ماہِ شعبان اور ہمارا طرزِ عمل۔محمد طیب معاذ

ماہ شعبان اسلامی سال کا آٹھواں ماہ مبارک ہے ۔ دین اسلام کے بنیادی مصادر پر نظر دوڑانے کے بعد اس ماہ میں صرف نفلی روزے رکھنے کی ترغیب ملتی ہے ، دیگر مخصوص عبادات کے بارے میں شرعی نصوص وارد نہیں ہوئیں هیں ، درج ذیل مضمون میں ماہ شعبان سے متعلق ہمارا کیا طرز عمل ہے ، اور اس ماہ میں شریعت اسلامیہ کا ہم سے کیا تقاضا ہے ذکر کیا گیا ہے۔

ماہِ شعبان مستند احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں

1۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہصدیقہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی بھی ماہ رمضان کے علاوہ کسی دوسرے ماہ کے مکمل روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ شعبان کے علاوہ کسی دوسرے ماہ میں کثرت سے نفلی روزے رکھتے ہوں ۔ ( متفق علیہ)

2۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ مجھ پر رمضان کے روزوں کی قضا دینا واجب ہوتی تھی جسے میں صرف شعبان میں ہی ادا کرسکتی تھی۔ (متفق علیہ)

3۔ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ رسول مکرم ﷺ روزہ رکھنے کے لیے شعبان کو بہت زیادہ پسند فرماتے تھے پھر آپ شعبان کو رمضان سے ملا دیتے ۔(ابوداؤد صححہ الالبانی)

4۔سیدنا اسامہ بن زید فرماتے ہیں کہ میں نے رسول مکرم ﷺ سے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! میں آپ کو ماہ شعبان کے علاوہ کسی دوسرے ماہ میں پابندی کے ساتھ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھتا ہوں ۔ آپ ﷺ نے جواباً ارشاد فرمایا: ’’یہ مہینہ تو وہ ہے جس کی برکت (اور عظمت) سے لوگ غافل ہیں یہ تو وہ مہینہ ہے جس میں انسان کے اعمال بارگاہ الٰہی میں پیش کیے جاتے ہیں میری خواہش ہے کہ جب میرے اعمال بارگاہ الٰہی میں پیش ہوں تو میں روزہ دار ہوں۔‘‘ (سنن نسائی)

ماہ شعبان سے متعلق ضعیف وموضوع احادیث

1۔ “رجب شهر اللہ وشعبان شهری ورمضان شهر أمتی.” ( الموضوعات لابن الجوزی)

’’رجب اللہ تعالیٰ کا مہینہ ، ماہ شعبان میرا جبکہ رمضان میری امت کا مہینہ ہے۔‘‘

2۔ سیدنا انس سے مروی ہے کہ نبی مکرم ﷺ سے پوچھا گیا کہ ماہ رمضان کے بعد کس ماہ کا روزہ افضل ہے ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ ماہ رمضان کی تعظیم کرتے ہوئے ماہ شعبان میں روزہ رکھنا (افضل ہے)۔‘‘

امام ترمذی﷫نے جامع ترمذی میں اس حدیث کو نقل کیا ہے اور پھر فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔ صدقہ بن موسی نامی راوی محدثین کے ہاں قوی نہیں۔

پندرھویں شعبان کی مخصوص بدعات

ماہ شعبان میں عوام الناس کے درمیان بہت سی بدعتی عبادات رائج ہوچکی ہیں ان میں سے اکثر بدعات پندرہویں شعبان کی رات میں کی جاتی ہیں۔جن کا مختصر تذکرہ درج ذیل سطور میں کیا جارہا ہے۔

1۔جس شخص نے 15 شعبان کی رات 12 رکعتیں نماز پڑھی اور ہررکعت میں 30 دفعہ سورہ اخلاص پڑھی تو اس شخص کو مرنے سے پہلے پہلے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیاجاتا ہے اور اس کی سفارش ایسے لوگوں کے حق میں قبول کی جاتی ہے جن پر جہنم واجب ہوچکی ہوتی ہے۔ (کشف الاستار)

تبصرہ : اس حدیث کو امام بزار﷫نے اپنی کتاب کشف الأستار اور امام ابن الجوزی﷫ نے العلل المتناھية میں ذکرکیا ہے ۔ اس حدیث کی سند میں ہشام بن عبد الرحمن نامی راوی غیر معروف ہیں جبکہ اعمش تدلیس کیا کرتا تھا اس کے ساتھ امام بزار﷫ نے اس حدیث پر ان الفاظ میں تبصرہ کیا ہے کہ ہشام کی موافقت نہیں ہوئی جس بنا پر یہ ضعیف ہے امام ابن الجوزی﷫ نے الموضوعات میں اور علامہ ابن القیم﷫ نے المنار المنیف میں بھی اس روایت کو موضوع قرار دیاہے۔

2۔ سیدنا معاذ بن جبل سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جس آدمی نے درج ذیل 5راتوں کو جاگ کر عبادت کی تو اس شخص کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ 1۔ ذو الحجہ کی آٹھویں 2۔ نویں 3۔ اوردسویں رات 4۔ عید الفطر کی رات 5۔پندرہ شعبان کی رات۔‘‘

تبصرہ : اس روایت کو امام ابن ابی عاصم﷫ نے السنہ، امام ابن حبان﷫ نے الاحسان اور امام طبرانی ﷫ نے مجمع الزوائد میں ذکر کیا ہے۔

اس روایت کی سند میں مکحول شامی کی مالک بن یخامر سے ملاقات ثابت نہیں اور مکحول کثرت سے ارسال کرنے میں بھی معروف ہے۔ اس لیے امام ذہبی﷫ نے مکحول اور مالک کے درمیان انقطاع کا فیصلہ صادر فرمایا ہے ، اس انقطاع سند کی بنا پر درج بالا حدیث پائے ثبوت کو نہیں پہنچتی ۔ ماضی قریب کے عظیم محدث علامہ البانی﷫ نے ضعیف الترغیب والترہیب میں بھی اسے ضعیف قرار دیاہے۔

3۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کو اپنے (حجرہ میں) موجود نہ پایا تو میں آپ کی تلاش میں نکل پڑی۔ (اچانک) میں نے آپﷺ کو مدینہ منورہ کے بقیع نامی قبرستان میں دیکھا کہ آپ ﷺ نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا ہوا ہے ۔ آپ نے مجھے فرمایا: کیا تمہیں یہ ڈر تھا کہ اللہ اور اس کے رسول تم پر ظلم کریں گے میں نے جواباً عرض کیا : ’’ میں نے گمان کیا کہ آپ اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی کے پاس تشریف لے گئے ہیں ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ15 شعبان کی رات کو آسمان دنیا میں نزول فرماتے ہیں اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کو معاف فرماتےہیں۔‘‘

تبصرہ : اس حدیث کو امام ابن ماجہ﷫ نے اپنی سنن ، امام احمد﷫نے اپنی مسند اور امام ترمذی﷫نے اپنی جامع میں نقل فرمایا ہے ، امام ترمذی﷫ درج بالا روایت ذکرکرنے کے بعد رقمطراز ہیں :

’’اس حدیث کو ہم صرف حجاج بن ارطاط کی سند سے جانتے ہیں میں نے امام بخاری﷫ سے سنا کہ آپ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے کیونکہ اس کے دو راوی یحی بن ابی کثیر اور حجاج کا بالترتیب عروہ اور یحی بن ابی کثیر سے سماع ثابت نہیں ہے ۔(سنن ترمذی ، ابواب الصوم )

امام ابن الجوزی﷫ نے العلل المتناھية میں امام دار قطنی﷫ کا قول نقل کیا ہے کہ ’’یہ حدیث متعدد اسناد سے مروی ہے اس کی سند میں اضطراب ہے اور یہ سند ثابت نہیں ہے۔‘‘

4۔ سیدنا علی فرماتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب پندرھویں شعبان ہو تو اس کی رات کو قیام کرو اور دن میں روزہ رکھو کیونکہ باری تعالیٰ اس شب غروب آفتاب کے وقت آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور یہ آواز لگاتے ہیں کوئی مغفرت کا طالب ہے میں اسے مغفرت عطا کروں ، کوئی رزق کا خواہشمند ہیں میں اسے رزق سے نوازوں ، کوئی مشکل میں گرفتار ہےمیں اسے عافیت سے سرفراز کروں ۔ یہ ندائے رحمانی طلوع فجر تک جاری رہتی ہے ۔‘‘ (سنن ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلاۃ )

تبصرہ : اس حدیث کے سلسلہ سند میں ابو بکر بن ابی سر نامی راوی ہے جس پر محدثین نے جرح کی ہے ، مثلاً امام نسائی﷫ نے اسے متروک جبکہ امام احمد﷫ اور امام ابن معین﷫ نے اس پر وضع حدیث کا حکم لگایا ہے ۔

امام ابن حبان﷫ فرماتے ہیں کہ یہ ثقہ راویوں سے موضوع روایات نقل کرتاہے یہ قابل حجت نہیں ہے۔ ( تہذیب التہذیب ، لابن حجر )

5۔ سیدنا علی فرماتے ہیں کہ رسول مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’شب برأت کے دن کا روزہ گذشتہ 60 سالوں اور آنے والے 60 سالوں کے روزوں کے برابراجر رکھتا ہے ۔‘‘ ( الموضوعات لابن الجوزی)

امام عبد الرحمن محدث مبارکپوری﷫ شارح سنن الترمذی فرماتے ہیں کہ امام ابن الجوزی﷫ نے خود اس کی سند کو موضوع اور تارک(مجہول) قرار دیا ہے۔ (تحفۃ الاحوذی:3؍368)

6۔ سیدنا ابو موسی الاشعری سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ ماہ شعبان کی پندرہویں تاریخ کو بندوں کی طرف جھانکتے ہیں اور مشرک یاکینہ پرور شخص کے علاوہ تمام مخلوق کو بخش دیتے ہیں۔ ‘‘ ( سنن ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلا ۃ)

تبصرہ : یہ حدیث جمہور علماء کے نزدیک سخت ضعیف ہے ۔ علامہ بوصیری زوائد ابن ماجہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی سند عبد اللہ بن لہیعہ کے ضعف اور ولید بن مسلم کی تدلیس کے باعث ضعیف ہے۔

نوٹ : جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ یہ حدیث جمہور محدثین کےہاں سخت ضعیف ہے مگر ماضی قریب کے عظیم محدث علامہ البانی﷫ نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے ، جو کہ علامہ موصوف کی علمی غلطی ہے۔ اس روایت کی تمام اسناد پر تفصیلی بحث ماہنامہ دعوت اہلحدیث کراچی میں محترم المقام جناب مولانا حافظ خبیب صاحب رفیق ادارۃ العلوم الاثریہ فیصل آباد کا مضمون ملاحظہ فرمائیں۔ اس کے علاوہ الجرح والتعدیل، المجروحین، میزان الاعتدال، تقریب التہذیب وغیرہ معتبر کتابوں میں اس کے رواۃ پر تفصیلی جرح کی گئی ہے۔

7۔رسول معظم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص پندرہویں شعبان کی رات میں سو رکعتیں پڑھتاہے ، اللہ تعالیٰ اس کی طرف 100 فرشتے بھیجتاہے ، 30 اسے جنت کی خوشخبری سناتے ہیں ، اور 30 فرشتے اسے دوزخ سے بچاتے ہیں ، 30 اسے دنیاوی بلاؤوں سے محفوظ رکھتے ہیں جبکہ 10 فرشتے اسے شیطان کے مکر وفریب سے محفوظ رکھتے ہیں۔‘‘

تبصرہ : اس من گھڑت روایت کو علامہ زمخشری﷫ نے نقل کیا ہے ، انہوں نے اس روایت کا حوالہ اور سند ذکر نہیں کی جس کی بنا پر اس حدیث کو حدیث نبوی کہنا قرین انصاف نہیں ہے۔

شبّ برأت اور عصرِ حاضر کے مسلمان

پندرہویں شعبان کی رات کو عرف عام میں شب برأت کہا جاتاہے ۔ اس رات کے بارہ میں عوام الناس کے درمیان بہت سے نظریات اور بدعتی عقائد رائج ہوچکے ہیں، جن کی تفصیل اور شرعی حیثیت ذیلی سطور میں پیش کی جارہی ہے:

1۔ فیصلوں کی رات :

عوام الناس کی اکثریت کو علماء سوء نے قرآن وحدیث کی باطل تاویلات کے ذریعے اپنے دامن تزویر میں پھنسایا ہواہے، دنیا پرست علماء نے اس رات کے بارے میں یہ مشہور کر رکھا ہے کہ اس میں تمام انسانوں کی تقدیروں کے فیصلے ہوتے ہیں ۔ وہ بطور دلیل قرآن پاک کی اس آیت کو پیش کرتے ہیں :

﴿إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ﴾ (سورة الدخان:3)

’’یقیناً ہم نے اسے بابرکت رات میں اتارا ہے بیشک ہم ڈرانے والے ہیں۔‘‘

حالانکہ یہاں پر باری تعالیٰ نے وضاحت نہیں فرمائی کہ لیلہ مبارکہ کونسی رات ہے دوسرے مقام پر اس کی توضیح کی ہے کہ لیلہ مبارکہ سے مراد لیلۃ القدر ہے اور ہر مسلم اس حقیقت سے آشنا ہے کہ لیلۃ القدر ماہ رمضان میں ہوتی ہے نہ کہ شعبان کی 15 کی رات کو ۔

2۔روحوں کی آمد :

عوام الناس میں یہ سوچ بھی سرایت کرچکی ہے کہ اس رات مردوں کی روحیں اپنے اپنے گھروں میں آتی ہیں حالانکہ باری تعالیٰ نے اس نظریہ کی تردید اپنے اس فرمان میں بخوبی کی ہے کہ ﴿وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ﴾ ( سورة المؤمنون:100)

’’اور ان (مرنے والوں) کے درمیان دوبارہ جی اٹھنے کے دن تک ایک آڑ حائل ہوگی۔‘‘

3۔زیارت قبور:

قبروں کی زیارت سے آخرت کی یاد آتی ہے اور انسان مزید نیک کام کرنے پر آمادہ ہوتاہے۔ رسول مکرمﷺ نے زیارت قبور کی اجازت بھی دی ہے اور بذات خود بھی آپ قبروں کی زیارت کے لیے متعدد مرتبہ قبرستان تشریف لے گئے ہیں مگر زیارت قبور کے لیے کسی خاص موقع کی تحدید کرنا بدعت ہے جس سے اجتناب انتہائی ضروری ہے۔

4۔حلوہ خوری :

شب برأت میں حلوہ خوری کی رسم بد قرآن وحدیث سے ثابت نہیں ہے بلکہ یہ طرز عمل دنیا پرست علماء نے رائج کیا تاکہ وہ اپنے شکم کو مال حرام سے بھر سکیں ، حلوہ خور علماء اپنے اس فعل کو سند جواز فراہم کرنے کے لیے واقعہ احد کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں اس میں رسول مکرم ﷺ کے دانت مبارک شہید ہوئے تھے تو رسول معظم ﷺ نے حلوہ تناول فرمایا تھا مگر مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ دندان مبارک کی شہادت کا واقعہ ماہ شوال 3 ہجری میں واقع ہوا اس کا ماہ شعبان یا شعبان کی پندرہویں تاریخ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بالفرض والمحال اگر اس مفروضہ کو درست بھی تسلیم کرلیا جائے تو کامل اتباع کا تقاضا تو یہ ہے کہ پہلے اپنے دانت توڑے جائیں پھر حلوہ خوری کا ’’شوق ‘‘ پورا کیا جائے۔ حاصل یہ کہ شب برأت میں حلوہ خوری عبادت نہیں بلکہ بدعت ہے جس سے کلی گریز ضروری ہے۔

5۔ آتش بازی :

شب برأت کی مروجہ خرافات میں سے معروف ترین خرافات اس شب آتش بازی کا مظاہرہ کرنا ہے ۔ دین اسلام کی تعلیمات نے خوشی کے مواقع پر کیا طرز عمل ہونا چاہیے پوری شرح وبسط سے بیان کیا ہے ۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو فضول اور سطحی قسم کی حرکات سے باز رکھتاہے۔ آتش بازی سے مال کا ضیاع لازم آتاہے شریعت نے فضول خرچی کرنے والوں کو شیطان کا بھائی قرار دیا ہے۔ شب برات کے موقع پر مساجد میں خصوصی چراغاں کرنا اور اس کو خوشبودار بنانا دراصل برامکہ کی گھناؤنی سازش کا نتیجہ ہے جیسا کہ شیخ ابن العربی اپنی کتاب المنکرات ص 76 میں تحریر فرماتے ہیں: ’’ مسجدوں میں خوشبو کی دھونی رکھنے کا سب سے پہلے رواج یحی بن خالد برمکی نے ڈالا ، یحی بن خالد برمکی خلیفہ وقت کا وزیر اور درباری تھا اس کا مقصد مجوسیت کا احیا تھا۔‘‘

آتش بازی وغیرہ میں ہندؤوں کی دیوالی اور عیسائیوں کے کرسمس ڈے سے مشابہت پائی جاتی ہے۔ دین اسلام نے ہمیں کفار کی مشابہت اختیار کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔

6۔ صلاۃ الفیہ:

شب برأت میں رائج شدہ خلاف اسلام امور میں سے سرفہرست ہزاروی نماز کی پابندی سے ادائیگی ہے ۔

صلاۃ الفیہ کا طریقہ:

رسول مکرم ﷺ نے سیدنا علی سے ارشاد فرمایا : ’’اے علی( )! جس نے بھی پندرہ شعبان کی رات سو رکعت نماز پڑھی اور ہر رکعت میں 10 ، 10 بار سوره فاتحہ اور سوره اخلاص پڑھتاہے پھر آپﷺ نے فرمایا: اے علی! جو شخص بھی ان نمازوں کو ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس بندے کی تمام حاجات پوری فرماتے ہیں ۔‘‘

نوٹ: اس بدعتی نمازکے بارے میں امام ابن جوزی﷫ الموضوعات میں متعدد روایات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

’’ اس حدیث کے من گھڑت ہونے میں مجھے کوئی شک نہیں اس روایت کے رواۃ مجہول ہیں کچھ تو بہت زیادہ ضعیف ہیں۔ اس روایت کا حدیث رسول ہونا ناممکن ہے۔‘‘ (الموضوعات: 2؍127۔130)

امام شوکانی ﷫ فرماتے ہیں: ’’یہ حدیث موضوع ہے اور اس حدیث میں رات کی عبادت کا اہتمام کرنے والوں کے لیے جو ثواب بیان ہوا ہے۔ ارباب بصیرت کے نزدیک اس روایت کے موضوع ہونے کے لیے کافی ہے۔ اس حدیث کے تمام رواۃ مجہول ہیں ۔‘‘ (الفوائد المجموعۃ: ص 15۔52)

امام ابن القیم﷫ المنار المنیف میں صلاۃ الفیہ کے بارے میں رقمطراز ہیں : ’’علم حدیث سے بہرہ ور شخص کا ایسی روایات سے دھوکہ کھانا باعث حیرت ہے (درحقیقت) یہ نماز اسلام میں 400 سال کے بعد بیت المقدس میں ادا کی گئی پھر اس کی فضیلت کے بارہ میں احادیث بنائی گئی۔‘‘

صلاۃ الفیہ کی ابتداء :

اس بدعتی نماز کا آغاز کب اور کیسے ہوا امام مقدسی ﷫ اس بارے میں رقمطراز ہیں :

’’ہمارے ہاں (بیت المقدس میں) صلاۃ الرغائب اور صلاۃ شعبان (مراد صلاۃ الفیہ ہے) کا تصور تک نہ تھا۔ 447 ہجری میں نابلس کے علاقے سے ابن ابی الحمراء بیت المقدس میں آیا۔ اس کی آواز خوبصورت تھی۔ پندرہ شعبان کی رات میں وہ مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا ۔ اس کی آواز سے متاثر ہوکر ایک شخص اس کے ساتھ مل گیا اس کے بعد متعدد لوگ اس کے پیچھے جمع ہوگئے ۔

دوسرے سال پھر وہ بیت المقدس آیا اور یہی عمل دوہرایا پھر تیسر ے ، چوتھے سال بھی ایسے ہی کیا، الغرض آہستہ آہستہ یہ بدعت زور پکڑتی گئی اور افسوس کہ یہ سلسلہ بدعتیہ اب تک جاری ہے۔ (البدع الحولیہ:ص 299)

قارئین کرام! درج بالا سطور میں ہم نے ماہ شعبان سے متعلق ارشادات نبویہ ﷺ ذکر کیے ہیں آئیے ہم اپنے احوال کا جائزہ لیں اگر ہمارا طرز عمل خلاف سنت ہے تو آج ہی اس کو خیر آباد کہیں تاکہ دنیا وآخرت کی رسوائی سے بچ سکیں۔ وما علینا إلا البلاغ المبین

٭٭٭

تبصرہ کریں