معروف خوشی اور غمی دونوں میں پسندیدہ وصف (قسط 2)- مولانا محمد عبد الہادی العمری

المعروف کی اصطلاح قرآن مجید میں مختلف مناسبتوں سے استعمال ہوئی ہے، عقائد، عبادات، دعوت وارشاد، معاملات اخلاقیات وغیرہ وغیرہ ہر معاملہ میں معروف کی اہمیت ہے، اس پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا، ان میں سے ایک اہم مسئلہ عائلی زندگی ، ازدواجی تعلقات کے استحکام میں اسے نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ خوشحال زندگی اور پُررونق خاندان اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے، اچھی فیملی شوہر، بیوی، اولاد، پوتے، نواسے وغیرہ قدرت کی ایک اعلیٰ نشانی ہے۔

﴿ وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَجَعَلَ لَكُم مِّنْ أَزْوَاجِكُم بَنِينَ وَحَفَدَةً وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ ۚ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَتِ اللَّهِ هُمْ يَكْفُرُونَ﴾

’’اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تم میں سے ہی جوڑے بنائے اور ان جوڑوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور تمہیں عمدہ کھانے دیے، کیا لوگ پھر بھی باطل پر ایمان لائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کریں گے۔‘‘(سورۃ النحل: 72)

پرسکون گھرانہ سے ہی انسان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ تکمیل پاتا ہے۔ انبیاء کرام ﷩ کی اس حیثیت کو نمایاں طور پر بیان کیا گیا۔

﴿وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّن قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً﴾ (سورۃ الرعد: 38)

’’ہم نے آپ سے پہلے بھی رسول بھیجے اور ہم نے ان سب کو بیوی بچوں والا بنایا۔ ‘‘ یعنی ان کا خاندان قبیلہ اور بیوی بچے تھے۔

قرآنی تعلیمات کے مطابق مثالی جوڑا وہ ہے جسے ایک دوسرے کے ذریعہ سکون حاصل ہو، ان کے درمیان محبت اور رحمت ہو۔

﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ﴾ (سورۃ الروم: 21)

’’اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم آپس میں سکون پا سکو اور تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کی۔ غوروفکر کرنے والوں کے لیے یقیناًاس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔‘‘

اس نعمت کے حصول کے لیے سیرت و سنت نبویﷺ میں انسان کے لیے عملی زندگی کا روڈ میپ دیا گیا اور ساتھ ہی کامیابی کے لیے دعا بتلائی گئی:

﴿ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا﴾

’’اے ہمارے پروردگار تو ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک یعنی سکون عطا فرما اور ہمیں متقی لوگوں کا پیشوا بنا دے۔‘‘(سورۃ الفرقان: 74)

مذکورہ نعمت عظمیٰ اور کامیابی کے حصول کے لیے تعلیمات نبوی میں وضاحت سے رہنمائی کی گئی، شریک زندگی کے انتخاب کا معیار عقد نکاح، رخصتی اور ازدواجی زندگی کے مختلف مرحلوں میں معروف پر عمل کیا جائے گا تو اس کے اعلیٰ ثمرات ہر موڑ پر دیکھنے میں آئیں گے۔

معیار انتخاب: لڑکی یا لڑکے کے انتخاب میں لوگ اپنے ذہنی رجحان کے مطابق ترجیح دیتے ہیں، کسی کی نظر میں کامیاب زندگی کا معیار مال ومتاع ہے، تو کہیں حسن وخوبصورتی کو اہمیت دی جاتی ہے تو کسی کی نگاہ میں خاندانی جاہ و جلال کی عظمت ہوتی ہے تو کوئی اخلاق وسیرت کی پختگی کو ترجیح دیتا ہے، ہادی برحق ﷺ کی ہدایت ہے کہ سیرت وکردار پر توجہ مرکوز کیجیے:

«تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ»(صحیح بخاری: 5090؛ صحیح مسلم: 1466)

یہی اصول لڑکے کے انتخاب میں بھی پیش نظر رہے۔

«إِذَا خَطَبَ إِلَيْكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَزَوِّجُوهُ إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِيضٌ»(جامع ترمذی: 1084)

انتخاب کے مسئلہ میں معروف پر عمل کرنے کا مطلب ذاتی اخلاق اور کردار کو ترجیح دینا ہے، اس کے ساتھ اگر دیگر اچھی صفات بھی پائی جائیں تو یہ اضافی فائدہ سونے پر سہاگہ ہو گا۔

اسلام کی نظر میں باکردار خاتون کا وزن اتنا زیادہ ہے کہ وہ دنیا کی گراں مایہ پونچی شمار ہوتی ہے۔

«الدُّنْيَا مَتَاعٌ، وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ»

اس کے ناتواں کندھوں سے ذمہ داریوں کا بوجھ بھی کم کر دیا گیا، کوئی خاتون پانچ نمازوں کی پابندی کرے، رمضان کے روزے رکھے، عفت وعصمت کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی فرمانبردار ی کرے وہ کسی بھی دروازہ سے جنت میں داخل ہو سکے گی۔

«إِذَا صَلَّتْ الْمَرْأَةُ خَمْسَهَا، وَصَامَتْ شَهْرَهَا، وَحَفِظَتْ فَرْجَهَا، وَأَطَاعَتْ زَوْجَهَا، قِيلَ لَهَا ادْخُلِي الْجَنَّةَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شِئْتِ» (مسند احمد: 1661)

کوئی بھی مسلمان خاتون مذکورہ باتوں پر عمل کر کے جنت کی مستحق ہو سکتی ہے جو کہ حقیقی اور بڑی کامیابی ہے۔

بروقت شادی: نوجوانوں کو بروقت شادی کرنے کی ترغیب دی گئی، یہ معروف کے ساتھ جوانی کے ایام گذارنے کے لیے ضروری ہے، ورنہ شادی میں تاخیر مختلف منکرات کا سبب بنے گی، اس سے جسمانی، ذہنی، اخلاقی، طبی انفرادی اور اجتماعی نقصانات مرتب ہوں گے۔

شادی کے مختلف مراحل میں اعتدال

شادی کے مختلف مراحل میں معروف پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا، اس میں طرفین کی آسانی کا پا س و لحاظ رکھا جائے، بیجا رسومات، فخر ومباہات، فضول خرچی، ریاکاری اور منکر کی بدترین مثالیں ہیں۔ فرمان نبویﷺہے کہ خیر وبرکت والی عورتیں وہ ہیں جن پر مالی بوجھ کم سے کم ہو۔

« إنّ أعظمَ النِّساءِ برَكةً أيسرَهنَّ صداقًا» (مسند احمد: 6؍145)

اخراجات کے مسئلہ میں اعتدال پر عمل ضروری ہے۔

﴿وَالَّذِينَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا ‎﴾ (سورۃ الفرقان: 67)

مہر میں اعتدال

مہر کے مسئلہ میں غلو کو ناپسند کیا گیا، یہ نہ لڑکی کی قیمت ہے اور نہ ہی معاوضہ یا خاندانی وجاہت کا ذریعہ سیدنا عمر بن خطاب نے فرمایا کہ اگر بھاری مہر خاندانی شرافت اور اللہ کے ہاں تقویٰ کی علامت ہوتا تو خاتم النبیینﷺ اس پر بدرجہ اولیٰ عمل فرماتے، لیکن آپﷺ نے ایسے نہیں کیا۔

« لَا تُغَالُوا صَدَاقَ النِّسَاءِ، فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا، أَوْ تَقْوًى عِنْدَ اللَّهِ، كَانَ أَوْلَاكُمْ وَأَحَقَّكُمْ بِهَا مُحَمَّدٌﷺ» (سنن ابن ماجہ: 1887)

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ازواج مطہرات کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ رکھا جو کہ پانچ سو درہم بنتے ہیں۔

«كَانَ صَدَاقُ رَسُولِ اللهِ ﷺ؟ قَالَتْ: «كَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا»، قَالَتْ: «أَتَدْرِي مَا النَّشُّ؟» قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَتْ:«نِصْفُ أُوقِيَّةٍ، فَتِلْكَ خَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ» (صحیح مسلم: 1426)

دربار رسالت ﷺ میں ضرورت پر مہر کے لیے ایک لوہے کی انگوٹھی بھی قابل قبول قرار دی گئی اور اگر وہ بھی میسر نہ ہو تو جو کچھ لڑکے کو قرآن مجید کا حصہ حفظ ہے وہی دلہن کو سکھا دیا جائے تو اتنی محنت بھی بطور مہر قابل قبول ہے۔

«انْظُرْ وَلَوْ خَاتِمًا مِنْ حَدِيدٍ»زَوَّجْتُكَها بما معكَ مِنَ القُرْآنِ (صحیح بخاری: 5132)

یعنی شادی کو آسان سے آسان بنا دیا گیا تاکہ معروف پر عمل کرتے ہوئے کسی بھی مرحلہ میں دشواری نہ ہو۔

مال و دولت میں قلت یا کثرت بجائے خود معیار نہیں۔ اگر انتخاب کے مسئلہ میں ہدایت نبوی ﷺ پر عمل کیا جائے تو مالی حالات بدل سکتے ہیں۔

﴿إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ﴾ (سورۃ النور: 32)

تفسیر ابن ابی حاتم میں آیت کی تفسیر کرتے ہوئے حکمت سے پر بات درج کی گئی کہ اگر تم شادی کی انجام دہی میں حکم الٰہی پر عمل کرو گے تو قادر مطلق خوشحالی کے دروازے کھول دے گا۔ (تفسیر ابن ابی حاتم)

امام ابن جریر طبری ﷫ نے لکھا کہ نکاح کے ذریعہ تم تونگری تلاش کرو۔ (تفسیر ابن جریر: 9؍ 311)

معروف کے ساتھ نکاح کرنے والوں کے لیے نصرت الٰہی کی نوید ہے، ان میں سے ایک ایسا شخص جو عفت وعصمت کی حفاظت کے لیے نکاح کرے۔

«والناكحُ يريدُ العفافَ» (جامع ترمذی: 1655)

رشتہ طلب کرنے میں پہل

صاحب کردار نوجوان لڑکی یا لڑکے کے انتخاب میں اولیاء امور کو پہل کرنا چاہیے، مقامی رواج کے تقاضے کچھ بھی ہوں عموماً لڑکی والے منتظر ہوتے ہیں کہ رشتہ طلب کرنے میں لڑکے کے ذمہ داران پہل کریں ورنہ شاید لڑکی کی اہمیت گھٹ جائے گی۔ یہ ایک بناوٹی اصول ہے اور بے جا تکلف ہے۔ سیدناموسیٰ کے کردار کی عظمت کا نمونہ سامنے آتے ہی مرد صالح سیدنا شعیب نے خود ہی پہل کرتے ہوئے اپنی بیٹی کی شادی کی پیشکش کی۔

﴿قَالَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَيَّ هَاتَيْنِ ﴾ ( سورۃ القصص: 27)

سیدنا عمربن خطاب نے اپنی بیٹی سیدہ حفصہ کے رشتہ کیلیے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عثمان کے سامنے تجویز رکھی، لیکن بعد میں وہ سید المرسلین ﷺ کے عقد نکاح میں آ کر امہات المؤمنین کی فہرست میں شامل ہوئیں۔

لڑکا اور لڑکی کی رضامندی

معروف کے ساتھ رشتہ طے کرنے میں دونوں کی رضامندی ضروری ہے۔ عموماً لڑکے کی رضامندی پر توجہ دی جاتی ہے لیکن لڑکی کی مرضی معلوم کرنے کی کوشش کم کی جاتی ہے بلکہ بعض گھرانوں میں اس کو نظر انداز ہی کر دیا جاتا ہے، یہ ایک معاشرتی منکر ہے اور لڑکی کو دیئے گئے شرعی حق میں دست درازی ہے، حالانکہ رسول اللہﷺ کی ہدایت اس سلسلہ میں بہت واضح ہے۔

لا تُنْكَحُ الأيِّمُ حتّى تُسْتَأْمَرَ، ولا تُنْكَحُ البِكْرُ حتّى تُسْتَأْذَنَ (صحیح بخاری: 6970)

شادی شدہ عورت سے (مطلقہ یا بیوہ) نکاح کے لیے مشورہ کیا جائے گا اور کنواری کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہیں کیا جائے گا۔

اگر لڑکی یتیم ہو تو اس کی درماندگی کا استحصال کرتے ہوئے اس کو حاصل شرعی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

الْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا فَإِنْ صَمَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا وَإِنْ أَبَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا (جامع ترمذی: 1109)

اجازت لینے اور مرضی معلوم کرنے کے عرف عام میں کئی طریقے متداول ہیں، ان میں سے کسی پر عمل کیا جا سکتا ہے لیکن اجازت ضروری ہے۔

لیکن دیکھا جاتا ہے کہ بعض گھرانوں میں زبردستی کی شادی عام سی بات ہے، اس زبردستی کی شادی کے بھیانک نتائج اور منکر اثرات سے ہر باشعور واقف ہو گا۔

لڑکی کا رشتہ معروف کے ساتھ طے کرنے میں مزید رہنمائی کی گئی کہ اس کی ماں سے مشورہ کر لیا کرو، کیونکہ لڑکیاں اس موضوع پر باپ کے مقابلے میں ماں کے ساتھ زیادہ بے تکلفی سے گفتگو کر سکتی ہیں۔

«آمِرُوا النِّسَاءَ فِي بَنَاتِهِنَّ» (سنن ابو داؤد: 2095)

گویا لڑکی سے اجازت خانہ پری کے طور پر نہیں بلکہ اسے پسند اور رضامندی کے اظہار کا موقع دیا جا رہا ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر شادی کو ناپسند کیا گیا ، یہ ایک منکر ہے، جس کے نقصانات شادی کے بعد بھی دیکھے جا سکتے ہیں، جبر و اکراہ کی شادی تو قابل قبول ہی نہیں، یہ ایک منکر عمل ہے، جسے اسلام نے سخت ناپسند کیا ہے۔

عہد نبویﷺ میں ایک خاتون خنساء بنت خدام کا نکاح ان کے والد نے ان کی اجازت کے بغیر کر دیا، انہوں نے اس کی شکایت رسول ﷺ سے کی، آپﷺ نے اس نکاح کو مسترد فرما دیا۔

زَوَّجَهَا أَبُوهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ فَرَدَّ النَّبِيُّ ﷺ نِكَاحَهُ (جامع ترمذی: 1108)

ایک کنواری لڑکی کا نکاح جب اس کی مرضی کے بغیر کیاگیا تو آپﷺ نے اس کو اختیار دیا کہ چاہو تو باپ کے فیصلہ کو قبول کر لو، ورنہ رد کر دو، گویا اجازت کے بغیر کی جانے والی شادی فسخ کرنے کا اختیار دلہن کو دیا گیا۔

رسول اللہﷺ کا یہ فرمان سن کر اس دلہن نے کہا کہ والد کے کئے ہوئے نکاح کو قبول کرتی ہوں لیکن میں نے چاہا کہ ایسا قانون بن جائے کہ کوئی باپ اپنے اختیارات کا غلط فائدہ نہ اٹھا سکے۔

أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي، وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ تَعْلَمَ النِّسَاءُ أَنْ لَيْسَ إِلَى الْآبَاءِ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ (سنن ابن ماجہ: 1874)

دیکھا گیا کہ اس مسئلہ میں بعض اوقات افراط وتفریط کا مظاہرہ ہوتا ہے، ایک طرف لڑکی کی پسند کو بالکل نظر انداز کر دیا جاتا ہے تو دوسری طرف ولی اور سرپرست کی اجازت کی اہمیت نہیں، یا شادی سے پہلے ہی دوستی، سیر وتفریح پھر شادی کا فیصلہ نکاح سے پہلے ایک مرتبہ دیکھنے کی اجازت ہے لیکن گل چھرے اڑانے اور مٹرگشتی کی اجازت نہیں، یہ دونوں منکرات ہیں۔

اگر ابتدائی مراحل سے آخر تک یعنی رخصتی تک معروف پر عمل کیا جائے تو آئندہ زندگی میں بھی معروف نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے، ازدواجی زندگی میں معروف کے تقاضوں پر عمل کرنے میں دونوں کو آسانی ہو گی۔ جس کا حکم دیا گیا کہ رشتوں کے مسئلہ میں تم تقویٰ شعاری کو اپناؤ۔

﴿وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾ (سورۃ النساء: 1)

’’اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بچو، بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔‘‘

اللہ کا نام لے کر اور دین کا حولہ دے کر جس رشتہ کو حلال کر لیا گیا، اس کے کچھ تقاضے اور ذمہ داریاں بھی ہیں، ان کی بابت دونوں عند اللہ جواب دہ ہوں گے۔ رسول اللہﷺ کا ارشاد بہت ہی واضح ہے:

فَاتَّقُوا اللهَ فِي النِّسَاءِ، فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللهِ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللهِ (صحیح مسلم: 1218)

شوہر اور بیوی دونوں کی اپنے اپنے دائرہ میں معروف کے ساتھ کچھ ذمہ داریاں ہیں، لہٰذا کوئی اپنی طاقت کا غلط استعمال نہ کرے، دونوں ایک دوسرے کے لیے ضروری اور تکمیل کا ذریعہ ہیں ۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے گویا لباس کی طرح ہیں۔

﴿هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ ﴾ (سورۃ البقرہ: 187)

اور فرمایا: ﴿وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ (سورۃ البقرہ: 228)

’’عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے ہیں۔‘‘

مردوں کو خصوصیت کے ساتھ حکم دیا گیا کہ معروف کے ساتھ برتاؤ کرو، عورت اپنی جبلت اور فطرت کے اعتبار سے نسبتاً کمزور واقع ہوئی ہے، کبھی جذبات کی رو میں بہہ کر کمزور فیصلے کر سکتی ہے، یہاں چشم پوشی سے کام لینے کا حکم دیا گیا۔ عورت کو پسلی سے تشبیہ دی گئی جو کہ قدرے ٹیڑھی ہوتی ہے، اس کو سیدھا کرنے کے بجائے اسی حالت میں رکھتے ہوئے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، اس کی کسی غلطی یا کوتاہی کو نظر انداز کیا جائے تو ممکن ہے، اس میں پائی جانے والی بہت سی خوبیوں سے زندگی کی رونقیں دوبالا ہو جائیں۔

معروف کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں کی نگاہیں مثبت پہلوؤں پر ہوں، کمزوریاں از خود عفو ودرگزر کی چادر میں ڈھک جائیں گی۔

ازدواجی زندگی میں منکر نتائج سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ زبان کی حفاظت کی جائے، ایک دوسرے کے عیوب کا منفی اسلوب میں تذکرہ نہ کیا جائے ، چاہے وہ قدو قامت کے بارے میں ہو یا شکل وصورت کے متعلق، ایک دوسرے کے احباب خاندان کی عیب جوئی سے پرہیز کیا جائے، آپس میں اہانت آمیز رویہ نہ اختیار کیا جائے، یہ سب منکرات ہیں جن سے خوشگوار زندگی داغدار ہو سکتی ہے۔ اس ضمن میں ہدایات ربانی اور ارشاداتِ نبوی ﷺ کو مذاق نہ سمجھو۔

﴿وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا﴾ (سورۃ البقرہ: 231)

ورنہ خاندانی نظام تباہ ہو جائے گا اور افراد خاندان منکر کے دلدل میں دھنستے چلے جائیں گے۔

تبصرہ کریں