موت ایک حافظ قرآن کی! (اداریہ) محمد عبد الہادی العمری

دنیا میں مشاہیر اپنے اپنے پس منظر کے مطابق مختلف قسم کے ریکارڈ بناتے ہیں، ہمارے ممدوح نے ایک ماہ سے کم میں مکمل قرآن مجید حفظ کر کے ایک ریکارڈ قائم کیا، جی ہاں! آپ نے درست پڑھا ہے ایک ماہ سے کم میں مکمل قرآن حفظ کرنے کی سعادت پائی، لیجیے ان کی ہی زبانی اس کرشمہ کی داستان سنیے:

مرکزی جمعیت اہلحدیث برطانیہ کی یہ دیرینہ روایت رہی ہے کہ اس کی زیرنگرانی ہر سال دو تربیتی اجتماعات منعقد ہوا کرتے تھے، جس میں ملک بھر سے اراکین جمع ہو کر 24 گھنٹے روحانی اور تربیتی ماحول میں بسر کر کے اپنے ایمان وعمل کو جلا بخشتے۔ پروگرام کا ایک حصہ علماء کرام کے ہلکے پھلکے عنوانات پر تذکیری خطابات کا ہوتا۔ 1989ء کے اجتماع میں ڈاکٹر حافظ عبد العلی حامد صاحب کا بھی خطاب رکھا گیا تھا۔ وہ ابھی برطانیہ میں نو وارد تھے۔ بیشتر اراکین سے ان کی اس پروگرام میں پہلی بار ملاقات ہو رہی تھی، خطاب سے پہلے میں نے مختصر تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ لوگ اپنے بزرگوں کے حوالہ سے نہ جانے کیا کیا، کہانیاں بیان کرتے ہیں، لیکن آنے والے مقرر وہ ہیں جنہوں نے ایک ماہ میں قرآن مجید حفظ کر کے ایک ریکارڈ قائم کیا ہے، یہ کہانی نہیں، زندہ حقیقت ہے، اس جملہ کا تعارف اثر کچھ ایسا ہوا کہ شرکاء کی نظریں ان پر جم گئیں اور سب ہی کی خواہش تھی کہ اپنی تقریر سے پہلے اس کرشمہ کی تفصیل بتائیے، ہمارے لیے ایک ماہ میں ناظرہ تلاوت کر کے ختم کرنا مشکل ہوتا ہے، تو آپ نے حفظ کیسے کر لیا۔ اگرچیکہ ڈاکٹر صاحب کو میرا تعارفی یہ جملہ پسند نہیں آیا کہ اس کا ذکر کیوں کیا لیکن دیرینہ تعلقات کی بنا کچھ کہا نہیں، ان کی عام عادت تھی کہ مختلف صلاحیتوں سے متصف ہونے کے باوجود مجلس میں بولنے سے زیادہ سننے کو ترجیح دیتے اور اگلی نشستوں پر براجمان ہونے کے بجائے جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتے، گویا حدیث کے مطابق گمنانی کو ترجیح دیتے:

«إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِيَّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ»

’’اللہ اپنے اس بندہ کو پسند فرماتا ہے جو متقی، بے نیاز اور گمنان رہے یعنی مجلس میں آئے تو خصوصی برتاؤ کی تمنا نہ ہو اور نہ آئے تو کمی محسوس نہ کی جائے، ہلکا پھلکا شخص۔ ‘‘ (صحيح مسلم: 2965)

پھر انہوں نے حفظ کی حیرت انگیز داستاں جو بیان کی وہ کچھ یوں تھی، اس کا اصل صلہ وہ اپنی والدہ محترمہ کو دے رہے تھے کہ میرے بڑے بھائی حافظ قرآن تھے، لیکن جوانی ہی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ والدہ انہیں یاد کر کے بہت رویا کرتے تھیں، ایک تو نوجوان بیٹے کی جدائی کا غم دوسرے وہ اکثر کہا کرتی تھیں کہ نہیں معلوم میرے بیٹوں میں کوئی حافظ بن سکے گا یا نہیں۔ نیک دل پاکیزہ صفت ماں کے آنسو میرے اندر جذب ہو تے گئے، یاد رہے کہ ان کی والدہ مشہور عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد نعمان اعظمی﷫ کی دختر اور کئی نامور علماء کی بہن تھیں۔ پھر رمضان سے پہلے موقع کچھ ایسا آیا کہ علاقہ کی مسجد فیض عام میں حافظ کی ضرورت محسوس کی گئی۔ میں نے قرآن سنانے کا وعدہ کر لیا۔ دوست احباب مذاق ہی سمجھتے رہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ روزانہ ایک پارہ حفظ کر کے سناؤ گے۔ لیکن میں نے کمر کس لی۔ دن بھر خوب محنت کر کے رات ایک پارہ سنا دیا کرتا اور جو حصہ قدرے آسان ہوتا یا کچھ سورتیں جو یاد تھیں اس دن ایک پارہ سے زیادہ یاد کر لیتا تاکہ عید سے ایک دو دن قبل مکمل ہو سکے۔ یوں تقریباً ستائیسویں رات آخری پارہ سنا ڈالا، گھر مسجد اور محلہ ہر جگہ خوب واہ واہ ہوئی، سب سے زیادہ ماں کو اطمینان اور خوشی ہوئی۔ پھر بھلا ہو ، علاقہ کے ایک مخلص بزرگ کا جنہوں نے مجھے پابند کیا کہ عید کے بعد روزانہ نصف جزء پختہ کر کے سنایا کرو، کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ جس تیزی سے حفظ کیا ہے ، اسی تیز سے بھول بھی سکتا ہے، لہٰذا ان کے حکم کے مطابق یومیہ نصف جزء اہتمام سے سناتا گیا، یوں حفظ میں پختگی آتی گئی۔ پھر تو ہر رمضان میں سنانے کا معمول سا بن گیا حتیٰ کہ مصر میں طالب علمی کے دوران مسجد میں سنانے کا موقع نہ ملتا تو کچھ ساتھیوں کے ساتھ قیام اللیل کا اہتمام کرتا تاکہ اس بہانہ حفظ باقی رہے، قیام رمضان حفاظ کے لیے خصوصاً بڑی نعمت ہے خود اپنے لیے تلاوت کرنے اور سنانے کے لیے پڑھنے میں بڑا فرق ہے۔

پھر حافظ صاحب نے درس نظامی کی تعلیم مئو کے مشہور دینی مدرسہ فیض عام سے مکمل کی، شمالی ہند کا ایک چھوٹا سا ٹاؤن مئو علمی لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتا ہے، مئو کے کئی علماء شیخ الکل فی الکل مولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی﷫ کے براہ راست شاگرد تھے، اس چھوٹے سے شہر میں تین قدیم درسگاہ ہیں، جامعہ عالیہ، فیض عام اور دار الحدیث اثریہ جن میں فضیلت تک کی تعلیم کا نظم ہے، پھر انہوں نے قاہرہ سے ایم اے اور نائیجیریا سے تفسیر قرآن میں پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔

احمد بلیو یونیورسٹی نائیجیریان میں کچھ عرصہ تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔ وہاں ان کے لیے ترقی کے امکانات روشن تھے، لیکن الدار السلفیہ بمبئی کے مدیر مولانا مختار احمد ندوی﷫ کی خواہش پر بمبئی منتقل ہو گئے۔ ادارہ میں شعبہ تحقیقات اسلامی کے ذمہ دار بنا دیے گئے۔

حدیث کی مشہور کتاب مصنف ابن عبد الرزاق اور امام بیہقی﷫ کی شعب الایمان کی کئی جلدیں ان کی زیر نگرانی تیار ہو کر طبع ہوئیں۔ حدیث کی ان ضخیم کتابوں کے علاوہ ان کی چھوٹی بڑی کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔

ڈاکٹر صاحب کی الدار السلفیہ کی ملازمت کے دنوں 1987ء بمبئی میں میرا تقریباً ڈھائی ماہ قیام تھا، اس دوران رمضان آ گیا، بنگالی مسجد اہلحدیث میں ڈاکٹر صاحب کو تراویح پڑھانے پر آمادہ کر لیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب تراویح اور مولانا مختار احمد ندوی وتر پڑھاتے، نماز کے بعد تفسیر کی ذمہ داری میرے سپرد کی گئی۔ یوں یہ ایک یاد گار رمضان ثابت ہوا۔

ایک ہفتہ کے بعد مولانا مختار ﷫ کو بلاد عربیہ کے دورہ پر روانہ ہونا تھا، جو اکثر رمضان میں وہ جایا کرتے، وتر کے ساتھ جمعہ کی ذمہ داری مجھے تفویض کی گئی۔ اس رمضان ڈاکٹر صاحب کے پیچھے پورا قرآن سننے کا موقع ملا۔ موصوف کی تلاوت کا خاص انداز تھا جیسے کوئی معانی ومطالب کی گہرائی میں ڈوب کر پڑھ رہا ہو، انہی یاد کچھ ایسا تھا کہ تراویح میں بہت کم رکتے یا لقمہ لیا کرتے، حالانکہ دن بھر حدیث کی تحقیق وتخریج کا تھکا دینے والا کام اپنی ٹیم کے ہمراہ کرتے اور رات تازہ دم تراویح کے لیے حاضر ہو جاتے۔

پھر ڈاکٹر صاحب بوجوہ بمبئی کو خیر باد کہہ کر لندن تشریف لے آئے، یہاں مسلم کالج میں پروفیسری ان کی منتظر تھی، اپنی مرکزی ذمہ داری کے بعد ان کا بیشتر وقت رفقاء جماعت کے ساتھ ہی گزرتا، مرکزی جمعیت کے مختلف پروگراموں میں سلاؤ کے احباب کے ساتھ شریک ہوتے رہے۔

جمعیت کے مجلہ انگریزی صراط مستقیم اسٹریتھ پاتھ کے ایک ڈیڑھ سال مدیر رہے اور مجلس القضاء کے اہم رکن تھے، مجلس کے ابتدائی اجتماعات میں پابندی سے شرکت کرتے اور گرانقدر مشوروں سے نوازتے رہے۔ شروع ہی سے ہیتھرو ائیرپورٹ لندن سے متصل سلاو میں سکونت پذیر ہوئے اور یہاں کی جامع مسجد میں ہفتہ واری درس قرآن کا سلسلہ شروع کیا۔ عیدین کی امامت بھی ان کے ہی ذمہ تھی۔

اپنے آبائی وطن مئو اور وہاں کے اہل علم کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کو والہانہ لگاؤ تھا۔ علاقہ کا ذکر کرتے ہوئے آنکھوں میں چمک پیدا ہو جاتی، جب بھی فرصت ملتی وہ مئو سفر کرنے کو ترجیح دیتے لیکن پچھلے دو برس کورونا کے سبب دنیا کا پہیہ جام ہو کر رہ گیا۔ خواہش کےباوجود سفر نہ کر سکے اور اسی اثناء ان کے چھوٹے بھائی حافظ عبد الحی مدنی کی وفات ہو گئی۔ ﷫۔ جو یہاں عموماً رمضان میں آیا کرتے تھے، بڑے بھائی کو چھوٹے بھائی کی موت نے ایک اور دھکا دیا، صحت تیزی سے گرتی گئی، علاج معالجہ میں تو کوئی کمی نہیں کی گئی خود ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ڈاکٹر ہے۔

لیکن موت کا وقت اور جگہ مقرر ہے۔ 10 اکتوبر 2021ء 78 برس کی عمر پا کر انتقال کر گئے۔ آدمی کہاں پیدا ہوتا ہے، کہاں تعلیم و پرداخت ہوتی ہے اور کہاں موت اور تدفین، انگلینڈ کی جس مسجد کے وہ نمازی تھے، وہیں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی، مختلف شہروں سے اعزہ واقارب، شاگرد، میدان تحقیق وتصنیف کے ساتھی، جماعتی احباب اور عقیدتمندوں کا ہجوم امنڈ پڑا، سلاؤ مسجد سے متصل قبرستان میں دوبارہ نماز جنازہ ادا کر کے سپرد خاک کر دیا گیا۔

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

اللہ رب العالمین ان کے ساتھ حقیقی حافظ قرآن کا معاملہ فرمائے کہ قیامت کے دن حافظ قرآن سے کہا جائے گا۔ تلاوت کرتے ہوئے جنت کے بلند درجات حاصل کرتے جاؤ، جہاں آخری آیت پر رکو گے وہیں تمہارا ٹھکانہ ہو گا۔

رسول اللہﷺ کا فرمان ہے:

«يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا فَإِنَّ مَنْزِلَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا» (سنن ابو داؤد: 1464)

’’صاحب قرآن سے کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا ، اور اسی طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھ ، جیسے کہ دنیا میں پڑھا کرتا تھا ، جہاں آخری آیت ختم کرے گا وہیں تیرا مقام ہو گا ۔ “

٭٭٭

تبصرہ کریں