موت ایک بوڑھے سپاہی کی!۔ محمد عبد الہادی العمری

مرکزی جمعیت اہلحدیث کے قدیم رکن، نیوکاسل مرکزی مسجد کے مؤسس اور شمالی انگلستان کی ہر دل عزیز شخصیت حاجی محمد مصطفیٰ صاحب 3؍اکتوبر کی صبح وفات پا گئے۔

موصوف تلاش معاش میں برطانیہ پہنچنے والے ابتدائی پاکستانی لوگوں میں سے تھے، یہاں پہنچ کر معمولی نوعیت کی ملازمت سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ علاقہ میں بس ڈرائیو تھے، پھر ذاتی کاروبار کی طرف توجہ دی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے کاروبار میں خوب برکت عطا فرمائی۔ مزاج دینی تھا، متدین لوگوں کے ساتھ ہی تعلقات قائم کیے رکھے، تبلیغی جماعت سے وابستہ احباب دین پسندوں کو اپنے حلقہ میں کھینچ لے جاتے۔ 60 کی دہائی میں حاجی صاحب کی دینی محبت انہیں بھی تبلیغی حلقات میں لے گئی۔ یہاں بزرگوں اور بڑوں کی باتیں سننے کا عام رواج ہے، سوالات کرنے یا اپنی معلومات سنانے یا کسی مسئلہ میں اختلاف رائے رکھنے کی گنجائش نہیں ہوتی، جلد ہی حاجی صاحب اور تبلیغی احباب کو اندازہ ہو گیا کہ وہ اس بزم کے اجنبی ممبر ہیں، پھر انہوں نے اپنی دینی پیاس بجھانے کے لیے اپنے علاقہ میں قائم طلبہ کے حلقہ کو غنیمت سمجھا، نیوکاسل یونیورسٹی سے متصل ایک جگہ طلبہ نے مختص کر رکھی تھی۔ “الدار الرعاية” جہاں جمعہ اور دینی حلقات منعقد ہوتے تھے۔ طلبہ کے علاوہ قرب وجوار کے متلاشیان حق بھی شریک ہوتے، لیکن یہ سلسلہ بھی زیادہ دیر چل نہیں سکا، کیونکہ اس مجلس کے بیشتر شرکاء نوجوان طلبہ تھے اگرچہ کہ دوسروں کی شرکت پر پابندی نہیں تھی لیکن ہم نشینی کے لیے ہم سنی بھی اہمیت رکھتی ہے اور پھر متزاد یہ کہ یونیورسٹی کا اپنا ماحول ہوتا ہے، اس حلقہ سے جڑے اکثر طلبہ عرب تھے جن کی اپنی شخصی وابستگیاں اور علاقائی سیاسی مسائل کار خیر میں رکاوٹ بنتے نظر آئے۔ یہ اور بات ہے کہ حاجی صاحب کا یہاں احترام تھا، ان کی طبیعت کی فیاضی اور ظرافت کی قدر تھی، پھر اس راہ کے مسافر نے اپنی منزل خود ہی متعین کر لی اور مرکزی جمعیت اہلحدیث جس کے ساتھ پہلے سے وہ وابستہ تھے، اس کے اشتراک سے خود اپنی ہی مسجد بنانے کی ٹھانی، جو ان کی نگرانی میں چلے اور اس کے دروازے بلاتفریق مسلک کے تمام کے لیے کھلے رہیں۔ تلاش بسیار کے بعد موجودہ جگہ کا انتخاب عمل میں آیا۔ اس عمارت کو جو دراصل شعبۂ ہیلتھ کے زیر استعمال تھی ، حاصل کرنے کے لیے فوری مالیہ کی ضرورت تھی، اس کا بڑا حصہ حاجی صاحب نے فراہم کر دیا، یوں ان کے دیرینہ خواب کا ایک حصہ پورا ہوا اور دوسرا حصہ یہ تھا کہ اس عمارت کو ایک اسلامی مرکز کے طور پر شایان شان تعمیر کیا جائے، جلد ہی ضروری ترمیم کے بعد اس کا ایک ہال عارضی طور پر مسجد کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ اخلاص کے ساتھ جب نگاہ بلند اور سخن دلنواز ہو تو راہیں کھلتی جاتی ہیں۔ اس عارضی سنٹر میں امام مسجد حرام فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن السدیس﷾ نے اپنے قدوم میمنت لزوم سے نوازا، امام محترم مرکزی جمعیت اہلحدیث برطانیہ کی دعوت پر انگلستان تشریف لے آئے تو اس دورہ میں نیوکاسل کو بھی شامل کیا گیا۔ امام حرم کے دیدار کے لیے عقیدت مندوں کا ہجوم ایسے امنڈ پڑا کہ مسجد اور اس کے اطراف کا پارک تنگی دامان کا شکوہ کرنے لگا۔ امام صاحب جوں ہی مسجد پہنچے حاجی صاحب کی حالت دیگرگوں ہو گئی وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ ساتھ کھڑے لوگوں نے انہیں سنبھالا کہ یہ رونے کا نہیں مسرت وانبساط کا وقت ہے لیکن ان کے جذبات کا عالم کچھ اور ہی تھا کہ اللہ کی شان کہ وہ اپنے جس بندہ کو چاہے ذرہ سے آفتاب بنا دے، میں کیا اور میری حیثیت کیا، لیکن آج وہ ہستی یہاں پہنچی جسے دیکھنے کے لیے لاکھوں عوام ترستے ہیں۔

وہ آئے گھر کو ہمارے خدا کی قدرت ہے

کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

نماز اور وعظ سے فارغ ہو کر ان کے ہی دولت کدہ پر عشائیہ کا اہتمام تھا، علاقہ کے وسیع پارک اور سبزہ زاروں نے عرب کے تپتے صحراؤں سے آنے والے مہمان گرامی کو کچھ ایسے متاثر کیا کہ امام محترم نے 2 دن یہیں قیام کرنے کو ترجیح دی۔ ائمہ حرمین کے ساتھ لوگوں کی والہانہ عقیدت بسااوقات خود ان کے لیے پریشان کن ثابت ہوتی ہے کہ وہ جدھر چلے عقیدت مندوں کا ہجوم امنڈ پڑتا ہے وہ بھی چاہتے ہیں کہ کچھ دیر تنہائی میسر آئے کہیں ٹھنڈی چھاؤں میں سکون کا سانس لے سکیں۔ ان بیتے 2 دنوں کے متعلق حاجی صاحب سمجھتے تھے کہ یہ ان کی زندگی کی متاع عزیز ہے، جو امام صاحب کے ساتھ بیتے۔

سعودی عرب کی ایک اہم علمی شخصیت ڈاکٹر شیخ محمد بن احمد الصالح پروفیسر امام محمد بن سعود ریاض یونیورسٹی جو گرمائی چھٹیوں میں برطانیہ تشریف لایا کرتے ہیں اور کچھ دن یہاں قیام پذیر ہوتے وہ حاجی صاحب کے بڑے قدر دان ہیں، انہیں امیر المؤمنین فی نیو کاسل کہہ کر مخاطب کرتے۔ علاقہ میں موجود عرب طلبہ بھی اسی لقب سے خطاب کرنے لگے، حاجی صاحب کی باغ وبہار طبیعت اور کاروباری امانت ودیانت گرد و نواح کے بہت سے گاہکوں کو آپ کی دوکان’’ اورنٹیل فوڈ اسٹور‘‘ کی طرف کھینچ لاتی، وہ اس دوکان سے خریداری کو سعادت اور برکت تصور کرتے، ایک مرتبہ ایک عربی شخص شاید نو وارد تھا، دوکان پر آیا، اپنی ضرورت کی اشیاء خورد ونوش کے ساتھ آموں کا ایک بکس بھی لیا، یہاں ہندوپاک سے آم لکڑی کے بکس میں آتے ہیں۔ حاجی صاحب غلہ پر حساب کر رہے تھے، اچانک اس سے پوچھا کہ واقعی تم عرب ہو، نو وارد اس سوال پر سنجیدہ ہو گیا اور اپنا نسب اور جغرافیائی پس منظر بیان کرنے لگا۔ حاجی صاحب کو کچھ دیر سنتے رہے، وہ سمجھ نہیں سکا کہ دوکان پر اس سوال کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اس نے استفسار کیا۔ حاجی صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ اگر تم واقعی عرب ہوتے تو اتنے عمدہ پاکستانی آموں کا ایک بکس نہ اٹھاتے کم ازکم دو بکس لیتے، اس پر وہ بھی خوب محظوظ ہوا کہ دو نہیں مجھے تین دیجیے لیکن میری عربیت پر شک نہ کیجیے۔

ایک مرتبہ حاجی صاحب اپنے ڈاکٹر جی پی کے پاس گئے، تشخیص کے بعد جب وہ دوا تجویز کر کے چٹھی لکھنے لگا اس وقت مریض خاموش ہوتا ہے کہ ڈاکٹر یکسوئی کے ساتھ اپنا کام کر سکے۔ حاجی صاحب نے اس سکوت کو توڑتے ہوئے ڈاکٹر سے کہا کہ آپ پڑھے لکھے دکھائی دیتے ہیں۔ اس غیر متوقع سنجیدہ فقرہ پر ڈاکٹر متوجہ ہو کر کہنے لگا، کیا ڈاکٹر اَن پڑھ ہوتا ہے، حاجی صاحب نے کہا کہ میرے والد بھی مجھے ڈاکٹر ہی بنانا چاہتے تھے لیکن ۔۔۔۔ تو لیکن کیا ہوا؟ حاجی صاحب نے کہا کہ میری ایک مشکل تھی وہ یہ کہ میں ہر سال کامیاب ہوتا رہا ورنہ میں بھی ڈاکٹر بن جاتا۔ وہ اس طرح کے شگوفوں سے محفل کو جگائے رکھتے ۔

عارضی مسجد اور بوسیدہ قدیم عمارت گرا کر نئی مسجد اور اسلامی مرکز بنانے کا جامع منصوبہ بنایا گیا، یہ ان کا اصل خواب تھا جو جدید سہولتوں سے متصف ہو، مختلف قانونی تقاضوں سے گزر کر اس کا پہلا حصہ مرکزی مسجد کی تعمیر کا کام تقریباً تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔ یہ جگہ اگرچہ کہ تقریباً 3 لاکھ پاؤنڈ میں خریدی گئی تھی لیکن مسجد کی تعمیر پر 4 ملین پاؤنڈ سے زیادہ خرچ ہو چکا ہے۔ مسجد کا کام اختتامی مراحل میں ہے جبکہ مرکز کے دیگر شعبوں کا کام باقی ہے، ابھی سے یہ نیو کاسل شہر کی مرکزی مسجد کے طور پر مشہور ہو چکی ہے، مختلف مذہبی، سماجی اور سیاسی شخصیات کی آمدورفت جاری رہتی ہے۔

امام مولانا عبد الباسط عمری جنہیں حاجی صاحب بہت عزیز رکھتے تھے، وہی اس پروجیکٹ کے اور یہاں جاری دعوتی اور تعلیمی سرگرمیوں کے نگران ہیں۔ فعال اراکین کی مخلص ٹیم کے ساتھ اس اہم پروجیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں سرگرم عمل ہیں، حاجی صاحب کا اعتماد بھی ان ہی پر تھا جب تک ان کی صحت ٹھیک رہی وہ پابندی سے یہیں نمازیں ادا کرتے اور پودے کو تنا ور درخت بنتے دیکھ کر بڑے خوش ہوتے لیکن پیرانہ سالی کے تقاضے ایک ایک کر کے غالب آتے گئے، پھر راہ حق کا یہ سپاہی بوڑھاپہ کی وجہ سے گوشہ نشین ہو گیا۔ ایک عرصہ بیماری اور عزلت میں گزارا ، بالآخر 3؍اکتوبر 2021ء کی صبح نیو کاسل کی باغ وبہار شخصیت کا 90 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ دوسرے دن زیر تکمیل مسجد کے صحن میں مولانا عبد الباسط نے نماز جنازہ ادا کر کے گویا مسجد کا افتتاح کیا ۔

اللہ عزوجل حاجی صاحب کے حق میں اس مرکز کو صدقہ جاریہ اور علاقہ کے لیے رشدوہدایت کا مینار بنا دے۔ اللہ ان کی حسنات قبول کرے اور سیئات سے عفو ودرگزر کا معاملہ فرمائے۔ آمین

تبصرہ کریں