ملکہ برطانیہ کا جنازہ؛ عبرت کی گذرگاہوں سے۔ محمد عبد الہادی عمری مدنی

پی گئی کتنوں کا لہو تیری یاد ، غم تیرا کتنے کلیجے کھا گیا

8؍ستمبر ، جمعرات کی دوپہر ملکہ برطانیہ 96 برس کی عمر پا کر بال مورول قلعہ میں وفات پا گئیں۔ ان کی موت ایک دنیا کو افسردہ کر گئی، ان کا جنازہ کئی حیثیتوں سے منفرد قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس دور میں اس کی بظاہر کوئی نظیر نہیں ملتی، نہ جانے اس کی تیاری اور ترتیب میں کتنے دماغ بلکہ کتنے ادارے شامل تھے اور کتنا سرمایہ لگا۔

ملکہ کی موت سے نصرانی عقیدہ اور چرچ آف انگلینڈ کو نئی توانائی ملی، ورنہ نصرانیت اب عقیدہ اور مذہب سے زیاہ کلچر اور عادات کا روپ اختیار کرر ہی ہے۔ ان کی موت تاج اور بادشاہت کے تصور کو دل ودماغ میں راسخ کرنے کا ذریعہ ثابت ہوئی، ان کی موت کی خبر سے تدفین اور جانشینی کے مراسم کی ادائیگی میں اس بات کا خاص اہتمام کیا گیا تھا۔ ریاست ہائے متحدہ برطانیہ کی باہمی ریاستی چپقلش کی حدت کو کم کر کے لندن کے ساتھ رشتہ استوار کرنے کا سبب بنی۔ اس کا عملی مظاہرہ کئی پہلوؤں سے ہوا، تخت نشینی کے اہم دستاویز پر ریاستی ذمہ داران کے دستخط بطور گواہ کے ثبت کیے گئے۔ نقارچیوں کے ذریعہ قدیم روایت کے مطابق مختلف علاقوں میں اعلان کروایا گیا، اگرچیکہ ذرائع ابلاغ کی ترقی کے دور میں بظاہر یہ تکلف دکھائی دیتا ہے، کیونکہ لوگ لندن میں منعقدہ تقریب تخت نشینی کا براہ راست مشاہدہ کر چکے تھے تاہم اس قدیم روایت کی برقراری میں تخت شاہی کی اہمیت کا مظاہرہ بھی تھا اور ملحقہ چھوٹی ریاستوں کو مرکز کے ساتھ مربوط رکھنے کا ذریعہ بھی، تقریب حلف برداری کے بعد نئے بادشاہ نے والدہ کے جنازے سے پہلے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے وہاں کی مقامی اسمبلیوں سے خطاب کیا اور مختلف لوگوں کی آشیرباد حاصل کی۔

ملکہ نے اپنے اس منصب پر اتنی شہرت پائی کہ اگر بغیر کسی اضافت کے کوین کہا جاتا تو مفہوم متبادر ملکہ برطانیہ ہی ہوتا۔ ورنہ دیگر شاہوں کے لیے ملک یا نام کی اضافت درکار ہوتی ہے۔

وہ تخت شاہی پر اپنے والد کنگ جارج کی وفات کے بعد 27 برس کی عمر میں 1952ء میں متمکن ہوئیں اور چند مہینوں کے بعد تاج پوشی کی رسم 1953ء میں ادا کی گئی۔ اس موقع پر وعدہ کیا تھا کہ میں اپنی زندکی چاہے طویل ہو یا مختصر اپنے ملک کی خدمت میں لگا دوں گی۔ اسی عہد کے مطابق حالات کے اتار چڑھاؤ، گرمی سردی کے باوجود اخیر تک اپنے فرائض منصبی نبھاتی رہیں، آخری ایام میں گرتی ہوئی صحت کے باعث اسکاٹ لینڈ کی پہاڑیوں پر واقع قلعہ بال مورول میں مقیم تھیں، وفات سے تین روز قبل مستعفی ہونے والے وزیر اعظم کا استعفیٰ قبول کر کے نئی وزیر اعظم کی منظوری دی، اس کا ٹی وی پر عوام نے مشاہدہ کیا، گویا تین روز قبل تک وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی تھیں، فرق اتنا تھا کہ سرکاری ملاقاتیں بکنگھم پیلس میں انجام پاتی تھی، اب بال مورول میں یہ تقریب منعقد ہوئی۔

ان کی موت کی خبر کے ساتھ ہی ٹی وی چینلز نے سارے پروگرام منسوخ کرکے اسی خبر کو نشر کرتے اور ملکہ ہی سے متعلق پروگرام چلاتےر ہے، بلکہ تین دن تک دوسری خبروں کا ذکر ہی نہیں، گویا دنیا میں اس کے علاوہ کوئی خبر قابل ذکر نہیں ہو سکتی تھی۔ ان کے تابوت کے دیدار کے لیے کیونکہ چہرہ کا دیدار تو شاہی قلعہ میں موجود چند افراد نے ہی کیا ہو گا جو وفات کے وقت موجود تھے باقی لوگ صرف تابوت کا ہی دیدار کر سکے، لیکن اس کے لیے بھی عوام کا ہجوم ایسے امنڈ پڑا ہر طرف جدھر سے گاڑی گذرتی راستوں پر عقیدتمندوں کی قطاریں لگ گئیں، پہلے اسکاٹ لینڈ کے دار الحکومت ایڈنبرا میں دور روز کے لیے تابوت رکھا گیا، اس کے دیدار اور مذہبی رسومات کی انجام دہی کے لیے ہزاروں لوگ شریک ہوئے، پھر یہاں سے نعش لندن قصر شاہی پہنچائی گئی، ایک دن کے لیے فیملی اور خصوصی افراد خاندان کو موقع دیا گیا، پھر پارلیمنٹ کے خصوصی ہال تزک واحتشام کے ساتھ تابوت لے جایا گیا، اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے گھنٹوں لوگ راستوں پر کھڑے رہے، تابوت جب پارلیمنٹ بلڈنگ کے مخصوص ہال میں پہنچایا گیا تو اس انداز سے کہ مرنے کے بعد بھی شاہی وقار میں فرق نہ آنے پائے، ویسے تو پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل ہوتے ہی برطانوی عظمت وسطوت کا سکہ دل و دماغ میں بیٹھنے لگتا ہے، لیکن ملکہ کا تابوت اس انداز سے رکھا گیاکہ نہ صرف عظمت رفتہ کے نقوش تازہ ہوں بلکہ مزید اضافہ ہو۔ تابوت کے اوپر تاج ملکہ کو خاص وضع سے رکھا کیا جس میں نایاب ہیرے اور قیمتی موتی جڑے ہوئے ہیں۔ سرہانے صلیبی نشان آویزاں کیا گیا کہ زندگی میں جس عقیدہ سے وابستہ تھیں، مرنے تک اسی پر قائم رہیں۔ تابوت کے چاروں کناروں پر مسلح باڈی گارڈ مخصوص لباس میں ہتھیار زمین پر ٹکائے سرنگوں بلاجنبش وحرکت دم سادھے ٹھہرے رہے، یہ بہت ہی مشکل ہیئت ہے تب ہی تو ہر 20 منٹ بعد پہرے داروں کی ڈیوٹی بدلتی رہی، اس ہیئت اور ماحول میں 20 منٹ کا قیام بھی شاید ان کے لیے گھنٹوں طویل ڈیوٹی پر بھاری رہا ہو گا، تب ہی تو مضبوط قوی سپاہی بھی کمزور پڑتے دکھائی دیے اور کچھ اپنےاعصاب پر قابو نہ رکھ سکے، غش کھاکر گرنے والوں کو ان کے ساتھیوں نے سنبھالا دیا۔ کچھ دیر کے لیے ملکہ کی اولاد اور احفاد نے اسی وضع قطع کے ساتھ یہ ڈیوٹی انجام دی کہ صرف ملازمت پر مامور افراد ہی نہیں بلکہ شاہی افراد بھی اس غم میں شریک ہیں، دوسری طرف عوام اور رعایا کی یہ کیفیت تھی کہ دیدار کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر جو قطار بنائی گئی وہ وقت کے ساتھ طویل تر ہوتی گئی، پہلے چند گھنٹوں کے بعد ہی بتایا جانے لگا کہ اس کے آخری سرے سے تابوت شاہی تک پہنچنے میں چار گھنٹے لگیں گے، پھر چھ گھنٹے، بارہ گھنٹے اور 2 دن بعد تقریباً 24 گھنٹے طویل ہو گئی یعنی آج صبح کوئی دیدار کے لیے لائن میں لگے تو اس کا نمبر کل صبح آئے گا، اس کے لیے مسلسل لائن میں کھڑے رہنا اور 8 کلو میٹر طویل فاصلہ طے کرنا ہو گا، تب وہ تابوت شاہی کے روبرو پہنچ کر چند سیکنڈ رک کر اپنی عقیدت کا اظہار کر سکے گا، اس طویل تھکا دینے والی لائن اور پُرمشقت انتظار کو خندہ پیشانی سے جھیلنا کسی زبردستی یا خوف کے بغیر صرف محبت کا نتیجہ ہی ہو سکتا ہے، حتیٰ کہ عمر رسیدہ بلکہ معذور ویل چیئر پر بیٹھے زائرین کو کہتے ہوئے سنا گیا کہ اگر ملکہ نے اپنی زندگی کے 70 برس ہمارےلیے گذارے ہیں تو ہم 24 گھنٹے اپنی زندگی کے ان کے لیے نکالیں یہ مہنگا سودا نہیں، تابوت کے سامنے پہنچنے والے پُرنم آنکھوں اور مرجھائے ہوئے چہرہ سے اظہار عقیدت کر رہے تھے، کوئی مخصوص انداز سے سر کو جنبش دیتا کوئی آنکھیں بند کر کے سر جھکائے ٹھہرتا تو کوئی دونوں ہاتھ جوڑ کر نمستے کرتا دکھائی دیا یا انگلی سے صلیب کا نشان بناتا جیسے کہ امریکی صدر اور ان کی اہلیہ نے کیا۔ یہاں شاہ وگدا سب برابر دکھائی دیئے، فرق تھا تو صرف اتنا کہ اہم شخصیات کو طویل لائن کی زحمت سے بچا کر مخصوص راستہ سے اندر لے جایا گیا لیکن کچھ عقیدتمندوں نے اس بائی پاس کے بجائے عام لائن سے جانا ہی پسند کیا جیسے مشہور فٹبالر ڈیوڈ بیکھم نے بارہ گھنٹوں کا دورانیہ پورا کیا لائن میں ، یہاں آنے والوں کو عقیدت ومحبت کے پھول لانے سے منع کر دیا گیا تھا کہ صفائی میں خاصی محنت ہو گی، کیونکہ موت کی خبر کے ساتھ ہی عقیدتمند گلدستے لیے شاہی رہائش گاہوں کے باہر پہنچے کہ ان گلدستوں کو گاڑی کی مدد سے ہٹانا پڑا، حالانکہ یہ گلدستے قیمتی اور رنگے برنگے پھولوں سے سجائے جاتے ہیں لیکن

ہر پھول کی قسمت میں کہاں ناز عروساں

کچھ پھول تو کھلتے ہی مزاروں کے لیے بھی

ملکہ کا تابوت خاموش زبان میں کہہ رہا تھا کہ یہ دنیا فانی ہے، یہاں کی زندگی مختصر اور محدود ہے، پھر ابدی دنیا کی طرف کوچ کرنا ہے، اس میں امیر وغریب، مؤمن وکافر، شہرت یافتہ اور بے نام ونشان سب برابر ہیں۔ موت ایک ایسی حقیقت ہے کہ وقت کی اہم ترین شخصیات انبیائے کرام﷩ بھی اس قاعدہ سے مستثنیٰ نہیں، یکے بعد دیگرے متعدد انبیائے کرام﷩ تشریف لے آئے اوردنیا سے کوچ کرتے رہے۔

یہ قانون الٰہی ہے:

﴿كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ‎0‏ وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ﴾

کسی مخلوق کو بقا نہیں، باقی رہنے والی ذات صرف اللہ وحدہ لاشریک کی ہے۔ (سورۃ الرحمٰن: 27)

یہ شاہی محلات، مضبوط قلعے، زندگی کی چکاچوند اور عشرت سامانیاں سب زوال پذیر ہیں، بلکہ بسا اوقات اللہ کے نافرمانوں کو زیادہ نوازا جاتا ہے کہ یہ امتحان ہے اور اخروی نعمتوں کا کوئی حصہ ان کے لیے نہیں جو دولت ایمان سے محروم ہوں۔ پڑھیے قرآن:

’’اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تمام لوگ ایک ہی طریقہ پر ہو جائیں یعنی دنیوی اسباب میں رغبت کی وجہ سے طالب دنیا ہی ہو جائیں اور آخرت کو فراموش کر بیٹھیں تو اللہ رحمٰن کے ساتھ کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتوں کو ہم چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیوں کو بھی اور ان کے گھروں کے دروازے اور تخت جن پر ٹیک لگا بیٹھتے ہیں۔‘‘ (سورۃ الزخرف: 33۔34)

مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد تابوت کو سربراہان عالم کے جھرمٹ میں شاہی تزک و احتشام اور فوجی بینڈ باجے کی دھن کے ساتھ اس کی آخری منزل مختلف شاہراہوں سے گزار کر اس طرح پہنچایا گیا گویا وہ کہہ رہی تھیں:

دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو

میری سنو جو گوش نصیحت نیوش ہو

جب ونڈسرکاسل کے چرچ میں اس چبوترہ پر تابوت رکھا گیا جہاں سے تابوت ری موٹ کے ذریعہ تہہ خانہ وہاں سے قبر کے گڑھے میں اتارا جاتا ہے، پھر اس پر رکھا ہوا تاج شاہی بحفاظت تمام اتار لیا گیا کہ اب یہ اور کسی کے سر سجے گا، یہ تو ملکہ کا جنازہ تھا جسے سرکاری اعزازات کے ساتھ لے جایا گیا، ویسے مغربی تہذیب کے تضادات میں سے ایک جنازہ کا اہتمام ہے، زندگی میں چاہے گھر کے بڑے بزرگوں کا کوئی پُرسان حال نہ ہو، ہاسٹل میں سسک سسک کر مر رہے ہوں، لیکن مرنے کے بعد جنازہ اہتمام سے بلکہ دھوم سے اٹھایا جائے گا، قبرستان تک عمدہ گاڑی قریبی افراد ایک ہی طرز کا سوٹ زیب تن کیے پہنچتے ہیں اس کے لیے دن اور وقت ایسے طے کیا جاتا ہے کہ جیسے کوئی تقریب ہو۔ اس کے انتظامات کے لیے خصوصی تجارتی کمپنیاں قائم ہیں، Funeral Services (فیونرل سروس) جو تدفین کی بنیادی باتوں سے لے کر شاہانہ انداز تک کے پیکج فراہم کرتی ہیں تاکہ

’’عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے‘‘

اطلاعات کے مطابق ملکہ کے جنازہ میں شرکت کے لیے تقریباً 100 ممالک کے سربراہ پہنچے، بلکہ بعض ممالک کے سفارتخانوں کی جانب سے شکایت کی گئی کہ ہمارے ملک کے سربراہ کو اس تاریخی موقع پر شرف دعوت سے کیوں محروم کیا گیا، جیسے روس کےصدر اور بہت سے خلیجی ممالک کے شاہوں کو نظر انداز کیا ‎گیا، گویا آنے والوں کو شارٹ لسٹ کر کے مدعو کیا گیا ورنہ یہ تعداد کہیں بڑھی جاتی، 19 ستمبر کا دن جنازہ کے لیے مقرر تھا اور اس کے لیے ایک طرف تیاریاں جاری تھیں ، لوگ سڑکوں پر لائن بنا رہے تھے اوردوسری طرف شام بکنگھم پیلس میں معززین کے لیے استقبالیہ تقریب سجائی جا رہی تھی جیسے کہہ رہے ہوں:

مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا تیرے پیچھے

اس موقع پر حکمران پارٹی، حزب مخالف اور تمام سابق وزرائے اعظم ساتھ ساتھ اکٹھے دکھائی دیے، گویا سیاسی اختلافات کے باوجود ملکی مفادات اور اجتماعی مسائل میں ہم ایک ہیں، سابق وزاء اگرچہ کہ ذمہ داریوں کے بوجھ سے سبکدوش ہوتے ہیں لیکن شخصی وقار اور احترام باقی رہتا ہے، لندن کے مرکزی چرچ میں جو عبادت ہو رہی تھی اور آخری رسومات کو براہِ راست دنیا کے 2 ارب سے زیادہ لوگوں نے دیکھا، یہ مناظر دنیا کے متعدد بڑے چینلز دکھا رہے تھے۔

جانے والے کا پیغام آنے والوں کے نام: ملکہ کی موت نے نصرانیت کے بجھتے چراغ کو تیل فراہم کیا، جگہ جگہ اور ہر موڑ پر عیسائیت کا تذکرہ خصوصیت کے ساتھ کیا جا رہا تھا، ملکہ کی سوانح حیات پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے عقیدہ اور مذہبی وابستگی کا خوب چرچا کیا گیا کہ وہ اپنے سرکاری فرائض کے ساتھ ساتھ اتوار کے دن چرچ ضرور جایا کرتی تھیں، انہیں کتاب مقدس کے کئی بند زبانی یاد تھے، ہمیں توقع ہے کہ نئے بادشاہ سلامت بھی اپنی ماں کے ہی عقیدہ پر قائم رہیں گے، اس نازک موقع پر شاید یاد دہانی اس لیے ضروری سمجھی گئی کہ نئے بادشاہ نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ میں جب تخت نشینی کا حلف اٹھاؤں گا تو حلف نامہ میں درج عبارت کہ مخصوص مذہب کی حفاظت کروں گا اس کی جگہ پر ہر مذہب کی حفاظت کہنا پسند کروں گا، سرکاری شاہی حلف نامہ میں درج ہے کہ

Defender of The Faith اس پر عیسائی مشنریوں کی جانب سے کافی واویلا کیا گیا تھا کہ تخت برطانیہ پر براجمان شخص بنیادی طور پر نصرانیت کا محافظ ہوتا ہے، اس کے لیے مناسب نہیں کہ وہ عیسائیت کو دیگر مذاہب کے مساوی وزن دے۔

تاج شاہی جو برطانیہ کی شان اور عظمت کا نشان سمجھا جاتا ہے، ملکہ کے تابوت سے جب اتارا گیا اس عبرتناک منظر کو دنیا نے دیکھا کہ دنیا کی ریل پیل عہدہ اور منصب کا جلال بس یہیں تک ہے، پھر مخصوص عصا جو کہ عیسائی عقیدہ کے مطابق قوت وطاقت کا مظہر ہے اسے تابوت کے اوپر توڑ دیا گیا کہ یہاں سے تمہاری طاقت ختم اور اس کے ساتھ ہی تابوت کو تہہ خانہ اور پھر قبر میں اتار دیا گیا، پڑھیے قرآن:

﴿وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَىٰ كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكْتُم مَّا خَوَّلْنَاكُمْ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ﴾ (سورۃ الانعام: 94)

’’اور تم ہمارے پاس تنہا آ گئے جیسے ہم نے پہلی بار تمہیں پیدا کیا تھا اور جو کچھ ہم نے نوازا تھا وہ اپنے پیچھے ہی چھوڑ آئے۔‘‘

یہاں سے پہرے دار، عقیدتمند، کروفرسب ختم، فرمایا صادق مصدوق سید المرسلینﷺ نے :

يَتْبَعُ المَيِّتَ ثَلاَثَةٌ، فَيَرْجِعُ اثْنَانِ وَيَبْقَى مَعَهُ وَاحِدٌ: يَتْبَعُهُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَعَمَلُهُ، فَيَرْجِعُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَيَبْقَى عَمَلُهُ

’’میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں لیکن دو واپس ہو جاتی ہیں اور ایک ہی اس کے ساتھ باقی رہتی ہے، اس کے اہل وعیال دوست احباب، دھن دولت اور عمل لیکن اہل وعیال دوست احباب اور مال قبر سے واپس ہو جاتے ہیں، صرف اس کا ذاتی عمل اس کے ساتھ باقی رہتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 6514)

اور اسی نامۂ اعمال کی بنیاد پر کامیابی اور ناکامی کا دارومدار ہے۔

﴿فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ‎0‏ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ ‎﴾

نئے بادشاہ چارلس کے ساتھ مختلف مناسبتوں پر ہماری ملاقات ہوتی رہی، وہ جب ولی عہد تھے بکنگھم پیلس میں کچھ لوگوں کو مدعو کیا گیا تھا، راقم بھی ان مہمانوں میں شامل تھا، مہمان جب قصر شاہی میں جمع ہو گئے ملکہ اپنے شوہر فیلیپ اور فرزند چارلس کے ساتھ نمودار ہوئیں، مختلف مہمانوں کے ساتھ فرداً فراداً ملاقات کرتی اور احوال پوچھتی رہیں۔ شاہی محل میں تشریف لانے والوں کے لیے پیشگی ہدایت نامہ بھیجا گیا تھا اور گاڑی پر لگانے کے لیے اسٹیکر تاکہ پہرہ دار گاڑی پیلس کے احاطہ میں پارک کرنے کی اجازت دے دیں لیکن گاڑی کی چابی گاڑی میں ہی چھوڑیں، لباس کے متعلق ہدایات، پیلس کے اندر مہمانوں کے مذہبی رجحانات کے لحاظ سے خورد ونوش کا اہتمام تھا کہ کسی کے مذہبی جذبات مجروح نہ ہوں اور ہی کسی کو حلال وحرام کے متعلق استفسار کی ضرورت پیش آئے۔ وغیرہ وغیرہ

ایک اور مرتبہ لندن میں واقع مسلم کالج میں منعقدہ ایک تقریب میں پرنس چارلس کو مدعو کیا گیا تھا، اس مناسبت سے ملک کے مختلف نمائندے موجود تھے، یہاں بھی حسب معمول ڈریس کوڈ کا اہتمام تھا کہ شرکاء کس قسم کا لباس زیب تن کریں گے، میں نے سوچا کہ حیدرآبادی شیروانی سے بہتر کونسا سوٹ ہو سکتا ہے۔ لہٰذا شیروانی پہن کر پہنچا، جب پرنس چارلس آئے تو اس موقع پر اتنے مجھ سے قریب ہوئے کہ بٹن کو ہاتھ لگا کر دیکھا اور پتہ نہیں میرا کونسا جملہ انہیں بھا گیا کہ میرا تعلیمی پس منظر دریافت کرنےلگے، میری زبان سے بےساختہ نکلا کہ مشرقی اور مغربی ممالک میں تعلیم پائی، اس جملہ پر بہت محظوظ ہوئے، اس اجتماع میں ان کی گفتگو سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ اسلامی تعلیمات سے کافی واقفیت رکھتے ہیں ، تب ہی تو ان کی آکسفورڈ میں کی گئی تقریر جس میں اسلام کے بارہ میں مثبت اظہار خیال کیا، بہت مشہور ہوئی، لیکن حلف لیا اس میں تو کوئی تبدیلی نہیں کی، کیونکہ یہ سیاست ہے جہاں جگہ جگہ حق اور باطل کا ٹکراؤ رہتا ہے۔ جہاں دینی تقاضوں اور دنیاوی مصلحتوں میں ترجیح دینی پڑتی ہے، جہاں پہنچنے کے لیے یا پہنچ کر دین کا نام لیوا بھی قلابازیاں کھانے لگتے ہیں، وہاں اہل تقویٰ کا تقویٰ ڈگمگانے لگتا ہے ، جہاں ایک وزارت کے عوض دین، مذہب اور نظریات کا سودا کیا جاسکتا ہے یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے کہ عباسی عہد خلافت کے سپوت خلیفہ منصور نے بستر مرگ پر حسرت کے ساتھ کہا تھا کہ اگر میں کچھ دن اور زندہ رہتا تو اس حکومت کو آگ لگا دیتا جس نے مجھے بار بار سچائی سے ہٹایا، حقیقت یہ ہے کہ ایک نیکی ساری حکومت سے بہتر ہے، مگر افسوس کہ اس وقت مجھے اس کا یقین ہوا جب موت اپنے چنگل میں لے چکی ہے۔

تاہم خطاب عام کے موقع پرکنگ چارلس نے اپنے ماضی کے وعدہ کو یاد رکھا اور واضح کیا کہ میں مختلف مذاہب، نظریات اور پس منظر سے تعلق رکھنے والوں کے جذبات کا احترام کروں گا، کیونکہ برطانیہ اس وقت کثیر الثقافتی ملک ہے، تمام کے جذبات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ’ایں ہم غنیمت است‘ ہم نئے بادشاہ سے خیر کی توقع رکھتے ہیں۔

٭٭٭

تبصرہ کریں