فرمائے ۔ اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ہے۔ (یہ وجہ بھی تھی) کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو بالکل الگ کردے اور کافروں کو مٹا دے۔ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم یوں جنت میں چلے جاؤ گے، حالانکہ اب تک اللہ تعالیٰ نے یہ معلوم نہیں کیا کہ تم میں سے جہاد کرنے والے کون ہیں اور صبر کرنے والے کون ہیں۔ ‘‘

اللہ تعالی میرے اور آپ کے لیے قرآن و سنت میں برکت عطا فرمائے ۔ اور ان دونوں میں موجود آیتوں اور حکمت سے نفع پہنچائے۔ میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور میں اپنے لیے اور آپ کے لیے الله تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔

دوسرا خطبہ:

ساری تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو بلند و بالا اور قدرت والا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ﴾

’’گناہ معاف کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے۔ سخت سزادینے والا اور بڑا صاحب فضل ہے۔ اس کے علاوہ کوئی معبود حقیقی نہیں ہے اور اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے۔ ‘‘ (سورۃ غافر: 3)

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہت اس کی ہے۔ اسی کے لیے حمد ہے۔ وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اس کو کبھی موت نہیں آئے گی۔ اس کے ہاتھ میں خیر ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد ﷺاللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، خوشخبری دینے والے ، ڈرانے والے اور روشن چراغ ہیں ۔ اللہ کی رحمت ، سلامتی اور برکت ہو آپ پر، آپﷺ کے اہل وعیال پر، آپﷺ کی بیویوں پر آپﷺ کے صحابیوں پر تابعین پر اور تا قیامت ان کی اتباع کرنے والوں پر۔

امابعد: بلاشبہ ہم مشاہدہ کررہے ہیں کہ مشرق ومغرب مسلمانوں کے اوپر ٹوٹ پڑا ہے۔ اسی وقت ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ پوشیده دشمن اٹھ کھڑا ہوا ہے جس نے اپنی لمبی تاریخ میں امت کے دشمنوں کی تائید و حمایت اور اندر سے اس کی صفوں میں انتشار پیدا کرنے کے لیے اس کے پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا کوئی موقع نہیں ضائع کیا ہے۔ اس بارے میں اس نے تاریخ کے ان حوادث اور مظالم کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے جس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اس کے اسباب کا اس سے کوئی رشتہ ہے۔

وہ ہم پر دہشت گردی کا الزام عائد کرتے ہیں جبکہ ہم خود اس کی آگ میں جل رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ واضح تضاد اورظلم ہے جو امت کو ایک اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے نفس کی طرف سے مدافعت کے لئے مہمیز فراہم کرتا ہے۔ اور جو کچھ ہم سیاستوں میں تبدیلی اور اتحادوں میں تغیر دیکھ رہے ہیں اس سے ہرگز ہمیں نقصان نہیں ہوگا، جب تک ہم اس ذات کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں جو صرف اسی صورت میں تبدیلی کرتا ہے جب ہم تبدیل ہو جائیں۔ اور جو ہم سے دست بردارنہیں ہوتا ہے، اگر ہم اس سے پناہ طلب کرتے ہیں۔ لہٰذا وہی دنیا و آخرت میں ہمارا محافظ ہے۔

اور اس کا قاصد کسی بھی حال میں بے یارو مددگار نہیں ہوگا۔ بلاشبہ ہر وقت اور خاص طور سے ان حالات میں اللہ تعالیٰ سے قربت ضروری اور واجب ہے۔ ضروری ہے کہ لوگوں کو اللہ کی طرف چلا کے لایا جائے اور ان کے تعلقات اس سے مربوط ہوں ۔ البتہ لوگوں کی اللہ سے روگردانی دشمنوں کے لیے بہترین تحفہ ہے۔

اور یقیناً ہمارا ملک اور اس کے خواص و عوام کو اللہ کے فضل و کرم سے واقعات اور سازشوں کا شعور ہے۔ اور ہم ان حوادث کے موقع پر اس ملک میں جوعرب اور مسلمانوں کا حقیقی گہوارہ ہے، اخوت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ہماری قیادت بھی جو بردباری اور دور اندیشی کے ساتھ وہ اسی اصول پر ثابت قدم رہتی ہے جس پر وہ قائم ہوئی ہے۔

امت اپنے مستقبل کی طرف امید کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ اور سرگرم ہے تا کہ آگے بڑھے اور سبقت لے جائے۔ امت ہرگز خود سپردگی نہیں کرے گی اگر چہ رکاوٹیں اس کا محاصرہ کر لیں، کیونکہ یہی رحمت و غلبہ والی امت ہے۔

اللہ کی قسم! اللہ ہمیں ہرگز رسوا وذلیل نہیں کرے گا اور نہ ہم سے دست بردار ہو گا۔ اگر ہم اپنے ان اغراض و مقاصد کو پورا کرتے ہیں جن کا حکم قرآن نے دیا ہے:

﴿الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ ۗ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ ﴾

’’یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم زمین میں ان کے پاؤں جما دیں تو یہ نماز قائم کریں، زکوة دیں ۔ نیکی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں۔ اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ‘‘ (سورۃ الحج: 41)

بلاشبہ خیرو بھلائی کا کام کرنا اس کی طرف دعوت دینا اس امت کی ظاہری علامتیں ، باطنی صلاحیتیں ، ابدی عمل اور اس کی پوری دنیا میں شہرت کا سبب ہے۔

اللہ کے رسالت کی حامل اور دعوت حق کو اپنانے والی امت سے اس کے علاوہ اور کیا انتظار کیا جارہا ہے کہ

عزت وشرف کی نگراں ہو، حقارتوں سے بلند و برتر ہو، باہمی رحمت کی نصیحت کرنے والی ہو۔ اس کی طرف اس حیثیت سے دیکھا جارہا ہو کہ وہ کمزور کے لئے تقویت مظلوم کے لئے پناہ گاہ ہے، اور ہمارا ملک اللہ کے فضل وکرم سے اس کا حقدار ہے اور اس میں یہ خوبی ہے۔

توحید سب سے زیادہ اللہ محبوب ہے جبکہ شرک سب سے زیادہ نامحبوب ہے۔ ایمان سب سے زیادہ پسندیدہ ہے جبکہ کفر سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے۔ اور عدل سب سے زیادہ مرغوب ہے کہ علم سب سے زیادہ غیر مرغوب ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ﴾ (سورۃ الانبیاء:105)

’’اور ہم زبور میں پندونصیحت کے بعد دیکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے۔ ‘‘

یہ ملک اللہ کے فضل و کرم سے پہلے اپنے رب کی وجہ سے پھر اپنے ثابت اصولوں اور مضبوط ایمان کی وجہ سے طاقتور ہے۔ اپنے افراد، طاقتوں اور امکانات کی وجہ سے طاقتور ہے۔ اور ہرگز کسی ایسی چیز کی اجازت نہیں دے گا جو اس کے امن کو تہ و بالا کر دے ، ، اس کی امت کو تفرق ومنتشر کر دے، اور یہی ملک اسلام کا گہوارہ ،مسلمانوں کا قبلہ اور حرمین شریفین کا نگراں اور محافظ ہے ۔ اور اس کی سرحدیں اربوں مسلمانوں کے دلوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ جبکہ اس کی ہیبت اور احترام سمندروں اور خشکیوں کو تجاوز کئے ہوئے ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے اور تمام مسلمان ممالک کی حفاظت فرمائے ، اے اللہ ہم اپنی طاقت وقوت سے تیری طاقت و قوت کی طرف لوٹتے ہیں، ہم نے اللہ پر توکل کیا۔ اے ہمارے رب تو ہمیں ظالم قوم کے لئے فتنہ نہ بنا اور اپنی رحمت سے ہمیں نجات دے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں