معروف خوشی اور غمی دونوں میں پسندیدہ وصف- مولانا محمد عبد الہامی العمری

المعروف یہ لفظ قرآن مجید اور احادیث میں متعدد بار استعمال ہوا ہے۔ اس کا اطلاق ہر اس بات ؍ فعل یا صفت پر ہوتا ہے جو بجائے خود بھلی ہو اور انسانی طبیعت اس کی طرف مائل ہوتی ہو۔ اس کے برعکس منکر ہے جو کسی بھی ناپسندیدہ فعل یا صفت کو کہا جاتا ہے۔ شرعی اصطلاح میں ہر وہ بات، فعل یا صفت جس کا شریعت میں حکم دیا گیا یا پسند کیا گیا ہو اسے معروف کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی طبیعت میں خود اس کا ادراک رکھا ہے۔

﴿وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا 0‏ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا﴾ (سورۃ الشمس)

اس کے باوجوداگر اس کا حکم بھی شریعت میں دیا گیا ہو تو اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے اور اس سے روگردانی منکر متصور ہو گی۔

المعروف کی اصطلاح قرآن مجید میں مختلف مناسبتوں سے استعمال ہوئی ہے، عقائد، عبادات، دعوت وارشاد، اخلاقیات اور معاملات وغیرہ وغیرہ ہر جگہ معروف کی اہمیت ہے، اسے اپنانے کا حکم دیا گیا، ان میں سے ایک اہم مسئلہ عائلی زندگی، ازدواجی تعلقات کے استحکام میں اسے بہت ہی نمایاں حیثیت حاصل ہے۔

دوسرے پارہ کے آخری حصہ میں میاں بیوی کے درمیان ہونے والی ناچاقیوں کی چند صورتوں کا ذکر کیا گیا ، جس سے علیحدگی اور طلاق کی نوبت آسکتی ہے۔ وہاں خصوصیت سے اس کا حکم دیا گیا، سورۃ البقرہ کی آیات 226 سے 242 کے درمیان بارہ مرتبہ معروف کو اپنانے کا حکم دیا گیا۔

رشتے ناطوں کو خصوصاً شوہر اور بیوی کے رشتہ کو نبھانے کے لیے معروف کی بہت اہمیت ہے۔ اس کے بغیر میاں بیوی کا رشتہ برقرار نہیں رہ سکتا۔ حتیٰ کہ اگر ناگزیر اسباب سے تفریق یا طلاق کی نوبت پیش آ جائے تب بھی اس نازک معاملہ میں معروف کے تقاضوں پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا۔ سورہ طلاق میں تین مرتبہ اس کو دھرایا گیا، کسی کلمہ کو بار بار دہرانا اور مختلف پیرایوں میں اس کا حکم دینا اس کی اہمیت کو واضح کرتا ہے اور اس سے اس میں پوشیدہ حکمتیں اور مصلحتیں بھی سامنے آتی ہیں، ورنہ اس تاکیدی حکم کی خلاف ورزی کے سبب جن دردناک حالات سے فریقین اور متعلقین کو گزرنا ہوتا ہے وہ کسی صاحب بصیرت سے مخفی نہیں ۔ اس حکم عدولی کا خمیازہ، متعلقین کو زندگی بھر بھگتنا ہوتا ہے، جگہ جگہ ہمیں حسن معاشرت کا تاکیدی حکم دیا گیا، خصوصاً مردوں کو کہ وہ اپنی بیویوں کے ساتھ معروف کا برتاؤ کریں۔

﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ (سورۃ النساء: 19)

اس کےبغیر شادی کے فوائد کا حصول ممکن نہیں۔

رشتے ناطوں کے مسئلہ میں تاکیدی حکم دیا گیا کہ

﴿وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ﴾ (سورۃ النساء: 1)

’’کہ تم اللہ سے ڈرو ، ان رشتوں کے متعلق، تم سے روز قیامت پوچھا جانے والا ہے۔‘‘

دنیا میں کوئی طاقتور اور صاحب اثر و رسوخ ہو سکتا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ طاقت آدمی کو مغرور بنا دے، یاد رکھو، کل قیامت کے دن سب کمزور ہوں گے، طاقت صرف اللہ ذوالجلال والاکرام کے پاس ہو گی اور وہاں انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا۔

رسول اللہﷺ کی حیات طیبہ کی چند آخری وصیتوں میں سے ایک خواتین کے ساتھ حسن سلوک کے متعلق تھی اور حجۃ الوداع کے موقع پر بھی آپ نے جو ہدایات دی، ان میں ایک خواتین کے ہی بارہ میں تھی کہ

«واستوصوا بالنساء خيرا»

’’کہ عورتوں کے ساتھ بھلائی اور خیر کو لازم پکڑو۔‘‘ (سنن ابن ماجہ: 1851)

ویسے اسلامی تعلیمات میں حسن اخلاق کا حکم نہایت تاکید سے دیا گیا بلکہ اسے کمال ایمان قرار دیا گیا۔

«أكمل المؤمنين إيمانا أحسنهم خلقا وخير كم خيركم لنسائهم» (جامع ترمذی:1162)

ہمارے نبی کریمﷺ کے ذاتی اخلاق کی خاص طور پر تعریف کی گئی۔

﴿ وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾

’’کہ آپ حسن اخلاق کی چوٹی پر ہیں۔‘‘

آپ کے اخلاق کریمانہ کی صحابہ کرام کے علاوہ مشرکین عرب اور معاندین بھی تعریف کیا کرتے، سیرت وتاریخ کی کتابیں آپ کے اخلاق حمیدہ کے واقعات سے بھری پڑی ہیں، گھر والوں کے ساتھ آپﷺ کے سلوک کی عملی زندگی سے دو مثالیں بطور نمونہ ذکر کی جاتی ہیں۔

ام المؤمنین سیدہ خدیجہ کی گواہی: جب پہلی وحی کے بعد غار حراء سے آپﷺ گھر تشریف لے آئےاور صورتحال کی خبر دیتے ہوئے انجانے خطرہ سے آگاہ فرمایا:

«لقد خشيت على نفسي»

’’تو ام المؤمنین نے پر اعتماد انداز میں تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ”كلا والله ما يحزنك الله أبدا… ” (صحیح بخاری)

’’اللہ کی قسم! ہرگز ایسے نہیں ہو سکتا کہ آپ کو کوئی گزند پہنچے، پھر ایک ایک کر کے آپ کے ان ذاتی کمالات اور اوصاف حمیدہ کا تذکرہ کیا، جس کا پندرہ سالہ ازدواجی زندگی کے دوران مشاہدہ کیا تھا۔‘‘

اور دوسری گواہی آپ ﷺ کی وفات کے بعد کی ہے۔ لوگوں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ سے سیرت کے حوالہ سے کچھ سننے کی خواہش کی تو ام المؤمنین نے انہیں سے استفسار کیا کہ

کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟

سوال کرنے والوں نے سمجھا کہ شاید ام المؤمنین ہمارا سوال نہیں سن پائیں۔ انہوں نے سوال کی وضاحت کی کہ ہم سیرت کے حوالہ سے سننا چاہتے ہیں۔ اس پر ام المؤمنین نے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ میں اسی کا جواب دے رہی ہوں، تم سیرت سننا چاہتے ہو:

“كان خلقه القرآن”

’’ یعنی آپﷺکی زندگی قرآن مجید کا عملی نمونہ تھی۔‘‘ (سنن ابو دادؤ؛ جامع ترمذی)

جن باتوں کا قرآن مجید میں حکم دیا گیا کہ آپﷺ اسی کے مطابق زندگی بسر فرمایا کرتے۔

یہ ہے معروف کے ساتھ گھر میں زندگی بسر کرنے کی شہادت، لیکن افسوس کہ ہمارے گھرانے اس حکم ربانی اور سنت مصطفیٰ سے خالی ہوتے جا رہے ہیں۔ نہ عیش میں سنت کی پاسداری اور نہ ہی طیش میں جواب دہی کا تصور، وصال میں بھی منکر اور فصال میں بھی منکر۔

زوجین کو صبر اور برداشت کا حکم دیا گیا:

«لَا يَفرَكْ مؤمنٌ مؤمنةً » (صحیح مسلم: 1469)

کہ کسی مسلمان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی مؤمن عورت کی تذلیل کرے اگر کوئی بات ناگوار بھی محسوس ہو تو برداشت سے کام لیا جائے، ممکن ہے کہ اس کی کوئی ایک بات ناپسند ہو تو اس کی کسی خوبی سے وہ سکون بھی پائے۔ اگر باہمی مصالحت نہ بھی ہو سکے تو کم سے کم طلاق کے لیے مفاہمت ہو سکتی ہے، جو کہ معروف کے ساتھ طلاق دینے کا اسلوب ہے، جیسا کہ حکم الٰہی ہے:

﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾

مصالحت میں بھی معروف اور طلاق کی نوبت آ جائے تب بھی معروف کے ساتھ اپنے راستے الگ کر لیے جائیں۔ ورنہ اس حکم ربانی پر عمل نہ کر کے دونوں گھرانے نفرت اور عداوت کی جس آگ میں جھلستے رہتے ہیں اور اولاد زندگی بھر اس کی تپش میں دق ہوتی رہتی ہے وہ کسی صاحب بصیرت سے مخفی نہیں۔ اس سلسلہ میں ہونے والے سنگین نقصانات کی روک تھام کے لیے اس وقت کتنے سرکاری اور غیر سرکاری ادارے کام کر رہے ہیں لیکن پھر بھی نقصانات کی بھرپائی نہیں ہو پاتی۔ ہدایات ربانی کو نظر انداز کر کے نقصانات سے بچنا ممکن نہیں۔

لہٰذا طرفین کو چاہیے کہ اگر زندگی معروف سے نہیں گذر رہی ہے تو کم سے کم جدائی کی راہیں معروف سے طے کی جائیں تاکہ اولاد اس منکر کی تیش سے کسی حد تک محفوظ رہ سکے۔

٭٭٭

 

تبصرہ کریں