مجبوری کی صورت میں بیوہ کا میکے عدت گزارنا۔ حافظ خضر حیات (العلماء)

سوال: دوران عدت شوہر کے گھر والے شوہر کی موت کا بلیم بیوہ پر لگاتے ہیں، جس وجہ سے اسکا وہاں رہنا تقریباً ناممکن سا ہورہا ہے تو کیا وہ اپنے والدین کے گھر بقیہ عدت گزار سکتی ہے؟ دوسرا پردے کا بھی مسئلہ ہے، کمبائنڈ گھر ہے اور ایک ہی واش روم ہے وہ بھی اسی بیوہ کے کمرے میں ہے کہ دیور وغیرہ بھی آتے جاتے رہتے ہیں۔

جواب:الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!

جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے اس نے چار ماہ دس دن عدت گزارنی ہوتی ہے جیسا کہ قرآن حکیم میں ہے:

﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ۖ فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ﴾ (سورۃ البقرہ:234)

’اور تم میں سے جو فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑیں تو وہ بیویاں چار مہینے اوردس دن اپنے آپ کو روکے رہیں، تو جب وہ اپنی(اختتامی) مدت کو پہنچ جائیں، تو تم پر اس کام میں کوئی حرج نہیں جو عورتیں اپنے معاملہ میں شریعت کے مطابق کرلیں اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔

عورت نے جس خاوند کے ساتھ زندگی کے ایام گزارے ہیں، اس کے حق رفاقت، وفاداری اور اس کے رشتہ داروں کے ساتھ ہمدردی وغمگساری کا تقاضا یہ ہے کہ خاوند کے مرنے کے بعد اس کی بیوی عدت کے ایام اپنے خاوند کے گھر میں گزارے، خواہ وہ مکان تنگ وتاریک ہی کیوں نہ ہو۔

سیدہ فریعہ بنت مالک کا خاوند گھر سے باہر کسی دوسرے مقام پر قتل کردیا گیا اور ان کا مکان دور دراز مقام پر واقع تھا، پھر وہ اس کی ملکیت بھی نہ تھا، تو بیوہ نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت مانگی کے مجھے اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ہاں منتقل ہونے کی رخصت دی جائے تاکہ عدت کے ایام امن وسکون سے وہاں گزارسکوں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“امْكُثِي فِي بَيْتِكِ الَّذِي جَاءَ فِيهِ نَعْيُ زَوْجِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ”.

’ اپنے گھر میں رہو جہاں تمھیں خاوند کے فوت ہونے کی خبر ملی یہاں تک کے عدت کے ایام پورے ہوجائیں، چنانچہ انہوں نے چار ماہ دس دن اسی گھر میں گزارے، سیدنا عثمان نے اپنے دورِ خلافت میں فریعہ سے رہنمائی لے کر اسی حدیث کے مطابق فیصلہ فرمایا۔ (سنن أبو داؤد:2300؛ جامع ترمذی: 1204 ؛ سنن نسائی:3528؛ سنن ابن ماجہ: 2031)

امام ترمذی﷫ فرماتے ہیں:

«هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا الحَدِيثِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِهِمْ».

’’یہ حدیث حسن صحیح ہے صحابہ اور ما بعد کے اکثر اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے۔‘‘

امام حاکم ﷫ نے اس حدیث كو ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے: “هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ…، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ مَحْفُوظٌ.” (المستدرك:2؍ 226)

یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور امام ذہلی﷫ نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔

حافظ ابن عبد البر﷫ اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں:

وحديث سعد بن إسحاق هذا مَشْهُورٌ عِنْدَ الْفُقَهَاءِ بِالْحِجَازِ وَالْعِرَاقِ مَعْمُولٌ بِهِ عِنْدَهُمْ تَلَقَّوْهُ بِالْقَبُولِ وَأَفْتَوْا بِهِ وَإِلَيْهِ ذَهَبَ مَالِكٌ وَالشَّافِعِيُّ وَأَبُو حَنِيفَةَ وَأَصْحَابُهُمْ وَالثَّوْرِيُّ وَالْأَوْزَاعِيُّ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعِدٍ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ كُلُّهُمْ يقول إِنَّ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا تَعْتَدُّ فِي بَيْتِهَا الذي كانت تَسْكُنُهُ وَسَوَاءٌ كَانَ لَهَا أَوْ لِزَوْجِهَا وَلَا تَبِيتُ إِلَّا فِيهِ حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا. (الاستذكار:6؍ 214)

یعنی یہ حدیث مشہور و معروف ہے بلکہ اسے تلقی بالقبول حاصل ہے، معروف فقہاء اور ائمہ اسی کے مطابق فتوی دیتے ہیں۔

بعض اہل علم جیسا کہ امام ابن حزم اور ان کی پیروی میں صاحب الاحکام عبد الحق اشبیلی نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے کہ اس میں بعض مجہول راوی ہیں، حالانکہ یہ بات درست نہیں، جیسا کہ کئی ایک اہل علم نے اس کی وضاحت کی ہے۔

ابن القطان الفاسی اس بات کی تردید میں فرماتے ہیں:

“بل الحَدِيث صَحِيح؛ فَإِن سعد بن إِسْحَاق ثِقَة، وَمِمَّنْ وَثَّقَهُ النَّسَائِيّ، وَزَيْنَب كَذَلِك ثِقَة.” (بيان الوہم والإيہام فی كتاب الأحكام: 5؍395)

’’یہ حدیث صحیح ہے اور سعد بن اسحاق اور زینب یہ دونوں ثقہ ہیں۔‘‘

حافظ ابن عبد الہادی ﷫فرماتے ہیں:

صَححهُ الذهلي، وَالْحَاكِم، وَابْن الْقطَّان وَغَيرهم. وَتكلم فِيهِ ابْن حزم بِلَا حجَّة”. [المحرر في الحديث ص: 587]

’’اسے ذہلی، حاکم، ابن القطان نے صحیح قرار دیا ہے، جبکہ ابن حزم کا کلام بلا دلیل ہے۔‘‘

حافظ ابن الملقن ابن حزم﷫ کا تفصیلی کلام ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

“وَأما زَيْنَب فقد أسلفنا ثقتها فِي كَلَام ابْن الْقطَّان، وَمِمَّنْ وثقها ابْن حبَان فَإِنَّهُ ذكرهَا فِي «ثقاته» بل ذكرهَا ابْن فتحون وَأَبُو إِسْحَاق بن الْأمين فِي جملَة (الصَّحَابَة) فصح الحَدِيث وَللَّه الْحَمد.” (البدر المنير:8؍ 249)

حافظ ابن القیم ﷫ فرماتے ہیں:

“حديث صحيح، ذكره أهل “السنن”.” (إعلام الموقعين: 6؍ 473)

جبکہ ایک دوسرے مقام پر ابن حزم کی گفتگو ذکر کر کے اس کا تفصیلی رد کیا ہے۔(زاد المعاد:6؍ 327)

حافظ ذہبی﷫ نے بعض مقامات پر ابن حزم کی پیروی میں زینب کو مجہولہ کہا ہے۔

لیکن رجال ابن ماجہ میں «معروفة» ہونے کی صراحت کی ہے۔ (المجرد فی أسماء رجال سنن ابن ماجہ: ص108)

اور تلخیص المستدرک میں اس حدیث کو بھی ’صحیح‘ قرار دیا ہے۔امام شوکانی﷫ فرماتے ہیں:

“حَدِيثُ فُرَيْعَةَ أَخْرَجَهُ أَيْضًا مَالِكٌ فِي الْمُوَطَّأِ وَالشَّافِعِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاكِمُ وَصَحَّحَاهُ، وَأَعَلَّهُ ابْنُ حَزْمٍ وَعَبْدُ الْحَقِّ بِجَهَالَةِ حَالِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ الرَّاوِيَةِ لَهُ عَنْ الْفُرَيْعَةِ، وَأُجِيبَ بِأَنَّ زَيْنَبَ الْمَذْكُورَةَ وَثَّقَهَا التِّرْمِذِيُّ وَذَكَرَهَا ابْنُ فَتْحُونٍ وَغَيْرُهُ فِي الصَّحَابَةِ.” (نيل الأوطار:6؍ 354)

یعنی اس حدیث کو ابن حبان اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے اور زینب کو مجہول قرار دینا درست نہیں، کیونکہ بعض اہل علم نے اسے ثقہ جبکہ بعض نے اسے صحابیہ قرار دیا ہے۔

شیخ البانی ﷫ نے بعض کتابوں میں اسے ضعیف قرار دیا، لیکن بعد میں اس سے رجوع کرتے ہوئے، کئی ایک مقامات پر اس کی تصحیح کی، ایک جگہ فرماتے ہیں:

“كنت ذهبت في الإرواء إلى أن إسناد حديث فريعة ضعيف، ثم بدا لي أنه صحيح بعد أن اطلعت على كلام ابن القيم فيه، وتحقيق أنه صحيح، بما لم أره لغيره جزاه الله خيرا، وازددت قناعة حين علمت أنه صححه مع الترمذي ابن الجارود وابن حبان والحاكم والذهبي، ومن قبلهم محمد بن يحيى الذهلي الحافظ الثقة الجليل، وأقرهم الحافظ في بلوغ المرام، والحافظ ابن كثير في التفسير، واستعمله أكثر فقهاء الأمصار، كما قال ابن عبد البر في (الاستيعاب) ومنهم بعض الصحابة كابن عمر.” (تراجعات الألبانى: ص39 بترقیم الشاملہ)

یعنی میں نے پہلے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا تھا، لیکن بعد میں ابن القیم کی تحقیق اور اسی طرح متقدم و متاخر کئی ایک اہل علم کی تصحیح دیکھ کر اس کی صحت کا اطمینان ہو گیا۔

مزید دیکھیں: (صحيح موارد الظمآن:1؍ 39 مع الحاشیہ)

لہٰذا اصل یہی ہے کہ بیوہ کے لیے خاوند کے گھر میں عدت گزارنا ضروری ہے، البتہ اگر خاوند کے فوت ہونے کے بعد خاوند کے عزیز واقارب بیوہ کو اس قدر تنگ کریں کہ وہاں ایام پورے کرنا مشکل ہو جائیں، یا کسی اور سبب سے خاوند کے گھر میں رہنا ممکن نہ ہو تو ایسے حالات میں وہ اپنے والدین یا بہن بھائیوں کے پاس منتقل ہوسکتی ہے۔کیونکہ شرعی اصول ہے:

«إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ» (صحيح بخارى:39)

’’دین آسان ہے۔‘‘

اور معروف فقہی قاعدہ ہے:

“الضرورات تبیح المحظورات”.

’’انتہائی مجبوری کے باعث ممنوعات کے ارتکاب میں گنجائش پیدا ہوجاتی ہے۔‘‘

احادیث مبارکہ سے بھی اس کے شواہد ملتے ہیں۔ جیسا کہ سیدنا جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں:

“طُلِّقَتْ خَالَتِي، فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا، فَزَجَرَهَا رَجُلٌ أَنْ تَخْرُجَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ ﷺ، فَقَالَ: بَلَى فَجُدِّي نَخْلَكِ، فَإِنَّكِ عَسَى أَنْ تَصَدَّقِي، أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا (صحیح مسلم:1483)

’’میری خالہ کو طلاق دے دی گئی تھی، انہوں نے اپنے باغ کی کھجوریں اتارنے کا ارادہ کیا، ليكن انہیں گھر سے باہر نکلنے پر ایک شخص نے ڈانٹا، وہ نبی کریم ﷺ کے پاس گئیں، آپ ﷺ نے فرمایا:

کیوں نہیں! تم اپنے باغ کی کھجوریں توڑ لاؤ، ہوسکتا ہے کہ تم اس میں سے صدقہ دو یا کوئی اور نیکی کرو۔‘‘

یہ حدیث اگرچہ مطلقہ کی عدت کے متعلق ہے، لیکن اس سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ بوقت ضرورت عدت گزارنے والی خاتون چاہے وہ مطلقہ ہو یا بیوہ اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کی گنجائش دی جا سکتی ہے۔جیسا کہ سیدنا علی کی صاحبزادی ام کلثوم جو عمر بن خطاب کی اہلیہ تھیں، جب سیدنا عمر شہید ہو گئے تو وہ سیدنا علی کے گھر آ گئی تھیں۔ (مصنف عبد الرزاق:12057)

سیدہ عائشہ صدیقہ کی بہن ام کلثوم، طلحہ کے نکاح میں تھیں، ان کی شہادت کے بعد سیدہ عائشہ صدیقہ انہیں عدت میں ہی اپنے ساتھ لے آئی تھیں۔ (مصنف عبد الرزاق:12053)

حاصل کلام یہ ہے کہ مذکورہ عورت کے لیے اگر شوہر کے گھر عدت گزارنا مشکل و مشقت کا باعث ہے، تو وہ اپنے میکے جا سکتی ہے۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

٭٭٭

بیت المقدس

چراغ فروزاں ہے بیت المقدس

کہ مہرِ درخشاں ہے بیت المقدس

نشاطِ دل وجاں ہے بیت المقدس

خودی کا نگہباں ہے بیت المقدس

تقاضائے ایماں ہے بیت المقدس

وقارِ مسلماں ہے بیت المقدس

اب آتش بداماں ہے بیت المقدس

کہ سر درِ گریباں ہے بیت المقدس

جو مٹ مٹ کے ہر دم ابھرتا رہا ہے

وہ نقشِ سلیماں ہے بیت المقدس

ہیں آسودہ جس میں خدا کے پیمبر

مقامِ رسولاں ہے بیت المقدس

جہاں سارے نبیوں نے سجدے کیے ہیں

مصلائے پاکاں ہے بیت المقدس

محبت نے معراج پائی جہاں سے

وہ شہرِ نگاراں ہے بیت المقدس

جہاں حق کی آیات پھیلی ہوئی ہیں

وہ ذی جاہ، وہ ذی شاں ہے بیت المقدس

جبینِ فلسطیں ہے جس سے منور

وہ جھومر وہ افشاں ہے بیت المقدس

ہے پامالِ جور وجفائے یہوداں

غبارِ پریشاں ہے بیت المقدس

دلِ مردِ مؤمن میں جو پل رہا ہے

وہ معصوم ارماں ہے بیت المقدس

کبھی رشکِ خلد وبہار آفریں تھا

اب اجڑا گلستاں ہے بیت المقدس

ہے اقصیٰ کی مسجد بھی آغشتہ درخوں

لہو میں جو غلطاں ہے بیت المقدس

مکاں جل رہے ہیں دھواں اٹھ رہا ہے

تباہ حال و ویراں ہے بیت المقدس

قیامت کا ہنگامہ برپا ہوا ہے

جو اب حشر ساماں ہے بیت المقدس

ہے رشک آسماں کو بھی و رفعت پہ جس کی

وہ گنجِ شہیداں ہے بیت المقدس

خدا جانے کب آئے وہ وقتِ میموں

کہیں ہم گلستاں ہے بیت المقدس

یہ کتی ہے تاریخ اسلام حماد

شہادت کا عنواں ہے بیت المقدس

ابو البیان حماد عمری

تبصرہ کریں