ماہ شعبان سے استفادہ اور ماہ رمضان کی تیاری-فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ عواد جہنی

ہر طرح کی حمد وثنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ ہم اسی کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں، اسی پر بھروسہ اور اعتماد کرتے ہیں اور اسی سے معافی مانگتے ہیں۔ اپنے نفس کے شر سے اور اپنے برے اعمال سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرما دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر۔

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾(آلِ عِمْرَانَ: 102]

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو، جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ تم کو موت نہ آئے، مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔‘‘ (سورۃ آل عمران: 102)

﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾

’’لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے۔ اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے۔‘‘ (سورۃ النساء: 1)

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا * يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا﴾

’’اے ایمان لانے والو، اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو وہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی اطاعت کرے، تو اُس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔‘‘ (سورۃ الاحزاب: 70۔71)

بعدازاں! سب سے سچا کلام اللہ کی کتاب ہے۔ سب سے اچھا طریقہ نبی اکرم ﷺ کا طریقہ ہے۔ ایجاد کردہ عبادتیں بد ترین کام ہیں۔ ہر ایجاد کردہ عبادت بدعت ہے۔ ہر بدعت گمراہی ہے۔ اور ہر گمراہی جہنم کی طرف لیجاتی ہے۔

اللہ کے بندو! یاد رکھو کہ تقویٰ بہترین سامان اور شاندار سرمایہ ہے۔ دنیا کی حقیقت پر غور کرو، کتنی آباد اور مہارت سے تیار کردہ زمینیں بہت جلد بے آباد اور ویران ہو جاتی ہیں، کتنے لوگوں کو دنیا کی نعمتوں سے نوازا جاتا ہے، لوگ ان پر رشک کرتے ہیں، مگر جلد ہی وہ چل بستے ہیں، یا وہ نعمتیں چھن جاتی ہیں۔ جب کسی صاحبِ عقل پر یہ بات کھلتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کی رضا کے لیے کوشاں ہو جاتا ہے اور اپنے بھلے رویے کو مزید بہتر بنا لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿سَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ * الَّذِينَ يُنْفِقُونَ في السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾

’’دوڑ کر چلو اُ س راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اُس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی * جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں خواہ بد حال ہوں یا خوش حال، جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔‘‘ (سورۃ آل عمران: 133۔134)

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿سَابِقُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ﴾

’’دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اُس کی جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے، جو مہیا کی گئی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اللہ اور اُس کے رسولوں پر ایمان لائے ہوں یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔‘‘ (سورۃ الحدید: 21)

یہ دوڑ نیکی کے کاموں میں پہل کرنے کی دوڑ ہے، چاہے وہ کام بظاہر چھوٹے ہی کیوں نہ لگیں، گناہوں سے باز رہنے کی دوڑ ہے، چاہے وہ معمولی ہی کیوں نہ لگیں، اس دوڑ کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی حکم کی تعمیل میں پیچھے نہ رہے، چاہے وہ کسی کام کو کرنے کا حکم ہو یا کسی کام کو چھوڑنے کا حکم ہو۔ کسی خبر کی تصدیق کا ہو یا کسی بات کو جھٹلانے کا ہو۔ تو کسی قسم کی نیکی سے پیچھے نہ رہو، کسی کو خبر نہیں کہ کون سی نیکی ہمیشہ کی نعمتوں کا ذریعہ بن جائے، کسی قسم کی نافرمانی کو ہلکا نہ سمجھو، کوئی معلوم نہیں کہ کون سی نافرمانی ہمیشہ کی بدبختی کا ذریعہ بن جائے، تو نیکی کے معاملے میں پیش قدمی کرو، تاکہ تم جنت اور رضائے الٰہی کے طالب بن سکو۔

اے مسلمانو! ہم اپنے مہربان پروردگار کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں کہ جو جس جگہ اور وقت کو چاہتا ہے، فضیلت سے نواز دیتا ہے، اس نے جہاں بعض گھڑیوں اور دنوں کو فضیلت والا بنایا ہے، اور ان میں بطورِ خاص کئی طرح کی عطائیں اور برکتیں رکھی ہیں، وہاں اس نے مہینوں میں ماہِ شعبان کو بھی فضیلت والا اور ایک عظیم مہینے کا مقدمہ بنایا ہے، کہ جس میں گناہ معاف ہوتے ہیں، عالمِ غیب کی رحمتیں ظاہر ہوتی ہیں، جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات بینات کے ذریعے اپنے احکام نازل فرمائے ہیں، جس میں نبی کریم ﷺ کو بہت سے معجزات سے نوازا گیا ہے، یہ وہ مہینہ ہےکہ جس میں نیکیوں کے مواقع بڑھ جاتے ہیں، جس میں نیک اعمال کا دائرہ بہت وسیع ہو جاتا ہے، اسی لیے وہ سب سے افضل مہینہ قرار پاتا ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں روایت ہے کہ آپ ﷺ سارے ماہِ شعبان کا روزہ رکھتے تھے، جبکہ دوسری روایت میں ہے کہ

“إلا قليلًا”

’’چند دنوں کے علاوہ۔‘‘

آپ ﷺ ماہِ شعبان میں خاص طور پر زیادہ روزے اس لیے رکھتے تھے کہ اس مہینے میں اعمال رب العالمین کے ہاں پیش ہوتے ہیں، آپ ﷺ چاہتے تھے کہ جب ان کے اعمال پیش ہوں تو وہ روزے سے ہوں۔ اسی طرح ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس مہینے کی فضیلت سے اکثر لوگ غافل رہتے ہیں، کیونکہ یہ رجب اور رمضان کے بیچ میں آتاہے، جیسا کہ امام نسائی اور امام احمد کی روایت میں ہے جسے آپ ﷺ کے محبوب اور آپ ﷺ کے محبوب کے بیٹے نے بیان کیا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ اس میں جتنی نیکیاں کر سکے، ضرور کرتا چلا جائے، کم از کم اس کے کچھ دنوں کا روزہ رکھے اور اللہ کریم ومہربان سے قبولیت اور مغفرت مانگے۔

سیدنا انس سے بیان کرتے ہیں:

“كان المسلمون إذا دخَل شهرُ شعبانَ انكبُّوا على المصاحف، فقرأوها وأخرجوا زكاةَ أموالهم؛ تقويةً للضعيف والمسكين على صيام رمضان”

’’جب شعبان آتا تو مسلمان قرآن کی طرف متوجہ ہو جاتے، اس کی تلاوت کرتے جاتے اور اپنے اموال کی زکوٰۃ نکالنے لگتے تاکہ کمزوروں اور مسکینوں میں بھی رمضان کے روزوں کی ہمت آ جائے‘‘

بعض روایات میں شعبان کو ماہِ قرآن کا نام بھی دیا گیا ہے، یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ قرآن کریم کی تلاوت تو ہر وقت میں اچھی اور مطلوب ہے، مگر بابرکت مواقع اور فضیلت والے مقامات پر اس کی فضیلت بڑھ جاتی ہے۔

یاد رہے کہ

نیکیوں میں بہترین نیکی، کہ جس کے ذریعے لوگوں کو بلند درجات حاصل ہوتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، الوہیت، اور اس کے اسماء وصفات کا اقرار ہے، نماز قائم کرنا اور رشتہ داروں، بیواؤں، یتیموں، فقیروں اور محتاجوں کو صدقات دینا ہے۔ تو اے مسلمانو! اللہ سے ڈرو، اس بابرکت مہینے کی آمد پر اللہ کا شکر ادا کرو۔ یاد رکھو کہ فضیلت کے اعتبار سے اوقات مختلف ہوتے ہیں، اس لیے نیکیوں کے ذریعے انہیں بھرنا چاہیے، ان میں خوب بھلائیاں کرو، کیونکہ نفس تو سستی اور راحت پسندی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ اس لیے خواہشاتِ نفس کی مخالفت کرو اور انہیں حق کے تابع کرو۔ یہ دنیا ہمیشہ کی قیام گاہ نہیں ہے، اس لیے اس کے فریب میں نہ آؤ، سمجھ دار اور داشمند اس میں اپنی قیام گاہ کو کبھی اچھا اور مزے دار نہیں سمجھتا، لہٰذا تم اس کی صحبت چھوڑ دو اور اس سے دور ہو جاؤ، فضیلت والے اوقات میں مزید محنت کرو، اس میں موجود نفیس ذخائر سے مستفید ہوتے جاؤ۔

اللہ مجھے اور آپ کو ان لوگوں میں شامل فرمائے جنہیں اس نے قبولیت سے نوازا اور جن کے گناہ معاف فرمائے۔ اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور بہترین عبادت میں ہماری مدد فرما۔

میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ میں اللہ سے اپنے لیے اور آپ کے لیے ہر گناہ اور غلطی کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو۔ یقینًا! وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

ہر طرح کی حمد وثنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جو صاحب فضل ونوازش ہے۔ اسی نے مہربانی فرما کر ہمیں نیکی کے مواقع سے نوازا ہے، تاکہ ہر وقت ہم اس کی فرمان برداری پر قائم رہیں۔

میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ لوگوں میں سب سے بڑھ کر پرہیز گاری والے ہیں، مخلوقات میں سے زیادہ عبادت گزار ہیں۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، اہل بیت پر اور صحابہ کرام پر، جو کہ اللہ کی عطاؤں سے لطف اندوز ہونے والے ہیں، تابعین پر اور استقامت کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر مخلوقات کی بعثت تک سلامتیوں کا نزول جاری رہے۔

بعدازاں! اللہ کے بندو!

اللہ سے یوں ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے! تنہائی اور مخفی چیزوں میں اسے یاد رکھو۔ نیکی اور تقویٰ میں تعاون کرو، گناہوں اور زیادتی پر تعاون نہ کرو، اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اسی کا رخ کرو، صرف اسی سے مدد اور نصرت مانگو، کسی اور سے نہ مانگو۔ کیونکہ جو اللہ پر بھروسا کرتا ہے، اللہ اسے بچاتا ہے، جو غیر اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، وہ اسی کے حوالے کر دیا جاتا ہے، جو غیر اللہ کے حوالے کر دیا جائے، وہ رسوا ہو جاتا ہے۔

کتاب اللہ کی پیروی کرو، یہ آپ کو سیدھا راستہ دکھائے گی، سنت نبی پر قائم ہو جائے، کامیاب اور سعادت مند بن جاؤ گے۔ بھلے طریقے سے اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرو، تمہیں توفیق، کامیابی اور نصرت حاصل ہو جائے گی۔ تھوڑی چیز جوآپ کے لیے کافی ہو جائے، ان زیادہ چیزوں سے بہتر ہے جو آپ کو پریشان اور مصروف کر دیں۔

﴿إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لَآتٍ وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ﴾ (سورۃ الانعام: 134)

’’تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ یقیناً آنے والی ہے اور تم اللہ کو عاجز کر دینے کی طاقت نہیں رکھتے۔‘‘

اللہ کے بندو! کثرت سے درود وسلام بھیجو اس ہستی پر کہ جو قیامت کے ہولناک موقع پر سارے لوگوں کے نجات دہندہ ہوں گے۔ ہمارے نبی، ہمارے سفارشی، محمد ﷺ پر اور آپ ﷺ کی آل پر سلامتی نازل فرما۔

اے اللہ! خلفائے راشدین سے راضی ہو جا! اور تمام صحابہ کرام سے، آپ ﷺ کے پاکیزہ اہلِ بیت سے، تابعین سے اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہو جا۔

اے اللہ! ان کی محبت سے ہمیں نفع پہنچا، قیامت کے دن ہمیں ان کے گروہ میں اٹھانا، ہمیں ان کے طریقے کے خلاف جانے والا نہ بنا! اے سب سے بڑھ کر کم فرمانے والے!

اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کی تائید فرما! اپنے فضل وکرم سے حق ودین کے کلمہ کو بلند فرما۔

اے اللہ! تمام مسلمان حکمرانوں ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن میں ان کی رعایا اور ملکوں کی فلاح وبہبود ہے۔

اے اللہ! ہمارے ملک اور تمام مسلمان ممالک کو اپنے پردے میں رکھ۔ اسی طرح سارے اسلامی ممالک کو بھی اپنی حفاظت عطا فرما!

اے اللہ! تیری ناراضگی سے ہم تیری خوشنودی کی پناہ میں آتے ہیں، تیری سزا سے ہم تیری معافی کی پناہ میں آتے ہیں۔ تجھ سے تجھ ہی کی پناہ میں آتا ہوں۔ ہم تیری تعریف بیان کرنے سے قاصر ہیں۔تو ویسا ہی ہے جیسا تو نے بتایا ہے۔

اے اللہ! ہمارے اعمال کی وجہ سے ہمیں سزا نہ دینا، نا سمجھ لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے ہمیں مت پکڑنا۔ پریشان کرنے والی ہر چیز سے ہماری حفاظت فرما۔ ہماری تائید کرنے والا اور نصرت کرنے والا بن جا۔

اے اللہ! فلسطین کے کمزور مسلمانوں کو نجات عطا فرما!۔

اے اللہ! ہم تجھ سے معافی مانگتے ہیں! تو معاف فرمانے والا ہے! ہم پر آسمان کی موسلا دھار بارش نازل فرما۔

اے اللہ! ہم پر بارشیں برسا! اے اللہ! ہم بھی تیری مخلوق ہیں۔ گناہوں کی وجہ سے ہمیں اپنے فضل سے محروم نہ فرما۔

اے اللہ! ہمیں ہمارے رزق میں برکت عطا فرما، اے پروردگارِ عالم! ہمیں مزید رزق حلال نصیب فرما۔

﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾

’’اے اللہ! ہم سے قبول فرما! یقینًا! تو سننے اور جاننے والا ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 127)

﴿وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ﴾

’’ہماری کوتاہیوں سے در گزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 128)

﴿سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ * وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ * وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾

’’پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں اور سلام ہے مرسلین پر اور ہر طرح کی تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہی ہے۔‘‘ (سورۃ الصافات: 180-182])

٭٭٭

حاسد اور سچا باکمال

محدث عبدالعزیز الطریفی بیان فرماتے ہیں کہ

الحاسد من يظن أن محاسنه لا تظهر إلا بإظهار مساوىء غيره، والصادق لا يرى أن فضل غيره يمنع من ظهور فضله، فضياء الشمس لا يحتاج إلى مغيب القمر.

’’حاسد یہ سمجھتا ہے کہ جب تک دوسرے کے نقائص ظاہر نہ ہوں ، اس کے محاسن اجاگر نہیں ہو سکتے ؛ سچا باکمال اس پر یقین نہیں رکھتا کہ دوسرے کی خوبی اس کے ہنر کو آشکارا ہونے سے روک سکتی ہے کہ سورج کی تابانیاں اپنے ظہور میں غروبِ قمر کی محتاج نہیں ہیں ۔‘‘

تبصرہ کریں