منہج سلف صالحین کی اہمیت ، ترجمانی: محمد عبد الہادی

’’دینی تعلیمات کو درست انداز میں سمجھنے کے لیے مؤثر ذرائع اور اہم مصادر تین ہیں۔ قرآن مجید، سنت اور منہج سلف صالحین۔ کچھ لوگ قرآن وسنت کی بسا اوقات بات تو کرتے ہیں لیکن سلف صالحین کے منہج سے اعراض کرتے ہیں یا اس کی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہیں، حالانکہ صحابہ کرام اور تابعین کے زمانہ کو خود رسول اللہﷺ نے بہترین زمانہ قرار دیا ہے، جن کی ایمان وعقیدہ میں پختگی، دینی علوم میں مہارت، عمل کا جذبہ اور دین پر ثابت قدمی اپنی مثال آپ ہے۔ صحابہ کرام براہ راست نبی ﷺ کے شاگرد اور فیض یافتگان تھے، ان کے سامنے قرآن مجید نازل ہو رہا تھا، نبی کریمﷺ خود بنفس نفیس شرعی احکام ان کے سامنے بیان فرما رہے تھے۔

ان گرامی قدر ہستیوں سے زیادہ دینی احکام ومسائل اور پس منظر دوسرے کیسے سمجھ سکتے ہیں، لہٰذا شرعی علوم اور دینی مسائل کو سمجھنے کے لیے منہج سلف صالحین کو خصوصی حیثیت حاصل ہے ورنہ تباہی ہو گی جیسے ماضی میں مختلف فرقے اور گروہ جادۂ حق سے دور ہوئے اور صراط مستقیم سے بھٹک گئے اور آج بھی اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ دین فہمی اور روشن خیالی کے نام پر کس طرح بے دینی پھیل رہی ہے اور شرعی احکام ومسائل لوگ اپنے ذہنی سانچے کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

وزارت مذہبی امور سعودی عرب کی لندن آفس کے سربراہ الشیخ الدکتور محمد احمد الفیفی ﷾ نے اہل علم کی ایک نشست سے منہج سلف کی اہمیت پر مؤثر خطاب کیا۔ افادۂ عام کی خاطر ترجمہ ہدیہ قارئین ہے۔‘‘

قرآن وسنت پر عمل منہج سلف صالحین کے مطابق کرنا واجب ہے، کچھ دلائل درج ذیل ہیں:

1۔ پہلی دلیل:ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ﴾ (سورة التوبہ: 100)

’’مہاجر اور انصار جنہوں نے اسلام قبول کرنے میں پہل اور سبقت کی اور جو اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اللہ سے راضی ہوئے۔‘‘

امام ابن کثیر رحمہ اللہ  نے فرمایا کہ آیت کا آخری حصہ اخلاص کے ساتھ پیروی کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں، ان کے اوصاف حمیدہ کو اپناتے ہیں اور ہر دم خفیہ اور برملا اسی کی طرف دعوت دیتے ہیں۔

علامہ سعدی رحمہ اللہ  نے فرمایا: اس كا مطلب ان كی پیروی عقائد، اقوال اور اعمال میں کرنی ہو گی، اور ایسے ہی لوگ برائی سے محفوظ رہیں گے اور ان ہی کے لیے حقیقی تعریف اور اللہ کی طرف سے بہترین نوازش ہو گی۔

علامہ شیخ العثیمین نے مشہور پروگرام ’ نور علی الدرب ‘ میں فرمایا، اتباع بالاحسان کا لازمی تقاضا ہے کہ ان کی پیر وی کرنے میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی نہ ہونے پائے اور مزید فرمایا، ہمارے لیے ضروری ہے کہ عہد نبوی ﷺ میں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طرز عمل تھا اور آپﷺ کے بعد ان گرامی قدر ہستیوں کا جو طرز عمل رہا، اس کی طرف ہم رجوع کریں، کیونکہ ان کا دور سب سے بہترین اور افضل دور تھا۔ ہمارے لیے درست نہیں کہ دینی امور میں کوئی ایسی بات یا کام شروع کریں جو اس عہد مبارک میں نہیں تھا ورنہ یہ بدعت ہے جو اللہ عزوجل سے دوری کا سبب بن جائے گی۔ دین میں نئے کام سے اللہ کی پناہ، کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔ حق کے واضح ہو جانے کے بعد سوائے گمراہی کے اور کچھ نہیں۔

علامہ الشیخ صالح الفوزان نے مذکورہ آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں سے مراد ہر وہ شخص ہے جو اس صفت سے متصف ہو گا قیامت تک، لہٰذا امت کے تمام افراد کے لیے ضروری ہے کہ مہاجر اور انصار صحابہ کے منہج پر چلیں۔ امام مالک رحمہ اللہ   نے ارشاد فرمایا کہ اس امت کے آخر میں آنے والوں کے لیے بھی وہی بات اور راستہ درست ہو گا جو اگلوں کے سامنے تھا یعنی اگلوں کے مسائل کا جو حل تھا وہی بعد میں آنے الوں کےلیے بھی ہو گا۔

جو شخص چاہتا ہے کہ امت کا تعلق اپنے درخشاں ماضی سے منقطع ہو، وہ سلف صالحین کے راستہ کو چھوڑ دے، یقین جانیے کہ ایسا شخص امت مسلمہ کو اور نقصان پہنچانے کے درپے ہے بلکہ دین اسلام میں تبدیلی چاہتا ہے، اس کی کوشش ہے کہ بدعات اور خرافات کو پروان چڑھائے۔ ان کوششوں کو مسترد کر دینا چاہیے، اس کی بیخ کنی کرتے ہوئے اس شرانگیزی سے دوسروں کو متنبہ کرنا ہو گا۔ کیونکہ سلف صالحین کے منہج اور طرز عمل کو اپنانا اور پیروی کرنا ضروری ہے، یہ دراصل حکم ربانی ہے اور یہی سنت رسول ﷺ بھی ہے۔

آیت مذکورہ میں یہ نکتہ نہایت اہمیت رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رضامندی کو مشروط کر دیا ہے کہ سابقین کی اخلاص کے ساتھ پیروی کی جائے، اسی میں اجر وثواب رکھا ہے اور اسی حسن عمل کا بہترین بدلہ رکھا ہے۔ اس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ جو اخلاص کے ساتھ ان اگلوں کی پیروی نہ کرے، اس کے لیے سزا اور رضائے الٰہی سے محرومی ہوگی۔

2۔ دوسری دلیل: اللہ عزوجل کا فرمان ہے:

﴿فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا﴾ ’’کہ اگر وہ تم جیسا ایمان لائیں تو ہدایت پائیں گے۔‘‘(سورۃ البقرہ: 137)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ  نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: اگر وہ لوگ ایمان لائیں یعنی کفار، اہل کتاب وغیرہ جس طرح ائے مؤمنو تم ایمان لائے ہو، اللہ کی نازل کردہ تمام کتابوں پر،رسولوں پر اور ان میں تفریق نہ کریں تو وہ ہدایت یافتہ ہوں گے اور حق کو پائیں گے۔‘‘

علامہ سعدی رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’اے ایمان والو! یعنی جو ایمان لےآئے تمام رسولوں پر، کتابوں پر اور ان سب میں اعلیٰ اور افضل محمد ﷺ اور قرآن مجید ہے۔ اللہ کی توحید پر ان کا ایمان ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسولوں میں تفریق نہں کرتے تو ایسے ہی لوگ صراط مستقیم پر گامزن ہیں، یہی وہ راستہ ہے جو جنت اور اس کی نعمتوں کی طرف لے جاتا ہے یعنی صراط مستقیم پر چلے بغیر وہ ہدایت یافتہ نہیں ہو سکتے۔‘‘

علامہ الشیخ العثیمین  نے مذکورہ آیت کے فوائد میں یہ بات لکھی ہے کہ ہر وہ چیز جو رسول اکرم ﷺ کے راستہ کے خلاف ہو وہ گمراہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی کے ہدایت یافتہ ہونے کے لیے لازم کر رکھا ہے کہ ان مذکورہ باتوں پر اسی طرح اسے ایمان لانا ہو گا جیسے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب نے ایمان لائے۔

اس کا مفہوم مخالف یہ ہو گا کہ جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ جیسا ایمان نہ لائے تو وہ ضلالت اور گمراہی میں ہو گا۔

3۔ تیسری دلیل: فرمانِ الٰہی ہے:

﴿وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا﴾

(سورة النساء: 115)

’’ اور جو شخص بھی راہ ہدایت کے واضح ہو جانے کے باوجود رسول کے خلاف کرے اور مؤمنوں کی راہ چھوڑ کر چلے ہم اسے اسی طرف موڑ دیں گے جدھر وہ خود متوجہ ہوا اور اسے دوزخ میں ڈال دیں گے جو کہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔‘‘

علامہ ابن ابی حاتم  رحمہ اللہ  نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ ’’سیدنا عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ   فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ سے جو سنت ثابت ہے اور آپﷺ کے بعد ذمہ داروں نے جو طریقہ اختیار کیا، اس کو قبول کرنا یہ گویا اللہ کی کتاب کی تصدیق، اللہ کی اطاعت اور دین میں پختگی کا سبب ہے۔ کسی بھی شخص کے لیے سزاوار نہں کہ اس میں کوئی ترمیم اور ردوبدل کرے جو بھی اس راہ ہدایت پر عمل کرے وہی ہدایت یافتہ ہے جو اس پر ثابت قدم رہے وہی کامیاب ہو گا اور جو اس راستہ کی مخالفت کر کے غیر مسلموں کا راستہ اختیار کرے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے اسی کے اختیار کردہ راستہ کی طرف موڑدے گا اور اسے جہنم میں داخل کرے گا جو کہ برا ٹھکانہ ہے۔‘‘

علامہ سعدی رحمہ اللہ   نے فرمایا: جو کوئی رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرے اور اس کے خلاف عناد اختیار کرے خصوصاً حق کے واضح ہو جانے کے بعد قرآنی دلائل اور صریح نبوی ہدایت کے برعکس اور غیر مسلموں کی اتباع اختیار کرے، یعنی ان کا طریقہ اپنائے چاہے عقائد میں یا اعمال میں تو ہم اسے اسی حال پر چھوڑ دیں گے جو خود اس نے اختیار کیا ہے۔ پھر خیر کی توفیق نہیں دی جائے گی کیونکہ اس نے حق کو جاننے اور سمجھنے کے بعد اسے چھوڑ دیا، لہٰذا یہ عدل الٰہی کا تقاضہ ہے کہ اسے اس کی اختیار کردہ گمراہی پر ہی رہنے دیا جائے۔

علامہ الشیخ عبد العزیز بن باز  رحمہ اللہ   نے فرمایا کہ جو صحابہ کی مخالفت کرے اور ان کے نقش قدم پر نہ چلے اور نہ ہی اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کرے، اس کاشمار کامیاب لوگوں میں نہیں ہو گا، بعد میں آنے والوں کے لیے درست نہیں کہ اگلے علماء کی مخالفت کریں۔ اجماع برحق ہے، دین فہمی کے تین بنیادی اصولوں میں سے ایک اجماع ہے جس کی مخالفت جائز نہیں، قرآن وسنت اور اجماع جب علماء کا کسی مسئلہ میں اجماع ثابت ہو جائے پھر وہی طائفہ منصورہ کہلائے گا یعنی ایسا گروہ جو نصرتِ الٰہی کا مستحق اور کامیابی کا حقدار ہے، جس کی رسول اللہ ﷺ نے خبر دی ہے کہ ایک جماعت ہر دم اور ہر وقت حق پر قائم رہے گی۔

علامہ الشیخ محمد ناصر الدین البانی  رحمہ اللہ  نے’فتنۃ التکفیر‘ میں فرمایا کہ آیت مذکورہ میں سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب داخل ہیں،ان ہی کا راستہ مؤمنین کا راستہ کہلاتا ہے، لہٰذا مسلمانوں کےلیے عومی طور پر اور داعیان دین کے لیے خصوصی طور پر یہ درست نہیں کہ وہ قرآن وسنت کا صحیح فہم حاصل کرنے کے لیے آج کل جو متداول طریقہ اور وسائل ہیں جیسے عربی زبان میں مہارت، ناسخ ومنسوخ کی معرفت وغیرہ وغیرہ، اسی پر اکفتاء کریں، بلکہ سب سے پہلے فہم صحابہ کو دیکھنا چاہیے کہ انہوں نے فلاں مسئلہ کو کیسے سمجھا، اس لیے کہ ان کے آثار اور ان کی سیرت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ اللہ کی عبادت میں زیادہ مخلص اور قرآن وسنت کی زیادہ سمجھ رکھتے تھے اور ایسی ہی متعدد عمدہ صفات اور اعلیٰ اخلاق سے وہ متصف تھے۔

میں کہتا ہوں کہ اس دور میں جس کا حوالہ آیت مذکور میں ہے، مؤمن صرف رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ہی تھے۔

4۔ چوتھی دلیل: فرمان نبوی ﷺ ہے کہ سیدنا عمران بن حصین روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ بہترین زمانہ وہ میرا زمانہ ہے، پھر جو اس کے متصل بعد پھر اس کے متصل بعد ۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ  نے اس بہترین زمانہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اکابر صحابہ کرام کی اکثریت جو قرآن مجید کے ماہر تھے، خلفاء اربعہ کے دور کے ساتھ ہی یہ اعلیٰ ترین دور ختم ہوا، حتیٰ کہ ان کے بعد بدری صحابہ کی اکثریت ختم ہو چکی تھی، پھر اصاغر صحابہ اور اکابر تابعین کا زمانہ تھا جو سیدنا عبد اللہ بن زبیر اور عبد الملک کے دور میں تھے، پھر تابعین کی اکثریت اموی دور حکومت کے اواخر اور عباسی دور حکمت کے آغاز میں تھی۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ: 10؍357)

علامہ بربہاری نے شرح السنہ میں ذکر کیا ہے کہ الجماعت سے مراد صحابہ کرام ہیں، ان ہی پر صحیح معنوں میں اہل سنت والجماعہ کا اطلاق ہو گا۔ جو ان کے راستہ پر قائم نہ رہے اور ان سے رہنمائی حاصل نہ کرے وہ گمراہ اور بدعتی ہو گا اور یہ بات طے شدہ ہے کہ ہر بدعت ضلالت ہے اور ضلالت کا ٹھکانہ جہنم میں ہو گا۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ  نے منہاج السنہ میں فرمایا: ’’ جس طرح کوئی زمانہ دور صحابہ سے زیادہ مکمل اور بھرپور نہیں ہے اسی طرح صحابہ کے بعد بہتر عہد عہد تابعین ہے، پھر جو بھی حدیث، سنت اور صحابہ کی پیروی کرے گا وہ بہتر سمجھا جائے گا، وہی گروہ اول سب سے ممتاز تھا جو ہدایت یافتہ، اللہ کی رسی مضبوطی سے پکڑے ہوئے اور فرقہ واریت اختلافات اور فتنوں سے دور تھے اور پھر جو بھی اس بہترین دور سے جتنا دور ہوتا گیا وہ رحمت سے دور اور فتنوں سے قریب ہوتا گیا۔

علامہ الشیخ عثیمین نے ’نور علی الدرب‘ میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا مذکورہ فرمان امت کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ اس دور کی روش اپنائیں جو کہ بہترین دور شمار ہوتا ہے۔ (منہاج السنہ: 6؍368)

5۔ پانچویں دلیل: سیدنا عرباض سے مروی ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نماز پڑھا کر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں نصیحت فرمائی وہ کچھ ایسی مؤثر نصیحت تھی کہ ہماری آنکھیں اشکبار ہو گئیں، دل خوفزدہ ہو گئے حتیٰ کہ کسی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ محسوس ہوتا ہے کہ یہ کسی رخصت کرنے والے کی نصیحت ہے۔ آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی نصیحت کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ سمع وطاعت کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرو، چاہے ایک حبشی غلام کی ہی بات ہو، کیونکہ میرے بعد تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، لہٰذا تم میری سنت کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور خلفاء راشدین کی سنت کو اپناؤ قوت کے ساتھ اسے تھام لو اور خبردار دین میں نئی باتیں شروع نہ کرنا کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور بدعت ضلالت ہے۔ (سنن ابو داؤد، سنن ابن ماجہ، مسند احمد)

علامہ ابن رجب ﷫ نے جامع العلوم والحکم کی حدیث نمبر اٹھائیس میں فرمایا کہ اس مذکورہ حدیث میں ہمارے لیے حکم دیا گیا ہے کہ تفرقہ اور اختلافات کے دور میں ہم سنت نبویﷺ اور خلفاء راشدین کی سنت پر جمے رہیں، سنت سے مراد وہ راستہ جس پر چلنے کا حکم دیا گیا ، لہٰذا حدیث مذکور میں حکم ہے کہ ہم نبی ﷺ اور آپ کے بعد خلفاء راشدین کے طریقہ کو اپنائیں عقائد، اعمال اور اقوال میں اسی سے سنت کی کامل اتباع ہو گی، اس لیے قدیم زمانہ میں اسلاف جب سنت کہتے تو یہ ساری چیزیں اس میں شامل ہوتیں اور یہی مفہوم مشہور علماء امام حسن، امام اوزاعی اور امام فضیل بن عیاض ﷭ سے مروی ہے۔

حدیث کے الفاظ میں ایک غور طلب علمی نکتہ یہ بھی ہے کہ سنت نبوی اور سنت خلفاء راشدین کے بعد یہ نہیں کیا گیا کہ دونوں کی سنتوں کو اپناؤ بلکہ واحد کا صیغہ استعمال کیا گیا کہ اس سنت کو اپناؤ، گویا دونوں کو ایک حیثیت دی گئی۔

6۔ چھٹی دلیل: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ یہودی اکہتر فرقوں میں اور نصاری بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، ایک کے علاوہ سب جہنم میں ہوں گے، آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا، وہ نجات پانے والا گروہ کونسا ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا، ’الجماعہ‘ دوسری ایک روایت میں ہے وہ جس پر میں اور میرے صحابہ گامزن ہیں۔

علامہ الشیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ  نے فرمایا: نجات پانے والے گروہ سے مراد وہ جماعت ہے جو رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے راستہ پر ہو گی جو توحید الٰہی کا اقرار کرنے والے اللہ کے حکم پر عمل کرنے والے اور منع کردہ چیزوں سے دور رہنے والے۔ اسی راستہ پر اپنے قول، عمل اور عقیدہ کے ذریعہ ثابت قدم رہنے والے یہی حق پر ہیں اور راہ حق کے داعی ہیں چاہے وہ کسی بھی علاقہ یا ملک میں آباد ہوں۔

قرآن وسنت پر عمل منہج سلف صالحین کے مطابق ضروری ہے

مشہور صحابی سیدنا عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا: جو شخص کسی کی پیروی کرنا چاہے وہ ان کی پیروی کرے جو اپنی زندگی پوری کر کے وفات پا چکے ہیں کیونکہ جو زندہ ہیں، وہ کسی بھی وقت فتنوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں اور اس راہ میں کامیاب ترین گروہ صحابہ کرام کا گروہ ہے جو کہ اس امت کا افضل ترین حصہ تھے جن کے دل نیکی سے بھرے ہوئے جن کے علم میں گہرائی تھی اور جو تکلفات سے دور تھے۔

امام اوزاعی  رحمہ اللہ   نے فرمایا: سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھو، وہی کہو جو ثابت ہو اور ان باتوں سے بچو، جن سے اسلاف بچتے رہے، سلف صالحین کے راستہ پر چلو تمہارے لیے بھی وہی راستہ بہتر ہے جو ان کے لیے بہتر تھا۔

اور مزید فرمایا: تم سلف کے نقش قدم پر چلو، چاہے لوگ مخالفت ہی کریں، چوکنا رہنا لوگوں کی ذاتی آراء سے چاہے کتنی ہی ملمع سازی سے بات کریں۔

امام احمد بن حنبل  رحمہ اللہ  نے کہا کہ صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم کے راستہ کو اپنانا اور اس کی پیروی کرنا ہمارے نزدیک اصول سنت میں سے ہے۔

امام ابن قیم رحمہ اللہ   نے فرمایا: جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن مجید کی تفسیر میں سلف صالحین اور مشہور ائمہ کے بر خلاف گفتگو کرنے سے دو باتوں میں کوئی ایک لازمی ہو گی۔

یا تو خود اس شخص سے ذاتی طور پر غلطی ہو رہی ہے یا پھر سلف نے غلطی کی ہے۔ لیکن کسی بھی عقلمند کو اس میں شک نہیں ہو سکتا کہ سلف صالحین کو غلط کہنے کے بجائے خود اس شخص کو غلط سمجھا جائے ، البتہ اگر کسی کی عقل وخرد جواب دے گئی ہو تواس کی حیثیت مختلف ہے جیسے کچھ لوگ کہتے ہیں، ہم بھی رجال یعنی انسان ہیں وہ بھی انسان تھے، یہ گویا ایسے متکبر شخص کا اندازہ ہے جو راہ ہدایت سے دور ہوچکا ہے، اللہ ہی اسے صحیح راستہ کی رہنمائی کرے۔ ( الصواعق المرسله علی الجهمیه والمعتزله: 1؍2)

امام شاطبی رحمہ اللہ   نے فرمایا: اکثر فرقے گمراہ اس لیے ہوئے کہ بظاہر وہ قرآن وسنت ہی سے استدلال کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن سلف کے اسلوب کو چھوڑ کر، گویا کہ سلف صالحین کے ذہن و دماغ میں وہ بات اور نکتہ نہیں آیا جو بعد میں آنے والوں کے ذہن میں آیا، اللہ کی پناہ اس گمراہ کن تصور سے ۔‘‘

اور مزید فرمایا: کہ اکثر گمراہ فرقوں میں دیکھا گیا ، چاہے وہ بنیادی احکام ہوں یا فروعی مسائل میں کہ وہ اپنے باطل نظریات اور فرسودہ خیالات بلکہ بعض فاسق قسم کے لوگ بھی ظاہراً بزعم خود شریعت سے ہی استدلال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ حقیقی شریعت اس سے پاک ہوتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ شرعی احکام پر غور کرتے ہوئےسلف صالحین کی طرف دیکھا جائے کہ انہوں نے مذکورہ مسئلہ کو کیسے سمجھا یا متعلقہ آیت یا حدیث کا مطلب کیا سمجھا، کیونکہ وہ حق کے متلاشی تھے اور علم وعمل میں تر تھے۔‘‘

امام ابن قیم  رحمہ اللہ  نے فرمایا: ’’ دیکھا گیا ہے کہ بہت سے کم علم لوگوں کی یہ غلطی ہے کہ کسی مسئلہ میں وہ قرآن وسنت کے بسااوقات ظاہری نصوص کو تودیکھتے ہیں لیکن ان کی نظر اس بات پر نہیں جاتی کہ اسی مسئلہ میں خود صاحب شریعت اور صحابہ کرام کا عمل کیا تھا، جو بعد میں آنے والوں سے زیادہ مسئلہ کی حقیقت کو سمجھتے تھے، لہٰذا جو تھوڑا بھی غور کرے گا وہ اس کی گہرائی کو سمجھ سکے گا اورصحیح مطلب تک پہنچ سکے گا یعنی قرآن وسنت کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام کا عمل۔‘‘

امام حافظ ابن عبد الہادی نے فرمایا: یہ جائز ہی نہیں ہے کہ کسی آیت یا سنت کا وہ مفہوم بیان کیا جائے جو عہد نبوی ﷺ یا عہد صحابہ میں رائج نہیں تھا اور جسے سلف صالحین نے بیان نہیں کیا؛ کیونکہ اس طرح کرنے سے یہ متصور ہو گا کہ ان بزرگوں کو حق کا ادراک نہیں ہوا اور وہ گمراہ ہو گئے اور اب بعد میں آنے والے اعتراض کنندہ کو صحیح مسئلہ معلوم ہوا اور حق انہوں نے دریافت کر لیا!! اور اگر بعد میں آنے والے کی رائے ان سابقین اولین کی رائے کے مخالف ہو تو پھر مزید طرفہ تماشہ۔‘‘

(الصارم المنکی فی الرد علی السبکی: 318)

امام ابن کثیر  رحمہ اللہ  نے سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 7 کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا:

﴿فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ﴾ (سورۃ آل عمران:7)

کہ اللہ کا فضل وکرم ہے کہ کسی بدعتی کو قرآن مجید میں اپنی بدعات کی تقویت کے لیے کوئی دلیل نہیں ملتی ، کیونکہ قرآن مجید آیا ہی حق کو باطل سے واضح کرنے کے لیے اور ہدایت کو ضلالت سے الگ کرنے کے لیے، اسی لیے قرآن مجید میں باہمی تعارض یا اختلاف نہیں، یہ کلام اللہ ہے جس کی ایک بات دوسرے سے متصادم نہیں ہوسکتی، یہ اللہ حکیم وحمید کا کلام ہے۔‘‘

(تفسیر ابن کثیر: 1؍144)

علامہ السعدی  رحمہ اللہ  نے فرمایا کہ اس ضمن میں یہ بات بھی داخل ہے کہ کفار اور منافقین کی تکرار اور اعتراضات جو اللہ کے احکام کو کمزور کرنے اور اپنے کفریہ خیالات کو ثابت کرنے کے لیے کیا کرتے تھے، اسی سے ملتی جلتی صورتحال آج مختلف بدعتیوں کی ہے جو متشابہات کا سہارا لے کر بحث وجدال کرتے ہیں، لہٰذا باطل کو ثابت کرنے کے لیے ان کی بحث وتکرار اللہ تعالیٰ کے واضح احکام کے ساتھ تمسخر سمجھا جائے گا کیونکہ حق صریح، واضح اور سچائی پر مبنی ہوتا ہے۔

لیکن اس حقیقت کے باوجود آج کل کچھ لوگ سلف صالحین کے راستہ پر چلنے اور ان کے منہج کو اہمیت دینے کے بجائے یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ ’’وہ بھی انسان تھے ہم بھی انسان ہیں۔‘‘ یہ حکمت وبصیرت سے خارج بات ہے، جس کی تردید میں مختلف اہل علم نے کافی کچھ بیان کیا ہے۔

علامہ الشیخ عثیمین فرماتے ہیں کہ اہل سنت والجماعت کا یہ اصول ہے کہ وہ مسائل میں مہاجرین وانصار صحابہ اور سلف صالحین کی طرف دیکھتے ہیں کہ زیر بحث مسئلہ میں ان کی کیا رائے ہے، کیونکہ ان کی پیروی کا مطلب ان کے ساتھ محبت وعقیدت کا اعتراف کرنا ہے، نیز اس لیے بھی کہ وہ حق اور سچائی سے قریب تر تھے، برخلاف وہ لوگ جو سلف کی طرف نہیں دیکھتے، بلکہ کہتے ہیں کہ وہ بھی انسان تھے اور ہم بھی انسان ہیں۔ گویا کہ ان کوتاہ بینوں کے ہاں حضرات ابو بکر، عمر، عثمان اور علی کی بات اور رائے اسی طرح کی ہے جیسے بعد میں آنے والے ایرے غیرے کی!! یہ بلاشبہ ضلالت ہے اور غلطی ہے، کیونکہ صحابہ کرام حق وراستی کے قریب تھے، ان کا قول بعد میں آنے والوں کے اقوال پر مقدم اور معتبر ہو گا، جیسے کچھ ان بزرگوں کا ایمان اور علم تھا، اور جو کچھ انہیں فہم سلیم اور امانتداری کا ملکہ حاصل تھا اور پھر انہیں رسول اللہ ﷺ کی صحبت اور براہ راست فیض پانے کا موقع ملا، وہ بعد میں آنے والوں سے بدرجہا بہتر اور اعلیٰ تھے۔

علامہ الشیخ صالح الفوزان نے فرمایا، جو شخص بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مخالفت کرے، ان کی بے توقیری کرے اور یہ کہے کہ وہ بھی انسان تھے اور ہم بھی انسان ہیں، بلاشک وشبہ یہ بات اس کی جہالت اور گمراہی پر مبنی ہے، ہو سکتا ہے یا تو یہ بات کہنے والا خود جاہل ہو جو سوچے سمجھے بغیر کچھ کہہ رہا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کے متعلق بغیر علم کے کچھ کہنا شرک کے مترادف ہے یا پھر ایسا آدمی خود فریبی کا شکار ہے جو سمجھتا ہے کہ اسے اتنا علم حاصل ہے کہ وہ صحابہ کرام کی بے ادبی اور تنقیص کر رہا ہے۔ (فتاوی الدروس العلمیہ)

علامہ الشیخ البانی رحمہ اللہ   نے فرمایا کہ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ وہ قرآن وسنت کی پیروی کر رہا ہے لیکن سلف صالحین کی پیروی نہیں کرتا تو گویا اپنی اس حرکت سے وہ اعتراف کر رہا ہے کہ وہ لوگ بھی انسان تھے اور ہم بھی انسان ہیں اور ایسا شخص گمراہ اور باطل پر ہے۔ میرا یہ خیال ہے کہ زمانہ قدیم میں بہت سے گمراہ فرقے اور موجودہ دور میں پائے جانے والے مختلف افکار اور نظریات کا ایک اہم سبب یہ ہے کہ دین فہمی کا تیسرا بنیادی مصدر کتاب وسنت کے بعد سلف صالحین کی طرف رجوع کرنا لیکن انہوں نے اس سے انحراف کیا، اگرچہ ہر گمراہ فرقہ بظاہر قرآن وسنت کی طرف رجوع کرنے کا دعویٰ کرتا ہے، مگر منہج سلف کے بغیر ۔ (موسوعۃ العقيدہ: 1؍220)

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ  فرماتے ہیں کہ یہ بات آشکار ہو چکی ہے کہ جو بھی قرآن یا حدیث کی تفسیر کرتے ہوئے صحابہ کرام یا تابعین کے برخلاف کوئی بات کرے گا وہ یا تو اللہ تعالیٰ کے حق میں مفتری سمجھا جائے گا یا پھر ملحد اور بے دین شمار ہو گا، یا تحریف کرنے والا متصور ہو گا جو اصل مفہوم ومعانی بگاڑ رہا ہے اور یہی الحاد اور زندیقیت کا راستہ ہے جو کہ باطل ہے، جو بھی دین اسلام کے اصولوں سے واقف ہو وہ اس طرز عمل کے ناقص اور غلط ہونے کا اندازہ آسانی سے کر سکے گا اور مزید فرمایا کہ جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ قرآن وسنت کا فہم صحیح حاصل کر سکتا ہے بغیر صحابہ کرام کی طرف رجوع کیے اور ان کے جادۂ حق سے ہٹ کر الگ اپنی روش اپناتا ہے ایسا شخص بلاشبہ بدعتی اور گمراہ ہے۔

(مختصر فتاوی مصریہ: ص 556، تحقیق محمد حامد الفقی)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ  نے فرمایا:

اہل سنت والجماعت کہتے ہیں کہ ہر قول وعمل جو صحابہ کرام سے ثابت نہ ہو اس کا شمار بدعت میں ہو گا، کیونکہ اگر اس کام میں کوئی بھلائی اور خوبی ہوتی تو صحابہ اس میں پہل کرتے ہوئے سبقت لے جاتے کیونکہ ان بزرگوں کو جب کبھی کوئی خیر اور اجر کمانے کا موقع ملتا وہ اس کی طرف پہل کیا کرتے تھے۔

فہم سلف کے مطابق عمل کرنے کے فوائد

a اللہ اور اس کے رسولﷺ کے فرمان پر عمل کرنے کے مترادف ہو گا، کیونکہ سلف صالحین کے راستہ کو اپنانے کا حکم ہمیں قرآن وسنت ہی سے ملتا ہے، جیسا کہ دلائل سے واضح ہو چکا ہے۔

b یہی حد فاصل ہے اہل سنت اور خواہشات نفس کے پجاریوں اور بدعتیوں کے درمیان کہ اہل سنت سلف کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

c یہ رب العالمین کی خوشنودی حاصل کرنے کا طریقہ ہے ، جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے: ’’ جو کوئی اخلاص کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلے گا اللہ ان سے راضی ہو گا۔‘‘

d سلف صالحین کی پیروی کرنے میں جہنم سے نجات ہے، ورنہ جو اس راہ ہدایت کو چھوڑے گا، جہنم میں جھونک دیا جائےگا جو کہ برا ٹھکانہ ہے۔

e یہی اتحاد واتفاق کا مؤثرذریعہ ہے، فہم سلف سے دوری فرقہ واریت اور اختلاف کا سبب ہے، جیسا کہ آیت سے واضح ہے۔

f فہم سلف کو اپنانا باعث ہدایت اور سبب نجات ہے، جیسا کہ کہا گیا:

﴿فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا ﴾

٭٭٭

ڈڈلی، حاجی عبد الخالق انتقال کر گئے

ڈڈلی کی بزرگ شخصیت حاجی راجہ عبد الخالق جنجوعہ بھی چل بسے۔ ڈڈلی مڈلینڈ کی بزرگ شخصیت حاجی راجا عبد الخالق جنجوعہ 83 سال کی عمر میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون! بزرگوار راجہ صاحب زندہ دل، خوش اخلاق اور اعلیٰ کردار سے متصف تھے، ڈڈلی میں مسجد کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے اور کیمونٹی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالتے تھے۔ جامع مسجد میں کوئینس کراس ڈڈلی میں ڈاکٹر عبد الرب ثاقب نے ان کی نماز جنازہ ادا کی اور بریلے ہل قبرستان میں ان کی اہلیہ کے قریب ان کی تدفین عمل میں آئی، پسماندگان میں تین فرزند راجہ افراہیم، راجہ سرفراز اور راجہ ممتاز اور تین بیٹیاں سوگواروں میں شامل ہیں۔

تبصرہ کریں