موجودہ سماج میں بوڑھے ماں باپ کے ساتھ اولاد کا افسوسناک رویہ۔محمد زکریا ازہری

یہ مکافات عمل کی دنیا ہے، جو بوئیں گے وہی کاٹیں گے، ہم اگر بوڑھے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے تو ہماری اولاد بھی ہمارے ساتھ اچھا ہی سلوک کرے گی، انسان کے عمل کے بدلہ کا کچھ حصہ اس دنیا میں بھی اللہ تعالی دے دیتا ہے، اور آخرت میں جو ہوگا سو ہوگا ہی۔

والدین کی خدمت، اولاد کا فریضہ بھی ہے؛ اور دنیا و آخرت کی سعادت کا باعث بھی ہے، سماج میں عموماً بوڑھے ماں باپ کے تئیں الگ الگ مزاج و نفسیات والی اولاد کا رویہ بھی الگ الگ ہوتا ہے، ہمارے سماج میں بھی کچھ ایسا ہی ہے، بعض گھرانوں میں اولاد اپنے والدین کی خدمت، عزت، اور حسن سلوک کو بہت اہمیت دیتی ہے، اور بعض گھرانوں میں اتنی نہیں دیتی جتنی شریعت کی منشا ہے، اسی طرح بعض اولاد اپنے بوڑھے ماں باپ کی ضد، ڈکٹیٹر شپ، حتی کہ ناانصافیوں کے تمام رویوں کو برداشت بھی کرتی ہے اور “قول کریم” اور “مصاحبۃ بالمعروف” یعنی ان سے عزت و اکرام سے بات کرنے اور خوش اسلوبی سے نباہنے کو ترجیح دیتی ہے، بعض اولاد اپنے حق کا مطالبہ خوش اسلوبی سے کرتی ہے، تو بعض اولاد اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے لیے تشدد اور سخت کلامی پر اتر آتی ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ سماج کے اکثر والدین جو اپنی اولاد کی پیدائش سے لے کر انھیں جوان کرنے، اور پھر ان کی شادی وغیرہ کے انتظامات تک کی فکر میں اپنی عمر کے بہترین اوقات بچوں کے لیے قربان کر دیتے ہیں وہ کبھی یہ نہیں چاہتے کہ

ان کی اولاد ان کے سامنے پریشان حالی اور تکلیف کے ساتھ زندگی گزارے، ظاہر ہے جس بوڑھے ماں باپ نے خون پسینہ ایک کر کے زمینیں خریدی، مکانات بنوائے، جائیداد کمائی، وہ اپنے کسی بھی بچے کے لیے بدخواہ کیوں کر ہو سکتے ہیں؟

پھر بھی یہاں ایک سوال ہوتا ہے کہ بوڑھے ہونے پر عموما ماں باپ کیوں ضدی ہوجاتے ہیں اور اولاد کی بات کو یکسر نظر انداز کرنے لگتے ہیں؟

اس سوال کا جواب دینے سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ شاید اولاد کو لگتا ہے کہ اخیر عمر میں ماں باپ ضدی اور ہٹ دھرم ہو گئے ہیں، حالانکہ یہ کوئی قاعدہ کلیہ نہیں ہے، اور اولاد کا یہ احساس غلط بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ ایک باپ بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی صرف اپنی تمام اولاد کی الگ الگ سیٹنگ کرنے ہی کی فکر میں نہیں لگے رہتے بلکہ ساتھ ہی یہ فکر بھی سوار ہوتی ہے کہ

ان کی بقیہ زندگی عزت، سکون، اور آرام سے کیسے گزرے، خاص طور پر بڑھاپے کی اس عمر میں جب وہ اپنی ذاتی حاجت روائی کے لیے اولاد اور ان کی بیویوں کے محتاج ہونے لگتے ہیں۔

تقریباً یہی سوچ کم و بیش سبھی والدین کو رہتی ہے جس کا اظہار کچھ والدین کرتے ہیں اور کچھ نہیں کرتے، اب ان کی جو اولاد بڑی ہو جاتی ہے جن کے بچے بھی جوان اور شادی کی عمر کو پہنچنے لگتے ہیں ان کو بھی اپنی اولاد کے مستقبل کے تئیں فکر سوار ہونے لگتی ہے، پھر وہ والدین سے جائیداد تقسیم کرنے ، یاانہیں الگ کر دینے کا مطالبہ کرنے لگتی ہے۔

جب کہ اس کے کچھ بھائی ابھی چھوٹے ہوتے ہیں یا ان کی تعلیم اور شادی کے اخراجات کا تقاضا بھی ہوتا ہے ایسی صورتحال میں سوچ اور فیصلے کا ٹکراؤ والدین اور اولاد کے بیچ میں ہونے لگتا ہے اور دراڑیں پڑنے لگتی ہیں۔یہ سارے مسائل ہمارے سماج میں عروج پر ہیں جہاں مشترکہ گھریلو نظام ہے، اسلام میں مشترکہ گھریلو نظام اور جداگانہ نظام دونوں کا ثبوت عہد رسالت اور عہد صحابہ سے ملتا ہے۔

اسلام کی نظر میں مشترکہ گھریلو نظام بہتر ہے یا جداگانہ نظام؟

دراصل دونوں نظام معاشرت میں کچھ خوبیاں ہیں اور کچھ خرابیاں ہیں، مشترکہ نظام میں فیملی کے بوڑھے ماں باپ کوسہارا ملتا ہے، کم عمر بچوں بچیوں،بیماروں اور معذوروں کی بہتر پرورش ہوتی ہے،اچھی تعلیم و تربیت ہوتی ہے ، اوراخلاقی سپورٹ ملتا ہے ۔

دوسری جانب علاحدہ فیملی نظام میں انسان کےاندر اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرکے اپنی ضرورتیں خود پوری کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے،بھائی بہنوں کے تعلقات میں ہم آہنگی اور مضبوطی پیدا ہوتی ہے، لیکن اسکا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ گھر کے بوڑھے ماں باپ جو خدمت اور اخراجات کے محتاج ہوتے ہیں وہ تنہا پڑ جاتے ہیں،اسی طرح گھر کے مالی اعتبار سے کمزور اورکم عمر افراد کا بعض دفعہ کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔

لہٰذا نظام کوئی بھی ہوگھرمیں سکون اور ترقی کا وجود، اور فتنہ و نزاع سے نجات تبھی ممکن ہےجب شریعت کے حدود کی پابندی کی جائے، عدل و انصاف قائم رکھا جائے، اورضعیف والدین اوردیگر کمزور افراد کےحقوق کالحاظ رکھا جائے، جسے درج ذیل نکات میں پیش کیاجا رہا ہے:

٭ والدین کی خدمت وکفالت بیٹوں کےساتھ بیٹیوں پر بھی حسب استطاعت واجب ہے، اور اگر ماں مجبور ہو اور اس کی ایسی خدمت کی ضرورت ہو جوکوئی عورت ہی انجام دے سکتی ہے، اور گھرمیں بہو کےسوا کوئی نہ ہو تو ایسی صورت میں بہو پرساس کی خدمت واجب ہے۔ اسی طرح اگر والدین بالکل مجبور ہوں یا ایسی بیماریوں مبتلا ہوں کہ بیٹی کی خدمت کے محتاج ہوں ( چاہے بیٹی شادی شدہ ہی کیوں نہ ہو) اور اس شادی شدہ بیٹی کے علاوہ کوئی خدمت گار نہ ہو تو ایسی صورت میں بیٹی کو والدین کی خدمت کرنی چاہئے، اورشوہر کو چاہئے کہ اس کی اجازت دے۔ (قرارات مجمع الفقہ الاسلامی)

٭ اگرگھر میں ذرائع آمدنی و اخراجات مشترک ہوں تو اخراجات کے بعد بچی ہوئی رقم میں سبھی افراد برابر کےحقدار ہوں گے، لیکن اگرسبھی بھائیوں کا ذریعہ آمدنی الگ الگ ہے اورسب بھائی برابر برا بر پیسے گھر کے اخراجات کے لئے جمع کرتے ہیں اور ان میں سے ایک بھائی برابر پیسے جمع کرنے کے بعدزائد رقم بچا کراپنے پاس رکھتا ہے تو اس میں وہ خود تصرف کا مالک ہو گا، دوسرے بھائی اس کے حقدار نہیں ہونگے ۔ (قرارات مجمع الفقہ الاسلامی)

٭ اگر و الدین تنگ دست ہوں تو اولاد کے ذمہ ان کی تمام بنیادی اخراجات واجب ہیں، اولاد کے لئے جائز نہیں ہے کہ

وہ والدین کو روزی کمانے پر مجبور کرے، اگرچہ والدین کمانے کے لائق ہی کیوں نہ ہوں، والدین اگر خود کفیل ہوں تو اولاد پر ان کا نفقہ واجب نہیں ہے، لیکن اولاد کو چاہئے کہ اخلاقی طور پر والدین کی ہر جائز خواہش کو پوری کرے۔(قرارات مجمع الفقہ الاسلامی)

٭ خدمت کے محتاج والدین کو چھوڑ کر اولاد کا دوسرے شہر میں روزی کمانے یا معیار زندگی بلند کرنے کی غرض سے جانا اس وقت جائز ہوگا جب کہ والدین کے خدمت گار موجود ہوں، اوروالدین بھی اس پر راضی ہوں۔(قرارات مجمع الفقہ الاسلامی)

٭ والدین کی زندگی میں تقسیم جائداد کا مطالبہ کرنا اولاد کا حق نہیں ہے، والدین اگر خود اپنی مرضی سے جائداد میں مالکانہ تصرف دےدیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، (قرارات مجمع الفقہ الاسلامی)

واضح رہے کہ

والدین بھی اپنی بڑی اور صاحب اولاد بیٹے کی رہائش وغیرہ کی پریشانی کو مدنظر رکھتے ہوئے کوشش کریں کہ ممکن ہوسکےتو اپنی زمین و جائداد میں اس کے حصے کے بقدر رہائش کا انتظام کریں۔

سماج میں صاحب اولاد،برسرروزگار بیٹوں کو اکثر یہی شکایت ہوتی ہے کہ وہ والدین ( جن کے پاس زمین جائداد تقسیم کرنے کی گنجائش ہوتی ہے)محض اپنی پراپرٹی کو اپنی محنت کی کمائی ہوئی پونجی تصور کرکے اسے تا زندگی گلے سے لگائے رہتے ہیں، چاہے بیٹا اپنی جوان اولاد کو ایک ہی کمرے میں رکھ کر مشقتیں اٹھاتا رہے، اور اپنے ازدواجی حقوق سے محروم ہوتا رہے، والدین کی جانب سے یہ بے حسی کسی بھی صورت میں نہ شرعا جائز ہے نہ عقلاً، ہاں اگرزمین جائیداد کی مجبوری ہے تو پھروالدین مجبور ہیں۔

٭ اولاد کا اپنے والد کو نکاح ثانی سے روکنا ، بالخصوص جب پہلی ماں کا انتقال ہو جائے ، قطعاً جائز نہیں ہے۔

٭ خلاصہ یہ کہ بوڑھے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک، انکی خدمت اور انکی جائز خواہشوں کو پوری کرنا اولاد کا فریضہ بھی ہے اور ذمہ داری بھی، چاہے اولاد چھوٹی ہویا بڑی الگ رہتی ہو یا ایک ساتھ، شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ہو، بیٹی ہو یا بیٹا، اسے اپنے والدین سے تقسیم جائیداد کے لیے مجبور کرنا یا دباؤ بنانا جائز نہیں ہے۔ ہاں والدین کو بھی اس کا لحاظ رکھنا چاہیے کہ

اگر گنجائش ہے تو اپنے صاحب اولاد بیٹوں کو رہائش وغیرہ کا انتظام کرتے ہوئے انھیں خود کفیل بنا دیں۔ اور یہ تمام امور باہمی مفاہمت ، اولاد اور والدین کی ایک دوسرے کی ضرورت ، مجبوری اور تکلیفوں کو سمجھنے پر منحصر ہے ۔ اللہ ہم سب کوصحیح سمجھ دے اور شرعی اصولی زندگی گزارنے کی توفیق دے۔

٭٭٭

سيدنا عبدالله بن مسعود فرماتے ہیں :

’’جب تم اپنے بھائی کو گناہ کرتے دیکھو تو اس کے خلاف شیطان کے مددگار نہ بن جاؤ کہ یوں کہنے لگو : اللہ اسے رسوا کرے، اللہ اسے برباد کرے ! بلکہ یوں کہو : اللہ اسے توبہ کی توفیق دے، اللہ اس کی مغفرت فرمائے ۔‘‘( الزهد لابن المبارك : 896)

امام ابن قیم﷫ فرماتے ہیں:

’’گناہ کے اثرات میں سے سب سے خوفناک یہ ہے کہ انسان کے دل سے نیکی و اطاعت اور توبہ و انابت کے ارادے بتدریج کمزور پڑتے پڑتے آخر معدوم ہو جاتے ہیں۔ جب اس کا ارادہ نیم مردہ ہو جائے تب اسے توبہ کی توفیق ہی نہیں ہوتی۔پھر حالت یوں ہوتی ہے کہ اس کی زبان پر تو ظاہری اور جھوٹ موٹ توبہ و استغفار کا ورد جاری رہتا ہے، جبکہ دل گناہ کے ساتھ معلّق و اس پر مُصِر رہتا ہے۔ (زبانی توبہ و استغفار کرتے ہوئے بھی) وہ اس تاک میں ہوتا ہے کہ کب گناہ کا موقع ملے اور وہ ارتکاب کر بیٹھےاور یہ سب سے بڑی اور مہلک ترین بیماری ہے۔‘‘(الداء والدواء)

تبصرہ کریں