منہج سلف سے انحراف اور اہل بدعہ کا منہجِ استدلال (قسط2)-ڈاکٹر آصف عمری

1۔شرعی دلائل پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ عقائد میں بھی بے سند اور من گھڑت قصے کہانیوں سے عقلیات کے نام پر منطق و فلسفہ سے استدلال کرتے ہیں۔

2۔ معتبر اصولوں کا نہیں بلکہ متشابہات کی پیروی کرتے ہیں ۔ اس منہج کے لوگ حدیث کا انکار کرتے ہیں۔

3۔ یہ لوگ صحابہ اور سلف صالحین کی تفسیر ، ان کے آثار واعمال اور ان کی نصوص کو سمجھنے میں فہم وفراست سے ہر کسی پر اعتماد نہیں کرتے بلکہ فہم صحابہ سے دور رہتے ہیں۔

4۔ یہ عقائد میں بھی تاویلات پر اعتماد کرتے ہیں یہ اللہ کی شان میں وہ باتیں کہتے ہیں جو اس کے شایان شان نہیں ہیں، یہ فتنوں کے دروازے ڈھونڈتے ہیں۔

5۔ یہ قرآن کی تشریح اپنی خواہشات سے کرتے ہیں۔

6۔ یہ صفات باری تعالیٰ کے بارے میں بدعی الفاظ استعمال کرتے ہیں جیسے جسم ہے، عرض ہے اور خود ساختہ اصولوں کی پیروی کرتے ہیں۔

صحابہ کرام کا فہم ومنہج کی پیروی عقائد واعمال کی گمراہیوں سے نجات ہے:

شریعت کے دو بنیادی مصادر ہیں، قرآن وسنت ان دونوں کی وہی تفسیر و تشریح معتبر ہوگی جو صحابہ کے طریقے سے آئے اور طریقہ صحابہ ہی کو فہم یا منہج سلف کہتے ہیں ۔

طریقہ صحابہ کو ایک جگہ سبیل المؤمنین بھی کہا گیا اور جو کوئی بھی طریقہ صحابہ کو چھوڑ دے گا۔ اس کا انجام جہنم بتایا گیا۔

اگر ہم غور کریں تو پتا چلے گا کہ طریقہ صحابہ کو اپنا کر ہر قسم کی گمراہی سے ہم بیچ سکتے ہیں کیونکہ طریقہ صحابہ وسبیل المؤمنین کی پیروی کا اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے، صحابہ کرام دین کو سب سے زیادہ سمجھنے والے تھے۔ وہ رسول اللہﷺ کے شاگرد تھے ، صحابہ کرام کے سامنے ہی قرآن مجید کا نزول ہوا ، وہ ساری امت میں خیر القرون بہترین امت کہلائے، صحابہ منہج ہدایت کا معیار ہیں ۔

صحابہ کرام کے طریقے کی پیروی امت میں اتحاد واتفاق کی بنیاد ہے۔ طریقہ صحابہ ہی وسطیت (اعتدال ) کا راستہ ہے ہر قسم کی بدعات سے پاک دور صحابہ کا تھا، منہج صحابہ بالکل فطری منہج ہے۔ یہ منہج مؤمنوں کے لیے رحمت ہی رحمت ہے، یہ منہج کسی پر ظلم کا قائل نہیں، یہ لوگوں پر ناحق ظلم سے ڈراتا ہے، یہ منہج بغیر کسی دلیل کے کسی بھی فرد یا فرقہ اور جماعت کو تکفیر ( کافر کہنے ) کا قائل نہیں۔

دین وشریعت کا علم کس سے حاصل کریں؟

قرآن مجید میں علم اور اہل علم کی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں، دین و شریعت کا علم در حقیقت ہر مسلمان پر فرض ہے یہ علم عبادت ہے ۔ یہ عظیم نعمت ہے۔ یہ علم ہی ہے جو مخلوق کو خالق سے جوڑتا ہے ۔

اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر اور بھلائی چاہتا ہے اس کو دین کا فہم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی پہچان اور حلال وحرام میں تمیز کا ذریعہ علم دین ہے، جو علم دین کے لیے کسی راستے پر چلتے ہیں انہیں جنت کا راستہ آسمان ہو جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ علم کس سے حاصل کریں ؟

علم دین امانت ہے ، یہ بڑی بھاری ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے علماء ہی ہوتے ہیں، قیامت کے دن علم کے تعلق سے سوال کیا جائے گا۔ لہٰذا طلباء، نو جوانوں اور تمام مرد و خواتین پر لازم ہے کہ

وہ علم دین وہیں سے حاصل کریں جو علماء مستند پابند شریعت ہیں اور سلف صالحین کے طرز پر زندگی گزارتے ہیں قیامت کی نشانیوں میں یہ ایک نشانی ہے کہ علم کو اصاغر کے پاس تلاش کیا جائے گا۔ (شرح السنہ السلسلہ الصحیحہ : 695)

ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے نوجوان ہیں، جو انٹرنیٹ سے سیکھتے ہیں اور ایسے خطباء اور مقررین کو اپنا استاذ یا معلم بناتے ہیں جو کہ سلف صالحین کے طرز پر علم نہیں جانتے، یہ نہ شریعت کے بنیادی علوم سے واقف ہیں، نہ فقہ، حدیث ، تفسیر کے اصول جانتے ہیں۔

علامہ البانی﷫ نے فرمایا :

’’اصاغر سے مراد جاہل ہیں جو کتاب وسنت کا علم جانے بغیر ان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔‘‘ (السلسلہ الاحادیث الصحیحہ: 2؍310)

افسوس ایسے جاہل اور کم علم لوگ ، علماء کی تحقیر و تنقیص کرتے ہیں ۔ اور دعوتی میدان میں بھی یہ لوگ طریقہ انبیاء کے خلاف صرف علم کلام اور منطق و فلسفہ کی اہمیت دیتے ہیں اور ان کے شاگرد بھی اسی طرز پر دین کی دعوت دیتے ہیں ۔ قرآن وسنت سے زیادہ دیگر مذاہب کی کتابوں سے استدلال بلکہ قرآن کی تلاوت کی طرح پڑھتے ہیں نو جوانوں کا ایک بڑا طبقہ آزادانہ خیال کا حامل ہے، وہ نہ علماء سے علم حاصل کرتے ہیں اور نہ اپنے طرز زندگی کو منہج سلف کے مطابق ڈھالتے ہیں بلکہ بعض تو اُلٹے سیدھے سوالات اور اندھی تقلید اور شخصیت پرستی میں خوارج کے نظریات اپناتے ہیں ۔

سیدنا علی بن ابی طالب فرماتے ہیں:

’’تم یہ دیکھو کہ تم علم کس سے حاصل کر رہے ہوں کیوں کہ یہ دین ہے۔‘‘ (الكفایۃ للخطيب : 139)

دور حاضر میں کتنے ہی گمراہ فرقے اور شخصیات ہیں جن کی تقار یر، محاضرات، بیانات اور کتابوں سے اچھے خاصے پڑھے لکھے نوجوان اہل علم اور دینی مدارس کے فارغ التحصیل سند یافتہ علماء گمراہ ہوئے، حد درجہ غلو افراط و تفریط کا شکار ہو گئے، تنقید کے نام پر صحابہ کرام کی شان میں گستاخیاں کیں، عقل اور نیچر کو بنیاد بنایا اور احادیث صحیحہ کا انکار کیا۔ موضوع ، ضعیف اور اسرائیلی روایات پر عمل کیا ۔ جیسے رافضی، خارجی، جہمی، قدری ، معتزلی ، ماتردیدی وغیرہ ۔ کچھ ایسے بھی مشہور و معروف مقررین ، واعظین اور خطباء ہیں جن کا کوئی استاذ نہیں ۔ انہوں نے صرف ذاتی مطالعہ سے اپنی معلومات میں اضافہ کر لیا، ان سے عامۃ المسلمین فتوے بھی پوچھتے ہیں، ان کا مصدر و مرجع انٹرنیٹ ہے، حالانکہ حصول علم کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ طلبہ اہل علم مستند علماء سے علم سیکھیں ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کریں ، کیونکہ صرف کتابوں کے مطالعہ سے حقیقی علم حاصل نہیں ہوتا ۔ حصول علم کے لیے سلف کی کتابوں پر اعتماد کریں۔

امام ذہبی﷫ طالب علم کو وصیت کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’ اے میرے بھائی! تم اللہ کی کتاب کو لازم پکڑو، اس کو سمجھو پھر صحیحین (بخاری و مسلم ) سنن نسائی، امام نووی﷫ کی ریاض الصالحین اور اذکار کا مطالعہ کرو۔ ‘‘ (سیر اعلام النبلاء: 11؍340)

حصول علم کے لیے تسلسل و تدریج ضروری ہے، ساتھ ہی ساتھ ، صبر، بلند ہمتی، جہدِ مسلسل کو اپنا شعار بنائے ۔ طالب علم میں اخلاص ، وللہیت ہونا چاہئے اخلاص نہ ہو تو علم بےکار ہے ، اخلاص نہ ہو تو وہ علم وبال جان بن جاتا ہے اور وہ دنیا پرست بن جاتا ہے ، وہ اپنے علم اور دین کو دنیوی فائدے کے عوض بیچ ڈالتا ہے، جو کچھ علم سیکھے اس پر عمل بھی کرے کیونکہ علم درخت ہے، عمل اس کا پھل ہے۔ سلف کا معمول تھا جودہ سیکھتے اس پر عمل کرتے تھے وہ با اخلاق اور کبار علماء کا احترام کرتے ہیں ۔ معصیت اور گناہ سے بچتے ہیں۔

دعوت و تبلیغ میں سلف صالحین کا منہج :

دعوت دین امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے۔ دعوت کے دو اقسام ہیں:

1۔ مسلمانوں میں گمراہ عقائد ، اخلاق و اعمال کی اصلاح۔

2۔ غیر مسلموں میں اسلام کی دعوت ،شکوک و شبہات کا ازالہ توحید کی دعوت۔

دعوت کے لیے علم ضروری ہے ، دعوت کی بنیاد قرآن وسنت پر ہونی چاہئے نہ کہ دیگر مذاہب کی کتابیں ،صرف حوالہ حسب ضرورت دے سکتے ہیں دعوت میں حکمت وموعظت ضروری ہے۔ داعی کو نرم مزاج ، صابر، فہم و فراست والا ہونا چاہئے، دعوت کا وہی طریقہ قابل قبول ہے جو رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے طریقے کے مطابق ہو۔

جہاں تک ایک مسلمان کا فقہی مذاہب ( مذاہب اربعہ) کی تقلید کا مسئلہ ہے، اس سے متعلق یہ کہنا ضروری ہے کہ ایک مسلمان پر ان مذاہب کی تقلید فرض نہیں بلکہ تمام پر اتباع سنت فرض ہے ، اتباع سنت سے امت کے سارے اختلافات ختم ہو سکتے ہیں۔

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ ۖ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا﴾

’’اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو اور رسول ﷺکی اور تم میں سے اختیار والوں کی ۔ پھر اگر کسی چیز پر اختلاف کرو تو اسے لوٹا ؤا، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول (ﷺ) کی طرف ، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے، یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام بہت اچھا ہے ۔‘‘ (سورۃ النساء : 59)

سلف صالحین کے منہج پر کار فرما داعیوں کو کسی بھی مسلک کے ائمہ و مقلدین سے تعصب رکھنے کی سلفیت دعوت نہیں دیتی ۔ جدید مسائل (فقہ النوازل) میں بھی منہج سلف ضروری ہے، کیوں کہ اسلامی شریعت ہر زمان و مکان کے لئے ہے اور یہی وہ شریعت ہے جو تا قیامت رہے گی ۔ ان شاء اللہ

آج فتنوں اور فتؤؤں کا بازار گرم ہے، امت میں انتشار ہے، دین کے مسائل میں بغیر علم کے کلام کرنا سب سے بڑا جرم ہے۔ دورِ حاضر میں جہاں بے شمار مسائل ہیں، ان میں انفرادی رائے اور فتوے اور اجتماعی فتوؤں کا لحاظ کیا جائے۔

منہج سلف کی ایک خصوصیت ہے کہ جن مسائل کا علم نہ ہو ان میں بغیرجھجک صاف کہہ دینا کہ

” لا أدرى”

(میں نہیں جانتا) نصف العلم ہے، سلف صالحین مسائل متحدہ میں اس بات کی پوری کوشش کرتے ہیں کہ ان کی وجہ سے امت میں انتشار پیدا نہ ہو اور عوام فتنے میں نہ پڑ جائے۔

آداب اختلاف

باہم اختلاف کا ہونا فطری امر ہے لیکن مخالفت، مخاصمت اور دشمنی نہیں ہونی چاہیے، اختلاف کے بھی کچھ اصول و آداب ہیں، ان کا پاس ولحاظ رکھا جائے تو امت میں انتشار نہیں ہو گا۔

1۔ آپس میں حتی المقدور اختلاف سے بچنے کی کوشش کی جائے۔

2۔ اختلاف کی خبر کی صورت میں تحقیق کرنا چاہیے۔

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ﴾

’’اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو، پھر اپنے لیے پریشانی اٹھاؤ۔‘‘ (سورۃ الحجرات: 6)

3۔ مخالف کے ساتھ جس قدر ممکن ہو حسن ظن کا معاملہ کیا جائے، کیونکہ بدگمانی اختلافات کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ﴾

’’اے ایمان والو! بہت بدگمانیوں سے بچو، یقین مانو کہ بعض بد گمانیاں گناہ ہیں اور بھید نہ ٹٹولا کرو اور نہ تم کسی کی غیبت کرو کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی اور اللہ سے ڈرتے رہو، بےشک اللہ تو بہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔‘‘ (سورۃ الحجرات:12)

4۔ اختلافی امور میں مودت، محبت، نرمی اور احترام کے ساتھ اہل علم کا آپس میں مذاکرہ،مناصحہ احسن طریقہ سے ہونا چاہئے۔

5۔ فریق مخالف کی غلطیوں کو تلاش کرنے کی کوشش نہ کرنا، شریعت نے اس سے منع کیا ہے۔

6۔ مختلف فیہ مسائل کے حل کے لئے فریقین پہلی فرصت میں کتاب وسنت کی طرف رجوع کریں ۔

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ ۖ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا﴾

’’اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو، اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول (ﷺ ) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی ۔ پھر اگر کسی چیز پر اختلاف کرو تو اسے لوٹا ؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول (ﷺ ) کی طرف ، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے۔ ‘‘ (سورۃ النساء:59)

7۔ عظیم ہدف اور مقصد کو پانے کی غرض سے اختلافی امور میں شرکت کی جائے، خواہشاتِ نفس کا کوئی عمل دخل نہ ہو ۔

﴿ لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ ‎﴾

”تاکہ حق کا حق اور باطل کا باطل ہونا ثابت کر دے گو کہ مجرم لوگ نا پسند ہی کریں ۔“ (سورۃ الانفال : 8)

7۔ اچھے اسلوب اور اچھے انداز میں حسن اخلاق کے ساتھ گفتگو اور بات چیت کی جائے۔

﴿وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مُعْرِضُونَ﴾

’’اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے وعدہ لیا کہ تم اللہ کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، اسی طرح قرابت داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور لوگوں کو اچھی باتیں کہنا، نماز میں قائم رکھنا اور زکوۃ دیتے رہنا ، لیکن تھوڑے سے لوگوں کے علاوہ تم سب پھر گئے اور منہ موڑ لیا۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 83)

﴿ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ﴾

’’اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے، یقیناً آپ کا رب اپنی راہ سے بہکنے والوں کو بھی بخوبی جانتا ہے اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں سے پورا واقف ہے۔“ (سورۃ النحل: 125)

الغرض : اختلافی مسائل میں ہمیں خندہ پیشانی ، خوش دلی ، الفت و محبت اچھے اخلاق سے پیش آنا چاہیے، بڑوں کی عزت کا خیال عفو،درگزر اورحق کے قبول کا جذبہ ہونا چاہئے ۔

تنقید وجرح کے رہنما اصول:

اکثر لوگ تنقید کا مقصد ہی نہیں جانتے، تنقید برائے تنقید ہوتی ہے ۔ حالانکہ اصلاح کے لئے ہونی چاہئے تنقید کا مقصد عیب جوئی ، اور حقارت نہ ہو۔ تنقید زبانی ہو یا تحریری، کھرے کھوٹے کی پہچان ، صحیح اور غلط حق و باطل کے درمیان تمیز کے لیے ہو۔ نقد و جرح کا

عمل دینی احساس کی بنیاد پر ہو۔ مقصود رضائے الٰہی ہو، حسن نیت ہو، ڈپریشن ،غصہ کے وقت کوئی تنقید نہ کی جائے۔ تنقید کا مقصد، خیر خواہی ہو، فتنہ و فساد نہ ہو۔ تنقید کا مقصد تعمیر اصلاح ہونی چاہئے ۔

﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾

’’( یا درکھو) سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں، پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تا کہ تم پر رحم کیا جائے ۔“ (سورۃ الحجرات : 10)

کسی فرد و جماعت پر تنقید وجرح کرتے ہوئے عدل وانصاف کا دامن نہ چھوٹے ۔

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ ۖ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ﴾(سورۃ المائدہ : 8)

”اے ایمان والو! تم اللہ کی خاطر حق پر قائم ہو جاؤ، راستی اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ، کسی قوم کی عداوت تمہیں خلاف عدل پر آمادہ نہ کر دے، عدل کیا کرو جو پر ہیز گاری کے زیادہ قریب ہے، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔“

کسی کی غلطی بڑھا کر پیش نہ کریں ۔ کسی پر حکم لگانے یا تنقید کرنے سے پہلے زبان کھولنے یا قلم چلانے سے پہلے اللہ کا ڈر ہونا چاہئے ۔

﴿مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ﴾

’’ (انسان ) منہ سے کوئی لفظ نکال نہیں پاتا مگر اس کے پاس نگہبان تیار ہے ۔ “ (سورۃ ق : 18)

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ﴾

”اے ایمان والو! بہت بدگمانیوں سے بچو، یقین مانو کہ بعض بد گمانیاں گناہ ہیں اور بھید نہ ٹٹولا کرو اور نہ تم کسی کی غیبت کرو، کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔‘‘

٭٭٭

مولانا شعیب احمد میرپوری امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ و حاجی محمد اسحاق کو صدمات

مولانا شعیب احمد میرپوری امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ کی بزرگ ہمشیرہ 94 سال کی عمر میں ڈیوزبری میں وفات پا گئیں۔ إنا لله وإنا إليه راجعون، اللهم أغفر لها وارحمها وعافها وأعف عنها،وأكرم نزلها ووسع مدخلها واغسلها بالماء والثلج والبرد ونقها من الذنوب والخطايا كما ينقى الثوب الأبيض اللهم أدخلها الجنة وأعذها من عذاب القبر وعذاب النار.

یہ چوہدری حبیب احمد، کونسلر الیاس، منیر فیاض، چوہدری وقاص بانبری کی بہن اور کونسلر عبد الرزاق ڈیوزبری کی والدہ تھیں، ان کی نماز جنازہ اور تدفین سے فراغت ہوئی، ان کی قبر کے پہلو میں ایک اور قبر تیار تھی تاکہ کسی اور میت کو وہاں دفن کر سکیں۔

چوہدری محمد اسحاق ڈیوزبری کے فرزند کامران اسحاق جو 40 سال کی عمر کے تھے، انہوں نے بھی مرحومہ عائشہ بی بی کو مٹی اور ان کے پہلو میں خالی قبر کو دیکھ کر کہ پتہ نہیں اس میں کون دفن ہوں گے۔ وہ رات میں کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر نماز عشاء ادا کی، مسجد ان کے گھر کے سامنے ہی ہے اور سو گئے، رات 2 بجے دل میں درد ہوا، فوری گھر والوں نے ایمبولینس بلائی اور اتنی ہی دیر میں وہ مالک حقیقی سے جا ملے۔ إنا لله وانا اليه راجعون، اللهم أغفر له وأرحمه وعافه وأعف عنه وأكرم نزله ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الذنوب والخطايا كما ينقى الثوب الابيض، اللهم أدخله الجنة وأعذه من عذاب القبر وعذاب النار

دن میں جو نانی صاحبہ کی تدفین سے فارغ ہوئے تھے، رات میں خود بھی نانی کے پہلو کی قبر کے مہمان ثابت ہوئے، اس طرح دو فوتگیوں سے ایک ہی خاندان میں قیامت برپا ہو گئی اور بہت ہی بڑی اور وسیع وعریض مسجد تنگ دامانی کا شکار ہو گئی، اس وقت فارسی کا ایک شعر یاد آر ہا ہے۔

گر پیرے نود سالہ سمیر دعجبے نیست

ایں ماتم سخت است کہ گویند جواں مرد

’’اگر نوے سال کے بوڑھے کی وفات ہو جائے تو تعجب کی بات نہیں ہے، مگر ایک نوجوان کا انتقال ہوتا ہے تو بہت زیادہ افسوس ہوتا ہے۔‘‘

اس نوجوان کے جنازہ میں پورے برطانیہ سے اقارب واحباب کثیر تعداد میں نماز جنازہ میں شریک تھے۔ چوہدری ممتاز، چوہدری عبد الرزاق، چوہدری اقبال، حاجی محمد حنیف، حاجی ذوالفقار قریشی، حاجی عبد الجبار قریشی، عبد الغفور قریشی، عبد الشکور قریشی ڈڈلی، قاری سید یعقوب علی اوربہت سے اقارب واحباب شریک جنازہ وتدفین تھے۔ عبد الرحمٰن قریشی، قاری ذکاء اللہ سلیم، مولانا عبد الہادی العمری، محمد عمر، مولانا حفیظ اللہ خان المدنی، مولانا شیر خان جمیل احمد عمری، محمد عبد الروؤف ریاضی، حافظ عبد الرافع ریاضی، ڈاکٹر عبد الرب ثاقب اور بہت سے احباب اور علمائے کرام نے ان دونوں اموات پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے اللہ کریم سے دعا کی کہ اے اللہ! ان دونوں مرحومین کی مغفرت فرما دے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشیر نہیں

سامان سوبرس کا ہے پل کی خبر نہیں

رپورٹ: ڈاکٹر عبد الرب ثاقب

تبصرہ کریں